🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 1)
نصر الله بن ظفر الله

اطاعتِ رسولﷺ قرآن و حدیث کی روشنی میں:

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا(۶۶)

تَرجَمۂ کنز الایمان: جس دن اُن کے منہ اُلٹ اُلٹ کر آ گ میں تلے جائیں کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا (احزاب ،66)

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا(۶۷)

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے (ف۱۶۳) تو اُنہوں نے ہمیں راہ سے بہکادیا ( احزاب ، 67)

سنتِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم چھوڑ کر کوئی نیا طریقہ تلاش کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں سے زیادہ مغضوب ہے۔

الحدیث:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا تین آدمی اللہ کے ہاں سب سے زیادہ مغضوب ہیں، حرم شریف کی حرمت پامال کرنے والا(۲) اسلام میں رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طریقہ چھوڑ کر جاہلیت کا طریقہ تلاش کرنے والا۔(۳) کسی مسلمان کا نا حق خون طلب کرنے والا تاکہ اس کا خون بہائے(صحیح بخاری)

رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حکم نہ ماننے پر دنیا میں عبرتناک سزا

الحدیث :

شرح۔، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے انہیں بتایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس آدمی نے جواب دیا۔ میں ایسا نہیں کرسکتا، آ پ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا۔(اچھا اللہ کرے) تجھ سے ایسا نہ ہوسکے، اس شخص نے تکبر کی وجہ سے یہ بات کہی تھی (حالانکہ کوئی شرعی عذر نہیں تھا) راوی کہتے ہیں کہ وہ شخص عمر بھر اپنا دایاں ہاتھ منہ تک نہ اٹھا سکا۔(صحیح مسلم شریف)

نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 2)
مدثر عطاری بن امیرعالم عطاری

کامیابی پانے ، اچھا ماحول بنانے، سکون پانے کردار اچھا کرنے کے لیے بہت سے Rolls and regulation بنائے جاتے ہیں تاکہ عمل کرکے کامیابی پائیں ان طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں تاکہ سکون ملے، کردار اچھاہو معاشرہ اچھا ہو ملک میں امن ہو۔ ہر شعبے میں قانون بنائے جاتے ہیں تا کہ مقصدپورا ہو، کچھ Training دی جاتی ہےاچھےطریقے سکھائے جاتے ہیں

عقل مند انسان جب کچھ کرنے لگتا ہے تو Roll`s آداب درست طریقے سکھاتا ہے، عمل کرتا ہی عقل مند افراد سے مشورہ کرتا ہے تجربات سے فائدہ حاصل کرتا ہے، عوام میں جو عقل والے ہیں ان کی عقل کی جہاں انتہا ہے End ہے اس سے بہت زياده بلند الله کے ولیوں کی عقل شروع ہوتی ہے اولیا اللہ سے بھی بہت زیادہ انبیا کرام کی عقل مبارک ہے اور سب کی عقل جمع کی جائے تو بھی ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عقل مبارک ہے اب غور کیجئے کہ سنتِ مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں کیسے فوائد ہوں گے اس کی کتنی اہمیت ہے۔

آج کل آئیڈیل بنانے میں بہت کلام کیا جاتا ہے اس کے فوائد بیان ہوتے ہیں، سنو میرے اللہ نے سب عقل والوں کو عقل عطا فرمائی اور وہ اپنے پاک کلام میں ہمارے لیے کیسے آئیڈل کو پسند فرماتا ہے۔ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، صرف نمونہ نہیں صرف بہتر بھی نہیں بلکہ بہترین نمونہ ہے۔جب کہ آج جس کو اہمیت دی جارہی ہے میری مراد سائنس جب اس کی  Researches اپنے End کو پہنچتی ہیں تحقیق کی تکمیل ہوتی تو بہت بارہا ایسا ہوا کہ نتیجہ میں پیاری پیاری سنتِ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سامنے آئی۔

شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادر ی رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی پیاری کتاب نماز کے حکام میں تحریر فرمایا ایک ڈاکٹر نے اپنے مقالے میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ میں نے ڈپریشن کے چند مریضوں کے روزانہ پانچ بار منہ د ھولائے کچھ عرصے بعد ان کی بیماری کم ہوگئی، پھر ایسے ہی مریضوں کے دوسرے گروپ کے روزانہ پانچ بار منہ اور پاؤں دھلوائے تو مرض میں بہت افاقہ ہوگیا یہی ڈاکٹر اپنے مقالے کے آخر میں اعتراف کرتا ہے، مسلمانوں میں مایوسی کا مرض کم پایا جاتا ہے کیونکہ وہ دن میں کئی مرتہ ہاتھ منہ اور پاؤں دھوتے (یعنی وضو کرتے) ہیں

سنت اور بیماریوں سے حفاظت:

امریکن کونسل فار ہوئی کی سرکردہ بیچرنے کیا خوب انکشاف کیا ہے، کہتی ہے مسلمانوں کو کسی قسم کے کیمیاوی لوشن کی حاجت نہیں وضو سے انکا چہرہ دھل کر کئی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

اس جیسی اور بہت سی Descaschas جس ميں سنت مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حکمتیں فوائد ظاہر ہوتے ہیں، یہ تو دنیا میں فائدے آخرت میں اس کے فوائد بے شمار جتنی Researches ہوں کم اور جگہ بھی کم، لاکھ باتوں کی ایک بات کیا ہے؟

جسے یہ ملا وہ تو کامیاب:

فرمان انکا جو بے مثل ولا جواب آداب سکھانے والوں کو آداب سکھانے والے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، کاش توجہ سے پڑھیں جب اپنے پیارے کا ایس ایم ایس آئے whatsapp آئے تحرير آئے تو کیسے توجہ دیتے ہیں تو غور کرلیجیے یہ فرمان تو محبوبِ خدا کا ہے،کتنی توجہ سے پڑھنا چاہیے، سمجھنا چاہیے عمل کرنا چاہیے پڑھیے، جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نےمجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔

دنيا اور آخرت ميں کاميابی کا طریقہ کاش ہم سمجھیں اپنی جان پے رحم کریں پیارے آقا کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلیں، کامیابی سکون عزت راحت ملنے کا ایک نسخہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت پر عمل ان کی اتباع ہے۔

نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 3)
لیاقت علی بن گُل محمد

دنیا کا یہ دستو رہے کہ جو جس سے محبت کرتا ہے تواسی کی ہی اتباع  ہوتی ہے کہ میں اس کی ہر ہر ادا کو اپناؤں اور حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت ایما ن کے کامل ہونے کا سبب ہے اور محبت کا تقاضاتو یہ تھا کہ ہم حضور علیہ السلام کے ہر قو ل و فعل پر عمل کرتے مگر آج کل بے باکی کا دور دورہ ہے جہالت دن بدن فروغ پارہی ہے فرائض وسنن کی پابندی تو کجا ان کے بارے میں علم تک حاصل نہیں کیا جاتا، حالانکہ اسلام میں سنت کی اہمیت ایسے ہے جیسے ستون کی اہمیت عمارت میں سنت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن پاک میں سنت پر عمل کرنے والوں کو بڑی کامیابی کا مژدہ (خوش خبری) سنائی گئی ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا(۷۱) تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔ (سورہ احزاب آیت 71)

اور ایک مقام پر ارشاد رب العباد ہے : قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا ۔

یہ تو تھا قرآن سے سنت کا بیان آئیےاب احادیثِ طیبہ سے سنت کی اہمیت کو جانتے ہیں۔

۔ حضرت سیدعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے محبوبﷺ کا فرمان عالی شان ہے ہر عمل میں ایک رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت کے لیے سکون ہوتا ہے تو جس کا سکون میری سنت میں ہو وہ ہدایت پا گیا اور جس کا سکون میری سنت کے غیر میں ہو تو وہ ہلا ک ہوگیا۔( الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان بالسنة الحدیث ۱۱)

دنیا وآخرت کی سعادت:

حدیث پاک کے حصے( جس کا سکون میری سنت میں ہو وہ ہدایت پا گیا)، اس کے تحت علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ شے جس کی طرف وہ متوجہ تھا اور ہر وہ معاملہ جس میں وہ منہمک تھا اسے ترک کردیا اور سنت نبوی اور طریقہ محمدی میں مشغول ہو گیا تو وہ دنیا اور آخرت میں سعادت مند ہو گیا ۔ (اصلاح اعمال ص ۴۲ مطبوعہ مکتبہ المدینہ )

دنیا و آخرت کی ہلاکت :

حدیث پاک کے حصے(جس کا سکون میری سنت کے غیر میں ہو تو وہ ہلا ک ہوگیا) س کے تحت علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : یعنی وہ سنت کی چھوڑ دیتا ہے اور بدعت (سیئہ ) یا کسی دوسرے کام میں مشغول ہوجاتا ہے اور وہ یوں راہ رسنت سے منہ موڑنے والا بن جاتا ہے اور جو ایسا کرتا ہے وہ گمراہی کےسبب ہلاکت میں پڑ جاتا ہے ۔(ایضاً)

۲۔ حضرت ابوہریرہرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا : فساد کے وقت میری سنت پر عمل کرنے والے کے لیے سوشہیدوں کا اجر ہے۔( شفا شریف ج ۲، ص ۱۲ مرکز اہل سنت برکات رضا)

بزرگان دین کے نزدیک سنت کی اہمیت :

1۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطبے میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب تک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتا رہوں تو تم بھی میری اطاعت کرتے رہو اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے لگوں تو اس وقت تم پر میری اطاعت کی کوئی پابندی نہیں (فیضان صدیق اکبر 326)

2 حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

سنت پر عمل کے علاوہ کوئی چارہ نہیں (شفا شریف ،15)

3 حضرت عثمان حیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

جس نے اپنے آپ پر سنتِ قولی و فعلی کو حاکم بنایا اس نے حکمت کی باتیں کیں (ایضاً)

سنت پر عمل کے فوائد

1 جنت میں داخلے کے اسباب میں سے ایک سبب سنت پر عمل کرنا بھی بیان کیا گیا ہے

2 سنت پر عمل کرنے پر اللہ پاک نے ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا ہے

3 سنت پر عمل کرنا اللہ پاک کی رضا کا بہترین ذریعہ ہے

4 ایک مرتبہ سفر میں آنکھوں کے ایک ڈاکٹر کی ملاقات حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ سے ہوئی اور اس وقت حضور حافظ ملت کی عمر شریف 70 سال سے اوپر ہو چکی تھی ڈاکٹر صاحب باربار آپ کو حیرت سے دیکھتے رہے دوران ِ گفتگو ڈاکٹر صاحب نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہ مولانا صاحب اس عمر میں بھی آپ کی بینائی میں کوئی فرق نہیں بلکہ آپ کی آنکھوں میں بچوں کی آنکھوں جیسی چمک ہے مجھے بتائے اس کے لیے آخر کیا چیز استعمال کرتے ہیں ۔فرمایا ڈاکٹر صاحب میں کوئی خاص دوا تو استعمال نہیں کرتا ہاں ایک عمل ہے جسے میں بلا ناغہ کرتا ہوں رات کو سوتے وقت سنت کے مطابق سرمہ استعمال کرتا ہوں اور میرا یقین ہے اس عمل سے بہتر آنکھوں کے لئے دنیا کی کوئی دوا نہیں ہو سکتی (نیکی کی دعوت 214)

نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 4)
بنتِ زاھد حسین مدنیہ

اللہ عزوجل نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو رشد و ہدایت کاسر چشمہ بنا کر بھیجا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کا تعلق اللہ عزوجل سے جوڑا، دنیا اور آخرت کی بھلائی اور جنت کی رہنمائی فرمائی اللہ عزوجل کے احکامات کو اپنی مبارک سنتوں میں ڈال کر مخلوق تک پہنچایا، جس نے آپ کی سنت کی پیروی کی، وہ دارین کی سعادتیں پا گیا، اور جس نے ان سے منہ موڑا وہ خائب و خاسر ہوا، کیونکہ آپ علیہ الصلوة والسلام کی اطاعت اللہ عزوجل کی اطاعت ہے۔

فرمانِ خداوندی ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- تَرجَمۂ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔(النساء 80)

فرمانِ خداوندی ہے: وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴) تَرجَمۂ کنز الایمان: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو اُنہیں کی جاتی ہے ۔(النجم: 3،4)

تفسیر روح البیان میں ہے:

علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے بلکہ اللہ عزوجل حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف جو وحی فرماتا ہے جبرائیل علیہ السلام وہ وحی آپ علیہ السلام تک پہنچا دیتے ہیں۔

حضرت سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے حضور نبی رحمت شفیع امت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، میں تمہیں جو خبر دیتا ہوں وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہوتی ہے اس میں شک نہیں ہوتا۔

سیدنا ابوہریرہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رحمت عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، میں حق بات ہی کہتا ہوں بعض صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ ہمارے ساتھ خوش طبعی بھی فرماتے ہیں آپ نے فرمایا بے شک ، میں اس وقت بھی حق کے سوا کچھ نہیں بولتا۔ارشاد باری تعالی ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ آل عمران ،31)

نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 5)
حافظ افنان عطاری بن منصور عطاری

سنت کے لغوی معنی سيرت اور رطريقے  کے ہیں ، خواہ وہ اچھا ہو یا بُرا البتہ اہل علم کے اغراض و مقاصد کے اختلاف کے باعث ان کے ہاں سنت کا مفہوم بھی مختلف ہے، مثلا علما اصول شرعی دلائل کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں، جب کہ علما حدیث کا مطلوب و مقصود ہر اس چیز سے شغف ہے جو امام کائنات سے نسبت رکھتی ہو، اور علما ئے فقہ کا منتہائے مقصود احکام شرعیہ فرض، مستحب، اور حرام وغیرہ کے بارے میں گفتگو کرنا ہوتا ہے، اہل علم کے انہیں مختلف اغراض و مقاصد کے باعث ان کے ہاں سنت کا اصطلاحی مفہوم بھی مختلف ہے، علماءِ اصول کے ہاں سنت کا اطلاق ہر اس قول، فعل یا تقریر پر کیا جاتا ہے جو آنحضرت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے منقول ہو۔

اکثر علما شافعیہ اور جمہور علما اصول فقہی مفہوم کی نسبت سے مندوب، مستحب اور نفل وغیرہ پر سنت کا اطلاق کرتے اور کہتے ہیں کہ سنت سے مراد وہ فعل ہے جس کے کرنے پر انسان کو ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے پر گناہ نہیں ہوتا، علماءِ حدیث کے حالات و واقعات پر بھی ہوتا ہے اوراس معنی و مفہوم کے اعتبار سے سنت کا لفظ حدیث شریف کے مترادف ہے اور اس وقت ہمارےپیش نظر بھی سنت کا یہی معنی و مفہوم ہے۔

نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 6)
بنتِ یوسف عطاریہ

آیت و ترجمہ :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (احزاب ،21)

حدیث پاک :
تاجدار مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ( ابن عساکر ج ۹،ص ۳۷۳)

سینہ تیری سنت کا مدینہ بنے آقاﷺ
جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا


ایک مسلمان کےنزدیک سنت کی اہمیت کیا ہوتی ہے اسی کا انداز ہ اس حکایت سے لگایا جاسکتا ہے۔

حکایت:
حضرت سیدنا عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی نقل فرماتے ہیںْ: ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر شبلی بغدادی علیہ الرحمہ اللہ الہادی کووضو کے وقت مسواک کی ضرورت ہوئی تلاش کی مگر نہ ملی، لہذا ایک دینار یعنی ایک سونے کی اشرفی میں مسواک خرید کر استعمال فرمائی، بعض لوگوں نے کہا یہ تو آپ نے بہت زیادہ خرچ کر ڈالا کہیں اتنی مہنگی بھی مسواک لی جاتی ہے؟فرما یا:بے شک یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں اللہ عزوجل کے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی حیثیت نہیں رکھتیں ، اگر بروز قیامت اللہ عزوجل نے مجھ سے یہ پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا کہ تو نے میرے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ( مسواک) کیوں ترک کی؟ جو مال و دولت میں نے تجھے دیا تھا اس کی حقیقت تو میرے نزدیک مچھر کے پر برابر بھی نہیں تھی تو آخر ایسی دولت اس عظیم مسواک کو حاصل کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی ؟

اس حکایت سے حاصل ہونے والے مدنی پھول:
ایک مسلمان کو سنت سے ایسی محبت ہو کہ اگر اس کے بدلے میں اسے اپنی عزیز ترین چیز بھی قربان کرنی پڑی تو اس سے دریغ نہ کرے۔

نوٹ:یہ مضامین تحریری مقابلہ کے تحت لکھے گئے ہیں، تاکہ طلبہ و طالبات میں تحریر کا شوق و جذبہ پیدا ہوا، کسی بھی خاص عمل کو سنّت قرار دینے کے لئے علمائے اہل سنت سے رابطہ کیا جائے نیز مکتبۃ المدینہ کی کتاب”سنتیں اور آداب“ کا مطالعہ کیا جائے۔
🌷سُنّت کی اہمیّت (تحریر 6)
بنتِ یوسف عطاریہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضورﷺ جانتے ہیں (تحریر 1)
Huzoorﷺ Jante Hain


محمد عدنان چشتی عطاری مدنی

غیب کی تعریف غیب کے (لفظی) معنی ہیں: غائب یعنی چُھپی ہوئی چیز۔ غیب وہ ہے جو ہم سے پوشیدہ ہو اور ہم اپنے حَوّاسِ خَمسہ یعنی دیکھنے، سُننے، سونگھنے، چکھنے اور چُھونے سے نہ جان سکیں اور غور و فکر سے عَقل اُسے معلوم نہ کرسکے۔(ملخص از تفسیرِ بیضاوی،ج 1،ص114 وغیرہ) جیسے جنَّت اور دوزخ وغیرہ ہمارے لئے اِس وقت غَیب ہیں کیونکہ اِنہیں ہم حوّاس (یعنی آنکھ، ناک، کان وغیرہ) سے معلوم نہیں کرسکتے۔ عقیدہ اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کو روزِ اوّل سے روزِ آخِر تک کا علم عطا فرمایا ہے۔ لوحِ محفوظ میں درج تمام عُلُوم نیز اپنی ذات و صفات کی معرفت سے متعلّق بہت اور بےشُمار عُلوم عطا فرمائے۔ عُلُومِ خمسہ پر مطلع فرمایا جس میں خاص وقتِ قِیامت کا علم بھی شامل ہے۔ ساری مخلوقات کے احوال اور تمام مَاکَانَ (جو ہوچکا) اور مَایَکُوْنُ (جو ہوگا) کا علم عطا فرمایا۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے پیارے نبیﷺ کا علم ’’عطائی (اللہ کریم کا عطا کیا ہوا) ‘‘ہونے کی وجہ سے’’حادِث‘‘ ہے اور اللہ پاک کا علم’’ ذاتی و قدیم‘‘۔ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر نہیں۔ (مقالاتِ کاظمی،ج 2،ص111ملخصاً) علمِ مصطفےٰ کی تکمیل یاد رہے! ہمارے پیارے نبیِّ  کریمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک علم میں نزولِ قراٰن کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا تھا آخِرکار قراٰنِ پاک کی تکمیل کے ساتھ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم بھی مکمل ہوگیا جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: فقیر نے قرآنِ عظیم کی آیاتِ قطعیہ سے ثابت کیا کہ قرآنِ عظیم نے 23 برس میں بتدریج نزولِ اِجلال فرما کر اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جَمِیْع مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن یعنی روزِ اوّل سے روزِ آخِر تک کی ہر شَے، ہر بات کا علم عطا فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص512) چند ضروری وضاحتیں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کے متعلق چند ضَروری باتیں ذِہْن نشین فرما لیجئے، ان شاء اللہ عزوجل نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب سے متعلق شیطانی وسوسوں کا علاج ہوجائے گا۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: (1)بےشک غیرِ خدا کے لئے ایک ذَرّہ کا علم’’ ذاتی‘‘ نہیں اتنی بات’’ضَروریاتِ دین‘‘سے ہے اور اس کامُنْکِر (یعنی انکار کرنے والا)کافر ہے۔ (یعنی جو کوئی اللہ پاک کے بتائے بغیر غیرِ خدا کے لئے ایک ذرّے کا بھی علم مانے وہ مسلمان نہیں) (2)بے شک غیرِ خدا کا عِلم اللہ تعالیٰ کی معلومات کا اِحاطہ نہیں کرسکتا، برابر ہونا تو دُور کی بات۔ تمام اَوّلِین و آخِرین، اَنبیاء و مُرسَلین، ملائکہ و مُقرّبین سب کے عُلوم مل کر عُلومِ الہِٰیّہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصّے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصّہ دونوں ’’مُتَناہی (Limited) ‘‘ہیں (یعنی ان کی ایک انتہا ہے) اور  ”متناہی“  کو ’’متناہی ‘‘سے نسبت ضَرور ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے عُلوم ’’غیرمُتَناہی دَر غیرمتناہی دَر غیرمتناہی (Unlimited) ‘‘ہیں (یعنی ان کی کوئی انتہا ہے ہی نہیں) اور مخلوق کے عُلوم اگرچہ عرش و فرش، مشرق و مغرب، روزِ اوّل تا روزِ آخِر جملہ کائنات کو محیط ہوجائیں پھر بھی ’’مُتَناہی (Limited) ‘‘ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں (boundaries) ہیں، روزِ اوّل اور روزِ آخِر دو حدیں ہیں اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب’’ مُتَناہی (Limited) ‘‘ہے (3)بِالفعل غیرِمُتَناہی کا علمِ تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جُملہ عُلومِ خَلق کو علمِ الٰہی سے اصلاً نسبت ہونی محالِ قطعی ہے نہ کہ مَعَاذَ اللہ تَوَہُّمِ مساوات۔ (یعنی جس بارِی تعالیٰ کے علم کی حقیقی طور پر کوئی حَد اور کِنارہ نہیں ہے اس کا سارے کا سارا علم مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا، لہٰذا جب ساری مخلوق کے سارے عُلوم مل کر بھی اللہ پاک کے علم سے کسی طرح بھی نسبت نہیں رکھتے تو معاذاللہ انہیں اللہ پاک کے علم کے برابر ہونے کا وہم و گمان بھی کیسے ہوسکتا ہے!) (4)اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیئے سے انبیائے کرام علیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو کثیر و وافِر غیبوں کا عِلم ہے یہ بھی ضَروریاتِ دین سے ہے جو اِس کا منکر ہو کافر ہے کہ سِرے سے نَبُوّت ہی کا منکر ہے (5)اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضلِ جلیل میں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا حصّہ تمام انبیاء علیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور تمام جہان سے اَتَمّ (کامل ترین) اور اعظم (سب سے بڑا) ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے حبیبِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا
شُمار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص450،451 ملخصاً)   ایک ایمان افروز روایت حضرت سیّدنا انس بِن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: سورج ڈھلنے پر رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم باہر تشریف لائے، نمازِ ظہر ادا فرمائی، پھر منبر پر کھڑے ہوکر قِیامت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس میں بڑے بڑے اُمور ہیں۔ پھر ارشاد فرمایا: جو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے پوچھنا چاہتا ہو تو پوچھ لے اور تم مجھ سے جس کسی شے کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہیں اسی جگہ بتا دوں گا۔ تو لوگ زار و قِطار رونے لگے۔ بہت زیادہ روئے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بار بار فرماتے رہے کہ مجھ سے پوچھ لو۔ حضرت عبدُاللہ بن حُذافَہ سَہْمی رضی اللہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوکر عرض گزار ہوئے: میرا باپ کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہارا باپ حُذافہ ہے۔ پھر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بار بار فرماتے رہے کہ مجھ سے پوچھ لو۔ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے گُھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر عرض کی: ہم اللہ پاک کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاموش ہوگئے، پھر فرمایا: ابھی مجھ پر جنّت اور جہنّم اس دیوار کے گوشے میں پیش کی گئیں، میں نے ایسی اچّھی اور بُری چیز نہیں دیکھی۔ (بخاری،ج1،ص200،حدیث: 540)

رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا قراٰنِ پاک اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…         رکن مجلس المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ