حضرت داتا گنج بخش
حضرت سیدنا داتا علی ہجویری
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت سیدنا داتا علی ہجویری
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تھا مِہر صِفَت ، قافلہ سالار کا چہرا
نیزے پہ دمکتا رہا ، سردار کا چہرا
وہ آئینہ تھا چہرۂ شبیر کہ جس میں
آتا تھا نظر ، حیدرِ کرار کا چہرا
صد حیف وہ خود یوں بھرے بازار سے گُزرے
جس گھر نے نہ دیکھا کبھی ، بازار کا چہرا
ہے پیاس کی شدت ، وہ سکینہ کے لبوں پر
مثلِ عَلَم اُترا ہے ، علمدار کا چہرا
آثار کچھ ایسے تھے، زینب کی نظر سے
دیکھا نہ گیا ، عابدِ بیمار کا چہرا
اشکوں کی طرح تھے جو ستارے شبِ عاشور
تھا چاند بھی اک اُن کے عزادار کا چہرا
وہ خُطبہ زینب کہ علی بول رہے تھے
ہر لفظ پہ فق تھا، بھرے دربار کا چہرا
دیکھو گے جو خورشیدِ قیامت کے مقابل
لَو دے گا نصیر اُن کے پرستار کا چہرا
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/2981253568807096/
نیزے پہ دمکتا رہا ، سردار کا چہرا
وہ آئینہ تھا چہرۂ شبیر کہ جس میں
آتا تھا نظر ، حیدرِ کرار کا چہرا
صد حیف وہ خود یوں بھرے بازار سے گُزرے
جس گھر نے نہ دیکھا کبھی ، بازار کا چہرا
ہے پیاس کی شدت ، وہ سکینہ کے لبوں پر
مثلِ عَلَم اُترا ہے ، علمدار کا چہرا
آثار کچھ ایسے تھے، زینب کی نظر سے
دیکھا نہ گیا ، عابدِ بیمار کا چہرا
اشکوں کی طرح تھے جو ستارے شبِ عاشور
تھا چاند بھی اک اُن کے عزادار کا چہرا
وہ خُطبہ زینب کہ علی بول رہے تھے
ہر لفظ پہ فق تھا، بھرے دربار کا چہرا
دیکھو گے جو خورشیدِ قیامت کے مقابل
لَو دے گا نصیر اُن کے پرستار کا چہرا
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/2981253568807096/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فضائل اہل بیت کے حوالے سے ایک مختصر مگر جامع و پر مغز پیغاماتی تحریر
حضور تاج المشائخ سید محمد امین میاں قادری برکاتی دام ظلہٗ الاقدس کے قلم سے
انتخاب و پيش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
حضرات’’ اہل بیت اطہار‘‘ ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہیں۔ ان کی عظمت اور مرتبہ کی بلندی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے والے اور ان سے خونی نسبت رکھنے والے ہیں اور اس نسبت کو اللہ تبارک و تعالی نے آیۂ طہارت کے ذریعے ایسا مضبوط و مستحکم کردیا ہے کہ صبح قیامت تک اہل بیت اطہار کے مرتبہ و درجات کی بلندی اور ان کے تقدس اور فضیلت پر کوئی شک و شبہ کرنے کی مجال نہ کرسکے گا۔
سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں ان کی ازواج مطہرات کو بھی شمار کرنا لازمی ہے لیکن عام طور پر جب اہل بیت کی بات کی جاتی ہے تو ذہن و دل انہیں کی جانب مرکوز ہوتا ہے، جن صاحبوں کو ردائے مبارک میں لے کر سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اہل بیت فرمایااور قرآن نے جن کی طہارت پر مہر تصدیق لگائی۔
ان میں وہ علی مرتضیٰ ہیں جن کو ’’باب علم نبی‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور جن کو رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے شب ہجرت بستر رسالت پراستراحت کا حکم دے کر اہالیان مکہ کی امانتوں کا امین بنایا۔ ان میں وہ سیدۂ کائنات فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جن کے طیب و طاہر وجود سے بے پناہ شفقت اور محبت کے سبب کونین میں سب سے زیادہ تعریف کیے ہوے رسول اور تمام ایمان والوں کے مرکز عقیدت و محبت ان کو دیکھ کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ یہ وہ فاطمۃ الزہرا ہیں کہ جن کی بارگاہ میں دنیا بھر کے خطیب جمعہ کے منبر پر ’’سیدۃ نساء العالمین فی الجنۃ‘‘ کہہ کر سلام پیش کیا کرتے ہیں۔ یہیں وہ حسنین کریمین بھی ہیں جن کو اگر رسول حالت خطبہ میں دیکھ لیں تو آغوش مبارک دراز فرمادیں اور اگر اپنے رب کی بارگاہ میں سر بسجود ہوں تو بھی اپنے نور نظر کی تالیف قلب کے لئے سجدے کو طویل فرمادیں، کیوںکہ یہی تو وہ امت کے سردار تھے جن کا ایک سجدہ کربلا میں صبح قیامت تک کے مومنوں کے تمام سجدوں کا محافظ اور شریعت محمدیہ کی حفاظت کا ضامن رہے گا۔ ان اہل بیت میں وہ عابد بیمار سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو شب عاشورہ ظلم کی تاریکیوں سے محصور خیموں میں چراغ نسل مصطفی کی شکل میں روشن تھے اور اسی چراغ سے آج اتنے چراغ روشن ہیں کہ فقیر کا دعویٰ ہے کہ کرۂ ارض کا کوئی خطہ اور حصہ ایسا نہ ہوگا جو ان آل مصطفائی شعائوں سے روشن نہ ہو۔ وہ زینب کبریٰ بھی ان میں شامل ہیں جو دانائی اور جرأت مندی کا سر چشمہ تھیں، خاندان مصطفی کی وہ عالی ہمت اور بلند حوصلہ بیٹی کہ جس کے صبر و استقلال اور قائدانہ صلاحیتوں کو آج بھی سرزمین کربلا یاد کرتی ہوگی کہ ’’اے دختر علی! اس لٹے ہوئے قافلے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو اکھٹا کر کے لے جانا تمہارے ہی قلب و جگر کا حصہ تھا، ورنہ تو اس برق ستم سے بڑے بڑے پتھر دل والے بکھر کے ریزہ ریزہ ہوجاتے۔‘‘
آج عالمی سطح پر کچھ مخصوص فرقے حضراتِ اہل بیت کے ذکر کو کچھ ہلکے اور سطحی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بالخصوص واقعات کربلا کے منظر اور پس منظر کے حوالے سے لوگوں کے دلوں سے ان تمام واقعات کی حقانیت اور حضرت شہید کربلا کی بے مثال قربانی کی اہمیت کو نظرانداز کر کے یزید اور اس کے ہمنواؤں کو نواسۂ رسول کے مقابل صحیح بلکہ حق بہ جانب ثابت کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں (معاذ اللہ)۔ حقیقت میں یہ مہم بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جہاں سے ناموس رسالت پر حملے کیے جاتے رہے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں لیکن نہ کل حفظ ناموس رسالت کے علم برداروں کی کمی تھی نہ بفضلہ تعالیٰ آج ہے۔
آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ نسلیں مذہبی معلومات،اسلامی شخصیات، صحابہ، اہل بیت، اولیا، اصفیا اور ائمہ وغیرہم کی حیات و خدمات تو دور، ان کے نام نامی اسم گرامی تک سے واقفیت نہیں رکھتیں الا ماشاء اللہ۔ تو ایسی صورت میں نئی نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف کرانا بے حد ضروری ہے۔لہٰذا ہم سب اپنی اپنی سطح پر کوشش کریں کہ صورت حال کسی طرح سے تبدیل ہو اور مذہب کے تئیں دلچسپی لینے کا سلسلہ مضبوط سے مضبوط تر ہو۔
(کتاب اہل بیت اطہار سے ماخوذ)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021514042091/
حضور تاج المشائخ سید محمد امین میاں قادری برکاتی دام ظلہٗ الاقدس کے قلم سے
انتخاب و پيش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
حضرات’’ اہل بیت اطہار‘‘ ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہیں۔ ان کی عظمت اور مرتبہ کی بلندی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے والے اور ان سے خونی نسبت رکھنے والے ہیں اور اس نسبت کو اللہ تبارک و تعالی نے آیۂ طہارت کے ذریعے ایسا مضبوط و مستحکم کردیا ہے کہ صبح قیامت تک اہل بیت اطہار کے مرتبہ و درجات کی بلندی اور ان کے تقدس اور فضیلت پر کوئی شک و شبہ کرنے کی مجال نہ کرسکے گا۔
سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں ان کی ازواج مطہرات کو بھی شمار کرنا لازمی ہے لیکن عام طور پر جب اہل بیت کی بات کی جاتی ہے تو ذہن و دل انہیں کی جانب مرکوز ہوتا ہے، جن صاحبوں کو ردائے مبارک میں لے کر سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اہل بیت فرمایااور قرآن نے جن کی طہارت پر مہر تصدیق لگائی۔
ان میں وہ علی مرتضیٰ ہیں جن کو ’’باب علم نبی‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور جن کو رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے شب ہجرت بستر رسالت پراستراحت کا حکم دے کر اہالیان مکہ کی امانتوں کا امین بنایا۔ ان میں وہ سیدۂ کائنات فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جن کے طیب و طاہر وجود سے بے پناہ شفقت اور محبت کے سبب کونین میں سب سے زیادہ تعریف کیے ہوے رسول اور تمام ایمان والوں کے مرکز عقیدت و محبت ان کو دیکھ کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ یہ وہ فاطمۃ الزہرا ہیں کہ جن کی بارگاہ میں دنیا بھر کے خطیب جمعہ کے منبر پر ’’سیدۃ نساء العالمین فی الجنۃ‘‘ کہہ کر سلام پیش کیا کرتے ہیں۔ یہیں وہ حسنین کریمین بھی ہیں جن کو اگر رسول حالت خطبہ میں دیکھ لیں تو آغوش مبارک دراز فرمادیں اور اگر اپنے رب کی بارگاہ میں سر بسجود ہوں تو بھی اپنے نور نظر کی تالیف قلب کے لئے سجدے کو طویل فرمادیں، کیوںکہ یہی تو وہ امت کے سردار تھے جن کا ایک سجدہ کربلا میں صبح قیامت تک کے مومنوں کے تمام سجدوں کا محافظ اور شریعت محمدیہ کی حفاظت کا ضامن رہے گا۔ ان اہل بیت میں وہ عابد بیمار سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو شب عاشورہ ظلم کی تاریکیوں سے محصور خیموں میں چراغ نسل مصطفی کی شکل میں روشن تھے اور اسی چراغ سے آج اتنے چراغ روشن ہیں کہ فقیر کا دعویٰ ہے کہ کرۂ ارض کا کوئی خطہ اور حصہ ایسا نہ ہوگا جو ان آل مصطفائی شعائوں سے روشن نہ ہو۔ وہ زینب کبریٰ بھی ان میں شامل ہیں جو دانائی اور جرأت مندی کا سر چشمہ تھیں، خاندان مصطفی کی وہ عالی ہمت اور بلند حوصلہ بیٹی کہ جس کے صبر و استقلال اور قائدانہ صلاحیتوں کو آج بھی سرزمین کربلا یاد کرتی ہوگی کہ ’’اے دختر علی! اس لٹے ہوئے قافلے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو اکھٹا کر کے لے جانا تمہارے ہی قلب و جگر کا حصہ تھا، ورنہ تو اس برق ستم سے بڑے بڑے پتھر دل والے بکھر کے ریزہ ریزہ ہوجاتے۔‘‘
آج عالمی سطح پر کچھ مخصوص فرقے حضراتِ اہل بیت کے ذکر کو کچھ ہلکے اور سطحی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بالخصوص واقعات کربلا کے منظر اور پس منظر کے حوالے سے لوگوں کے دلوں سے ان تمام واقعات کی حقانیت اور حضرت شہید کربلا کی بے مثال قربانی کی اہمیت کو نظرانداز کر کے یزید اور اس کے ہمنواؤں کو نواسۂ رسول کے مقابل صحیح بلکہ حق بہ جانب ثابت کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں (معاذ اللہ)۔ حقیقت میں یہ مہم بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جہاں سے ناموس رسالت پر حملے کیے جاتے رہے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں لیکن نہ کل حفظ ناموس رسالت کے علم برداروں کی کمی تھی نہ بفضلہ تعالیٰ آج ہے۔
آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ نسلیں مذہبی معلومات،اسلامی شخصیات، صحابہ، اہل بیت، اولیا، اصفیا اور ائمہ وغیرہم کی حیات و خدمات تو دور، ان کے نام نامی اسم گرامی تک سے واقفیت نہیں رکھتیں الا ماشاء اللہ۔ تو ایسی صورت میں نئی نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف کرانا بے حد ضروری ہے۔لہٰذا ہم سب اپنی اپنی سطح پر کوشش کریں کہ صورت حال کسی طرح سے تبدیل ہو اور مذہب کے تئیں دلچسپی لینے کا سلسلہ مضبوط سے مضبوط تر ہو۔
(کتاب اہل بیت اطہار سے ماخوذ)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021514042091/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لباس ہے پھٹا ہوا ،غُبار میں اٹا ہوا
تمام جسمِ نازنیں چِھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے
کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے
غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر
اٹھی صدائے الاماں زبان شرق وغرب سے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کانورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے
زمین بھی ہے تپی ہوئی ، فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زن یہ صف شِکن فلک فگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محو کار زار ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جسکے دبدے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے
حبیبِ مصطفی ہے یہ مجاہدِ خدا ہے یہ
کہ جسطرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
اُدھر سیاہ شام ہے ہزار انتظام ہے
اُدھر ہیں دشمنانِ دیں اِدھر فقط امام ہے
مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
از حفیظ جالندھری
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021237375452/
تمام جسمِ نازنیں چِھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے
کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے
غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر
اٹھی صدائے الاماں زبان شرق وغرب سے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کانورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے
زمین بھی ہے تپی ہوئی ، فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زن یہ صف شِکن فلک فگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محو کار زار ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جسکے دبدے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے
حبیبِ مصطفی ہے یہ مجاہدِ خدا ہے یہ
کہ جسطرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
اُدھر سیاہ شام ہے ہزار انتظام ہے
اُدھر ہیں دشمنانِ دیں اِدھر فقط امام ہے
مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
از حفیظ جالندھری
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021237375452/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلام ببارگاہ ِامام ِحسین رضی اللہ عنہ
از قلم: حضور سید العلماء سید آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ
انتخاب و پیش کش : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
تمھارے سجدے کو کعبہ سلام کہتا ہے
جلالِ قبۂ خضریٰ سلام کہتا ہے
چمن کا ہر گل و غنچہ سلام کہتا ہے
حسین تم کو زمانہ سلام کہتا ہے
چراغ مسجد و منبر سلام کہتے ہیں
نبی ، رسول و پیمبر سلام کہتے ہیں
علی و فاطمہ ، شبر سلام کہتے ہیں
خدا گواہ کہ نانا سلام کہتا ہے
خدا کی راہ میں سر کو کٹا دیا تم نے
نبی کے دین پہ گھر کو لٹا دیا تم نے
نشان کفر کو یکسر مٹا دیا تم نے
تمہیں خدا بھی تمھارا سلام کہتا ہے
تمہیں فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں
تمہیں قرآن کے پارے سلام کہتے ہیں
تمہیں حرم کے منارے سلام کہتے ہیں
امام تم کو مدینہ سلام کہتا ہے
ثنا تمہای وظیفہ ہے میرا آبائی
تمہاری مدحت شیوا ہے میرا مولائی
بس اک نظر ہوجو مجھ پر تو میری بن آئی
تمہارا سیدؔ شیدا سلام کہتا ہے
--------------
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021860708723/
از قلم: حضور سید العلماء سید آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ
انتخاب و پیش کش : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
تمھارے سجدے کو کعبہ سلام کہتا ہے
جلالِ قبۂ خضریٰ سلام کہتا ہے
چمن کا ہر گل و غنچہ سلام کہتا ہے
حسین تم کو زمانہ سلام کہتا ہے
چراغ مسجد و منبر سلام کہتے ہیں
نبی ، رسول و پیمبر سلام کہتے ہیں
علی و فاطمہ ، شبر سلام کہتے ہیں
خدا گواہ کہ نانا سلام کہتا ہے
خدا کی راہ میں سر کو کٹا دیا تم نے
نبی کے دین پہ گھر کو لٹا دیا تم نے
نشان کفر کو یکسر مٹا دیا تم نے
تمہیں خدا بھی تمھارا سلام کہتا ہے
تمہیں فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں
تمہیں قرآن کے پارے سلام کہتے ہیں
تمہیں حرم کے منارے سلام کہتے ہیں
امام تم کو مدینہ سلام کہتا ہے
ثنا تمہای وظیفہ ہے میرا آبائی
تمہاری مدحت شیوا ہے میرا مولائی
بس اک نظر ہوجو مجھ پر تو میری بن آئی
تمہارا سیدؔ شیدا سلام کہتا ہے
--------------
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021860708723/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
توقیرِ اہل بیت
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
قرآں سے دیکھتا ہوں میں تطہیرِ اہل بیت
کیسے نہ میرے دل میں ہو توقیرِ اہل بیت
اے آفتابِ طیبہ ترے فیضِ نور سے
سارے جہاں میں پھیلی ہے تنویرِ اہل بیت
ہر اک یزیدِ وقت کرے لاکھ کوششیں
دھندلا نہ پائے گا کبھی تصویرِ اہل بیت
ان کا خمیر خونِ نبوت سے ہے گُندھا
کتنی بلندیوں پہ ہے تقدیرِ اہل بیت
اسلام کا چمن جو ہے پھولا پھلا ہوا
ايمان ہے مرا، یہ ہے تاثیرِ اہل بیت
مولیٰ حسن کی صلح پسندی گواہ ہے
اس پر کہ بے مثال ہے تدبیرِ اہل بیت
محشر میں سرخروئی مشاہد کو چاہیے
اس واسطے بنا ہے یہ قطمیرِ اہل بیت
4 محرم الحرام 1440ھ
15 ستمبر 2018ء بروز سنیچر
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2110729415732901/
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
قرآں سے دیکھتا ہوں میں تطہیرِ اہل بیت
کیسے نہ میرے دل میں ہو توقیرِ اہل بیت
اے آفتابِ طیبہ ترے فیضِ نور سے
سارے جہاں میں پھیلی ہے تنویرِ اہل بیت
ہر اک یزیدِ وقت کرے لاکھ کوششیں
دھندلا نہ پائے گا کبھی تصویرِ اہل بیت
ان کا خمیر خونِ نبوت سے ہے گُندھا
کتنی بلندیوں پہ ہے تقدیرِ اہل بیت
اسلام کا چمن جو ہے پھولا پھلا ہوا
ايمان ہے مرا، یہ ہے تاثیرِ اہل بیت
مولیٰ حسن کی صلح پسندی گواہ ہے
اس پر کہ بے مثال ہے تدبیرِ اہل بیت
محشر میں سرخروئی مشاہد کو چاہیے
اس واسطے بنا ہے یہ قطمیرِ اہل بیت
4 محرم الحرام 1440ھ
15 ستمبر 2018ء بروز سنیچر
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2110729415732901/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اهل بیت اور آیت مودت
قُلْ لآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبَیٰ وَمَن یَقتَرِفْ حَسَنَۃً نَزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْناً (1)
تم فرماؤ میں اس (تبلیغ رسالت اور ارشاد و ہدایت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذمے مصارف بہت ہیں اور مال کچھ بھی نہیں، تو انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات یاد کر کے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہت سا مال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمت اقدس میںحاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی، ہم نے گمراہی سے نجات پائی، ہم دیکھتے ہیں کہ حضور کے مصارف بہت زیادہ ہیں اس لیے ہم یہ مال خدام آستانہ کی خدمت میں نذر کے لیے لائے قبول فرما کر ہماری عزت افزائی کی جائے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور حضور نے وہ مال واپس فرمادیے۔ (2)
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے کفار قریش میری دعوت پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم مجھے ایذا تو نہ دو میری قرابت کا خیال کرو یا میری قرابت ہی کی وجہ سے میری دعوت پر غور کرو اور یہ تو دیکھو کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو بس اللہ پر ہے، اس صورت میں مخاطب کفار قریش ہیں۔
اور ایک تفسیر یہ ہے کہ میں اس تبلیغ دین پر تم سے کچھ اجر نہیں چاہتا ہاں یہ چاہتا ہوں کہ تم آپس میں اپنی قرابتوں کا لحاظ کرو، رشتوں کو جوڑو، کا ٹو نہیں، یعنی صلہ رحمی سے کام لو اور میرے قرابت داروں کو بھی نہ بھولو، اس میں مخاطب اہل ایمان ہیں۔
تیسری تفسیر وہی ہے کہ تقر ب الی اللہ حاصل کرو یعنی ’’قربیٰ‘‘ سے تقرب مراد ہے۔
ہر ایک کی تائید احادیث سے ہوتی ہے تفصیل کے لیے در منثورللا مام جلال الدین السیوطی اور دوسری تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے اس کی ایک تفسیر وہ ہے جو اخص اہل بیت یعنی پنج تن پاک سے متعلق ہے، اس کے کچھ شواہد ملاحظہ ہوں:
= ابو نعیم اور دیلمی نے بطریق مجاہد روایت کیا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر یہ کہ تم اقربا میں رشتہ محبت رکھو، یعنی میرا لحاظ و پاس میرے اہل بیت میں کرو اور ان سے میری وجہ سے محبت کرو۔(3)
= سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں (سند ضعیف ہے اور فضائل میں ضعیف مقبول ہے) کہ جب آیت قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ من قرابتک ہولاء الذین وجبت مودتہم قال: علی و فاطمۃ وولداہا۔
یا رسول اللہ آپ کے قرابت والے وہ کون ہیں جن کی محبت واجب ہے؟ فرمایا: علی، فاطمہ اور اس کے دونوں بیٹے۔ (4)
حضرت سعید بن جبیر کے سامنے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ’’قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ تو جھٹ سعید بن جبیر نے فرمایا۔ اس سے مراد آل محمد ہیں، تو ابن عباس نے فرمایا اے سعید تم نے جلدی کی قریش کی ہر شاخ میں حضور کی قرابت تھی تو اس قول کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے اس کا لحاظ کرو اسے کاٹو نہیں بلکہ جوڑو۔(5)
یعنی حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک آل رسول مراد ہیں اور حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اس سے خاندان قریش کے تمام ہی قرابت دار مراد ہیں۔
= ابن یزید نے ابو الدیلم سے روایت کیا کہ جب حضرت علی بن حسین یعنی امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کربلا سے) قیدی بنا کر لائے گئے اور دمشق کے راستے پر ایک جگہ قیام کیا، تو ایک شامی اٹھا اور کہا: خدا کی حمد کہ تم لوگوں کو مار ڈالا اور تمہارا قلع قمع کیا (معاذ اللہ) تو حضرت امام زین العابدین (علی بن حسین) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا تونے قرآن پڑھا ہے؟ کہا: ہاں، پھر کہا کیا تو نے آل حٓمٓ پڑھا؟ کہا نہیں، پھر فرمایا: کیا تونے قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ نہیں پڑھا؟ کہا کیا تمہیں لوگ ہو جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، حضرت امام نے فرمایا: ہاں (ہم ہی ہیں) (6)
= ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت بیان کی وہ آیت مودت کے آخری ٹکڑے ’’ومن یقترف حسنۃ نزد لہ فیہا حسنا‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں حسنۃ (نیکی) سے مراد محبت آل محمد ہے (صلی اللہ تعالیٰ علی محمد و آلہ و صحبہ) (7)
قُلْ لآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبَیٰ وَمَن یَقتَرِفْ حَسَنَۃً نَزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْناً (1)
تم فرماؤ میں اس (تبلیغ رسالت اور ارشاد و ہدایت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذمے مصارف بہت ہیں اور مال کچھ بھی نہیں، تو انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات یاد کر کے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہت سا مال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمت اقدس میںحاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی، ہم نے گمراہی سے نجات پائی، ہم دیکھتے ہیں کہ حضور کے مصارف بہت زیادہ ہیں اس لیے ہم یہ مال خدام آستانہ کی خدمت میں نذر کے لیے لائے قبول فرما کر ہماری عزت افزائی کی جائے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور حضور نے وہ مال واپس فرمادیے۔ (2)
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے کفار قریش میری دعوت پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم مجھے ایذا تو نہ دو میری قرابت کا خیال کرو یا میری قرابت ہی کی وجہ سے میری دعوت پر غور کرو اور یہ تو دیکھو کہ میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو بس اللہ پر ہے، اس صورت میں مخاطب کفار قریش ہیں۔
اور ایک تفسیر یہ ہے کہ میں اس تبلیغ دین پر تم سے کچھ اجر نہیں چاہتا ہاں یہ چاہتا ہوں کہ تم آپس میں اپنی قرابتوں کا لحاظ کرو، رشتوں کو جوڑو، کا ٹو نہیں، یعنی صلہ رحمی سے کام لو اور میرے قرابت داروں کو بھی نہ بھولو، اس میں مخاطب اہل ایمان ہیں۔
تیسری تفسیر وہی ہے کہ تقر ب الی اللہ حاصل کرو یعنی ’’قربیٰ‘‘ سے تقرب مراد ہے۔
ہر ایک کی تائید احادیث سے ہوتی ہے تفصیل کے لیے در منثورللا مام جلال الدین السیوطی اور دوسری تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے اس کی ایک تفسیر وہ ہے جو اخص اہل بیت یعنی پنج تن پاک سے متعلق ہے، اس کے کچھ شواہد ملاحظہ ہوں:
= ابو نعیم اور دیلمی نے بطریق مجاہد روایت کیا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر یہ کہ تم اقربا میں رشتہ محبت رکھو، یعنی میرا لحاظ و پاس میرے اہل بیت میں کرو اور ان سے میری وجہ سے محبت کرو۔(3)
= سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں (سند ضعیف ہے اور فضائل میں ضعیف مقبول ہے) کہ جب آیت قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ من قرابتک ہولاء الذین وجبت مودتہم قال: علی و فاطمۃ وولداہا۔
یا رسول اللہ آپ کے قرابت والے وہ کون ہیں جن کی محبت واجب ہے؟ فرمایا: علی، فاطمہ اور اس کے دونوں بیٹے۔ (4)
حضرت سعید بن جبیر کے سامنے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ’’قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ تو جھٹ سعید بن جبیر نے فرمایا۔ اس سے مراد آل محمد ہیں، تو ابن عباس نے فرمایا اے سعید تم نے جلدی کی قریش کی ہر شاخ میں حضور کی قرابت تھی تو اس قول کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے اس کا لحاظ کرو اسے کاٹو نہیں بلکہ جوڑو۔(5)
یعنی حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک آل رسول مراد ہیں اور حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اس سے خاندان قریش کے تمام ہی قرابت دار مراد ہیں۔
= ابن یزید نے ابو الدیلم سے روایت کیا کہ جب حضرت علی بن حسین یعنی امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کربلا سے) قیدی بنا کر لائے گئے اور دمشق کے راستے پر ایک جگہ قیام کیا، تو ایک شامی اٹھا اور کہا: خدا کی حمد کہ تم لوگوں کو مار ڈالا اور تمہارا قلع قمع کیا (معاذ اللہ) تو حضرت امام زین العابدین (علی بن حسین) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا تونے قرآن پڑھا ہے؟ کہا: ہاں، پھر کہا کیا تو نے آل حٓمٓ پڑھا؟ کہا نہیں، پھر فرمایا: کیا تونے قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبیٰ نہیں پڑھا؟ کہا کیا تمہیں لوگ ہو جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، حضرت امام نے فرمایا: ہاں (ہم ہی ہیں) (6)
= ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت بیان کی وہ آیت مودت کے آخری ٹکڑے ’’ومن یقترف حسنۃ نزد لہ فیہا حسنا‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں حسنۃ (نیکی) سے مراد محبت آل محمد ہے (صلی اللہ تعالیٰ علی محمد و آلہ و صحبہ) (7)
👍1
اگرچہ اکثر مفسرین نے حسنہ کو عام رکھا ہے لیکن مودت آل نبی یا قرابت رسول کو بھی اس میں شامل کیاہے اور خصوصیت کے لیے بھی قرینہ موجود ہے کہ اس سے متصل ہی مودت قربی موجود ہے۔
(1)الشوریٰ: ۴۲/ ۲۳
(2) ۱-خزائن العرفان، ۲-در منثور: ۵/ ۷۰۱
(3)تفسیر در منثور: ۵/ ۱۰۷، سورہ شوریٰ
(4) در منثور- ۵/۱۰۷
(5) بخاری شریف، ج۱/ ۲۹۶، ج۲/ ۷۱۳ حدیث ۴۸۱۸
(6) تفسیر در منثور: ۵/ ۷۰۱)، سورہ شوریٰ
(7)درمنثور ، ایضاً
از: علامه محمد عبدالمبین نعمانی قادری
(ماخوذ : اہل بیت اطہار، مرتبین: حضور امین ملت ڈاکٹر سید محمد امین میاں مارہروی و ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی ، ص 18/19)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332024114041831/
(1)الشوریٰ: ۴۲/ ۲۳
(2) ۱-خزائن العرفان، ۲-در منثور: ۵/ ۷۰۱
(3)تفسیر در منثور: ۵/ ۱۰۷، سورہ شوریٰ
(4) در منثور- ۵/۱۰۷
(5) بخاری شریف، ج۱/ ۲۹۶، ج۲/ ۷۱۳ حدیث ۴۸۱۸
(6) تفسیر در منثور: ۵/ ۷۰۱)، سورہ شوریٰ
(7)درمنثور ، ایضاً
از: علامه محمد عبدالمبین نعمانی قادری
(ماخوذ : اہل بیت اطہار، مرتبین: حضور امین ملت ڈاکٹر سید محمد امین میاں مارہروی و ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی ، ص 18/19)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332024114041831/
اهل بیت اور آیت مودت
قُلْ لآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبَیٰ وَمَن یَقتَرِفْ حَسَنَۃً نَزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْناً (1)
تم فرماؤ میں اس (تبلیغ رسالت اور ارشاد و ہدایت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں۔
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332024114041831/
قُلْ لآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبَیٰ وَمَن یَقتَرِفْ حَسَنَۃً نَزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْناً (1)
تم فرماؤ میں اس (تبلیغ رسالت اور ارشاد و ہدایت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں۔
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332024114041831/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نذرِ مولا حسین رضی اللّٰہ عنہ
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
حُسین کا بلند فرش و عرش پر مقام ہے
عقیدتوں کی بزم کا وہ بالیقیں امام ہے
حُسین عظمتوں کا رفعتوں کا ایک نام ہے
حُسین ذی وقار ہے، حُسین ذوالکرام ہے
حُسین میری زندگی ، حُسین میری آبرو
حُسین کا ہر اہلِ دل کے دل میں احترام ہے
وہ ایک لفظ صبر ہے عقیدہ جس کو کردیا
حُسین صبر و ضبط کا حَسین ایک نام ہے
حسین گلشنِ محمدی کا ایک پھول ہے
وہ خلد کے ہر اک جواں کا سید و امام ہے
ہر ایک حق پرست کی ہے قبلہ گاہ کربلا
ہر ایک حق پسند کا حُسین ہی امام ہے
یزید اور یزیدیت کے ہم نواؤ جان لو
تمھارے واسطے بہشت بالیقیں حرام ہے
رسولِ پاک سے نجات کی سند وہ پائے گا
حسینیت کا جس کسی کے دل میں احترام ہے
ہر ایک ذرہ ریگ زارِ کربلا کا ہے گواہ
یزیدیت فنا ہوئی حسینیت مدام ہے
ہے کربلا کے جاں نثاروں کے لہو کی سرخیاں
یہ دیں جو سرخ رو ہوا ، شفق جو لالہ فام ہے
نہ ظالموں کا خوف ہے نہ جبر سے مجھے حذر
مرا وظیفہ ہر گھڑی حسین ہی کا نام ہے
حسین لا زوال ہے حسین زندہ جاوداں
ولا تقولوا حق تعالیٰ کا سنو کلام ہے
عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
حُسین کا بلند فرش و عرش پر مقام ہے
عقیدتوں کی بزم کا وہ بالیقیں امام ہے
حُسین عظمتوں کا رفعتوں کا ایک نام ہے
حُسین ذی وقار ہے، حُسین ذوالکرام ہے
حُسین میری زندگی ، حُسین میری آبرو
حُسین کا ہر اہلِ دل کے دل میں احترام ہے
وہ ایک لفظ صبر ہے عقیدہ جس کو کردیا
حُسین صبر و ضبط کا حَسین ایک نام ہے
حسین گلشنِ محمدی کا ایک پھول ہے
وہ خلد کے ہر اک جواں کا سید و امام ہے
ہر ایک حق پرست کی ہے قبلہ گاہ کربلا
ہر ایک حق پسند کا حُسین ہی امام ہے
یزید اور یزیدیت کے ہم نواؤ جان لو
تمھارے واسطے بہشت بالیقیں حرام ہے
رسولِ پاک سے نجات کی سند وہ پائے گا
حسینیت کا جس کسی کے دل میں احترام ہے
ہر ایک ذرہ ریگ زارِ کربلا کا ہے گواہ
یزیدیت فنا ہوئی حسینیت مدام ہے
ہے کربلا کے جاں نثاروں کے لہو کی سرخیاں
یہ دیں جو سرخ رو ہوا ، شفق جو لالہ فام ہے
نہ ظالموں کا خوف ہے نہ جبر سے مجھے حذر
مرا وظیفہ ہر گھڑی حسین ہی کا نام ہے
حسین لا زوال ہے حسین زندہ جاوداں
ولا تقولوا حق تعالیٰ کا سنو کلام ہے
ادا ہوئی نماز جو بہ زیرِ تیغِ آب دار
کوئی نہ ویسا سجدہ ہے، نہ ویسا اب قیام ہے
یہ خستہ جاں مُشاہدؔ آپ کی ثنا کرے سدا
مرے لبوں پہ یاحُسین عرض یہ مدام ہے
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332020664042176/
کوئی نہ ویسا سجدہ ہے، نہ ویسا اب قیام ہے
یہ خستہ جاں مُشاہدؔ آپ کی ثنا کرے سدا
مرے لبوں پہ یاحُسین عرض یہ مدام ہے
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332020664042176/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلام مسنون
اہل بیت پر ظلم
علامہ محب الدین احمد بن عبداللہ طبری نے اپنی کتاب ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے : عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن اللہ حرم الجنۃ علی من ظلم أہل بیتی أو قاتلہم أو أغار علیہم أو سبہم۔ ترجمہ :بیشک اللہ تعالی اس شخص پر جنت حرام قرار دیا ہے جس نے میرے اہل بیت پر ظلم وزیادتی کی یا ان سے جنگ وجدال کیا یا ان پرحملہ کیا یا انہیں برابھلا کہا۔(ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی ،باب فضائل اہل البیت ،ذکرتحریم الجنۃ علی من ظلھم)نیزعلامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی الصواعق المحرقۃ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل کیاہے: ومن آذانی فی عترتی فعلیہ لعنۃ اللہ ومن آذانی فی عترتی فقد آذی اللہ إن اللہ حرم الجنۃ علی من ظلم أہل بیتی أو قاتلہم أو أعان علیہم أو سبہم۔ ترجمہ: جس نے میرے اہل بیت کے بارے میں مجھے تکلیف دی اس پر اللہ کی لعنت ہے‘ جس نے میرے اہل بیت کے متعلق مجھے ایذاء پہنچائی اس نے اللہ تعالی کو ایذاء پہنچائی‘
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021700708739/
اہل بیت پر ظلم
علامہ محب الدین احمد بن عبداللہ طبری نے اپنی کتاب ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے : عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن اللہ حرم الجنۃ علی من ظلم أہل بیتی أو قاتلہم أو أغار علیہم أو سبہم۔ ترجمہ :بیشک اللہ تعالی اس شخص پر جنت حرام قرار دیا ہے جس نے میرے اہل بیت پر ظلم وزیادتی کی یا ان سے جنگ وجدال کیا یا ان پرحملہ کیا یا انہیں برابھلا کہا۔(ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی ،باب فضائل اہل البیت ،ذکرتحریم الجنۃ علی من ظلھم)نیزعلامہ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی الصواعق المحرقۃ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل کیاہے: ومن آذانی فی عترتی فعلیہ لعنۃ اللہ ومن آذانی فی عترتی فقد آذی اللہ إن اللہ حرم الجنۃ علی من ظلم أہل بیتی أو قاتلہم أو أعان علیہم أو سبہم۔ ترجمہ: جس نے میرے اہل بیت کے بارے میں مجھے تکلیف دی اس پر اللہ کی لعنت ہے‘ جس نے میرے اہل بیت کے متعلق مجھے ایذاء پہنچائی اس نے اللہ تعالی کو ایذاء پہنچائی‘
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021700708739/