Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت داتا گنج بخش
حضرت سیدنا داتا علی ہجویری
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت سیدنا داتا علی ہجویری
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تھا مِہر صِفَت ، قافلہ سالار کا چہرا
نیزے پہ دمکتا رہا ، سردار کا چہرا
وہ آئینہ تھا چہرۂ شبیر کہ جس میں
آتا تھا نظر ، حیدرِ کرار کا چہرا
صد حیف وہ خود یوں بھرے بازار سے گُزرے
جس گھر نے نہ دیکھا کبھی ، بازار کا چہرا
ہے پیاس کی شدت ، وہ سکینہ کے لبوں پر
مثلِ عَلَم اُترا ہے ، علمدار کا چہرا
آثار کچھ ایسے تھے، زینب کی نظر سے
دیکھا نہ گیا ، عابدِ بیمار کا چہرا
اشکوں کی طرح تھے جو ستارے شبِ عاشور
تھا چاند بھی اک اُن کے عزادار کا چہرا
وہ خُطبہ زینب کہ علی بول رہے تھے
ہر لفظ پہ فق تھا، بھرے دربار کا چہرا
دیکھو گے جو خورشیدِ قیامت کے مقابل
لَو دے گا نصیر اُن کے پرستار کا چہرا
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/2981253568807096/
نیزے پہ دمکتا رہا ، سردار کا چہرا
وہ آئینہ تھا چہرۂ شبیر کہ جس میں
آتا تھا نظر ، حیدرِ کرار کا چہرا
صد حیف وہ خود یوں بھرے بازار سے گُزرے
جس گھر نے نہ دیکھا کبھی ، بازار کا چہرا
ہے پیاس کی شدت ، وہ سکینہ کے لبوں پر
مثلِ عَلَم اُترا ہے ، علمدار کا چہرا
آثار کچھ ایسے تھے، زینب کی نظر سے
دیکھا نہ گیا ، عابدِ بیمار کا چہرا
اشکوں کی طرح تھے جو ستارے شبِ عاشور
تھا چاند بھی اک اُن کے عزادار کا چہرا
وہ خُطبہ زینب کہ علی بول رہے تھے
ہر لفظ پہ فق تھا، بھرے دربار کا چہرا
دیکھو گے جو خورشیدِ قیامت کے مقابل
لَو دے گا نصیر اُن کے پرستار کا چہرا
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/2981253568807096/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فضائل اہل بیت کے حوالے سے ایک مختصر مگر جامع و پر مغز پیغاماتی تحریر
حضور تاج المشائخ سید محمد امین میاں قادری برکاتی دام ظلہٗ الاقدس کے قلم سے
انتخاب و پيش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
حضرات’’ اہل بیت اطہار‘‘ ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہیں۔ ان کی عظمت اور مرتبہ کی بلندی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے والے اور ان سے خونی نسبت رکھنے والے ہیں اور اس نسبت کو اللہ تبارک و تعالی نے آیۂ طہارت کے ذریعے ایسا مضبوط و مستحکم کردیا ہے کہ صبح قیامت تک اہل بیت اطہار کے مرتبہ و درجات کی بلندی اور ان کے تقدس اور فضیلت پر کوئی شک و شبہ کرنے کی مجال نہ کرسکے گا۔
سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں ان کی ازواج مطہرات کو بھی شمار کرنا لازمی ہے لیکن عام طور پر جب اہل بیت کی بات کی جاتی ہے تو ذہن و دل انہیں کی جانب مرکوز ہوتا ہے، جن صاحبوں کو ردائے مبارک میں لے کر سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اہل بیت فرمایااور قرآن نے جن کی طہارت پر مہر تصدیق لگائی۔
ان میں وہ علی مرتضیٰ ہیں جن کو ’’باب علم نبی‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور جن کو رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے شب ہجرت بستر رسالت پراستراحت کا حکم دے کر اہالیان مکہ کی امانتوں کا امین بنایا۔ ان میں وہ سیدۂ کائنات فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جن کے طیب و طاہر وجود سے بے پناہ شفقت اور محبت کے سبب کونین میں سب سے زیادہ تعریف کیے ہوے رسول اور تمام ایمان والوں کے مرکز عقیدت و محبت ان کو دیکھ کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ یہ وہ فاطمۃ الزہرا ہیں کہ جن کی بارگاہ میں دنیا بھر کے خطیب جمعہ کے منبر پر ’’سیدۃ نساء العالمین فی الجنۃ‘‘ کہہ کر سلام پیش کیا کرتے ہیں۔ یہیں وہ حسنین کریمین بھی ہیں جن کو اگر رسول حالت خطبہ میں دیکھ لیں تو آغوش مبارک دراز فرمادیں اور اگر اپنے رب کی بارگاہ میں سر بسجود ہوں تو بھی اپنے نور نظر کی تالیف قلب کے لئے سجدے کو طویل فرمادیں، کیوںکہ یہی تو وہ امت کے سردار تھے جن کا ایک سجدہ کربلا میں صبح قیامت تک کے مومنوں کے تمام سجدوں کا محافظ اور شریعت محمدیہ کی حفاظت کا ضامن رہے گا۔ ان اہل بیت میں وہ عابد بیمار سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو شب عاشورہ ظلم کی تاریکیوں سے محصور خیموں میں چراغ نسل مصطفی کی شکل میں روشن تھے اور اسی چراغ سے آج اتنے چراغ روشن ہیں کہ فقیر کا دعویٰ ہے کہ کرۂ ارض کا کوئی خطہ اور حصہ ایسا نہ ہوگا جو ان آل مصطفائی شعائوں سے روشن نہ ہو۔ وہ زینب کبریٰ بھی ان میں شامل ہیں جو دانائی اور جرأت مندی کا سر چشمہ تھیں، خاندان مصطفی کی وہ عالی ہمت اور بلند حوصلہ بیٹی کہ جس کے صبر و استقلال اور قائدانہ صلاحیتوں کو آج بھی سرزمین کربلا یاد کرتی ہوگی کہ ’’اے دختر علی! اس لٹے ہوئے قافلے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو اکھٹا کر کے لے جانا تمہارے ہی قلب و جگر کا حصہ تھا، ورنہ تو اس برق ستم سے بڑے بڑے پتھر دل والے بکھر کے ریزہ ریزہ ہوجاتے۔‘‘
آج عالمی سطح پر کچھ مخصوص فرقے حضراتِ اہل بیت کے ذکر کو کچھ ہلکے اور سطحی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بالخصوص واقعات کربلا کے منظر اور پس منظر کے حوالے سے لوگوں کے دلوں سے ان تمام واقعات کی حقانیت اور حضرت شہید کربلا کی بے مثال قربانی کی اہمیت کو نظرانداز کر کے یزید اور اس کے ہمنواؤں کو نواسۂ رسول کے مقابل صحیح بلکہ حق بہ جانب ثابت کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں (معاذ اللہ)۔ حقیقت میں یہ مہم بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جہاں سے ناموس رسالت پر حملے کیے جاتے رہے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں لیکن نہ کل حفظ ناموس رسالت کے علم برداروں کی کمی تھی نہ بفضلہ تعالیٰ آج ہے۔
آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ نسلیں مذہبی معلومات،اسلامی شخصیات، صحابہ، اہل بیت، اولیا، اصفیا اور ائمہ وغیرہم کی حیات و خدمات تو دور، ان کے نام نامی اسم گرامی تک سے واقفیت نہیں رکھتیں الا ماشاء اللہ۔ تو ایسی صورت میں نئی نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف کرانا بے حد ضروری ہے۔لہٰذا ہم سب اپنی اپنی سطح پر کوشش کریں کہ صورت حال کسی طرح سے تبدیل ہو اور مذہب کے تئیں دلچسپی لینے کا سلسلہ مضبوط سے مضبوط تر ہو۔
(کتاب اہل بیت اطہار سے ماخوذ)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021514042091/
حضور تاج المشائخ سید محمد امین میاں قادری برکاتی دام ظلہٗ الاقدس کے قلم سے
انتخاب و پيش کش: مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
حضرات’’ اہل بیت اطہار‘‘ ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہیں۔ ان کی عظمت اور مرتبہ کی بلندی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے والے اور ان سے خونی نسبت رکھنے والے ہیں اور اس نسبت کو اللہ تبارک و تعالی نے آیۂ طہارت کے ذریعے ایسا مضبوط و مستحکم کردیا ہے کہ صبح قیامت تک اہل بیت اطہار کے مرتبہ و درجات کی بلندی اور ان کے تقدس اور فضیلت پر کوئی شک و شبہ کرنے کی مجال نہ کرسکے گا۔
سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں ان کی ازواج مطہرات کو بھی شمار کرنا لازمی ہے لیکن عام طور پر جب اہل بیت کی بات کی جاتی ہے تو ذہن و دل انہیں کی جانب مرکوز ہوتا ہے، جن صاحبوں کو ردائے مبارک میں لے کر سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اہل بیت فرمایااور قرآن نے جن کی طہارت پر مہر تصدیق لگائی۔
ان میں وہ علی مرتضیٰ ہیں جن کو ’’باب علم نبی‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور جن کو رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے شب ہجرت بستر رسالت پراستراحت کا حکم دے کر اہالیان مکہ کی امانتوں کا امین بنایا۔ ان میں وہ سیدۂ کائنات فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جن کے طیب و طاہر وجود سے بے پناہ شفقت اور محبت کے سبب کونین میں سب سے زیادہ تعریف کیے ہوے رسول اور تمام ایمان والوں کے مرکز عقیدت و محبت ان کو دیکھ کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ یہ وہ فاطمۃ الزہرا ہیں کہ جن کی بارگاہ میں دنیا بھر کے خطیب جمعہ کے منبر پر ’’سیدۃ نساء العالمین فی الجنۃ‘‘ کہہ کر سلام پیش کیا کرتے ہیں۔ یہیں وہ حسنین کریمین بھی ہیں جن کو اگر رسول حالت خطبہ میں دیکھ لیں تو آغوش مبارک دراز فرمادیں اور اگر اپنے رب کی بارگاہ میں سر بسجود ہوں تو بھی اپنے نور نظر کی تالیف قلب کے لئے سجدے کو طویل فرمادیں، کیوںکہ یہی تو وہ امت کے سردار تھے جن کا ایک سجدہ کربلا میں صبح قیامت تک کے مومنوں کے تمام سجدوں کا محافظ اور شریعت محمدیہ کی حفاظت کا ضامن رہے گا۔ ان اہل بیت میں وہ عابد بیمار سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو شب عاشورہ ظلم کی تاریکیوں سے محصور خیموں میں چراغ نسل مصطفی کی شکل میں روشن تھے اور اسی چراغ سے آج اتنے چراغ روشن ہیں کہ فقیر کا دعویٰ ہے کہ کرۂ ارض کا کوئی خطہ اور حصہ ایسا نہ ہوگا جو ان آل مصطفائی شعائوں سے روشن نہ ہو۔ وہ زینب کبریٰ بھی ان میں شامل ہیں جو دانائی اور جرأت مندی کا سر چشمہ تھیں، خاندان مصطفی کی وہ عالی ہمت اور بلند حوصلہ بیٹی کہ جس کے صبر و استقلال اور قائدانہ صلاحیتوں کو آج بھی سرزمین کربلا یاد کرتی ہوگی کہ ’’اے دختر علی! اس لٹے ہوئے قافلے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو اکھٹا کر کے لے جانا تمہارے ہی قلب و جگر کا حصہ تھا، ورنہ تو اس برق ستم سے بڑے بڑے پتھر دل والے بکھر کے ریزہ ریزہ ہوجاتے۔‘‘
آج عالمی سطح پر کچھ مخصوص فرقے حضراتِ اہل بیت کے ذکر کو کچھ ہلکے اور سطحی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بالخصوص واقعات کربلا کے منظر اور پس منظر کے حوالے سے لوگوں کے دلوں سے ان تمام واقعات کی حقانیت اور حضرت شہید کربلا کی بے مثال قربانی کی اہمیت کو نظرانداز کر کے یزید اور اس کے ہمنواؤں کو نواسۂ رسول کے مقابل صحیح بلکہ حق بہ جانب ثابت کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں (معاذ اللہ)۔ حقیقت میں یہ مہم بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جہاں سے ناموس رسالت پر حملے کیے جاتے رہے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں لیکن نہ کل حفظ ناموس رسالت کے علم برداروں کی کمی تھی نہ بفضلہ تعالیٰ آج ہے۔
آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ نسلیں مذہبی معلومات،اسلامی شخصیات، صحابہ، اہل بیت، اولیا، اصفیا اور ائمہ وغیرہم کی حیات و خدمات تو دور، ان کے نام نامی اسم گرامی تک سے واقفیت نہیں رکھتیں الا ماشاء اللہ۔ تو ایسی صورت میں نئی نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف کرانا بے حد ضروری ہے۔لہٰذا ہم سب اپنی اپنی سطح پر کوشش کریں کہ صورت حال کسی طرح سے تبدیل ہو اور مذہب کے تئیں دلچسپی لینے کا سلسلہ مضبوط سے مضبوط تر ہو۔
(کتاب اہل بیت اطہار سے ماخوذ)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021514042091/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
لباس ہے پھٹا ہوا ،غُبار میں اٹا ہوا
تمام جسمِ نازنیں چِھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے
کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے
غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر
اٹھی صدائے الاماں زبان شرق وغرب سے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کانورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے
زمین بھی ہے تپی ہوئی ، فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زن یہ صف شِکن فلک فگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محو کار زار ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جسکے دبدے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے
حبیبِ مصطفی ہے یہ مجاہدِ خدا ہے یہ
کہ جسطرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
اُدھر سیاہ شام ہے ہزار انتظام ہے
اُدھر ہیں دشمنانِ دیں اِدھر فقط امام ہے
مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
از حفیظ جالندھری
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021237375452/
تمام جسمِ نازنیں چِھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے
کئی شقی گرئے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے
غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر
اٹھی صدائے الاماں زبان شرق وغرب سے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کانورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے
زمین بھی ہے تپی ہوئی ، فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زن یہ صف شِکن فلک فگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محو کار زار ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جسکے دبدے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے
حبیبِ مصطفی ہے یہ مجاہدِ خدا ہے یہ
کہ جسطرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
اُدھر سیاہ شام ہے ہزار انتظام ہے
اُدھر ہیں دشمنانِ دیں اِدھر فقط امام ہے
مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے نبی کا نورِ عین ہے
از حفیظ جالندھری
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021237375452/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلام ببارگاہ ِامام ِحسین رضی اللہ عنہ
از قلم: حضور سید العلماء سید آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ
انتخاب و پیش کش : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
تمھارے سجدے کو کعبہ سلام کہتا ہے
جلالِ قبۂ خضریٰ سلام کہتا ہے
چمن کا ہر گل و غنچہ سلام کہتا ہے
حسین تم کو زمانہ سلام کہتا ہے
چراغ مسجد و منبر سلام کہتے ہیں
نبی ، رسول و پیمبر سلام کہتے ہیں
علی و فاطمہ ، شبر سلام کہتے ہیں
خدا گواہ کہ نانا سلام کہتا ہے
خدا کی راہ میں سر کو کٹا دیا تم نے
نبی کے دین پہ گھر کو لٹا دیا تم نے
نشان کفر کو یکسر مٹا دیا تم نے
تمہیں خدا بھی تمھارا سلام کہتا ہے
تمہیں فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں
تمہیں قرآن کے پارے سلام کہتے ہیں
تمہیں حرم کے منارے سلام کہتے ہیں
امام تم کو مدینہ سلام کہتا ہے
ثنا تمہای وظیفہ ہے میرا آبائی
تمہاری مدحت شیوا ہے میرا مولائی
بس اک نظر ہوجو مجھ پر تو میری بن آئی
تمہارا سیدؔ شیدا سلام کہتا ہے
--------------
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021860708723/
از قلم: حضور سید العلماء سید آل مصطفیٰ سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ
انتخاب و پیش کش : مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
تمھارے سجدے کو کعبہ سلام کہتا ہے
جلالِ قبۂ خضریٰ سلام کہتا ہے
چمن کا ہر گل و غنچہ سلام کہتا ہے
حسین تم کو زمانہ سلام کہتا ہے
چراغ مسجد و منبر سلام کہتے ہیں
نبی ، رسول و پیمبر سلام کہتے ہیں
علی و فاطمہ ، شبر سلام کہتے ہیں
خدا گواہ کہ نانا سلام کہتا ہے
خدا کی راہ میں سر کو کٹا دیا تم نے
نبی کے دین پہ گھر کو لٹا دیا تم نے
نشان کفر کو یکسر مٹا دیا تم نے
تمہیں خدا بھی تمھارا سلام کہتا ہے
تمہیں فلک کے ستارے سلام کہتے ہیں
تمہیں قرآن کے پارے سلام کہتے ہیں
تمہیں حرم کے منارے سلام کہتے ہیں
امام تم کو مدینہ سلام کہتا ہے
ثنا تمہای وظیفہ ہے میرا آبائی
تمہاری مدحت شیوا ہے میرا مولائی
بس اک نظر ہوجو مجھ پر تو میری بن آئی
تمہارا سیدؔ شیدا سلام کہتا ہے
--------------
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/332021860708723/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM