#مجاہد_ملت_سیمینار_انقلابی_افکار_کے_احیا_کی #جانب_سنجیدہ_پیش_رفت!!
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
ہمارے قرب وجوار میں ہونے والے اعراس اس شعر کی عملی تصویر بنے نظر آتے ہیں لیکن پچھلے کچھ وقت سے باشعور سجادگان نے روایت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی توجہات کا رخ علمی کاموں کی جانب مبذول کیا ہے. جس کی وجہ سے اب اساطین علم سے منسوب پروگرام/اعراس میں محض چادر وگاگر کے میلے ہی نہیں ہوتے بلکہ علمی مجلسیں بھی سجنے لگی ہیں. جو جماعت کے لیے اچھے مستقبل کا اشاریہ ہے.
ایسی ہی ایک مجلس 29 فروری 2020 بروز ہفتہ صوبہ اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک میں سجائی گئی. جہاں جماعت کے ایک
"گمنام نامور" مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن عباسی قادری (1322 ھ-1401) کے نام پر ایک روزہ کل ہند سیمینار منعقد کیا گیا. ذمہ داران خانقاہ نے اس علمی مجلس کے بہترین انعقاد کے لئے ملک کی ایک سنجیدہ علمی شخصیت ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کا انتخاب کیا. جس کے لیے صاحب سجادہ حبیب ملت حضرت مولانا سید غلام محمد حبیبی قادری قابل تعریف ہیں.
پر تکلف ظہرانہ کے بعد *انجمن اسلامیہ* دیوان بازار کٹک کے *مجاہد ملت ہال* میں سیمینار کا آغاز ہوا.تلاوت قرآن کریم اور نعت مصطفیٰ ﷺ کے بعد تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے منصرم مجلس ڈاکٹر شمس مصباحی نے اپنی قلبی واردات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
مجاہد ملت جیسی شخصیت کو آج کی نسل محض نام کی حد تک جانتی ہے. جبکہ ان کے کارنامے، ان کے افکار اور نقوش زندگی اس نوعیت کے ہیں کہ وہ جماعتی افکار ونظریات کا جزو لاینفک ہوتے. لیکن حالات زمانہ کی نیرنگی کہ ہم اپنی فقید المثال شخصیت کو بھی فراموش کر بیٹھے. اس لیے مجاہد ملت کے انقلابی افکار ونظریات سے زمانے کو روشناس کرانے کے لیے ہی یہ علمی مجلس سجائی گئی تاکہ ان کے افکار کی روشنی میں جماعت بحسن و خوبی کامیابی کا سفر طے کر سکے.
یہاں منصرم مجلس کی بالغ نظری کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے اہل قلم حضرات کو اپنی گفتگو میں عوام کے ذوق کا خیال رکھتے ہوئے قدرے خطیبانہ رنگ لینے کی آزادی عطا فرمائی. کیوں کہ سیمینار میں اہل علم کے ساتھ عوام بھی بڑی تعداد میں شریک تھے. اور عوام بنیادی طور پر خالص علمی وتحقیقی گفتگو سننے کے حامل نہیں ہوتے اس لیے وسیم بریلوی کے مطابق:
کون سی بات کب،کہاں،کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے !!
پر عمل کرتے ہوئے عوامی نفسیات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ علمی گفتگو سے آشنا ہو سکیں.
سیمینار کی نظامت کلکتے کے مشہور ناظم اجلاس محترم حلیم حاذق صاحب نے کی. موصوف عمر کے کئی پڑاؤ پار کرنے کے بعد بھی قد وقامت کے اعتبار سے جتنے فٹم فٹ ہیں اتنی ہی فٹم فٹ ان کی نظامت بھی نظر آئی. ان کے بر محل جملوں اور بامقصد اشعار نے حسن محفل بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا.جس کے لیے حاذق صاحب قابل تحسین ہیں.
*شرکائے سیمینار اور موضوعات:*
1- ڈاکٹر ارشاد عالم ساحل، سہسرام
(مجاہد ملت کی ایمانی شان)
2- مفتی خالد ایوب مصباحی، جےپور
(راجستھان میں آپ کی دعوتی خدمات اور موجودہ ضرورت)
3- غلام مصطفےٰ نعیمی، دہلی
(عصری تعلیم اور آپ کی دور اندیشی)
4-ڈاکٹر نجم القادری مدھوبنی بہار
(مجاہد ملت ایک کثیر الجہات شخصیت)
5- ڈاکٹر احمد جاوید، پٹنہ
(مجاہد ملت کے اہم سیاسی کارنامے)
6- مولانا صابر رضا رہبر مصباحی، پٹنہ
7-مولانا شمیم اختر رضوی، جمشید پور
(مجاہد ملت کی اصلاحی وسماجی کارگزاریاں)
8- ڈاکٹر سجاد عالم رضوی، کلکتہ
(موجودہ ہندوستان وقانون میں مجاہد ملت کا حصہ)
9 مولانا رحمت اللہ صدیقی، ممبئی
(مجاہد ملت،انتخاب اعلی حضرت)
10 مفتی شمشاد مصباحی، گھوسی، یوپی
(مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت)
11 مفتی اختر حسین علیمی، جمدا شاہی، یوپی
(نجدی قاضی سے ہوئے مکالمے کی علمی حیثیت)
12 مولانا سید عبدالمسجود حبیبی، الہ آباد
(مشاہدات وتجربات)
13 مولانا ریاضت حسین ازہری، رسول پور، اڑیسہ
16 مولانا فیضان المصطفی اعظمی، امریکہ
(مجاہد ملت کی فقہی عبقریت اور استحضار علمی)
17 مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور
(مجاہد ملت:کرادر وعمل کے مجاہد)
سیمیناروں کی روایت کے عین مطابق خاصا وقت تعارف وتمہید کی نذر ہوگیا اس لیے منتخب اہل قلم کو ہی اپنے مقالات کے اہم نکات پر گفتگو کرنے کا موقع دیا گیا.
سیمینار میں مجاہد ملت کی کتاب زندگی کے کئی اہم اوراق پر بڑی خاص گفتگو ہوئی وہ خاص عناوین یہ ہیں:
1-استقامت فی الدین.
2-عصری تعلیم کی اہمیت
3-دعوتی وتبلیغی مزاج
4-فقہی گہرائی وگیرائی
5-مناظرانہ مہارت
6-سماجی خدمات
7-سیاسی شعور وخدمات
8-فکری پختگی
9-مشاہدات ومصاحبات
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
ہمارے قرب وجوار میں ہونے والے اعراس اس شعر کی عملی تصویر بنے نظر آتے ہیں لیکن پچھلے کچھ وقت سے باشعور سجادگان نے روایت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی توجہات کا رخ علمی کاموں کی جانب مبذول کیا ہے. جس کی وجہ سے اب اساطین علم سے منسوب پروگرام/اعراس میں محض چادر وگاگر کے میلے ہی نہیں ہوتے بلکہ علمی مجلسیں بھی سجنے لگی ہیں. جو جماعت کے لیے اچھے مستقبل کا اشاریہ ہے.
ایسی ہی ایک مجلس 29 فروری 2020 بروز ہفتہ صوبہ اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک میں سجائی گئی. جہاں جماعت کے ایک
"گمنام نامور" مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن عباسی قادری (1322 ھ-1401) کے نام پر ایک روزہ کل ہند سیمینار منعقد کیا گیا. ذمہ داران خانقاہ نے اس علمی مجلس کے بہترین انعقاد کے لئے ملک کی ایک سنجیدہ علمی شخصیت ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کا انتخاب کیا. جس کے لیے صاحب سجادہ حبیب ملت حضرت مولانا سید غلام محمد حبیبی قادری قابل تعریف ہیں.
پر تکلف ظہرانہ کے بعد *انجمن اسلامیہ* دیوان بازار کٹک کے *مجاہد ملت ہال* میں سیمینار کا آغاز ہوا.تلاوت قرآن کریم اور نعت مصطفیٰ ﷺ کے بعد تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے منصرم مجلس ڈاکٹر شمس مصباحی نے اپنی قلبی واردات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
مجاہد ملت جیسی شخصیت کو آج کی نسل محض نام کی حد تک جانتی ہے. جبکہ ان کے کارنامے، ان کے افکار اور نقوش زندگی اس نوعیت کے ہیں کہ وہ جماعتی افکار ونظریات کا جزو لاینفک ہوتے. لیکن حالات زمانہ کی نیرنگی کہ ہم اپنی فقید المثال شخصیت کو بھی فراموش کر بیٹھے. اس لیے مجاہد ملت کے انقلابی افکار ونظریات سے زمانے کو روشناس کرانے کے لیے ہی یہ علمی مجلس سجائی گئی تاکہ ان کے افکار کی روشنی میں جماعت بحسن و خوبی کامیابی کا سفر طے کر سکے.
یہاں منصرم مجلس کی بالغ نظری کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے اہل قلم حضرات کو اپنی گفتگو میں عوام کے ذوق کا خیال رکھتے ہوئے قدرے خطیبانہ رنگ لینے کی آزادی عطا فرمائی. کیوں کہ سیمینار میں اہل علم کے ساتھ عوام بھی بڑی تعداد میں شریک تھے. اور عوام بنیادی طور پر خالص علمی وتحقیقی گفتگو سننے کے حامل نہیں ہوتے اس لیے وسیم بریلوی کے مطابق:
کون سی بات کب،کہاں،کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے !!
پر عمل کرتے ہوئے عوامی نفسیات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ علمی گفتگو سے آشنا ہو سکیں.
سیمینار کی نظامت کلکتے کے مشہور ناظم اجلاس محترم حلیم حاذق صاحب نے کی. موصوف عمر کے کئی پڑاؤ پار کرنے کے بعد بھی قد وقامت کے اعتبار سے جتنے فٹم فٹ ہیں اتنی ہی فٹم فٹ ان کی نظامت بھی نظر آئی. ان کے بر محل جملوں اور بامقصد اشعار نے حسن محفل بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا.جس کے لیے حاذق صاحب قابل تحسین ہیں.
*شرکائے سیمینار اور موضوعات:*
1- ڈاکٹر ارشاد عالم ساحل، سہسرام
(مجاہد ملت کی ایمانی شان)
2- مفتی خالد ایوب مصباحی، جےپور
(راجستھان میں آپ کی دعوتی خدمات اور موجودہ ضرورت)
3- غلام مصطفےٰ نعیمی، دہلی
(عصری تعلیم اور آپ کی دور اندیشی)
4-ڈاکٹر نجم القادری مدھوبنی بہار
(مجاہد ملت ایک کثیر الجہات شخصیت)
5- ڈاکٹر احمد جاوید، پٹنہ
(مجاہد ملت کے اہم سیاسی کارنامے)
6- مولانا صابر رضا رہبر مصباحی، پٹنہ
7-مولانا شمیم اختر رضوی، جمشید پور
(مجاہد ملت کی اصلاحی وسماجی کارگزاریاں)
8- ڈاکٹر سجاد عالم رضوی، کلکتہ
(موجودہ ہندوستان وقانون میں مجاہد ملت کا حصہ)
9 مولانا رحمت اللہ صدیقی، ممبئی
(مجاہد ملت،انتخاب اعلی حضرت)
10 مفتی شمشاد مصباحی، گھوسی، یوپی
(مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت)
11 مفتی اختر حسین علیمی، جمدا شاہی، یوپی
(نجدی قاضی سے ہوئے مکالمے کی علمی حیثیت)
12 مولانا سید عبدالمسجود حبیبی، الہ آباد
(مشاہدات وتجربات)
13 مولانا ریاضت حسین ازہری، رسول پور، اڑیسہ
16 مولانا فیضان المصطفی اعظمی، امریکہ
(مجاہد ملت کی فقہی عبقریت اور استحضار علمی)
17 مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور
(مجاہد ملت:کرادر وعمل کے مجاہد)
سیمیناروں کی روایت کے عین مطابق خاصا وقت تعارف وتمہید کی نذر ہوگیا اس لیے منتخب اہل قلم کو ہی اپنے مقالات کے اہم نکات پر گفتگو کرنے کا موقع دیا گیا.
سیمینار میں مجاہد ملت کی کتاب زندگی کے کئی اہم اوراق پر بڑی خاص گفتگو ہوئی وہ خاص عناوین یہ ہیں:
1-استقامت فی الدین.
2-عصری تعلیم کی اہمیت
3-دعوتی وتبلیغی مزاج
4-فقہی گہرائی وگیرائی
5-مناظرانہ مہارت
6-سماجی خدمات
7-سیاسی شعور وخدمات
8-فکری پختگی
9-مشاہدات ومصاحبات
*استقامت فی الدین* مجاہد ملت کی زندگی کا سب سے اہم اور بنیادی عنوان استقامت فی الدین ہی ہے. یہی وہ جذبہ تھا کہ جس کی خاطر سعودی نجدی حکومت تک سے ٹکرا گئے تھے. اس عنوان پر مفتی اختر حسین علیمی نے نہایت فاضلانہ انداز میں نجدی قاضی سے ہوئے آپ کے مکالمے کی بہترین تشریحی گفتگو فرمائی.
*عصری تعلیم کی اہمیت* مجاہد ملت نے جہاں مدارس ومساجد قائم فرمائے وہیں کئی عصری اداروں کے قیام بھی کلیدی رول ادا فرمایا. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے فقیر غلام مصطفےٰ نعیمی نے بیان کیا کہ دور حاضر میں مسلمانوں کے 96 فیصد بچے عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں. ایسے میں ان کی بنیادی دینی تعلیم کا نظم کیے بغیر ان کے عقائد کی حفاظت کس طرح ممکن ہے اور دین بیزار عصری اداروں کے برے اثرات سے بچانے کے لیے ہمارا ایکشن پلان کیا ہے؟
یہاں یہ پہلو بھی ذہن میں رہے کہ 2016 کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں محض 2.75 فیصد افراد ہی گریجویٹ ہیں. یہ بات اپنے آپ میں کس قدر شرم ناک ہے کہ 25 کروڑ کی مسلم آبادی میں گریجویٹ افراد کا تناسب تین فیصد بھی نہیں ہے. شاید یہی وجہ تھی کہ مجاہد ملت نے ایک موقع پر کسی مسلم علاقے میں عصری تعلیم کی ضرورت کے مد نظر اسکول انتظامیہ کو حیلہ شرعی کے ساتھ چرم قربانی وصول کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنے بستی دھام نگر میں ایک عصری ادارے کے لیے اپنی ذاتی زمین پیش فرمائی. دور حاضر میں آپ کی فکر کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ قوم غیروں کی محتاجی سے محفوظ رہ سکے.
*دعوتی وتبلیغی مزاج* مجاہد ملت جہاں کامیاب مناظر تھے وہیں ایک باعمل مبلغ اور داعی دین بھی تھے. مفتی خالد ایوب مصباحی نے اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے بیان کیا کہ راجستھان کے پالی وغیرہ کے علاقوں میں آپ کی تبلیغی سرگرمیوں سے کتنے ہی مسلمان فتنہ ارتداد سے محفوظ رہے. یہ سب داعیانہ کاوشوں کا ثمرہ تھا. لیکن آج پھر اسی پالی کے اطراف میں سیکڑوں علاقے ہیں جہاں مسلمان آدھے مسلمان اور آدھے ہندو بنے ہوئے ہیں. نام سے لیکر رسم و رواج تک وہ اسلام اور ہندو دھرم کو فالو کرتے ہیں. اس لیے ان علاقوں میں مجاہد ملت کی طرز پر دعوتی مہم چلانے کی سخت ضرورت ہے.
*فقہی گہرائی و گیرائی* اس عنوان پر نبیرہ صدرالشریعہ مولانا فیضان المصطفی اعظمی نے مسئلہ اذان ثانی کے معاملے پر نہایت فاضلانہ انداز میں آپ کی فقہی گہرائی پر مدلل گفتگو فرمائی اور یہ ثابت کیا کہ تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کے علمی استحضار کا عالم یہ تھا کہ فقہی کتب کے باریک جزئیات بھی آپ کے ذہن میں مستحضر رہتے تھے.
*مناظرانہ مہارت* آپ کی کتاب زندگی کا یہ ورق بھی انتہائی روشن وتابناک ہے. اس عنوان پر کلام کرتے ہوئے مفتی شمشاد مصباحی نے بیان کیا کہ مناظر بننے کے لیے کسی ایک علم میں ماہر ہونا کافی نہیں بلکہ کئی علوم وفنون پر دسترس ہونا چاہیے تبھی کوئی شخص کامیاب مناظر ہوسکتا ہے. مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ مناظرہ بجرڈیہہ بنارس کی شرائط طے کرتے وقت آپ نے مشہور وہابی عالم صفی الرحمن مبارک پوری کو ساکت وعاجز کردیا تھا.
*سماجی خدمات* مجاہد ملت کی درخشاں زندگی کا یہ پہلو بھی لائق تقلید ہے. آپ نے جہاں تدریس وتبلیغ، سیاست ومناظرہ جیسے میدانوں میں اہل سنت کی کامیاب نمائندگی فرمائی، وہیں سماجی خدمات جیسے رفاہی میدان بھی آپ کی موجودگی سے محروم نہیں رہے. اس عنوان پر اڑیسہ ہی کے دو نوجوان قلم کاروں مولانا ریاضت حسین ازہری اور مولانا شمیم اختر رضوی نے نہایت سلیس ونفیس انداز میں گفتگو فرمائی اور آپ کی حیات زندگی کے اہم کارناموں کی روشنی میں سماجی خدمات کے تئیں آپ کے ذوق اور لگن کو خوب صورت طریقے سے بیان کیا.
*سیاسی خدمات* آپ کی حیات کے اس درخشاں پہلو پر ڈاکٹر سجاد عالم نے فاضلانہ گفتگو شروع فرمائی لیکن قلت وقت کے باعث وہ مافی الضمیر ادا کرنے سے معذور رہے لیکن ابتدائی گفتگو سے یہ اندازہ ضرور ہوگیا:
ہلکی سی جھلک دیکھ یوں بڑھی ہے تشنہ لبی
دید یار کی حسرت اب رہے گی شام وسحر
*فکری پختگی* مجاہد ملت اپنی تمام تر سیاسی وسماجی خدمات کے ساتھ ساتھ فکری پختگی میں بھی اپنے ہم عصروں میں ممتاز ومنفرد تھے. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا رحمت اللہ صدیقی نے بیان کیا کہ اپنے سفر حج بیت اللہ پر آپ حرمین شریفین میں عین نماز کے وقت عصا لیکر گھومتے رہتے اور بعد میں اپنی جماعت قائم فرماتے. عین جماعت کے وقت عصا لیکر گھومنے پر آپ نے جواب دیا تھا کہ "میں عین جماعت کے وقت اس لیے گھومتا ہوں تاکہ لوگ مجھ سے اس کا سبب پوچھیں تو میں وہابیہ کی بدعقیدگی اجاگر کرکے لوگوں کو ان کا مکروہ چہرہ دکھاؤں"
*عصری تعلیم کی اہمیت* مجاہد ملت نے جہاں مدارس ومساجد قائم فرمائے وہیں کئی عصری اداروں کے قیام بھی کلیدی رول ادا فرمایا. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے فقیر غلام مصطفےٰ نعیمی نے بیان کیا کہ دور حاضر میں مسلمانوں کے 96 فیصد بچے عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں. ایسے میں ان کی بنیادی دینی تعلیم کا نظم کیے بغیر ان کے عقائد کی حفاظت کس طرح ممکن ہے اور دین بیزار عصری اداروں کے برے اثرات سے بچانے کے لیے ہمارا ایکشن پلان کیا ہے؟
یہاں یہ پہلو بھی ذہن میں رہے کہ 2016 کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں محض 2.75 فیصد افراد ہی گریجویٹ ہیں. یہ بات اپنے آپ میں کس قدر شرم ناک ہے کہ 25 کروڑ کی مسلم آبادی میں گریجویٹ افراد کا تناسب تین فیصد بھی نہیں ہے. شاید یہی وجہ تھی کہ مجاہد ملت نے ایک موقع پر کسی مسلم علاقے میں عصری تعلیم کی ضرورت کے مد نظر اسکول انتظامیہ کو حیلہ شرعی کے ساتھ چرم قربانی وصول کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنے بستی دھام نگر میں ایک عصری ادارے کے لیے اپنی ذاتی زمین پیش فرمائی. دور حاضر میں آپ کی فکر کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ قوم غیروں کی محتاجی سے محفوظ رہ سکے.
*دعوتی وتبلیغی مزاج* مجاہد ملت جہاں کامیاب مناظر تھے وہیں ایک باعمل مبلغ اور داعی دین بھی تھے. مفتی خالد ایوب مصباحی نے اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے بیان کیا کہ راجستھان کے پالی وغیرہ کے علاقوں میں آپ کی تبلیغی سرگرمیوں سے کتنے ہی مسلمان فتنہ ارتداد سے محفوظ رہے. یہ سب داعیانہ کاوشوں کا ثمرہ تھا. لیکن آج پھر اسی پالی کے اطراف میں سیکڑوں علاقے ہیں جہاں مسلمان آدھے مسلمان اور آدھے ہندو بنے ہوئے ہیں. نام سے لیکر رسم و رواج تک وہ اسلام اور ہندو دھرم کو فالو کرتے ہیں. اس لیے ان علاقوں میں مجاہد ملت کی طرز پر دعوتی مہم چلانے کی سخت ضرورت ہے.
*فقہی گہرائی و گیرائی* اس عنوان پر نبیرہ صدرالشریعہ مولانا فیضان المصطفی اعظمی نے مسئلہ اذان ثانی کے معاملے پر نہایت فاضلانہ انداز میں آپ کی فقہی گہرائی پر مدلل گفتگو فرمائی اور یہ ثابت کیا کہ تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کے علمی استحضار کا عالم یہ تھا کہ فقہی کتب کے باریک جزئیات بھی آپ کے ذہن میں مستحضر رہتے تھے.
*مناظرانہ مہارت* آپ کی کتاب زندگی کا یہ ورق بھی انتہائی روشن وتابناک ہے. اس عنوان پر کلام کرتے ہوئے مفتی شمشاد مصباحی نے بیان کیا کہ مناظر بننے کے لیے کسی ایک علم میں ماہر ہونا کافی نہیں بلکہ کئی علوم وفنون پر دسترس ہونا چاہیے تبھی کوئی شخص کامیاب مناظر ہوسکتا ہے. مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ مناظرہ بجرڈیہہ بنارس کی شرائط طے کرتے وقت آپ نے مشہور وہابی عالم صفی الرحمن مبارک پوری کو ساکت وعاجز کردیا تھا.
*سماجی خدمات* مجاہد ملت کی درخشاں زندگی کا یہ پہلو بھی لائق تقلید ہے. آپ نے جہاں تدریس وتبلیغ، سیاست ومناظرہ جیسے میدانوں میں اہل سنت کی کامیاب نمائندگی فرمائی، وہیں سماجی خدمات جیسے رفاہی میدان بھی آپ کی موجودگی سے محروم نہیں رہے. اس عنوان پر اڑیسہ ہی کے دو نوجوان قلم کاروں مولانا ریاضت حسین ازہری اور مولانا شمیم اختر رضوی نے نہایت سلیس ونفیس انداز میں گفتگو فرمائی اور آپ کی حیات زندگی کے اہم کارناموں کی روشنی میں سماجی خدمات کے تئیں آپ کے ذوق اور لگن کو خوب صورت طریقے سے بیان کیا.
*سیاسی خدمات* آپ کی حیات کے اس درخشاں پہلو پر ڈاکٹر سجاد عالم نے فاضلانہ گفتگو شروع فرمائی لیکن قلت وقت کے باعث وہ مافی الضمیر ادا کرنے سے معذور رہے لیکن ابتدائی گفتگو سے یہ اندازہ ضرور ہوگیا:
ہلکی سی جھلک دیکھ یوں بڑھی ہے تشنہ لبی
دید یار کی حسرت اب رہے گی شام وسحر
*فکری پختگی* مجاہد ملت اپنی تمام تر سیاسی وسماجی خدمات کے ساتھ ساتھ فکری پختگی میں بھی اپنے ہم عصروں میں ممتاز ومنفرد تھے. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا رحمت اللہ صدیقی نے بیان کیا کہ اپنے سفر حج بیت اللہ پر آپ حرمین شریفین میں عین نماز کے وقت عصا لیکر گھومتے رہتے اور بعد میں اپنی جماعت قائم فرماتے. عین جماعت کے وقت عصا لیکر گھومنے پر آپ نے جواب دیا تھا کہ "میں عین جماعت کے وقت اس لیے گھومتا ہوں تاکہ لوگ مجھ سے اس کا سبب پوچھیں تو میں وہابیہ کی بدعقیدگی اجاگر کرکے لوگوں کو ان کا مکروہ چہرہ دکھاؤں"
ڈاکٹر نجم القادری صاحب نے اسی عنوان پر گفتگو شروع کی لیکن وقت کا بڑا حصہ "حسن یار کی تشبیہات وتمثیلات" کی نذر ہوگیا.اب تو موصوف کا مقالہ کتابی صورت میں ہی پڑھنے کا انتظار رہے گا.
*مشاہدات ومصاحبات* کسی بھی شخصیت کے اصلی خدوخال ان کے حاضر باش اور حظ صحبت اٹھانے والے افراد ہی سب سے بہتر جانتے ہیں. حسن اتفاق سے سیمینار میں بزرگ قلم کار مولانا سید عبدالمسجود حبیبی ، ڈاکٹر علی اشرف صاحبان نے اپنی مشاہداتی گفتگو سے مجاہد ملت کے وہ احوال بیان فرمائے جس سے آپ کی عظمتوں کا نقش دل پر گہراتا چلا گیا، نہاں خانہ دل سے یہی آواز آئی:
بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں
اب تجھے اے ستم یار کہاں سے لاؤں
ان حضرات کے علاوہ مولانا وجہ القمر رضوی وغیرہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا.
بعد میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے حضور مجاہد ملت سے اپنی کئی ملاقات ومصاحبات کا ذکر کرتے ہوئے کئی اہم واقعات بیان فرمائے جن سے مجاہد ملت کی قومی ہمدردی کے نقوش نظر آئے، تو اپنوں کی بے اعتنائی کے زخموں کی ٹیس بھی محسوس ہوئی. ایک واقعہ کے ضمن میں ہوئی گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملی معاملات میں مجاہد ملت کو جماعت اہل سنت سے بھرپور معاونت ملی نہ خاطر خواہ حوصلہ افزائی(الا ماشاء اللہ)
شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے رفیق درس حافظ ملت سے پوچھا تھا:
*"کیا آپ میرا ساتھ دوگے؟"*
اس جملے کے پس منظر میں جھانک کر دیکھیں تو درد وغم کا وہ سمندر نظر آئے گا جو انسان کے وجود کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے.
علامہ صاحب کی گفتگو نہایت پر اثر اور دل میں اتر جانے والی تھی.
سیمینار کے نظم ونسق میں *"خاکساران حق"* کے افراد نہایت خلوص وادب کے ساتھ پیش پیش تھے. جملہ رضاکاران کا ادب اور جذبہ احترام قابل تعریف تھا. یہ یقیناً ذمہ داران خانقاہ کی تربیت کا ثمرہ ہے. یہ وہی تنظیم ہے جو خاکی رنگ کی مخصوص وردی اور بیلچے کے ساتھ قومی سپاہی نظر آتے ہیں کاش یہ تنظیم جلسہ وجلوس سے آگے بڑھ کر وہ کام انجام دے جس کے لیے اسے قائم کیا گیا تھا.
اخیر میں صلات وسلام، شجرہ خوانی، فاتحہ خوانی کے بعد محدث کبیر کی رقت آمیز دعا پر محفل کا اختتام ہوا.
پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں مولانا عاشق القادری حبیبی صاحب کی کاوشوں کا تذکرہ نہ کرنا ناانصافی ہوگی. مولانا موصوف کی بے پناہ کاوشیں ہی تھیں کہ اتنا معیاری اور علمی سیمینار منعقد ہوا. موصوف نے نسبت حبیبی کا حق ادا کرتے ہوئے بارگاہ مجاہد ملت میں خوب خراج عقیدت پیش کیا جس کے لئے موصوف شکریے کے حقدار ہیں.
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
*مشاہدات ومصاحبات* کسی بھی شخصیت کے اصلی خدوخال ان کے حاضر باش اور حظ صحبت اٹھانے والے افراد ہی سب سے بہتر جانتے ہیں. حسن اتفاق سے سیمینار میں بزرگ قلم کار مولانا سید عبدالمسجود حبیبی ، ڈاکٹر علی اشرف صاحبان نے اپنی مشاہداتی گفتگو سے مجاہد ملت کے وہ احوال بیان فرمائے جس سے آپ کی عظمتوں کا نقش دل پر گہراتا چلا گیا، نہاں خانہ دل سے یہی آواز آئی:
بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں
اب تجھے اے ستم یار کہاں سے لاؤں
ان حضرات کے علاوہ مولانا وجہ القمر رضوی وغیرہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا.
بعد میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے حضور مجاہد ملت سے اپنی کئی ملاقات ومصاحبات کا ذکر کرتے ہوئے کئی اہم واقعات بیان فرمائے جن سے مجاہد ملت کی قومی ہمدردی کے نقوش نظر آئے، تو اپنوں کی بے اعتنائی کے زخموں کی ٹیس بھی محسوس ہوئی. ایک واقعہ کے ضمن میں ہوئی گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملی معاملات میں مجاہد ملت کو جماعت اہل سنت سے بھرپور معاونت ملی نہ خاطر خواہ حوصلہ افزائی(الا ماشاء اللہ)
شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے رفیق درس حافظ ملت سے پوچھا تھا:
*"کیا آپ میرا ساتھ دوگے؟"*
اس جملے کے پس منظر میں جھانک کر دیکھیں تو درد وغم کا وہ سمندر نظر آئے گا جو انسان کے وجود کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے.
علامہ صاحب کی گفتگو نہایت پر اثر اور دل میں اتر جانے والی تھی.
سیمینار کے نظم ونسق میں *"خاکساران حق"* کے افراد نہایت خلوص وادب کے ساتھ پیش پیش تھے. جملہ رضاکاران کا ادب اور جذبہ احترام قابل تعریف تھا. یہ یقیناً ذمہ داران خانقاہ کی تربیت کا ثمرہ ہے. یہ وہی تنظیم ہے جو خاکی رنگ کی مخصوص وردی اور بیلچے کے ساتھ قومی سپاہی نظر آتے ہیں کاش یہ تنظیم جلسہ وجلوس سے آگے بڑھ کر وہ کام انجام دے جس کے لیے اسے قائم کیا گیا تھا.
اخیر میں صلات وسلام، شجرہ خوانی، فاتحہ خوانی کے بعد محدث کبیر کی رقت آمیز دعا پر محفل کا اختتام ہوا.
پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں مولانا عاشق القادری حبیبی صاحب کی کاوشوں کا تذکرہ نہ کرنا ناانصافی ہوگی. مولانا موصوف کی بے پناہ کاوشیں ہی تھیں کہ اتنا معیاری اور علمی سیمینار منعقد ہوا. موصوف نے نسبت حبیبی کا حق ادا کرتے ہوئے بارگاہ مجاہد ملت میں خوب خراج عقیدت پیش کیا جس کے لئے موصوف شکریے کے حقدار ہیں.
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
👍1
روضۂ مبارکہ حضور مجاہد ملت
مجاہد ملت سیمینار انقلابی افکار کے
احیا کی جانب سنجیدہ پیش رفت !!
✍ غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
مجاہد ملت سیمینار انقلابی افکار کے
احیا کی جانب سنجیدہ پیش رفت !!
✍ غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁵
🔎 #Sacred_Traditions
یہ حدیث مبارکہ عاشوراء کے دن اہل و عیال کے نفقہ میں وسعت و کشادگی کرنے اور ان پر فراخ دلی سے خرچ کرنے کی فضیلت میں ہے۔ یعنی اگر کوئی محرم کی دسویں تاریخ کو اپنے بال بچوں، خادموں، فقراء، مساکین کے لیے مختلف قسم کے کھانے تیار کرے یا ان کا انتظام کرے تو ان شاء الله سال بھر تک ان کھانوں میں برکت ہوگی۔ علامہ ابن عابدین شامی حنفی نے رد المحتار میں حضرت جابر کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے چالیس سال اس کا تجربہ کیا اور کبھی اس کے خلاف نہیں پایا۔ اسی طرح حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے تجربہ میں آئی ہے اور واقعی اس عمل سے برکت ہوتی ہے۔ وما توفيقي الا بالله!
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2110380049101171/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁶
یہ حدیث مبارکہ عاشوراء کے دن اہل و عیال کے نفقہ میں وسعت و کشادگی کرنے اور ان پر فراخ دلی سے خرچ کرنے کی فضیلت میں ہے۔ یعنی اگر کوئی محرم کی دسویں تاریخ کو اپنے بال بچوں، خادموں، فقراء، مساکین کے لیے مختلف قسم کے کھانے تیار کرے یا ان کا انتظام کرے تو ان شاء الله سال بھر تک ان کھانوں میں برکت ہوگی۔ علامہ ابن عابدین شامی حنفی نے رد المحتار میں حضرت جابر کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے چالیس سال اس کا تجربہ کیا اور کبھی اس کے خلاف نہیں پایا۔ اسی طرح حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے تجربہ میں آئی ہے اور واقعی اس عمل سے برکت ہوتی ہے۔ وما توفيقي الا بالله!
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2110380049101171/
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁶