Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مجاہد ملت ایک انقلابی اور ہمہ گیر شخصیت
-کچھ ایسی ہستیاں بھی عالمِ فانی میں آئی ہیں
-فنا کے بعد بھی جن کو زمانہ یاد کرتا ہے
وہ لوگ جو اپنے مال کو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور پھر نہ احسان رکھیں اور نہ تکلیف دیں تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اور ایسے لوگوں کو نہ کچھ اندیشہ ہے نہ غم.( البقرۃ/262)
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں تو یہ لوگ اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالی بہت بخشنے والا ہے۔ اور بہت رحم فرمانے والا ہے.(البقرۃ/218)
مذکورہ بالا آیتوں میں ان خوش نصیب مسلمانوں کا بیان ہے جو ایمان لانے کے بعد اللہ تعالی کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں اوراللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ جہاد کرتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے امیدوار رہتے ہیں۔ انہیں مقدس لوگوں میں حضرت علامہ الشاہ حبیب الرحمن عباسی قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ذات گرامی ہے جو راجح قول کے مطابق 8/محرم/1322ھ- بمطابق: 26/ مارچ- 1904ء – بروز: شنبہ- صبح صادق کے وقت دھام نگر،اڑیسہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ ایک دیندار اور بہت بڑے زمیندار، رئیس اعظم اڑیسہ کے چشم و چراغ تھے۔ انہیں بچپن سے ہی دینی ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔کچھ سن شعور کو پہنچے تو کٹک کے ایک انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرایا گیا لیکن چونکہ انہیں اسکول کا مغربی ماحول پسند نہیں تھا،اس لیےکچھ ہی دنوں کے بعد انہوں نے اسکول کی تعلیم چھوڑ دی اور کہا کہ”دین کی تبلیغ اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلش ضرور پڑھنا چاہیے مگر مغربی تہذیب و تمدن کے لیے ہرگز ہرگز انگلش نہ پڑھیں۔” یعنی انہیں انگلش پڑھنا پسند تھا لیکن اسکول کا مغربی ماحول پسند نہیں تھا۔اسکے بعد علامہ عبدالصمد بالیسری اور علامہ مفتی شاہ ظہور حسام صاحب سے گھر پہ ہی درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ اور 1340ھ میں حضور مجاہد ملت سہسرام تشریف لائے۔ اور وہیں حضرت علامہ عبدالکافی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ بعدہ 1341ھ میں پہلا حج کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے جامعہ سبحانیہ الہ آباد میں داخلہ لیا اور اپنے پیر و مرشد کے علاوہ دیگر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ پھر حضور صدر الشریعہ رحمتہ اللہ علیہ سے پڑھنے کے لیے "أجمیر” تشریف لے گئے اور تقریبا 28 سال کی عمر تک حصول علم میں مشغول رہے۔ بعدہ آپ نے جامعہ نعیمیہ مرادآباد اور جامعہ سبحانیہ الہ آباد میں تدریسی خدمات انجام دی۔ پھر 1968ء بمطابق 1387ھ میں جامعہ حبیبیہ الہ آباد میں صدرالمدرسین کے عہدہ پر رہ کر تدریسی خدمت انجام دی۔ چونکہ دینی تبلیغ و اشاعت اور دینی تعلیم کی اجرت لینا جائز نہیں ہے( یہی اصل ہے حالانکہ ضرورتا بعد میں فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے) اس لیے مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے بربنائے تقوی پوری زندگی دین کی خدمت مثلا خطابت، امامت اور درس و تدریس کے بدلے میں نذرانہ قبول نہیں فرمایا۔ بلکہ جس جلسہ یا کانفرنس میں شریک ہوتے وہاں کی ضرورت کے مطابق ادارہ ،مدرسہ اور مسجد کے لیے اپنی جانب سے کچھ عطایات دے کر ہی آتے تھے۔ اسی طرح جن اداروں میں آپ نے درس و تدریس کے خدمات انجام دیے وہاں کی انتظامیہ سے کبھی تنخواہ نہیں لی بلکہ انتظامیہ کی امداد بھی کرتے اور وہاں زیر تعلیم بچوں کی کفالت بھی فرمایا کرتے تھے۔
ان پر فتوی لگایا گیا
اللہ تعالی نے مجاہد ملت کو عوام میں قبولیت تامہ عطا فرمائی تھی،جس سے سے کچھ لوگ گھبرا گئے اور ان پر "بشری”نامی کتاب میں تقریظ لکھنے کے سبب کفر کا فتوی لگا دیا۔ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا مطالبہ کیا اور اشتہار بازی شروع کر دی۔ مجاہد ملت نے جو خود علم کے سمندر تھے استقامت کا مظاہرہ کیا یہاں تک کہ بالآخر مولانا وکیل الرحمن صاحب خطیب جامع مسجد روپن لین کلکتہ کی تحریر پہ حضور مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ نے6/صفر 1393ھ۔ میں جواب نمبر30/71 کی تصدیق فرمائی کہ "ظاہر ہے کہ اس صورت میں مصدق و مصنف ‘بشری’ پر لزوم تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم نہیں ہے”۔ الغرض حضور مفتی اعظم ہند کی مداخلت سے کاہل اور ناکارہ فتویٰ بازوں کی زبان خاموش ہوئی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں۔
تعلیمی ادارے اور تنظیمیں:
آپ نے درجنوں کی تعداد میں مدارس واسکول قائم فرمائے ان میں جامعہ حبیبیہ الہ آباد، مدرسہ قادریہ پانسکوڑہ، جامعہ حنفیہ غوثیہ بجرڈیہہ بنارس، اسلامی مرکز رانچی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ دھام نگر ہائی سکول اور دھام نگر کالج کے لیے آپ نے کافی زمینیں وقف کیں۔ مجاہد ملت جس طرح مدارس کے طلبہ کی کفالت فرماتے، وظیفہ مقرر فرماتے اور حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ وہ ایسا ہی اسکول اور کالج کے طلبہ کی بھی کفالت فرماتے تھے، وظیفہ مقرر کرتے تھے۔ اور زبان و ادب کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم میں مہارت یا
-کچھ ایسی ہستیاں بھی عالمِ فانی میں آئی ہیں
-فنا کے بعد بھی جن کو زمانہ یاد کرتا ہے
وہ لوگ جو اپنے مال کو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور پھر نہ احسان رکھیں اور نہ تکلیف دیں تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اور ایسے لوگوں کو نہ کچھ اندیشہ ہے نہ غم.( البقرۃ/262)
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں تو یہ لوگ اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالی بہت بخشنے والا ہے۔ اور بہت رحم فرمانے والا ہے.(البقرۃ/218)
مذکورہ بالا آیتوں میں ان خوش نصیب مسلمانوں کا بیان ہے جو ایمان لانے کے بعد اللہ تعالی کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں اوراللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ جہاد کرتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے امیدوار رہتے ہیں۔ انہیں مقدس لوگوں میں حضرت علامہ الشاہ حبیب الرحمن عباسی قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ذات گرامی ہے جو راجح قول کے مطابق 8/محرم/1322ھ- بمطابق: 26/ مارچ- 1904ء – بروز: شنبہ- صبح صادق کے وقت دھام نگر،اڑیسہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ ایک دیندار اور بہت بڑے زمیندار، رئیس اعظم اڑیسہ کے چشم و چراغ تھے۔ انہیں بچپن سے ہی دینی ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔کچھ سن شعور کو پہنچے تو کٹک کے ایک انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرایا گیا لیکن چونکہ انہیں اسکول کا مغربی ماحول پسند نہیں تھا،اس لیےکچھ ہی دنوں کے بعد انہوں نے اسکول کی تعلیم چھوڑ دی اور کہا کہ”دین کی تبلیغ اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلش ضرور پڑھنا چاہیے مگر مغربی تہذیب و تمدن کے لیے ہرگز ہرگز انگلش نہ پڑھیں۔” یعنی انہیں انگلش پڑھنا پسند تھا لیکن اسکول کا مغربی ماحول پسند نہیں تھا۔اسکے بعد علامہ عبدالصمد بالیسری اور علامہ مفتی شاہ ظہور حسام صاحب سے گھر پہ ہی درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ اور 1340ھ میں حضور مجاہد ملت سہسرام تشریف لائے۔ اور وہیں حضرت علامہ عبدالکافی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ بعدہ 1341ھ میں پہلا حج کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے جامعہ سبحانیہ الہ آباد میں داخلہ لیا اور اپنے پیر و مرشد کے علاوہ دیگر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ پھر حضور صدر الشریعہ رحمتہ اللہ علیہ سے پڑھنے کے لیے "أجمیر” تشریف لے گئے اور تقریبا 28 سال کی عمر تک حصول علم میں مشغول رہے۔ بعدہ آپ نے جامعہ نعیمیہ مرادآباد اور جامعہ سبحانیہ الہ آباد میں تدریسی خدمات انجام دی۔ پھر 1968ء بمطابق 1387ھ میں جامعہ حبیبیہ الہ آباد میں صدرالمدرسین کے عہدہ پر رہ کر تدریسی خدمت انجام دی۔ چونکہ دینی تبلیغ و اشاعت اور دینی تعلیم کی اجرت لینا جائز نہیں ہے( یہی اصل ہے حالانکہ ضرورتا بعد میں فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے) اس لیے مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے بربنائے تقوی پوری زندگی دین کی خدمت مثلا خطابت، امامت اور درس و تدریس کے بدلے میں نذرانہ قبول نہیں فرمایا۔ بلکہ جس جلسہ یا کانفرنس میں شریک ہوتے وہاں کی ضرورت کے مطابق ادارہ ،مدرسہ اور مسجد کے لیے اپنی جانب سے کچھ عطایات دے کر ہی آتے تھے۔ اسی طرح جن اداروں میں آپ نے درس و تدریس کے خدمات انجام دیے وہاں کی انتظامیہ سے کبھی تنخواہ نہیں لی بلکہ انتظامیہ کی امداد بھی کرتے اور وہاں زیر تعلیم بچوں کی کفالت بھی فرمایا کرتے تھے۔
ان پر فتوی لگایا گیا
اللہ تعالی نے مجاہد ملت کو عوام میں قبولیت تامہ عطا فرمائی تھی،جس سے سے کچھ لوگ گھبرا گئے اور ان پر "بشری”نامی کتاب میں تقریظ لکھنے کے سبب کفر کا فتوی لگا دیا۔ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا مطالبہ کیا اور اشتہار بازی شروع کر دی۔ مجاہد ملت نے جو خود علم کے سمندر تھے استقامت کا مظاہرہ کیا یہاں تک کہ بالآخر مولانا وکیل الرحمن صاحب خطیب جامع مسجد روپن لین کلکتہ کی تحریر پہ حضور مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ نے6/صفر 1393ھ۔ میں جواب نمبر30/71 کی تصدیق فرمائی کہ "ظاہر ہے کہ اس صورت میں مصدق و مصنف ‘بشری’ پر لزوم تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم نہیں ہے”۔ الغرض حضور مفتی اعظم ہند کی مداخلت سے کاہل اور ناکارہ فتویٰ بازوں کی زبان خاموش ہوئی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں۔
تعلیمی ادارے اور تنظیمیں:
آپ نے درجنوں کی تعداد میں مدارس واسکول قائم فرمائے ان میں جامعہ حبیبیہ الہ آباد، مدرسہ قادریہ پانسکوڑہ، جامعہ حنفیہ غوثیہ بجرڈیہہ بنارس، اسلامی مرکز رانچی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ دھام نگر ہائی سکول اور دھام نگر کالج کے لیے آپ نے کافی زمینیں وقف کیں۔ مجاہد ملت جس طرح مدارس کے طلبہ کی کفالت فرماتے، وظیفہ مقرر فرماتے اور حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ وہ ایسا ہی اسکول اور کالج کے طلبہ کی بھی کفالت فرماتے تھے، وظیفہ مقرر کرتے تھے۔ اور زبان و ادب کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم میں مہارت یا
کامیابی حاصل کرنے والے طلباء کو مبارکبادی دے کر حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ تنظیمیں بھی انہوں نے بہت بنائی ان میں آل انڈیا تبلیغ سیرت اور تحریک خاکساران حق یہ دونوں ملکی سطح کی تنظیمیں تھیں جو آج بھی قائم ہیں اور قابل ذکر ہیں۔ جسے مزید فعال اور متحرک بنانے کی ضرورت ہے۔
مدارس کے نظام میں اصلاح
مدارس کی چھٹیاں کم کیں۔ اور مدارس کے نصاب میں تصوف کی تعلیم کے لیے رسالہ قشیریہ شامل کروایا۔ اور عربی ادب کو کو بھی اہمیت کی جگہ پر رکھا۔ روحانی تربیت کے لیے طریقت و شریعت کا عملی نصاب بنایا۔ اور جسمانی نشونما اور بالیدگی کے لیے خاکساران حق کی تربیت کو لازم قرار دیا۔
سیاسی شعور
چونکہ آپ ایک اعلی زمیندار خاندان کے فرد تھے اوروہ تحریک آزادی کے شدت کا زمانہ تھا۔ اس لیے ملکی سیاست سے لازما واقف تھے اور اس میں شامل بھی تھے۔ 1936ء میں دو سال تک کاشتکاری کے لیے نہر میں پانی نہیں چھوڑا گیا جس سے کاشتکاروں کا کافی نقصان ہوا۔ لیکن گورنمنٹ کی جانب سے واٹر ٹیکس کی نوٹس دی گئی۔ مجاہد ملت نے کاشتکاروں کو منظم کر کے کہا کہ ہم ٹیکس نہیں دیں گے۔ جس پر انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا اور بعد میں ہائی کورٹ سے رہائی ملی۔
شریں بیانی اور وسعت ظرفی
مفتی اعظم ہند اور علامہ حشمت علی خاں و دیگر علمائے کرام کے ساتھ مجاہد ملت کی میٹنگ ہوئی تھی۔ جس میں کافی گرما گرم بحث ہوئی کہ پورے ملک کے تمام تنظیموں کو ایک ہی تنظیم میں ضم کردیا جائے۔ مجاہد ملت نے فرمایا کہ یہ تجویز مجھے منظور ہے لیکن میری بھی ایک بات آپ سب کو تسلیم کرنی ہوگی کہ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد میں ملکی سیاست کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ مسلمان حکومت سے لاتعلق رہ کر باوقار نہیں رہ سکتے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم سیاست کو شامل نہیں کریں گے۔ تو مجاہد ملت نے بھی فرمایا کہ ہم اپنی تنظیم کو بھی ضم نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ کمیونسٹوں کی ایک بات بہت اچھی ہے کہ وہ بحث کرتے ہیں تو دشمنوں کی طرح لیکن میٹنگ ختم ہونے کے بعد سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ ہمیں بھی اس بحث کو یہیں ختم کرکے مل جل کر رہنا چاہیے۔
تحریک آزادی میں حصہ داری
تحریک آزادی میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔ سیاسی بیانات دینے کی وجہ سے آزادی کے پہلے اور آزادی کے بعد بھی کل ملا کر 7 مرتبہ جیل گئے۔ لیکن کبھی معافی نہیں مانگی۔ عربی اردو میں ان کی کتابیں ہیں۔ لیکن انہوں نے شعروشاعری نہیں کی۔ تاہم صرف دو شعرانہوں نے اپنی زندگی میں تقسیم ہند کے بعد کہا تھا جس میں خود کو مخاطب کیا ہے۔
"فکر کی کیسے رہیں گے ہند میں!
ان سے کیا مطلب جو ہیں اب سندھ میں”
"ہاتف غیبی نے دی مجھ کو صدا
سربکف رہنا پڑے گا ہند میں”
پہلے شعر میں انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی مسلمانوں کو پاکستانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہونا چاہئے۔ اور دوسرے شعر میں اس عزم محکم کا اظہار فرمایا کہ ہمیں بھارت میں خود دار اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے جہد مسلسل کے ساتھ سر میں کفن باندھ کر اقتدار میں، انتظامیہ میں اور ڈیفینس وغیرہ میں شامل ہونے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔
سخاوت اور تقوی شعاری
وہ فرماتے تھے کہ مجھے دو باتیں بہت پسند ہیں ایک یہ کہ کوئی نماز پڑھا دے اور میں نماز پڑھ لوں اور دوسری یہ کہ کوئی دعوت دے اور میں کھا لوں۔ تاکہ دونوں معاملے میں باز پرس سے بچ جاؤں۔ اس سے امامت کی ذمہ داری اور لقمۂ حلال کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کس قدر ان امور میں محتاط تھے۔ اور سخاوت ایسی کے ایک دن بھی بغیر دادودہش کے زندگی نہیں گزاری وہ بھی ایثار کے ساتھ۔ ان کی صحبت میں رہنے والے بتاتے ہیں کہ حضرت حددرجہ محتاط اور سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ انکساری ایسی کہ جو بھی ان کا ہاتھ چومتا جھٹ سے وہ بھی ان کا ہاتھ چوم لیتے۔
مشرقی ہند کے عظیم دینی درسگاہ جامعہ فیض العلوم میں آخری آمد
آخری حج 1980ء کے بعد حضرت فیض العلوم تشریف لائے۔اس سے قبل بھی دو مرتبہ مجھے ان کی زیارت نصیب ہوئی تھی لیکن شرف بیعت نہ ہوا تھا۔ اس مرتبہ دیگر طلبۂ فیض العلوم کے ساتھ مجھے بھی شرف بیعت حاصل ہوا۔ بیعت کے بعد حضرت نے کچھ خاص نصیحت فرمائی۔پھر میں نے عرض کی کہ ہم لوگوں کو کچھ اوراد و وظائف بتائیں۔حضرت نے فرمایا کہ "آپ لوگ طالب علم ہیں اور بعد میں عالم دین ہوں گے۔اب بھی اور بعد میں بھی آپ کا کام دین سیکھنا اور سکھانا ہے۔اور یہ کام نفلی نمازوں اور نفلی اوراد و وظائف سے زیادہ ضروری ہے اور زیادہ ثواب کا کام ہے۔ آپ لوگ فرائض واجبات اور سنتوں کی پابندی کریں اور تسبیح فاطمہ پڑھا کریں۔بقیہ وقت دینی و علمی کتابوں کے پڑھنے اور پڑھانے میں صرف کریں۔ اللہ تعالی آپ سب کو اچھی دنیا اور اچھی آخرت عطا فرمائے۔
مدارس کے نظام میں اصلاح
مدارس کی چھٹیاں کم کیں۔ اور مدارس کے نصاب میں تصوف کی تعلیم کے لیے رسالہ قشیریہ شامل کروایا۔ اور عربی ادب کو کو بھی اہمیت کی جگہ پر رکھا۔ روحانی تربیت کے لیے طریقت و شریعت کا عملی نصاب بنایا۔ اور جسمانی نشونما اور بالیدگی کے لیے خاکساران حق کی تربیت کو لازم قرار دیا۔
سیاسی شعور
چونکہ آپ ایک اعلی زمیندار خاندان کے فرد تھے اوروہ تحریک آزادی کے شدت کا زمانہ تھا۔ اس لیے ملکی سیاست سے لازما واقف تھے اور اس میں شامل بھی تھے۔ 1936ء میں دو سال تک کاشتکاری کے لیے نہر میں پانی نہیں چھوڑا گیا جس سے کاشتکاروں کا کافی نقصان ہوا۔ لیکن گورنمنٹ کی جانب سے واٹر ٹیکس کی نوٹس دی گئی۔ مجاہد ملت نے کاشتکاروں کو منظم کر کے کہا کہ ہم ٹیکس نہیں دیں گے۔ جس پر انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا اور بعد میں ہائی کورٹ سے رہائی ملی۔
شریں بیانی اور وسعت ظرفی
مفتی اعظم ہند اور علامہ حشمت علی خاں و دیگر علمائے کرام کے ساتھ مجاہد ملت کی میٹنگ ہوئی تھی۔ جس میں کافی گرما گرم بحث ہوئی کہ پورے ملک کے تمام تنظیموں کو ایک ہی تنظیم میں ضم کردیا جائے۔ مجاہد ملت نے فرمایا کہ یہ تجویز مجھے منظور ہے لیکن میری بھی ایک بات آپ سب کو تسلیم کرنی ہوگی کہ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد میں ملکی سیاست کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ مسلمان حکومت سے لاتعلق رہ کر باوقار نہیں رہ سکتے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم سیاست کو شامل نہیں کریں گے۔ تو مجاہد ملت نے بھی فرمایا کہ ہم اپنی تنظیم کو بھی ضم نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ کمیونسٹوں کی ایک بات بہت اچھی ہے کہ وہ بحث کرتے ہیں تو دشمنوں کی طرح لیکن میٹنگ ختم ہونے کے بعد سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ ہمیں بھی اس بحث کو یہیں ختم کرکے مل جل کر رہنا چاہیے۔
تحریک آزادی میں حصہ داری
تحریک آزادی میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔ سیاسی بیانات دینے کی وجہ سے آزادی کے پہلے اور آزادی کے بعد بھی کل ملا کر 7 مرتبہ جیل گئے۔ لیکن کبھی معافی نہیں مانگی۔ عربی اردو میں ان کی کتابیں ہیں۔ لیکن انہوں نے شعروشاعری نہیں کی۔ تاہم صرف دو شعرانہوں نے اپنی زندگی میں تقسیم ہند کے بعد کہا تھا جس میں خود کو مخاطب کیا ہے۔
"فکر کی کیسے رہیں گے ہند میں!
ان سے کیا مطلب جو ہیں اب سندھ میں”
"ہاتف غیبی نے دی مجھ کو صدا
سربکف رہنا پڑے گا ہند میں”
پہلے شعر میں انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی مسلمانوں کو پاکستانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہونا چاہئے۔ اور دوسرے شعر میں اس عزم محکم کا اظہار فرمایا کہ ہمیں بھارت میں خود دار اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے جہد مسلسل کے ساتھ سر میں کفن باندھ کر اقتدار میں، انتظامیہ میں اور ڈیفینس وغیرہ میں شامل ہونے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔
سخاوت اور تقوی شعاری
وہ فرماتے تھے کہ مجھے دو باتیں بہت پسند ہیں ایک یہ کہ کوئی نماز پڑھا دے اور میں نماز پڑھ لوں اور دوسری یہ کہ کوئی دعوت دے اور میں کھا لوں۔ تاکہ دونوں معاملے میں باز پرس سے بچ جاؤں۔ اس سے امامت کی ذمہ داری اور لقمۂ حلال کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کس قدر ان امور میں محتاط تھے۔ اور سخاوت ایسی کے ایک دن بھی بغیر دادودہش کے زندگی نہیں گزاری وہ بھی ایثار کے ساتھ۔ ان کی صحبت میں رہنے والے بتاتے ہیں کہ حضرت حددرجہ محتاط اور سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ انکساری ایسی کہ جو بھی ان کا ہاتھ چومتا جھٹ سے وہ بھی ان کا ہاتھ چوم لیتے۔
مشرقی ہند کے عظیم دینی درسگاہ جامعہ فیض العلوم میں آخری آمد
آخری حج 1980ء کے بعد حضرت فیض العلوم تشریف لائے۔اس سے قبل بھی دو مرتبہ مجھے ان کی زیارت نصیب ہوئی تھی لیکن شرف بیعت نہ ہوا تھا۔ اس مرتبہ دیگر طلبۂ فیض العلوم کے ساتھ مجھے بھی شرف بیعت حاصل ہوا۔ بیعت کے بعد حضرت نے کچھ خاص نصیحت فرمائی۔پھر میں نے عرض کی کہ ہم لوگوں کو کچھ اوراد و وظائف بتائیں۔حضرت نے فرمایا کہ "آپ لوگ طالب علم ہیں اور بعد میں عالم دین ہوں گے۔اب بھی اور بعد میں بھی آپ کا کام دین سیکھنا اور سکھانا ہے۔اور یہ کام نفلی نمازوں اور نفلی اوراد و وظائف سے زیادہ ضروری ہے اور زیادہ ثواب کا کام ہے۔ آپ لوگ فرائض واجبات اور سنتوں کی پابندی کریں اور تسبیح فاطمہ پڑھا کریں۔بقیہ وقت دینی و علمی کتابوں کے پڑھنے اور پڑھانے میں صرف کریں۔ اللہ تعالی آپ سب کو اچھی دنیا اور اچھی آخرت عطا فرمائے۔
الحمدللہ میں اپنے پیرو مرشد کے حکم کا پابند ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے بیعت مجاہد ملت کے ہاتھوں میں کی اور تربیت آپ کے خلیفۂ صادق شمس العلماء مفتی نظام الدین بلیاوی ثم الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے پائی۔اور اس طرح بلاواسطہ نہ صحیح بالواسطہ آپ کا فیض مجھے خوب پہنچا ہے۔ شمس العلماء دراصل فیض العلوم میں شیخ الحدیث تھے۔مجھے احادیث کی سند بھی حضرت سے ہی حاصل ہے۔ ان کی تفہیم ضرب المثل تھی۔ ادق مضامین بھی حضرت چند لمحوں میں سمجھا دیا کرتے تھے۔ حضرت کا خصوصی نظر کرم مجھ پہ ہوا کرتی تھی اور میں حضرت کی تربیت کا اثر اپنی زندگی میں آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ میں نے آپ سے ہی درس و تدریس کے اسرار و رموز اور تعلیم و تربیت کے ہنر سیکھی ہے۔ذکر جب مشفق اساتذہ کا چھڑا ہے تو یہ بھی سچ ہے کہ جہد مسلسل کا جذبہ مجھ میں استاذ مکرم قائد اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کی حیات مبارکہ کو دیکھ کر آئی ہے۔ میں نے اب تک کی زندگی میں قائد اہلسنت کی طرح جہد مسلسل کرنے والا کسی دوسرے کو نہیں دیکھا ہے۔ خانقاہ حبیبیہ دھام نگر اڑیسہ کے موجودہ متولی و سجادہ نشیں حضرت علامہ مولانا سید غلام محمد صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی فیض العلوم میں میرے ہم سبق ساتھی تھے۔ موصوف شمس العلماء سے بہتر تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے لیے ہی فیض العلوم تشریف لائے تھے۔
مجاہد ملت اور طبقات علماء
حضور مجاہد ملت کے ہم عصر اور مابعد کے علمائے ہند کو دو طبقوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ایک علمائے کرام کا وہ طبقہ ہےجس کی نمائندگی حضور مجاہد ملت، حافظ ملت اور قائد اہل سنت وغیرہم جیسے بالغ نظر ،دوراندیش، دوررس،بلند فکروخیال کے حامل اور پوری امت مسلمہ کے لیے جذبۂ خیر سے سرشار علماء و قائدین ہیں۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی پوری امت مسلمہ کے لیے وقف کردیں۔جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف مدارس و مساجد قائم فرمائے بلکہ اسی مقدار میں اسکول، کالج، ہاسپیٹل،ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور تربیتی مراکز بھی ملک و بیرون ملک قائم کیے۔ ساتھ ہی صالح قیادت و سیاست میں اپنے انمٹ نقوش اور سنگ میل چھوڑے۔ تعمیر ملت اور تنظیم و تحریک سازی میں بنیادی اصول و قواعد متعین کیے۔قدیم صالح اور جدید نافع کے طرز پر نئے نئے پلیٹ فارم قوم و ملت کے نوجوانوں کے لیے کھولے تاکہ وہ دینی اداروں سے نکل کر اعلی عصری اداروں میں اپنی جگہ بناسکیں۔مدارس سے نکل کر یونیورسٹیوں میں جانے کے لیے مراکز قائم کیے۔دینی جلسوں کے ساتھ بوقت ضرورت سیاسی، معاشی، سماجی جلسوں میں بھی شرکت کی اور قیادت کے فرائض انجام دیے۔ حکومت وقت کے غلط اقدام پر تنقید بھی کی اور ملی حقوق کے لیے ان سے مل کر استفادہ بھی کیا جس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔
اس گروپ کے ہر عالم ایک فرد کامل تھا۔اور ان ہی عالم ربانیین کے لیے وہ فضیلتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں علماء کے تعلق سے بیان ہوے ہیں۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔
یہ نیک لوگ قوم و ملت کے لیے مشعل راہ تھے۔
اور اس طرح کے علماء آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔ جس کی مثال پروفیسر ڈاکٹر علامہ مولانا سید امین میاں برکاتی مارہروی مدظلہ العالی اور عزیزملت علامہ عبدالحفیظ سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ وغیرہ ہیں۔
دوسرا طبقہ علمائے کرام کا وہ ہے جن کے تعلق سے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ:
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے؟
کیا جانے یہ بیچارے دو رکعت کے امام!
ہم لوگ اسی گروپ میں ہیں ہماری فکر صرف اور صرف مدارس،ائمہ مساجد اور مدارس میں پڑھنے والے ملت کے وہ چار فیصد غریب بچے ہیں جن میں سے اکثر بچے درمیان میں ہی تعلیم چھوڑدیتے ہیں۔ یا نامکمل نصاب کی تکمیل کر کے پوری زندگی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور ہم انہیں کے لیے روتے رہتے ہیں۔ جب کہ وہ خود اس ناگفتہ بہ حالات سے نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم بہت محدود اور سطحی فکر کے لوگ ہیں،ہم بس دورکعت کے امام ہیں اور ہماری سوچ اسلام کے عالمگیر مزاج اور انقلابی خوبیوں سے یکسر دور ہے۔اقبال نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چہار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والوں کے بارے میں کہا تھا کہ
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد۔
جو لوگ امامت، خطابت اورمکتب کی معلمی کو چھوڑ کر دین داری کے ساتھ دیگر جائزملازمت وتجارت وغیرہ کی جانب مائل ہوتے ہیں اور اس کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔ تو وہ بالکل کامیاب بھی ہیں۔ پھر انہیں سوالی بن کر کھڑا رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس گروپ کے علماء کو بھیک کی نہیں بلکہ ایسی دستگیری کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی حالت بدل سکیں۔ اور دینداری کے ساتھ اچھی دنیا حاصل کرسکیں۔ اس ضمن میں حضور مجاہد ملت کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انھوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور اس طبقے کو چہار دیواری سے نکال کر آفاقی وسعت فراہم کرنے میں کافی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ وہ ہمیشہ طبقۂ علماء کو خود کفیل اور خود دار
مجاہد ملت اور طبقات علماء
حضور مجاہد ملت کے ہم عصر اور مابعد کے علمائے ہند کو دو طبقوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ایک علمائے کرام کا وہ طبقہ ہےجس کی نمائندگی حضور مجاہد ملت، حافظ ملت اور قائد اہل سنت وغیرہم جیسے بالغ نظر ،دوراندیش، دوررس،بلند فکروخیال کے حامل اور پوری امت مسلمہ کے لیے جذبۂ خیر سے سرشار علماء و قائدین ہیں۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی پوری امت مسلمہ کے لیے وقف کردیں۔جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف مدارس و مساجد قائم فرمائے بلکہ اسی مقدار میں اسکول، کالج، ہاسپیٹل،ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور تربیتی مراکز بھی ملک و بیرون ملک قائم کیے۔ ساتھ ہی صالح قیادت و سیاست میں اپنے انمٹ نقوش اور سنگ میل چھوڑے۔ تعمیر ملت اور تنظیم و تحریک سازی میں بنیادی اصول و قواعد متعین کیے۔قدیم صالح اور جدید نافع کے طرز پر نئے نئے پلیٹ فارم قوم و ملت کے نوجوانوں کے لیے کھولے تاکہ وہ دینی اداروں سے نکل کر اعلی عصری اداروں میں اپنی جگہ بناسکیں۔مدارس سے نکل کر یونیورسٹیوں میں جانے کے لیے مراکز قائم کیے۔دینی جلسوں کے ساتھ بوقت ضرورت سیاسی، معاشی، سماجی جلسوں میں بھی شرکت کی اور قیادت کے فرائض انجام دیے۔ حکومت وقت کے غلط اقدام پر تنقید بھی کی اور ملی حقوق کے لیے ان سے مل کر استفادہ بھی کیا جس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔
اس گروپ کے ہر عالم ایک فرد کامل تھا۔اور ان ہی عالم ربانیین کے لیے وہ فضیلتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں علماء کے تعلق سے بیان ہوے ہیں۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔
یہ نیک لوگ قوم و ملت کے لیے مشعل راہ تھے۔
اور اس طرح کے علماء آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔ جس کی مثال پروفیسر ڈاکٹر علامہ مولانا سید امین میاں برکاتی مارہروی مدظلہ العالی اور عزیزملت علامہ عبدالحفیظ سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ وغیرہ ہیں۔
دوسرا طبقہ علمائے کرام کا وہ ہے جن کے تعلق سے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ:
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے؟
کیا جانے یہ بیچارے دو رکعت کے امام!
ہم لوگ اسی گروپ میں ہیں ہماری فکر صرف اور صرف مدارس،ائمہ مساجد اور مدارس میں پڑھنے والے ملت کے وہ چار فیصد غریب بچے ہیں جن میں سے اکثر بچے درمیان میں ہی تعلیم چھوڑدیتے ہیں۔ یا نامکمل نصاب کی تکمیل کر کے پوری زندگی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور ہم انہیں کے لیے روتے رہتے ہیں۔ جب کہ وہ خود اس ناگفتہ بہ حالات سے نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم بہت محدود اور سطحی فکر کے لوگ ہیں،ہم بس دورکعت کے امام ہیں اور ہماری سوچ اسلام کے عالمگیر مزاج اور انقلابی خوبیوں سے یکسر دور ہے۔اقبال نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چہار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والوں کے بارے میں کہا تھا کہ
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد۔
جو لوگ امامت، خطابت اورمکتب کی معلمی کو چھوڑ کر دین داری کے ساتھ دیگر جائزملازمت وتجارت وغیرہ کی جانب مائل ہوتے ہیں اور اس کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔ تو وہ بالکل کامیاب بھی ہیں۔ پھر انہیں سوالی بن کر کھڑا رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس گروپ کے علماء کو بھیک کی نہیں بلکہ ایسی دستگیری کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی حالت بدل سکیں۔ اور دینداری کے ساتھ اچھی دنیا حاصل کرسکیں۔ اس ضمن میں حضور مجاہد ملت کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انھوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور اس طبقے کو چہار دیواری سے نکال کر آفاقی وسعت فراہم کرنے میں کافی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ وہ ہمیشہ طبقۂ علماء کو خود کفیل اور خود دار
دیکھنا چاہتے تھے۔
مجاہد ملت کی عملی زندگی اور فکر اقبال میں یگانگت
علامہ اقبال نے یہ شعر ان لوگوں کیلئے کہا ہے جو دینی ادارہ چلاتے ہیں یا چلانا چاہتے ہیں۔
مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دین
ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلا نا کہیں
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
محفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ان افسانوں کو نہ چھیڑ
وصال
اللہ تعالی فرماتا ہے اور جو ہجرت کرے اللہ کے راستے میں پائے گا زمین میں پناہ۔ اور روزی کے لیے بہت کشادہ جگہ۔ اور جو نکلے اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے۔ اور گھر واپس آنے سے پہلے ہی اس کی موت ہوجائے۔ تو ان کا اجر اللہ تعالی کے ذمۂ کرم پر ہے۔ اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے (النساء/100)
آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں نکلا تو جب تک وہ گھر لوٹ کر نہ آئے تو وہ اللہ کے راستے میں ہی ہے۔ مجاہد ملت رحمۃ اللہ علیہ آخری حج ادا فرمانے کے بعد ممبئی تشریف لائے اور وہ اپنے گھر دھام نگر نہیں گئے بلکہ دینی و ملی کاموں میں مشغول رہے۔ وہاں سے جمشیدپور ہوتے ہوئے کلکتہ گئے اس کے بعد الہ آباد پہنچے۔ اس درمیان سردی شروع ہوئی اور طبیعت بگڑنے لگی۔ جس کی وجہ سے بہت سے پروگرام منسوخ بھی ہوئے اور تقریبا دوماہ الہ آباد میں ہی زیر علاج رہے اور بالآخر علاج کے لیے دوبارہ ممبئی تشریف لے گئے۔وہاں طبیعت میں اتار چڑھاؤ لگا رہا اور بالآخر 6/جمادی الاول 1401ھ بمطابق 13/ مارچ 1981ء کو ممبئ میں ہی آپ کا وصال ہو گیا۔سفر حج میں نکلا ہوا مسافر دردولت کو چھونے سے پہلے ہی جان جان آفریں کو سپرد کرگیا۔
پہلی جنازے کی نماز ممبئی میں ہوئی پھر کلکتہ میں اور آخری جنازے کی نماز دھام نگر میں ہوئی۔ دھام نگر میں حضرت کا مزار مرجع خلائق ہے۔
الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
تحریر: ✍ شہادت حسین فیضی
https://humariaawaz.com/2216/
مجاہد ملت کی عملی زندگی اور فکر اقبال میں یگانگت
علامہ اقبال نے یہ شعر ان لوگوں کیلئے کہا ہے جو دینی ادارہ چلاتے ہیں یا چلانا چاہتے ہیں۔
مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دین
ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلا نا کہیں
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
محفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ان افسانوں کو نہ چھیڑ
وصال
اللہ تعالی فرماتا ہے اور جو ہجرت کرے اللہ کے راستے میں پائے گا زمین میں پناہ۔ اور روزی کے لیے بہت کشادہ جگہ۔ اور جو نکلے اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے۔ اور گھر واپس آنے سے پہلے ہی اس کی موت ہوجائے۔ تو ان کا اجر اللہ تعالی کے ذمۂ کرم پر ہے۔ اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے (النساء/100)
آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں نکلا تو جب تک وہ گھر لوٹ کر نہ آئے تو وہ اللہ کے راستے میں ہی ہے۔ مجاہد ملت رحمۃ اللہ علیہ آخری حج ادا فرمانے کے بعد ممبئی تشریف لائے اور وہ اپنے گھر دھام نگر نہیں گئے بلکہ دینی و ملی کاموں میں مشغول رہے۔ وہاں سے جمشیدپور ہوتے ہوئے کلکتہ گئے اس کے بعد الہ آباد پہنچے۔ اس درمیان سردی شروع ہوئی اور طبیعت بگڑنے لگی۔ جس کی وجہ سے بہت سے پروگرام منسوخ بھی ہوئے اور تقریبا دوماہ الہ آباد میں ہی زیر علاج رہے اور بالآخر علاج کے لیے دوبارہ ممبئی تشریف لے گئے۔وہاں طبیعت میں اتار چڑھاؤ لگا رہا اور بالآخر 6/جمادی الاول 1401ھ بمطابق 13/ مارچ 1981ء کو ممبئ میں ہی آپ کا وصال ہو گیا۔سفر حج میں نکلا ہوا مسافر دردولت کو چھونے سے پہلے ہی جان جان آفریں کو سپرد کرگیا۔
پہلی جنازے کی نماز ممبئی میں ہوئی پھر کلکتہ میں اور آخری جنازے کی نماز دھام نگر میں ہوئی۔ دھام نگر میں حضرت کا مزار مرجع خلائق ہے۔
الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
تحریر: ✍ شہادت حسین فیضی
https://humariaawaz.com/2216/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#مجاہد_ملت_سیمینار_انقلابی_افکار_کے_احیا_کی #جانب_سنجیدہ_پیش_رفت!!
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
ہمارے قرب وجوار میں ہونے والے اعراس اس شعر کی عملی تصویر بنے نظر آتے ہیں لیکن پچھلے کچھ وقت سے باشعور سجادگان نے روایت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی توجہات کا رخ علمی کاموں کی جانب مبذول کیا ہے. جس کی وجہ سے اب اساطین علم سے منسوب پروگرام/اعراس میں محض چادر وگاگر کے میلے ہی نہیں ہوتے بلکہ علمی مجلسیں بھی سجنے لگی ہیں. جو جماعت کے لیے اچھے مستقبل کا اشاریہ ہے.
ایسی ہی ایک مجلس 29 فروری 2020 بروز ہفتہ صوبہ اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک میں سجائی گئی. جہاں جماعت کے ایک
"گمنام نامور" مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن عباسی قادری (1322 ھ-1401) کے نام پر ایک روزہ کل ہند سیمینار منعقد کیا گیا. ذمہ داران خانقاہ نے اس علمی مجلس کے بہترین انعقاد کے لئے ملک کی ایک سنجیدہ علمی شخصیت ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کا انتخاب کیا. جس کے لیے صاحب سجادہ حبیب ملت حضرت مولانا سید غلام محمد حبیبی قادری قابل تعریف ہیں.
پر تکلف ظہرانہ کے بعد *انجمن اسلامیہ* دیوان بازار کٹک کے *مجاہد ملت ہال* میں سیمینار کا آغاز ہوا.تلاوت قرآن کریم اور نعت مصطفیٰ ﷺ کے بعد تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے منصرم مجلس ڈاکٹر شمس مصباحی نے اپنی قلبی واردات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
مجاہد ملت جیسی شخصیت کو آج کی نسل محض نام کی حد تک جانتی ہے. جبکہ ان کے کارنامے، ان کے افکار اور نقوش زندگی اس نوعیت کے ہیں کہ وہ جماعتی افکار ونظریات کا جزو لاینفک ہوتے. لیکن حالات زمانہ کی نیرنگی کہ ہم اپنی فقید المثال شخصیت کو بھی فراموش کر بیٹھے. اس لیے مجاہد ملت کے انقلابی افکار ونظریات سے زمانے کو روشناس کرانے کے لیے ہی یہ علمی مجلس سجائی گئی تاکہ ان کے افکار کی روشنی میں جماعت بحسن و خوبی کامیابی کا سفر طے کر سکے.
یہاں منصرم مجلس کی بالغ نظری کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے اہل قلم حضرات کو اپنی گفتگو میں عوام کے ذوق کا خیال رکھتے ہوئے قدرے خطیبانہ رنگ لینے کی آزادی عطا فرمائی. کیوں کہ سیمینار میں اہل علم کے ساتھ عوام بھی بڑی تعداد میں شریک تھے. اور عوام بنیادی طور پر خالص علمی وتحقیقی گفتگو سننے کے حامل نہیں ہوتے اس لیے وسیم بریلوی کے مطابق:
کون سی بات کب،کہاں،کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے !!
پر عمل کرتے ہوئے عوامی نفسیات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ علمی گفتگو سے آشنا ہو سکیں.
سیمینار کی نظامت کلکتے کے مشہور ناظم اجلاس محترم حلیم حاذق صاحب نے کی. موصوف عمر کے کئی پڑاؤ پار کرنے کے بعد بھی قد وقامت کے اعتبار سے جتنے فٹم فٹ ہیں اتنی ہی فٹم فٹ ان کی نظامت بھی نظر آئی. ان کے بر محل جملوں اور بامقصد اشعار نے حسن محفل بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا.جس کے لیے حاذق صاحب قابل تحسین ہیں.
*شرکائے سیمینار اور موضوعات:*
1- ڈاکٹر ارشاد عالم ساحل، سہسرام
(مجاہد ملت کی ایمانی شان)
2- مفتی خالد ایوب مصباحی، جےپور
(راجستھان میں آپ کی دعوتی خدمات اور موجودہ ضرورت)
3- غلام مصطفےٰ نعیمی، دہلی
(عصری تعلیم اور آپ کی دور اندیشی)
4-ڈاکٹر نجم القادری مدھوبنی بہار
(مجاہد ملت ایک کثیر الجہات شخصیت)
5- ڈاکٹر احمد جاوید، پٹنہ
(مجاہد ملت کے اہم سیاسی کارنامے)
6- مولانا صابر رضا رہبر مصباحی، پٹنہ
7-مولانا شمیم اختر رضوی، جمشید پور
(مجاہد ملت کی اصلاحی وسماجی کارگزاریاں)
8- ڈاکٹر سجاد عالم رضوی، کلکتہ
(موجودہ ہندوستان وقانون میں مجاہد ملت کا حصہ)
9 مولانا رحمت اللہ صدیقی، ممبئی
(مجاہد ملت،انتخاب اعلی حضرت)
10 مفتی شمشاد مصباحی، گھوسی، یوپی
(مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت)
11 مفتی اختر حسین علیمی، جمدا شاہی، یوپی
(نجدی قاضی سے ہوئے مکالمے کی علمی حیثیت)
12 مولانا سید عبدالمسجود حبیبی، الہ آباد
(مشاہدات وتجربات)
13 مولانا ریاضت حسین ازہری، رسول پور، اڑیسہ
16 مولانا فیضان المصطفی اعظمی، امریکہ
(مجاہد ملت کی فقہی عبقریت اور استحضار علمی)
17 مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور
(مجاہد ملت:کرادر وعمل کے مجاہد)
سیمیناروں کی روایت کے عین مطابق خاصا وقت تعارف وتمہید کی نذر ہوگیا اس لیے منتخب اہل قلم کو ہی اپنے مقالات کے اہم نکات پر گفتگو کرنے کا موقع دیا گیا.
سیمینار میں مجاہد ملت کی کتاب زندگی کے کئی اہم اوراق پر بڑی خاص گفتگو ہوئی وہ خاص عناوین یہ ہیں:
1-استقامت فی الدین.
2-عصری تعلیم کی اہمیت
3-دعوتی وتبلیغی مزاج
4-فقہی گہرائی وگیرائی
5-مناظرانہ مہارت
6-سماجی خدمات
7-سیاسی شعور وخدمات
8-فکری پختگی
9-مشاہدات ومصاحبات
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
ہمارے قرب وجوار میں ہونے والے اعراس اس شعر کی عملی تصویر بنے نظر آتے ہیں لیکن پچھلے کچھ وقت سے باشعور سجادگان نے روایت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی توجہات کا رخ علمی کاموں کی جانب مبذول کیا ہے. جس کی وجہ سے اب اساطین علم سے منسوب پروگرام/اعراس میں محض چادر وگاگر کے میلے ہی نہیں ہوتے بلکہ علمی مجلسیں بھی سجنے لگی ہیں. جو جماعت کے لیے اچھے مستقبل کا اشاریہ ہے.
ایسی ہی ایک مجلس 29 فروری 2020 بروز ہفتہ صوبہ اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک میں سجائی گئی. جہاں جماعت کے ایک
"گمنام نامور" مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن عباسی قادری (1322 ھ-1401) کے نام پر ایک روزہ کل ہند سیمینار منعقد کیا گیا. ذمہ داران خانقاہ نے اس علمی مجلس کے بہترین انعقاد کے لئے ملک کی ایک سنجیدہ علمی شخصیت ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کا انتخاب کیا. جس کے لیے صاحب سجادہ حبیب ملت حضرت مولانا سید غلام محمد حبیبی قادری قابل تعریف ہیں.
پر تکلف ظہرانہ کے بعد *انجمن اسلامیہ* دیوان بازار کٹک کے *مجاہد ملت ہال* میں سیمینار کا آغاز ہوا.تلاوت قرآن کریم اور نعت مصطفیٰ ﷺ کے بعد تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے منصرم مجلس ڈاکٹر شمس مصباحی نے اپنی قلبی واردات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
مجاہد ملت جیسی شخصیت کو آج کی نسل محض نام کی حد تک جانتی ہے. جبکہ ان کے کارنامے، ان کے افکار اور نقوش زندگی اس نوعیت کے ہیں کہ وہ جماعتی افکار ونظریات کا جزو لاینفک ہوتے. لیکن حالات زمانہ کی نیرنگی کہ ہم اپنی فقید المثال شخصیت کو بھی فراموش کر بیٹھے. اس لیے مجاہد ملت کے انقلابی افکار ونظریات سے زمانے کو روشناس کرانے کے لیے ہی یہ علمی مجلس سجائی گئی تاکہ ان کے افکار کی روشنی میں جماعت بحسن و خوبی کامیابی کا سفر طے کر سکے.
یہاں منصرم مجلس کی بالغ نظری کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے اہل قلم حضرات کو اپنی گفتگو میں عوام کے ذوق کا خیال رکھتے ہوئے قدرے خطیبانہ رنگ لینے کی آزادی عطا فرمائی. کیوں کہ سیمینار میں اہل علم کے ساتھ عوام بھی بڑی تعداد میں شریک تھے. اور عوام بنیادی طور پر خالص علمی وتحقیقی گفتگو سننے کے حامل نہیں ہوتے اس لیے وسیم بریلوی کے مطابق:
کون سی بات کب،کہاں،کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے !!
پر عمل کرتے ہوئے عوامی نفسیات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ آہستہ آہستہ علمی گفتگو سے آشنا ہو سکیں.
سیمینار کی نظامت کلکتے کے مشہور ناظم اجلاس محترم حلیم حاذق صاحب نے کی. موصوف عمر کے کئی پڑاؤ پار کرنے کے بعد بھی قد وقامت کے اعتبار سے جتنے فٹم فٹ ہیں اتنی ہی فٹم فٹ ان کی نظامت بھی نظر آئی. ان کے بر محل جملوں اور بامقصد اشعار نے حسن محفل بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا.جس کے لیے حاذق صاحب قابل تحسین ہیں.
*شرکائے سیمینار اور موضوعات:*
1- ڈاکٹر ارشاد عالم ساحل، سہسرام
(مجاہد ملت کی ایمانی شان)
2- مفتی خالد ایوب مصباحی، جےپور
(راجستھان میں آپ کی دعوتی خدمات اور موجودہ ضرورت)
3- غلام مصطفےٰ نعیمی، دہلی
(عصری تعلیم اور آپ کی دور اندیشی)
4-ڈاکٹر نجم القادری مدھوبنی بہار
(مجاہد ملت ایک کثیر الجہات شخصیت)
5- ڈاکٹر احمد جاوید، پٹنہ
(مجاہد ملت کے اہم سیاسی کارنامے)
6- مولانا صابر رضا رہبر مصباحی، پٹنہ
7-مولانا شمیم اختر رضوی، جمشید پور
(مجاہد ملت کی اصلاحی وسماجی کارگزاریاں)
8- ڈاکٹر سجاد عالم رضوی، کلکتہ
(موجودہ ہندوستان وقانون میں مجاہد ملت کا حصہ)
9 مولانا رحمت اللہ صدیقی، ممبئی
(مجاہد ملت،انتخاب اعلی حضرت)
10 مفتی شمشاد مصباحی، گھوسی، یوپی
(مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت)
11 مفتی اختر حسین علیمی، جمدا شاہی، یوپی
(نجدی قاضی سے ہوئے مکالمے کی علمی حیثیت)
12 مولانا سید عبدالمسجود حبیبی، الہ آباد
(مشاہدات وتجربات)
13 مولانا ریاضت حسین ازہری، رسول پور، اڑیسہ
16 مولانا فیضان المصطفی اعظمی، امریکہ
(مجاہد ملت کی فقہی عبقریت اور استحضار علمی)
17 مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور
(مجاہد ملت:کرادر وعمل کے مجاہد)
سیمیناروں کی روایت کے عین مطابق خاصا وقت تعارف وتمہید کی نذر ہوگیا اس لیے منتخب اہل قلم کو ہی اپنے مقالات کے اہم نکات پر گفتگو کرنے کا موقع دیا گیا.
سیمینار میں مجاہد ملت کی کتاب زندگی کے کئی اہم اوراق پر بڑی خاص گفتگو ہوئی وہ خاص عناوین یہ ہیں:
1-استقامت فی الدین.
2-عصری تعلیم کی اہمیت
3-دعوتی وتبلیغی مزاج
4-فقہی گہرائی وگیرائی
5-مناظرانہ مہارت
6-سماجی خدمات
7-سیاسی شعور وخدمات
8-فکری پختگی
9-مشاہدات ومصاحبات
*استقامت فی الدین* مجاہد ملت کی زندگی کا سب سے اہم اور بنیادی عنوان استقامت فی الدین ہی ہے. یہی وہ جذبہ تھا کہ جس کی خاطر سعودی نجدی حکومت تک سے ٹکرا گئے تھے. اس عنوان پر مفتی اختر حسین علیمی نے نہایت فاضلانہ انداز میں نجدی قاضی سے ہوئے آپ کے مکالمے کی بہترین تشریحی گفتگو فرمائی.
*عصری تعلیم کی اہمیت* مجاہد ملت نے جہاں مدارس ومساجد قائم فرمائے وہیں کئی عصری اداروں کے قیام بھی کلیدی رول ادا فرمایا. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے فقیر غلام مصطفےٰ نعیمی نے بیان کیا کہ دور حاضر میں مسلمانوں کے 96 فیصد بچے عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں. ایسے میں ان کی بنیادی دینی تعلیم کا نظم کیے بغیر ان کے عقائد کی حفاظت کس طرح ممکن ہے اور دین بیزار عصری اداروں کے برے اثرات سے بچانے کے لیے ہمارا ایکشن پلان کیا ہے؟
یہاں یہ پہلو بھی ذہن میں رہے کہ 2016 کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں محض 2.75 فیصد افراد ہی گریجویٹ ہیں. یہ بات اپنے آپ میں کس قدر شرم ناک ہے کہ 25 کروڑ کی مسلم آبادی میں گریجویٹ افراد کا تناسب تین فیصد بھی نہیں ہے. شاید یہی وجہ تھی کہ مجاہد ملت نے ایک موقع پر کسی مسلم علاقے میں عصری تعلیم کی ضرورت کے مد نظر اسکول انتظامیہ کو حیلہ شرعی کے ساتھ چرم قربانی وصول کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنے بستی دھام نگر میں ایک عصری ادارے کے لیے اپنی ذاتی زمین پیش فرمائی. دور حاضر میں آپ کی فکر کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ قوم غیروں کی محتاجی سے محفوظ رہ سکے.
*دعوتی وتبلیغی مزاج* مجاہد ملت جہاں کامیاب مناظر تھے وہیں ایک باعمل مبلغ اور داعی دین بھی تھے. مفتی خالد ایوب مصباحی نے اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے بیان کیا کہ راجستھان کے پالی وغیرہ کے علاقوں میں آپ کی تبلیغی سرگرمیوں سے کتنے ہی مسلمان فتنہ ارتداد سے محفوظ رہے. یہ سب داعیانہ کاوشوں کا ثمرہ تھا. لیکن آج پھر اسی پالی کے اطراف میں سیکڑوں علاقے ہیں جہاں مسلمان آدھے مسلمان اور آدھے ہندو بنے ہوئے ہیں. نام سے لیکر رسم و رواج تک وہ اسلام اور ہندو دھرم کو فالو کرتے ہیں. اس لیے ان علاقوں میں مجاہد ملت کی طرز پر دعوتی مہم چلانے کی سخت ضرورت ہے.
*فقہی گہرائی و گیرائی* اس عنوان پر نبیرہ صدرالشریعہ مولانا فیضان المصطفی اعظمی نے مسئلہ اذان ثانی کے معاملے پر نہایت فاضلانہ انداز میں آپ کی فقہی گہرائی پر مدلل گفتگو فرمائی اور یہ ثابت کیا کہ تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کے علمی استحضار کا عالم یہ تھا کہ فقہی کتب کے باریک جزئیات بھی آپ کے ذہن میں مستحضر رہتے تھے.
*مناظرانہ مہارت* آپ کی کتاب زندگی کا یہ ورق بھی انتہائی روشن وتابناک ہے. اس عنوان پر کلام کرتے ہوئے مفتی شمشاد مصباحی نے بیان کیا کہ مناظر بننے کے لیے کسی ایک علم میں ماہر ہونا کافی نہیں بلکہ کئی علوم وفنون پر دسترس ہونا چاہیے تبھی کوئی شخص کامیاب مناظر ہوسکتا ہے. مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ مناظرہ بجرڈیہہ بنارس کی شرائط طے کرتے وقت آپ نے مشہور وہابی عالم صفی الرحمن مبارک پوری کو ساکت وعاجز کردیا تھا.
*سماجی خدمات* مجاہد ملت کی درخشاں زندگی کا یہ پہلو بھی لائق تقلید ہے. آپ نے جہاں تدریس وتبلیغ، سیاست ومناظرہ جیسے میدانوں میں اہل سنت کی کامیاب نمائندگی فرمائی، وہیں سماجی خدمات جیسے رفاہی میدان بھی آپ کی موجودگی سے محروم نہیں رہے. اس عنوان پر اڑیسہ ہی کے دو نوجوان قلم کاروں مولانا ریاضت حسین ازہری اور مولانا شمیم اختر رضوی نے نہایت سلیس ونفیس انداز میں گفتگو فرمائی اور آپ کی حیات زندگی کے اہم کارناموں کی روشنی میں سماجی خدمات کے تئیں آپ کے ذوق اور لگن کو خوب صورت طریقے سے بیان کیا.
*سیاسی خدمات* آپ کی حیات کے اس درخشاں پہلو پر ڈاکٹر سجاد عالم نے فاضلانہ گفتگو شروع فرمائی لیکن قلت وقت کے باعث وہ مافی الضمیر ادا کرنے سے معذور رہے لیکن ابتدائی گفتگو سے یہ اندازہ ضرور ہوگیا:
ہلکی سی جھلک دیکھ یوں بڑھی ہے تشنہ لبی
دید یار کی حسرت اب رہے گی شام وسحر
*فکری پختگی* مجاہد ملت اپنی تمام تر سیاسی وسماجی خدمات کے ساتھ ساتھ فکری پختگی میں بھی اپنے ہم عصروں میں ممتاز ومنفرد تھے. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا رحمت اللہ صدیقی نے بیان کیا کہ اپنے سفر حج بیت اللہ پر آپ حرمین شریفین میں عین نماز کے وقت عصا لیکر گھومتے رہتے اور بعد میں اپنی جماعت قائم فرماتے. عین جماعت کے وقت عصا لیکر گھومنے پر آپ نے جواب دیا تھا کہ "میں عین جماعت کے وقت اس لیے گھومتا ہوں تاکہ لوگ مجھ سے اس کا سبب پوچھیں تو میں وہابیہ کی بدعقیدگی اجاگر کرکے لوگوں کو ان کا مکروہ چہرہ دکھاؤں"
*عصری تعلیم کی اہمیت* مجاہد ملت نے جہاں مدارس ومساجد قائم فرمائے وہیں کئی عصری اداروں کے قیام بھی کلیدی رول ادا فرمایا. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے فقیر غلام مصطفےٰ نعیمی نے بیان کیا کہ دور حاضر میں مسلمانوں کے 96 فیصد بچے عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں. ایسے میں ان کی بنیادی دینی تعلیم کا نظم کیے بغیر ان کے عقائد کی حفاظت کس طرح ممکن ہے اور دین بیزار عصری اداروں کے برے اثرات سے بچانے کے لیے ہمارا ایکشن پلان کیا ہے؟
یہاں یہ پہلو بھی ذہن میں رہے کہ 2016 کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں محض 2.75 فیصد افراد ہی گریجویٹ ہیں. یہ بات اپنے آپ میں کس قدر شرم ناک ہے کہ 25 کروڑ کی مسلم آبادی میں گریجویٹ افراد کا تناسب تین فیصد بھی نہیں ہے. شاید یہی وجہ تھی کہ مجاہد ملت نے ایک موقع پر کسی مسلم علاقے میں عصری تعلیم کی ضرورت کے مد نظر اسکول انتظامیہ کو حیلہ شرعی کے ساتھ چرم قربانی وصول کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنے بستی دھام نگر میں ایک عصری ادارے کے لیے اپنی ذاتی زمین پیش فرمائی. دور حاضر میں آپ کی فکر کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ قوم غیروں کی محتاجی سے محفوظ رہ سکے.
*دعوتی وتبلیغی مزاج* مجاہد ملت جہاں کامیاب مناظر تھے وہیں ایک باعمل مبلغ اور داعی دین بھی تھے. مفتی خالد ایوب مصباحی نے اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے بیان کیا کہ راجستھان کے پالی وغیرہ کے علاقوں میں آپ کی تبلیغی سرگرمیوں سے کتنے ہی مسلمان فتنہ ارتداد سے محفوظ رہے. یہ سب داعیانہ کاوشوں کا ثمرہ تھا. لیکن آج پھر اسی پالی کے اطراف میں سیکڑوں علاقے ہیں جہاں مسلمان آدھے مسلمان اور آدھے ہندو بنے ہوئے ہیں. نام سے لیکر رسم و رواج تک وہ اسلام اور ہندو دھرم کو فالو کرتے ہیں. اس لیے ان علاقوں میں مجاہد ملت کی طرز پر دعوتی مہم چلانے کی سخت ضرورت ہے.
*فقہی گہرائی و گیرائی* اس عنوان پر نبیرہ صدرالشریعہ مولانا فیضان المصطفی اعظمی نے مسئلہ اذان ثانی کے معاملے پر نہایت فاضلانہ انداز میں آپ کی فقہی گہرائی پر مدلل گفتگو فرمائی اور یہ ثابت کیا کہ تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ کے علمی استحضار کا عالم یہ تھا کہ فقہی کتب کے باریک جزئیات بھی آپ کے ذہن میں مستحضر رہتے تھے.
*مناظرانہ مہارت* آپ کی کتاب زندگی کا یہ ورق بھی انتہائی روشن وتابناک ہے. اس عنوان پر کلام کرتے ہوئے مفتی شمشاد مصباحی نے بیان کیا کہ مناظر بننے کے لیے کسی ایک علم میں ماہر ہونا کافی نہیں بلکہ کئی علوم وفنون پر دسترس ہونا چاہیے تبھی کوئی شخص کامیاب مناظر ہوسکتا ہے. مجاہد ملت کی مناظرانہ صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ مناظرہ بجرڈیہہ بنارس کی شرائط طے کرتے وقت آپ نے مشہور وہابی عالم صفی الرحمن مبارک پوری کو ساکت وعاجز کردیا تھا.
*سماجی خدمات* مجاہد ملت کی درخشاں زندگی کا یہ پہلو بھی لائق تقلید ہے. آپ نے جہاں تدریس وتبلیغ، سیاست ومناظرہ جیسے میدانوں میں اہل سنت کی کامیاب نمائندگی فرمائی، وہیں سماجی خدمات جیسے رفاہی میدان بھی آپ کی موجودگی سے محروم نہیں رہے. اس عنوان پر اڑیسہ ہی کے دو نوجوان قلم کاروں مولانا ریاضت حسین ازہری اور مولانا شمیم اختر رضوی نے نہایت سلیس ونفیس انداز میں گفتگو فرمائی اور آپ کی حیات زندگی کے اہم کارناموں کی روشنی میں سماجی خدمات کے تئیں آپ کے ذوق اور لگن کو خوب صورت طریقے سے بیان کیا.
*سیاسی خدمات* آپ کی حیات کے اس درخشاں پہلو پر ڈاکٹر سجاد عالم نے فاضلانہ گفتگو شروع فرمائی لیکن قلت وقت کے باعث وہ مافی الضمیر ادا کرنے سے معذور رہے لیکن ابتدائی گفتگو سے یہ اندازہ ضرور ہوگیا:
ہلکی سی جھلک دیکھ یوں بڑھی ہے تشنہ لبی
دید یار کی حسرت اب رہے گی شام وسحر
*فکری پختگی* مجاہد ملت اپنی تمام تر سیاسی وسماجی خدمات کے ساتھ ساتھ فکری پختگی میں بھی اپنے ہم عصروں میں ممتاز ومنفرد تھے. اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا رحمت اللہ صدیقی نے بیان کیا کہ اپنے سفر حج بیت اللہ پر آپ حرمین شریفین میں عین نماز کے وقت عصا لیکر گھومتے رہتے اور بعد میں اپنی جماعت قائم فرماتے. عین جماعت کے وقت عصا لیکر گھومنے پر آپ نے جواب دیا تھا کہ "میں عین جماعت کے وقت اس لیے گھومتا ہوں تاکہ لوگ مجھ سے اس کا سبب پوچھیں تو میں وہابیہ کی بدعقیدگی اجاگر کرکے لوگوں کو ان کا مکروہ چہرہ دکھاؤں"
ڈاکٹر نجم القادری صاحب نے اسی عنوان پر گفتگو شروع کی لیکن وقت کا بڑا حصہ "حسن یار کی تشبیہات وتمثیلات" کی نذر ہوگیا.اب تو موصوف کا مقالہ کتابی صورت میں ہی پڑھنے کا انتظار رہے گا.
*مشاہدات ومصاحبات* کسی بھی شخصیت کے اصلی خدوخال ان کے حاضر باش اور حظ صحبت اٹھانے والے افراد ہی سب سے بہتر جانتے ہیں. حسن اتفاق سے سیمینار میں بزرگ قلم کار مولانا سید عبدالمسجود حبیبی ، ڈاکٹر علی اشرف صاحبان نے اپنی مشاہداتی گفتگو سے مجاہد ملت کے وہ احوال بیان فرمائے جس سے آپ کی عظمتوں کا نقش دل پر گہراتا چلا گیا، نہاں خانہ دل سے یہی آواز آئی:
بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں
اب تجھے اے ستم یار کہاں سے لاؤں
ان حضرات کے علاوہ مولانا وجہ القمر رضوی وغیرہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا.
بعد میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے حضور مجاہد ملت سے اپنی کئی ملاقات ومصاحبات کا ذکر کرتے ہوئے کئی اہم واقعات بیان فرمائے جن سے مجاہد ملت کی قومی ہمدردی کے نقوش نظر آئے، تو اپنوں کی بے اعتنائی کے زخموں کی ٹیس بھی محسوس ہوئی. ایک واقعہ کے ضمن میں ہوئی گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملی معاملات میں مجاہد ملت کو جماعت اہل سنت سے بھرپور معاونت ملی نہ خاطر خواہ حوصلہ افزائی(الا ماشاء اللہ)
شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے رفیق درس حافظ ملت سے پوچھا تھا:
*"کیا آپ میرا ساتھ دوگے؟"*
اس جملے کے پس منظر میں جھانک کر دیکھیں تو درد وغم کا وہ سمندر نظر آئے گا جو انسان کے وجود کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے.
علامہ صاحب کی گفتگو نہایت پر اثر اور دل میں اتر جانے والی تھی.
سیمینار کے نظم ونسق میں *"خاکساران حق"* کے افراد نہایت خلوص وادب کے ساتھ پیش پیش تھے. جملہ رضاکاران کا ادب اور جذبہ احترام قابل تعریف تھا. یہ یقیناً ذمہ داران خانقاہ کی تربیت کا ثمرہ ہے. یہ وہی تنظیم ہے جو خاکی رنگ کی مخصوص وردی اور بیلچے کے ساتھ قومی سپاہی نظر آتے ہیں کاش یہ تنظیم جلسہ وجلوس سے آگے بڑھ کر وہ کام انجام دے جس کے لیے اسے قائم کیا گیا تھا.
اخیر میں صلات وسلام، شجرہ خوانی، فاتحہ خوانی کے بعد محدث کبیر کی رقت آمیز دعا پر محفل کا اختتام ہوا.
پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں مولانا عاشق القادری حبیبی صاحب کی کاوشوں کا تذکرہ نہ کرنا ناانصافی ہوگی. مولانا موصوف کی بے پناہ کاوشیں ہی تھیں کہ اتنا معیاری اور علمی سیمینار منعقد ہوا. موصوف نے نسبت حبیبی کا حق ادا کرتے ہوئے بارگاہ مجاہد ملت میں خوب خراج عقیدت پیش کیا جس کے لئے موصوف شکریے کے حقدار ہیں.
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
*مشاہدات ومصاحبات* کسی بھی شخصیت کے اصلی خدوخال ان کے حاضر باش اور حظ صحبت اٹھانے والے افراد ہی سب سے بہتر جانتے ہیں. حسن اتفاق سے سیمینار میں بزرگ قلم کار مولانا سید عبدالمسجود حبیبی ، ڈاکٹر علی اشرف صاحبان نے اپنی مشاہداتی گفتگو سے مجاہد ملت کے وہ احوال بیان فرمائے جس سے آپ کی عظمتوں کا نقش دل پر گہراتا چلا گیا، نہاں خانہ دل سے یہی آواز آئی:
بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں
اب تجھے اے ستم یار کہاں سے لاؤں
ان حضرات کے علاوہ مولانا وجہ القمر رضوی وغیرہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا.
بعد میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری نے حضور مجاہد ملت سے اپنی کئی ملاقات ومصاحبات کا ذکر کرتے ہوئے کئی اہم واقعات بیان فرمائے جن سے مجاہد ملت کی قومی ہمدردی کے نقوش نظر آئے، تو اپنوں کی بے اعتنائی کے زخموں کی ٹیس بھی محسوس ہوئی. ایک واقعہ کے ضمن میں ہوئی گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملی معاملات میں مجاہد ملت کو جماعت اہل سنت سے بھرپور معاونت ملی نہ خاطر خواہ حوصلہ افزائی(الا ماشاء اللہ)
شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے رفیق درس حافظ ملت سے پوچھا تھا:
*"کیا آپ میرا ساتھ دوگے؟"*
اس جملے کے پس منظر میں جھانک کر دیکھیں تو درد وغم کا وہ سمندر نظر آئے گا جو انسان کے وجود کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے.
علامہ صاحب کی گفتگو نہایت پر اثر اور دل میں اتر جانے والی تھی.
سیمینار کے نظم ونسق میں *"خاکساران حق"* کے افراد نہایت خلوص وادب کے ساتھ پیش پیش تھے. جملہ رضاکاران کا ادب اور جذبہ احترام قابل تعریف تھا. یہ یقیناً ذمہ داران خانقاہ کی تربیت کا ثمرہ ہے. یہ وہی تنظیم ہے جو خاکی رنگ کی مخصوص وردی اور بیلچے کے ساتھ قومی سپاہی نظر آتے ہیں کاش یہ تنظیم جلسہ وجلوس سے آگے بڑھ کر وہ کام انجام دے جس کے لیے اسے قائم کیا گیا تھا.
اخیر میں صلات وسلام، شجرہ خوانی، فاتحہ خوانی کے بعد محدث کبیر کی رقت آمیز دعا پر محفل کا اختتام ہوا.
پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں مولانا عاشق القادری حبیبی صاحب کی کاوشوں کا تذکرہ نہ کرنا ناانصافی ہوگی. مولانا موصوف کی بے پناہ کاوشیں ہی تھیں کہ اتنا معیاری اور علمی سیمینار منعقد ہوا. موصوف نے نسبت حبیبی کا حق ادا کرتے ہوئے بارگاہ مجاہد ملت میں خوب خراج عقیدت پیش کیا جس کے لئے موصوف شکریے کے حقدار ہیں.
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
👍1
روضۂ مبارکہ حضور مجاہد ملت
مجاہد ملت سیمینار انقلابی افکار کے
احیا کی جانب سنجیدہ پیش رفت !!
✍ غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
مجاہد ملت سیمینار انقلابی افکار کے
احیا کی جانب سنجیدہ پیش رفت !!
✍ غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم
خدا جانے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نے کس کرب کے عالم میں کہا تھا:
خرچ سنی بر قبور وخانقاہ
خرچ نجدی بر علوم ودرسگاہ
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/2760211837429563/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM