🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.83K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*کیا علما مال کا میل کھاتے ہیں؟*

از: *محمد نورالحسن مصباحی رضوی*

(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)

آج بڑی آسانی سے کچھ افراد عوام کو علمائے کرام سے دور کرنے کی نیت سے یہ غیر مناسب جملہ اپنے حلقۂ احباب و عقیدت منداں میں بول دیتے ہیں: "آج علما مال کا میل کھاتے ہیں؛ ان سے کیا خیر کی امید لگائی جائے؟"

اب اس جملے پر احقر راقم الحروف کے چند معروضات ہیں:

(١)کیا یہ بولنے والے افراد علم شرع سے بالکل دور ہیں؟ نہ ان کو سیرت کا علم ہے نہ حدیث کا درک؛ ورنہ ان کو اس غیر ذمہ دارانہ نامناسب جملے کی بہت سی خامیاں نظر آجاتیں۔

(٢) کہیں وہ یہودی افکار کے شکار تو نہیں ہو گئے کہ ان کامقصد مسلمانوں کو دین سے روگرداں کرناہے۔ جو بغیر عوام کو علمائے کرام سے دور کئے ممکن نہیں ہے۔ یہی ہدف موجودہ ہندی حکومت کا بھی ہے؛ جس کی خاطر کبھی انہوں نے فتؤوں کی عظمت کو تارتار کیا یا کرایا اور کبھی علماء کرام کے وقار کو مجروح کیا یا کرایا۔ یہ بالکل جگ ظاہر ہے۔

(٣) اس جملے میں علماء کرام کی کتنی بڑی گستاخی ہے جو ہر ذی شعور غیرت مند شخص کے فہم وادراک میں ہے اور ایسے چرب زباں بے ادب ملت کے ناسور نااہل فرد سے بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ عالم دین کی بے ادبی عالم ہونے کی وجہ سے کفر ہے۔ دنیاوی خصومت کی وجہ سے فسق وفجور ہے اور بلا سبب قلبی مرض باطنی خباثت ہے۔ جس پر کفر کا اندیشہ ہے۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ. ج١٠ص. ١٤٠)

ان کے بعد اب عہد رسالت کا رخ کریں کہ حضور رحمت عالم صلي الله عليه وسلم کی مقدس بارگاہ میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اکتساب علم و فیض کی خاطر حاضر رہا کرتے۔ ان کے خوردونوش کا انتظام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے صدقہ آتا تو صرف اور صرف وہ مقدس علم حاصل کرنے والے جان نثار صحابہ تناول فرماتے اور اگر کوئی ہدیہ لیکر بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوتا تو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم بھی ان کے ساتھ تناول فرماتے۔ جس پر کئی روایت شاہد ہیں؛ جو ضرورت کے وقت پیش کی جا سکتی ہیں۔ ویسے اس پر راقم الحروف کی قرآن و حدیث سے مزین ایک مدلل تقریر ہو چکی ہے اور وہ یوٹیوب پر بایں عنوان "ہم مدارس پر کیوں خرچ کریں؟" موجود ہے؛ سنی جاسکتی ہے اور حقیر بارہا اس جملے کی خامیوں پر عوام کی توجہ بیانات وغیرہ میں کراتا رہتا ہے۔ تو اب آپ فیصلہ کریں کہ اس جملہ سے کن با عظمت نفوس کی شان بالا تر میں گستاخی ہو رہی ہے۔
مزید یہ کہ بخاری شریف میں ہے حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس گوشت کے تعلق سے جو حضرت بریرہ کو صدقہ کیا گیا تھا فرمایا: هوعليها صدقة ولناهدية. یعنی بریرہ کو دینے والے نے دیا تو صدقہ دیا لیکن بریرہ اگر ہم کو دیں تو وہی گوشت ہدیہ ہو جائے گا۔ (ج:٢ص:٧٦٣.٨١٧)
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت بریرہ رضي الله عنها کو صدقہ دیا گیا
اور انہوں نے لیا بھی۔ تو کیا ان سے خیر کی امید نہیں کی جاسکتی ہے؟ جبکہ وہ صحابیہ ہیں جو خود سراپا خیر ہیں۔
تو کیا اس جملے سے ان کی شان اقدس میں گستاخی نہیں ہو رہی ہے؟ جو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم کی تکلیف واذیت کا باعث ہے۔ اور بولنے والے کے لیے سگہائے دوزخ سے بنانے کا سبب بھی۔

مزید بر آں کہ حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس کو ہدیہ کہا، بریرہ کے حضور کو دینے کے بعد
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ہدیہ میل ہے؟ تو آں جناب کہیں گے کہ نہیں
بس اسی طریقے سے مدارس میں زکات کے استعمال کا انداز ہوتا ہے کہ پہلے تملیک فقیر پھر اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے مدرسہ کو دے دے تو ہدیہ ہو جاتا ہے اور ہدیہ ہی مدرسہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جس کو میل کہنا بالکل غلط ہے۔ فرمان مصطفیٰ کی مخالفت اور اس سے بغاوت ہے۔ اور ہدیہ کی اہمیت کو کم کرنا اور اپنی جہالت کا اعلان کرناہے. والله اعلم

٢٧ فرورى ٢٠٢١ء

حسب فرمائش
اراکین و انتظامیہ مسجد اہل سنت خيرالنساء حجن رضاپوره (ماليگاؤں)

https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/
کیا علما مال کا میل کھاتے ہیں؟

از: محمد نورالحسن مصباحی رضوی

(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)

https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بات درست ہے

لیکن یہاں پر ایک بات قابل غور ہے جو میرا مشاہدہ ہے ضروری نہیں ہر کوئی متفق ہو.

صدقات و زکوٰۃ مساجد و مدارس کو دیئے جاتے ہیں اس وجہ سے بہت سے نا اہل علماء نے اپنے الگ الگ مدارس کھولے ہوئے ہیں تاکہ چندہ وصول کیا جا سکے.

اب رمضان المبارک قریب ہے.

میں آپ کو ممبئ شہر آنے کی دعوت دوں گی.
آپ آئیں اور شہر بھر میں مشاہدہ کریں.
آپ کو ہندوستان کے کونے کونے کے مدارس کے علماء سڑکوں پر گشت کرتے ملیں گے جو چندہ وصول کرتے ہیں. بالکل فقیروں والے انداز میں ہر دروازے پر دستک دے کر (معذرت)

اس طرزِ عمل نے علمائے کرام کے وقار کو خاک نشین کیا ہے.
زکوۃ نکالنا لوگوں کی ضرورت ہے.
اور لوگوں کو خود چل کر مسجد و مدرسے میں جانا چاہیے اپنی زکوۃ دینے یا صدقہ دینے

مگر یہاں معاملہ ہی الٹ ہے.

ہر آدھے گھنٹے پر دستک ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے دور دراز سے صرف چندہ مانگنے کی غرض سے تشریف آوری ہوئی ہے.

ہر گلی کوچے میں الگ مدرسہ پھر ان کا الگ چندہ

علمائے کرام کو یوں دروازوں پر ہاتھ پھیلانے کا کام دینا علماء کرام کے وقار کو کم کرنا ہے

آج عوام کی زبان دراز ہوئی ہے اس معاملے میں تو قصور وار منتظمین ہیں جو علماء کو اس قسم کا کام کرنے کہتے ہیں.
اور علماء بھی ہیں جو ایسا کام کرتے ہیں.
ایک بات کہہ دوں

کہ لوگ اگر چندہ دے رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ علمائے کرام کے)ظاہری حلیے کا احترام کرتے ہوئے دے رہے ہیں

ورنہ لوگوں کو کیا پتہ کہ یوپی بہار میں کتنے گاوں ہیں اور کس گاؤں کے مدرسے کے نام پر سوالی کھڑا ہے.

لوگ بس علماء کرام کے ظاہری حلیے کے احترام میں بغیر تحقیق اپنی حلال کمائی دے دیتے ہیں.

لیکن اس قدر کثیر تعداد میں چندہ لینے نکلنا اور ہر آدھے گھنٹے پر کوئی نہ کوئی مدرسے کے نام پر سوالی کا موجود رہنا عوام کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرتا ہے

کیوں کہ آج کل ہر کوئی پریشان ہی ہے
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌸 اہل علم کے لیے نکتہ 🌸

کسی امام سے منسوب کسی مسئلے کا ایک یا ہزار کتاب میں پایا جانا اِس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ یہ واقعی اُنھی کا قول ہے —

( الابریز من کلام سیدی عبدالعزیز ، ص 430 ، دارصادر بیروت )

ہمارے وہ خطبا و واعظین جو " ہربات پر " ، یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں کتاب میں ہے ، فلاں فلاں نے لکھا ہے ؛ اُنھیں اِس سے سبق حاصل کرنا چاہیے -
بہت ساری ایسی باتیں بھی ہیں جو بہت ساری کتابوں میں موجود ہونے کے باوجود ، وجود نہیں رکھتیں ؛ اِس لیے علم وتحقیق کا دامن تھامے رکھنے ہی میں عافیت ہے -

: لقمان شاہد

#POST #TAHQEEQ #LUQMAN

@FaizaneAlaHazrat_Bot

https://t.me/FaizaneAlaHazrat/364864
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مجاہد ملت ایک انقلابی اور ہمہ گیر شخصیت

-کچھ ایسی ہستیاں بھی عالمِ فانی میں آئی ہیں
-فنا کے بعد بھی جن کو زمانہ یاد کرتا ہے
وہ لوگ جو اپنے مال کو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور پھر نہ احسان رکھیں اور نہ تکلیف دیں تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اور ایسے لوگوں کو نہ کچھ اندیشہ ہے نہ غم.( البقرۃ/262)
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں تو یہ لوگ اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالی بہت بخشنے والا ہے۔ اور بہت رحم فرمانے والا ہے.(البقرۃ/218)
مذکورہ بالا آیتوں میں ان خوش نصیب مسلمانوں کا بیان ہے جو ایمان لانے کے بعد اللہ تعالی کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں اوراللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ جہاد کرتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کے امیدوار رہتے ہیں۔ انہیں مقدس لوگوں میں حضرت علامہ الشاہ حبیب الرحمن عباسی قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ذات گرامی ہے جو راجح قول کے مطابق 8/محرم/1322ھ- بمطابق: 26/ مارچ- 1904ء – بروز: شنبہ- صبح صادق کے وقت دھام نگر،اڑیسہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ ایک دیندار اور بہت بڑے زمیندار، رئیس اعظم اڑیسہ کے چشم و چراغ تھے۔ انہیں بچپن سے ہی دینی ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔کچھ سن شعور کو پہنچے تو کٹک کے ایک انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرایا گیا لیکن چونکہ انہیں اسکول کا مغربی ماحول پسند نہیں تھا،اس لیےکچھ ہی دنوں کے بعد انہوں نے اسکول کی تعلیم چھوڑ دی اور کہا کہ”دین کی تبلیغ اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلش ضرور پڑھنا چاہیے مگر مغربی تہذیب و تمدن کے لیے ہرگز ہرگز انگلش نہ پڑھیں۔” یعنی انہیں انگلش پڑھنا پسند تھا لیکن اسکول کا مغربی ماحول پسند نہیں تھا۔اسکے بعد علامہ عبدالصمد بالیسری اور علامہ مفتی شاہ ظہور حسام صاحب سے گھر پہ ہی درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ اور 1340ھ میں حضور مجاہد ملت سہسرام تشریف لائے۔ اور وہیں حضرت علامہ عبدالکافی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے ۔ بعدہ 1341ھ میں پہلا حج کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے جامعہ سبحانیہ الہ آباد میں داخلہ لیا اور اپنے پیر و مرشد کے علاوہ دیگر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ پھر حضور صدر الشریعہ رحمتہ اللہ علیہ سے پڑھنے کے لیے "أجمیر” تشریف لے گئے اور تقریبا 28 سال کی عمر تک حصول علم میں مشغول رہے۔ بعدہ آپ نے جامعہ نعیمیہ مرادآباد اور جامعہ سبحانیہ الہ آباد میں تدریسی خدمات انجام دی۔ پھر 1968ء بمطابق 1387ھ میں جامعہ حبیبیہ الہ آباد میں صدرالمدرسین کے عہدہ پر رہ کر تدریسی خدمت انجام دی۔ چونکہ دینی تبلیغ و اشاعت اور دینی تعلیم کی اجرت لینا جائز نہیں ہے( یہی اصل ہے حالانکہ ضرورتا بعد میں فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے) اس لیے مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے بربنائے تقوی پوری زندگی دین کی خدمت مثلا خطابت، امامت اور درس و تدریس کے بدلے میں نذرانہ قبول نہیں فرمایا۔ بلکہ جس جلسہ یا کانفرنس میں شریک ہوتے وہاں کی ضرورت کے مطابق ادارہ ،مدرسہ اور مسجد کے لیے اپنی جانب سے کچھ عطایات دے کر ہی آتے تھے۔ اسی طرح جن اداروں میں آپ نے درس و تدریس کے خدمات انجام دیے وہاں کی انتظامیہ سے کبھی تنخواہ نہیں لی بلکہ انتظامیہ کی امداد بھی کرتے اور وہاں زیر تعلیم بچوں کی کفالت بھی فرمایا کرتے تھے۔
ان پر فتوی لگایا گیا
اللہ تعالی نے مجاہد ملت کو عوام میں قبولیت تامہ عطا فرمائی تھی،جس سے سے کچھ لوگ گھبرا گئے اور ان پر "بشری”نامی کتاب میں تقریظ لکھنے کے سبب کفر کا فتوی لگا دیا۔ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا مطالبہ کیا اور اشتہار بازی شروع کر دی۔ مجاہد ملت نے جو خود علم کے سمندر تھے استقامت کا مظاہرہ کیا یہاں تک کہ بالآخر مولانا وکیل الرحمن صاحب خطیب جامع مسجد روپن لین کلکتہ کی تحریر پہ حضور مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ نے6/صفر 1393ھ۔ میں جواب نمبر30/71 کی تصدیق فرمائی کہ "ظاہر ہے کہ اس صورت میں مصدق و مصنف ‘بشری’ پر لزوم تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم نہیں ہے”۔ الغرض حضور مفتی اعظم ہند کی مداخلت سے کاہل اور ناکارہ فتویٰ بازوں کی زبان خاموش ہوئی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں۔
تعلیمی ادارے اور تنظیمیں:
آپ نے درجنوں کی تعداد میں مدارس واسکول قائم فرمائے ان میں جامعہ حبیبیہ الہ آباد، مدرسہ قادریہ پانسکوڑہ، جامعہ حنفیہ غوثیہ بجرڈیہہ بنارس، اسلامی مرکز رانچی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ دھام نگر ہائی سکول اور دھام نگر کالج کے لیے آپ نے کافی زمینیں وقف کیں۔ مجاہد ملت جس طرح مدارس کے طلبہ کی کفالت فرماتے، وظیفہ مقرر فرماتے اور حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ وہ ایسا ہی اسکول اور کالج کے طلبہ کی بھی کفالت فرماتے تھے، وظیفہ مقرر کرتے تھے۔ اور زبان و ادب کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم میں مہارت یا
کامیابی حاصل کرنے والے طلباء کو مبارکبادی دے کر حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ تنظیمیں بھی انہوں نے بہت بنائی ان میں آل انڈیا تبلیغ سیرت اور تحریک خاکساران حق یہ دونوں ملکی سطح کی تنظیمیں تھیں جو آج بھی قائم ہیں اور قابل ذکر ہیں۔ جسے مزید فعال اور متحرک بنانے کی ضرورت ہے۔
مدارس کے نظام میں اصلاح
مدارس کی چھٹیاں کم کیں۔ اور مدارس کے نصاب میں تصوف کی تعلیم کے لیے رسالہ قشیریہ شامل کروایا۔ اور عربی ادب کو کو بھی اہمیت کی جگہ پر رکھا۔ روحانی تربیت کے لیے طریقت و شریعت کا عملی نصاب بنایا۔ اور جسمانی نشونما اور بالیدگی کے لیے خاکساران حق کی تربیت کو لازم قرار دیا۔
سیاسی شعور
چونکہ آپ ایک اعلی زمیندار خاندان کے فرد تھے اوروہ تحریک آزادی کے شدت کا زمانہ تھا۔ اس لیے ملکی سیاست سے لازما واقف تھے اور اس میں شامل بھی تھے۔ 1936ء میں دو سال تک کاشتکاری کے لیے نہر میں پانی نہیں چھوڑا گیا جس سے کاشتکاروں کا کافی نقصان ہوا۔ لیکن گورنمنٹ کی جانب سے واٹر ٹیکس کی نوٹس دی گئی۔ مجاہد ملت نے کاشتکاروں کو منظم کر کے کہا کہ ہم ٹیکس نہیں دیں گے۔ جس پر انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا اور بعد میں ہائی کورٹ سے رہائی ملی۔
شریں بیانی اور وسعت ظرفی
مفتی اعظم ہند اور علامہ حشمت علی خاں و دیگر علمائے کرام کے ساتھ مجاہد ملت کی میٹنگ ہوئی تھی۔ جس میں کافی گرما گرم بحث ہوئی کہ پورے ملک کے تمام تنظیموں کو ایک ہی تنظیم میں ضم کردیا جائے۔ مجاہد ملت نے فرمایا کہ یہ تجویز مجھے منظور ہے لیکن میری بھی ایک بات آپ سب کو تسلیم کرنی ہوگی کہ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد میں ملکی سیاست کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ مسلمان حکومت سے لاتعلق رہ کر باوقار نہیں رہ سکتے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم سیاست کو شامل نہیں کریں گے۔ تو مجاہد ملت نے بھی فرمایا کہ ہم اپنی تنظیم کو بھی ضم نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ کمیونسٹوں کی ایک بات بہت اچھی ہے کہ وہ بحث کرتے ہیں تو دشمنوں کی طرح لیکن میٹنگ ختم ہونے کے بعد سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ ہمیں بھی اس بحث کو یہیں ختم کرکے مل جل کر رہنا چاہیے۔
تحریک آزادی میں حصہ داری
تحریک آزادی میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔ سیاسی بیانات دینے کی وجہ سے آزادی کے پہلے اور آزادی کے بعد بھی کل ملا کر 7 مرتبہ جیل گئے۔ لیکن کبھی معافی نہیں مانگی۔ عربی اردو میں ان کی کتابیں ہیں۔ لیکن انہوں نے شعروشاعری نہیں کی۔ تاہم صرف دو شعرانہوں نے اپنی زندگی میں تقسیم ہند کے بعد کہا تھا جس میں خود کو مخاطب کیا ہے۔
"فکر کی کیسے رہیں گے ہند میں!
ان سے کیا مطلب جو ہیں اب سندھ میں”
"ہاتف غیبی نے دی مجھ کو صدا
سربکف رہنا پڑے گا ہند میں”
پہلے شعر میں انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی مسلمانوں کو پاکستانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہونا چاہئے۔ اور دوسرے شعر میں اس عزم محکم کا اظہار فرمایا کہ ہمیں بھارت میں خود دار اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے جہد مسلسل کے ساتھ سر میں کفن باندھ کر اقتدار میں، انتظامیہ میں اور ڈیفینس وغیرہ میں شامل ہونے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔
سخاوت اور تقوی شعاری
وہ فرماتے تھے کہ مجھے دو باتیں بہت پسند ہیں ایک یہ کہ کوئی نماز پڑھا دے اور میں نماز پڑھ لوں اور دوسری یہ کہ کوئی دعوت دے اور میں کھا لوں۔ تاکہ دونوں معاملے میں باز پرس سے بچ جاؤں۔ اس سے امامت کی ذمہ داری اور لقمۂ حلال کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کس قدر ان امور میں محتاط تھے۔ اور سخاوت ایسی کے ایک دن بھی بغیر دادودہش کے زندگی نہیں گزاری وہ بھی ایثار کے ساتھ۔ ان کی صحبت میں رہنے والے بتاتے ہیں کہ حضرت حددرجہ محتاط اور سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ انکساری ایسی کہ جو بھی ان کا ہاتھ چومتا جھٹ سے وہ بھی ان کا ہاتھ چوم لیتے۔
مشرقی ہند کے عظیم دینی درسگاہ جامعہ فیض العلوم میں آخری آمد
آخری حج 1980ء کے بعد حضرت فیض العلوم تشریف لائے۔اس سے قبل بھی دو مرتبہ مجھے ان کی زیارت نصیب ہوئی تھی لیکن شرف بیعت نہ ہوا تھا۔ اس مرتبہ دیگر طلبۂ فیض العلوم کے ساتھ مجھے بھی شرف بیعت حاصل ہوا۔ بیعت کے بعد حضرت نے کچھ خاص نصیحت فرمائی۔پھر میں نے عرض کی کہ ہم لوگوں کو کچھ اوراد و وظائف بتائیں۔حضرت نے فرمایا کہ "آپ لوگ طالب علم ہیں اور بعد میں عالم دین ہوں گے۔اب بھی اور بعد میں بھی آپ کا کام دین سیکھنا اور سکھانا ہے۔اور یہ کام نفلی نمازوں اور نفلی اوراد و وظائف سے زیادہ ضروری ہے اور زیادہ ثواب کا کام ہے۔ آپ لوگ فرائض واجبات اور سنتوں کی پابندی کریں اور تسبیح فاطمہ پڑھا کریں۔بقیہ وقت دینی و علمی کتابوں کے پڑھنے اور پڑھانے میں صرف کریں۔ اللہ تعالی آپ سب کو اچھی دنیا اور اچھی آخرت عطا فرمائے۔
الحمدللہ میں اپنے پیرو مرشد کے حکم کا پابند ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے بیعت مجاہد ملت کے ہاتھوں میں کی اور تربیت آپ کے خلیفۂ صادق شمس العلماء مفتی نظام الدین بلیاوی ثم الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے پائی۔اور اس طرح بلاواسطہ نہ صحیح بالواسطہ آپ کا فیض مجھے خوب پہنچا ہے۔ شمس العلماء دراصل فیض العلوم میں شیخ الحدیث تھے۔مجھے احادیث کی سند بھی حضرت سے ہی حاصل ہے۔ ان کی تفہیم ضرب المثل تھی۔ ادق مضامین بھی حضرت چند لمحوں میں سمجھا دیا کرتے تھے۔ حضرت کا خصوصی نظر کرم مجھ پہ ہوا کرتی تھی اور میں حضرت کی تربیت کا اثر اپنی زندگی میں آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ میں نے آپ سے ہی درس و تدریس کے اسرار و رموز اور تعلیم و تربیت کے ہنر سیکھی ہے۔ذکر جب مشفق اساتذہ کا چھڑا ہے تو یہ بھی سچ ہے کہ جہد مسلسل کا جذبہ مجھ میں استاذ مکرم قائد اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کی حیات مبارکہ کو دیکھ کر آئی ہے۔ میں نے اب تک کی زندگی میں قائد اہلسنت کی طرح جہد مسلسل کرنے والا کسی دوسرے کو نہیں دیکھا ہے۔ خانقاہ حبیبیہ دھام نگر اڑیسہ کے موجودہ متولی و سجادہ نشیں حضرت علامہ مولانا سید غلام محمد صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی فیض العلوم میں میرے ہم سبق ساتھی تھے۔ موصوف شمس العلماء سے بہتر تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے لیے ہی فیض العلوم تشریف لائے تھے۔
مجاہد ملت اور طبقات علماء
حضور مجاہد ملت کے ہم عصر اور مابعد کے علمائے ہند کو دو طبقوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ایک علمائے کرام کا وہ طبقہ ہےجس کی نمائندگی حضور مجاہد ملت، حافظ ملت اور قائد اہل سنت وغیرہم جیسے بالغ نظر ،دوراندیش، دوررس،بلند فکروخیال کے حامل اور پوری امت مسلمہ کے لیے جذبۂ خیر سے سرشار علماء و قائدین ہیں۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی پوری امت مسلمہ کے لیے وقف کردیں۔جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف مدارس و مساجد قائم فرمائے بلکہ اسی مقدار میں اسکول، کالج، ہاسپیٹل،ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور تربیتی مراکز بھی ملک و بیرون ملک قائم کیے۔ ساتھ ہی صالح قیادت و سیاست میں اپنے انمٹ نقوش اور سنگ میل چھوڑے۔ تعمیر ملت اور تنظیم و تحریک سازی میں بنیادی اصول و قواعد متعین کیے۔قدیم صالح اور جدید نافع کے طرز پر نئے نئے پلیٹ فارم قوم و ملت کے نوجوانوں کے لیے کھولے تاکہ وہ دینی اداروں سے نکل کر اعلی عصری اداروں میں اپنی جگہ بناسکیں۔مدارس سے نکل کر یونیورسٹیوں میں جانے کے لیے مراکز قائم کیے۔دینی جلسوں کے ساتھ بوقت ضرورت سیاسی، معاشی، سماجی جلسوں میں بھی شرکت کی اور قیادت کے فرائض انجام دیے۔ حکومت وقت کے غلط اقدام پر تنقید بھی کی اور ملی حقوق کے لیے ان سے مل کر استفادہ بھی کیا جس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔
اس گروپ کے ہر عالم ایک فرد کامل تھا۔اور ان ہی عالم ربانیین کے لیے وہ فضیلتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں علماء کے تعلق سے بیان ہوے ہیں۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔
یہ نیک لوگ قوم و ملت کے لیے مشعل راہ تھے۔
اور اس طرح کے علماء آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔ جس کی مثال پروفیسر ڈاکٹر علامہ مولانا سید امین میاں برکاتی مارہروی مدظلہ العالی اور عزیزملت علامہ عبدالحفیظ سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ وغیرہ ہیں۔
دوسرا طبقہ علمائے کرام کا وہ ہے جن کے تعلق سے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ:
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے؟
کیا جانے یہ بیچارے دو رکعت کے امام!
ہم لوگ اسی گروپ میں ہیں ہماری فکر صرف اور صرف مدارس،ائمہ مساجد اور مدارس میں پڑھنے والے ملت کے وہ چار فیصد غریب بچے ہیں جن میں سے اکثر بچے درمیان میں ہی تعلیم چھوڑدیتے ہیں۔ یا نامکمل نصاب کی تکمیل کر کے پوری زندگی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور ہم انہیں کے لیے روتے رہتے ہیں۔ جب کہ وہ خود اس ناگفتہ بہ حالات سے نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم بہت محدود اور سطحی فکر کے لوگ ہیں،ہم بس دورکعت کے امام ہیں اور ہماری سوچ اسلام کے عالمگیر مزاج اور انقلابی خوبیوں سے یکسر دور ہے۔اقبال نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چہار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والوں کے بارے میں کہا تھا کہ
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد۔
جو لوگ امامت، خطابت اورمکتب کی معلمی کو چھوڑ کر دین داری کے ساتھ دیگر جائزملازمت وتجارت وغیرہ کی جانب مائل ہوتے ہیں اور اس کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔ تو وہ بالکل کامیاب بھی ہیں۔ پھر انہیں سوالی بن کر کھڑا رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس گروپ کے علماء کو بھیک کی نہیں بلکہ ایسی دستگیری کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی حالت بدل سکیں۔ اور دینداری کے ساتھ اچھی دنیا حاصل کرسکیں۔ اس ضمن میں حضور مجاہد ملت کی زندگی کا مطالعہ کریں تو انھوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور اس طبقے کو چہار دیواری سے نکال کر آفاقی وسعت فراہم کرنے میں کافی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ وہ ہمیشہ طبقۂ علماء کو خود کفیل اور خود دار