🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions زرقانی و مدارج النبوۃ میں ہے کہ خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی الله تعالی عنہا اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ وصال ۳ رمضان ۱۱ھ کو مدینۂ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔ آپ نبی علیہ الصلاۃ…
🔎 #Sacred_Traditions
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*کیا علما مال کا میل کھاتے ہیں؟*
از: *محمد نورالحسن مصباحی رضوی*
(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)
آج بڑی آسانی سے کچھ افراد عوام کو علمائے کرام سے دور کرنے کی نیت سے یہ غیر مناسب جملہ اپنے حلقۂ احباب و عقیدت منداں میں بول دیتے ہیں: "آج علما مال کا میل کھاتے ہیں؛ ان سے کیا خیر کی امید لگائی جائے؟"
اب اس جملے پر احقر راقم الحروف کے چند معروضات ہیں:
(١)کیا یہ بولنے والے افراد علم شرع سے بالکل دور ہیں؟ نہ ان کو سیرت کا علم ہے نہ حدیث کا درک؛ ورنہ ان کو اس غیر ذمہ دارانہ نامناسب جملے کی بہت سی خامیاں نظر آجاتیں۔
(٢) کہیں وہ یہودی افکار کے شکار تو نہیں ہو گئے کہ ان کامقصد مسلمانوں کو دین سے روگرداں کرناہے۔ جو بغیر عوام کو علمائے کرام سے دور کئے ممکن نہیں ہے۔ یہی ہدف موجودہ ہندی حکومت کا بھی ہے؛ جس کی خاطر کبھی انہوں نے فتؤوں کی عظمت کو تارتار کیا یا کرایا اور کبھی علماء کرام کے وقار کو مجروح کیا یا کرایا۔ یہ بالکل جگ ظاہر ہے۔
(٣) اس جملے میں علماء کرام کی کتنی بڑی گستاخی ہے جو ہر ذی شعور غیرت مند شخص کے فہم وادراک میں ہے اور ایسے چرب زباں بے ادب ملت کے ناسور نااہل فرد سے بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ عالم دین کی بے ادبی عالم ہونے کی وجہ سے کفر ہے۔ دنیاوی خصومت کی وجہ سے فسق وفجور ہے اور بلا سبب قلبی مرض باطنی خباثت ہے۔ جس پر کفر کا اندیشہ ہے۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ. ج١٠ص. ١٤٠)
ان کے بعد اب عہد رسالت کا رخ کریں کہ حضور رحمت عالم صلي الله عليه وسلم کی مقدس بارگاہ میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اکتساب علم و فیض کی خاطر حاضر رہا کرتے۔ ان کے خوردونوش کا انتظام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے صدقہ آتا تو صرف اور صرف وہ مقدس علم حاصل کرنے والے جان نثار صحابہ تناول فرماتے اور اگر کوئی ہدیہ لیکر بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوتا تو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم بھی ان کے ساتھ تناول فرماتے۔ جس پر کئی روایت شاہد ہیں؛ جو ضرورت کے وقت پیش کی جا سکتی ہیں۔ ویسے اس پر راقم الحروف کی قرآن و حدیث سے مزین ایک مدلل تقریر ہو چکی ہے اور وہ یوٹیوب پر بایں عنوان "ہم مدارس پر کیوں خرچ کریں؟" موجود ہے؛ سنی جاسکتی ہے اور حقیر بارہا اس جملے کی خامیوں پر عوام کی توجہ بیانات وغیرہ میں کراتا رہتا ہے۔ تو اب آپ فیصلہ کریں کہ اس جملہ سے کن با عظمت نفوس کی شان بالا تر میں گستاخی ہو رہی ہے۔
مزید یہ کہ بخاری شریف میں ہے حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس گوشت کے تعلق سے جو حضرت بریرہ کو صدقہ کیا گیا تھا فرمایا: هوعليها صدقة ولناهدية. یعنی بریرہ کو دینے والے نے دیا تو صدقہ دیا لیکن بریرہ اگر ہم کو دیں تو وہی گوشت ہدیہ ہو جائے گا۔ (ج:٢ص:٧٦٣.٨١٧)
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت بریرہ رضي الله عنها کو صدقہ دیا گیا
اور انہوں نے لیا بھی۔ تو کیا ان سے خیر کی امید نہیں کی جاسکتی ہے؟ جبکہ وہ صحابیہ ہیں جو خود سراپا خیر ہیں۔
تو کیا اس جملے سے ان کی شان اقدس میں گستاخی نہیں ہو رہی ہے؟ جو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم کی تکلیف واذیت کا باعث ہے۔ اور بولنے والے کے لیے سگہائے دوزخ سے بنانے کا سبب بھی۔
مزید بر آں کہ حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس کو ہدیہ کہا، بریرہ کے حضور کو دینے کے بعد
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ہدیہ میل ہے؟ تو آں جناب کہیں گے کہ نہیں
بس اسی طریقے سے مدارس میں زکات کے استعمال کا انداز ہوتا ہے کہ پہلے تملیک فقیر پھر اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے مدرسہ کو دے دے تو ہدیہ ہو جاتا ہے اور ہدیہ ہی مدرسہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جس کو میل کہنا بالکل غلط ہے۔ فرمان مصطفیٰ کی مخالفت اور اس سے بغاوت ہے۔ اور ہدیہ کی اہمیت کو کم کرنا اور اپنی جہالت کا اعلان کرناہے. والله اعلم
٢٧ فرورى ٢٠٢١ء
حسب فرمائش
اراکین و انتظامیہ مسجد اہل سنت خيرالنساء حجن رضاپوره (ماليگاؤں)
https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/
از: *محمد نورالحسن مصباحی رضوی*
(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)
آج بڑی آسانی سے کچھ افراد عوام کو علمائے کرام سے دور کرنے کی نیت سے یہ غیر مناسب جملہ اپنے حلقۂ احباب و عقیدت منداں میں بول دیتے ہیں: "آج علما مال کا میل کھاتے ہیں؛ ان سے کیا خیر کی امید لگائی جائے؟"
اب اس جملے پر احقر راقم الحروف کے چند معروضات ہیں:
(١)کیا یہ بولنے والے افراد علم شرع سے بالکل دور ہیں؟ نہ ان کو سیرت کا علم ہے نہ حدیث کا درک؛ ورنہ ان کو اس غیر ذمہ دارانہ نامناسب جملے کی بہت سی خامیاں نظر آجاتیں۔
(٢) کہیں وہ یہودی افکار کے شکار تو نہیں ہو گئے کہ ان کامقصد مسلمانوں کو دین سے روگرداں کرناہے۔ جو بغیر عوام کو علمائے کرام سے دور کئے ممکن نہیں ہے۔ یہی ہدف موجودہ ہندی حکومت کا بھی ہے؛ جس کی خاطر کبھی انہوں نے فتؤوں کی عظمت کو تارتار کیا یا کرایا اور کبھی علماء کرام کے وقار کو مجروح کیا یا کرایا۔ یہ بالکل جگ ظاہر ہے۔
(٣) اس جملے میں علماء کرام کی کتنی بڑی گستاخی ہے جو ہر ذی شعور غیرت مند شخص کے فہم وادراک میں ہے اور ایسے چرب زباں بے ادب ملت کے ناسور نااہل فرد سے بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ عالم دین کی بے ادبی عالم ہونے کی وجہ سے کفر ہے۔ دنیاوی خصومت کی وجہ سے فسق وفجور ہے اور بلا سبب قلبی مرض باطنی خباثت ہے۔ جس پر کفر کا اندیشہ ہے۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ. ج١٠ص. ١٤٠)
ان کے بعد اب عہد رسالت کا رخ کریں کہ حضور رحمت عالم صلي الله عليه وسلم کی مقدس بارگاہ میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اکتساب علم و فیض کی خاطر حاضر رہا کرتے۔ ان کے خوردونوش کا انتظام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے صدقہ آتا تو صرف اور صرف وہ مقدس علم حاصل کرنے والے جان نثار صحابہ تناول فرماتے اور اگر کوئی ہدیہ لیکر بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوتا تو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم بھی ان کے ساتھ تناول فرماتے۔ جس پر کئی روایت شاہد ہیں؛ جو ضرورت کے وقت پیش کی جا سکتی ہیں۔ ویسے اس پر راقم الحروف کی قرآن و حدیث سے مزین ایک مدلل تقریر ہو چکی ہے اور وہ یوٹیوب پر بایں عنوان "ہم مدارس پر کیوں خرچ کریں؟" موجود ہے؛ سنی جاسکتی ہے اور حقیر بارہا اس جملے کی خامیوں پر عوام کی توجہ بیانات وغیرہ میں کراتا رہتا ہے۔ تو اب آپ فیصلہ کریں کہ اس جملہ سے کن با عظمت نفوس کی شان بالا تر میں گستاخی ہو رہی ہے۔
مزید یہ کہ بخاری شریف میں ہے حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس گوشت کے تعلق سے جو حضرت بریرہ کو صدقہ کیا گیا تھا فرمایا: هوعليها صدقة ولناهدية. یعنی بریرہ کو دینے والے نے دیا تو صدقہ دیا لیکن بریرہ اگر ہم کو دیں تو وہی گوشت ہدیہ ہو جائے گا۔ (ج:٢ص:٧٦٣.٨١٧)
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت بریرہ رضي الله عنها کو صدقہ دیا گیا
اور انہوں نے لیا بھی۔ تو کیا ان سے خیر کی امید نہیں کی جاسکتی ہے؟ جبکہ وہ صحابیہ ہیں جو خود سراپا خیر ہیں۔
تو کیا اس جملے سے ان کی شان اقدس میں گستاخی نہیں ہو رہی ہے؟ جو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم کی تکلیف واذیت کا باعث ہے۔ اور بولنے والے کے لیے سگہائے دوزخ سے بنانے کا سبب بھی۔
مزید بر آں کہ حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس کو ہدیہ کہا، بریرہ کے حضور کو دینے کے بعد
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ہدیہ میل ہے؟ تو آں جناب کہیں گے کہ نہیں
بس اسی طریقے سے مدارس میں زکات کے استعمال کا انداز ہوتا ہے کہ پہلے تملیک فقیر پھر اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے مدرسہ کو دے دے تو ہدیہ ہو جاتا ہے اور ہدیہ ہی مدرسہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جس کو میل کہنا بالکل غلط ہے۔ فرمان مصطفیٰ کی مخالفت اور اس سے بغاوت ہے۔ اور ہدیہ کی اہمیت کو کم کرنا اور اپنی جہالت کا اعلان کرناہے. والله اعلم
٢٧ فرورى ٢٠٢١ء
حسب فرمائش
اراکین و انتظامیہ مسجد اہل سنت خيرالنساء حجن رضاپوره (ماليگاؤں)
https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/
کیا علما مال کا میل کھاتے ہیں؟
از: محمد نورالحسن مصباحی رضوی
(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)
https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/
از: محمد نورالحسن مصباحی رضوی
(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)
https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بات درست ہے
لیکن یہاں پر ایک بات قابل غور ہے جو میرا مشاہدہ ہے ضروری نہیں ہر کوئی متفق ہو.
صدقات و زکوٰۃ مساجد و مدارس کو دیئے جاتے ہیں اس وجہ سے بہت سے نا اہل علماء نے اپنے الگ الگ مدارس کھولے ہوئے ہیں تاکہ چندہ وصول کیا جا سکے.
اب رمضان المبارک قریب ہے.
میں آپ کو ممبئ شہر آنے کی دعوت دوں گی.
آپ آئیں اور شہر بھر میں مشاہدہ کریں.
آپ کو ہندوستان کے کونے کونے کے مدارس کے علماء سڑکوں پر گشت کرتے ملیں گے جو چندہ وصول کرتے ہیں. بالکل فقیروں والے انداز میں ہر دروازے پر دستک دے کر (معذرت)
اس طرزِ عمل نے علمائے کرام کے وقار کو خاک نشین کیا ہے.
لیکن یہاں پر ایک بات قابل غور ہے جو میرا مشاہدہ ہے ضروری نہیں ہر کوئی متفق ہو.
صدقات و زکوٰۃ مساجد و مدارس کو دیئے جاتے ہیں اس وجہ سے بہت سے نا اہل علماء نے اپنے الگ الگ مدارس کھولے ہوئے ہیں تاکہ چندہ وصول کیا جا سکے.
اب رمضان المبارک قریب ہے.
میں آپ کو ممبئ شہر آنے کی دعوت دوں گی.
آپ آئیں اور شہر بھر میں مشاہدہ کریں.
آپ کو ہندوستان کے کونے کونے کے مدارس کے علماء سڑکوں پر گشت کرتے ملیں گے جو چندہ وصول کرتے ہیں. بالکل فقیروں والے انداز میں ہر دروازے پر دستک دے کر (معذرت)
اس طرزِ عمل نے علمائے کرام کے وقار کو خاک نشین کیا ہے.
زکوۃ نکالنا لوگوں کی ضرورت ہے.
اور لوگوں کو خود چل کر مسجد و مدرسے میں جانا چاہیے اپنی زکوۃ دینے یا صدقہ دینے
مگر یہاں معاملہ ہی الٹ ہے.
ہر آدھے گھنٹے پر دستک ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے دور دراز سے صرف چندہ مانگنے کی غرض سے تشریف آوری ہوئی ہے.
ہر گلی کوچے میں الگ مدرسہ پھر ان کا الگ چندہ
علمائے کرام کو یوں دروازوں پر ہاتھ پھیلانے کا کام دینا علماء کرام کے وقار کو کم کرنا ہے
آج عوام کی زبان دراز ہوئی ہے اس معاملے میں تو قصور وار منتظمین ہیں جو علماء کو اس قسم کا کام کرنے کہتے ہیں.
اور علماء بھی ہیں جو ایسا کام کرتے ہیں.
اور لوگوں کو خود چل کر مسجد و مدرسے میں جانا چاہیے اپنی زکوۃ دینے یا صدقہ دینے
مگر یہاں معاملہ ہی الٹ ہے.
ہر آدھے گھنٹے پر دستک ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے دور دراز سے صرف چندہ مانگنے کی غرض سے تشریف آوری ہوئی ہے.
ہر گلی کوچے میں الگ مدرسہ پھر ان کا الگ چندہ
علمائے کرام کو یوں دروازوں پر ہاتھ پھیلانے کا کام دینا علماء کرام کے وقار کو کم کرنا ہے
آج عوام کی زبان دراز ہوئی ہے اس معاملے میں تو قصور وار منتظمین ہیں جو علماء کو اس قسم کا کام کرنے کہتے ہیں.
اور علماء بھی ہیں جو ایسا کام کرتے ہیں.
ایک بات کہہ دوں
کہ لوگ اگر چندہ دے رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ علمائے کرام کے)ظاہری حلیے کا احترام کرتے ہوئے دے رہے ہیں
ورنہ لوگوں کو کیا پتہ کہ یوپی بہار میں کتنے گاوں ہیں اور کس گاؤں کے مدرسے کے نام پر سوالی کھڑا ہے.
لوگ بس علماء کرام کے ظاہری حلیے کے احترام میں بغیر تحقیق اپنی حلال کمائی دے دیتے ہیں.
لیکن اس قدر کثیر تعداد میں چندہ لینے نکلنا اور ہر آدھے گھنٹے پر کوئی نہ کوئی مدرسے کے نام پر سوالی کا موجود رہنا عوام کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرتا ہے
کیوں کہ آج کل ہر کوئی پریشان ہی ہے
کہ لوگ اگر چندہ دے رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ علمائے کرام کے)ظاہری حلیے کا احترام کرتے ہوئے دے رہے ہیں
ورنہ لوگوں کو کیا پتہ کہ یوپی بہار میں کتنے گاوں ہیں اور کس گاؤں کے مدرسے کے نام پر سوالی کھڑا ہے.
لوگ بس علماء کرام کے ظاہری حلیے کے احترام میں بغیر تحقیق اپنی حلال کمائی دے دیتے ہیں.
لیکن اس قدر کثیر تعداد میں چندہ لینے نکلنا اور ہر آدھے گھنٹے پر کوئی نہ کوئی مدرسے کے نام پر سوالی کا موجود رہنا عوام کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرتا ہے
کیوں کہ آج کل ہر کوئی پریشان ہی ہے
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
*کیا علما مال کا میل کھاتے ہیں؟* از: *محمد نورالحسن مصباحی رضوی* (ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ، مالیگاؤں ضلع ناسک) آج بڑی آسانی سے کچھ افراد عوام کو علمائے کرام سے دور کرنے کی نیت سے یہ غیر مناسب…
اِس پوسٹ پر عروہ فاطمہ کے کمنٹس
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌸 اہل علم کے لیے نکتہ 🌸
کسی امام سے منسوب کسی مسئلے کا ایک یا ہزار کتاب میں پایا جانا اِس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ یہ واقعی اُنھی کا قول ہے —
( الابریز من کلام سیدی عبدالعزیز ، ص 430 ، دارصادر بیروت )
ہمارے وہ خطبا و واعظین جو " ہربات پر " ، یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں کتاب میں ہے ، فلاں فلاں نے لکھا ہے ؛ اُنھیں اِس سے سبق حاصل کرنا چاہیے -
بہت ساری ایسی باتیں بھی ہیں جو بہت ساری کتابوں میں موجود ہونے کے باوجود ، وجود نہیں رکھتیں ؛ اِس لیے علم وتحقیق کا دامن تھامے رکھنے ہی میں عافیت ہے -
✍: لقمان شاہد
#POST #TAHQEEQ #LUQMAN
@FaizaneAlaHazrat_Bot
https://t.me/FaizaneAlaHazrat/364864
کسی امام سے منسوب کسی مسئلے کا ایک یا ہزار کتاب میں پایا جانا اِس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ یہ واقعی اُنھی کا قول ہے —
( الابریز من کلام سیدی عبدالعزیز ، ص 430 ، دارصادر بیروت )
ہمارے وہ خطبا و واعظین جو " ہربات پر " ، یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں کتاب میں ہے ، فلاں فلاں نے لکھا ہے ؛ اُنھیں اِس سے سبق حاصل کرنا چاہیے -
بہت ساری ایسی باتیں بھی ہیں جو بہت ساری کتابوں میں موجود ہونے کے باوجود ، وجود نہیں رکھتیں ؛ اِس لیے علم وتحقیق کا دامن تھامے رکھنے ہی میں عافیت ہے -
✍: لقمان شاہد
#POST #TAHQEEQ #LUQMAN
@FaizaneAlaHazrat_Bot
https://t.me/FaizaneAlaHazrat/364864
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM