Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*مہتمم اور سفرائے مدارس سے ایک گزارش ...*
عموما چندے کا اعلان اس طرح کیا جاتا ہے:
*"مدرسے میں اتنے یتیم اور غریب بچے پڑھتے ہیں، جن کی جملہ ضروریات کا کفیل مدرسہ ہی ہوتا ہے، مدرسے کا سالانہ خرچ تقریباً ....اتنا ہےجو آپ لوگوں کے چندے سے پورا کیا جاتا ہے!لہٰذا زکوة، صدقہ، فطرہ اور امداد سے -اللہ کے لیے- مدرسے کا تعاون فرماکر ثواب دارین حاصل کریں"!!*
اب بتائیں کیا غربت کے حوالے سے اعلان کرنا مفید ہے؟؟؟
ہم اپنے مدرسوں کا اعلان شان بے نیازی کے ساتھ یوں کیوں نہیں کرتے! کہ:
*"حضرات یہ مدارس دنیا میں دین و علم کی بقا و اشاعت اور مسلمانوں کی دینی و شرعی ضرورتوں کے مراکز اور سب سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی شان، بان و آن ہیں؛ چنانچہ مدارس کی بقا گویا اسلام کی بقا اور تحفظ ہے! اور مدارس کے تحفظ و بقا میں حصہ لینا اہل اسلام کی اجتماعی ذمےداری ہے!*
*لہٰذا! جس کو اسلام کی اشاعت و بقا میں حصہ لینا ہو وہ تعاون کرے"!!*
*لیکن ہمارا قدیم طرز عمل لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مدارس میں غریب اور یتیم بچے رہتے ہیں جو ہماری زکوة اور صدقات پر پلتے ہیں؛ پھر اس سے یہ ذہنیت پروان چڑھتی ہے کہ مدارس مالداروں کے بچوں کے لیے نہیں.. اور مدرسے میں اپنے بچے کو بھیجنا ایک امیر کبیر اپنی توہین سمجھتا ہے...*
اس لیے خدارا! ہم اپنی روش کو بدلیں اور استغناء کے ساتھ اعلان کریں کہ مدرسہ محتاج نہیں؛ بلکہ ہم ضرورت مند ہیں اللہ کو راضی کرنے کے..اس لئے جس کو اللہ کی رضا اور اسلام کی حفاظت مطلوب ہو وہ چندہ دے...اس طرح دین کی بھی شان ہے اور مدارس کی اہمیت بھی لوگوں کے اندر ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ چندہ بھی زیادہ ہوگا... بہت سے سفراء جو بڑی شان بے نیازی کے ساتھ اعلان و اطلاع کرتے ہیں ان کا چندہ ان سفرا سے زیادہ ہوتا ہے جو چاپلوسی کے انداز میں اعلان کرتے ہی
منقول ازاہل العقول ایں اصول یکے از ہشتگانہ اصول۔
عموما چندے کا اعلان اس طرح کیا جاتا ہے:
*"مدرسے میں اتنے یتیم اور غریب بچے پڑھتے ہیں، جن کی جملہ ضروریات کا کفیل مدرسہ ہی ہوتا ہے، مدرسے کا سالانہ خرچ تقریباً ....اتنا ہےجو آپ لوگوں کے چندے سے پورا کیا جاتا ہے!لہٰذا زکوة، صدقہ، فطرہ اور امداد سے -اللہ کے لیے- مدرسے کا تعاون فرماکر ثواب دارین حاصل کریں"!!*
اب بتائیں کیا غربت کے حوالے سے اعلان کرنا مفید ہے؟؟؟
ہم اپنے مدرسوں کا اعلان شان بے نیازی کے ساتھ یوں کیوں نہیں کرتے! کہ:
*"حضرات یہ مدارس دنیا میں دین و علم کی بقا و اشاعت اور مسلمانوں کی دینی و شرعی ضرورتوں کے مراکز اور سب سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی شان، بان و آن ہیں؛ چنانچہ مدارس کی بقا گویا اسلام کی بقا اور تحفظ ہے! اور مدارس کے تحفظ و بقا میں حصہ لینا اہل اسلام کی اجتماعی ذمےداری ہے!*
*لہٰذا! جس کو اسلام کی اشاعت و بقا میں حصہ لینا ہو وہ تعاون کرے"!!*
*لیکن ہمارا قدیم طرز عمل لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مدارس میں غریب اور یتیم بچے رہتے ہیں جو ہماری زکوة اور صدقات پر پلتے ہیں؛ پھر اس سے یہ ذہنیت پروان چڑھتی ہے کہ مدارس مالداروں کے بچوں کے لیے نہیں.. اور مدرسے میں اپنے بچے کو بھیجنا ایک امیر کبیر اپنی توہین سمجھتا ہے...*
اس لیے خدارا! ہم اپنی روش کو بدلیں اور استغناء کے ساتھ اعلان کریں کہ مدرسہ محتاج نہیں؛ بلکہ ہم ضرورت مند ہیں اللہ کو راضی کرنے کے..اس لئے جس کو اللہ کی رضا اور اسلام کی حفاظت مطلوب ہو وہ چندہ دے...اس طرح دین کی بھی شان ہے اور مدارس کی اہمیت بھی لوگوں کے اندر ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ چندہ بھی زیادہ ہوگا... بہت سے سفراء جو بڑی شان بے نیازی کے ساتھ اعلان و اطلاع کرتے ہیں ان کا چندہ ان سفرا سے زیادہ ہوتا ہے جو چاپلوسی کے انداز میں اعلان کرتے ہی
منقول ازاہل العقول ایں اصول یکے از ہشتگانہ اصول۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وَتِلۡكَ الۡاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ النَّاسِۚ وَلِيَـعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَيَتَّخِذَ مِنۡكُمۡ شُهَدَآءَؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَۙ
"اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ کر الگ کرلے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبۂ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔"
القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 140
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/971617353415834/
"اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ کر الگ کرلے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبۂ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔"
القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 140
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/971617353415834/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🇹🇷🌼 اربعین امام حسین 🌼🇹🇷
سیدنا امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کے فضائل و شمائل، محاسن ومحامد اور مناقب ومفاخر تو ہم خطبا و فضلا کی زبانی سے سنتے رہتے ہیں، آئیے ذرا شہید کربلا کی تعلیمات و ہدایات بھی دیکھیں، اور وہ مرویات بھی پڑھیں جو انھوں نے اپنے نانا جان علیہ السلام سے کی ہیں، یہ ایک بڑا انوکھا و دلچسپ موضوع تھا، اور میرے محدود مطالعے کی حد تک متقدمین و متاخرین میں اس پر باضابطہ کوئی کام نہیں ملتا، یہ جمع وترتیب اس ہیچمداں کےلیے خالص فضل ربی اور فیض حسینی ہے۔ رب کریم جسے چاہتا ہے عزت وشرف عطا فرماتا ہے اور اس کی کرم نوازی کی کوئی انتہا نہیں۔
اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہماری معلومات امام حسین کی متنوع مساعی اور ہمہ گیر خدمات کے حوالے سے نا کے برابر ہیں، ہم نے امام کے ساتھ صرف معرکہ کربلا کو جانا ہے اور بس (یقینا تاریخ حق وباطل کا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا) لیکن یہی سب کچھ نہیں، اس کے علاوہ بھی امام حسین کی زندگی میں امت مسلمہ کےلیے بہت کچھ ہے اور امام پاک کی دلچسپیوں کے ابھی بہت سے میدان ہیں جن کی طرف ہمارے ارباب علم وتحقیق کو توجہ دینی چاہیے۔
نوٹ: چند روز قبل امام پاک پر شیئر کی گیا مضمون اسی کتاب کا مقدمہ تھا۔
اللہ جل مجدہ ہمیں حسینی کردار اپنانے اور یزیدی افکار سے گلوخلاصی پانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ طہ ویس صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
🇹🇷چریاکوٹی 🇹🇷
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4447497038646404/
سیدنا امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کے فضائل و شمائل، محاسن ومحامد اور مناقب ومفاخر تو ہم خطبا و فضلا کی زبانی سے سنتے رہتے ہیں، آئیے ذرا شہید کربلا کی تعلیمات و ہدایات بھی دیکھیں، اور وہ مرویات بھی پڑھیں جو انھوں نے اپنے نانا جان علیہ السلام سے کی ہیں، یہ ایک بڑا انوکھا و دلچسپ موضوع تھا، اور میرے محدود مطالعے کی حد تک متقدمین و متاخرین میں اس پر باضابطہ کوئی کام نہیں ملتا، یہ جمع وترتیب اس ہیچمداں کےلیے خالص فضل ربی اور فیض حسینی ہے۔ رب کریم جسے چاہتا ہے عزت وشرف عطا فرماتا ہے اور اس کی کرم نوازی کی کوئی انتہا نہیں۔
اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہماری معلومات امام حسین کی متنوع مساعی اور ہمہ گیر خدمات کے حوالے سے نا کے برابر ہیں، ہم نے امام کے ساتھ صرف معرکہ کربلا کو جانا ہے اور بس (یقینا تاریخ حق وباطل کا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا) لیکن یہی سب کچھ نہیں، اس کے علاوہ بھی امام حسین کی زندگی میں امت مسلمہ کےلیے بہت کچھ ہے اور امام پاک کی دلچسپیوں کے ابھی بہت سے میدان ہیں جن کی طرف ہمارے ارباب علم وتحقیق کو توجہ دینی چاہیے۔
نوٹ: چند روز قبل امام پاک پر شیئر کی گیا مضمون اسی کتاب کا مقدمہ تھا۔
اللہ جل مجدہ ہمیں حسینی کردار اپنانے اور یزیدی افکار سے گلوخلاصی پانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ طہ ویس صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
🇹🇷چریاکوٹی 🇹🇷
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4447497038646404/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions زرقانی و مدارج النبوۃ میں ہے کہ خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی الله تعالی عنہا اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ وصال ۳ رمضان ۱۱ھ کو مدینۂ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔ آپ نبی علیہ الصلاۃ…
🔎 #Sacred_Traditions
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*کیا علما مال کا میل کھاتے ہیں؟*
از: *محمد نورالحسن مصباحی رضوی*
(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)
آج بڑی آسانی سے کچھ افراد عوام کو علمائے کرام سے دور کرنے کی نیت سے یہ غیر مناسب جملہ اپنے حلقۂ احباب و عقیدت منداں میں بول دیتے ہیں: "آج علما مال کا میل کھاتے ہیں؛ ان سے کیا خیر کی امید لگائی جائے؟"
اب اس جملے پر احقر راقم الحروف کے چند معروضات ہیں:
(١)کیا یہ بولنے والے افراد علم شرع سے بالکل دور ہیں؟ نہ ان کو سیرت کا علم ہے نہ حدیث کا درک؛ ورنہ ان کو اس غیر ذمہ دارانہ نامناسب جملے کی بہت سی خامیاں نظر آجاتیں۔
(٢) کہیں وہ یہودی افکار کے شکار تو نہیں ہو گئے کہ ان کامقصد مسلمانوں کو دین سے روگرداں کرناہے۔ جو بغیر عوام کو علمائے کرام سے دور کئے ممکن نہیں ہے۔ یہی ہدف موجودہ ہندی حکومت کا بھی ہے؛ جس کی خاطر کبھی انہوں نے فتؤوں کی عظمت کو تارتار کیا یا کرایا اور کبھی علماء کرام کے وقار کو مجروح کیا یا کرایا۔ یہ بالکل جگ ظاہر ہے۔
(٣) اس جملے میں علماء کرام کی کتنی بڑی گستاخی ہے جو ہر ذی شعور غیرت مند شخص کے فہم وادراک میں ہے اور ایسے چرب زباں بے ادب ملت کے ناسور نااہل فرد سے بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ عالم دین کی بے ادبی عالم ہونے کی وجہ سے کفر ہے۔ دنیاوی خصومت کی وجہ سے فسق وفجور ہے اور بلا سبب قلبی مرض باطنی خباثت ہے۔ جس پر کفر کا اندیشہ ہے۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ. ج١٠ص. ١٤٠)
ان کے بعد اب عہد رسالت کا رخ کریں کہ حضور رحمت عالم صلي الله عليه وسلم کی مقدس بارگاہ میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اکتساب علم و فیض کی خاطر حاضر رہا کرتے۔ ان کے خوردونوش کا انتظام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے صدقہ آتا تو صرف اور صرف وہ مقدس علم حاصل کرنے والے جان نثار صحابہ تناول فرماتے اور اگر کوئی ہدیہ لیکر بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوتا تو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم بھی ان کے ساتھ تناول فرماتے۔ جس پر کئی روایت شاہد ہیں؛ جو ضرورت کے وقت پیش کی جا سکتی ہیں۔ ویسے اس پر راقم الحروف کی قرآن و حدیث سے مزین ایک مدلل تقریر ہو چکی ہے اور وہ یوٹیوب پر بایں عنوان "ہم مدارس پر کیوں خرچ کریں؟" موجود ہے؛ سنی جاسکتی ہے اور حقیر بارہا اس جملے کی خامیوں پر عوام کی توجہ بیانات وغیرہ میں کراتا رہتا ہے۔ تو اب آپ فیصلہ کریں کہ اس جملہ سے کن با عظمت نفوس کی شان بالا تر میں گستاخی ہو رہی ہے۔
مزید یہ کہ بخاری شریف میں ہے حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس گوشت کے تعلق سے جو حضرت بریرہ کو صدقہ کیا گیا تھا فرمایا: هوعليها صدقة ولناهدية. یعنی بریرہ کو دینے والے نے دیا تو صدقہ دیا لیکن بریرہ اگر ہم کو دیں تو وہی گوشت ہدیہ ہو جائے گا۔ (ج:٢ص:٧٦٣.٨١٧)
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت بریرہ رضي الله عنها کو صدقہ دیا گیا
اور انہوں نے لیا بھی۔ تو کیا ان سے خیر کی امید نہیں کی جاسکتی ہے؟ جبکہ وہ صحابیہ ہیں جو خود سراپا خیر ہیں۔
تو کیا اس جملے سے ان کی شان اقدس میں گستاخی نہیں ہو رہی ہے؟ جو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم کی تکلیف واذیت کا باعث ہے۔ اور بولنے والے کے لیے سگہائے دوزخ سے بنانے کا سبب بھی۔
مزید بر آں کہ حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس کو ہدیہ کہا، بریرہ کے حضور کو دینے کے بعد
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ہدیہ میل ہے؟ تو آں جناب کہیں گے کہ نہیں
بس اسی طریقے سے مدارس میں زکات کے استعمال کا انداز ہوتا ہے کہ پہلے تملیک فقیر پھر اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے مدرسہ کو دے دے تو ہدیہ ہو جاتا ہے اور ہدیہ ہی مدرسہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جس کو میل کہنا بالکل غلط ہے۔ فرمان مصطفیٰ کی مخالفت اور اس سے بغاوت ہے۔ اور ہدیہ کی اہمیت کو کم کرنا اور اپنی جہالت کا اعلان کرناہے. والله اعلم
٢٧ فرورى ٢٠٢١ء
حسب فرمائش
اراکین و انتظامیہ مسجد اہل سنت خيرالنساء حجن رضاپوره (ماليگاؤں)
https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/
از: *محمد نورالحسن مصباحی رضوی*
(ضلعی صدر تحریکِ فروغ اسلام،سربراہ ادارہ اصحاب صفہ،صدر المدرسین دارالعلوم سیدناامیر حمزہ،
مالیگاؤں ضلع ناسک)
آج بڑی آسانی سے کچھ افراد عوام کو علمائے کرام سے دور کرنے کی نیت سے یہ غیر مناسب جملہ اپنے حلقۂ احباب و عقیدت منداں میں بول دیتے ہیں: "آج علما مال کا میل کھاتے ہیں؛ ان سے کیا خیر کی امید لگائی جائے؟"
اب اس جملے پر احقر راقم الحروف کے چند معروضات ہیں:
(١)کیا یہ بولنے والے افراد علم شرع سے بالکل دور ہیں؟ نہ ان کو سیرت کا علم ہے نہ حدیث کا درک؛ ورنہ ان کو اس غیر ذمہ دارانہ نامناسب جملے کی بہت سی خامیاں نظر آجاتیں۔
(٢) کہیں وہ یہودی افکار کے شکار تو نہیں ہو گئے کہ ان کامقصد مسلمانوں کو دین سے روگرداں کرناہے۔ جو بغیر عوام کو علمائے کرام سے دور کئے ممکن نہیں ہے۔ یہی ہدف موجودہ ہندی حکومت کا بھی ہے؛ جس کی خاطر کبھی انہوں نے فتؤوں کی عظمت کو تارتار کیا یا کرایا اور کبھی علماء کرام کے وقار کو مجروح کیا یا کرایا۔ یہ بالکل جگ ظاہر ہے۔
(٣) اس جملے میں علماء کرام کی کتنی بڑی گستاخی ہے جو ہر ذی شعور غیرت مند شخص کے فہم وادراک میں ہے اور ایسے چرب زباں بے ادب ملت کے ناسور نااہل فرد سے بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ عالم دین کی بے ادبی عالم ہونے کی وجہ سے کفر ہے۔ دنیاوی خصومت کی وجہ سے فسق وفجور ہے اور بلا سبب قلبی مرض باطنی خباثت ہے۔ جس پر کفر کا اندیشہ ہے۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ. ج١٠ص. ١٤٠)
ان کے بعد اب عہد رسالت کا رخ کریں کہ حضور رحمت عالم صلي الله عليه وسلم کی مقدس بارگاہ میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اکتساب علم و فیض کی خاطر حاضر رہا کرتے۔ ان کے خوردونوش کا انتظام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے صدقہ آتا تو صرف اور صرف وہ مقدس علم حاصل کرنے والے جان نثار صحابہ تناول فرماتے اور اگر کوئی ہدیہ لیکر بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوتا تو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم بھی ان کے ساتھ تناول فرماتے۔ جس پر کئی روایت شاہد ہیں؛ جو ضرورت کے وقت پیش کی جا سکتی ہیں۔ ویسے اس پر راقم الحروف کی قرآن و حدیث سے مزین ایک مدلل تقریر ہو چکی ہے اور وہ یوٹیوب پر بایں عنوان "ہم مدارس پر کیوں خرچ کریں؟" موجود ہے؛ سنی جاسکتی ہے اور حقیر بارہا اس جملے کی خامیوں پر عوام کی توجہ بیانات وغیرہ میں کراتا رہتا ہے۔ تو اب آپ فیصلہ کریں کہ اس جملہ سے کن با عظمت نفوس کی شان بالا تر میں گستاخی ہو رہی ہے۔
مزید یہ کہ بخاری شریف میں ہے حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس گوشت کے تعلق سے جو حضرت بریرہ کو صدقہ کیا گیا تھا فرمایا: هوعليها صدقة ولناهدية. یعنی بریرہ کو دینے والے نے دیا تو صدقہ دیا لیکن بریرہ اگر ہم کو دیں تو وہی گوشت ہدیہ ہو جائے گا۔ (ج:٢ص:٧٦٣.٨١٧)
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت بریرہ رضي الله عنها کو صدقہ دیا گیا
اور انہوں نے لیا بھی۔ تو کیا ان سے خیر کی امید نہیں کی جاسکتی ہے؟ جبکہ وہ صحابیہ ہیں جو خود سراپا خیر ہیں۔
تو کیا اس جملے سے ان کی شان اقدس میں گستاخی نہیں ہو رہی ہے؟ جو سرکار دو عالم صلي الله عليه وسلم کی تکلیف واذیت کا باعث ہے۔ اور بولنے والے کے لیے سگہائے دوزخ سے بنانے کا سبب بھی۔
مزید بر آں کہ حضور اکرم صلي الله عليه وسلم نے اس کو ہدیہ کہا، بریرہ کے حضور کو دینے کے بعد
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ہدیہ میل ہے؟ تو آں جناب کہیں گے کہ نہیں
بس اسی طریقے سے مدارس میں زکات کے استعمال کا انداز ہوتا ہے کہ پہلے تملیک فقیر پھر اس کے بعد وہ اپنی مرضی سے مدرسہ کو دے دے تو ہدیہ ہو جاتا ہے اور ہدیہ ہی مدرسہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جس کو میل کہنا بالکل غلط ہے۔ فرمان مصطفیٰ کی مخالفت اور اس سے بغاوت ہے۔ اور ہدیہ کی اہمیت کو کم کرنا اور اپنی جہالت کا اعلان کرناہے. والله اعلم
٢٧ فرورى ٢٠٢١ء
حسب فرمائش
اراکین و انتظامیہ مسجد اہل سنت خيرالنساء حجن رضاپوره (ماليگاؤں)
https://www.facebook.com/106076007815121/posts/245659497190104/