Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
حضرت انس کی رازداری کا اندازہ اس سے بھی لگائیں کہ آپ نے حضرت ثابت سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ۔( ایضاً)
اے ثابت! اللہ کی قسم اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا۔
یعنی حضرت انس نے بچپن کے راز کی حفاظت اخیر عمر تک فرمائی، اس طرز عمل سے آپ اندازہ لگائیں کہ رسول پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کی کیسی تربیت فرمائی اور رازداری کے تعلق سے صحابہ کرام کا مزاج ومنہج کیسا تھا۔
*ہمارا رویہ*
__ رازداری کے معاملے میں قوم مسلم نہایت کمزور اور حد درجہ لاپرواہ ہوگئی ہے۔انفرادی معاملہ ہو کہ اجتماعی، رازداری کا تصور ختم سا ہوگیا ہے۔ اس غفلت میں اوپر مذکور دونوں ہی طبقے شامل ہیں۔انسان خود اپنے راز کی حفاظت میں کمزور ثابت ہوتا ہے اور جسے راز میں شامل کیا جاتا ہے وہ پہلے والے سے چار ہاتھ آگے نکلتا ہے۔اسی بنا پر معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی معاملات مسلسل بے سمتی کے شکار ہیں۔ انفرادی معاملات میں لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ میاں بیوی اپنے ذاتی تعلقات کے راز اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو فخریہ اور مزے لے لے کر سناتے ہیں جب کہ یہ کام غفلت کے ساتھ ساتھ اعلی درجے کی بے غیرتی اور بے حیائی بھی ہے۔ لیکن جہاں رازداری کا سرے سے کوئی تصور ہی نہ ہو وہاں غیرت کا احساس پیدا بھی کیوں اور کہاں سے ہو؟
ایک شخص مجبوری میں کسی قریبی سے قرض طلب کرتا ہے، قرض تو کیا ملتا الٹے اس کی معاشی تنگ دستی کا راز سارے زمانے کو پتا چل جاتا ہے۔
ایک انسان کسی کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اپنے بیٹے/بیٹی کو کسی برائی سے روکنے کی گزارش کرتا ہے، اب تک اس کے بچے/بچیوں کے عیب پوشیدہ ہوتے ہیں مگر خیر خواہ سے کہتے ہی سارے رشتہ دار ان بچوں کے عیبوں سے واقف ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ مثالیں معاشرے کی پوری سچائی بیان کر دیتی ہیں۔انفرادی سطح پر ہمارے یہاں رازداری گزرے دنوں کی بات ہوتی جارہی ہے جس کی بنا پر سگے رشتے ناطوں میں ہر وقت بے اعتباری کا ماحول بنا رہتا ہے۔کان پر ہوا بھی سرسرا جائے تو کسی رشتہ دار کی کرتوت معلوم ہوتی ہے۔
__ رازداری کے معاملے میں اجتماعی امور میں بھی بلا کی لاپرواہی اور غفلت پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی امور تنظیم وتحریک ہو کہ دیگر معاملات، شروع ہوتے ہی ختم ہونے لگتے ہیں۔ ہر کام کی ابتدا ڈھول نگاڑے پیٹ کر کی جاتی ہے۔اسٹیج سجا کر تنظیمیں اپنے مقاصد بیان کرتی ہیں۔ میڈیا والوں کو بلا کر سارا منصوبہ اور طریقہ کار بڑی تفصیل سے بتایا جاتا ہے، اس طرح آغاز سے پہلے ہی ایک ایک بات پوری دنیا کے سامنے آجاتی ہے اور کچھ ہی دنوں میں تنظیمات وتحریکات لیٹر ہیڈ تک سمٹ جاتی ہیں۔اس لیے گذشتہ 70 سالوں میں ہماری سیکڑوں تنظیمیں بنیں اور نسیاً منسیاً ہوگئیں۔رازداری نہ برتنے کی وجہ سے اجتماعی معاملات جہاں سے شروع ہوئے اس سے چار قدم پیچھے پہنچ گئے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
سرك أسيرك فإذا تكلمت به صرت أسيره،
(ادب الدنیا والدین، للماوردی)
تمہارا راز تمہارا قیدی ہے اگر تم نے اسے ظاہر کردیا تو اب تم راز کے قیدی ہو۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے؛
القلوب أوعية ألاسرار، والشفاه أقفالها، والألسن مفاتيحها، فليحفظ كل امرى مفتاح سره.
(ادب الدنیا والدین للماوردی)
دل رازوں کا برتن ہے، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے۔لہذا ہر انسان اپنے راز کی حفاظت کرے۔
ہمارے اسلاف نے راز کی حفاظت اور رازداری برتنے کی کس قدر تاکید فرمائی ہے مگر ہمارا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ہماری تنظیمیں پہلے دن ہی اپنے راز ظاہر کرکے سب کی نگاہوں میں بھی آجاتی ہیں اور کامیابی کا راستہ بھی ہماری پہنچ سے دور ہوجاتا ہے جو تمام تر کوششوں کے بعد بھی ہماری پکڑ میں نہیں آتا۔
*کیا ان سے کچھ سیکھیں گے؟*
پچھلے مہینے (8جولائی 2021) کو بھارت کی سب سے بڑی اور طاقت ور تنظیم آر ایس ایس نے مستقبل کے چلینج اور موجودہ مشکلات کے حل کے لیے پانچ روزہ میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ کی رازداری بنائے رکھنے کے لیے اسے دلّی سے سات سو کلومیٹر دور چترکوٹ (ایم پی) میں منعقد کیا۔دلی وممبئ جیسے شہر میں رازداری نہایت مشکل تھی اس لیے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک آشرم میں یہ مجلس منعقد ہوئی۔آر ایس ایس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ 13 کلومیٹر پہلے سے ہی بیرونی افراد کے لیے داخلہ بند کرا دیا تاکہ کوئی جاسوس صحافی بھی کسی صورت وہاں نہ پہنچ سکے۔
ذرا سوچیں اور ٹھنڈے دماغ سے سوچیں!
اس وقت مرکز سمیت اکثر ریاستوں میں ان کی حکومت ہے۔ایوان صدر سے ضلع انتظامیہ تک ان کا رسوخ ہے، پھر بھی وہ اس قدر رازداری کیوں برتتے ہیں؟
شاید کوئی خطرناک منصوبہ ہو۔
زیادہ تر لوگ یہی جواب دیں گے، لیکن اگر وہ کھلے عام بھی ایسا منصوبہ بنائیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟
وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ۔( ایضاً)
اے ثابت! اللہ کی قسم اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا۔
یعنی حضرت انس نے بچپن کے راز کی حفاظت اخیر عمر تک فرمائی، اس طرز عمل سے آپ اندازہ لگائیں کہ رسول پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کی کیسی تربیت فرمائی اور رازداری کے تعلق سے صحابہ کرام کا مزاج ومنہج کیسا تھا۔
*ہمارا رویہ*
__ رازداری کے معاملے میں قوم مسلم نہایت کمزور اور حد درجہ لاپرواہ ہوگئی ہے۔انفرادی معاملہ ہو کہ اجتماعی، رازداری کا تصور ختم سا ہوگیا ہے۔ اس غفلت میں اوپر مذکور دونوں ہی طبقے شامل ہیں۔انسان خود اپنے راز کی حفاظت میں کمزور ثابت ہوتا ہے اور جسے راز میں شامل کیا جاتا ہے وہ پہلے والے سے چار ہاتھ آگے نکلتا ہے۔اسی بنا پر معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی معاملات مسلسل بے سمتی کے شکار ہیں۔ انفرادی معاملات میں لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ میاں بیوی اپنے ذاتی تعلقات کے راز اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو فخریہ اور مزے لے لے کر سناتے ہیں جب کہ یہ کام غفلت کے ساتھ ساتھ اعلی درجے کی بے غیرتی اور بے حیائی بھی ہے۔ لیکن جہاں رازداری کا سرے سے کوئی تصور ہی نہ ہو وہاں غیرت کا احساس پیدا بھی کیوں اور کہاں سے ہو؟
ایک شخص مجبوری میں کسی قریبی سے قرض طلب کرتا ہے، قرض تو کیا ملتا الٹے اس کی معاشی تنگ دستی کا راز سارے زمانے کو پتا چل جاتا ہے۔
ایک انسان کسی کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اپنے بیٹے/بیٹی کو کسی برائی سے روکنے کی گزارش کرتا ہے، اب تک اس کے بچے/بچیوں کے عیب پوشیدہ ہوتے ہیں مگر خیر خواہ سے کہتے ہی سارے رشتہ دار ان بچوں کے عیبوں سے واقف ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ مثالیں معاشرے کی پوری سچائی بیان کر دیتی ہیں۔انفرادی سطح پر ہمارے یہاں رازداری گزرے دنوں کی بات ہوتی جارہی ہے جس کی بنا پر سگے رشتے ناطوں میں ہر وقت بے اعتباری کا ماحول بنا رہتا ہے۔کان پر ہوا بھی سرسرا جائے تو کسی رشتہ دار کی کرتوت معلوم ہوتی ہے۔
__ رازداری کے معاملے میں اجتماعی امور میں بھی بلا کی لاپرواہی اور غفلت پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی امور تنظیم وتحریک ہو کہ دیگر معاملات، شروع ہوتے ہی ختم ہونے لگتے ہیں۔ ہر کام کی ابتدا ڈھول نگاڑے پیٹ کر کی جاتی ہے۔اسٹیج سجا کر تنظیمیں اپنے مقاصد بیان کرتی ہیں۔ میڈیا والوں کو بلا کر سارا منصوبہ اور طریقہ کار بڑی تفصیل سے بتایا جاتا ہے، اس طرح آغاز سے پہلے ہی ایک ایک بات پوری دنیا کے سامنے آجاتی ہے اور کچھ ہی دنوں میں تنظیمات وتحریکات لیٹر ہیڈ تک سمٹ جاتی ہیں۔اس لیے گذشتہ 70 سالوں میں ہماری سیکڑوں تنظیمیں بنیں اور نسیاً منسیاً ہوگئیں۔رازداری نہ برتنے کی وجہ سے اجتماعی معاملات جہاں سے شروع ہوئے اس سے چار قدم پیچھے پہنچ گئے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
سرك أسيرك فإذا تكلمت به صرت أسيره،
(ادب الدنیا والدین، للماوردی)
تمہارا راز تمہارا قیدی ہے اگر تم نے اسے ظاہر کردیا تو اب تم راز کے قیدی ہو۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے؛
القلوب أوعية ألاسرار، والشفاه أقفالها، والألسن مفاتيحها، فليحفظ كل امرى مفتاح سره.
(ادب الدنیا والدین للماوردی)
دل رازوں کا برتن ہے، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے۔لہذا ہر انسان اپنے راز کی حفاظت کرے۔
ہمارے اسلاف نے راز کی حفاظت اور رازداری برتنے کی کس قدر تاکید فرمائی ہے مگر ہمارا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ہماری تنظیمیں پہلے دن ہی اپنے راز ظاہر کرکے سب کی نگاہوں میں بھی آجاتی ہیں اور کامیابی کا راستہ بھی ہماری پہنچ سے دور ہوجاتا ہے جو تمام تر کوششوں کے بعد بھی ہماری پکڑ میں نہیں آتا۔
*کیا ان سے کچھ سیکھیں گے؟*
پچھلے مہینے (8جولائی 2021) کو بھارت کی سب سے بڑی اور طاقت ور تنظیم آر ایس ایس نے مستقبل کے چلینج اور موجودہ مشکلات کے حل کے لیے پانچ روزہ میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ کی رازداری بنائے رکھنے کے لیے اسے دلّی سے سات سو کلومیٹر دور چترکوٹ (ایم پی) میں منعقد کیا۔دلی وممبئ جیسے شہر میں رازداری نہایت مشکل تھی اس لیے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک آشرم میں یہ مجلس منعقد ہوئی۔آر ایس ایس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ 13 کلومیٹر پہلے سے ہی بیرونی افراد کے لیے داخلہ بند کرا دیا تاکہ کوئی جاسوس صحافی بھی کسی صورت وہاں نہ پہنچ سکے۔
ذرا سوچیں اور ٹھنڈے دماغ سے سوچیں!
اس وقت مرکز سمیت اکثر ریاستوں میں ان کی حکومت ہے۔ایوان صدر سے ضلع انتظامیہ تک ان کا رسوخ ہے، پھر بھی وہ اس قدر رازداری کیوں برتتے ہیں؟
شاید کوئی خطرناک منصوبہ ہو۔
زیادہ تر لوگ یہی جواب دیں گے، لیکن اگر وہ کھلے عام بھی ایسا منصوبہ بنائیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
آئے دن ان کے کارکنان اقلیت مخالف بیانات دیتے رہتے ہیں، دستور ہند بدلنے کی بات کرتے ہیں، مسلم کو لڑکیوں کو اٹھانے اور مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے کی بات کرتے رہتے ہیں، کیا قانون وانتظامیہ نے انہیں روکا؟
تو آر ایس ایس بھی کھلے عام ایسا منصوبہ بیان کردے تو کون روک سکتا ہے؟
صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک بیدار اور حقیقت پسند تنظیم ہے وہ جانتے ہیں کہ راز جتنا کم لوگوں کے درمیان رہے کامیابی کے امکان اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں راز جب آؤٹ ہوجائے تو تعداد یا طاقت بھی اسے کامیاب نہیں بنا سکتی کیوں کہ مقابل دفاعی تیاری شروع کر دیتا ہے، بس اسی بنیادی نکتے کے مد نظر آر ایس ایس نے رازداری کا اتنا اہتمام کیا۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم کے پاس اقتدار کی طاقت ہے وہ بنیادی اصولوں کا کتنا خیال رکھتی ہے اور ایک ہم ہیں جو ملک کی سب سے پس ماندہ اور کمزور قوم ہیں لیکن ہمارے تنظیمی اجلاس اس انداز میں ہوتے ہیں مانو ہم دور مغل میں جی رہے ہوں۔وقت رہتے ہمیں اپنے رویوں اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ زوال کا دور ختم ہو اور ہم پھر سے عظمت رفتہ حاصل کر سکیں۔
۴ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
14 اگست 2021 بروز ہفتہ
تو آر ایس ایس بھی کھلے عام ایسا منصوبہ بیان کردے تو کون روک سکتا ہے؟
صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک بیدار اور حقیقت پسند تنظیم ہے وہ جانتے ہیں کہ راز جتنا کم لوگوں کے درمیان رہے کامیابی کے امکان اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں راز جب آؤٹ ہوجائے تو تعداد یا طاقت بھی اسے کامیاب نہیں بنا سکتی کیوں کہ مقابل دفاعی تیاری شروع کر دیتا ہے، بس اسی بنیادی نکتے کے مد نظر آر ایس ایس نے رازداری کا اتنا اہتمام کیا۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم کے پاس اقتدار کی طاقت ہے وہ بنیادی اصولوں کا کتنا خیال رکھتی ہے اور ایک ہم ہیں جو ملک کی سب سے پس ماندہ اور کمزور قوم ہیں لیکن ہمارے تنظیمی اجلاس اس انداز میں ہوتے ہیں مانو ہم دور مغل میں جی رہے ہوں۔وقت رہتے ہمیں اپنے رویوں اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ زوال کا دور ختم ہو اور ہم پھر سے عظمت رفتہ حاصل کر سکیں۔
۴ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
14 اگست 2021 بروز ہفتہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*مہتمم اور سفرائے مدارس سے ایک گزارش ...*
عموما چندے کا اعلان اس طرح کیا جاتا ہے:
*"مدرسے میں اتنے یتیم اور غریب بچے پڑھتے ہیں، جن کی جملہ ضروریات کا کفیل مدرسہ ہی ہوتا ہے، مدرسے کا سالانہ خرچ تقریباً ....اتنا ہےجو آپ لوگوں کے چندے سے پورا کیا جاتا ہے!لہٰذا زکوة، صدقہ، فطرہ اور امداد سے -اللہ کے لیے- مدرسے کا تعاون فرماکر ثواب دارین حاصل کریں"!!*
اب بتائیں کیا غربت کے حوالے سے اعلان کرنا مفید ہے؟؟؟
ہم اپنے مدرسوں کا اعلان شان بے نیازی کے ساتھ یوں کیوں نہیں کرتے! کہ:
*"حضرات یہ مدارس دنیا میں دین و علم کی بقا و اشاعت اور مسلمانوں کی دینی و شرعی ضرورتوں کے مراکز اور سب سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی شان، بان و آن ہیں؛ چنانچہ مدارس کی بقا گویا اسلام کی بقا اور تحفظ ہے! اور مدارس کے تحفظ و بقا میں حصہ لینا اہل اسلام کی اجتماعی ذمےداری ہے!*
*لہٰذا! جس کو اسلام کی اشاعت و بقا میں حصہ لینا ہو وہ تعاون کرے"!!*
*لیکن ہمارا قدیم طرز عمل لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مدارس میں غریب اور یتیم بچے رہتے ہیں جو ہماری زکوة اور صدقات پر پلتے ہیں؛ پھر اس سے یہ ذہنیت پروان چڑھتی ہے کہ مدارس مالداروں کے بچوں کے لیے نہیں.. اور مدرسے میں اپنے بچے کو بھیجنا ایک امیر کبیر اپنی توہین سمجھتا ہے...*
اس لیے خدارا! ہم اپنی روش کو بدلیں اور استغناء کے ساتھ اعلان کریں کہ مدرسہ محتاج نہیں؛ بلکہ ہم ضرورت مند ہیں اللہ کو راضی کرنے کے..اس لئے جس کو اللہ کی رضا اور اسلام کی حفاظت مطلوب ہو وہ چندہ دے...اس طرح دین کی بھی شان ہے اور مدارس کی اہمیت بھی لوگوں کے اندر ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ چندہ بھی زیادہ ہوگا... بہت سے سفراء جو بڑی شان بے نیازی کے ساتھ اعلان و اطلاع کرتے ہیں ان کا چندہ ان سفرا سے زیادہ ہوتا ہے جو چاپلوسی کے انداز میں اعلان کرتے ہی
منقول ازاہل العقول ایں اصول یکے از ہشتگانہ اصول۔
عموما چندے کا اعلان اس طرح کیا جاتا ہے:
*"مدرسے میں اتنے یتیم اور غریب بچے پڑھتے ہیں، جن کی جملہ ضروریات کا کفیل مدرسہ ہی ہوتا ہے، مدرسے کا سالانہ خرچ تقریباً ....اتنا ہےجو آپ لوگوں کے چندے سے پورا کیا جاتا ہے!لہٰذا زکوة، صدقہ، فطرہ اور امداد سے -اللہ کے لیے- مدرسے کا تعاون فرماکر ثواب دارین حاصل کریں"!!*
اب بتائیں کیا غربت کے حوالے سے اعلان کرنا مفید ہے؟؟؟
ہم اپنے مدرسوں کا اعلان شان بے نیازی کے ساتھ یوں کیوں نہیں کرتے! کہ:
*"حضرات یہ مدارس دنیا میں دین و علم کی بقا و اشاعت اور مسلمانوں کی دینی و شرعی ضرورتوں کے مراکز اور سب سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی شان، بان و آن ہیں؛ چنانچہ مدارس کی بقا گویا اسلام کی بقا اور تحفظ ہے! اور مدارس کے تحفظ و بقا میں حصہ لینا اہل اسلام کی اجتماعی ذمےداری ہے!*
*لہٰذا! جس کو اسلام کی اشاعت و بقا میں حصہ لینا ہو وہ تعاون کرے"!!*
*لیکن ہمارا قدیم طرز عمل لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مدارس میں غریب اور یتیم بچے رہتے ہیں جو ہماری زکوة اور صدقات پر پلتے ہیں؛ پھر اس سے یہ ذہنیت پروان چڑھتی ہے کہ مدارس مالداروں کے بچوں کے لیے نہیں.. اور مدرسے میں اپنے بچے کو بھیجنا ایک امیر کبیر اپنی توہین سمجھتا ہے...*
اس لیے خدارا! ہم اپنی روش کو بدلیں اور استغناء کے ساتھ اعلان کریں کہ مدرسہ محتاج نہیں؛ بلکہ ہم ضرورت مند ہیں اللہ کو راضی کرنے کے..اس لئے جس کو اللہ کی رضا اور اسلام کی حفاظت مطلوب ہو وہ چندہ دے...اس طرح دین کی بھی شان ہے اور مدارس کی اہمیت بھی لوگوں کے اندر ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ چندہ بھی زیادہ ہوگا... بہت سے سفراء جو بڑی شان بے نیازی کے ساتھ اعلان و اطلاع کرتے ہیں ان کا چندہ ان سفرا سے زیادہ ہوتا ہے جو چاپلوسی کے انداز میں اعلان کرتے ہی
منقول ازاہل العقول ایں اصول یکے از ہشتگانہ اصول۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وَتِلۡكَ الۡاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ النَّاسِۚ وَلِيَـعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَيَتَّخِذَ مِنۡكُمۡ شُهَدَآءَؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَۙ
"اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ کر الگ کرلے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبۂ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔"
القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 140
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/971617353415834/
"اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ کر الگ کرلے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبۂ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔"
القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 140
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/971617353415834/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🇹🇷🌼 اربعین امام حسین 🌼🇹🇷
سیدنا امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کے فضائل و شمائل، محاسن ومحامد اور مناقب ومفاخر تو ہم خطبا و فضلا کی زبانی سے سنتے رہتے ہیں، آئیے ذرا شہید کربلا کی تعلیمات و ہدایات بھی دیکھیں، اور وہ مرویات بھی پڑھیں جو انھوں نے اپنے نانا جان علیہ السلام سے کی ہیں، یہ ایک بڑا انوکھا و دلچسپ موضوع تھا، اور میرے محدود مطالعے کی حد تک متقدمین و متاخرین میں اس پر باضابطہ کوئی کام نہیں ملتا، یہ جمع وترتیب اس ہیچمداں کےلیے خالص فضل ربی اور فیض حسینی ہے۔ رب کریم جسے چاہتا ہے عزت وشرف عطا فرماتا ہے اور اس کی کرم نوازی کی کوئی انتہا نہیں۔
اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہماری معلومات امام حسین کی متنوع مساعی اور ہمہ گیر خدمات کے حوالے سے نا کے برابر ہیں، ہم نے امام کے ساتھ صرف معرکہ کربلا کو جانا ہے اور بس (یقینا تاریخ حق وباطل کا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا) لیکن یہی سب کچھ نہیں، اس کے علاوہ بھی امام حسین کی زندگی میں امت مسلمہ کےلیے بہت کچھ ہے اور امام پاک کی دلچسپیوں کے ابھی بہت سے میدان ہیں جن کی طرف ہمارے ارباب علم وتحقیق کو توجہ دینی چاہیے۔
نوٹ: چند روز قبل امام پاک پر شیئر کی گیا مضمون اسی کتاب کا مقدمہ تھا۔
اللہ جل مجدہ ہمیں حسینی کردار اپنانے اور یزیدی افکار سے گلوخلاصی پانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ طہ ویس صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
🇹🇷چریاکوٹی 🇹🇷
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4447497038646404/
سیدنا امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کے فضائل و شمائل، محاسن ومحامد اور مناقب ومفاخر تو ہم خطبا و فضلا کی زبانی سے سنتے رہتے ہیں، آئیے ذرا شہید کربلا کی تعلیمات و ہدایات بھی دیکھیں، اور وہ مرویات بھی پڑھیں جو انھوں نے اپنے نانا جان علیہ السلام سے کی ہیں، یہ ایک بڑا انوکھا و دلچسپ موضوع تھا، اور میرے محدود مطالعے کی حد تک متقدمین و متاخرین میں اس پر باضابطہ کوئی کام نہیں ملتا، یہ جمع وترتیب اس ہیچمداں کےلیے خالص فضل ربی اور فیض حسینی ہے۔ رب کریم جسے چاہتا ہے عزت وشرف عطا فرماتا ہے اور اس کی کرم نوازی کی کوئی انتہا نہیں۔
اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہماری معلومات امام حسین کی متنوع مساعی اور ہمہ گیر خدمات کے حوالے سے نا کے برابر ہیں، ہم نے امام کے ساتھ صرف معرکہ کربلا کو جانا ہے اور بس (یقینا تاریخ حق وباطل کا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا) لیکن یہی سب کچھ نہیں، اس کے علاوہ بھی امام حسین کی زندگی میں امت مسلمہ کےلیے بہت کچھ ہے اور امام پاک کی دلچسپیوں کے ابھی بہت سے میدان ہیں جن کی طرف ہمارے ارباب علم وتحقیق کو توجہ دینی چاہیے۔
نوٹ: چند روز قبل امام پاک پر شیئر کی گیا مضمون اسی کتاب کا مقدمہ تھا۔
اللہ جل مجدہ ہمیں حسینی کردار اپنانے اور یزیدی افکار سے گلوخلاصی پانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ طہ ویس صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
🇹🇷چریاکوٹی 🇹🇷
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4447497038646404/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions زرقانی و مدارج النبوۃ میں ہے کہ خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی الله تعالی عنہا اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ وصال ۳ رمضان ۱۱ھ کو مدینۂ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔ آپ نبی علیہ الصلاۃ…
🔎 #Sacred_Traditions
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴