Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
انگریز کی مخالفت میں
*اعلیٰ حضرت کے افکار*
(یومِ آزادی کی مناسبت سے...!)
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/257023259586202/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن، مالیگاؤں]
انگریز تاجر کی حیثیت سے آئے۔ اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ ہندوستان پر قبضہ جمایا۔ مکر و فریب اور اپنے خفیہ ایجنٹوں کے ذریعے حکومت وامارت کو ہتھیایا۔ ملک کو انگریز کے دامِ فریب سے آزاد کرانے میں اولین قائدینِ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کا کردار نمایاں ہے۔ جن کی اکثریت علما و مشائخ پر مشتمل تھی۔ جن کی قیادت علامہ فضل حق خیرآبادی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی و شاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر فرما رہے تھے۔ بعد کے دور میں جن علما نے انگریز کی مخالفت میں اہم کردار ادا کیا ان میں ایک ممتاز نام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی (١٨٥٦ء/١٢٧٢ھ- ١٩٢١ء/١٣٤٠ھ) کا ہے۔ آپ کی بہت سی کتابیں اور فتاویٰ ہیں جن کے ذریعے انگریز سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ نے انگریزی تہذیب و تمدن، فرنگی فکر و خیال اور غیر اسلامی سائنسی افکار کی تردید فرمائی۔
مولانا یٰسٓ اختر مصباحی لکھتے ہیں:
’’مغربی تہذیب و تمدن، فرنگی فکر و مزاج اور غاصب انگریزوں سے نفرت و عداوت کا یہ عالم تھا کہ نہ کبھی ان کی حکمرانی تسلیم کی اور نہ ہی ان کی کسی کچہری میں گئے اور وہ بھی یہ کہہ کر کہ ’’جب میں انگریز کی حکومت ہی تسلیم نہیں کرتا تو ان کی عدالت کیا تسلیم کروں گا؟‘‘ لفافہ پر ہمیشہ اُلٹا ٹکٹ لگاتے اور کہتے کہ ’’میں نے جارج پنجم کاسر نیچا کر دیا‘‘ زندگی بھر کسی انگریز کے پاس نہیں گئے اور نہ ان سے کوئی ربط وتعلق رکھا۔‘‘ (١)
پروفیسر ابرار حسین (علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد) پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کے نام ایک مکتوب(محررہ ۵؍نومبر۱۹۸۰ء) میں تحریر فرماتے ہیں:
’’کل ایک طالب علم نے اعلیٰ حضرت کے خط کا عکس بھیجا ہے، اعلیٰ حضرت کے پتے تحریر کرنے کا انداز بڑا دل چسپ ہے اور سیاسی نظریات کی ترجمانی کرتا ہے، پتا تحریر کرتے ہوئے آپ نے -ملکہ کا سر نیچے رکھا ہے- یعنی اُلٹی طرف سے شروع کیا ہے۔‘‘
پروفیسر محمد مسعود احمد کی کتاب ’’گناہ بے گناہی‘‘ میں اعلیٰ حضرت کے ایک مکتوب کا عکس شامل ہے، جس میں ملکہ برطانیہ کا ٹکٹ اُلٹا چسپاں ہے۔ (٢)
انگریز نے فکر و نظر کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کیں۔ اعلیٰ حضرت نے جہاں اسلامی روایات کو زندہ کیا، وہیں تہذیبی و تمدنی لحاظ سے مسلم تشخص کے لیے کام کیا۔ آپ نے ہر رخ سے انگریز کی فریب کاریوں کی مخالفت کی۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ آپ نے شعار و مراسمِ شرکیہ کی بھی مذمت کی۔ اور انگریز کے ساتھ ساتھ مشرکین ھنود سے بھی مسلمانوں کو باخبر کیا۔
*مذمتِ انگریز میں افاداتِ رضویہ:*
[۱] انگریز کے عقیدۂ تثلیث سے متعلق اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: ’’نصارٰی بہ اعتبار حقیقتِ لغویہ……بلا شبہہ مشرکین ہیں کہ وہ بالقطع قائل بہ تثلیث و بُنّوت ہیں۔‘‘ (٣)
[۲] اعلیٰ حضرت انگریزی کورٹ سے رجوع کو بھی مسلمانوں کے حق میں ناروا و نقصان دہ جانتے تھے، اسی لیے فرماتے ہیں: ’’اولاً:باستثنا ان معدود(چند)باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی (مداخلت) ہو؛ اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے؛ اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے، یہ کروروں روپے جو اسٹامپ و وکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھر تباہ ہو گئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔‘‘ (٤)
[۳] مغربی مصنوعات کے مقابل مسلمانوں کی صنعت و حرفت و تجارت کے قیام کے لیے عملی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ثانیاً: اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا۔ اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے، یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانک بھر تانبا کچھ صناعی کی گڑھت کر کے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لے جائیں۔‘‘ (٥)
[۴] اعلیٰ حضرت نے سفرِجبل پور۱۹۱۹ء کے موقع پر بعد نمازِ عصر گن گیرج فیکٹری کی طرف سے انگریز کو جاتے دیکھ کر یہ جملہ ارشادفرمایا: ’’کم بخت(یعنی انگریز)بالکل بندر ہیں۔‘‘ (٦)
انگریز سے ایسی نفرت کہ ’’بندر‘‘کہہ کر اس کی ذلت فرما رہے ہیں۔
[۵] انگریز کی مخالفت کی غرض سے انگریزی زبان سیکھنے کو باعثِ اجر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ذی علم مسلمان اگر بہ نیت ردِ نصارٰی انگریزی پڑھے اجرپائے گا۔‘‘ (٧)
اعلیٰ حضرت! کافروں، مشرکوں، انگریزوں، یہودیوں، آتش پرستوں، قادیانیوں غرض کہ ہر باطل فرقے کو اسلام اور مسلمانوں کا دُشمن سمجھتے تھے۔ انتقال سے صرف ایک ماہ قبل ۲۵؍؍ محرم الحرام ۱۳۴۰ھ کو انھوں نے جو شعر ارشاد فرمایا وہ ان کے سیاسی افکار کا آئینہ دار ہے، سُنیے وہ کیا فرماتے ہیں ؎
کافر، ہر فرد و فرقہ دُشمن ما را
مرتد، مشرک، یہود و گبر و ترسا
ترجمہ: کافر بلکہ ہر فرد و فرقہ ہمارا دُشمن ہے، خواہ وہ مرتد ہو یا مشرک، یہودی ہو یا عیسائی (انگریز
*اعلیٰ حضرت کے افکار*
(یومِ آزادی کی مناسبت سے...!)
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/257023259586202/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن، مالیگاؤں]
انگریز تاجر کی حیثیت سے آئے۔ اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ ہندوستان پر قبضہ جمایا۔ مکر و فریب اور اپنے خفیہ ایجنٹوں کے ذریعے حکومت وامارت کو ہتھیایا۔ ملک کو انگریز کے دامِ فریب سے آزاد کرانے میں اولین قائدینِ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کا کردار نمایاں ہے۔ جن کی اکثریت علما و مشائخ پر مشتمل تھی۔ جن کی قیادت علامہ فضل حق خیرآبادی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی و شاہِ دہلی بہادر شاہ ظفر فرما رہے تھے۔ بعد کے دور میں جن علما نے انگریز کی مخالفت میں اہم کردار ادا کیا ان میں ایک ممتاز نام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی (١٨٥٦ء/١٢٧٢ھ- ١٩٢١ء/١٣٤٠ھ) کا ہے۔ آپ کی بہت سی کتابیں اور فتاویٰ ہیں جن کے ذریعے انگریز سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ نے انگریزی تہذیب و تمدن، فرنگی فکر و خیال اور غیر اسلامی سائنسی افکار کی تردید فرمائی۔
مولانا یٰسٓ اختر مصباحی لکھتے ہیں:
’’مغربی تہذیب و تمدن، فرنگی فکر و مزاج اور غاصب انگریزوں سے نفرت و عداوت کا یہ عالم تھا کہ نہ کبھی ان کی حکمرانی تسلیم کی اور نہ ہی ان کی کسی کچہری میں گئے اور وہ بھی یہ کہہ کر کہ ’’جب میں انگریز کی حکومت ہی تسلیم نہیں کرتا تو ان کی عدالت کیا تسلیم کروں گا؟‘‘ لفافہ پر ہمیشہ اُلٹا ٹکٹ لگاتے اور کہتے کہ ’’میں نے جارج پنجم کاسر نیچا کر دیا‘‘ زندگی بھر کسی انگریز کے پاس نہیں گئے اور نہ ان سے کوئی ربط وتعلق رکھا۔‘‘ (١)
پروفیسر ابرار حسین (علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد) پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کے نام ایک مکتوب(محررہ ۵؍نومبر۱۹۸۰ء) میں تحریر فرماتے ہیں:
’’کل ایک طالب علم نے اعلیٰ حضرت کے خط کا عکس بھیجا ہے، اعلیٰ حضرت کے پتے تحریر کرنے کا انداز بڑا دل چسپ ہے اور سیاسی نظریات کی ترجمانی کرتا ہے، پتا تحریر کرتے ہوئے آپ نے -ملکہ کا سر نیچے رکھا ہے- یعنی اُلٹی طرف سے شروع کیا ہے۔‘‘
پروفیسر محمد مسعود احمد کی کتاب ’’گناہ بے گناہی‘‘ میں اعلیٰ حضرت کے ایک مکتوب کا عکس شامل ہے، جس میں ملکہ برطانیہ کا ٹکٹ اُلٹا چسپاں ہے۔ (٢)
انگریز نے فکر و نظر کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کیں۔ اعلیٰ حضرت نے جہاں اسلامی روایات کو زندہ کیا، وہیں تہذیبی و تمدنی لحاظ سے مسلم تشخص کے لیے کام کیا۔ آپ نے ہر رخ سے انگریز کی فریب کاریوں کی مخالفت کی۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ آپ نے شعار و مراسمِ شرکیہ کی بھی مذمت کی۔ اور انگریز کے ساتھ ساتھ مشرکین ھنود سے بھی مسلمانوں کو باخبر کیا۔
*مذمتِ انگریز میں افاداتِ رضویہ:*
[۱] انگریز کے عقیدۂ تثلیث سے متعلق اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: ’’نصارٰی بہ اعتبار حقیقتِ لغویہ……بلا شبہہ مشرکین ہیں کہ وہ بالقطع قائل بہ تثلیث و بُنّوت ہیں۔‘‘ (٣)
[۲] اعلیٰ حضرت انگریزی کورٹ سے رجوع کو بھی مسلمانوں کے حق میں ناروا و نقصان دہ جانتے تھے، اسی لیے فرماتے ہیں: ’’اولاً:باستثنا ان معدود(چند)باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی (مداخلت) ہو؛ اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے؛ اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے، یہ کروروں روپے جو اسٹامپ و وکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھر تباہ ہو گئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔‘‘ (٤)
[۳] مغربی مصنوعات کے مقابل مسلمانوں کی صنعت و حرفت و تجارت کے قیام کے لیے عملی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ثانیاً: اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا۔ اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کہ کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے، یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانک بھر تانبا کچھ صناعی کی گڑھت کر کے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لے جائیں۔‘‘ (٥)
[۴] اعلیٰ حضرت نے سفرِجبل پور۱۹۱۹ء کے موقع پر بعد نمازِ عصر گن گیرج فیکٹری کی طرف سے انگریز کو جاتے دیکھ کر یہ جملہ ارشادفرمایا: ’’کم بخت(یعنی انگریز)بالکل بندر ہیں۔‘‘ (٦)
انگریز سے ایسی نفرت کہ ’’بندر‘‘کہہ کر اس کی ذلت فرما رہے ہیں۔
[۵] انگریز کی مخالفت کی غرض سے انگریزی زبان سیکھنے کو باعثِ اجر قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ذی علم مسلمان اگر بہ نیت ردِ نصارٰی انگریزی پڑھے اجرپائے گا۔‘‘ (٧)
اعلیٰ حضرت! کافروں، مشرکوں، انگریزوں، یہودیوں، آتش پرستوں، قادیانیوں غرض کہ ہر باطل فرقے کو اسلام اور مسلمانوں کا دُشمن سمجھتے تھے۔ انتقال سے صرف ایک ماہ قبل ۲۵؍؍ محرم الحرام ۱۳۴۰ھ کو انھوں نے جو شعر ارشاد فرمایا وہ ان کے سیاسی افکار کا آئینہ دار ہے، سُنیے وہ کیا فرماتے ہیں ؎
کافر، ہر فرد و فرقہ دُشمن ما را
مرتد، مشرک، یہود و گبر و ترسا
ترجمہ: کافر بلکہ ہر فرد و فرقہ ہمارا دُشمن ہے، خواہ وہ مرتد ہو یا مشرک، یہودی ہو یا عیسائی (انگریز
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
👍1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
) اور یا آتش پرست۔ (٨)
جو لوگ تحریکِ ترکِ موالات میں عدمِ شرکت کی شرعی وجہ کو غلط رنگ دیتے ہیں انھیں اعلیٰ حضرت کے اس فیصلے پر غور کرنا چاہیے:
’’موالات ہر کافر سے مطلقاً حرام ہے۔‘‘ (٩)
در حقیقت اعلیٰ حضرت چاہتے تھے کہ مسلمان انگریز کے ساتھ ہی اس کے تمدن سے بھی نفرت کریں۔ اسلامی اعتبار سے زندگی بسر کریں۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے؛ اس لیے ہنود مسلمان کے دشمن تھے اور انگریز کے دوست۔ انگریز نے بعد کے دور میں مشرکین کا ساتھ دیا جس کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کو متنازعہ بنانے کی جرأت کی جاتی ہے، مسلم کش فسادات کروائے جاتے ہیں، مشرکین! مسلمانوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ اسلامی تہذیب و شعار کی مخالفت کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت کی بصیرت نے مستقبل کے احوال کی نشاندہی کر دی تھی۔ ہم خود مسلم مخالفت کے طوفان مشاہدہ کر رہے ہیں جو انگریز کی مسلم دشمن سازش کا نتیجہ قرار دیے جا سکتے ہیں-
٭٭٭
مصادر:
(١) امام احمد رضا اور جدید افکار و تحریکات، یٰسٓ اختر مصباحی،ص۱۸۱
(٢) گناہ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد،ص۳۲۔۳۳
(٣) اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام،امام احمد رضا،ص۹
(٤) تدبیر فلاح و نجات واصلاح،امام احمد رضا،ص۱۲
(٥) تدبیر فلاح و نجات واصلاح،ص۱۲
(٦) اکرام امام احمد رضا، مولانا برہان الحق جبل پوری، مطبوعہ لاہور،ص۹۱
(٧) فتاویٰ رضویہ،امام احمد رضا، جلد دہم اول، ص۹۹
(٨) گناہ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ص۶۸
(٩) فتاویٰ رضویہ، امام احمد رضا،جلد ششم، ص۱۲
٭٭٭
جو لوگ تحریکِ ترکِ موالات میں عدمِ شرکت کی شرعی وجہ کو غلط رنگ دیتے ہیں انھیں اعلیٰ حضرت کے اس فیصلے پر غور کرنا چاہیے:
’’موالات ہر کافر سے مطلقاً حرام ہے۔‘‘ (٩)
در حقیقت اعلیٰ حضرت چاہتے تھے کہ مسلمان انگریز کے ساتھ ہی اس کے تمدن سے بھی نفرت کریں۔ اسلامی اعتبار سے زندگی بسر کریں۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے؛ اس لیے ہنود مسلمان کے دشمن تھے اور انگریز کے دوست۔ انگریز نے بعد کے دور میں مشرکین کا ساتھ دیا جس کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کو متنازعہ بنانے کی جرأت کی جاتی ہے، مسلم کش فسادات کروائے جاتے ہیں، مشرکین! مسلمانوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ اسلامی تہذیب و شعار کی مخالفت کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت کی بصیرت نے مستقبل کے احوال کی نشاندہی کر دی تھی۔ ہم خود مسلم مخالفت کے طوفان مشاہدہ کر رہے ہیں جو انگریز کی مسلم دشمن سازش کا نتیجہ قرار دیے جا سکتے ہیں-
٭٭٭
مصادر:
(١) امام احمد رضا اور جدید افکار و تحریکات، یٰسٓ اختر مصباحی،ص۱۸۱
(٢) گناہ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد،ص۳۲۔۳۳
(٣) اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام،امام احمد رضا،ص۹
(٤) تدبیر فلاح و نجات واصلاح،امام احمد رضا،ص۱۲
(٥) تدبیر فلاح و نجات واصلاح،ص۱۲
(٦) اکرام امام احمد رضا، مولانا برہان الحق جبل پوری، مطبوعہ لاہور،ص۹۱
(٧) فتاویٰ رضویہ،امام احمد رضا، جلد دہم اول، ص۹۹
(٨) گناہ بے گناہی،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ص۶۸
(٩) فتاویٰ رضویہ، امام احمد رضا،جلد ششم، ص۱۲
٭٭٭
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*رازداری کی اہمیت اور ہمارا معاشرہ*
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
مسلمانوں کے زوال میں بہت سارے اسباب وعوامل شامل ہیں۔جن میں ایک بڑا سبب رازداری سے غفلت برتنا بھی ہے۔جس کی بنا پر ہمارے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے کام متاثر ہوتے آئے ہیں۔رازداری کی اہمیت نہ سمجھنے اور اس کی حفاظت نہ کرنے کی بنا پر ہمارے زیادہ تر کام ابتدا ہی میں ناکام ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے دورِ زوال لگاتار بڑھتا ہی جارہا ہے۔ویسے تو غور وفکر کا عمل دورِ عروج میں بھی جاری رہنا چاہیے تاکہ زوال کو راہ نہ ملے، مگر زمانہ زوال میں اسبابِ زوال کی نشان دہی اور انہیں دور کرنے کی غور وفکر کرنا از حد ضروری ہے تاکہ زوال کی تاریکی ختم ہو اور عروج کا سورج طلوع ہو۔
*رازداری کی اہمیت*
_ راز کی حفاظت کسی بھی انسان/سماج اور قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتی ہے۔رسول کریم ﷺ ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس لیے آپ نے اس محاذ پر بھی امت کی بہترین رہنمائی فرمائی ہے، راز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں:
إذا حدث الرجل الحديث ثم التفت فهي أمانة.(سنن ترمذی رقم الحدیث1959)
"جب تم میں سے کوئی آدمی بات بیان کرے پھر(اسے راز میں رکھنے کے لئے) دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔"
دوسرے مقام پر یوں فرماتے ہیں:
استعينوا على قضاء حوائجكم بالكتمان فإن كل ذي نعمة محسود.
(رواہ الطبرانی فی الصحیح:943)
لوگوں سے چھپا کر اپنے مقاصد کی کامیابی پر مدد طلب کرو کیوں کہ ہر نعمت والا حسد کیا جاتا ہے۔
مذکورہ روایات میں دو اہم نکتوں کی نشان دہی کی گئی ہے؛
1- راز امانت ہے۔
2- رازداری کامیابی کی بنیاد ہے۔
پہلی روایت کا تعلق انسانوں کے اس طبقے سے ہے جس کا اپنا تو کوئی راز نہیں ہوتا لیکن اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے راز میں شریک کر لیا جاتا ہے۔اس انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ راز کو امانت سمجھے اور کسی طرح کی خیانت نہ کرے اگر خیانت کی تو دنیا میں اپنا بھرم کھوئے گا اور آخرت میں اللہ کو جواب دہ ہوگا۔
دوسری روایت کا تعلق ان انسانوں سے ہے جو کسی اہم کام کی تکمیل میں جٹے ہیں، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بنیادی مقاصد کو ہر کس وناکس سے کہتے نہ پھریں بلکہ بہ کمال حکمت مقاصد کو پوشیدہ رکھیں، پھر لوگوں سے مقاصد کے حصول کے لیے مدد طلب کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ مقاصد ظاہر ہوجانے سے سب کچھ ابتدا میں ہی ختم ہوجائے۔
_ انسانوں میں دو بنیادی طبقے پائے جاتے ہیں:
1- کام کرنے والے
2- کام نہ کرنے والے
رسول کریم ﷺ نے کام کرنے والوں کو حکم دیا کہ مقاصد کی کامیابی تک رازداری کا خصوصی اہتمام کریں، اس دوران دیگر افراد کی ضرورت پیش آئے تو ان پر ایک دم مقاصد ظاہر نہ کریں بلکہ پوشیدہ رکھیں تاکہ کامیابی کی راہ میں مشکلات نہ آئیں۔
کام نہ کرنے والوں میں دو طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں:
1- موافقت کرنے والے۔
2- مخالفت کرنے والے۔
مخالف تو خارج از بحث ہے، اسے تو سرے سے کسی راز میں شامل ہی نہ کیا جائے ہاں جس سے حمایت کی امید ہے اسے رسول کریم ﷺ نے امانت کا پابند بنایا ہے کہ جب وہ کسی راز میں شریک ہوجائے تو بہر صورت راز کی حفاظت کرے اگر ایسا نہ کیا تو وہ قیامت کے دن خیانت کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا۔
*_____ رازداری کی تربیت*
رازداری کی اہمیت پر نبی اکرم ﷺ کی تربیت وحکمت کا اندازہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے لگائیں، فرماتے ہیں:
أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ﷺ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللهِ ﷺ أَحَدًا۔
(صحيح مسلم رقم الحديث 6378)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا ، جب میں گھر پہنچا تو والدہ نے پوچھا تمھیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام سے بھیجا تھا۔انھوں نے پوچھا، وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا وہ ایک راز ہے۔میری والدہ نے کہا تم رسول اللہﷺ کا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا۔
اس روایت میں کئی چیزیں غور طلب ہیں جو مجموعی طور پر ہمارے لیے تربیت وحکمت کا بہترین خزانہ ہیں:
🔹کھیل میں مشغول بچوں سے حضور ﷺ خود سلام میں پہل فرماتے ہیں۔
🔹حضرت انس بچے ہونے کے باوجود اتنے معتمد تھے کہ حضور نے انہیں کو کام سے بھیجا۔ یہ اعتماد بلا وجہ نہیں ہوگا یقینی طور پر حضرت انس حضور کی تربیت میں ہونے کے باعث درجہ اعتماد کو پہنچے ہوں گے۔
🔹نو عمری کے باوجود حضرت انس تربیت رسالت کے باعث اتنے پختہ ہوچکے تھے کہ والدہ کو بھی راز نہیں بتایا۔
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
مسلمانوں کے زوال میں بہت سارے اسباب وعوامل شامل ہیں۔جن میں ایک بڑا سبب رازداری سے غفلت برتنا بھی ہے۔جس کی بنا پر ہمارے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے کام متاثر ہوتے آئے ہیں۔رازداری کی اہمیت نہ سمجھنے اور اس کی حفاظت نہ کرنے کی بنا پر ہمارے زیادہ تر کام ابتدا ہی میں ناکام ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے دورِ زوال لگاتار بڑھتا ہی جارہا ہے۔ویسے تو غور وفکر کا عمل دورِ عروج میں بھی جاری رہنا چاہیے تاکہ زوال کو راہ نہ ملے، مگر زمانہ زوال میں اسبابِ زوال کی نشان دہی اور انہیں دور کرنے کی غور وفکر کرنا از حد ضروری ہے تاکہ زوال کی تاریکی ختم ہو اور عروج کا سورج طلوع ہو۔
*رازداری کی اہمیت*
_ راز کی حفاظت کسی بھی انسان/سماج اور قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتی ہے۔رسول کریم ﷺ ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس لیے آپ نے اس محاذ پر بھی امت کی بہترین رہنمائی فرمائی ہے، راز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں:
إذا حدث الرجل الحديث ثم التفت فهي أمانة.(سنن ترمذی رقم الحدیث1959)
"جب تم میں سے کوئی آدمی بات بیان کرے پھر(اسے راز میں رکھنے کے لئے) دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔"
دوسرے مقام پر یوں فرماتے ہیں:
استعينوا على قضاء حوائجكم بالكتمان فإن كل ذي نعمة محسود.
(رواہ الطبرانی فی الصحیح:943)
لوگوں سے چھپا کر اپنے مقاصد کی کامیابی پر مدد طلب کرو کیوں کہ ہر نعمت والا حسد کیا جاتا ہے۔
مذکورہ روایات میں دو اہم نکتوں کی نشان دہی کی گئی ہے؛
1- راز امانت ہے۔
2- رازداری کامیابی کی بنیاد ہے۔
پہلی روایت کا تعلق انسانوں کے اس طبقے سے ہے جس کا اپنا تو کوئی راز نہیں ہوتا لیکن اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے راز میں شریک کر لیا جاتا ہے۔اس انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ راز کو امانت سمجھے اور کسی طرح کی خیانت نہ کرے اگر خیانت کی تو دنیا میں اپنا بھرم کھوئے گا اور آخرت میں اللہ کو جواب دہ ہوگا۔
دوسری روایت کا تعلق ان انسانوں سے ہے جو کسی اہم کام کی تکمیل میں جٹے ہیں، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بنیادی مقاصد کو ہر کس وناکس سے کہتے نہ پھریں بلکہ بہ کمال حکمت مقاصد کو پوشیدہ رکھیں، پھر لوگوں سے مقاصد کے حصول کے لیے مدد طلب کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ مقاصد ظاہر ہوجانے سے سب کچھ ابتدا میں ہی ختم ہوجائے۔
_ انسانوں میں دو بنیادی طبقے پائے جاتے ہیں:
1- کام کرنے والے
2- کام نہ کرنے والے
رسول کریم ﷺ نے کام کرنے والوں کو حکم دیا کہ مقاصد کی کامیابی تک رازداری کا خصوصی اہتمام کریں، اس دوران دیگر افراد کی ضرورت پیش آئے تو ان پر ایک دم مقاصد ظاہر نہ کریں بلکہ پوشیدہ رکھیں تاکہ کامیابی کی راہ میں مشکلات نہ آئیں۔
کام نہ کرنے والوں میں دو طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں:
1- موافقت کرنے والے۔
2- مخالفت کرنے والے۔
مخالف تو خارج از بحث ہے، اسے تو سرے سے کسی راز میں شامل ہی نہ کیا جائے ہاں جس سے حمایت کی امید ہے اسے رسول کریم ﷺ نے امانت کا پابند بنایا ہے کہ جب وہ کسی راز میں شریک ہوجائے تو بہر صورت راز کی حفاظت کرے اگر ایسا نہ کیا تو وہ قیامت کے دن خیانت کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا۔
*_____ رازداری کی تربیت*
رازداری کی اہمیت پر نبی اکرم ﷺ کی تربیت وحکمت کا اندازہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے لگائیں، فرماتے ہیں:
أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ﷺ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللهِ ﷺ أَحَدًا۔
(صحيح مسلم رقم الحديث 6378)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا ، جب میں گھر پہنچا تو والدہ نے پوچھا تمھیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام سے بھیجا تھا۔انھوں نے پوچھا، وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا وہ ایک راز ہے۔میری والدہ نے کہا تم رسول اللہﷺ کا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا۔
اس روایت میں کئی چیزیں غور طلب ہیں جو مجموعی طور پر ہمارے لیے تربیت وحکمت کا بہترین خزانہ ہیں:
🔹کھیل میں مشغول بچوں سے حضور ﷺ خود سلام میں پہل فرماتے ہیں۔
🔹حضرت انس بچے ہونے کے باوجود اتنے معتمد تھے کہ حضور نے انہیں کو کام سے بھیجا۔ یہ اعتماد بلا وجہ نہیں ہوگا یقینی طور پر حضرت انس حضور کی تربیت میں ہونے کے باعث درجہ اعتماد کو پہنچے ہوں گے۔
🔹نو عمری کے باوجود حضرت انس تربیت رسالت کے باعث اتنے پختہ ہوچکے تھے کہ والدہ کو بھی راز نہیں بتایا۔
👍1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
حضرت انس کی رازداری کا اندازہ اس سے بھی لگائیں کہ آپ نے حضرت ثابت سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ۔( ایضاً)
اے ثابت! اللہ کی قسم اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا۔
یعنی حضرت انس نے بچپن کے راز کی حفاظت اخیر عمر تک فرمائی، اس طرز عمل سے آپ اندازہ لگائیں کہ رسول پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کی کیسی تربیت فرمائی اور رازداری کے تعلق سے صحابہ کرام کا مزاج ومنہج کیسا تھا۔
*ہمارا رویہ*
__ رازداری کے معاملے میں قوم مسلم نہایت کمزور اور حد درجہ لاپرواہ ہوگئی ہے۔انفرادی معاملہ ہو کہ اجتماعی، رازداری کا تصور ختم سا ہوگیا ہے۔ اس غفلت میں اوپر مذکور دونوں ہی طبقے شامل ہیں۔انسان خود اپنے راز کی حفاظت میں کمزور ثابت ہوتا ہے اور جسے راز میں شامل کیا جاتا ہے وہ پہلے والے سے چار ہاتھ آگے نکلتا ہے۔اسی بنا پر معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی معاملات مسلسل بے سمتی کے شکار ہیں۔ انفرادی معاملات میں لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ میاں بیوی اپنے ذاتی تعلقات کے راز اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو فخریہ اور مزے لے لے کر سناتے ہیں جب کہ یہ کام غفلت کے ساتھ ساتھ اعلی درجے کی بے غیرتی اور بے حیائی بھی ہے۔ لیکن جہاں رازداری کا سرے سے کوئی تصور ہی نہ ہو وہاں غیرت کا احساس پیدا بھی کیوں اور کہاں سے ہو؟
ایک شخص مجبوری میں کسی قریبی سے قرض طلب کرتا ہے، قرض تو کیا ملتا الٹے اس کی معاشی تنگ دستی کا راز سارے زمانے کو پتا چل جاتا ہے۔
ایک انسان کسی کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اپنے بیٹے/بیٹی کو کسی برائی سے روکنے کی گزارش کرتا ہے، اب تک اس کے بچے/بچیوں کے عیب پوشیدہ ہوتے ہیں مگر خیر خواہ سے کہتے ہی سارے رشتہ دار ان بچوں کے عیبوں سے واقف ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ مثالیں معاشرے کی پوری سچائی بیان کر دیتی ہیں۔انفرادی سطح پر ہمارے یہاں رازداری گزرے دنوں کی بات ہوتی جارہی ہے جس کی بنا پر سگے رشتے ناطوں میں ہر وقت بے اعتباری کا ماحول بنا رہتا ہے۔کان پر ہوا بھی سرسرا جائے تو کسی رشتہ دار کی کرتوت معلوم ہوتی ہے۔
__ رازداری کے معاملے میں اجتماعی امور میں بھی بلا کی لاپرواہی اور غفلت پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی امور تنظیم وتحریک ہو کہ دیگر معاملات، شروع ہوتے ہی ختم ہونے لگتے ہیں۔ ہر کام کی ابتدا ڈھول نگاڑے پیٹ کر کی جاتی ہے۔اسٹیج سجا کر تنظیمیں اپنے مقاصد بیان کرتی ہیں۔ میڈیا والوں کو بلا کر سارا منصوبہ اور طریقہ کار بڑی تفصیل سے بتایا جاتا ہے، اس طرح آغاز سے پہلے ہی ایک ایک بات پوری دنیا کے سامنے آجاتی ہے اور کچھ ہی دنوں میں تنظیمات وتحریکات لیٹر ہیڈ تک سمٹ جاتی ہیں۔اس لیے گذشتہ 70 سالوں میں ہماری سیکڑوں تنظیمیں بنیں اور نسیاً منسیاً ہوگئیں۔رازداری نہ برتنے کی وجہ سے اجتماعی معاملات جہاں سے شروع ہوئے اس سے چار قدم پیچھے پہنچ گئے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
سرك أسيرك فإذا تكلمت به صرت أسيره،
(ادب الدنیا والدین، للماوردی)
تمہارا راز تمہارا قیدی ہے اگر تم نے اسے ظاہر کردیا تو اب تم راز کے قیدی ہو۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے؛
القلوب أوعية ألاسرار، والشفاه أقفالها، والألسن مفاتيحها، فليحفظ كل امرى مفتاح سره.
(ادب الدنیا والدین للماوردی)
دل رازوں کا برتن ہے، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے۔لہذا ہر انسان اپنے راز کی حفاظت کرے۔
ہمارے اسلاف نے راز کی حفاظت اور رازداری برتنے کی کس قدر تاکید فرمائی ہے مگر ہمارا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ہماری تنظیمیں پہلے دن ہی اپنے راز ظاہر کرکے سب کی نگاہوں میں بھی آجاتی ہیں اور کامیابی کا راستہ بھی ہماری پہنچ سے دور ہوجاتا ہے جو تمام تر کوششوں کے بعد بھی ہماری پکڑ میں نہیں آتا۔
*کیا ان سے کچھ سیکھیں گے؟*
پچھلے مہینے (8جولائی 2021) کو بھارت کی سب سے بڑی اور طاقت ور تنظیم آر ایس ایس نے مستقبل کے چلینج اور موجودہ مشکلات کے حل کے لیے پانچ روزہ میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ کی رازداری بنائے رکھنے کے لیے اسے دلّی سے سات سو کلومیٹر دور چترکوٹ (ایم پی) میں منعقد کیا۔دلی وممبئ جیسے شہر میں رازداری نہایت مشکل تھی اس لیے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک آشرم میں یہ مجلس منعقد ہوئی۔آر ایس ایس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ 13 کلومیٹر پہلے سے ہی بیرونی افراد کے لیے داخلہ بند کرا دیا تاکہ کوئی جاسوس صحافی بھی کسی صورت وہاں نہ پہنچ سکے۔
ذرا سوچیں اور ٹھنڈے دماغ سے سوچیں!
اس وقت مرکز سمیت اکثر ریاستوں میں ان کی حکومت ہے۔ایوان صدر سے ضلع انتظامیہ تک ان کا رسوخ ہے، پھر بھی وہ اس قدر رازداری کیوں برتتے ہیں؟
شاید کوئی خطرناک منصوبہ ہو۔
زیادہ تر لوگ یہی جواب دیں گے، لیکن اگر وہ کھلے عام بھی ایسا منصوبہ بنائیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟
وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ۔( ایضاً)
اے ثابت! اللہ کی قسم اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا۔
یعنی حضرت انس نے بچپن کے راز کی حفاظت اخیر عمر تک فرمائی، اس طرز عمل سے آپ اندازہ لگائیں کہ رسول پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کی کیسی تربیت فرمائی اور رازداری کے تعلق سے صحابہ کرام کا مزاج ومنہج کیسا تھا۔
*ہمارا رویہ*
__ رازداری کے معاملے میں قوم مسلم نہایت کمزور اور حد درجہ لاپرواہ ہوگئی ہے۔انفرادی معاملہ ہو کہ اجتماعی، رازداری کا تصور ختم سا ہوگیا ہے۔ اس غفلت میں اوپر مذکور دونوں ہی طبقے شامل ہیں۔انسان خود اپنے راز کی حفاظت میں کمزور ثابت ہوتا ہے اور جسے راز میں شامل کیا جاتا ہے وہ پہلے والے سے چار ہاتھ آگے نکلتا ہے۔اسی بنا پر معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی معاملات مسلسل بے سمتی کے شکار ہیں۔ انفرادی معاملات میں لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ میاں بیوی اپنے ذاتی تعلقات کے راز اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو فخریہ اور مزے لے لے کر سناتے ہیں جب کہ یہ کام غفلت کے ساتھ ساتھ اعلی درجے کی بے غیرتی اور بے حیائی بھی ہے۔ لیکن جہاں رازداری کا سرے سے کوئی تصور ہی نہ ہو وہاں غیرت کا احساس پیدا بھی کیوں اور کہاں سے ہو؟
ایک شخص مجبوری میں کسی قریبی سے قرض طلب کرتا ہے، قرض تو کیا ملتا الٹے اس کی معاشی تنگ دستی کا راز سارے زمانے کو پتا چل جاتا ہے۔
ایک انسان کسی کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اپنے بیٹے/بیٹی کو کسی برائی سے روکنے کی گزارش کرتا ہے، اب تک اس کے بچے/بچیوں کے عیب پوشیدہ ہوتے ہیں مگر خیر خواہ سے کہتے ہی سارے رشتہ دار ان بچوں کے عیبوں سے واقف ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ مثالیں معاشرے کی پوری سچائی بیان کر دیتی ہیں۔انفرادی سطح پر ہمارے یہاں رازداری گزرے دنوں کی بات ہوتی جارہی ہے جس کی بنا پر سگے رشتے ناطوں میں ہر وقت بے اعتباری کا ماحول بنا رہتا ہے۔کان پر ہوا بھی سرسرا جائے تو کسی رشتہ دار کی کرتوت معلوم ہوتی ہے۔
__ رازداری کے معاملے میں اجتماعی امور میں بھی بلا کی لاپرواہی اور غفلت پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی امور تنظیم وتحریک ہو کہ دیگر معاملات، شروع ہوتے ہی ختم ہونے لگتے ہیں۔ ہر کام کی ابتدا ڈھول نگاڑے پیٹ کر کی جاتی ہے۔اسٹیج سجا کر تنظیمیں اپنے مقاصد بیان کرتی ہیں۔ میڈیا والوں کو بلا کر سارا منصوبہ اور طریقہ کار بڑی تفصیل سے بتایا جاتا ہے، اس طرح آغاز سے پہلے ہی ایک ایک بات پوری دنیا کے سامنے آجاتی ہے اور کچھ ہی دنوں میں تنظیمات وتحریکات لیٹر ہیڈ تک سمٹ جاتی ہیں۔اس لیے گذشتہ 70 سالوں میں ہماری سیکڑوں تنظیمیں بنیں اور نسیاً منسیاً ہوگئیں۔رازداری نہ برتنے کی وجہ سے اجتماعی معاملات جہاں سے شروع ہوئے اس سے چار قدم پیچھے پہنچ گئے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
سرك أسيرك فإذا تكلمت به صرت أسيره،
(ادب الدنیا والدین، للماوردی)
تمہارا راز تمہارا قیدی ہے اگر تم نے اسے ظاہر کردیا تو اب تم راز کے قیدی ہو۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے؛
القلوب أوعية ألاسرار، والشفاه أقفالها، والألسن مفاتيحها، فليحفظ كل امرى مفتاح سره.
(ادب الدنیا والدین للماوردی)
دل رازوں کا برتن ہے، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے۔لہذا ہر انسان اپنے راز کی حفاظت کرے۔
ہمارے اسلاف نے راز کی حفاظت اور رازداری برتنے کی کس قدر تاکید فرمائی ہے مگر ہمارا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ہماری تنظیمیں پہلے دن ہی اپنے راز ظاہر کرکے سب کی نگاہوں میں بھی آجاتی ہیں اور کامیابی کا راستہ بھی ہماری پہنچ سے دور ہوجاتا ہے جو تمام تر کوششوں کے بعد بھی ہماری پکڑ میں نہیں آتا۔
*کیا ان سے کچھ سیکھیں گے؟*
پچھلے مہینے (8جولائی 2021) کو بھارت کی سب سے بڑی اور طاقت ور تنظیم آر ایس ایس نے مستقبل کے چلینج اور موجودہ مشکلات کے حل کے لیے پانچ روزہ میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ کی رازداری بنائے رکھنے کے لیے اسے دلّی سے سات سو کلومیٹر دور چترکوٹ (ایم پی) میں منعقد کیا۔دلی وممبئ جیسے شہر میں رازداری نہایت مشکل تھی اس لیے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک آشرم میں یہ مجلس منعقد ہوئی۔آر ایس ایس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ 13 کلومیٹر پہلے سے ہی بیرونی افراد کے لیے داخلہ بند کرا دیا تاکہ کوئی جاسوس صحافی بھی کسی صورت وہاں نہ پہنچ سکے۔
ذرا سوچیں اور ٹھنڈے دماغ سے سوچیں!
اس وقت مرکز سمیت اکثر ریاستوں میں ان کی حکومت ہے۔ایوان صدر سے ضلع انتظامیہ تک ان کا رسوخ ہے، پھر بھی وہ اس قدر رازداری کیوں برتتے ہیں؟
شاید کوئی خطرناک منصوبہ ہو۔
زیادہ تر لوگ یہی جواب دیں گے، لیکن اگر وہ کھلے عام بھی ایسا منصوبہ بنائیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
آئے دن ان کے کارکنان اقلیت مخالف بیانات دیتے رہتے ہیں، دستور ہند بدلنے کی بات کرتے ہیں، مسلم کو لڑکیوں کو اٹھانے اور مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے کی بات کرتے رہتے ہیں، کیا قانون وانتظامیہ نے انہیں روکا؟
تو آر ایس ایس بھی کھلے عام ایسا منصوبہ بیان کردے تو کون روک سکتا ہے؟
صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک بیدار اور حقیقت پسند تنظیم ہے وہ جانتے ہیں کہ راز جتنا کم لوگوں کے درمیان رہے کامیابی کے امکان اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں راز جب آؤٹ ہوجائے تو تعداد یا طاقت بھی اسے کامیاب نہیں بنا سکتی کیوں کہ مقابل دفاعی تیاری شروع کر دیتا ہے، بس اسی بنیادی نکتے کے مد نظر آر ایس ایس نے رازداری کا اتنا اہتمام کیا۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم کے پاس اقتدار کی طاقت ہے وہ بنیادی اصولوں کا کتنا خیال رکھتی ہے اور ایک ہم ہیں جو ملک کی سب سے پس ماندہ اور کمزور قوم ہیں لیکن ہمارے تنظیمی اجلاس اس انداز میں ہوتے ہیں مانو ہم دور مغل میں جی رہے ہوں۔وقت رہتے ہمیں اپنے رویوں اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ زوال کا دور ختم ہو اور ہم پھر سے عظمت رفتہ حاصل کر سکیں۔
۴ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
14 اگست 2021 بروز ہفتہ
تو آر ایس ایس بھی کھلے عام ایسا منصوبہ بیان کردے تو کون روک سکتا ہے؟
صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک بیدار اور حقیقت پسند تنظیم ہے وہ جانتے ہیں کہ راز جتنا کم لوگوں کے درمیان رہے کامیابی کے امکان اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں راز جب آؤٹ ہوجائے تو تعداد یا طاقت بھی اسے کامیاب نہیں بنا سکتی کیوں کہ مقابل دفاعی تیاری شروع کر دیتا ہے، بس اسی بنیادی نکتے کے مد نظر آر ایس ایس نے رازداری کا اتنا اہتمام کیا۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم کے پاس اقتدار کی طاقت ہے وہ بنیادی اصولوں کا کتنا خیال رکھتی ہے اور ایک ہم ہیں جو ملک کی سب سے پس ماندہ اور کمزور قوم ہیں لیکن ہمارے تنظیمی اجلاس اس انداز میں ہوتے ہیں مانو ہم دور مغل میں جی رہے ہوں۔وقت رہتے ہمیں اپنے رویوں اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ زوال کا دور ختم ہو اور ہم پھر سے عظمت رفتہ حاصل کر سکیں۔
۴ محرم الحرام ١۴۴٣ھ
14 اگست 2021 بروز ہفتہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*مہتمم اور سفرائے مدارس سے ایک گزارش ...*
عموما چندے کا اعلان اس طرح کیا جاتا ہے:
*"مدرسے میں اتنے یتیم اور غریب بچے پڑھتے ہیں، جن کی جملہ ضروریات کا کفیل مدرسہ ہی ہوتا ہے، مدرسے کا سالانہ خرچ تقریباً ....اتنا ہےجو آپ لوگوں کے چندے سے پورا کیا جاتا ہے!لہٰذا زکوة، صدقہ، فطرہ اور امداد سے -اللہ کے لیے- مدرسے کا تعاون فرماکر ثواب دارین حاصل کریں"!!*
اب بتائیں کیا غربت کے حوالے سے اعلان کرنا مفید ہے؟؟؟
ہم اپنے مدرسوں کا اعلان شان بے نیازی کے ساتھ یوں کیوں نہیں کرتے! کہ:
*"حضرات یہ مدارس دنیا میں دین و علم کی بقا و اشاعت اور مسلمانوں کی دینی و شرعی ضرورتوں کے مراکز اور سب سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی شان، بان و آن ہیں؛ چنانچہ مدارس کی بقا گویا اسلام کی بقا اور تحفظ ہے! اور مدارس کے تحفظ و بقا میں حصہ لینا اہل اسلام کی اجتماعی ذمےداری ہے!*
*لہٰذا! جس کو اسلام کی اشاعت و بقا میں حصہ لینا ہو وہ تعاون کرے"!!*
*لیکن ہمارا قدیم طرز عمل لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مدارس میں غریب اور یتیم بچے رہتے ہیں جو ہماری زکوة اور صدقات پر پلتے ہیں؛ پھر اس سے یہ ذہنیت پروان چڑھتی ہے کہ مدارس مالداروں کے بچوں کے لیے نہیں.. اور مدرسے میں اپنے بچے کو بھیجنا ایک امیر کبیر اپنی توہین سمجھتا ہے...*
اس لیے خدارا! ہم اپنی روش کو بدلیں اور استغناء کے ساتھ اعلان کریں کہ مدرسہ محتاج نہیں؛ بلکہ ہم ضرورت مند ہیں اللہ کو راضی کرنے کے..اس لئے جس کو اللہ کی رضا اور اسلام کی حفاظت مطلوب ہو وہ چندہ دے...اس طرح دین کی بھی شان ہے اور مدارس کی اہمیت بھی لوگوں کے اندر ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ چندہ بھی زیادہ ہوگا... بہت سے سفراء جو بڑی شان بے نیازی کے ساتھ اعلان و اطلاع کرتے ہیں ان کا چندہ ان سفرا سے زیادہ ہوتا ہے جو چاپلوسی کے انداز میں اعلان کرتے ہی
منقول ازاہل العقول ایں اصول یکے از ہشتگانہ اصول۔
عموما چندے کا اعلان اس طرح کیا جاتا ہے:
*"مدرسے میں اتنے یتیم اور غریب بچے پڑھتے ہیں، جن کی جملہ ضروریات کا کفیل مدرسہ ہی ہوتا ہے، مدرسے کا سالانہ خرچ تقریباً ....اتنا ہےجو آپ لوگوں کے چندے سے پورا کیا جاتا ہے!لہٰذا زکوة، صدقہ، فطرہ اور امداد سے -اللہ کے لیے- مدرسے کا تعاون فرماکر ثواب دارین حاصل کریں"!!*
اب بتائیں کیا غربت کے حوالے سے اعلان کرنا مفید ہے؟؟؟
ہم اپنے مدرسوں کا اعلان شان بے نیازی کے ساتھ یوں کیوں نہیں کرتے! کہ:
*"حضرات یہ مدارس دنیا میں دین و علم کی بقا و اشاعت اور مسلمانوں کی دینی و شرعی ضرورتوں کے مراکز اور سب سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی شان، بان و آن ہیں؛ چنانچہ مدارس کی بقا گویا اسلام کی بقا اور تحفظ ہے! اور مدارس کے تحفظ و بقا میں حصہ لینا اہل اسلام کی اجتماعی ذمےداری ہے!*
*لہٰذا! جس کو اسلام کی اشاعت و بقا میں حصہ لینا ہو وہ تعاون کرے"!!*
*لیکن ہمارا قدیم طرز عمل لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مدارس میں غریب اور یتیم بچے رہتے ہیں جو ہماری زکوة اور صدقات پر پلتے ہیں؛ پھر اس سے یہ ذہنیت پروان چڑھتی ہے کہ مدارس مالداروں کے بچوں کے لیے نہیں.. اور مدرسے میں اپنے بچے کو بھیجنا ایک امیر کبیر اپنی توہین سمجھتا ہے...*
اس لیے خدارا! ہم اپنی روش کو بدلیں اور استغناء کے ساتھ اعلان کریں کہ مدرسہ محتاج نہیں؛ بلکہ ہم ضرورت مند ہیں اللہ کو راضی کرنے کے..اس لئے جس کو اللہ کی رضا اور اسلام کی حفاظت مطلوب ہو وہ چندہ دے...اس طرح دین کی بھی شان ہے اور مدارس کی اہمیت بھی لوگوں کے اندر ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ چندہ بھی زیادہ ہوگا... بہت سے سفراء جو بڑی شان بے نیازی کے ساتھ اعلان و اطلاع کرتے ہیں ان کا چندہ ان سفرا سے زیادہ ہوتا ہے جو چاپلوسی کے انداز میں اعلان کرتے ہی
منقول ازاہل العقول ایں اصول یکے از ہشتگانہ اصول۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
وَتِلۡكَ الۡاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ النَّاسِۚ وَلِيَـعۡلَمَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَيَتَّخِذَ مِنۡكُمۡ شُهَدَآءَؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَۙ
"اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ کر الگ کرلے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبۂ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔"
القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 140
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/971617353415834/
"اور ہم لوگوں کے درمیان ایام (کی تنگی اور کشادگی) کو گردش دیتے رہتے ہیں تاکہ اللہ ایمان والوں کو چھانٹ کر الگ کرلے اور تم میں سے بعض لوگوں کو مرتبۂ شہادت دے اور اللہ ظلم کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔"
القرآن - سورۃ نمبر 3 آل عمران
آیت نمبر 140
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/971617353415834/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🇹🇷🌼 اربعین امام حسین 🌼🇹🇷
سیدنا امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کے فضائل و شمائل، محاسن ومحامد اور مناقب ومفاخر تو ہم خطبا و فضلا کی زبانی سے سنتے رہتے ہیں، آئیے ذرا شہید کربلا کی تعلیمات و ہدایات بھی دیکھیں، اور وہ مرویات بھی پڑھیں جو انھوں نے اپنے نانا جان علیہ السلام سے کی ہیں، یہ ایک بڑا انوکھا و دلچسپ موضوع تھا، اور میرے محدود مطالعے کی حد تک متقدمین و متاخرین میں اس پر باضابطہ کوئی کام نہیں ملتا، یہ جمع وترتیب اس ہیچمداں کےلیے خالص فضل ربی اور فیض حسینی ہے۔ رب کریم جسے چاہتا ہے عزت وشرف عطا فرماتا ہے اور اس کی کرم نوازی کی کوئی انتہا نہیں۔
اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہماری معلومات امام حسین کی متنوع مساعی اور ہمہ گیر خدمات کے حوالے سے نا کے برابر ہیں، ہم نے امام کے ساتھ صرف معرکہ کربلا کو جانا ہے اور بس (یقینا تاریخ حق وباطل کا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا) لیکن یہی سب کچھ نہیں، اس کے علاوہ بھی امام حسین کی زندگی میں امت مسلمہ کےلیے بہت کچھ ہے اور امام پاک کی دلچسپیوں کے ابھی بہت سے میدان ہیں جن کی طرف ہمارے ارباب علم وتحقیق کو توجہ دینی چاہیے۔
نوٹ: چند روز قبل امام پاک پر شیئر کی گیا مضمون اسی کتاب کا مقدمہ تھا۔
اللہ جل مجدہ ہمیں حسینی کردار اپنانے اور یزیدی افکار سے گلوخلاصی پانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ طہ ویس صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
🇹🇷چریاکوٹی 🇹🇷
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4447497038646404/
سیدنا امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کے فضائل و شمائل، محاسن ومحامد اور مناقب ومفاخر تو ہم خطبا و فضلا کی زبانی سے سنتے رہتے ہیں، آئیے ذرا شہید کربلا کی تعلیمات و ہدایات بھی دیکھیں، اور وہ مرویات بھی پڑھیں جو انھوں نے اپنے نانا جان علیہ السلام سے کی ہیں، یہ ایک بڑا انوکھا و دلچسپ موضوع تھا، اور میرے محدود مطالعے کی حد تک متقدمین و متاخرین میں اس پر باضابطہ کوئی کام نہیں ملتا، یہ جمع وترتیب اس ہیچمداں کےلیے خالص فضل ربی اور فیض حسینی ہے۔ رب کریم جسے چاہتا ہے عزت وشرف عطا فرماتا ہے اور اس کی کرم نوازی کی کوئی انتہا نہیں۔
اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہماری معلومات امام حسین کی متنوع مساعی اور ہمہ گیر خدمات کے حوالے سے نا کے برابر ہیں، ہم نے امام کے ساتھ صرف معرکہ کربلا کو جانا ہے اور بس (یقینا تاریخ حق وباطل کا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا) لیکن یہی سب کچھ نہیں، اس کے علاوہ بھی امام حسین کی زندگی میں امت مسلمہ کےلیے بہت کچھ ہے اور امام پاک کی دلچسپیوں کے ابھی بہت سے میدان ہیں جن کی طرف ہمارے ارباب علم وتحقیق کو توجہ دینی چاہیے۔
نوٹ: چند روز قبل امام پاک پر شیئر کی گیا مضمون اسی کتاب کا مقدمہ تھا۔
اللہ جل مجدہ ہمیں حسینی کردار اپنانے اور یزیدی افکار سے گلوخلاصی پانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ طہ ویس صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
🇹🇷چریاکوٹی 🇹🇷
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4447497038646404/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🔎 #Sacred_Traditions زرقانی و مدارج النبوۃ میں ہے کہ خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی الله تعالی عنہا اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل مکۂ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ وصال ۳ رمضان ۱۱ھ کو مدینۂ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔ آپ نبی علیہ الصلاۃ…
🔎 #Sacred_Traditions
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
موضوع #اہل_بیت #محرم #کربلا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁴