Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*کہیں تجارت چھوڑنا گمراہیت کا سبب تو نہیں بن گیا؟*
ہمارے آئمہ اور مقتدا دینی خدمات کے ساتھ ساتھ کاروبار، تجارت اور کام کاج میں بھی مصروف رہتے تھے،
ان میں ایک تعداد سرکاری عہدوں پر فائز ہوتی تھی، انہیں حکومت کی جانب سے وظائف مل جایا کرتے تھے.
مال و دولت کے معاملے میں بے نیاز ہونے کی بنا پر حق بولنے سے گریز کرتے اور نہ ہی دینی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوتی.
زوالِ امت کے بعد سے تاحال اتنے بند ٹوٹے کہ ایک باندھنے تک دوسرا بہا کر لے جاتا رہا.
تجارت اور کاروبار ایسا بند ہے جس کی طرف ہمارے مذہبی لوگوں نے توجہ نہ دی، تو اس کو دنیا دار طبقے نے سنبھال لیا اور مالامال ہو گئے.
ہراول دستے کے علما تو اتنے قناعت پسند تھے کہ انہوں نے روکھی سوکھی کھا کر اپنا گزرا کر لیا،
پھر زمانے نے کروٹ بدلی ایک بالشت پیٹ کے ساتھ ضروریاتِ زندگی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ اچھے خاصے پیسوں کے ساتھ ہی گزر بسر ممکن رہ سکتا تھا،
تجارت تو ویسے ہی چھوڑ چکے تھے تو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خطابت، نعت خوانی وغیرہ سے کام چلنے لگ گیا.
شروع کے بزرگ "جمع نہیں، منع نہیں اور طمع نہیں" پر عمل پیرا تھے.
لیکن اب سٹیجوں کی زینت بننے والے کثیر خطبا اور نعت خوان صرف "منع نہیں" پر عمل پیرا ہیں،
شرابیوں، زانیوں، سود خوروں، گمراہوں اور بدعقیدوں نے سوچا مال پاک کیا جائے تو انہوں نے محفلیں کروانا شروع کر دیں، جس میں نامور خطبا اور نعت خواں بلائے جانے لگے،
اب یہ ٹھرے تیز دنیا دار بندے، جب نوٹوں کی لہر سے سُر میں فرق آتا دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ بھی ہماری طرح تاجر ہی ہیں بس فرق صرف اتنا کہ یہ دین بیچتے ہیں...
تو تفضیلیوں، رافضیوں ،قادیانیوں اور گمراہوں کو موقع مل گیا.
انہوں نے پیسے کو پانی کی طرح بہایا جس میں بڑے بڑے پیر، مولوی، نعت خواں اور گویے بہتے چلے گئے..اکیلے ہی نہیں بلکہ اُن کے مریدین بھی گئے...
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبے گے.
مرید بیچارے تو نہ خدا ملا نہ وصال صنم(محبوب) کے مصداق ٹھرے مال پیر کھا گئے مریدوں کے لیے گمراہیت کی ہڈیاں رہ گئیں .
قصہ مختصر
اگر ہم نے تجارت اور کاروبار کو نہ چھوڑا ہوتا تو دین کی تجارت ہوتی، نہ نعت خواں نوٹ خوری کے چکر میں میراثی اور بھنڈ بنتے، نہ خطیب؛ تفضیلیوں کی گودیوں میں بیٹھتے، نہ امام مسجد کمیٹی کےصدر سے دبتے، نہ ہی حق بیانی میں کسی قسم کی رکاوٹ ہوتی...
فرحان رفیق قادری عفی عنہ
ہمارے آئمہ اور مقتدا دینی خدمات کے ساتھ ساتھ کاروبار، تجارت اور کام کاج میں بھی مصروف رہتے تھے،
ان میں ایک تعداد سرکاری عہدوں پر فائز ہوتی تھی، انہیں حکومت کی جانب سے وظائف مل جایا کرتے تھے.
مال و دولت کے معاملے میں بے نیاز ہونے کی بنا پر حق بولنے سے گریز کرتے اور نہ ہی دینی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوتی.
زوالِ امت کے بعد سے تاحال اتنے بند ٹوٹے کہ ایک باندھنے تک دوسرا بہا کر لے جاتا رہا.
تجارت اور کاروبار ایسا بند ہے جس کی طرف ہمارے مذہبی لوگوں نے توجہ نہ دی، تو اس کو دنیا دار طبقے نے سنبھال لیا اور مالامال ہو گئے.
ہراول دستے کے علما تو اتنے قناعت پسند تھے کہ انہوں نے روکھی سوکھی کھا کر اپنا گزرا کر لیا،
پھر زمانے نے کروٹ بدلی ایک بالشت پیٹ کے ساتھ ضروریاتِ زندگی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ اچھے خاصے پیسوں کے ساتھ ہی گزر بسر ممکن رہ سکتا تھا،
تجارت تو ویسے ہی چھوڑ چکے تھے تو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خطابت، نعت خوانی وغیرہ سے کام چلنے لگ گیا.
شروع کے بزرگ "جمع نہیں، منع نہیں اور طمع نہیں" پر عمل پیرا تھے.
لیکن اب سٹیجوں کی زینت بننے والے کثیر خطبا اور نعت خوان صرف "منع نہیں" پر عمل پیرا ہیں،
شرابیوں، زانیوں، سود خوروں، گمراہوں اور بدعقیدوں نے سوچا مال پاک کیا جائے تو انہوں نے محفلیں کروانا شروع کر دیں، جس میں نامور خطبا اور نعت خواں بلائے جانے لگے،
اب یہ ٹھرے تیز دنیا دار بندے، جب نوٹوں کی لہر سے سُر میں فرق آتا دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ بھی ہماری طرح تاجر ہی ہیں بس فرق صرف اتنا کہ یہ دین بیچتے ہیں...
تو تفضیلیوں، رافضیوں ،قادیانیوں اور گمراہوں کو موقع مل گیا.
انہوں نے پیسے کو پانی کی طرح بہایا جس میں بڑے بڑے پیر، مولوی، نعت خواں اور گویے بہتے چلے گئے..اکیلے ہی نہیں بلکہ اُن کے مریدین بھی گئے...
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبے گے.
مرید بیچارے تو نہ خدا ملا نہ وصال صنم(محبوب) کے مصداق ٹھرے مال پیر کھا گئے مریدوں کے لیے گمراہیت کی ہڈیاں رہ گئیں .
قصہ مختصر
اگر ہم نے تجارت اور کاروبار کو نہ چھوڑا ہوتا تو دین کی تجارت ہوتی، نہ نعت خواں نوٹ خوری کے چکر میں میراثی اور بھنڈ بنتے، نہ خطیب؛ تفضیلیوں کی گودیوں میں بیٹھتے، نہ امام مسجد کمیٹی کےصدر سے دبتے، نہ ہی حق بیانی میں کسی قسم کی رکاوٹ ہوتی...
فرحان رفیق قادری عفی عنہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#_منظوم_سوال_کا_منظوم_جواب ❤
مجدد مئة ماضیہ صاحب حجة القاہرہ موئد ملت طاہرہ خاتم الفقہا الشاہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں حنفی ماتریدی قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ علیہ الرحمہ سے جس زبان میں سوال ہوتا آپ اسی زبان میں جواب تحریر فرماتے عام طور پر آپ سے عربی ، فارسی ، اردو زبانوں میں سوالات کئے گئے آپ نے انہیں زبانوں میں جوابات تحریر فرمائے جن کو فتاوی رضویہ شریف میں دیکھا جا سکتا ہے نیز آپ سے شعرا حضرات نے جب منظوم سوال کئے تو آپ نے منظوم جواب ہی تحریر فرمائے --- ماشاء اللہ سبحان اللہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=860328087918743&id=100018246788149
مجدد مئة ماضیہ صاحب حجة القاہرہ موئد ملت طاہرہ خاتم الفقہا الشاہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں حنفی ماتریدی قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ علیہ الرحمہ سے جس زبان میں سوال ہوتا آپ اسی زبان میں جواب تحریر فرماتے عام طور پر آپ سے عربی ، فارسی ، اردو زبانوں میں سوالات کئے گئے آپ نے انہیں زبانوں میں جوابات تحریر فرمائے جن کو فتاوی رضویہ شریف میں دیکھا جا سکتا ہے نیز آپ سے شعرا حضرات نے جب منظوم سوال کئے تو آپ نے منظوم جواب ہی تحریر فرمائے --- ماشاء اللہ سبحان اللہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=860328087918743&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
__ تعزیت نامہ ____
آہ!مفتی محمد ادریس رضوی (بنگلہ دیش) بھی وصال فرما گئے!
✍محمد راحت خاں قادری
دار العلوم فیضان تاج الشریعہ، بریلی شریف، انڈیا
عزیزگرامی قدر حضرت مولانا محمد نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلیٰ ’’الامین باریہ درس نظامی مدرسہ‘‘ چاٹگام، بنگلہ دیش کے ذریعہ یہ دل دہلادینے والی خبر ملی کہ بنگلہ دیش کے مشہور و معروف اور معمر عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد ادریس رضوی منظری، بانی مدرسہ اسلامیہ رضویہ(سرندیپ، بوال کھالی، چاٹگام، بنگلہ دیش) طویل علالت کے بعد آج 16؍ذی الحجہ1442ھ مطابق 27؍جولائی2021ء بروز منگل اذان عصر کے وقت ہم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے کر رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
آپ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ کے قائم فرمودہ مشہور علمی ادارہ جامعہ رضویہ منظراسلام کے فارغ التحصیل، بنگلہ دیش کے نام ور اور جید عالم دین تھےسلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے عظیم بزرگ محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد رضوی علیہ الرحمہ کے شاگرد و خلیفہ تھے، آپ کا شمار شیرِ بنگلہ حضرت علامہ عزیز الحق علیہ الرحمہ کے خاص تلامذہ میں ہوتا تھا،آپ گوناگوں خوبیوں کے جامع، عالم باعمل متبع شریعت بزرگ تھے، متعدد کتابوں کے مصنف اور مختلف تنظیموں اور اداروں سے وابستہ تھے، خدائے تعالیٰ نے آپ کو عوام و خواص میں عظیم مقبولیت عطا فرمائی۔
حضرت سے میری بالمشافہہ تو ملاقات نہیں ہوسکی لیکن جب میرا قیام بنگلہ دیش میں تھا اسی وقت حضرت کی خانقاہ اور مدرسہ میں حاضری کی دعوت لے کر خود حضرت کے پوتے عزیزم محمد اکمل رضا سلمہ المنان تشریف لائے اور مجھے وہاں کے لیے مدعو کیا لیکن دوسرے دن کا میرا واپسی کا ٹکٹ تھا اس لیے میں نے اگلے سفر میں حاضری کے وعدے کے ساتھ معذرت کر لی لیکن دو سال سے عالمی وبا کورونا کی وجہ سے بنگلہ دیش حاضری ہی نہیں ہو سکی اور حضرت سے ملاقات کی خواہش ادھوری ہی رہی جس کی اب تکمیل نہیں ہوسکتی۔
آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد شعیب رضا، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ رضویہ سرندیپ، بوال کھالی جوایک جید عالم دین ہیںاعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ کے دربار میں چند سال قبل عرس رضوی کے موقع پر تشریف لائے تھے اور بریلی شریف میں راقم کے مہمان بنے تھے۔
حضرت مفتی صاحب ایک با وقارو بارعب عالم، ماہر مفتی، دلائل و براہین سے مرصع مصنف، مشفق و مہربان استاذ،رشد وہدایت سے موصوف شیخ طریقت اور مذہب اسلام کے بے مثال رہنما تھے، سادگی آپ کا حسن ذاتی اور کم گوئی زینت گفتار تھی۔ آپ اگرچہ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن آپ کی دینی و مذہبی خدمات اور آپ کے وہ شاگرد و تلامذہ جنہوں نے آپ سے علم دین حاصل کیا اور آج بنگلہ دیش کے مختلف خطوں اور گوشوں میں اس کی ترویج اشاعت میں مشغول ہیں جن کے سبب آپ صبح قیامت تک زندہ تابندہ رہیں گے۔
آپ کا وصال پر ملال عالم اسلام کے لیے عظیم خسارہ ہےخصوصاً مسلمانانِ بنگلہ دیش آج ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہوگیےخدائے تعالیٰ مسلمانوں کو حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے۔حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد شعیب رضا، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ رضویہ سرندیپ، بوال کھالی اور دیگر اہل خانہ، عزیز و اقاریب مریدین و متوسلین اور تلامذہ و معتقدین کو میں تعزیت پیش کرتا ہو خدائے تعالیٰ آپ حضرات کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرمائے۔
انَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ، وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْراً مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجَاً خَيْراً مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ ۔ آمین یا رب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
16؍ذی الحجہ1442ھ مطابق 27؍جولائی2021ء
https://www.facebook.com/186571468796775/posts/964606777659903/
آہ!مفتی محمد ادریس رضوی (بنگلہ دیش) بھی وصال فرما گئے!
✍محمد راحت خاں قادری
دار العلوم فیضان تاج الشریعہ، بریلی شریف، انڈیا
عزیزگرامی قدر حضرت مولانا محمد نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلیٰ ’’الامین باریہ درس نظامی مدرسہ‘‘ چاٹگام، بنگلہ دیش کے ذریعہ یہ دل دہلادینے والی خبر ملی کہ بنگلہ دیش کے مشہور و معروف اور معمر عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد ادریس رضوی منظری، بانی مدرسہ اسلامیہ رضویہ(سرندیپ، بوال کھالی، چاٹگام، بنگلہ دیش) طویل علالت کے بعد آج 16؍ذی الحجہ1442ھ مطابق 27؍جولائی2021ء بروز منگل اذان عصر کے وقت ہم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے کر رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
آپ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ کے قائم فرمودہ مشہور علمی ادارہ جامعہ رضویہ منظراسلام کے فارغ التحصیل، بنگلہ دیش کے نام ور اور جید عالم دین تھےسلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے عظیم بزرگ محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد رضوی علیہ الرحمہ کے شاگرد و خلیفہ تھے، آپ کا شمار شیرِ بنگلہ حضرت علامہ عزیز الحق علیہ الرحمہ کے خاص تلامذہ میں ہوتا تھا،آپ گوناگوں خوبیوں کے جامع، عالم باعمل متبع شریعت بزرگ تھے، متعدد کتابوں کے مصنف اور مختلف تنظیموں اور اداروں سے وابستہ تھے، خدائے تعالیٰ نے آپ کو عوام و خواص میں عظیم مقبولیت عطا فرمائی۔
حضرت سے میری بالمشافہہ تو ملاقات نہیں ہوسکی لیکن جب میرا قیام بنگلہ دیش میں تھا اسی وقت حضرت کی خانقاہ اور مدرسہ میں حاضری کی دعوت لے کر خود حضرت کے پوتے عزیزم محمد اکمل رضا سلمہ المنان تشریف لائے اور مجھے وہاں کے لیے مدعو کیا لیکن دوسرے دن کا میرا واپسی کا ٹکٹ تھا اس لیے میں نے اگلے سفر میں حاضری کے وعدے کے ساتھ معذرت کر لی لیکن دو سال سے عالمی وبا کورونا کی وجہ سے بنگلہ دیش حاضری ہی نہیں ہو سکی اور حضرت سے ملاقات کی خواہش ادھوری ہی رہی جس کی اب تکمیل نہیں ہوسکتی۔
آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد شعیب رضا، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ رضویہ سرندیپ، بوال کھالی جوایک جید عالم دین ہیںاعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ کے دربار میں چند سال قبل عرس رضوی کے موقع پر تشریف لائے تھے اور بریلی شریف میں راقم کے مہمان بنے تھے۔
حضرت مفتی صاحب ایک با وقارو بارعب عالم، ماہر مفتی، دلائل و براہین سے مرصع مصنف، مشفق و مہربان استاذ،رشد وہدایت سے موصوف شیخ طریقت اور مذہب اسلام کے بے مثال رہنما تھے، سادگی آپ کا حسن ذاتی اور کم گوئی زینت گفتار تھی۔ آپ اگرچہ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن آپ کی دینی و مذہبی خدمات اور آپ کے وہ شاگرد و تلامذہ جنہوں نے آپ سے علم دین حاصل کیا اور آج بنگلہ دیش کے مختلف خطوں اور گوشوں میں اس کی ترویج اشاعت میں مشغول ہیں جن کے سبب آپ صبح قیامت تک زندہ تابندہ رہیں گے۔
آپ کا وصال پر ملال عالم اسلام کے لیے عظیم خسارہ ہےخصوصاً مسلمانانِ بنگلہ دیش آج ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہوگیےخدائے تعالیٰ مسلمانوں کو حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے۔حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد شعیب رضا، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ رضویہ سرندیپ، بوال کھالی اور دیگر اہل خانہ، عزیز و اقاریب مریدین و متوسلین اور تلامذہ و معتقدین کو میں تعزیت پیش کرتا ہو خدائے تعالیٰ آپ حضرات کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرمائے۔
انَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ، وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْراً مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجَاً خَيْراً مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ ۔ آمین یا رب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
16؍ذی الحجہ1442ھ مطابق 27؍جولائی2021ء
https://www.facebook.com/186571468796775/posts/964606777659903/
تعزیت نامہ __
آہ!مفتی محمد ادریس رضوی (بنگلہ دیش) بھی وصال فرما گئے!
✍محمد راحت خاں قادری
دار العلوم فیضان تاج الشریعہ، بریلی شریف، انڈیا
https://www.facebook.com/186571468796775/posts/964606777659903/
آہ!مفتی محمد ادریس رضوی (بنگلہ دیش) بھی وصال فرما گئے!
✍محمد راحت خاں قادری
دار العلوم فیضان تاج الشریعہ، بریلی شریف، انڈیا
https://www.facebook.com/186571468796775/posts/964606777659903/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*شیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز*
لعنت کا آغاز: "۳۵۱ھ میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی) نے جامع مسجد بغداد کے ک دروازے پر نعوذ باللہ "نقل کفر کفر نہ باشد” یہ عبارت لکھوا دی۔
((لعن اللہ معاویۃ بن ابی سفیان ومن غصب فاطمۃ فدکا ومن منع من دفن الحسن عند جدہ ومن نفی ابا ذر ومن خرج العباس عن الشوری))
عید غدیر کی ایجاد: معزالدولہ نے ۱۸ذوالحجہ ۳۵۱ھ کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا اور اس عید کا نام "عید خم غدیر” رکھا، خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ اسی تاریخ کو یعنی ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ھ کو حضرت عثمان غنی چونکہ شہید ہوئے تھے لہٰذا اس روز شیعوں کے لیے "خم غدیر” کی عید منانے کا دن تجویز کیا گیا۔ احمد بن بویہ دیلمی یعنی معزالدولہ کی اس ایجاد کو جو ۳۵۱ھ میں ہوئی، شیعوں نے یہاں تک رواج دیا کہ آج کل کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عید غدیر کا مرتبہ عیدالاضحٰی سے زیادہ بلند ہے۔
ماتم اور تعزیہ داری کی ایجاد: ۳۵۲ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ ۱۰ محرم کو حضرت "امام” حسین کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کر دی جائیں، بیع و شراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اور علانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کو پھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی، نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخود اور خاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال ۳۵۳ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکے چنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کر دیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔
("تاریخ اسلام” اکبر خان نجیب آبادی۔ ج:۲، ص ۵۶۶، طبع کراچی)
لعنت کا آغاز: "۳۵۱ھ میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی) نے جامع مسجد بغداد کے ک دروازے پر نعوذ باللہ "نقل کفر کفر نہ باشد” یہ عبارت لکھوا دی۔
((لعن اللہ معاویۃ بن ابی سفیان ومن غصب فاطمۃ فدکا ومن منع من دفن الحسن عند جدہ ومن نفی ابا ذر ومن خرج العباس عن الشوری))
عید غدیر کی ایجاد: معزالدولہ نے ۱۸ذوالحجہ ۳۵۱ھ کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا اور اس عید کا نام "عید خم غدیر” رکھا، خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ اسی تاریخ کو یعنی ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ھ کو حضرت عثمان غنی چونکہ شہید ہوئے تھے لہٰذا اس روز شیعوں کے لیے "خم غدیر” کی عید منانے کا دن تجویز کیا گیا۔ احمد بن بویہ دیلمی یعنی معزالدولہ کی اس ایجاد کو جو ۳۵۱ھ میں ہوئی، شیعوں نے یہاں تک رواج دیا کہ آج کل کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عید غدیر کا مرتبہ عیدالاضحٰی سے زیادہ بلند ہے۔
ماتم اور تعزیہ داری کی ایجاد: ۳۵۲ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ ۱۰ محرم کو حضرت "امام” حسین کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کر دی جائیں، بیع و شراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اور علانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کو پھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی، نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخود اور خاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال ۳۵۳ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکے چنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کر دیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔
("تاریخ اسلام” اکبر خان نجیب آبادی۔ ج:۲، ص ۵۶۶، طبع کراچی)
Forwarded from فرحان رفیق قادری
پھر چِیخْنا مت !
اسحاق بن عیسی کہتے ہیں ۔ہم اپنے ایک دوست کے گھر پر تھے ۔ایک ساتھی اٹھ کر دوسرے کمرے میں سونے کے لیے چلا گیا ۔تھوڑی دیر بعد اس کی چیخوں کی آواز آئی ہم پریشان دوڑتے ہوئے اس کے پاس پہنچے پوچھا :کیا ہوا ؟ وہ اپنے خصیے پکڑے ہوئے بائیں کروٹ لیٹا تھا ۔ہم نے پوچھا :چیخ کیوں رہے تھے ؟
بولا: جب میں نےخصیے پکڑ کر دبائے تو مجھے درد ہوا اور جب مجھے درد ہوا تو میں چیخ پڑا۔
ہم نے کہا :اب ایسا مت کرنا ۔
بولا: ہاں بالکل۔ان شاء اللہ جزاکم اللہ خیرا ۔
کتاب الحمقی و المغفلین لابن جوزی رحمہ اللہ دار الکتب بیروت العلمیہ صفحہ 150۔151
محرم میں نکاح کے جواز اور سوگ کی حرمت کا سن کر چیخیں مارنے والے بھی کچھ ایسے ہی کہ مظلوم صحابی جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت پر تو کوئی سوگ کی رگ نہیں پھڑکی البتہ متعائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عید غدیر تو منانا شروع کر دی ۔
عشرہ عاشورا میں تفضیلیے ماتمی چیخیں مارنے میں مصروف ہونگے تو ہم شرعی حکم سناتے ہوئے عرض کرے گئے ایسا مت کرو تمہارا ہی فائدہ ہے۔اگر انشاء اللہ جزاکم اللہ خیرابولتےہوئے قبول کریں گے تو چیخیں بھی رک جایئے گی نہیں تواُس بناوٹی سوگیوں کو (جوشہادت عثمان رضی اللہ عنہ پر جشن میں مصروف ہے ) مزید آلات دیں گے کہ جی بھر کے چیخیں!
نوٹ: ہم شہادت عثمان پاک رضی اللہ عنہ کے سوگ کے قائل ہیں نہ ہی سیدنا امام حسین کے رضی اللہ عنہ۔
فرحان ر فیق قادری عفی عنہ ۔
اسحاق بن عیسی کہتے ہیں ۔ہم اپنے ایک دوست کے گھر پر تھے ۔ایک ساتھی اٹھ کر دوسرے کمرے میں سونے کے لیے چلا گیا ۔تھوڑی دیر بعد اس کی چیخوں کی آواز آئی ہم پریشان دوڑتے ہوئے اس کے پاس پہنچے پوچھا :کیا ہوا ؟ وہ اپنے خصیے پکڑے ہوئے بائیں کروٹ لیٹا تھا ۔ہم نے پوچھا :چیخ کیوں رہے تھے ؟
بولا: جب میں نےخصیے پکڑ کر دبائے تو مجھے درد ہوا اور جب مجھے درد ہوا تو میں چیخ پڑا۔
ہم نے کہا :اب ایسا مت کرنا ۔
بولا: ہاں بالکل۔ان شاء اللہ جزاکم اللہ خیرا ۔
کتاب الحمقی و المغفلین لابن جوزی رحمہ اللہ دار الکتب بیروت العلمیہ صفحہ 150۔151
محرم میں نکاح کے جواز اور سوگ کی حرمت کا سن کر چیخیں مارنے والے بھی کچھ ایسے ہی کہ مظلوم صحابی جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت پر تو کوئی سوگ کی رگ نہیں پھڑکی البتہ متعائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عید غدیر تو منانا شروع کر دی ۔
عشرہ عاشورا میں تفضیلیے ماتمی چیخیں مارنے میں مصروف ہونگے تو ہم شرعی حکم سناتے ہوئے عرض کرے گئے ایسا مت کرو تمہارا ہی فائدہ ہے۔اگر انشاء اللہ جزاکم اللہ خیرابولتےہوئے قبول کریں گے تو چیخیں بھی رک جایئے گی نہیں تواُس بناوٹی سوگیوں کو (جوشہادت عثمان رضی اللہ عنہ پر جشن میں مصروف ہے ) مزید آلات دیں گے کہ جی بھر کے چیخیں!
نوٹ: ہم شہادت عثمان پاک رضی اللہ عنہ کے سوگ کے قائل ہیں نہ ہی سیدنا امام حسین کے رضی اللہ عنہ۔
فرحان ر فیق قادری عفی عنہ ۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
موضوع #حضرت_عثمان_غنی ❶
یومِ شہادت = ¹⁸ ذی الحجہ ۵۳ ھ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
عرس مبارک خلیفۂسوم امیرالمؤمنین
حضرت عثمان غنی = عثمان بن عفان
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جامع القرآن ذو النورین عثمان غنی
حضرت عثمان غنی کی شہادت
عثمان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں
میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان
اللہ سے کیا پیار ہے عثمان غنی کا
پیشن گوئی: عثمان قرآن جمع کرےگا
شعر: وہ عثماں غنی و سخی جنتی ہے
شعر: صدیق و فاروق و عثماں حیدر
شعر: ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا
شعر: زوجہ دو نور عفت پہ لاکھوں
یومِ شہادت = ¹⁸ ذی الحجہ ۵۳ ھ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
عرس مبارک خلیفۂسوم امیرالمؤمنین
حضرت عثمان غنی = عثمان بن عفان
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
جامع القرآن ذو النورین عثمان غنی
حضرت عثمان غنی کی شہادت
عثمان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں
میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان
اللہ سے کیا پیار ہے عثمان غنی کا
پیشن گوئی: عثمان قرآن جمع کرےگا
شعر: وہ عثماں غنی و سخی جنتی ہے
شعر: صدیق و فاروق و عثماں حیدر
شعر: ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا
شعر: زوجہ دو نور عفت پہ لاکھوں