🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
कोकन बाढ़ पीड़ितों की मदद करें नोटः जो हज़रात बतौर इमदाद जो भी रक़म भेजें, फ़ोन या वाटस्अप पर इस की इत्तेला ज़रूर दें। अकाउंट डिटेल: Acount Neme: Gulam Mustafa Rza A/c Number: 9045748267 Kotak mahindra Bank Yamuna Vihar Delhi IFSC Code: KKBK0004608 UPI r…
کوکن سیلاب متاثرین کی مدد کریں

اکاؤنٹ تفصیل:
Acount Neme: Gulam Mustafa Raza
A/c Number: 9045748267
Kotak mahindra Bank Yamuna Vihar Delhi

IFSC Code: KKBK0004608

UPI roshanmustaqbil@ybl

Phone Pe 8077589465

نوٹ: جو حضرات بطور امداد جو بھی بھیجیں فون/واٹس ایپ پر اس کی اطلاع ضرور دیں۔
منجانب: روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/956767004893818/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایثار و وَفا کے والہانہ نظارے اور درس ابراہیمی کی تجدید کا پیغام

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

ایفائے عہد کی صبح طلوع ہوئی... بیت المقدس کی باغ و بہار وادیوں سے مشیت ایزدی کے تحت تین رکنی قافلہ سوئے حجاز روانہ ہوا... صحراے حرم کی پاکیزہ لیکن بے آب و گیا وادی میں پہنچا... پہاڑیوں کے سلسلے دراز تھے... حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بصیرت نے محسوس کر لیا کہ اسی وادی میں سعادتوں کی صبح طلوع ہوگی... قافلے عشاق کے اقامت پذیر ہوں گے....

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کو بنیادِ کعبہ کے قُرب میں چھوڑا... عازم بیت المقدس ہو گئے... وادی حرم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدمِ ناز سے زم زم کا شفاف و شیریں چشمہ رواں دواں ہو گیا... حیات کے غنچے کھل اُٹھے.... شرفا کے قافلے آنے لگے... عقیدتوں کی جبیں سوئے حرم جھکنے لگی... جمالِ خلیل اور جلالِ حرم سے نور پھیلنے لگا... وادیاں سیراب ہونے لگیں... محبتوں کی صبح طلوع ہوئی...

حضرت ابراہیم علیہ السلام وادیِ قدس سے ارضِ حرم میں جا بسے... حکمِ الٰہی کا پاکیزہ لمحہ آن پہنچا... چشم فلک نے ایثار کے جلوے نظارہ کرنے تھے... سعادتوں کی ایک صبح تھی... پیکرِ وَفا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اطاعت کی جبیں خم کر دی... تسلیم و رضا کا نرالا امتحان تھا... عظیم والد حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماں بردار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر وادی منیٰ کی راہ چل پڑے... معبودِ حقیقی کے حکم کی تعمیل ہونے والی تھی...

منیٰ کی وادیاں سراپا دید تھیں... طاعت و رضا کا نظارہ قریب تھا... حکم الٰہی سے گردنیں جھکی تھیں... ایثار کے گلشن سجے ہوئے تھے... چشم فلک حیران... فضائے منیٰ سراپا جستجو... ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا ہی گیا تھا؛ طاعت کی گردن قربان ہونے کو آمادہ تھی... کہ قربانی کی قبولیت کی ندا بلند ہوئی...

"اور ہم نے انھیں آواز دی کہ اے ابراہیم! بلاشبہہ تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا... ہم اپنے نیکوکار بندوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں... یقیناً یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی... اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اسماعیل کے اوپر سے نثار کر دیا... اور آنے والی نسلوں میں ہم نے اس کی یادگار قائم کر دی... سلام ہو ابراہیم (جیسے مخلص دوست) پر... " (سورۃ الصّٰفٰت، ٣٧: ١٠٤-١٠٩)

متاعِ عشق سلامت رہی... امتحان کی گھڑی تسلیم و رضا کے لالہ و گل کھلا گئی... روشنی کے ہزاروں مینار تعمیر ہوئے... امتحان کے قافلے کامیابی سے وادی حرم میں ٹھہر گئے... امتحان کے قرینے رضاے الٰہی کا نشانِ امتیاز بن گئے... حج کا رُکن قرار پائے... طاعت کا نشاں بن گئے...

صبح قیامت تک قربانیوں کی یادیں تازہ کی جاتی رہیں گی... جس سے استقامت فی الدین کا لازوال درس اہلِ ایماں کو ملتا رہے گا... ایثار کے میناروں پر عزم و یقیں کی قندیلیں فروزاں رہیں گی... آج پھر ایثار کی ضرورت ہے... آج پھر القدس پر یہودی یلغار ہے... آج پھر وادیِ حرمین میں شیاطین عہد کے عیش کدے آباد ہیں... اسیرانِ مغرب کی جبیں طاغوت کے دَر جھکی ہوئی ہے... آبروے حرم بیچنے والے دشمنانِ اسلام کے باج گزار ہیں... حرم کی پاسبانی کو ایثار کی ضرورت ہے...

اہلِ ایماں! جاگو!! چمن پر زاغوں کا تصرف ہے... گلشن کی تباہی کو ہر شاخ رہزنوں سے جھوجھ رہی ہے... ہر سال درس ایثار وادیِ منیٰ سے ملتا ہے... وفاداری کی محفلیں آراستہ ہو جاتی ہیں... اہلِ مغرب کو یہ تردد ہے کہ اسلام زندہ ہے... غیرتوں کے پیمانے لبریز ہیں... ہاں! شاہان وقت بِکے ہوئے ہیں... خونِ مسلم میں بوے وَفا باقی ہے... مادۂ غیرت زندہ ہے:

آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

قربانی عزم و یقیں کا پہلا درس ہے... محبتوں کے خوگر دیوانہ وار چلے آتے ہیں... جانوں کے نذرانے بارگاہِ الٰہی میں پیش کر دیتے ہیں... غیرتوں کے تقاضے سمجھے جائیں... قربانی سے عزیمتوں کے خمیر تیار کیے جائیں... یہود و انگریز کے ظالمانہ پنجوں کو مروڑ دیا جائے.. شعارِ شرکیہ پر قدغن لگایا جائے... تا کہ وادی پاکیزہ رہے اور گلشن مشک بار... اسلاف نے اسی کا دَرس دیا... باخبر رہیں... رہِ اسلاف پر چلتے رہیں... ان شاء اللہ! بے راہ نہیں ہوں گے... اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
****

٢١ جولائی ٢٠٢١ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4248013475280332&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور اشرف الفقہاء*
دینی و علمی مجالس کے آئینے میں
{ملفوظات و ارشادات ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتےاور شرعی مسائل کی تفہیم سے فروغِ علم کا پیغام ملتا}
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/243975860890942/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

نگاہِ حضور مفتی اعظم کی جلوہ گری تھی کہ؛ جو اُن کے دامن سے وابستہ ہوا چمک گیا، جو اُن کے زیرِ تربیت رہا؛ زمانے پر چھا گیا، اپنی دینی و علمی خدمات کے نقوش اِس جہان میں چھوڑ گیا۔ ایسی ہی شخصیت خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی تھی۔ آپ نے طویل عمر پائی، نصف صدی سے زیادہ مدت تک دین متین کی نشر و اشاعت اور فروغِ حق و صداقت کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔ ہمہ جہت پہلوؤں سے اصلاحِ مسلمین کا مبارک فریضہ انجام دیتے رہے۔
بنیادی طور پر خطیب، مصلح، مفکر اور داعیِ اسلام تھے۔ لیکن جہاں جاتے مجالس علمی سج جاتیں۔ جوق دَر جوق خلقت آتی، بیعت ہوتی، ایمان تازہ کرتی اور روحانی برکتوں کی خوش گوار فضا میں رُخصت ہوتی۔ آپ کی نجی مجالس بھی فروغِ دین و اصلاحِ مسلمین کا مؤثر ذریعہ تھیں۔ حاضر باش اس کے شاہد و موئید ہیں۔ راقم نے سیکڑوں مجالس میں شرکت کی اور پل پل تقویٰ و طہارت اور اخلاقی تطہیر و فکری پاکیزگی کا مشاہدہ و نظارہ کیا۔
مجالسِ اشرف الفقہاء ہمہ جہت عناوین کو محیط ہیں۔ جس کا اجمال بشکلِ نکات درج کیا جاتا ہے:
[۱] حضور اشرف الفقہاء کی مجالس عموماً بوقت بعد نمازِ عصر ، بعد نمازِ مغرب اور شب میں بعد از خطاب اقامت گاہ پر آراستہ ہوتیں، جہاں آپ اپنے ملفوظاتِ عالیہ سے نوازتے۔ ہمہ جہت عناوین پر گفتگو ہوتی لیکن سب کا ایک ہی مقصد ہوتا، تقویتِ دین و حفاظتِ ایمان و عمل۔
[۲] حضور اشرف الفقہاء بڑی متانت سے گفتگو فرماتے۔ ہر فرد سے اس کی لیاقت یا Statusکے مطابق مخاطب ہوتے۔ عام لوگوں سے عام فہم انداز میں بات کرتے۔ سبھی کی خیریت دریافت فرماتے۔ خندہ پیشانی سے ملتے۔
[۳] عموماً نشست بڑی سادہ ہوتی۔ مسہری کے ایک سِرے پر براجمان ہوتے، لیکن قدموں کو سمیٹ کر بیٹھتے۔ پیروں کو پھیلائے ہم نے مجالست نہیں دیکھی۔ انکسار و عاجزی کے انداز میں بیٹھتے۔
[۴] لوگ مسائل کے حل نیز روحانی معاملات میں رہنمائی لینے حاضر آتے۔ ہر ایک سے مسائل معلوم کر کے ان کا دینی حل بتاتے۔
[۵] جسے تعویذ کی ضرورت ہوتی، تعویذ عطا فرماتے۔ لیکن اسی کے ساتھ پابندیِ صوم و صلوٰۃ کی نصیحت ضرور فرماتے۔
[۶] پیچیدہ معاملات میں بھی دُعاؤں کی سوغات دیتے، بعد کو مشاہدہ ہوا کہ پیچیدگی دور ہوئی اور سائل مطمئن ہوا۔
[۷] باہمی رنجش کے مسائل میں اتحاد و اخوت کی فضا استوار فرماتے۔ ہم مزاج و ہم خیال افراد میں اختلافی فضا آپ کی مجالس میں دور ہو جاتیں۔
[۸] عقائد کے معاملے میں تصلب و استقامت کو مقدم رکھتے۔ اس میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ گوارا نہ تھا۔ مومن کی یہی صفت ہو کہ ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کی عملی تعبیر تھے۔ اپنوں سے نرم مزاجی صفت تھی اور بارگاہِ رسالت ﷺ کے دُشمنوں کے لیے گویا فولاد تھے۔
[۹] مرید ہونے کوئی آتا تو مرید بھی بناتے ساتھ ہی شریعت پر سختی سے گامزن رہنے کی نصیحت فرماتے۔ تمام باطل فرقوں سے بچنے کی تلقین لازماً کرتے۔
[۱۰]خواتین اسلام کے لیے پردے کی تاکید و نصیحت فرماتے۔ بیعت بھی پردہ کے توسط سے فرماتے۔ عموماً ہم لوگ جب بھی بیعت کے لیے خواتین یا بچیوں کے نام پیش کرتے تو داخلِ سلسلہ فرماتے ۔ جب کہ احباب کو بیعت کروانا ہوتا تو مجلس میں لے کر جاتے۔
[۱۱]علمی مسائل پر سوالات کیے جاتے، خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیتے۔ دلائل بھی عام فہم انداز میں پیش کرتے۔ گفتگو میں توضیحی و تشریحی پہلو غالب ہوتا۔
[۱۲] حضور اشرف الفقہاء کی بارگاہ میں بیٹھنے والا ہر فرد اس بات کی گواہی دے گا کہ شفقت و مروت کا معاملہ فرماتے اور ہر فرد کی ضرورت پوچھتے اور مناسب حل فرماتے۔
[۱۳]راقم جب ملنے جاتا، اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت کی دینی، علمی، اعتقادی و اصلاحی خدمات پر ہونے والے تحقیقی کاموں کی بابت ضرور پوچھتے۔ ترجمۂ قرآن کنزالایمان، فتاویٰ رضویہ،فتاویٰ مصطفویہ کی توسیع کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو سراہتے۔ گھنٹوں اعلیٰ حضرت کا تذکرہ بصد ذوق فرماتے ۔ سامعین سنتے رہتے۔ اور شرکا کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔
[۱۴] تفہیم اشعارِ رضا کے سلسلے میں اکثر استفسار کیا جاتا۔بہت انہماک سے توضیح فرماتے، انشراح صدر ہوتا۔ نعتیہ اشعارِ رضا پر جب بات ہوتی تو مجلس میں نورانیت بڑھ جاتی۔ محبت رسول ﷺ کی پاکیزہ فضا قائم ہوتی۔ ذکرِ رسول ﷺ کی یہ بزم طویل ہو جاتی۔ تشنگی باقی رہتی۔
[۱۵] جب کسی کے یہاں دعوت پر تشریف لے جاتے، ہر ایک کی دل جوئی فرماتے۔ غذا بہت قلیل تناول کرتے۔ دوسروں کا خیال رکھتے کہ تمام لوگ کھانے سے فارغ ہو لیں۔ برکتوں کی دُعا کرتے۔ جنھیں تعویذ کی ضرورت ہوتی تعویذ دیتے۔ دُعائیں دیتے۔ نصیحتیں کرتے ہوئے رُخصت ہوتے۔
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
عموماً ہر مقام پر لوگ طلبِ بیعت کرتے۔ بیعت فرماتے اور نمازوں کی پابندی کی تلقین کرتے۔
[۱۶] عموماً کام کے لیے رہنمائی چاہنے والے ہر مقام پر ملاقات کو حاضر ہوتے۔ تعمیری کاموں کی طرف ذہن موڑ دیتے۔ جلسوں جلوسوں کی بجائے مدارس، مساجد، علم دین اور اشاعت و اصلاحی کاموں کی طرف توجہ مبذول کرواتے۔ ذہن سازی کرتے۔ ہر معاملے میں صحتِ عقیدہ کا مقدم رکھتے۔ یوں ہی تمام باطل عقائد والوں کے شر سے بچنے کی تاکید کرتے۔
[۱۷] مزاج و کردار میں یک رنگی تھی۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے افعال و کردار سے درسِ اصلاح و درسِ تقویٰ فراہم ہوتا۔ ایسے لوگ جو اُلٹے سیدھے کام کرتے ہیں وہ جب اشرف الفقہاء سے ملتے تو اپنی اصلاح پر خود بہ خود مائل ہوتے۔کتنوں کا مشاہدہ ہوا کہ انھیں سمجھایا جاتا لیکن نہیں سمجھتے، جب وہ بارگاہِ اشرف الفقہاء میں پہنچے تو معاملہ بدل گیا۔
[۱۸] حوصلہ ہارے ہوئے مجلسِ اشرف الفقہاء میں عزم محکم لے کر اُٹھتے۔
[۱۹] بچوں پر شفقت ہوتی۔ ان سے تعلیم کا پوچھتے اور حوصلہ دیتے۔ذوقِ علم بڑھاتے۔
[۲۰] طلبۂ علوم دینیہ پر خصوصی اکرام فرماتے۔ انھیں احترام دیتے کہ دوسروں کو طلبہ کا احترام کرنے کا درس ملے۔یوں ہی سرپرستوں کو توجہ دلاتے کہ وہ بچوں کو حصولِ علم دین کے لیے آمادہ کریں۔
مجالس میں جو ملفوظات ارشاد فرماتے، وہ ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتے۔ خصوصیت سے شرعی مسائل کے حل عام فہم انداز میں عنایت فرماتے۔ کاش! انھیں کوئی لکھتا تو علم و عرفان کا عظیم ذخیرہ منظر عام پر آتا اور قوم کی فلاح کا سامان ہوتا۔ بہر کیف مجالس کے حاضر باش علما و طلبا کو چاہیے کہ یادداشت کو صفحات پر منتقل کریں اور اپنے اکابر سے وابستگی کا علمی فیض عام کریں۔
٭ ٭ ٭
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور اشرف الفقہاء*
_اور یادوں کے تابندہ نقوش_
(بموقع عرسِ حضور اشرف الفقہاء)

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

٦؍اگست ۲۰۲۰ء/۱۵؍ذی الحجہ ١٤٤١ھ جمعرات کی صبح حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ اِس جہان سے رُخصت ہو گئے... یادوں کے تابندہ نقوش چھوڑ گئے...
٭٭٭
١٩ برس قبل حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے مالیگاؤں میں فرمایا تھا: "مجیب اشرف اپنے وقت کا مفتی ہے"...لاریب! مفتی اعظم مہاراشٹر کا تاج حضور اشرف الفقہاء کے سر زیب دیتا ہے...آپ وقت کے عظیم فقیہ تھے... واقعی آپ نے شرعی رہبری میں کامیاب نقوش چھوڑے...
٭٭٭
حضور اشرف الفقہاء نے فتاویٰ بھی تحریر فرمائے... جن کا مجموعہ زیر ترتیب تھا...وصال سے کچھ دنوں قبل ایک ملاقات میں آپ نے بتایا تھا کہ فتاویٰ بعد از ترتیب شائع کرنے کا عزم ہے...
ہم نے دیکھا ہمیشہ فون پر لوگ شرعی مسائل دریافت کرتے... آپ رہنمائی فرماتے... راقم نے خود کئی بار رہنمائی چاہی... ایام حج میں زائرین/حجاج مسلسل رابطہ کرتے... مسائلِ حج دریافت کرتے...خندہ پیشانی سے جواب عنایت فرماتے... پیچیدگی دور فرماتے...
٭٭٭
ان کی یاد روشنی لے کر آتی ہے... ان کا تصور ایمان تازہ کرتا ہے... ہاں! ان کی مجالس نورٌ علٰی نور ہوتیں... دل چمک جاتے... باطن مہک مہک اُٹھتے... ہم نے دیکھا ہے کہ مشرک آتے ہیں... ایمان سے معمور ہو کر جاتے ہیں... تربیت گاہِ اشرف الفقہاء میں ہم نے نو مسلم کو بھی استفادہ کرتے دیکھا... بڑے بڑے افسران دست بستہ دیکھے... حضور اشرف الفقہاء نے ایک بار مجھ سے کہا : کئی افسران آئے اور اسلام قبول کر کے گئے... اکثر تعلیم یافتہ افراد آتے رہتے ہیں اور اسلام قبول کر کے جاتے ہیں...
٭٭٭
ہم نے حضور اشرف الفقہاء کو علما کی بزم میں دیکھا... میرِ مجلس پایا... علما کا قدر داں پایا... چھوٹوں پر ایسی شفقت کہ نوجوان علما یہ گمان کرتے کہ حضرت تو سب سے زیادہ مجھ پر شفقت فرماتے ہیں... جہاں جاتے عوام کو علما سے وابستہ رہنے کی نصیحت فرماتے... علما کی اور علم دین کی قدر سکھاتے... طلبۂ علومِ دینیہ کی تکریم سکھاتے... حصولِ علمِ دین کی ترغیب دیتے... دینی درس گاہوں کے قیام کی فکر دیتے... مدارس کی سرپرستی فرماتے... مدارس کو اپنی جیب سے چندہ عنایت فرماتے... یہ مشاہدہ ہے...
٭٭٭
ان کا اخلاق بلند تھا... کردار نکھرا ہوا تھا... زباں پاکیزہ اور چہرہ روشن... ایسا کہ دیکھو تو خدا یاد آ جائے... بے شک! اللہ والوں کے چہرے تاباں ہوتے ہیں اور کردار اُجلے... جن کی بارگاہِ ناز کے چند لمحے زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیتے... تیری محفل میں بیٹھنے والا... آدمی خوش نصیب ہوتا ہے... اور جو نوازے گئے وہ بزبانِ حال گویا کہہ رہے ہیں...
عباؤں قباؤں کو میں کیا کروں گا
عطا ہو گیا مجھ کو تاجِ غلامی
٭٭٭
خاکساری ایسی کہ بھری بزم میں کہتے کہ... مجھے بولنا نہیں آتا... دیہاتی لہجے میں تقریر کرتا ہوں... تواضع ایسا کہ کہتے کہ مجھے علم کہاں... یہ تو میرے حضور مفتی اعظم اور حضور شارح بخاری کا فیضان ہے کہ کچھ بول لیتا ہوں... اسی تواضع نے ایسا سربلند کیا کہ... بات دل میں اترتی... زندگیاں بدل جاتیں... بدعقیدگی کے داغ دُھل جاتے... دل محبتِ محبوب پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے منور ہو جاتا... عقیدہ سنور جاتا.. عقیدت رہِ مستقیم پر گامزن ہو جاتی...
٭٭٭
ان کا باطن روشن تھا... جو ان سے بیعت ہو جاتا... وہ بھی اُجلے مَن سے آراستہ ہو جاتا... راقم کا مشاہدہ ہے... جہاں جہاں ہم نے مجلسِ بیعت منعقد کی... تزکیۂ باطن و تطہیرِ قلب کا نظارہ کیا... تصلبِ دینی کے جلوے دیکھے... راقم خود درجنوں طلبہ/سیکڑوں اہلِ علم کو آپ کی مجلس میں لے گیا... اور زندگیوں میں صالح انقلاب دیکھا... احباب گواہ ہیں... ماضی کی تلخیاں نگاہِ اشرف الفقہاء کے فیض سے چھَٹ گئیں...حال اسلامی سانچے میں ڈھل چکا ہے... روشن ضمیر! دل بدل دیتے ہیں...اور عملی زندگی اسلامی بہاروں کا مسکن بن جاتی ہے...
٭٭٭
وہ بزم کی رونق تھے... ساداتِ مارہرہ مطہرہ کے جھرمٹ میں بھی دیکھا... حضور امین ملت میرے اشرف الفقہاء فرماتے... بلکہ مسلکِ اعلٰی حضرت کے لیے مستعدی اور ہمہ جہت خدمات کے پیشِ نظر "جوان اشرف الفقہاء" کہتے... آپ کے تفقہ اور خدمات کا تذکرہ فرماتے... بڑی محبتوں کا اظہار کرتے... ایک بار حضور احسن العلماء کے اکرام کا بھی ذکر کیا.... کہ حضور احسن العلماء؛ حضور اشرف الفقہاء کا خطاب بڑے اہتمام سے سنتے تھے... ہم نے رفیقِ ملت حضرت سید نجیب حیدر میاں کی زبان بھی حضور اشرف الفقہاء کے تذکروں سے تَر دیکھی... ہم نے کئی مشائخ کی زباں پر اشرف الفقہاء کی دعوتی و تعمیری خدمات کا چرچا مشاہدہ کیا...
٭٭٭
علمی شخصیت تھے... علمی کاموں کو پسند فرماتے... جب مالیگاؤں تشریف لاتے... راقم کو یاد کرتے... کبھی تاخیر سے خدمت اقدس میں حاضر ہوتا تو فرماتے... میں منتظر تھا... محفل سجی ہوتی... علمی موضوعات ہوتے... کبھی محبت رسول اللہ صلی ال
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
لہ تعالٰی علیہ وسلم کی باتیں... کبھی عقائد اہلسنّت کا بیاں... کبھی تاریخ اسلامی کے تاباں اوراق وا ہوتے... کبھی درس گاہی نکات... علمی اشکالات کی گرہیں کھولی جاتیں...فنونِ ادب کے صفحات چمکتے... احادیثِ مبارکہ کی توضیحات سے بزم چمک جاتی... اعلیٰ حضرت کا ذکرِ جمیل ہوتا... حضور مفتی اعظم کی بارگاہِ ناز میں گزرے پاکیزہ لمحات یاد کیے جاتے... اس درمیان مختلف علاقوں سے وفود آتے... مسائل کا حل چاہتے... اشرف الفقہاء مسکرا کر حل فرماتے... مسائل حل فرماتے... دَقائق دور کرتے... پیچیدگیاں دور فرماتے... باہمی رنجش ختم کرتے... شیر و شکر ہو کر فروغِ مسلک اعلیٰ حضرت کی تلقین فرماتے...
٭٭٭
عموماً جلسوں کی کامیابی کے بعد تعلیم گاہوں کے قیام کی تلقین کرتے... مساجد اہلسنّت کے قیام کے لئے حوصلہ دیتے... مدارس کی سرپرستی فرماتے... ہنر مندی کی ذہن سازی کرتے... نتیجہ یہ ہوا کہ جس زمیں پر گئے... درجنوں مساجد قائم ہوئیں... متوسلین نے انقلاب برپا کر دیا... صالح انقلاب... پاکیزہ انقلاب... وہ انقلاب جس سے جہان روشن اور آخرت درخشاں...
٭٭٭
پیکرِ تقویٰ تھے... حضور مفتی اعظم کے شیدائی و فِدائی تھے... ہر اَدا سُنّت مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی آئینہ دار تھی... خلافِ سُنّت کام دیکھتے تو نرمی سے اصلاح فرماتے... نمازوں کی پابندی فرماتے... منزل بہ منزل سفر ہوتا... لیکن نمازیں برابر وقتوں پر ادا کی جاتیں... مسائل سے متعلق بڑے محتاط تھے... اسلاف کی روش اختیار کر رکھی تھی... اسی لیے مصالحت سے کوسوں دور تھے... اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خوشنودی کے لیے تاعمر سرگرم عمل رہے... ہر بیان کا خلاصہ اعلیٰ حضرت کا یہ شعر ہوتا کہ...
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا
٭٭٭
وقت کی قدر فرماتے... پابندیِ وقت کے لیے راقم کو نصیحت بھی کی... بیان سے قبل وقت کی معلومات لیتے... وقت متعین سے پانچ منٹ قبل گفتگو ختم فرماتے... کبھی وقت کم ملتا تو اتنے وقت میں ہی گفتگو مکمل فرما لیتے... اس خوش اسلوبی سے کہ احساس بھی نہیں ہوتا.... کہ معمولی سے وقت میں انشراح صدر فرما دیا... ایک بار جمعہ کی نماز کے لیے ایک مسجد میں جب ٹائم معلوم کیا تو امام صاحب نے کہا کہ... حضور! جمعہ کا عمومی وقت ڈیڑھ بجے ہے...آپ دو بجے تک بیان فرمائیں... حضور اشرف الفقہاء نے فرمایا کہ عمومی وقت کا لحاظ ضروری ہے... لوگ نوکری اور ڈیوٹی والے ہوتے ہیں... ان کی رعایت ضرور کرنی چاہیے... پھر ڈیڑھ بجے سے قبل ہی بیان مکمل فرما دیا...
٭٭٭
خندہ پیشانی سے ملتے... ہر ایک سے مشفقانہ رویہ ہوتا... وصال کے بعد سے اَب تک سیکڑوں افراد مِلے... سبھی کا ایسا گمان تھا کہ حضور اشرف الفقہاء مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے... کسی نے کہا کہ جب ملاقات کو حاضر ہوتا خیریت پوچھتے... مُسکرا کے ملتے... دُعائیں دیتے... ہر فرد کے ساتھ یہی سلوک تھا...
ہم نے بہت سے صاحبِ ثروت اور دولت مندوں کو دیکھا کہ مال پر رویہ طے ہوتا ہے... غریبوں سے بدسلوکی... امیروں کی عزت... ہاں! وہ غریب سے بھی یکساں سلوک کرتے... ان سے ملاحت ایسی کہ ان کی صحبت میں بیٹھنے والا اپنا غم بھول جاتا... ایمان کی تازگی لے کر جاتا... عزم پا کر رُخصت ہوتا...
٭٭٭
ضعف کا عالَم ہوتا... آرام کی ضرورت ہوتی... لیکن! معمولات کے مطابق تمام کام بحسن و خوبی انجام دیتے... سفر کی تکان، عمر کا تقاضا، ملاقاتیوں کا اژدہام.... پھر بھی ماتھے پر شکن نمودار نہ ہوتی...
جلسوں میں مجمع کثیر ہوتا... لوگ دیدار کو حاضر ہوتے... تمنائیں لے کر آتے کہ دست بوسی کی سعادت حاصل کریں گے... ہر ایک سے ملتے... لوگ قطاریں لگائے کھڑے ہوتے... ہم بھی محوِ زیارت ہوتے... مُسکرا کر دُعائیں دیتے... دیدار سے سب غم غلط ہو جاتے... اُلجھنیں دور ہو جاتیں... راقم کا یہ مشاہدہ ہے...
٭٭٭
بریلی شریف سے محبت کا انداز نرالا تھا... بریلی! محبت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پیغام کا خوب صورت عنوان ہے... بریلی نسبتوں کا گلشن ہے... جہاں سے بخشش کے باغات کی خوشبو آتی ہے...
راقم نے جب ١٤٣٦ھ میں ارضِ حرم میں ملاقات کی... بتایا کہ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ سے بارہا ملاقات کا شرف حاصل ہوا... بہت خوش ہوئے... حضور تاج الشریعہ کی ایک ایک ادا کا پوچھتے رہے... بزمِ عرفاں کے کیف و سُرور کو محسوس کرتے رہے...
اکثر حضور مفتی اعظم کا تذکرہ فرماتے... ان کے ساتھ سفر کی یادوں کے چراغ فصیلِ حیات پر روشن کرتے... تقویٰ و استقامت کا بیان کرتے... دین پر استقامت کا منظر تازہ کرتے... عقیدہ و عقیدت کو جِلا بخشتے...
٭٭٭
روحانیت کے متلاشی آتے... تعویذ طلب کرتے... لے جاتے... پانی پر دَم کراتے... شفا پاتے... فیض اُٹھاتے... اپنے مشاہدات بیان کرتے... کہ کس طرح لاینحل مسائل حضور اشرف الفقہاء کی دُعا اور تعویذ سے حل ہو گئے... آپ تصلبِ دینی کی نصیحت فرماتے... مسلکِ اعلیٰ
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
حضرت پر سختی سے قائم رہنے کا درس دیتے...
کسی کو نامُراد نہیں لوٹاتے... لوگ تھکن، عمر اور سفر کا کچھ خیال نہیں کرتے... وقت تنگ ہوتا... واپسی کا لمحہ... تعویذ مانگنے والوں کا پورا پورا خیال فرماتے...
٭٭٭
دس ماہ قبل راقم نے ایک علمی پروجیکٹ کے لیے مشورہ طلب کیا... رہنمائی کی... رہبری کی... کامیابی کا مژدہ سُنایا... انھیں ایام بعض ناگفتہ بہ حالات کے باعث کام بننا دُشوار نظر آیا... لیکن! حضور اشرف الفقہاء نے ہمت دی؛ کام بنتے چلے گئے... آپ نے مجھے نصیحت کی کہ بنیاد مضبوط کیجئے... پھر کام ظاہر کیجئے... تب تک خاموشی سے لگے رہیے... تا کہ کام پختہ ہو... حائل رکاوٹیں دور ہوں... ہم نے مشاہدہ کیا... دُشواریاں دور ہوئیں... مطلع صاف دکھائی دینے لگا... ہر رکاوٹ قدموں کو منجمد نہ کرسکی... بلکہ حضور اشرف الفقہاء کی دعاؤں کی گھنیری چھاؤں میں مشکلیں آسان ہو گئیں... اب بھی کامیابی کی راہیں کشادہ ہیں اور منزل کے نشاں تازہ... مکینِ گنبد خضرا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے نواز دیا... حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا...
مِری مشکل کو یوں آساں مِرے مشکل کشا کر دیں
ہر اِک موج بلا کو میرے مولیٰ نا خدا کر دیں
٭٭٭

١٥ ذی الحجہ ١٤٤٢ھ/٢٦ جولائی ٢٠٢١ء
ترسیل: اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
Cell. 9325028586
noorimission92@gmail.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*تحقیقاتِ رضویہ.... رہبر و رہنما*

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی (ولادت: ١٢٧٢ھ/١٨٥٦ء- وصال: ١٣٤٠ھ/١٩٢١ء) نے انگریز کی سازشوں اور اُن کے اسلام مخالف منصوبوں سے قوم کو باخبر کرنے کی غرض سے؛ علم و فن کے درجنوں گوشوں پر اعلیٰ معیار کی کتابیں تصنیف فرمائیں۔ وہ تصورِ علم دیا جس میں عزمِ محکم ہے، حوصلۂ تابندہ ہے۔ آپ کی علمی تنقیدات سے اسلامی علوم کی عظمت اور صہیونی علوم کی اصلیت ظاہر ہو جاتی ہے، فرماتے ہیں:

’’یورپ والوں کو طریقۂ استدلال اصلاً نہیں آتا۔‘‘(نزول آیاتِ فرقان، مطبوعہ کراچی، ص۵۵)

اہل یورپ(یہود و نصاریٰ) کا ہر کام چاہے ایجادات و اختراعات سے متعلق ہو یا سیاسی و سماجی مسائل سے متعلق، اسلام دُشمنی کا مظہر ہوتا ہے۔ انھیں استدلال کی اسی لیے تمیز نہیں کہ استدلال سے اسلام کی حقانیت و سچائی کا نور پھوٹتا ہے، بے شک! استدلال کی قوت اسلام میں ہے۔ اسلام سے رجوع میں ہی نجات ہے، اسی میں کامیابی ہے، اسی تناظر میں درجِ ذیل تصانیفِ رضا کا مطالعہ اور ان میں غور و خوض قوم کے تعلیمی و تعمیری ورثہ میں ترقی کا سبب بنے گا، اربابِ علم و فکر ان تصانیف سے استفادہ کر کے قومی عروج و ترقی کے لیے ذہن سازی کریں:

(۱) المحجۃ المؤتمنۃ فی آیۃ الممتحنۃ …تفسیری مباحث پر مبنی یہ کتاب ہندستان کے سیاسی حالات میں مسلمانوں کی اسلامی فکر سازی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی-مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
(۲) کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم …عمرانیات و معاشیات کے موضوع پر عربی زبان میں تحریر کی، اردو ترجمہ بھی شائع ہے-مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
(۳) کشف العِلۃ عن سمت القبلۃ…ہیئت و فلکیات کے موضوع پر اہم کتاب- مطبوعہ بریلی و کراچی و ممبئی
(۴) فوز مبین در رد حرکت زمین …حرکت زمین کے رد میں اسلامی سائنسی اُصولوں پر مبنی ناقابلِ تردید دلائل سے آراستہ کتاب، مغربی فلاسفہ کے لیے آج بھی ایک علمی چیلنج- مطبوعہ بریلی و ممبئی و کراچی
(۵) نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان... قرآنی دلائل سے مزین ایمان افروز کتاب- مطبوعہ بریلی و ممبئی و کراچی
(۶) الکلمۃ الملہمہ فی الحکمۃ المحکمۃ…فلاسفہ کے قدیم افکار کے رد میں تصنیف کی- مطبوعہ ممبئی و کراچی
(۷) معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین…سائنسی موضوع پر امریکی ہیئت داں البرٹ ایف پورٹا کی باطل پیش گوئی کے رد میں سائنسی استدلال سے مزین تحریر- مطبوعہ بریلی وممبئی و کراچی
(۸) رسالہ در علم لوگارثم…علم لوگارثم پر علمی دقائق سے پر تحریر- مطبوعہ ممبئی وکراچی
(۹) مقامع الحدید علیٰ خدالمنطق الجدید…فلاسفہ و سائنس کے طبعی افکارپر اسلامی فکر و نظر کی توضیح- مطبوعہ مبارک پور، بریلی، ممبئی ولاہور

یہ صرف ایک جھلک ہے، تصانیفِ رضا جن کی تعداد ہزار کے لگ بھگ ہے؛ ان میں علم و تحقیق کا دریا رواں دواں ہے، درجنوں علمی مباحث قلمِ رضا سے تحریر ہو کر منصۂ شہود پر آئے ہیں۔ خوشہ چینانِ بزم علم وفن نے مطالعہ و تجزیہ کے بعد اسلوبِ رضا، علومِ رضا، فکرِ رضا، نثر و نظمِ رضا کا کھلے طور پر اعتراف کیا ہے؛ اورآپ کو اپنے عہد کا ’’عبقری‘‘ اور ’’نابغہ‘‘ مانا ہے... جب کہ تحقیقاتِ رضویہ کا فیضانِ علمی آج بھی رہبر و رہنما ہے۔مجموعہ فتاویٰ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ (قدیم ۱۲؍جلدیں- جدید ٣٢؍جلدیں) تو علم و فن کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی گہرائی و گیرائی سے متعلق کوثر نیازی فرماتے ہیں:

’’فقہ حنفی میں ہندستان میں دو کتابیں مستند ترین ہیں۔ ان میں سے ایک ’’فتاویٰ عالم گیریہ‘‘ ہے جو دراصل چالیس علما کی مشترکہ خدمت ہے۔ دوسرا ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ہے جس کی انفرادیت یہ ہے کہ جو کام چالیس علما نے مل کر انجام دیا وہ اس مرد مجاہد نے تنہا کرکے دکھا دیا ۔ اور یہ مجموعہ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ’’فتاویٰ عالم گیریہ‘‘ سے زیادہ جامع ہے ۔ اور میں نے جو آپ کو امام ابو حنیفہ ثانی کہا ہے وہ صرف محبت یا عقیدت میں نہیں کہا بلکہ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات کہہ رہا ہوں کہ آپ اس دور کے ابو حنیفہ ہیں۔ آپ کے فتاویٰ میں مختلف علوم و فنون پر جو بحثیں کی گئی ہیں ان کو پڑھ کر بڑے بڑے علما کی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ کاش کہ اعلیٰ حضرت کی حیات اس دور کو میسر آجاتی تاکہ آج کل کے پے چیدہ مسائل حل ہوسکتے ۔ کیوں کہ آپ کی تحقیق حتمی ہوتی، مزید کی گنجائش نہ ہوتی۔‘‘
(امام احمد رضا ایک ہمہ جہت شخصیت،ص ۳۰۔۳۳، رضا اسلامک مشن بنارس )

***
٢٤ جولائی ٢٠٢١ء
ترسیل: اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4258629034218776&id=100002151654486
👍1
تحقیقاتِ رضویہ .... رہبر و رہنما

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4258629034218776&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*کہیں تجارت چھوڑنا گمراہیت کا سبب تو نہیں بن گیا؟*

ہمارے آئمہ اور مقتدا دینی خدمات کے ساتھ ساتھ کاروبار، تجارت اور کام کاج میں بھی مصروف رہتے تھے،
ان میں ایک تعداد سرکاری عہدوں پر فائز ہوتی تھی، انہیں حکومت کی جانب سے وظائف مل جایا کرتے تھے.
مال و دولت کے معاملے میں بے نیاز ہونے کی بنا پر حق بولنے سے گریز کرتے اور نہ ہی دینی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوتی.

زوالِ امت کے بعد سے تاحال اتنے بند ٹوٹے کہ ایک باندھنے تک دوسرا بہا کر لے جاتا رہا.
تجارت اور کاروبار ایسا بند ہے جس کی طرف ہمارے مذہبی لوگوں نے توجہ نہ دی، تو اس کو دنیا دار طبقے نے سنبھال لیا اور مالامال ہو گئے.

ہراول دستے کے علما تو اتنے قناعت پسند تھے کہ انہوں نے روکھی سوکھی کھا کر اپنا گزرا کر لیا،
پھر زمانے نے کروٹ بدلی ایک بالشت پیٹ کے ساتھ ضروریاتِ زندگی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ اچھے خاصے پیسوں کے ساتھ ہی گزر بسر ممکن رہ سکتا تھا،

تجارت تو ویسے ہی چھوڑ چکے تھے تو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خطابت، نعت خوانی وغیرہ سے کام چلنے لگ گیا.

شروع کے بزرگ "جمع نہیں، منع نہیں اور طمع نہیں" پر عمل پیرا تھے.

لیکن اب سٹیجوں کی زینت بننے والے کثیر خطبا اور نعت خوان صرف "منع نہیں" پر عمل پیرا ہیں،

شرابیوں، زانیوں، سود خوروں، گمراہوں اور بدعقیدوں نے سوچا مال پاک کیا جائے تو انہوں نے محفلیں کروانا شروع کر دیں، جس میں نامور خطبا اور نعت خواں بلائے جانے لگے،
اب یہ ٹھرے تیز دنیا دار بندے، جب نوٹوں کی لہر سے سُر میں فرق آتا دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ بھی ہماری طرح تاجر ہی ہیں بس فرق صرف اتنا کہ یہ دین بیچتے ہیں...

تو تفضیلیوں، رافضیوں ،قادیانیوں اور گمراہوں کو موقع مل گیا.
انہوں نے پیسے کو پانی کی طرح بہایا جس میں بڑے بڑے پیر، مولوی، نعت خواں اور گویے بہتے چلے گئے..اکیلے ہی نہیں بلکہ اُن کے مریدین بھی گئے...

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبے گے.

مرید بیچارے تو نہ خدا ملا نہ وصال صنم(محبوب) کے مصداق ٹھرے مال پیر کھا گئے مریدوں کے لیے گمراہیت کی ہڈیاں رہ گئیں .

قصہ مختصر

اگر ہم نے تجارت اور کاروبار کو نہ چھوڑا ہوتا تو دین کی تجارت ہوتی، نہ نعت خواں نوٹ خوری کے چکر میں میراثی اور بھنڈ بنتے، نہ خطیب؛ تفضیلیوں کی گودیوں میں بیٹھتے، نہ امام مسجد کمیٹی کےصدر سے دبتے، نہ ہی حق بیانی میں کسی قسم کی رکاوٹ ہوتی...

فرحان رفیق قادری عفی عنہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#_منظوم_سوال_کا_منظوم_جواب

مجدد مئة ماضیہ صاحب حجة القاہرہ موئد ملت طاہرہ خاتم الفقہا الشاہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں حنفی ماتریدی قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ علیہ الرحمہ سے جس زبان میں سوال ہوتا آپ اسی زبان میں جواب تحریر فرماتے عام طور پر آپ سے عربی ، فارسی ، اردو زبانوں میں سوالات کئے گئے آپ نے انہیں زبانوں میں جوابات تحریر فرمائے جن کو فتاوی رضویہ شریف میں دیکھا جا سکتا ہے نیز آپ سے شعرا حضرات نے جب منظوم سوال کئے تو آپ نے منظوم جواب ہی تحریر فرمائے --- ماشاء اللہ سبحان اللہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=860328087918743&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
__ تعزیت نامہ ____

آہ!مفتی محمد ادریس رضوی (بنگلہ دیش) بھی وصال فرما گئے!
محمد راحت خاں قادری
دار العلوم فیضان تاج الشریعہ، بریلی شریف، انڈیا

عزیزگرامی قدر حضرت مولانا محمد نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلیٰ ’’الامین باریہ درس نظامی مدرسہ‘‘ چاٹگام، بنگلہ دیش کے ذریعہ یہ دل دہلادینے والی خبر ملی کہ بنگلہ دیش کے مشہور و معروف اور معمر عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد ادریس رضوی منظری، بانی مدرسہ اسلامیہ رضویہ(سرندیپ، بوال کھالی، چاٹگام، بنگلہ دیش) طویل علالت کے بعد آج 16؍ذی الحجہ1442ھ مطابق 27؍جولائی2021ء بروز منگل اذان عصر کے وقت ہم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے کر رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ

آپ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ کے قائم فرمودہ مشہور علمی ادارہ جامعہ رضویہ منظراسلام کے فارغ التحصیل، بنگلہ دیش کے نام ور اور جید عالم دین تھےسلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے عظیم بزرگ محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد رضوی علیہ الرحمہ کے شاگرد و خلیفہ تھے، آپ کا شمار شیرِ بنگلہ حضرت علامہ عزیز الحق علیہ الرحمہ کے خاص تلامذہ میں ہوتا تھا،آپ گوناگوں خوبیوں کے جامع، عالم باعمل متبع شریعت بزرگ تھے، متعدد کتابوں کے مصنف اور مختلف تنظیموں اور اداروں سے وابستہ تھے، خدائے تعالیٰ نے آپ کو عوام و خواص میں عظیم مقبولیت عطا فرمائی۔

حضرت سے میری بالمشافہہ تو ملاقات نہیں ہوسکی لیکن جب میرا قیام بنگلہ دیش میں تھا اسی وقت حضرت کی خانقاہ اور مدرسہ میں حاضری کی دعوت لے کر خود حضرت کے پوتے عزیزم محمد اکمل رضا سلمہ المنان تشریف لائے اور مجھے وہاں کے لیے مدعو کیا لیکن دوسرے دن کا میرا واپسی کا ٹکٹ تھا اس لیے میں نے اگلے سفر میں حاضری کے وعدے کے ساتھ معذرت کر لی لیکن دو سال سے عالمی وبا کورونا کی وجہ سے بنگلہ دیش حاضری ہی نہیں ہو سکی اور حضرت سے ملاقات کی خواہش ادھوری ہی رہی جس کی اب تکمیل نہیں ہوسکتی۔

آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد شعیب رضا، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ رضویہ سرندیپ، بوال کھالی جوایک جید عالم دین ہیںاعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری قدس سرہ کے دربار میں چند سال قبل عرس رضوی کے موقع پر تشریف لائے تھے اور بریلی شریف میں راقم کے مہمان بنے تھے۔
حضرت مفتی صاحب ایک با وقارو بارعب عالم، ماہر مفتی، دلائل و براہین سے مرصع مصنف، مشفق و مہربان استاذ،رشد وہدایت سے موصوف شیخ طریقت اور مذہب اسلام کے بے مثال رہنما تھے، سادگی آپ کا حسن ذاتی اور کم گوئی زینت گفتار تھی۔ آپ اگرچہ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن آپ کی دینی و مذہبی خدمات اور آپ کے وہ شاگرد و تلامذہ جنہوں نے آپ سے علم دین حاصل کیا اور آج بنگلہ دیش کے مختلف خطوں اور گوشوں میں اس کی ترویج اشاعت میں مشغول ہیں جن کے سبب آپ صبح قیامت تک زندہ تابندہ رہیں گے۔

آپ کا وصال پر ملال عالم اسلام کے لیے عظیم خسارہ ہےخصوصاً مسلمانانِ بنگلہ دیش آج ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہوگیےخدائے تعالیٰ مسلمانوں کو حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے۔حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد شعیب رضا، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ رضویہ سرندیپ، بوال کھالی اور دیگر اہل خانہ، عزیز و اقاریب مریدین و متوسلین اور تلامذہ و معتقدین کو میں تعزیت پیش کرتا ہو خدائے تعالیٰ آپ حضرات کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرمائے۔

انَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ، وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْراً مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجَاً خَيْراً مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ ۔ آمین یا رب العالمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

16؍ذی الحجہ1442ھ مطابق 27؍جولائی2021ء

https://www.facebook.com/186571468796775/posts/964606777659903/
تعزیت نامہ __

آہ!مفتی محمد ادریس رضوی (بنگلہ دیش) بھی وصال فرما گئے!
محمد راحت خاں قادری
دار العلوم فیضان تاج الشریعہ، بریلی شریف، انڈیا

https://www.facebook.com/186571468796775/posts/964606777659903/