Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
दैनिक पत्रिका वॉइस ऑफ हक़ @dailyVoiceOfHaq में #इस्लामी_हेल्पलाइन_सेशन (14वां हफ्ता) के तहत @UlamaHind #TUH के चैयरमेन, @IdaraeQuran #IQ के संस्थापक सेक्रेटरी और @RMustaqbil दिल्ली के सदस्य मुफ्ती #ख़ालिद_अय्यूब_मिस्बाही @khalidAyyoob द्वारा दिए गए सवालों के इस्लामी जवाब।
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/956077734962745/
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/956077734962745/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
कोकन बाढ़ पीड़ितों की मदद करें
नोटः जो हज़रात बतौर इमदाद जो भी रक़म भेजें, फ़ोन या वाटस्अप पर इस की इत्तेला ज़रूर दें।
अकाउंट डिटेल:
Acount Neme: Gulam Mustafa Rza
A/c Number: 9045748267
Kotak mahindra Bank Yamuna Vihar Delhi
IFSC Code: KKBK0004608
UPI roshanmustaqbil@ybl
Phone Pe 8077589465
मिनजानिबः रौशन मुस्तिक़बिल, दिल्ली
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/956766031560582/
नोटः जो हज़रात बतौर इमदाद जो भी रक़म भेजें, फ़ोन या वाटस्अप पर इस की इत्तेला ज़रूर दें।
अकाउंट डिटेल:
Acount Neme: Gulam Mustafa Rza
A/c Number: 9045748267
Kotak mahindra Bank Yamuna Vihar Delhi
IFSC Code: KKBK0004608
UPI roshanmustaqbil@ybl
Phone Pe 8077589465
मिनजानिबः रौशन मुस्तिक़बिल, दिल्ली
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/956766031560582/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
कोकन बाढ़ पीड़ितों की मदद करें नोटः जो हज़रात बतौर इमदाद जो भी रक़म भेजें, फ़ोन या वाटस्अप पर इस की इत्तेला ज़रूर दें। अकाउंट डिटेल: Acount Neme: Gulam Mustafa Rza A/c Number: 9045748267 Kotak mahindra Bank Yamuna Vihar Delhi IFSC Code: KKBK0004608 UPI r…
کوکن سیلاب متاثرین کی مدد کریں
اکاؤنٹ تفصیل:
Acount Neme: Gulam Mustafa Raza
A/c Number: 9045748267
Kotak mahindra Bank Yamuna Vihar Delhi
IFSC Code: KKBK0004608
UPI roshanmustaqbil@ybl
Phone Pe 8077589465
نوٹ: جو حضرات بطور امداد جو بھی بھیجیں فون/واٹس ایپ پر اس کی اطلاع ضرور دیں۔
منجانب: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/956767004893818/
اکاؤنٹ تفصیل:
Acount Neme: Gulam Mustafa Raza
A/c Number: 9045748267
Kotak mahindra Bank Yamuna Vihar Delhi
IFSC Code: KKBK0004608
UPI roshanmustaqbil@ybl
Phone Pe 8077589465
نوٹ: جو حضرات بطور امداد جو بھی بھیجیں فون/واٹس ایپ پر اس کی اطلاع ضرور دیں۔
منجانب: روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/956767004893818/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایثار و وَفا کے والہانہ نظارے اور درس ابراہیمی کی تجدید کا پیغام
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
ایفائے عہد کی صبح طلوع ہوئی... بیت المقدس کی باغ و بہار وادیوں سے مشیت ایزدی کے تحت تین رکنی قافلہ سوئے حجاز روانہ ہوا... صحراے حرم کی پاکیزہ لیکن بے آب و گیا وادی میں پہنچا... پہاڑیوں کے سلسلے دراز تھے... حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بصیرت نے محسوس کر لیا کہ اسی وادی میں سعادتوں کی صبح طلوع ہوگی... قافلے عشاق کے اقامت پذیر ہوں گے....
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کو بنیادِ کعبہ کے قُرب میں چھوڑا... عازم بیت المقدس ہو گئے... وادی حرم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدمِ ناز سے زم زم کا شفاف و شیریں چشمہ رواں دواں ہو گیا... حیات کے غنچے کھل اُٹھے.... شرفا کے قافلے آنے لگے... عقیدتوں کی جبیں سوئے حرم جھکنے لگی... جمالِ خلیل اور جلالِ حرم سے نور پھیلنے لگا... وادیاں سیراب ہونے لگیں... محبتوں کی صبح طلوع ہوئی...
حضرت ابراہیم علیہ السلام وادیِ قدس سے ارضِ حرم میں جا بسے... حکمِ الٰہی کا پاکیزہ لمحہ آن پہنچا... چشم فلک نے ایثار کے جلوے نظارہ کرنے تھے... سعادتوں کی ایک صبح تھی... پیکرِ وَفا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اطاعت کی جبیں خم کر دی... تسلیم و رضا کا نرالا امتحان تھا... عظیم والد حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماں بردار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر وادی منیٰ کی راہ چل پڑے... معبودِ حقیقی کے حکم کی تعمیل ہونے والی تھی...
منیٰ کی وادیاں سراپا دید تھیں... طاعت و رضا کا نظارہ قریب تھا... حکم الٰہی سے گردنیں جھکی تھیں... ایثار کے گلشن سجے ہوئے تھے... چشم فلک حیران... فضائے منیٰ سراپا جستجو... ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا ہی گیا تھا؛ طاعت کی گردن قربان ہونے کو آمادہ تھی... کہ قربانی کی قبولیت کی ندا بلند ہوئی...
"اور ہم نے انھیں آواز دی کہ اے ابراہیم! بلاشبہہ تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا... ہم اپنے نیکوکار بندوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں... یقیناً یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی... اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اسماعیل کے اوپر سے نثار کر دیا... اور آنے والی نسلوں میں ہم نے اس کی یادگار قائم کر دی... سلام ہو ابراہیم (جیسے مخلص دوست) پر... " (سورۃ الصّٰفٰت، ٣٧: ١٠٤-١٠٩)
متاعِ عشق سلامت رہی... امتحان کی گھڑی تسلیم و رضا کے لالہ و گل کھلا گئی... روشنی کے ہزاروں مینار تعمیر ہوئے... امتحان کے قافلے کامیابی سے وادی حرم میں ٹھہر گئے... امتحان کے قرینے رضاے الٰہی کا نشانِ امتیاز بن گئے... حج کا رُکن قرار پائے... طاعت کا نشاں بن گئے...
صبح قیامت تک قربانیوں کی یادیں تازہ کی جاتی رہیں گی... جس سے استقامت فی الدین کا لازوال درس اہلِ ایماں کو ملتا رہے گا... ایثار کے میناروں پر عزم و یقیں کی قندیلیں فروزاں رہیں گی... آج پھر ایثار کی ضرورت ہے... آج پھر القدس پر یہودی یلغار ہے... آج پھر وادیِ حرمین میں شیاطین عہد کے عیش کدے آباد ہیں... اسیرانِ مغرب کی جبیں طاغوت کے دَر جھکی ہوئی ہے... آبروے حرم بیچنے والے دشمنانِ اسلام کے باج گزار ہیں... حرم کی پاسبانی کو ایثار کی ضرورت ہے...
اہلِ ایماں! جاگو!! چمن پر زاغوں کا تصرف ہے... گلشن کی تباہی کو ہر شاخ رہزنوں سے جھوجھ رہی ہے... ہر سال درس ایثار وادیِ منیٰ سے ملتا ہے... وفاداری کی محفلیں آراستہ ہو جاتی ہیں... اہلِ مغرب کو یہ تردد ہے کہ اسلام زندہ ہے... غیرتوں کے پیمانے لبریز ہیں... ہاں! شاہان وقت بِکے ہوئے ہیں... خونِ مسلم میں بوے وَفا باقی ہے... مادۂ غیرت زندہ ہے:
آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
قربانی عزم و یقیں کا پہلا درس ہے... محبتوں کے خوگر دیوانہ وار چلے آتے ہیں... جانوں کے نذرانے بارگاہِ الٰہی میں پیش کر دیتے ہیں... غیرتوں کے تقاضے سمجھے جائیں... قربانی سے عزیمتوں کے خمیر تیار کیے جائیں... یہود و انگریز کے ظالمانہ پنجوں کو مروڑ دیا جائے.. شعارِ شرکیہ پر قدغن لگایا جائے... تا کہ وادی پاکیزہ رہے اور گلشن مشک بار... اسلاف نے اسی کا دَرس دیا... باخبر رہیں... رہِ اسلاف پر چلتے رہیں... ان شاء اللہ! بے راہ نہیں ہوں گے... اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
****
٢١ جولائی ٢٠٢١ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4248013475280332&id=100002151654486
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
ایفائے عہد کی صبح طلوع ہوئی... بیت المقدس کی باغ و بہار وادیوں سے مشیت ایزدی کے تحت تین رکنی قافلہ سوئے حجاز روانہ ہوا... صحراے حرم کی پاکیزہ لیکن بے آب و گیا وادی میں پہنچا... پہاڑیوں کے سلسلے دراز تھے... حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بصیرت نے محسوس کر لیا کہ اسی وادی میں سعادتوں کی صبح طلوع ہوگی... قافلے عشاق کے اقامت پذیر ہوں گے....
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کو بنیادِ کعبہ کے قُرب میں چھوڑا... عازم بیت المقدس ہو گئے... وادی حرم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدمِ ناز سے زم زم کا شفاف و شیریں چشمہ رواں دواں ہو گیا... حیات کے غنچے کھل اُٹھے.... شرفا کے قافلے آنے لگے... عقیدتوں کی جبیں سوئے حرم جھکنے لگی... جمالِ خلیل اور جلالِ حرم سے نور پھیلنے لگا... وادیاں سیراب ہونے لگیں... محبتوں کی صبح طلوع ہوئی...
حضرت ابراہیم علیہ السلام وادیِ قدس سے ارضِ حرم میں جا بسے... حکمِ الٰہی کا پاکیزہ لمحہ آن پہنچا... چشم فلک نے ایثار کے جلوے نظارہ کرنے تھے... سعادتوں کی ایک صبح تھی... پیکرِ وَفا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اطاعت کی جبیں خم کر دی... تسلیم و رضا کا نرالا امتحان تھا... عظیم والد حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماں بردار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر وادی منیٰ کی راہ چل پڑے... معبودِ حقیقی کے حکم کی تعمیل ہونے والی تھی...
منیٰ کی وادیاں سراپا دید تھیں... طاعت و رضا کا نظارہ قریب تھا... حکم الٰہی سے گردنیں جھکی تھیں... ایثار کے گلشن سجے ہوئے تھے... چشم فلک حیران... فضائے منیٰ سراپا جستجو... ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا ہی گیا تھا؛ طاعت کی گردن قربان ہونے کو آمادہ تھی... کہ قربانی کی قبولیت کی ندا بلند ہوئی...
"اور ہم نے انھیں آواز دی کہ اے ابراہیم! بلاشبہہ تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا... ہم اپنے نیکوکار بندوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں... یقیناً یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی... اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اسماعیل کے اوپر سے نثار کر دیا... اور آنے والی نسلوں میں ہم نے اس کی یادگار قائم کر دی... سلام ہو ابراہیم (جیسے مخلص دوست) پر... " (سورۃ الصّٰفٰت، ٣٧: ١٠٤-١٠٩)
متاعِ عشق سلامت رہی... امتحان کی گھڑی تسلیم و رضا کے لالہ و گل کھلا گئی... روشنی کے ہزاروں مینار تعمیر ہوئے... امتحان کے قافلے کامیابی سے وادی حرم میں ٹھہر گئے... امتحان کے قرینے رضاے الٰہی کا نشانِ امتیاز بن گئے... حج کا رُکن قرار پائے... طاعت کا نشاں بن گئے...
صبح قیامت تک قربانیوں کی یادیں تازہ کی جاتی رہیں گی... جس سے استقامت فی الدین کا لازوال درس اہلِ ایماں کو ملتا رہے گا... ایثار کے میناروں پر عزم و یقیں کی قندیلیں فروزاں رہیں گی... آج پھر ایثار کی ضرورت ہے... آج پھر القدس پر یہودی یلغار ہے... آج پھر وادیِ حرمین میں شیاطین عہد کے عیش کدے آباد ہیں... اسیرانِ مغرب کی جبیں طاغوت کے دَر جھکی ہوئی ہے... آبروے حرم بیچنے والے دشمنانِ اسلام کے باج گزار ہیں... حرم کی پاسبانی کو ایثار کی ضرورت ہے...
اہلِ ایماں! جاگو!! چمن پر زاغوں کا تصرف ہے... گلشن کی تباہی کو ہر شاخ رہزنوں سے جھوجھ رہی ہے... ہر سال درس ایثار وادیِ منیٰ سے ملتا ہے... وفاداری کی محفلیں آراستہ ہو جاتی ہیں... اہلِ مغرب کو یہ تردد ہے کہ اسلام زندہ ہے... غیرتوں کے پیمانے لبریز ہیں... ہاں! شاہان وقت بِکے ہوئے ہیں... خونِ مسلم میں بوے وَفا باقی ہے... مادۂ غیرت زندہ ہے:
آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
قربانی عزم و یقیں کا پہلا درس ہے... محبتوں کے خوگر دیوانہ وار چلے آتے ہیں... جانوں کے نذرانے بارگاہِ الٰہی میں پیش کر دیتے ہیں... غیرتوں کے تقاضے سمجھے جائیں... قربانی سے عزیمتوں کے خمیر تیار کیے جائیں... یہود و انگریز کے ظالمانہ پنجوں کو مروڑ دیا جائے.. شعارِ شرکیہ پر قدغن لگایا جائے... تا کہ وادی پاکیزہ رہے اور گلشن مشک بار... اسلاف نے اسی کا دَرس دیا... باخبر رہیں... رہِ اسلاف پر چلتے رہیں... ان شاء اللہ! بے راہ نہیں ہوں گے... اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
****
٢١ جولائی ٢٠٢١ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4248013475280332&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور اشرف الفقہاء*
دینی و علمی مجالس کے آئینے میں
{ملفوظات و ارشادات ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتےاور شرعی مسائل کی تفہیم سے فروغِ علم کا پیغام ملتا}
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/243975860890942/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
نگاہِ حضور مفتی اعظم کی جلوہ گری تھی کہ؛ جو اُن کے دامن سے وابستہ ہوا چمک گیا، جو اُن کے زیرِ تربیت رہا؛ زمانے پر چھا گیا، اپنی دینی و علمی خدمات کے نقوش اِس جہان میں چھوڑ گیا۔ ایسی ہی شخصیت خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی تھی۔ آپ نے طویل عمر پائی، نصف صدی سے زیادہ مدت تک دین متین کی نشر و اشاعت اور فروغِ حق و صداقت کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔ ہمہ جہت پہلوؤں سے اصلاحِ مسلمین کا مبارک فریضہ انجام دیتے رہے۔
بنیادی طور پر خطیب، مصلح، مفکر اور داعیِ اسلام تھے۔ لیکن جہاں جاتے مجالس علمی سج جاتیں۔ جوق دَر جوق خلقت آتی، بیعت ہوتی، ایمان تازہ کرتی اور روحانی برکتوں کی خوش گوار فضا میں رُخصت ہوتی۔ آپ کی نجی مجالس بھی فروغِ دین و اصلاحِ مسلمین کا مؤثر ذریعہ تھیں۔ حاضر باش اس کے شاہد و موئید ہیں۔ راقم نے سیکڑوں مجالس میں شرکت کی اور پل پل تقویٰ و طہارت اور اخلاقی تطہیر و فکری پاکیزگی کا مشاہدہ و نظارہ کیا۔
مجالسِ اشرف الفقہاء ہمہ جہت عناوین کو محیط ہیں۔ جس کا اجمال بشکلِ نکات درج کیا جاتا ہے:
[۱] حضور اشرف الفقہاء کی مجالس عموماً بوقت بعد نمازِ عصر ، بعد نمازِ مغرب اور شب میں بعد از خطاب اقامت گاہ پر آراستہ ہوتیں، جہاں آپ اپنے ملفوظاتِ عالیہ سے نوازتے۔ ہمہ جہت عناوین پر گفتگو ہوتی لیکن سب کا ایک ہی مقصد ہوتا، تقویتِ دین و حفاظتِ ایمان و عمل۔
[۲] حضور اشرف الفقہاء بڑی متانت سے گفتگو فرماتے۔ ہر فرد سے اس کی لیاقت یا Statusکے مطابق مخاطب ہوتے۔ عام لوگوں سے عام فہم انداز میں بات کرتے۔ سبھی کی خیریت دریافت فرماتے۔ خندہ پیشانی سے ملتے۔
[۳] عموماً نشست بڑی سادہ ہوتی۔ مسہری کے ایک سِرے پر براجمان ہوتے، لیکن قدموں کو سمیٹ کر بیٹھتے۔ پیروں کو پھیلائے ہم نے مجالست نہیں دیکھی۔ انکسار و عاجزی کے انداز میں بیٹھتے۔
[۴] لوگ مسائل کے حل نیز روحانی معاملات میں رہنمائی لینے حاضر آتے۔ ہر ایک سے مسائل معلوم کر کے ان کا دینی حل بتاتے۔
[۵] جسے تعویذ کی ضرورت ہوتی، تعویذ عطا فرماتے۔ لیکن اسی کے ساتھ پابندیِ صوم و صلوٰۃ کی نصیحت ضرور فرماتے۔
[۶] پیچیدہ معاملات میں بھی دُعاؤں کی سوغات دیتے، بعد کو مشاہدہ ہوا کہ پیچیدگی دور ہوئی اور سائل مطمئن ہوا۔
[۷] باہمی رنجش کے مسائل میں اتحاد و اخوت کی فضا استوار فرماتے۔ ہم مزاج و ہم خیال افراد میں اختلافی فضا آپ کی مجالس میں دور ہو جاتیں۔
[۸] عقائد کے معاملے میں تصلب و استقامت کو مقدم رکھتے۔ اس میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ گوارا نہ تھا۔ مومن کی یہی صفت ہو کہ ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کی عملی تعبیر تھے۔ اپنوں سے نرم مزاجی صفت تھی اور بارگاہِ رسالت ﷺ کے دُشمنوں کے لیے گویا فولاد تھے۔
[۹] مرید ہونے کوئی آتا تو مرید بھی بناتے ساتھ ہی شریعت پر سختی سے گامزن رہنے کی نصیحت فرماتے۔ تمام باطل فرقوں سے بچنے کی تلقین لازماً کرتے۔
[۱۰]خواتین اسلام کے لیے پردے کی تاکید و نصیحت فرماتے۔ بیعت بھی پردہ کے توسط سے فرماتے۔ عموماً ہم لوگ جب بھی بیعت کے لیے خواتین یا بچیوں کے نام پیش کرتے تو داخلِ سلسلہ فرماتے ۔ جب کہ احباب کو بیعت کروانا ہوتا تو مجلس میں لے کر جاتے۔
[۱۱]علمی مسائل پر سوالات کیے جاتے، خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیتے۔ دلائل بھی عام فہم انداز میں پیش کرتے۔ گفتگو میں توضیحی و تشریحی پہلو غالب ہوتا۔
[۱۲] حضور اشرف الفقہاء کی بارگاہ میں بیٹھنے والا ہر فرد اس بات کی گواہی دے گا کہ شفقت و مروت کا معاملہ فرماتے اور ہر فرد کی ضرورت پوچھتے اور مناسب حل فرماتے۔
[۱۳]راقم جب ملنے جاتا، اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت کی دینی، علمی، اعتقادی و اصلاحی خدمات پر ہونے والے تحقیقی کاموں کی بابت ضرور پوچھتے۔ ترجمۂ قرآن کنزالایمان، فتاویٰ رضویہ،فتاویٰ مصطفویہ کی توسیع کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو سراہتے۔ گھنٹوں اعلیٰ حضرت کا تذکرہ بصد ذوق فرماتے ۔ سامعین سنتے رہتے۔ اور شرکا کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔
[۱۴] تفہیم اشعارِ رضا کے سلسلے میں اکثر استفسار کیا جاتا۔بہت انہماک سے توضیح فرماتے، انشراح صدر ہوتا۔ نعتیہ اشعارِ رضا پر جب بات ہوتی تو مجلس میں نورانیت بڑھ جاتی۔ محبت رسول ﷺ کی پاکیزہ فضا قائم ہوتی۔ ذکرِ رسول ﷺ کی یہ بزم طویل ہو جاتی۔ تشنگی باقی رہتی۔
[۱۵] جب کسی کے یہاں دعوت پر تشریف لے جاتے، ہر ایک کی دل جوئی فرماتے۔ غذا بہت قلیل تناول کرتے۔ دوسروں کا خیال رکھتے کہ تمام لوگ کھانے سے فارغ ہو لیں۔ برکتوں کی دُعا کرتے۔ جنھیں تعویذ کی ضرورت ہوتی تعویذ دیتے۔ دُعائیں دیتے۔ نصیحتیں کرتے ہوئے رُخصت ہوتے۔
دینی و علمی مجالس کے آئینے میں
{ملفوظات و ارشادات ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتےاور شرعی مسائل کی تفہیم سے فروغِ علم کا پیغام ملتا}
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/243975860890942/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
نگاہِ حضور مفتی اعظم کی جلوہ گری تھی کہ؛ جو اُن کے دامن سے وابستہ ہوا چمک گیا، جو اُن کے زیرِ تربیت رہا؛ زمانے پر چھا گیا، اپنی دینی و علمی خدمات کے نقوش اِس جہان میں چھوڑ گیا۔ ایسی ہی شخصیت خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی تھی۔ آپ نے طویل عمر پائی، نصف صدی سے زیادہ مدت تک دین متین کی نشر و اشاعت اور فروغِ حق و صداقت کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔ ہمہ جہت پہلوؤں سے اصلاحِ مسلمین کا مبارک فریضہ انجام دیتے رہے۔
بنیادی طور پر خطیب، مصلح، مفکر اور داعیِ اسلام تھے۔ لیکن جہاں جاتے مجالس علمی سج جاتیں۔ جوق دَر جوق خلقت آتی، بیعت ہوتی، ایمان تازہ کرتی اور روحانی برکتوں کی خوش گوار فضا میں رُخصت ہوتی۔ آپ کی نجی مجالس بھی فروغِ دین و اصلاحِ مسلمین کا مؤثر ذریعہ تھیں۔ حاضر باش اس کے شاہد و موئید ہیں۔ راقم نے سیکڑوں مجالس میں شرکت کی اور پل پل تقویٰ و طہارت اور اخلاقی تطہیر و فکری پاکیزگی کا مشاہدہ و نظارہ کیا۔
مجالسِ اشرف الفقہاء ہمہ جہت عناوین کو محیط ہیں۔ جس کا اجمال بشکلِ نکات درج کیا جاتا ہے:
[۱] حضور اشرف الفقہاء کی مجالس عموماً بوقت بعد نمازِ عصر ، بعد نمازِ مغرب اور شب میں بعد از خطاب اقامت گاہ پر آراستہ ہوتیں، جہاں آپ اپنے ملفوظاتِ عالیہ سے نوازتے۔ ہمہ جہت عناوین پر گفتگو ہوتی لیکن سب کا ایک ہی مقصد ہوتا، تقویتِ دین و حفاظتِ ایمان و عمل۔
[۲] حضور اشرف الفقہاء بڑی متانت سے گفتگو فرماتے۔ ہر فرد سے اس کی لیاقت یا Statusکے مطابق مخاطب ہوتے۔ عام لوگوں سے عام فہم انداز میں بات کرتے۔ سبھی کی خیریت دریافت فرماتے۔ خندہ پیشانی سے ملتے۔
[۳] عموماً نشست بڑی سادہ ہوتی۔ مسہری کے ایک سِرے پر براجمان ہوتے، لیکن قدموں کو سمیٹ کر بیٹھتے۔ پیروں کو پھیلائے ہم نے مجالست نہیں دیکھی۔ انکسار و عاجزی کے انداز میں بیٹھتے۔
[۴] لوگ مسائل کے حل نیز روحانی معاملات میں رہنمائی لینے حاضر آتے۔ ہر ایک سے مسائل معلوم کر کے ان کا دینی حل بتاتے۔
[۵] جسے تعویذ کی ضرورت ہوتی، تعویذ عطا فرماتے۔ لیکن اسی کے ساتھ پابندیِ صوم و صلوٰۃ کی نصیحت ضرور فرماتے۔
[۶] پیچیدہ معاملات میں بھی دُعاؤں کی سوغات دیتے، بعد کو مشاہدہ ہوا کہ پیچیدگی دور ہوئی اور سائل مطمئن ہوا۔
[۷] باہمی رنجش کے مسائل میں اتحاد و اخوت کی فضا استوار فرماتے۔ ہم مزاج و ہم خیال افراد میں اختلافی فضا آپ کی مجالس میں دور ہو جاتیں۔
[۸] عقائد کے معاملے میں تصلب و استقامت کو مقدم رکھتے۔ اس میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ گوارا نہ تھا۔ مومن کی یہی صفت ہو کہ ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کی عملی تعبیر تھے۔ اپنوں سے نرم مزاجی صفت تھی اور بارگاہِ رسالت ﷺ کے دُشمنوں کے لیے گویا فولاد تھے۔
[۹] مرید ہونے کوئی آتا تو مرید بھی بناتے ساتھ ہی شریعت پر سختی سے گامزن رہنے کی نصیحت فرماتے۔ تمام باطل فرقوں سے بچنے کی تلقین لازماً کرتے۔
[۱۰]خواتین اسلام کے لیے پردے کی تاکید و نصیحت فرماتے۔ بیعت بھی پردہ کے توسط سے فرماتے۔ عموماً ہم لوگ جب بھی بیعت کے لیے خواتین یا بچیوں کے نام پیش کرتے تو داخلِ سلسلہ فرماتے ۔ جب کہ احباب کو بیعت کروانا ہوتا تو مجلس میں لے کر جاتے۔
[۱۱]علمی مسائل پر سوالات کیے جاتے، خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیتے۔ دلائل بھی عام فہم انداز میں پیش کرتے۔ گفتگو میں توضیحی و تشریحی پہلو غالب ہوتا۔
[۱۲] حضور اشرف الفقہاء کی بارگاہ میں بیٹھنے والا ہر فرد اس بات کی گواہی دے گا کہ شفقت و مروت کا معاملہ فرماتے اور ہر فرد کی ضرورت پوچھتے اور مناسب حل فرماتے۔
[۱۳]راقم جب ملنے جاتا، اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت کی دینی، علمی، اعتقادی و اصلاحی خدمات پر ہونے والے تحقیقی کاموں کی بابت ضرور پوچھتے۔ ترجمۂ قرآن کنزالایمان، فتاویٰ رضویہ،فتاویٰ مصطفویہ کی توسیع کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو سراہتے۔ گھنٹوں اعلیٰ حضرت کا تذکرہ بصد ذوق فرماتے ۔ سامعین سنتے رہتے۔ اور شرکا کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔
[۱۴] تفہیم اشعارِ رضا کے سلسلے میں اکثر استفسار کیا جاتا۔بہت انہماک سے توضیح فرماتے، انشراح صدر ہوتا۔ نعتیہ اشعارِ رضا پر جب بات ہوتی تو مجلس میں نورانیت بڑھ جاتی۔ محبت رسول ﷺ کی پاکیزہ فضا قائم ہوتی۔ ذکرِ رسول ﷺ کی یہ بزم طویل ہو جاتی۔ تشنگی باقی رہتی۔
[۱۵] جب کسی کے یہاں دعوت پر تشریف لے جاتے، ہر ایک کی دل جوئی فرماتے۔ غذا بہت قلیل تناول کرتے۔ دوسروں کا خیال رکھتے کہ تمام لوگ کھانے سے فارغ ہو لیں۔ برکتوں کی دُعا کرتے۔ جنھیں تعویذ کی ضرورت ہوتی تعویذ دیتے۔ دُعائیں دیتے۔ نصیحتیں کرتے ہوئے رُخصت ہوتے۔
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.