اسے سیدھا لٹا دو ، منھ قبلے شریف کی طرف کردو ، کپڑے کے ساتھ اس کے جبڑے باندھ دو ۔۔۔۔۔۔ اِس کے قد کی پیمائش کرلو ، اور اُس کے مطابق اِس کے رہنے کی جگہ بناؤ ۔
سب کچھ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
اب اس کے بدن سے کپڑے اتار لو ، اور ایک تہبند لپیٹ کر اسے غسل دو ۔
جی دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسے کندھوں پر اٹھاؤ اور ہمیشہ کے لیے اس گھر میں چھوڑ آؤ جو اِس کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
یہ سننے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں کندھوں پر اٹھا کے اُس گھر کی طرف چل پڑیں گے ۔۔۔۔ اور وہاں تن تنہا چھوڑ کر سب واپس لوٹ آئیں گے ۔
پھر ہمارے ساتھ کیا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! 😢😥 ؎
ساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا
بے کسی یار ہے ، کیا ہونا ہے
ارے او مجرم بے پَروا دیکھ !
سر پہ تلوار ہے ، کیا ہونا ہے
لے وہ حاکِم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے
ان کو رَحم آئے تو آئے ، ورنہ
وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے
✍️لقمان شاہد
16-7-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210077442605756&id=100008105947430
سب کچھ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
اب اس کے بدن سے کپڑے اتار لو ، اور ایک تہبند لپیٹ کر اسے غسل دو ۔
جی دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسے کندھوں پر اٹھاؤ اور ہمیشہ کے لیے اس گھر میں چھوڑ آؤ جو اِس کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
یہ سننے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں کندھوں پر اٹھا کے اُس گھر کی طرف چل پڑیں گے ۔۔۔۔ اور وہاں تن تنہا چھوڑ کر سب واپس لوٹ آئیں گے ۔
پھر ہمارے ساتھ کیا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! 😢😥 ؎
ساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا
بے کسی یار ہے ، کیا ہونا ہے
ارے او مجرم بے پَروا دیکھ !
سر پہ تلوار ہے ، کیا ہونا ہے
لے وہ حاکِم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے
ان کو رَحم آئے تو آئے ، ورنہ
وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے
✍️لقمان شاہد
16-7-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210077442605756&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کریم و رحیم نبی ﷺ نے فرمایا:
( مرنے کے بعد ) جس مسلمان کے اچھا ہونے کی چار بندے گواہی دے دیں ، اللہ پاک ﷻ اسے جنت میں داخل کردے گا ۔
( الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف ، کتاب الجنائز ، باب الترغیب فی الدعاء للمیت واحسان الثناء علیہ ۔۔۔۔۔۔۔ص600 ، ر5165 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س 2014 ء ۔ حدیث صحیح )
خدا کرے ، ہمارے مرنے کے بعد مسلمان ہمارے حق میں اچھی ہی گواہی دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوررب تعالیٰ دنیا آخرت میں ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھے ۔ 😢
✍️لقمان شاہد
17-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210344412579059&id=100008105947430
( مرنے کے بعد ) جس مسلمان کے اچھا ہونے کی چار بندے گواہی دے دیں ، اللہ پاک ﷻ اسے جنت میں داخل کردے گا ۔
( الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف ، کتاب الجنائز ، باب الترغیب فی الدعاء للمیت واحسان الثناء علیہ ۔۔۔۔۔۔۔ص600 ، ر5165 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س 2014 ء ۔ حدیث صحیح )
خدا کرے ، ہمارے مرنے کے بعد مسلمان ہمارے حق میں اچھی ہی گواہی دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوررب تعالیٰ دنیا آخرت میں ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھے ۔ 😢
✍️لقمان شاہد
17-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210344412579059&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فرمایاامام رازی نے مفاتیح الغیب میں کہ:
سورةواللیل ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سورت ہے ، اور سورة والضحیٰ محمدﷺکی سورت ہے ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اِن سورتوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہ رکھا ، تاکہ معلوم ہو کہ محمدﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوٸی شخص واسطہ نہیں ۔
تو اگر تم پہلے واللیل کا ذکر کرو تو وہ ابوبکر ہیں ، پھر چڑھو تو اس کے بعد دن کو پاؤگے ۔۔۔۔۔۔ تو وہ محمدﷺ ہیں ۔
اور اگر تم پہلے والضحی کا ذکر کرو اور وہ محمدﷺ ہیں ، پھر اترو تو اس کے بعد واللیل کو پاؤگے اور وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ؛ تاکہ معلوم ہو جاۓ کہ ان دونوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہیں ۔
(فتاویٰ رضویہ جلد 28 صفحہ 679)
( ملک شکیل اعوان قادری کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3211228635823970&id=100008105947430
فرمایاامام رازی نے مفاتیح الغیب میں کہ:
سورةواللیل ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سورت ہے ، اور سورة والضحیٰ محمدﷺکی سورت ہے ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اِن سورتوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہ رکھا ، تاکہ معلوم ہو کہ محمدﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوٸی شخص واسطہ نہیں ۔
تو اگر تم پہلے واللیل کا ذکر کرو تو وہ ابوبکر ہیں ، پھر چڑھو تو اس کے بعد دن کو پاؤگے ۔۔۔۔۔۔ تو وہ محمدﷺ ہیں ۔
اور اگر تم پہلے والضحی کا ذکر کرو اور وہ محمدﷺ ہیں ، پھر اترو تو اس کے بعد واللیل کو پاؤگے اور وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ؛ تاکہ معلوم ہو جاۓ کہ ان دونوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہیں ۔
(فتاویٰ رضویہ جلد 28 صفحہ 679)
( ملک شکیل اعوان قادری کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3211228635823970&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ایک سو کارو بار کی فہرست بالخصوص علمائے کرام کے لئے https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3207263862887114&id=100008105947430
خواتین کسی کے ہاں ملازمت کرنے کےبجائے ، اپنے ذاتی کاروبار کو ترجیح دیں ۔
کیوں کہ:
ملازمت ساری زندگی آدابِ غلامی سکھاتی ہے ، جب کہ اپنا کاروبار خود داری سکھاتا ہے ۔
ویسے بھی دانا کہتے ہیں کہ نوکری کرنے والا کبھی امیر نہیں ہوتا ، کاروبار امیری لاتا ہے ۔
نیچے 53 کاروباروں کی فہرست دی گئی ہے ، آپ ساری فہرست توجہ سے پڑھیں اور اس میں سے اپنے لیے کاروبار منتخب کرلیں ۔
ہماری ماں پاک سیدہ خدیجہ بھی مکہ مکرمہ کی ایک کاروباری شخصیت تھیں ، آپ کے مال نے اسلام کو بہت نفع پہنچایا ۔
اللہ توفیق دے تو آپ بھی اپنے حلال مال سے دین اسلام کی خدمت کرنے والی بن جائیں ۔
✍️لقمان شاہد
15-7-2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3209572852656215&id=100008105947430
کیوں کہ:
ملازمت ساری زندگی آدابِ غلامی سکھاتی ہے ، جب کہ اپنا کاروبار خود داری سکھاتا ہے ۔
ویسے بھی دانا کہتے ہیں کہ نوکری کرنے والا کبھی امیر نہیں ہوتا ، کاروبار امیری لاتا ہے ۔
نیچے 53 کاروباروں کی فہرست دی گئی ہے ، آپ ساری فہرست توجہ سے پڑھیں اور اس میں سے اپنے لیے کاروبار منتخب کرلیں ۔
ہماری ماں پاک سیدہ خدیجہ بھی مکہ مکرمہ کی ایک کاروباری شخصیت تھیں ، آپ کے مال نے اسلام کو بہت نفع پہنچایا ۔
اللہ توفیق دے تو آپ بھی اپنے حلال مال سے دین اسلام کی خدمت کرنے والی بن جائیں ۔
✍️لقمان شاہد
15-7-2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3209572852656215&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
💥 *قربانی-غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح*💥
🖋: محمد داؤد علی مصباحی، گیا
استاذ:دار العلوم غوث اعظم مسکیڈیہ ہزاری باغ
4/ذی الحجہ1441ھ
قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں قربانی کی بڑی تاکید اور فضیلتیں آئی ہیں ۔
اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر[الكوثر:٢]یعنی اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ".۔[سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَابٌ : الْأَضَاحِيُّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا]
یعنی جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔
قربانی کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں کچھ غلط فہمیاں بسی ہوئی ہیں، درج ذیل سطور میں ان کی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
*غلط فہمی*[1] میاں بیوی میں سے کسی ایک یا گھر کے تمام افراد میں سے صرف ایک کی طرف سے قربانی کرنا کافی ہے ۔
*اصلاح :* ایک گھر میں میاں بیوی، بھائی بہن اور ماں باپ جتنے افراد مالک نصاب ہوں ان سب پر قربانی واجب ہے۔ کیوں کہ "قربانی ہر عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد و عورت مالک نصاب پر واجب ہے"۔ (فتاوی ہندیہ)
*غلط فہمی*[2] جس کا عقیقہ نہیں ہوا وہ عقیقہ کیے بغیر قربانی نہیں کرسکتا۔
*اصلاح:* یہ خیال باطل ہے۔ اگر وہ مالک نصاب ہو اور دوسری شرطیں بھی موجود ہوں تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ اور عقیقہ کیے بغیر اس کی قربانی جائز و درست ہوگی۔
*غلط فہمی*[3] اپنی طرف سے قربانی نہ کرکے کسی رشتہ دار کے نام سے قربانی کرنا ۔
*اصلاح :* جس پر قربانی واجب ہے اس کو خود اپنے نام سے قربانی کرنی چاہیے دوسرے کے نام سے کرے گا تو واجب ساقط نہ ہوگا ۔ اگر کسی رشتہ دار کی طرف سے کرنا چاہے تو اس کے لیے الگ سے انتظام کرے پھر بھی دوسروں کی طرف سے جو قربانی کی ہوگئی اور ایام قربانی باقی ہوں تو یہ خود قربانی کرے ،گذرنے پر قربانی کی قیمت صدقہ کرے۔(فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:315)
*غلط فہمی*[4] قربانی کی جگہ حاجت مندوں کو اس کی رقم صدقہ کر دینا چاہیے ۔
*اصلاح:* قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب اگر ایک جانور کے بجاے کئی جانوروں کی قیمت بلکہ خود قربانی کا جانور ہی کیوں نہ صدقہ کردے پھر بھی بری الذمہ نہ ہوگا جب تک کہ جانور قربان نہ کرے۔(فتاوی ہندیہ)
ہاں صدقہ کرنے کا اجر ملے گا،لیکن واجب کو ترک کرنے کا گناہ بھی ہوگا۔
لہذا اگر کوئی صدقہ کرنا ہی چاہے تو اپنے نام سے قربانی کرے اور الگ سے غریبوں کی مدد کرے ۔
*غلط فہمی*[5 ] کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کی زمین پر قربانی واجب ہے جب کہ اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے۔ یا یہ سمجھتے ہیں کہ کسی قسم کی زمین پر قربانی نہیں۔
*اصلاح:* اس کے متعلق سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں:
فتاوی رضویہ میں دونوں طرح کے فتاوی ہیں زمین کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا آمدنی کا جس کی نظر سے جو فتوی گزرا اس نے اس کے مطابق حکم دیا کسی نے زمین کی قیمت کا اعتبار کیا اور کسی نے آمدنی کا البتہ تطبیق یہ ہے کہ زمین کئی طرح کی ہوتی ہے :
1- ایک پلاٹ کی زمین ہوتی ہے یعنی اس کو کبھی بھی بیچنے کا ارادہ ہے اور ذریعہ معاش اس کے علاوہ ہے تو اگر اس پلاٹ کی قیمت نصاب کو پہنچے تو اس پر قربانی واجب ہے.
2- ایک کاشت کی زمین ہوتی ہے کہ اس میں کھیتی کرتا ہو اور یہی ذریعہ معاش ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں :
اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا کرتی ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے.
اور اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا نہ کر سکے تو اس پر قربانی واجب نہیں.
*غلط فہمی*[6] گابھن جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
*اصلاح:* گابھن جانور کی قربانی جائز ہے، مگر گابھن ہونا معلوم ہوجائے تو اس سے بچنا بہتر ہے۔ (فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:328)
*غلط فہمی*[7] غیر خصی کی قربانی افضل ہے ۔
*اصلاح:* بلکہ خصی کی قربانی افضل ہے؛اس لیے کہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ (فتاوی ہندیہ)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی کیے ہوئے مینڈھوں کا ذبح کرنا ثابت ہے۔(دیکھیں:سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَاب أَضَاحِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
*غلط فہمی* [8] چھ مہینے کی بکری یا بکرا دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔
*اصلاح:* بکری اور بکرا کی عمر ایک سال سے کم ہوتو اس کی قربانی جائز نہیں ہے ۔ ہاں چھ مہینے کا دنبہ اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے ۔(درمختار،ج:9'ص:533،دار المعرفۃ ،بیروت)
یاد رکھیں کہ مطلقاً چھ مہینے کے دنبے کی قربانی جائز نہیں بلکہ اسے اتنا موٹا تازہ ہونا ضروری ہے کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے۔
*غلط فہمی* [9] جس چھری میں لکڑی کا دستہ نہ ہو اس سے جانور حلال نہ ہوگا۔
🖋: محمد داؤد علی مصباحی، گیا
استاذ:دار العلوم غوث اعظم مسکیڈیہ ہزاری باغ
4/ذی الحجہ1441ھ
قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں قربانی کی بڑی تاکید اور فضیلتیں آئی ہیں ۔
اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر[الكوثر:٢]یعنی اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ".۔[سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَابٌ : الْأَضَاحِيُّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا]
یعنی جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔
قربانی کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں کچھ غلط فہمیاں بسی ہوئی ہیں، درج ذیل سطور میں ان کی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
*غلط فہمی*[1] میاں بیوی میں سے کسی ایک یا گھر کے تمام افراد میں سے صرف ایک کی طرف سے قربانی کرنا کافی ہے ۔
*اصلاح :* ایک گھر میں میاں بیوی، بھائی بہن اور ماں باپ جتنے افراد مالک نصاب ہوں ان سب پر قربانی واجب ہے۔ کیوں کہ "قربانی ہر عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد و عورت مالک نصاب پر واجب ہے"۔ (فتاوی ہندیہ)
*غلط فہمی*[2] جس کا عقیقہ نہیں ہوا وہ عقیقہ کیے بغیر قربانی نہیں کرسکتا۔
*اصلاح:* یہ خیال باطل ہے۔ اگر وہ مالک نصاب ہو اور دوسری شرطیں بھی موجود ہوں تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ اور عقیقہ کیے بغیر اس کی قربانی جائز و درست ہوگی۔
*غلط فہمی*[3] اپنی طرف سے قربانی نہ کرکے کسی رشتہ دار کے نام سے قربانی کرنا ۔
*اصلاح :* جس پر قربانی واجب ہے اس کو خود اپنے نام سے قربانی کرنی چاہیے دوسرے کے نام سے کرے گا تو واجب ساقط نہ ہوگا ۔ اگر کسی رشتہ دار کی طرف سے کرنا چاہے تو اس کے لیے الگ سے انتظام کرے پھر بھی دوسروں کی طرف سے جو قربانی کی ہوگئی اور ایام قربانی باقی ہوں تو یہ خود قربانی کرے ،گذرنے پر قربانی کی قیمت صدقہ کرے۔(فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:315)
*غلط فہمی*[4] قربانی کی جگہ حاجت مندوں کو اس کی رقم صدقہ کر دینا چاہیے ۔
*اصلاح:* قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب اگر ایک جانور کے بجاے کئی جانوروں کی قیمت بلکہ خود قربانی کا جانور ہی کیوں نہ صدقہ کردے پھر بھی بری الذمہ نہ ہوگا جب تک کہ جانور قربان نہ کرے۔(فتاوی ہندیہ)
ہاں صدقہ کرنے کا اجر ملے گا،لیکن واجب کو ترک کرنے کا گناہ بھی ہوگا۔
لہذا اگر کوئی صدقہ کرنا ہی چاہے تو اپنے نام سے قربانی کرے اور الگ سے غریبوں کی مدد کرے ۔
*غلط فہمی*[5 ] کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کی زمین پر قربانی واجب ہے جب کہ اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے۔ یا یہ سمجھتے ہیں کہ کسی قسم کی زمین پر قربانی نہیں۔
*اصلاح:* اس کے متعلق سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں:
فتاوی رضویہ میں دونوں طرح کے فتاوی ہیں زمین کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا آمدنی کا جس کی نظر سے جو فتوی گزرا اس نے اس کے مطابق حکم دیا کسی نے زمین کی قیمت کا اعتبار کیا اور کسی نے آمدنی کا البتہ تطبیق یہ ہے کہ زمین کئی طرح کی ہوتی ہے :
1- ایک پلاٹ کی زمین ہوتی ہے یعنی اس کو کبھی بھی بیچنے کا ارادہ ہے اور ذریعہ معاش اس کے علاوہ ہے تو اگر اس پلاٹ کی قیمت نصاب کو پہنچے تو اس پر قربانی واجب ہے.
2- ایک کاشت کی زمین ہوتی ہے کہ اس میں کھیتی کرتا ہو اور یہی ذریعہ معاش ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں :
اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا کرتی ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے.
اور اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا نہ کر سکے تو اس پر قربانی واجب نہیں.
*غلط فہمی*[6] گابھن جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
*اصلاح:* گابھن جانور کی قربانی جائز ہے، مگر گابھن ہونا معلوم ہوجائے تو اس سے بچنا بہتر ہے۔ (فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:328)
*غلط فہمی*[7] غیر خصی کی قربانی افضل ہے ۔
*اصلاح:* بلکہ خصی کی قربانی افضل ہے؛اس لیے کہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ (فتاوی ہندیہ)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی کیے ہوئے مینڈھوں کا ذبح کرنا ثابت ہے۔(دیکھیں:سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَاب أَضَاحِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
*غلط فہمی* [8] چھ مہینے کی بکری یا بکرا دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔
*اصلاح:* بکری اور بکرا کی عمر ایک سال سے کم ہوتو اس کی قربانی جائز نہیں ہے ۔ ہاں چھ مہینے کا دنبہ اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے ۔(درمختار،ج:9'ص:533،دار المعرفۃ ،بیروت)
یاد رکھیں کہ مطلقاً چھ مہینے کے دنبے کی قربانی جائز نہیں بلکہ اسے اتنا موٹا تازہ ہونا ضروری ہے کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے۔
*غلط فہمی* [9] جس چھری میں لکڑی کا دستہ نہ ہو اس سے جانور حلال نہ ہوگا۔
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM