حضرت امیر ملت کا
بریلی میں ورود مسعود
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
بریلی میں ورود مسعود
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*درود و سلام کی نکہتیں...*
اور سلفِ صالحین کا پاکیزہ عمل
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
عہدِ رواں میں ہر طرف توہینِ رسالت ﷺ کا بازار گرم ہے۔ اسلام دُشمن قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کا رشتہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس سے منقطع کر دیا جائے۔ سلفِ صالحین نے مسلمانوں کی بقا و تحفظ کو اسی میں جانا کہ رشتۂ محبت کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے جوڑ دیا جائے۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ نسبتوں کی صبح طلوع ہوگی۔ نفرتوں کی شب دور ہو گی۔ گستاخانِ بارگاہِ رسالت سے دوری پیدا ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے کہ دل جب عشقِ رسول ﷺ کے والہانہ جذبات سے لبریز ہوگا تو وہ کسی گستاخ کی جسارت کو کیوں برداشت کر سکے گا۔
آج جب کہ باطل قوتیں اسلام کے چراغ کو توہینِ رسالت کی منافرت سے بجھانا چاہتی ہیں؛ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی نسبتوں کی تجدید کریں۔ محبتوں کے جذبات کو پروان چڑھائیں۔ سلفِ صالحین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ دلوں میں نورِ ایماں فروزاں کرنے کی غرض سے لبوں پر ہمیشہ درود و سلام کے نغمے سجائے رہتے۔ محافل درود و سلام آراستہ کرتے- علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ’’دلائل الخیرات‘‘ کے پیشِ لفظ میں فرماتے ہیں:
’’ زمانۂ سلفِ صالحین سے لے کر آج تک اہلِ سنت کے سارے اکابر و مشائخ ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ مسلمانوں کے درمیان درود و سلام کو فروغ حاصل ہو۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر انھوں نے درود و سلام کی ترویج کے لیے مسلم معاشرے میں بہت سارے نئے نئے مواقع پیدا کیے؛ چنانچہ انھیں کی مبارک و مسعود کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج محافلِ میلاد جلسہ ہاے سیرۃ النبی کے ذریعے درود و سلام کا نغمۂ دل نواز پوری دُنیا میں گونج رہا ہے۔ اب دُنیا کے کسی خطے میں رہنے والی قوم کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ رشتہ کیسا ہے۔ لاکھوں افراد قیام تعظیمی کے ساتھ جب آواز میں آواز ملا کر ’یا نبی سلام علیک‘ کا ترانہ پڑھتے ہیں تو کیف و مستی کا ایک عجیب سماں بندھ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ آنکھ بند کرتے ہی ہم مدینے میں پہنچ گئے ہیں۔
دورِ حاضر میں امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ آبِ زر سے لکھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے قلمی جہاد کے ذریعہ ان سارے مواقع اور تقریبات کو مٹنے سے بچا لیا جو درود و سلام کی کثرت اور ذکرِ مصطفیٰ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے فروغ کے لیے سلفِ صالحین سے ہمیں وراثت میں ملے تھے۔ (پیش لفظ: دلائل الخیرات)
سلفِ صالحین کی اسی پاکیزہ وراثت کی ترسیل کے جذبے سے لبریز ہو کر نوری مشن نے ’’صلوٰۃ وسلام‘‘ کی اشاعت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد جن کا اسلوب اردو زبان میں مثالی ہے؛ کے نوکِ قلم سے درود وسلام کے برکات و ثمرات پر کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی گئی مذکورہ کتاب ہر اردو خواں کے لیے عظیم نعمت ہے۔ یقینی طور پر بزمِ مطالعہ میں اسے سجایا جانا لمحہ لمحہ خوشبو کا باعث ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماحول کو اسلامی بنائیں۔ برائیوں کا قلع قمع کریں۔ اچھائیوں کو فروغ دیں۔ سچائی کی راہ چلیں۔ اس کے لیے درود و سلام سے رشتہ کی استواری ضروری ہے تا کہ من کی دنیا میں چاندنی پھیل جائے۔ باطن مہک مہک اٹھے اور ظاہر بھی اس کے زیر اثر اسلامی رنگ میں رنگ جائے۔؎
کعبے کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے اپنے ترغیبی مقالہ میں درود و سلام سے متعلق بہت دل لگتی بات لکھی ہے، آپ بھی پڑھیں اور سر دُھنیں:
ﷲ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم پر ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہے ہیں اور ایمان والوں سے بھی کہا جارہا ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و سلام بھیجو… جب ﷲ تعالیٰ ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہا ہے، تو پھر فرشتوں کی کیا ضرورت؟… اور اُمت کی کیا حاجت؟ … حضور انور صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے تو ان کا مولیٰ کافی ہے… حقیقت یہ ہے کہ صلوٰۃ و سلام حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے لیےہے… ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھی شریک کرلیا… یہ اس کا عین کرم ہے… یہ کیسی بابرکت اور یگانہ و یکتا یاد ہے جس کی نظیر نہیں… صلوٰۃ و سلام بھیجنے والا بندہ بھی صلوٰۃ کا مستحق ٹھہرا… خود سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم فرمارہے ہیں:
مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللہ عَلَیْہِ بِھَا عَشَرًا (محمد علی الصابونی: روائع البیان، ج ۲، ص ۳۳۷)
جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔
یہ نغمہ روح کا نغمہ ہے۔ آپ بھی درود و سلام کو وِردِ زباں بنا لیں۔ ان شاءاللہ ظاہر و باطن انقلابِ تازہ سے آشنا ہوں گے-
*
13 جولائی 2021ء
ترسیل : اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
*
+91 9325028586
noorimission92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4225365287545151&id=100002151654486
اور سلفِ صالحین کا پاکیزہ عمل
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
عہدِ رواں میں ہر طرف توہینِ رسالت ﷺ کا بازار گرم ہے۔ اسلام دُشمن قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کا رشتہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس سے منقطع کر دیا جائے۔ سلفِ صالحین نے مسلمانوں کی بقا و تحفظ کو اسی میں جانا کہ رشتۂ محبت کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے جوڑ دیا جائے۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ نسبتوں کی صبح طلوع ہوگی۔ نفرتوں کی شب دور ہو گی۔ گستاخانِ بارگاہِ رسالت سے دوری پیدا ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے کہ دل جب عشقِ رسول ﷺ کے والہانہ جذبات سے لبریز ہوگا تو وہ کسی گستاخ کی جسارت کو کیوں برداشت کر سکے گا۔
آج جب کہ باطل قوتیں اسلام کے چراغ کو توہینِ رسالت کی منافرت سے بجھانا چاہتی ہیں؛ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی نسبتوں کی تجدید کریں۔ محبتوں کے جذبات کو پروان چڑھائیں۔ سلفِ صالحین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ دلوں میں نورِ ایماں فروزاں کرنے کی غرض سے لبوں پر ہمیشہ درود و سلام کے نغمے سجائے رہتے۔ محافل درود و سلام آراستہ کرتے- علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ’’دلائل الخیرات‘‘ کے پیشِ لفظ میں فرماتے ہیں:
’’ زمانۂ سلفِ صالحین سے لے کر آج تک اہلِ سنت کے سارے اکابر و مشائخ ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ مسلمانوں کے درمیان درود و سلام کو فروغ حاصل ہو۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر انھوں نے درود و سلام کی ترویج کے لیے مسلم معاشرے میں بہت سارے نئے نئے مواقع پیدا کیے؛ چنانچہ انھیں کی مبارک و مسعود کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج محافلِ میلاد جلسہ ہاے سیرۃ النبی کے ذریعے درود و سلام کا نغمۂ دل نواز پوری دُنیا میں گونج رہا ہے۔ اب دُنیا کے کسی خطے میں رہنے والی قوم کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ رشتہ کیسا ہے۔ لاکھوں افراد قیام تعظیمی کے ساتھ جب آواز میں آواز ملا کر ’یا نبی سلام علیک‘ کا ترانہ پڑھتے ہیں تو کیف و مستی کا ایک عجیب سماں بندھ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ آنکھ بند کرتے ہی ہم مدینے میں پہنچ گئے ہیں۔
دورِ حاضر میں امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ آبِ زر سے لکھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے قلمی جہاد کے ذریعہ ان سارے مواقع اور تقریبات کو مٹنے سے بچا لیا جو درود و سلام کی کثرت اور ذکرِ مصطفیٰ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے فروغ کے لیے سلفِ صالحین سے ہمیں وراثت میں ملے تھے۔ (پیش لفظ: دلائل الخیرات)
سلفِ صالحین کی اسی پاکیزہ وراثت کی ترسیل کے جذبے سے لبریز ہو کر نوری مشن نے ’’صلوٰۃ وسلام‘‘ کی اشاعت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد جن کا اسلوب اردو زبان میں مثالی ہے؛ کے نوکِ قلم سے درود وسلام کے برکات و ثمرات پر کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی گئی مذکورہ کتاب ہر اردو خواں کے لیے عظیم نعمت ہے۔ یقینی طور پر بزمِ مطالعہ میں اسے سجایا جانا لمحہ لمحہ خوشبو کا باعث ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماحول کو اسلامی بنائیں۔ برائیوں کا قلع قمع کریں۔ اچھائیوں کو فروغ دیں۔ سچائی کی راہ چلیں۔ اس کے لیے درود و سلام سے رشتہ کی استواری ضروری ہے تا کہ من کی دنیا میں چاندنی پھیل جائے۔ باطن مہک مہک اٹھے اور ظاہر بھی اس کے زیر اثر اسلامی رنگ میں رنگ جائے۔؎
کعبے کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے اپنے ترغیبی مقالہ میں درود و سلام سے متعلق بہت دل لگتی بات لکھی ہے، آپ بھی پڑھیں اور سر دُھنیں:
ﷲ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم پر ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہے ہیں اور ایمان والوں سے بھی کہا جارہا ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و سلام بھیجو… جب ﷲ تعالیٰ ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہا ہے، تو پھر فرشتوں کی کیا ضرورت؟… اور اُمت کی کیا حاجت؟ … حضور انور صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے تو ان کا مولیٰ کافی ہے… حقیقت یہ ہے کہ صلوٰۃ و سلام حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے لیےہے… ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھی شریک کرلیا… یہ اس کا عین کرم ہے… یہ کیسی بابرکت اور یگانہ و یکتا یاد ہے جس کی نظیر نہیں… صلوٰۃ و سلام بھیجنے والا بندہ بھی صلوٰۃ کا مستحق ٹھہرا… خود سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم فرمارہے ہیں:
مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللہ عَلَیْہِ بِھَا عَشَرًا (محمد علی الصابونی: روائع البیان، ج ۲، ص ۳۳۷)
جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔
یہ نغمہ روح کا نغمہ ہے۔ آپ بھی درود و سلام کو وِردِ زباں بنا لیں۔ ان شاءاللہ ظاہر و باطن انقلابِ تازہ سے آشنا ہوں گے-
*
13 جولائی 2021ء
ترسیل : اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
*
+91 9325028586
noorimission92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4225365287545151&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دم وغیرہ کا معاوضہ 🥀
شریعت مطہرہ کے دائرے میں رہتے ہوئے جو جائز و مباح کلمات سے دم کیے جاتے ہیں ، یا تعویذات و عملیات کیے جاتے ہیں ، اُن کا معاوضہ اور ہدیہ لینا بالکل جائز و حلال ہے ۔
فقہائے کرام فرماتے ہیں:
” ان چیزوں کا تعلق عبادت محضہ سے نہیں ، بلکہ علاج سے ہے ؛ اس لیے ان پر جو اجرت لی جاتی ہے وہ علاج کی اجرت ہوتی ہے ، تلاوت قران پاک یا ذکرالٰہی کی نہیں ۔
البته نا جائز اور جھوٹے جنتر منتر پر اجرت یا نذرانہ لینا حرام ہے ۔ “
( انظر: رد المحتار ، ج 6 ، ص57 - مراة المناجیح ، ج 4 ، ص 337 ، 583 )
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
بہت سے لوگ تعویذ کا معاوضہ لیتے ہیں یہ جائز ہے ۔۔۔۔۔۔ مگریہ ضرور ہے کہ تعویز ایسا ہو کہ اُس میں شرعی قباحت نہ ہو ۔
( بہارشریعت،حصہ 14، ص 147 )
مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمه الله فرماتے ہیں:
تعویذ کی اجرت بلا کراہت جائز ہے ۔
( اور یہ جائز اور حلال کاروبار میں سے ایک ہے )
(اسلامی زندگی ، ص144 )
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے دم کی اجرت بھی لی ہے ، اور ہدیہ بھی ؛ بلکہ خود سید عالم ، نور مجسم ﷺ نے جِن نکالنے کے بعد ہدیہ قبول فرمایا ہے ۔
آپ ﷺ کے پاس ایک عورت اپنا بیٹا لے کر آئی تھی جسے کوئی جن چمٹا ہوا تھا ۔
آپ ﷺ نے اُس جن سے فرمایا:
اللہ کے دشمن نکل جا ، میں اللہ کا رسول ہوں ، تو وہ ( جن نکل گیا اور ) لڑکا صحت یاب ہو گیا ۔
اس عورت نے دو مینڈھے ، کچھ پنیر اور گھی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت یَعلیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اے یعلیٰ ! پنیر ، گھی اور ایک مینڈھا رکھ لو ، دوسرا اسے واپس کر دو !
( مسند احمد ، ج ، 29 ، ص 105، رقم 17563 ۔
مجمع الزوائد ، ج 9 ، رقم 14160۔ قال الھیثمی: رجالہ رجال الصحیح ۔ المغنی عن حمل الاسفار ۔۔۔۔ ص 1560۔ قال العراقی: اسنادہ جید ۔ )
( دوسرا مینڈھا واپس کرنے کا یا تو اس کے حسبِ حال فرمایا تھا ، یا جواز کے لیے کہ:
ہدیہ ملنے کے بعد رکھا بھی جاسکتا ہے اور واپس بھی کیا جا سکتا ہے )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں:
نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا گزر پانی کے ایک گھاٹ سے ہوا ، وہاں ایک آدمی تھا جسے بِچھو یا سانپ نے ڈسا ہوا تھا ، گھا ٹ والوں میں سے ایک شخص اِن کے پاس آکر کہنے لگا:
کیا تم میں کوئی دم کرنے والا بھی ہے ؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی اس آدمی کے ساتھ مریض کے پاس گئے اور چند بکریوں کے عوض سورت فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔
وہ صحابی ( مقررہ ) بکریاں لے کر جب دوسرے صحابہ کرام کے پاس آئے تو اُنھوں نے ( دم کے بدلے اجرت لینے کو ) ناپسند کیااور کہا:
تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے ( جوکہ درست نہیں ) ۔
پھر جب یہ مدینہ پاک آئے تو انھوں نے سرورعالم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی کہ:
اے اللہ کے رسول ، اس شخص نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جن چیزوں پر تم اُجرت لیتے ہو ، اُن میں سب سے زیادہ اجرت کی مستحق اللہ کی کتاب ہے ۔
(صحیح بخاری ، ج 7 ، ص 132 ، رقم 5737 )
حضرت خارجہ بن صُلت تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
میرے چچا رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے ، پھر جب واپس جارہے تھے تو اُن کا گزر ایک قوم پر ہوا جنھوں نے مرضِ جنون میں مبتلا ایک شخص کو زنجیر سے باندھ رکھا تھا ۔
اس کے اہل خانہ آپ سے کہنےلگے:
سنا ہے تمھارے صاحب خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں ، تو کیا تم کسی چیز سے اس مریض کا علاج کر سکتے ہو ؟
وہ کہتے ہیں: میں نے اس مریض کو سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا جس سے وہ شفا یاب ہو گیا۔
اب اس کے گھر والوں نے مجھے سو بکریاں پیش کیں ۔
میں یہ بکریاں لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ آپ کو سنایا ۔
آپ ﷺ نے پوچھا:
تم نے (دم میں صرف سورت فاتحہ ہی پڑھی یا ناجائز کلمات میں سے ) کچھ اور بھی پڑھا ؟
میں نے عرض کی:
نہیں ، ( حضور ! صرف سورت فاتحہ ہی پڑھی ہے ۔ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا:
بکریاں رکھ لو ، میرے زندگی کی قسم ! لوگ ناجائز دم کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز دم کر کے کھایا ہے ۔
(سنن ابی داؤد ، ص 13، رقم 3896 ۔ صحیح )
جادو وغیرہ کی مختلف قسمیں ہیں جن کے مختلف علاج ہیں ، جن میں سے بعض آسان بھی ہیں اور بعض مشکل ترین بھی ۔
عموماً عاملین علاج معالجے پر معاوضہ لیتے ہیں ، جو کہ نہ شرعاً غلط ہے ، نہ عقلاً ؛ لیکن بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں جو کہ بالکل بے جا ہے ۔
یہاں معاوضہ لینا اس سے بھی زیادہ جائز اور حلال ہے جو امامت ، خطابت ، اور تدریس وفتاوی کے بعد لیا جاتا ہے ۔
کیوں کہ ان چیزوں کے متعلق متاخرین نے جواز کا قول کیا ۔۔۔۔۔۔ جب کہ دم وغیرہ کا معاوضہ توسرور عالمﷺ کے زمانہ اقدس سے ہی صراحتاً جائز رہا ہے ۔
✍️لقمان شاہد
14-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3208386462774854&id=100008105947430
شریعت مطہرہ کے دائرے میں رہتے ہوئے جو جائز و مباح کلمات سے دم کیے جاتے ہیں ، یا تعویذات و عملیات کیے جاتے ہیں ، اُن کا معاوضہ اور ہدیہ لینا بالکل جائز و حلال ہے ۔
فقہائے کرام فرماتے ہیں:
” ان چیزوں کا تعلق عبادت محضہ سے نہیں ، بلکہ علاج سے ہے ؛ اس لیے ان پر جو اجرت لی جاتی ہے وہ علاج کی اجرت ہوتی ہے ، تلاوت قران پاک یا ذکرالٰہی کی نہیں ۔
البته نا جائز اور جھوٹے جنتر منتر پر اجرت یا نذرانہ لینا حرام ہے ۔ “
( انظر: رد المحتار ، ج 6 ، ص57 - مراة المناجیح ، ج 4 ، ص 337 ، 583 )
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
بہت سے لوگ تعویذ کا معاوضہ لیتے ہیں یہ جائز ہے ۔۔۔۔۔۔ مگریہ ضرور ہے کہ تعویز ایسا ہو کہ اُس میں شرعی قباحت نہ ہو ۔
( بہارشریعت،حصہ 14، ص 147 )
مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمه الله فرماتے ہیں:
تعویذ کی اجرت بلا کراہت جائز ہے ۔
( اور یہ جائز اور حلال کاروبار میں سے ایک ہے )
(اسلامی زندگی ، ص144 )
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے دم کی اجرت بھی لی ہے ، اور ہدیہ بھی ؛ بلکہ خود سید عالم ، نور مجسم ﷺ نے جِن نکالنے کے بعد ہدیہ قبول فرمایا ہے ۔
آپ ﷺ کے پاس ایک عورت اپنا بیٹا لے کر آئی تھی جسے کوئی جن چمٹا ہوا تھا ۔
آپ ﷺ نے اُس جن سے فرمایا:
اللہ کے دشمن نکل جا ، میں اللہ کا رسول ہوں ، تو وہ ( جن نکل گیا اور ) لڑکا صحت یاب ہو گیا ۔
اس عورت نے دو مینڈھے ، کچھ پنیر اور گھی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت یَعلیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اے یعلیٰ ! پنیر ، گھی اور ایک مینڈھا رکھ لو ، دوسرا اسے واپس کر دو !
( مسند احمد ، ج ، 29 ، ص 105، رقم 17563 ۔
مجمع الزوائد ، ج 9 ، رقم 14160۔ قال الھیثمی: رجالہ رجال الصحیح ۔ المغنی عن حمل الاسفار ۔۔۔۔ ص 1560۔ قال العراقی: اسنادہ جید ۔ )
( دوسرا مینڈھا واپس کرنے کا یا تو اس کے حسبِ حال فرمایا تھا ، یا جواز کے لیے کہ:
ہدیہ ملنے کے بعد رکھا بھی جاسکتا ہے اور واپس بھی کیا جا سکتا ہے )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں:
نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا گزر پانی کے ایک گھاٹ سے ہوا ، وہاں ایک آدمی تھا جسے بِچھو یا سانپ نے ڈسا ہوا تھا ، گھا ٹ والوں میں سے ایک شخص اِن کے پاس آکر کہنے لگا:
کیا تم میں کوئی دم کرنے والا بھی ہے ؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی اس آدمی کے ساتھ مریض کے پاس گئے اور چند بکریوں کے عوض سورت فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔
وہ صحابی ( مقررہ ) بکریاں لے کر جب دوسرے صحابہ کرام کے پاس آئے تو اُنھوں نے ( دم کے بدلے اجرت لینے کو ) ناپسند کیااور کہا:
تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے ( جوکہ درست نہیں ) ۔
پھر جب یہ مدینہ پاک آئے تو انھوں نے سرورعالم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی کہ:
اے اللہ کے رسول ، اس شخص نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جن چیزوں پر تم اُجرت لیتے ہو ، اُن میں سب سے زیادہ اجرت کی مستحق اللہ کی کتاب ہے ۔
(صحیح بخاری ، ج 7 ، ص 132 ، رقم 5737 )
حضرت خارجہ بن صُلت تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
میرے چچا رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے ، پھر جب واپس جارہے تھے تو اُن کا گزر ایک قوم پر ہوا جنھوں نے مرضِ جنون میں مبتلا ایک شخص کو زنجیر سے باندھ رکھا تھا ۔
اس کے اہل خانہ آپ سے کہنےلگے:
سنا ہے تمھارے صاحب خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں ، تو کیا تم کسی چیز سے اس مریض کا علاج کر سکتے ہو ؟
وہ کہتے ہیں: میں نے اس مریض کو سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا جس سے وہ شفا یاب ہو گیا۔
اب اس کے گھر والوں نے مجھے سو بکریاں پیش کیں ۔
میں یہ بکریاں لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ آپ کو سنایا ۔
آپ ﷺ نے پوچھا:
تم نے (دم میں صرف سورت فاتحہ ہی پڑھی یا ناجائز کلمات میں سے ) کچھ اور بھی پڑھا ؟
میں نے عرض کی:
نہیں ، ( حضور ! صرف سورت فاتحہ ہی پڑھی ہے ۔ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا:
بکریاں رکھ لو ، میرے زندگی کی قسم ! لوگ ناجائز دم کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز دم کر کے کھایا ہے ۔
(سنن ابی داؤد ، ص 13، رقم 3896 ۔ صحیح )
جادو وغیرہ کی مختلف قسمیں ہیں جن کے مختلف علاج ہیں ، جن میں سے بعض آسان بھی ہیں اور بعض مشکل ترین بھی ۔
عموماً عاملین علاج معالجے پر معاوضہ لیتے ہیں ، جو کہ نہ شرعاً غلط ہے ، نہ عقلاً ؛ لیکن بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں جو کہ بالکل بے جا ہے ۔
یہاں معاوضہ لینا اس سے بھی زیادہ جائز اور حلال ہے جو امامت ، خطابت ، اور تدریس وفتاوی کے بعد لیا جاتا ہے ۔
کیوں کہ ان چیزوں کے متعلق متاخرین نے جواز کا قول کیا ۔۔۔۔۔۔ جب کہ دم وغیرہ کا معاوضہ توسرور عالمﷺ کے زمانہ اقدس سے ہی صراحتاً جائز رہا ہے ۔
✍️لقمان شاہد
14-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3208386462774854&id=100008105947430
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض گھروں کے سرپرست بیمار ہوجاتے ہیں یا انتقال کرجاتے ہیں ، تو بیوی بچوں کےاخراجات کامسئلہ بنتاہے ، اس صورت میں کیا کرنا چاہیے ؟
بیوہ اور محتاج عورت گھر کی چاردیورای میں رہتے ہوئے ایسا کون ساجائز اورحلال کاروبار کرسکتی ہے جس سے بہ آسانی گُزر بسر ہوسکے ، اور کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے ؟
نیز ہماری وہ بہنیں اور بیٹیاں جن کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہوتے ، پردے کی رعایت کے ساتھ کون سا جائز بزنس کرسکتی ہیں ؟
اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیے ، اور کمینٹ میں اپنے فہم اور تجربے کے مطابق کاروبار کا نام لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو ساتھ یہ بھی بتادیجیے کہ اس کاروبار کی ابتدا کتنے سرمائے کے ساتھ ہو سکتی ہے ، اللہ آپ کوجزاے خیر دے !
ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنھا کے طفیل اللہ کریم ہماری ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو دنیا آخرت کی خیر کثیر عطافرمائے !
✍️لقمان شاہد
15-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3208928206054013&id=100008105947430
بیوہ اور محتاج عورت گھر کی چاردیورای میں رہتے ہوئے ایسا کون ساجائز اورحلال کاروبار کرسکتی ہے جس سے بہ آسانی گُزر بسر ہوسکے ، اور کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے ؟
نیز ہماری وہ بہنیں اور بیٹیاں جن کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہوتے ، پردے کی رعایت کے ساتھ کون سا جائز بزنس کرسکتی ہیں ؟
اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیے ، اور کمینٹ میں اپنے فہم اور تجربے کے مطابق کاروبار کا نام لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو ساتھ یہ بھی بتادیجیے کہ اس کاروبار کی ابتدا کتنے سرمائے کے ساتھ ہو سکتی ہے ، اللہ آپ کوجزاے خیر دے !
ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنھا کے طفیل اللہ کریم ہماری ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو دنیا آخرت کی خیر کثیر عطافرمائے !
✍️لقمان شاہد
15-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3208928206054013&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
" میں آپ کے ساتھ ہوں " ، یہ لفظ جسے بھی بولیں ، سچے دل سے بولیں اور سوچ سمجھ کر بولیں ۔
اِن لفظوں میں چُھپی سچائی جیسے دل کو خوشی دیتی ہے ، اسی طرح ان لفظوں میں چھپا دھوکا بہت زیادہ اذیت دیتا ہے ، اور یہ اذیت اکثر " آہ " کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3209663889313778&id=100008105947430
اِن لفظوں میں چُھپی سچائی جیسے دل کو خوشی دیتی ہے ، اسی طرح ان لفظوں میں چھپا دھوکا بہت زیادہ اذیت دیتا ہے ، اور یہ اذیت اکثر " آہ " کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3209663889313778&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اسے سیدھا لٹا دو ، منھ قبلے شریف کی طرف کردو ، کپڑے کے ساتھ اس کے جبڑے باندھ دو ۔۔۔۔۔۔ اِس کے قد کی پیمائش کرلو ، اور اُس کے مطابق اِس کے رہنے کی جگہ بناؤ ۔
سب کچھ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
اب اس کے بدن سے کپڑے اتار لو ، اور ایک تہبند لپیٹ کر اسے غسل دو ۔
جی دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسے کندھوں پر اٹھاؤ اور ہمیشہ کے لیے اس گھر میں چھوڑ آؤ جو اِس کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
یہ سننے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں کندھوں پر اٹھا کے اُس گھر کی طرف چل پڑیں گے ۔۔۔۔ اور وہاں تن تنہا چھوڑ کر سب واپس لوٹ آئیں گے ۔
پھر ہمارے ساتھ کیا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! 😢😥 ؎
ساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا
بے کسی یار ہے ، کیا ہونا ہے
ارے او مجرم بے پَروا دیکھ !
سر پہ تلوار ہے ، کیا ہونا ہے
لے وہ حاکِم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے
ان کو رَحم آئے تو آئے ، ورنہ
وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے
✍️لقمان شاہد
16-7-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210077442605756&id=100008105947430
سب کچھ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
اب اس کے بدن سے کپڑے اتار لو ، اور ایک تہبند لپیٹ کر اسے غسل دو ۔
جی دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسے کندھوں پر اٹھاؤ اور ہمیشہ کے لیے اس گھر میں چھوڑ آؤ جو اِس کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
یہ سننے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں کندھوں پر اٹھا کے اُس گھر کی طرف چل پڑیں گے ۔۔۔۔ اور وہاں تن تنہا چھوڑ کر سب واپس لوٹ آئیں گے ۔
پھر ہمارے ساتھ کیا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! 😢😥 ؎
ساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا
بے کسی یار ہے ، کیا ہونا ہے
ارے او مجرم بے پَروا دیکھ !
سر پہ تلوار ہے ، کیا ہونا ہے
لے وہ حاکِم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے
ان کو رَحم آئے تو آئے ، ورنہ
وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے
✍️لقمان شاہد
16-7-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210077442605756&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کریم و رحیم نبی ﷺ نے فرمایا:
( مرنے کے بعد ) جس مسلمان کے اچھا ہونے کی چار بندے گواہی دے دیں ، اللہ پاک ﷻ اسے جنت میں داخل کردے گا ۔
( الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف ، کتاب الجنائز ، باب الترغیب فی الدعاء للمیت واحسان الثناء علیہ ۔۔۔۔۔۔۔ص600 ، ر5165 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س 2014 ء ۔ حدیث صحیح )
خدا کرے ، ہمارے مرنے کے بعد مسلمان ہمارے حق میں اچھی ہی گواہی دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوررب تعالیٰ دنیا آخرت میں ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھے ۔ 😢
✍️لقمان شاہد
17-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210344412579059&id=100008105947430
( مرنے کے بعد ) جس مسلمان کے اچھا ہونے کی چار بندے گواہی دے دیں ، اللہ پاک ﷻ اسے جنت میں داخل کردے گا ۔
( الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف ، کتاب الجنائز ، باب الترغیب فی الدعاء للمیت واحسان الثناء علیہ ۔۔۔۔۔۔۔ص600 ، ر5165 ، ط دارالکتاب العربی بیروت ، س 2014 ء ۔ حدیث صحیح )
خدا کرے ، ہمارے مرنے کے بعد مسلمان ہمارے حق میں اچھی ہی گواہی دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اوررب تعالیٰ دنیا آخرت میں ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالے رکھے ۔ 😢
✍️لقمان شاہد
17-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210344412579059&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
فرمایاامام رازی نے مفاتیح الغیب میں کہ:
سورةواللیل ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سورت ہے ، اور سورة والضحیٰ محمدﷺکی سورت ہے ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اِن سورتوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہ رکھا ، تاکہ معلوم ہو کہ محمدﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوٸی شخص واسطہ نہیں ۔
تو اگر تم پہلے واللیل کا ذکر کرو تو وہ ابوبکر ہیں ، پھر چڑھو تو اس کے بعد دن کو پاؤگے ۔۔۔۔۔۔ تو وہ محمدﷺ ہیں ۔
اور اگر تم پہلے والضحی کا ذکر کرو اور وہ محمدﷺ ہیں ، پھر اترو تو اس کے بعد واللیل کو پاؤگے اور وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ؛ تاکہ معلوم ہو جاۓ کہ ان دونوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہیں ۔
(فتاویٰ رضویہ جلد 28 صفحہ 679)
( ملک شکیل اعوان قادری کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3211228635823970&id=100008105947430
فرمایاامام رازی نے مفاتیح الغیب میں کہ:
سورةواللیل ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سورت ہے ، اور سورة والضحیٰ محمدﷺکی سورت ہے ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اِن سورتوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہ رکھا ، تاکہ معلوم ہو کہ محمدﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوٸی شخص واسطہ نہیں ۔
تو اگر تم پہلے واللیل کا ذکر کرو تو وہ ابوبکر ہیں ، پھر چڑھو تو اس کے بعد دن کو پاؤگے ۔۔۔۔۔۔ تو وہ محمدﷺ ہیں ۔
اور اگر تم پہلے والضحی کا ذکر کرو اور وہ محمدﷺ ہیں ، پھر اترو تو اس کے بعد واللیل کو پاؤگے اور وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں ؛ تاکہ معلوم ہو جاۓ کہ ان دونوں کے درمیان کوٸی واسطہ نہیں ۔
(فتاویٰ رضویہ جلد 28 صفحہ 679)
( ملک شکیل اعوان قادری کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3211228635823970&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ایک سو کارو بار کی فہرست بالخصوص علمائے کرام کے لئے https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3207263862887114&id=100008105947430
خواتین کسی کے ہاں ملازمت کرنے کےبجائے ، اپنے ذاتی کاروبار کو ترجیح دیں ۔
کیوں کہ:
ملازمت ساری زندگی آدابِ غلامی سکھاتی ہے ، جب کہ اپنا کاروبار خود داری سکھاتا ہے ۔
ویسے بھی دانا کہتے ہیں کہ نوکری کرنے والا کبھی امیر نہیں ہوتا ، کاروبار امیری لاتا ہے ۔
نیچے 53 کاروباروں کی فہرست دی گئی ہے ، آپ ساری فہرست توجہ سے پڑھیں اور اس میں سے اپنے لیے کاروبار منتخب کرلیں ۔
ہماری ماں پاک سیدہ خدیجہ بھی مکہ مکرمہ کی ایک کاروباری شخصیت تھیں ، آپ کے مال نے اسلام کو بہت نفع پہنچایا ۔
اللہ توفیق دے تو آپ بھی اپنے حلال مال سے دین اسلام کی خدمت کرنے والی بن جائیں ۔
✍️لقمان شاہد
15-7-2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3209572852656215&id=100008105947430
کیوں کہ:
ملازمت ساری زندگی آدابِ غلامی سکھاتی ہے ، جب کہ اپنا کاروبار خود داری سکھاتا ہے ۔
ویسے بھی دانا کہتے ہیں کہ نوکری کرنے والا کبھی امیر نہیں ہوتا ، کاروبار امیری لاتا ہے ۔
نیچے 53 کاروباروں کی فہرست دی گئی ہے ، آپ ساری فہرست توجہ سے پڑھیں اور اس میں سے اپنے لیے کاروبار منتخب کرلیں ۔
ہماری ماں پاک سیدہ خدیجہ بھی مکہ مکرمہ کی ایک کاروباری شخصیت تھیں ، آپ کے مال نے اسلام کو بہت نفع پہنچایا ۔
اللہ توفیق دے تو آپ بھی اپنے حلال مال سے دین اسلام کی خدمت کرنے والی بن جائیں ۔
✍️لقمان شاہد
15-7-2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3209572852656215&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
💥 *قربانی-غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح*💥
🖋: محمد داؤد علی مصباحی، گیا
استاذ:دار العلوم غوث اعظم مسکیڈیہ ہزاری باغ
4/ذی الحجہ1441ھ
قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں قربانی کی بڑی تاکید اور فضیلتیں آئی ہیں ۔
اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر[الكوثر:٢]یعنی اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ".۔[سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَابٌ : الْأَضَاحِيُّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا]
یعنی جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔
قربانی کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں کچھ غلط فہمیاں بسی ہوئی ہیں، درج ذیل سطور میں ان کی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
*غلط فہمی*[1] میاں بیوی میں سے کسی ایک یا گھر کے تمام افراد میں سے صرف ایک کی طرف سے قربانی کرنا کافی ہے ۔
*اصلاح :* ایک گھر میں میاں بیوی، بھائی بہن اور ماں باپ جتنے افراد مالک نصاب ہوں ان سب پر قربانی واجب ہے۔ کیوں کہ "قربانی ہر عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد و عورت مالک نصاب پر واجب ہے"۔ (فتاوی ہندیہ)
*غلط فہمی*[2] جس کا عقیقہ نہیں ہوا وہ عقیقہ کیے بغیر قربانی نہیں کرسکتا۔
*اصلاح:* یہ خیال باطل ہے۔ اگر وہ مالک نصاب ہو اور دوسری شرطیں بھی موجود ہوں تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ اور عقیقہ کیے بغیر اس کی قربانی جائز و درست ہوگی۔
*غلط فہمی*[3] اپنی طرف سے قربانی نہ کرکے کسی رشتہ دار کے نام سے قربانی کرنا ۔
*اصلاح :* جس پر قربانی واجب ہے اس کو خود اپنے نام سے قربانی کرنی چاہیے دوسرے کے نام سے کرے گا تو واجب ساقط نہ ہوگا ۔ اگر کسی رشتہ دار کی طرف سے کرنا چاہے تو اس کے لیے الگ سے انتظام کرے پھر بھی دوسروں کی طرف سے جو قربانی کی ہوگئی اور ایام قربانی باقی ہوں تو یہ خود قربانی کرے ،گذرنے پر قربانی کی قیمت صدقہ کرے۔(فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:315)
*غلط فہمی*[4] قربانی کی جگہ حاجت مندوں کو اس کی رقم صدقہ کر دینا چاہیے ۔
*اصلاح:* قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب اگر ایک جانور کے بجاے کئی جانوروں کی قیمت بلکہ خود قربانی کا جانور ہی کیوں نہ صدقہ کردے پھر بھی بری الذمہ نہ ہوگا جب تک کہ جانور قربان نہ کرے۔(فتاوی ہندیہ)
ہاں صدقہ کرنے کا اجر ملے گا،لیکن واجب کو ترک کرنے کا گناہ بھی ہوگا۔
لہذا اگر کوئی صدقہ کرنا ہی چاہے تو اپنے نام سے قربانی کرے اور الگ سے غریبوں کی مدد کرے ۔
*غلط فہمی*[5 ] کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کی زمین پر قربانی واجب ہے جب کہ اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے۔ یا یہ سمجھتے ہیں کہ کسی قسم کی زمین پر قربانی نہیں۔
*اصلاح:* اس کے متعلق سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں:
فتاوی رضویہ میں دونوں طرح کے فتاوی ہیں زمین کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا آمدنی کا جس کی نظر سے جو فتوی گزرا اس نے اس کے مطابق حکم دیا کسی نے زمین کی قیمت کا اعتبار کیا اور کسی نے آمدنی کا البتہ تطبیق یہ ہے کہ زمین کئی طرح کی ہوتی ہے :
1- ایک پلاٹ کی زمین ہوتی ہے یعنی اس کو کبھی بھی بیچنے کا ارادہ ہے اور ذریعہ معاش اس کے علاوہ ہے تو اگر اس پلاٹ کی قیمت نصاب کو پہنچے تو اس پر قربانی واجب ہے.
2- ایک کاشت کی زمین ہوتی ہے کہ اس میں کھیتی کرتا ہو اور یہی ذریعہ معاش ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں :
اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا کرتی ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے.
اور اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا نہ کر سکے تو اس پر قربانی واجب نہیں.
*غلط فہمی*[6] گابھن جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
*اصلاح:* گابھن جانور کی قربانی جائز ہے، مگر گابھن ہونا معلوم ہوجائے تو اس سے بچنا بہتر ہے۔ (فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:328)
*غلط فہمی*[7] غیر خصی کی قربانی افضل ہے ۔
*اصلاح:* بلکہ خصی کی قربانی افضل ہے؛اس لیے کہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ (فتاوی ہندیہ)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی کیے ہوئے مینڈھوں کا ذبح کرنا ثابت ہے۔(دیکھیں:سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَاب أَضَاحِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
*غلط فہمی* [8] چھ مہینے کی بکری یا بکرا دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔
*اصلاح:* بکری اور بکرا کی عمر ایک سال سے کم ہوتو اس کی قربانی جائز نہیں ہے ۔ ہاں چھ مہینے کا دنبہ اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے ۔(درمختار،ج:9'ص:533،دار المعرفۃ ،بیروت)
یاد رکھیں کہ مطلقاً چھ مہینے کے دنبے کی قربانی جائز نہیں بلکہ اسے اتنا موٹا تازہ ہونا ضروری ہے کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے۔
*غلط فہمی* [9] جس چھری میں لکڑی کا دستہ نہ ہو اس سے جانور حلال نہ ہوگا۔
🖋: محمد داؤد علی مصباحی، گیا
استاذ:دار العلوم غوث اعظم مسکیڈیہ ہزاری باغ
4/ذی الحجہ1441ھ
قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں قربانی کی بڑی تاکید اور فضیلتیں آئی ہیں ۔
اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر[الكوثر:٢]یعنی اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ".۔[سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَابٌ : الْأَضَاحِيُّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لَا]
یعنی جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔
قربانی کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں کچھ غلط فہمیاں بسی ہوئی ہیں، درج ذیل سطور میں ان کی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
*غلط فہمی*[1] میاں بیوی میں سے کسی ایک یا گھر کے تمام افراد میں سے صرف ایک کی طرف سے قربانی کرنا کافی ہے ۔
*اصلاح :* ایک گھر میں میاں بیوی، بھائی بہن اور ماں باپ جتنے افراد مالک نصاب ہوں ان سب پر قربانی واجب ہے۔ کیوں کہ "قربانی ہر عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد و عورت مالک نصاب پر واجب ہے"۔ (فتاوی ہندیہ)
*غلط فہمی*[2] جس کا عقیقہ نہیں ہوا وہ عقیقہ کیے بغیر قربانی نہیں کرسکتا۔
*اصلاح:* یہ خیال باطل ہے۔ اگر وہ مالک نصاب ہو اور دوسری شرطیں بھی موجود ہوں تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔ اور عقیقہ کیے بغیر اس کی قربانی جائز و درست ہوگی۔
*غلط فہمی*[3] اپنی طرف سے قربانی نہ کرکے کسی رشتہ دار کے نام سے قربانی کرنا ۔
*اصلاح :* جس پر قربانی واجب ہے اس کو خود اپنے نام سے قربانی کرنی چاہیے دوسرے کے نام سے کرے گا تو واجب ساقط نہ ہوگا ۔ اگر کسی رشتہ دار کی طرف سے کرنا چاہے تو اس کے لیے الگ سے انتظام کرے پھر بھی دوسروں کی طرف سے جو قربانی کی ہوگئی اور ایام قربانی باقی ہوں تو یہ خود قربانی کرے ،گذرنے پر قربانی کی قیمت صدقہ کرے۔(فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:315)
*غلط فہمی*[4] قربانی کی جگہ حاجت مندوں کو اس کی رقم صدقہ کر دینا چاہیے ۔
*اصلاح:* قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب اگر ایک جانور کے بجاے کئی جانوروں کی قیمت بلکہ خود قربانی کا جانور ہی کیوں نہ صدقہ کردے پھر بھی بری الذمہ نہ ہوگا جب تک کہ جانور قربان نہ کرے۔(فتاوی ہندیہ)
ہاں صدقہ کرنے کا اجر ملے گا،لیکن واجب کو ترک کرنے کا گناہ بھی ہوگا۔
لہذا اگر کوئی صدقہ کرنا ہی چاہے تو اپنے نام سے قربانی کرے اور الگ سے غریبوں کی مدد کرے ۔
*غلط فہمی*[5 ] کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کی زمین پر قربانی واجب ہے جب کہ اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے۔ یا یہ سمجھتے ہیں کہ کسی قسم کی زمین پر قربانی نہیں۔
*اصلاح:* اس کے متعلق سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں:
فتاوی رضویہ میں دونوں طرح کے فتاوی ہیں زمین کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا آمدنی کا جس کی نظر سے جو فتوی گزرا اس نے اس کے مطابق حکم دیا کسی نے زمین کی قیمت کا اعتبار کیا اور کسی نے آمدنی کا البتہ تطبیق یہ ہے کہ زمین کئی طرح کی ہوتی ہے :
1- ایک پلاٹ کی زمین ہوتی ہے یعنی اس کو کبھی بھی بیچنے کا ارادہ ہے اور ذریعہ معاش اس کے علاوہ ہے تو اگر اس پلاٹ کی قیمت نصاب کو پہنچے تو اس پر قربانی واجب ہے.
2- ایک کاشت کی زمین ہوتی ہے کہ اس میں کھیتی کرتا ہو اور یہی ذریعہ معاش ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں :
اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا کرتی ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے.
اور اگر اس کی پیداوار اس کی سال بھر کی ضرورت کو پورا نہ کر سکے تو اس پر قربانی واجب نہیں.
*غلط فہمی*[6] گابھن جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
*اصلاح:* گابھن جانور کی قربانی جائز ہے، مگر گابھن ہونا معلوم ہوجائے تو اس سے بچنا بہتر ہے۔ (فتاوی امجدیہ،ج:3،ص:328)
*غلط فہمی*[7] غیر خصی کی قربانی افضل ہے ۔
*اصلاح:* بلکہ خصی کی قربانی افضل ہے؛اس لیے کہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ (فتاوی ہندیہ)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی کیے ہوئے مینڈھوں کا ذبح کرنا ثابت ہے۔(دیکھیں:سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ، بَاب أَضَاحِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
*غلط فہمی* [8] چھ مہینے کی بکری یا بکرا دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔
*اصلاح:* بکری اور بکرا کی عمر ایک سال سے کم ہوتو اس کی قربانی جائز نہیں ہے ۔ ہاں چھ مہینے کا دنبہ اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے ۔(درمختار،ج:9'ص:533،دار المعرفۃ ،بیروت)
یاد رکھیں کہ مطلقاً چھ مہینے کے دنبے کی قربانی جائز نہیں بلکہ اسے اتنا موٹا تازہ ہونا ضروری ہے کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے۔
*غلط فہمی* [9] جس چھری میں لکڑی کا دستہ نہ ہو اس سے جانور حلال نہ ہوگا۔
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM