🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"پردھان منتری مینٹور شپ اسکیم" کیا ہے اور تیاری کیسے کریں؟

محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی

بھارت جوانوں کا ملک ہے اس ملک کی 65 فیصد آبادی جوان ہے اس لیے سائنس کے اس دور میں بھارت کی آزادی کے جانبازوں اور بھارت کی بے مثال تاریخ اور ثقافت سے نوجوانوں کو منسلک کرنے کے لیے اس اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔
پردھان منتری نریندر مودی نے 31 جنوری 2021 کو "من کی بات" پروگرام کے درمیان کہا تھا:
"मैं अपने युवा मित्रों का आवाहन करता हूं कि वह हमारे स्वतंत्रता सेनानियों उनसे जुड़ी घटनाओं और अपने क्षेत्र से स्वतंत्रता संग्राम के दौरान उनकी वीरता की गाथाओं के बारे में लिखें।"
श्री नरेंद्र मोदी, प्रधानमंत्री

اس اسکیم کی بنیادی بات یہ ہے کہ
यह योजना अज्ञात नायकों, अज्ञात स्वतंत्रता सेनानियों और विस्मृत स्थानों तथा राष्ट्रीय आंदोलन एवं अन्य संबंधित विषयों में उनकी भूमिका जैसे विषयों पर लेखकों की युवा पीढ़ी के दृष्टिकोण को एक नवाचारी एवं रचनात्मक तरीके से सामने लाने के लिए इंडिया @75 परियोजना का हिस्सा है।

یہ کام ہماری سرکاریں کافی پہلے سے کر رہی ہیں جس کے تحت حکومت ہند نے 1967 سے 1972 تک تین ضخیم جلدوں میں مجاہدین تحریک آزادی کا ڈیٹا جمع کیا ہے اور اس کے بعد 2009 سے لے کر 2020 تک پانچ ضخیم جلدوں میں شہدائے تحریک آزادی کی ڈکشنری تیار کی ہے۔ موجودہ اسکیم بھی اسی کا حصہ ہے۔
کوئی بھی ملک اپنے محسنین کو بھولنا نہیں چاہتا اسی لیے بھارت سرکار نے آپ کو موقع دیا ہے آپ اپنے علاقے و اطراف کے ان مجاہدین آزادی کا تذکرہ جمع کریں جو ابھی تک حکومت ہند تک نہیں پہنچ سکا ہے۔
یہ ایک سنہرا موقع ہے اپنے آباؤ اجداد و مسلم مجاہدین آزادی کی خدمات حکومت کی فہرست میں درج کرانے کا۔ لہذا اس موقع کا بھر کور فائدہ اٹھائیں اور جی بھر کوشش کرکے اپنے مسلم بھائیوں کا نام اس فہرست میں ضرور شامل کرائیں۔

حکومت ہند کی جانب سے اس سکیم کے تحت 75 لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ منتخب افراد کے نام کا اعلان 15اگست 2021 کو ہوگا۔ اس اسکیم کا فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 31 جولائی 2021 ہے۔

منتخب افراد کو تین مہینہ قابل ترین افراد کی نگرانی میں کام کرنے کا موقع ملے گا جس میں ان کو تاریخ لکھنے کی باریکیاں سکھائی جائیں گی۔
پھر تین مہینہ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ملک کے مختلف مقامات پر آن لائن یا آف لائن پروگراموں میں شرکت کرائی جائے گی۔

منتخب افراد کے لکھے ہوئے مضامین کو کتابی شکل میں مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ حکومت مستقبل میں تاریخی کاموں لیے انہیں منتخب اور تیار شدہ افراد کی مدد لے اور یہ ان افراد کے لیے مستقل کام ہو۔
ان چھ مہینوں میں منتخب افراد کو 50,000 روپے ماہانہ اسکالرشپ بھی دی جائے گی۔

اب یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مقابلہ کے لیے صرف گم نام مجاہد آزادی اور انگریزوں سے گم نام تصادم کا تذکرہ آپ کو تلاش کرنا ہوگا اور یہ تذکرہ پہلے سے کسی کتاب یا کسی رسالہ میں چھپا ہوا نہ ہو ورنہ قابل قبول نہ ہوگا۔

لہذا آپ کو اس کے لیے کافی محنت کرنی ہوگی اور پرانے لوگوں یا اپنے علاقے کے تاریخ دان افراد سے مدد لینی ہوگی۔

اس مقابلے کے عنوانات:
1 نامعلوم مجاہدین آزادی۔
2 ملک کی تحریک آزادی کے متعلق غیر ظاہر معلومات۔
3 ملک کی تحریک آزادی میں مختلف مقامات کا کردار
4 تحریک آزادی کے سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی، پہلو پر اپنے نظریہ کو پیش کرتی ہوئی تحریر قابل قبول ہوں گی۔

مضمون کی زبان:
مضامین اردو اور ہندی کے ساتھ ملک کی 22 زبانوں لکھے جاسکتے ہیں جن میں اسمیاں، بنگلہ، گجراتی، کنڑ، کاشمیری، کونکنی، ملیالم، منیپوری، مراٹھی، نیپالی، اوڑیا، پنجابی، سنسکرت، سندھی، تامل، تیلگو، بوڈو، سنتھالی، میتھلی، اور ڈونگری۔

مضمون جمع کیسے کریں؟

ای میل کے ذریعے آپ اپنا مضمون جمع کر سکتے ہیں. نیز مضمون نگار کی عمر 30 (تیس) برس سے کم ہونا لازم ہے۔

مضمون کتنے صفحات اور کس فائل میں ہو؟
صفحات کی قید اس مضمون میں نہیں ہے البتہ 14 کے فانٹ اور پانچ ہزار الفاظ کی قید ہے۔ اس سے زیادہ اور کم نہ ہو۔ یہ مضمون ایم ایس ورڈ یا یونیکوڈ فائل میں جمع کیا جاسکتا ہے۔

آپ کو اپنی درخواست اور 5٫000 (پانچ ہزار) الفاظ پر مشتمل مضمون ایک ہی ای میل میں الگ الگ اٹیچ کرکے جمع کرنے ہیں۔

درخواست کی ضروری چیزیں:
نام
والد یا والدہ کا نام
تاریخ پیدائش
پیدائش کا کوئی سرٹیفکیٹ مارکشیٹ وغیرہ
1 جون 2021 کو عمر
جنس
خط و کتابت کا موجودہ پتہ
مستقل پتہ
ای میل
فون نمبر
موجودہ پیشہ
تعلیمی لیاقت
تحریری خدمات (مضامین یا کتابیں) اگر ہوں۔
مضمون کی زبان
مضمون کا عنوان (جو مضمون کے اوپر لکھا ہو.)
مضمون کا خلاصہ 100 سے 150 الفاظ میں ہندی یا انگریزی زبان میں۔

آپ اپنی درخواست اور اپنا مضمون ایک ہی ای میل میں الگ الگ فائل میں اٹیچ کرکے بھیج دیں۔

Website: www.nbtindia.gov.in
Email: nbtyoungwriters@gmail.com
پردھان منتری مینٹور شپ اسکیم"
کیا ہے اور تیاری کیسے کریں؟

محمد شاہد علی مصباحی
📇 روشن مستقبل دہلی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/951579238745928/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری اور علماے بریلی شریف*

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

سلسلۂ نقشبندیہ کی عظیم وقدیم خانقاہ ’’علی پورشریف‘‘ کے بزرگ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری (ولادت: ١٢٥٧ھ/١٨٤١ء؛وصال: ١٣٧٠ھ/١٩٥١ء) اپنے عہد کے عظیم قائداور شیخِ طریقت تھے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت (ولادت: ١٢٧٢ھ/١٨٥٦ء؛ وصال ١٣٤٠ھ/١٩٢١ء) نے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے جو کوششیں کیں، کامیاب جدوجہد کی؛ اس میں آپ نے اعلیٰ حضرت کے موقفِ حق کی تائید و حمایت کی۔ گستاخِ رسول فرقوں کی تردید میں اعلیٰ حضرت کے ہم زباں رہے۔

برصغیر میں نوپید فرقوں کے باطل عقائد کی تردید میں اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ "حسام الحرمین" جاری کیا۔ جس میں کفریہ عقائد کی بنیاد پر دیوبند کے عناصر اربعہ نیز قادیانیت وغیرہ پر ٣٣ علماے حرمین نے فتویٰ کفر جاری فرمایا۔ "حسام الحرمین" کی تائید و تصدیق میں برصغیر کی بیش تر مشہور خانقاہوں کے مشائخ اور اکابر نے تحریریں جاری کیں۔ جن کی اشاعت ’’الصوارم الہندیہ‘‘ کے نام سے ہوئی۔

*حسام الحرمین پر تصدیق:*
حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری "حسام الحرمین" پر تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’حسام الحرمین کے فتاویٰ حق ہیں اور اہلِ اسلام کو ان کا ماننا اور ان کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ جو شخص ان کو تسلیم نہیں کرتا وہ راہِ راست سے دور ہے، حضرت رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان مبارک میں جو شخص عمداً و سہواً بھی گستاخی کرے اور آپ کی ادنیٰ توہین و تنقیص کا تقریراً یا تحریراً مرتکب ہو وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔‘‘ (١)

حضرت پیر جماعت علی شاہ نقشبندی محدث علی پوری کی اس تحریر پر مولانا محمد حسین (مہتمم مدرسۂ نقشبندیہ علی پور سیداں)، محمد کرم الٰہی بی اے، مولانا خان محمد وغیرہم کے دستخط ہیں۔

*قائدانہ کردار:*
آپ نے اپنے عہد میں اہل سنّت کی قیادت کی۔ عقائد اہل سنّت کی حفاظت و صیانت کے لیے مستعد رہے۔ تردیدِ فرق ہاے باطلہ کے لیے سینہ سپر رہے۔ بیعت و ارشاد کے ساتھ ہی عقائد اہل سنّت کا جام عرفاں بھی پلاتے۔ آپ کی ذات خانقاہی بزم میں مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت کی ایک مثال ہے۔

آپ نے ١٨٨٥ء میں لاہور میں انجمن نعمانیہ کی بنیاد رکھی- ١٩٢٣ء میں اعلیٰ حضرت کی قائم کردہ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف نے جب مشرکین کے فتنۂ ارتداد کے انسداد کے لیے مجاہدانہ کردار ادا کیا تو جماعت رضائے مصطفیٰ کے تعاون کے لیے انجمن نعمانیہ کا وفد بھیجا گیا- شدھی تحریک کے انسداد میں علماے بریلی شریف کے ساتھ انجمن سے مربوط اراکین نے خدمت انجام دی-
شدھی تحریک کے ناپاک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری، حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی، مبلغ اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقی، مفتی اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضا خان، تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی، مولانا نثار احمد کانپوری ، مولانا سید غلام محمد بھیک نیرنگ...... اور ان کے متبعین نے اس سلسلہ میں عدیم النظیر کارنامے سر انجام دیے-(٢)

اس زمانے کی بعض تحریکیں ہنود و مشرکین کی اسلام مخالف سازشوں کا محور تھیں... جن کے باطل نظریات کے خلاف اعلیٰ حضرت نے متعدد فتاویٰ صادر فرمائے- مسلمانوں کو ان کے فتنہ و سازش سے باخبر کیا- حضرت امیر ملت نے بھی ایسی تحریکوں کی مخالفت کی- علامہ عبدالحکیم شرف قادری لکھتے ہیں:

"آپ کی سیاسی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں- تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت (٢١-١٩٢٠ء) کے نقصانات سے مسلمانوں کو پوری طرح باخبر کیا- ١٩٣٥ء میں مسجد شہید گنج کی تحریک کے وقت شاہی مسجد لاہور میں ولولہ انگیز تقریر کی جس کی بنا پر آپ کو امیر ملت کا خطاب دیا گیا-"(٣)
آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں بحیثیت سرپرست شریک ہوئے- جس کی قیادت اکابر علماے بریلی فرما رہے تھے-

*سفر بریلی شریف:*
۲۴؍اکتوبر ۱۹۳۵ء کی صبح تھی۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف کے رضا کار استقبال کی تیاریوں میں منہمک تھے۔ کیوں کہ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری شہر محبت بریلی شریف تشریف لا رہے تھے۔ اخبار الفقیہ امرتسر میں اس ضمن میں رپورٹ شائع ہوئی۔ ملاحظہ فرمائیں:

’’صبح کو ۷؍بجے سے مسلمانانِ شہر و نیز بریلی کی جملہ سنی انجمنیں و جماعتیں اپنے اپنے رضا کاروں کے ساتھ بآں شان ہاے امتیازی حضرت امیر ملت کے استقبال کے واسطے بریلی جنکشن جانا شروع ہوئے اور گاڑی آنے کے وقت تک سینکڑوں مسلمان اسٹیشن پر جمع ہو گئے۔ جس وقت گاڑی پلیٹ فارم پر آئی اور حضرت امیر ملت کو مسلمانوں نے دیکھا تو اس وقت اللہ اکبر اور امیر ملت زندہ باد کے نعروں سے اسٹیشن گونج اٹھا….... غرضیکہ اسٹیشن بریلی سے نہایت شان و شوکت کے ساتھ حضرت امیر ملت کو محلہ سوداگران لایا گیا اور (اعلیٰ حضرت کے چھوٹے بھائی) حضرت مولانا مولوی محمد رضا خان صاحب قبلہ کے مکان میں ٹھہرایا گیا۔ ‘‘ (٤)
۲۴؍اکتوبر ۱۹۳۵ء کو عید گاہ بریلی میں جلسہ ہوا۔ حضرت امیر ملت نے شرکت کی۔ جہاں (حضور تاج الشریعہ کے والد) مفسر اعظم علامہ ابراہیم رضا خان، صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی، مولانا عبدالقدیر بدایونی کی تقریریں ہوئیں۔ حضرت امیر ملت نے بھی اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

*جماعت رضاے مصطفیٰ کانفرنس میں شرکت:*
۲۵؍اکتوبر کو عید گاہ میں جماعت رضائے مصطفیٰ کا عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت امیر ملت نے کی۔ مولانا عبدالقدیر بدایونی، خواجہ غلام نظام الدین قادری بدایونی کی پرزور تقاریر ہوئیں۔ اجلاس کے عناوین فروغ اہل سنت، تردید فرق ہاے باطلہ اور فلاح مسلمین کے ساتھ ہی سیاسی حالات کے تناظر میں لائحۂ عمل پر مبنی تھے- جیسا کہ رپورٹ میں مذکور ہے:

’’جس میں مسلمانوں کے مالی اور اقتصادی کمزوریوں پر بحث کرتے ہوئے مسلمانوں کو تجارت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اور اس امر پر کافی روشنی ڈالی گئی کہ مسلمان اس پر نہایت سختی کے ساتھ عمل پیرا ہوں کہ اپنے آپس ہی میں خرید و فروخت کا معاملہ کریں۔اس وقت مسلمانوں کا منظم ہو جانا اور ایک مرکز اتحاد پر جمع ہو جانا نہایت ضروری ہے۔‘‘ (٥)

اس عہد میں ملک میں سیاسی تحریکات عروج پر تھیں۔ انگریز کے انخلا کا وقت قریب تھا۔ انگریز چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو کمزور کر دے۔ ہندو چاہتے تھے کہ وہ سوراج قائم کر لیں۔ مسلمانوں کی بربادی کو دونوں ہی آمادہ تھے۔ ادغام و اتحاد کی تحریکوں نے مسلمانوں کو مشرکانہ رسوم میں گرفتار کروا دیا۔ اعلیٰ حضرت اور اکابر اہل سنّت نے ایسے اتحاد کی مذمت کی۔ فتاویٰ جاری کیے۔ مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کی کوششیں کیں۔ اعلیٰ حضرت کے وصال کے ۱۴؍سال بعد منعقدہ اس جلسہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور عہد کی باطل تحریکات کے ازالہ کے لیے علما نے تجاویز پاس کیں۔

مذکورہ اقتباس میں علما کی سماجی بصیرت اور مسلم اقتصادیات کے لیے درد و کرب کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مشاہداتی بات ہے کہ جہاں مسلمانوں نے تجارت کی بزم سجائی۔ دیانت داری سے اور کم نفع کے ساتھ نیز اپنوں سے کاروبار کیا؛ ترقی کی منزلیں طے ہوئیں۔ خوش حالی کا دور آیا۔ مذکورہ ترغیب پر عمل کی آج بھی ضرورت ہے۔

اِسی اجلاس میں حجۃ الاسلام شہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ حامد رضا خان قادری بریلوی نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں، تجاویز کے صرف تین پوائنٹ ملاحظہ کریں:
[۱] مسلمانوں کا یہ اجتماع عمومی مسلمانوں کو خود اپنی تجارت بڑھانے کی ہدایت اور اس کے ذرائع کی توسیع اور حتی الامکان وہ صورتیں بہم پہنچانا کہ مسلمان کبھی کسی غیر مسلم وطنی خواہ بیرونی کے تجارت کے محتاج نہ رہیں۔
[۲]یہ جلسۂ عام مسلمانوں کو ترغیب دلاتا ہے کہ باہمی مقدمات جن میں گورنمنٹ کی دست اندازی نہ ہو باہم فیصل کریں۔ یا دارالقضاء سے اس کا تصفیہ چاہیں۔ کچہری کی مقدمہ بازی کی تباہ کن لعنت سے بچیں۔
[۳] یہ جلسۂ عام تجار و رؤساءِ ہند سے ایک اسلامی خزانہ قائم کرنے کی اپیل کرتا ہے جس میں ماہ بماہ یا سال بہ سال کچھ رقم محفوظ ہوتی رہے کہ وقتاً فوقتاً دینی ضرورتوں اور محکمۂ امارت شرعیہ میں کام آئے۔ (٦)

تجاویز کے سبھی نکات بہت اہم ہیں؛ تاہم یہاں مندرجہ بالا تین نکات ایسے ہیں کہ جن پر اگر عمل کر لیا جاتا تو معاشی و اقتصادی اور دینی و سماجی سطح پر مسلمان خود کفیل ہوتے۔ آج جب کہ پے در پے مسلم معیشت پر حملے کیے جا رہے ہیں؛ مختلف شعبہ ہاے حیات میں مسلمانوں کو توڑنے کے لیے جاں توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں، مدارس کو مفلوک الحال بنایا جا رہا ہے۔ ان تجاویز میں بہت کچھ ترقی کا سامان موجود ہے۔ آج بھی انھیں عمل کی بزم میں سجا لیا جائے تو بہتر نتائج رونما ہوں گے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی کے خاتمہ کے لیے ان پر غور و خوض کرنا چاہیے۔ ان کی افادیت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ ٨٦؍برس قبل تھی۔

ان تجاویز کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ تاریخی اجلاس کی صدارت حضرت امیر ملت نے کی اور تجاویز کو پسند فرمایا۔ تفصیلی رپورٹ ’’الفقیہ امرتسر" شمارہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۳۵ء میں مطبوع ہے۔

بہر کیف تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں، صفحات اُلٹے جائیں، ریکارڈ چھانے جائیں تو اسلاف کی پاکیزہ حیات کے کئی نقوش اجاگر ہوں گے۔ حضرت امیر ملت کی اصابتِ فکر اور حضور حجۃ الاسلام کی تعمقِ نظر اور علماے بریلی شریف سے حضرت امیر ملت کے تعلقات و مراسم کی کئی کڑیاں ظاہر ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلک اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے اسلاف کے نقوش نمایاں کیے جائیں:

ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے

*حوالہ جات:*
(١) الصوارم الہندیہ۱۳۴۵ھ، مرتب مولانا حشمت علی خان قادری، نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور،جنوری۲۰۱۱ء،ص۵۵
(٢) بحوالہ ویب سائٹ امیر ملت ڈاٹ کام، از عمران خالد
(٣) تذکرہ اکابر اہل سنت، نوری کتب خانہ لاہور، ص١١٤
(٤) الفقیہ امرتسر، ۱۴؍نومبر ۱۹۳۵ء،ص۷
(٥) نفس مصدر، ص۸
(٦) نفس مصدر،ص۸
٭ ٭ ٭
ترسیل: اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
١٨؍ جولائی ۲۰۲۱ء
Cell. +91 9325028586
noorimission92@gmail.com

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
حضرت امیر ملت کا
بریلی میں ورود مسعود
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*درود و سلام کی نکہتیں...*
اور سلفِ صالحین کا پاکیزہ عمل

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

عہدِ رواں میں ہر طرف توہینِ رسالت ﷺ کا بازار گرم ہے۔ اسلام دُشمن قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کا رشتہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس سے منقطع کر دیا جائے۔ سلفِ صالحین نے مسلمانوں کی بقا و تحفظ کو اسی میں جانا کہ رشتۂ محبت کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے جوڑ دیا جائے۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ نسبتوں کی صبح طلوع ہوگی۔ نفرتوں کی شب دور ہو گی۔ گستاخانِ بارگاہِ رسالت سے دوری پیدا ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے کہ دل جب عشقِ رسول ﷺ کے والہانہ جذبات سے لبریز ہوگا تو وہ کسی گستاخ کی جسارت کو کیوں برداشت کر سکے گا۔
آج جب کہ باطل قوتیں اسلام کے چراغ کو توہینِ رسالت کی منافرت سے بجھانا چاہتی ہیں؛ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی نسبتوں کی تجدید کریں۔ محبتوں کے جذبات کو پروان چڑھائیں۔ سلفِ صالحین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ دلوں میں نورِ ایماں فروزاں کرنے کی غرض سے لبوں پر ہمیشہ درود و سلام کے نغمے سجائے رہتے۔ محافل درود و سلام آراستہ کرتے- علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ’’دلائل الخیرات‘‘ کے پیشِ لفظ میں فرماتے ہیں:
’’ زمانۂ سلفِ صالحین سے لے کر آج تک اہلِ سنت کے سارے اکابر و مشائخ ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ مسلمانوں کے درمیان درود و سلام کو فروغ حاصل ہو۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر انھوں نے درود و سلام کی ترویج کے لیے مسلم معاشرے میں بہت سارے نئے نئے مواقع پیدا کیے؛ چنانچہ انھیں کی مبارک و مسعود کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج محافلِ میلاد جلسہ ہاے سیرۃ النبی کے ذریعے درود و سلام کا نغمۂ دل نواز پوری دُنیا میں گونج رہا ہے۔ اب دُنیا کے کسی خطے میں رہنے والی قوم کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ رشتہ کیسا ہے۔ لاکھوں افراد قیام تعظیمی کے ساتھ جب آواز میں آواز ملا کر ’یا نبی سلام علیک‘ کا ترانہ پڑھتے ہیں تو کیف و مستی کا ایک عجیب سماں بندھ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ آنکھ بند کرتے ہی ہم مدینے میں پہنچ گئے ہیں۔
دورِ حاضر میں امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ آبِ زر سے لکھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے قلمی جہاد کے ذریعہ ان سارے مواقع اور تقریبات کو مٹنے سے بچا لیا جو درود و سلام کی کثرت اور ذکرِ مصطفیٰ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے فروغ کے لیے سلفِ صالحین سے ہمیں وراثت میں ملے تھے۔ (پیش لفظ: دلائل الخیرات)
سلفِ صالحین کی اسی پاکیزہ وراثت کی ترسیل کے جذبے سے لبریز ہو کر نوری مشن نے ’’صلوٰۃ وسلام‘‘ کی اشاعت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد جن کا اسلوب اردو زبان میں مثالی ہے؛ کے نوکِ قلم سے درود وسلام کے برکات و ثمرات پر کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی گئی مذکورہ کتاب ہر اردو خواں کے لیے عظیم نعمت ہے۔ یقینی طور پر بزمِ مطالعہ میں اسے سجایا جانا لمحہ لمحہ خوشبو کا باعث ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماحول کو اسلامی بنائیں۔ برائیوں کا قلع قمع کریں۔ اچھائیوں کو فروغ دیں۔ سچائی کی راہ چلیں۔ اس کے لیے درود و سلام سے رشتہ کی استواری ضروری ہے تا کہ من کی دنیا میں چاندنی پھیل جائے۔ باطن مہک مہک اٹھے اور ظاہر بھی اس کے زیر اثر اسلامی رنگ میں رنگ جائے۔؎
کعبے کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے اپنے ترغیبی مقالہ میں درود و سلام سے متعلق بہت دل لگتی بات لکھی ہے، آپ بھی پڑھیں اور سر دُھنیں:
ﷲ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم پر ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہے ہیں اور ایمان والوں سے بھی کہا جارہا ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و سلام بھیجو… جب ﷲ تعالیٰ ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہا ہے، تو پھر فرشتوں کی کیا ضرورت؟… اور اُمت کی کیا حاجت؟ … حضور انور صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے تو ان کا مولیٰ کافی ہے… حقیقت یہ ہے کہ صلوٰۃ و سلام حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے لیےہے… ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھی شریک کرلیا… یہ اس کا عین کرم ہے… یہ کیسی بابرکت اور یگانہ و یکتا یاد ہے جس کی نظیر نہیں… صلوٰۃ و سلام بھیجنے والا بندہ بھی صلوٰۃ کا مستحق ٹھہرا… خود سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم فرمارہے ہیں:
مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللہ عَلَیْہِ بِھَا عَشَرًا (محمد علی الصابونی: روائع البیان، ج ۲، ص ۳۳۷)
جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔
یہ نغمہ روح کا نغمہ ہے۔ آپ بھی درود و سلام کو وِردِ زباں بنا لیں۔ ان شاءاللہ ظاہر و باطن انقلابِ تازہ سے آشنا ہوں گے-
*
13 جولائی 2021ء
ترسیل : اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
*

+91 9325028586
noorimission92@gmail.com

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4225365287545151&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دم‌ وغیرہ کا معاوضہ 🥀

شریعت مطہرہ کے دائرے میں رہتے ہوئے جو جائز و مباح کلمات سے دم کیے جاتے ہیں ، یا تعویذات و عملیات کیے جاتے ہیں ، اُن کا معاوضہ اور ہدیہ لینا بالکل جائز و حلال ہے ۔

فقہائے کرام فرماتے ہیں:

” ان چیزوں کا تعلق عبادت محضہ سے نہیں ، بلکہ علاج سے ہے ؛ اس لیے ان پر جو اجرت لی جاتی ہے وہ علاج کی اجرت ہوتی ہے ، تلاوت قران پاک یا ذکرالٰہی کی نہیں ۔
البته نا جائز اور جھوٹے جنتر منتر پر اجرت یا نذرانہ لینا حرام ہے ۔ “

( انظر: رد المحتار ، ج 6 ، ص57 - مراة المناجیح ، ج 4 ، ص 337 ، 583 )

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
بہت سے لوگ تعویذ کا معاوضہ لیتے ہیں یہ جائز ہے ۔۔۔۔۔۔ مگریہ ضرور ہے کہ تعویز ایسا ہو کہ اُس میں شرعی قباحت نہ ہو ۔

( بہارشریعت،حصہ 14، ص 147 )

مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمه الله فرماتے ہیں:
تعویذ کی اجرت بلا کراہت جائز ہے ۔
( اور یہ جائز‌ اور حلال کاروبار میں سے ایک ہے )
(اسلامی زندگی ، ص144 )

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے دم کی اجرت بھی لی ہے ، اور ہدیہ بھی ؛ بلکہ خود سید عالم ، نور مجسم ﷺ نے جِن نکالنے کے بعد ہدیہ قبول فرمایا ہے ۔
آپ ﷺ کے پاس ایک عورت اپنا بیٹا لے کر آئی تھی جسے کوئی جن چمٹا ہوا تھا ۔

آپ ﷺ نے اُس جن سے فرمایا:

اللہ کے دشمن نکل جا ، میں اللہ کا رسول ہوں ، تو وہ ( جن نکل گیا اور ) لڑکا صحت یاب ہو گیا ۔
اس عورت نے دو مینڈھے ، کچھ پنیر اور گھی خدمت اقدس میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت یَعلیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
اے یعلیٰ ! پنیر ، گھی اور ایک مینڈھا رکھ لو ، دوسرا اسے واپس کر دو !

( مسند احمد ، ج ، 29 ، ص 105، رقم 17563 ۔
مجمع الزوائد ، ج 9 ، رقم 14160۔ قال الھیثمی: رجالہ رجال الصحیح ۔ المغنی عن حمل الاسفار ۔۔۔۔ ص 1560۔ قال العراقی: اسنادہ جید ۔ )

( دوسرا مینڈھا واپس کرنے کا یا تو اس کے حسبِ حال فرمایا تھا ، یا جواز کے لیے کہ:
ہدیہ ملنے کے بعد رکھا بھی جاسکتا ہے اور واپس بھی کیا جا سکتا ہے )

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں:
نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا گزر پانی کے ایک گھاٹ سے ہوا ، وہاں ایک آدمی تھا جسے بِچھو یا سانپ نے ڈسا ہوا تھا ، گھا ٹ والوں میں سے ایک شخص اِن کے پاس آکر کہنے لگا:
کیا تم میں کوئی دم کرنے والا بھی ہے ؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی اس آدمی کے ساتھ مریض کے پاس گئے اور چند بکریوں کے عوض سورت فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔
وہ صحابی ( مقررہ ) بکریاں لے کر جب دوسرے صحابہ کرام کے پاس آئے تو اُنھوں نے ( دم کے بدلے اجرت لینے کو ) ناپسند کیااور کہا:

تم نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے ( جوکہ درست نہیں ) ۔

پھر جب یہ مدینہ پاک آئے تو انھوں نے سرورعالم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی کہ:
اے اللہ کے رسول ، اس شخص نے کتاب اللہ پر اجرت لی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جن چیزوں پر تم اُجرت لیتے ہو ، اُن میں سب سے زیادہ اجرت کی مستحق اللہ کی کتاب ہے ۔

(صحیح بخاری ، ج 7 ، ص 132 ، رقم 5737 )

حضرت خارجہ بن صُلت تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
میرے چچا رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے ، پھر جب واپس جارہے تھے تو اُن کا گزر ایک قوم پر ہوا جنھوں نے مرضِ جنون میں مبتلا ایک شخص کو زنجیر سے باندھ رکھا تھا ۔
اس کے اہل خانہ آپ سے کہنےلگے:
سنا ہے تمھارے صاحب خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں ، تو کیا تم کسی چیز سے اس مریض کا علاج کر سکتے ہو ؟

وہ کہتے ہیں: میں نے اس مریض کو سورت فاتحہ پڑھ کر دم کیا جس سے وہ شفا یاب ہو گیا۔
اب اس کے گھر والوں نے مجھے سو بکریاں پیش کیں ۔
میں یہ بکریاں لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ آپ کو سنایا ۔

آپ ﷺ نے پوچھا:
تم نے (دم میں صرف سورت فاتحہ ہی پڑھی یا ناجائز کلمات میں سے ) کچھ اور بھی پڑھا ؟
میں نے عرض کی:
نہیں ، ( حضور ! صرف سورت فاتحہ ہی پڑھی ہے ۔ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا:
بکریاں رکھ لو ، میرے زندگی کی قسم ! لوگ ناجائز دم کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز دم کر کے کھایا ہے ۔
(سنن ابی داؤد ، ص 13، رقم 3896 ۔ صحیح )

جادو وغیرہ کی مختلف قسمیں ہیں جن کے مختلف علاج ہیں ، جن میں سے بعض آسان بھی ہیں اور بعض مشکل ترین بھی ۔
عموماً عاملین علاج معالجے پر معاوضہ لیتے ہیں ، جو کہ نہ شرعاً غلط ہے ، نہ عقلاً ؛ لیکن بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں جو کہ بالکل بے جا ہے ۔
یہاں معاوضہ لینا اس سے بھی زیادہ جائز اور حلال ہے جو امامت ، خطابت ، اور تدریس وفتاوی کے بعد لیا جاتا ہے ۔
کیوں کہ ان چیزوں کے متعلق متاخرین نے جواز کا قول کیا ۔۔۔۔۔۔ جب کہ دم وغیرہ کا معاوضہ توسرور عالمﷺ کے زمانہ اقدس سے ہی صراحتاً جائز رہا ہے ۔

✍️لقمان شاہد
14-7-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3208386462774854&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض گھروں کے سرپرست بیمار ہوجاتے ہیں یا انتقال کرجاتے ہیں ، تو بیوی بچوں کےاخراجات کامسئلہ بنتاہے ، اس صورت میں کیا کرنا چاہیے ؟

بیوہ اور محتاج عورت گھر کی چاردیورای میں رہتے ہوئے ایسا کون ساجائز اورحلال کاروبار کرسکتی ہے جس سے بہ آسانی گُزر بسر ہوسکے ، اور کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے ؟

نیز ہماری وہ بہنیں اور بیٹیاں جن کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہوتے ، پردے کی رعایت کے ساتھ کون سا جائز بزنس کرسکتی ہیں ؟

اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیے ، اور کمینٹ میں اپنے فہم اور تجربے کے مطابق کاروبار کا نام لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو ساتھ یہ بھی بتادیجیے کہ اس کاروبار کی ابتدا کتنے سرمائے کے ساتھ ہو سکتی ہے ، اللہ آپ کوجزاے خیر دے !

ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنھا کے طفیل اللہ کریم ہماری ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو دنیا آخرت کی خیر کثیر عطافرمائے !

✍️لقمان شاہد
15-7-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3208928206054013&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
" میں آپ کے ساتھ ہوں " ، یہ لفظ جسے بھی بولیں ، سچے دل سے بولیں اور سوچ سمجھ کر بولیں ۔

اِن لفظوں میں چُھپی سچائی جیسے دل کو خوشی دیتی ہے ، اسی طرح ان لفظوں میں چھپا دھوکا بہت زیادہ اذیت دیتا ہے ، اور یہ اذیت اکثر " آہ " کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3209663889313778&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اسے سیدھا لٹا دو ، منھ قبلے شریف کی طرف کردو ، کپڑے کے ساتھ اس کے جبڑے باندھ دو ۔۔۔۔۔۔ اِس کے قد کی پیمائش کرلو ، اور اُس کے مطابق اِس کے رہنے کی جگہ بناؤ ۔

سب کچھ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔

اب اس کے بدن سے کپڑے اتار لو ، اور ایک تہبند لپیٹ کر اسے غسل دو ۔

جی دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اسے کندھوں پر اٹھاؤ اور ہمیشہ کے لیے اس گھر میں چھوڑ آؤ جو اِس کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔

یہ سننے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمیں کندھوں پر اٹھا کے اُس گھر کی طرف چل پڑیں گے ۔۔۔۔ اور وہاں تن تنہا چھوڑ کر سب واپس لوٹ آئیں گے ۔

پھر ہمارے ساتھ کیا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے ۔۔۔۔‌‌۔‌‌‌‌‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !! 😢😥 ؎

ساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا
بے کسی یار ہے ، کیا ہونا ہے

ارے او مجرم بے پَروا دیکھ !
سر پہ تلوار ہے ، کیا ہونا ہے

لے وہ حاکِم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے

ان کو رَحم آئے تو آئے ، ورنہ
وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے

✍️لقمان شاہد
16-7-2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3210077442605756&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM