🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
قربانی کا بیان کیا بتائیں ہم ...
قربانی کے بدلے رقم صدقہ کرنا
کیا ہر سال قربانی کرنا واجب ہے؟
قربانی کے جانور کا دودھ دوہنا
ذبح سے قبل جانور کو تکلیف دینا
کس کس جانور کی قربانی جائز عمر
قربانی کا جانور عورت ذبح کرے
بکری یا ہرنی کتی یا خنزیر کا دودھ
حلال جانور کی اوجھڑی ...
اوجهڑی اور آنتیں کھانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #قربانی #عید_الاضحی ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
قربانی کے بدلے رقم صدقہ کرنا
کیا ہر سال قربانی کرنا واجب ہے؟
قربانی کے جانور کا دودھ دوہنا
ذبح سے قبل جانور کو تکلیف دینا
کس کس جانور کی قربانی جائز عمر
قربانی کا جانور عورت ذبح کرے
بکری یا ہرنی کتی یا خنزیر کا دودھ
حلال جانور کی اوجھڑی ...
اوجهڑی اور آنتیں کھانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #قربانی #عید_الاضحی ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ قسط اول غلام مصطفےٰ نعیمی روشن مستقبل دہلی آزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور ان کے مزاج کی جھلک دکھا دی…
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ
قسط دوم
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
*مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ کا رویہ*
مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم پارٹی کے دروازے شروع ہی میں بند کر دیے گیے تھے لیکن جنوبی ہند میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں جما لی تھیں۔بعد میں متحدہ آندھرا پردیش میں اسدالدین اویسی کے دادا عبدالواحد اویسی صاحب نے مجلس اتحاد المسلمین کو از سر نو زندہ کیا۔حالانکہ یہ پارٹی 1927 میں قائم ہوئی تھی مگر تقسیم وطن کے بعد اس کے ذمہ داران پاکستان چلے گیے تھے اس لیے یہ پارٹی بھی ختم ہوگئی۔ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہوجانے کے بعد سن 1957 میں عبدالواحد اویسی نے نئے دستور کے ساتھ اس پارٹی کو ری لانچ کیا، آہستہ آہستہ یہ پارٹی حیدرآباد میں مضبوط ہوتی گئی۔1962 میں اسدالدین کے والد سلطان صلاح الدین اویسی نے اسمبلی انتخاب جیتا اور 1984 میں حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر کامیابی حاصل کی، تب سے لیکر آج تک حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر مجلس کا قبضہ برقرار ہے۔اپنے والد کے بعد بیرسٹر اسدالدین اویسی اس سیٹ سے لگاتار چوتھی بار منتخب ہوئے ہیں۔غیر منقسم آندھرا اور اب نو تشکیل شدہ تلنگانہ میں اس پارٹی کے سات ممبران اسمبلی موجود ہیں۔یہ پارٹی ایک صوبائی پارٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔اسدالدین نے پارٹی کی توسیع کرتے ہوئے مہاراشٹر اور بہار میں اسمبلی انتخاب لڑا جہاں دو اور پانچ سیٹیں حاصل ہوئیں۔اس سے قبل کشن گنج بہار کے ضمنی انتخاب میں اسمبلی سیٹ بھی مجلس کے حصے میں آئی تھی، فی الحال حیدرآباد کے باہر اورنگ آباد سے امتیاز جلیل بھی رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔اس پارٹی کے ساتھ کانگریس اور سیکولر پارٹیوں کا سلوک کبھی اچھا نہیں رہا آج بھی سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ سے تعلق رکھنے والے افراد مجلس اور اویسی پر تنقید کرنے اور بی جے پی کا ایجنٹ بتانے سے باز نہیں آتے۔سیکولر پارٹیاں کسی بھی نو زائدہ پارٹی سے سیاسی اتحاد بہ خوشی کر لیتی ہیں لیکن اویسی سے کوئی اتحاد نہیں کرنا چاہتا، کیوں کہ ہر سیکولر پارٹی مسلم قیادت کو دیکھنا پسند نہیں کرتی، افسوس اس بات کا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مسلم دانش ور/صحافی بھی مسلم قیادت کی کردار کشی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔
___جنوبی ہند میں مسلم پارٹیاں جد وجہد کر رہی تھیں تو شمالی ہند میں بھی کانگریس اور جمیعۃ کی پالیسی کے تئیں بے چینی بڑھ رہی تھی، آخرکار ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 1968 میں مسلم مجلس کے نام سے سیاسی پارٹی تشکیل دی ڈالی۔یہ پارٹی مسلم مجلس مشاورت کے بطن سے نکلی تھی جس کے بانی ڈاکٹر سید محمود تھے۔جو ایک زمانے میں نہرو کابینہ میں شامل رہ چکے تھے۔اس لیے ان لوگوں کا مطمح نظر مسلم قیادت کی بجائے سیکولر پارٹیوں کو مضبوط کرنا تھا، جب کہ فریدی صاحب کا ماننا تھا کہ جب تک اپنی قیادت مضبوط نہیں ہوتی تب تک سیکولر پارٹیاں بھی مسلمانوں کا جائز حق نہیں دیں گی۔ ابتداً ڈاکٹر فریدی صاحب کچھ نہ کر سکے لیکن بعد میں انہوں نے مسلم مجلس کے بینر پر 1971 میں یوپی اسمبلی انتخاب میں پانچ سیٹیں جیت کر اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔یوپی کے قدآور لیڈر اعظم خان نے بھی اپنا سیاسی سفر مسلم مجلس کے ساتھ ہی شروع کیا تھا، سن 1974 اور 1977 میں انہوں نے دو الیکشن مسلم مجلس کی جانب سے لڑے حالانکہ دونوں بار شکست ہوئی۔اس کے بعد وہ چودھری چرن سنگھ اور پھر ملائم سنگھ کے ساتھ چلے گئے۔
مسلم مجلس نے اسمبلی کے بعد سلطان پور اور الہ آباد پارلیمانی سیٹیں بھی جیتیں، اس طرح یوپی میں مسلم سیاست جڑ پکڑ رہی تھی مگر جمیعۃ اور کانگریسی افراد مسلسل اس پارٹی کے خلاف تھے، سن 1965 میں جب مجلس کا ایک اجلاس دیوبند میں مدرسہ اصغریہ کے پاس چل رہا تھا تو جمیعۃ کے اشارے پر دارالعلوم دیوبند کے طلبہ نے جلسے پر حملہ کردیا۔اسٹیج کے سارے لوگ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے، حالانکہ اس وقت اسٹیج پر مفتی عتیق الرحمن اور ڈاکٹر فریدی جیسے کئی اہم ذمہ دار موجود تھے مگر طلبہ نے کسی کا لحاظ نہیں کیا، مائک ٹینٹ وغیرہ سب کچھ توڑ پھوڑ کر نالے میں پھینک دیا۔
اس طرح کی درجنوں مثالیں ہیں جب مسلم قیادت کے خلاف کانگریس/سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ نواز افراد نے کھلے چھپے سازشیں کیں اور ہر ممکن کوشش کی کہ مسلم قیادت پروان نہ چڑھنے پائے۔
*سیکولر پارٹیوں کی بے وفائیاں*
آزادی وطن کے بعد مسلمان آنکھ بند کرکے سیکولر پارٹیوں کے وفادار رہے لیکن سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو زبانی تسلیوں اور چند ایک علامتی کاموں سے ہی بہلاوا دیتی رہیں، ان علامتی کاموں میں عید وبقر عید، محرم اور عید میلادالنبی وغیرہ کی مبارکباد، عرسوں میں چادر بھیجنا، افطار پارٹی کرانا، مشاعرے کرانا اور موقع بہ موقع اردو زبان کی اہمیت پر لیکچر دینا تھا۔مسلمانوں انہیں کاموں سے خوش ہوتے رہے اور سیکولر پارٹیوں کو اپنا
قسط دوم
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
*مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ کا رویہ*
مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم پارٹی کے دروازے شروع ہی میں بند کر دیے گیے تھے لیکن جنوبی ہند میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں جما لی تھیں۔بعد میں متحدہ آندھرا پردیش میں اسدالدین اویسی کے دادا عبدالواحد اویسی صاحب نے مجلس اتحاد المسلمین کو از سر نو زندہ کیا۔حالانکہ یہ پارٹی 1927 میں قائم ہوئی تھی مگر تقسیم وطن کے بعد اس کے ذمہ داران پاکستان چلے گیے تھے اس لیے یہ پارٹی بھی ختم ہوگئی۔ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہوجانے کے بعد سن 1957 میں عبدالواحد اویسی نے نئے دستور کے ساتھ اس پارٹی کو ری لانچ کیا، آہستہ آہستہ یہ پارٹی حیدرآباد میں مضبوط ہوتی گئی۔1962 میں اسدالدین کے والد سلطان صلاح الدین اویسی نے اسمبلی انتخاب جیتا اور 1984 میں حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر کامیابی حاصل کی، تب سے لیکر آج تک حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر مجلس کا قبضہ برقرار ہے۔اپنے والد کے بعد بیرسٹر اسدالدین اویسی اس سیٹ سے لگاتار چوتھی بار منتخب ہوئے ہیں۔غیر منقسم آندھرا اور اب نو تشکیل شدہ تلنگانہ میں اس پارٹی کے سات ممبران اسمبلی موجود ہیں۔یہ پارٹی ایک صوبائی پارٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔اسدالدین نے پارٹی کی توسیع کرتے ہوئے مہاراشٹر اور بہار میں اسمبلی انتخاب لڑا جہاں دو اور پانچ سیٹیں حاصل ہوئیں۔اس سے قبل کشن گنج بہار کے ضمنی انتخاب میں اسمبلی سیٹ بھی مجلس کے حصے میں آئی تھی، فی الحال حیدرآباد کے باہر اورنگ آباد سے امتیاز جلیل بھی رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔اس پارٹی کے ساتھ کانگریس اور سیکولر پارٹیوں کا سلوک کبھی اچھا نہیں رہا آج بھی سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ سے تعلق رکھنے والے افراد مجلس اور اویسی پر تنقید کرنے اور بی جے پی کا ایجنٹ بتانے سے باز نہیں آتے۔سیکولر پارٹیاں کسی بھی نو زائدہ پارٹی سے سیاسی اتحاد بہ خوشی کر لیتی ہیں لیکن اویسی سے کوئی اتحاد نہیں کرنا چاہتا، کیوں کہ ہر سیکولر پارٹی مسلم قیادت کو دیکھنا پسند نہیں کرتی، افسوس اس بات کا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مسلم دانش ور/صحافی بھی مسلم قیادت کی کردار کشی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔
___جنوبی ہند میں مسلم پارٹیاں جد وجہد کر رہی تھیں تو شمالی ہند میں بھی کانگریس اور جمیعۃ کی پالیسی کے تئیں بے چینی بڑھ رہی تھی، آخرکار ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 1968 میں مسلم مجلس کے نام سے سیاسی پارٹی تشکیل دی ڈالی۔یہ پارٹی مسلم مجلس مشاورت کے بطن سے نکلی تھی جس کے بانی ڈاکٹر سید محمود تھے۔جو ایک زمانے میں نہرو کابینہ میں شامل رہ چکے تھے۔اس لیے ان لوگوں کا مطمح نظر مسلم قیادت کی بجائے سیکولر پارٹیوں کو مضبوط کرنا تھا، جب کہ فریدی صاحب کا ماننا تھا کہ جب تک اپنی قیادت مضبوط نہیں ہوتی تب تک سیکولر پارٹیاں بھی مسلمانوں کا جائز حق نہیں دیں گی۔ ابتداً ڈاکٹر فریدی صاحب کچھ نہ کر سکے لیکن بعد میں انہوں نے مسلم مجلس کے بینر پر 1971 میں یوپی اسمبلی انتخاب میں پانچ سیٹیں جیت کر اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔یوپی کے قدآور لیڈر اعظم خان نے بھی اپنا سیاسی سفر مسلم مجلس کے ساتھ ہی شروع کیا تھا، سن 1974 اور 1977 میں انہوں نے دو الیکشن مسلم مجلس کی جانب سے لڑے حالانکہ دونوں بار شکست ہوئی۔اس کے بعد وہ چودھری چرن سنگھ اور پھر ملائم سنگھ کے ساتھ چلے گئے۔
مسلم مجلس نے اسمبلی کے بعد سلطان پور اور الہ آباد پارلیمانی سیٹیں بھی جیتیں، اس طرح یوپی میں مسلم سیاست جڑ پکڑ رہی تھی مگر جمیعۃ اور کانگریسی افراد مسلسل اس پارٹی کے خلاف تھے، سن 1965 میں جب مجلس کا ایک اجلاس دیوبند میں مدرسہ اصغریہ کے پاس چل رہا تھا تو جمیعۃ کے اشارے پر دارالعلوم دیوبند کے طلبہ نے جلسے پر حملہ کردیا۔اسٹیج کے سارے لوگ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے، حالانکہ اس وقت اسٹیج پر مفتی عتیق الرحمن اور ڈاکٹر فریدی جیسے کئی اہم ذمہ دار موجود تھے مگر طلبہ نے کسی کا لحاظ نہیں کیا، مائک ٹینٹ وغیرہ سب کچھ توڑ پھوڑ کر نالے میں پھینک دیا۔
اس طرح کی درجنوں مثالیں ہیں جب مسلم قیادت کے خلاف کانگریس/سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ نواز افراد نے کھلے چھپے سازشیں کیں اور ہر ممکن کوشش کی کہ مسلم قیادت پروان نہ چڑھنے پائے۔
*سیکولر پارٹیوں کی بے وفائیاں*
آزادی وطن کے بعد مسلمان آنکھ بند کرکے سیکولر پارٹیوں کے وفادار رہے لیکن سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو زبانی تسلیوں اور چند ایک علامتی کاموں سے ہی بہلاوا دیتی رہیں، ان علامتی کاموں میں عید وبقر عید، محرم اور عید میلادالنبی وغیرہ کی مبارکباد، عرسوں میں چادر بھیجنا، افطار پارٹی کرانا، مشاعرے کرانا اور موقع بہ موقع اردو زبان کی اہمیت پر لیکچر دینا تھا۔مسلمانوں انہیں کاموں سے خوش ہوتے رہے اور سیکولر پارٹیوں کو اپنا
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ قسط اول غلام مصطفےٰ نعیمی روشن مستقبل دہلی آزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور ان کے مزاج کی جھلک دکھا دی…
مسیحا اور نجات دہندہ تصور کرتے رہے جب کہ سیکولرزم کے "بابائے اعظم" جواہر لعل نہرو نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں کے آئینی اور مذہبی حقوق پر نقب زنی شروع کردی۔بعد میں ہر سیکولر لیڈر نے نہرو جی کی اتباع میں مسلمانوں سے یک مشت ووٹ بھی لیے اور ان کا سیاسی استحصال بھی کیا، ذیل میں نہرو سمیت سیکولر لیڈروں کی کارستانیاں ملاحظہ فرمائیں؛
🔸 برٹش حکومت نے بلا امتیاز مذہب شیڈول کاسٹ کو دفعہ 341 کے تحت ریزرویشن دیا تھا۔ نہرو حکومت نے سن 1950 میں آرڈیننس کے ذریعے دفعہ 341 پر مذہب کی قید لگا کر مسلمان اور عیسائی دلتوں کا ریزرویشن ختم کردیا، بعد میں ارتداد کا راستہ کھولنے کے لیے یہ شق بھی لگا دی کہ جو شیڈیول کاسٹ مسلمان، ہندو مذہب قبول کرے گا اسے ریزرویشن کا فائدہ ملنے لگے گا۔
🔹 کشمیر الحاق کے وقت جو معاہدہ کیا گیا اس کی رو سے کشمیر میں "وزیر اعظم اور صدر ریاست" کا فارمولہ تسلیم کیا گیا تھا جس سے کشمیر کی خود مختاری سلامت رہے لیکن نہرو نے اپنے "عزیز ترین دوست" شیخ عبد اللہ پر سازش رچنے کا الزام لگا کر گیارہ سال تک جیل میں رکھا، اس درمیان معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے "وزیر اعظم اور صدر ریاست" کے عہدوں کو وزیر اعلیٰ اور گورنر سے تبدیل کردیا گیا۔
🔹 نہرو حکومت کو بنے دو سال ہی ہوئے تھے کہ چار سو سال قدیم بابری مسجد میں سازشاً مورتیاں رکھ دی گئیں، نمازوں پر پابندی لگا دی اور پوجا شروع کرا دی گئی۔
🔸 ہندو عوام کو خوش کرنے کے لیے نہرو جی کے نواسے راجیو گاندھی نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کا شلانیاس کرایا۔
🔹 سال 2012 میں ملائم سنگھ نے مسلمانوں کو 18 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بھول گئے۔
🔸 یوپی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد بستی ہے مگر سازش کے تحت یہاں سے اردو میڈیم ختم کیا گیا جس کی بنیاد پر مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئی۔
🔹 جن علاقوں میں مسلم زمین دار تھے وہاں زمین داری قانون نافذ کرکے ان کی زمینیں ضبط کرلی گئیں لیکن جہاں ہندو زمین دار تھے ان علاقوں کو اس قانون سے مستثنی رکھا گیا۔
🔸 انتخابی حلقوں کی حد بندی میں مسلم آبادی کو کئی حصوں میں تقسیم رکھا گیا تاکہ ان کی جمہوری طاقت یکجا نہ ہوسکے۔
🔹 مسلم اکثریت والی سیٹوں کو جان بوجھ کر ایس سی، ایس ٹی ذاتوں کے لیے ریزرو کیا جاتا رہا تاکہ مسلم نمائندگی کم سے کم ہوسکے۔
🔸 مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب میں کبھی ٹکٹ نہیں دئے گئے اس طرح نمائندگی کا تناسب اور گھٹتا گیا۔
🔹 مسلمانوں کو صرف اُنہیں کے حلقوں سے ٹکٹ دیے گئے، ہندو اکثریتی علاقوں سے انہیں کبھی ٹکٹ نہیں دیا گیا اس کے برعکس سیکولر لیڈر لگاتار مسلم اکثریتی علاقوں سے لڑتے اور فتح یاب ہوتے رہے۔
🔸 مسلمانوں کو ہمیشہ غیر اہم وزارتیں دی گئیں، اہم وزارتوں سے انہیں دور رکھا گیا۔
🔹 حکومتی ملازمت میں مسلم امیدواروں کے ساتھ تعصب برتا گیا جس سے مسلمانوں کا تناسب لگاتار گھٹتا گیا۔
(جاری)
3 ذوالحجه 1442ھ
14 جولائی 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/950474082189777/
🔸 برٹش حکومت نے بلا امتیاز مذہب شیڈول کاسٹ کو دفعہ 341 کے تحت ریزرویشن دیا تھا۔ نہرو حکومت نے سن 1950 میں آرڈیننس کے ذریعے دفعہ 341 پر مذہب کی قید لگا کر مسلمان اور عیسائی دلتوں کا ریزرویشن ختم کردیا، بعد میں ارتداد کا راستہ کھولنے کے لیے یہ شق بھی لگا دی کہ جو شیڈیول کاسٹ مسلمان، ہندو مذہب قبول کرے گا اسے ریزرویشن کا فائدہ ملنے لگے گا۔
🔹 کشمیر الحاق کے وقت جو معاہدہ کیا گیا اس کی رو سے کشمیر میں "وزیر اعظم اور صدر ریاست" کا فارمولہ تسلیم کیا گیا تھا جس سے کشمیر کی خود مختاری سلامت رہے لیکن نہرو نے اپنے "عزیز ترین دوست" شیخ عبد اللہ پر سازش رچنے کا الزام لگا کر گیارہ سال تک جیل میں رکھا، اس درمیان معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے "وزیر اعظم اور صدر ریاست" کے عہدوں کو وزیر اعلیٰ اور گورنر سے تبدیل کردیا گیا۔
🔹 نہرو حکومت کو بنے دو سال ہی ہوئے تھے کہ چار سو سال قدیم بابری مسجد میں سازشاً مورتیاں رکھ دی گئیں، نمازوں پر پابندی لگا دی اور پوجا شروع کرا دی گئی۔
🔸 ہندو عوام کو خوش کرنے کے لیے نہرو جی کے نواسے راجیو گاندھی نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کا شلانیاس کرایا۔
🔹 سال 2012 میں ملائم سنگھ نے مسلمانوں کو 18 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بھول گئے۔
🔸 یوپی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد بستی ہے مگر سازش کے تحت یہاں سے اردو میڈیم ختم کیا گیا جس کی بنیاد پر مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئی۔
🔹 جن علاقوں میں مسلم زمین دار تھے وہاں زمین داری قانون نافذ کرکے ان کی زمینیں ضبط کرلی گئیں لیکن جہاں ہندو زمین دار تھے ان علاقوں کو اس قانون سے مستثنی رکھا گیا۔
🔸 انتخابی حلقوں کی حد بندی میں مسلم آبادی کو کئی حصوں میں تقسیم رکھا گیا تاکہ ان کی جمہوری طاقت یکجا نہ ہوسکے۔
🔹 مسلم اکثریت والی سیٹوں کو جان بوجھ کر ایس سی، ایس ٹی ذاتوں کے لیے ریزرو کیا جاتا رہا تاکہ مسلم نمائندگی کم سے کم ہوسکے۔
🔸 مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب میں کبھی ٹکٹ نہیں دئے گئے اس طرح نمائندگی کا تناسب اور گھٹتا گیا۔
🔹 مسلمانوں کو صرف اُنہیں کے حلقوں سے ٹکٹ دیے گئے، ہندو اکثریتی علاقوں سے انہیں کبھی ٹکٹ نہیں دیا گیا اس کے برعکس سیکولر لیڈر لگاتار مسلم اکثریتی علاقوں سے لڑتے اور فتح یاب ہوتے رہے۔
🔸 مسلمانوں کو ہمیشہ غیر اہم وزارتیں دی گئیں، اہم وزارتوں سے انہیں دور رکھا گیا۔
🔹 حکومتی ملازمت میں مسلم امیدواروں کے ساتھ تعصب برتا گیا جس سے مسلمانوں کا تناسب لگاتار گھٹتا گیا۔
(جاری)
3 ذوالحجه 1442ھ
14 جولائی 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/950474082189777/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ قسط دوم غلام مصطفےٰ نعیمی مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی *مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ کا رویہ* مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم…
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ
قسط سوم
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
*اپنی قیادت کے فوائد*
سیاست طاقت، دباؤ اور موقع کا کھیل ہے، جس کے پاس سیاسی طاقت ہوتی ہے وقت پڑنے پر اس کا سیاسی حریف بھی شراکت کو مجبور ہوتا ہے۔اس کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے، کشمیر میں بی جے پی محبوبہ مفتی، یوپی میں مایاوتی اکھلیش، بہار میں لالو پرساد نتیش کمار اور مہاراشٹر میں کانگریس شو سینا اتحاد کے بارے میں کون سوچ سکتا تھا؟ مگر اقتدار کے لیے نظریاتی حریفوں کے درمیان بھی اتحاد ہوا، کیوں کہ اقتدار کے لیے سارے نظریات دھرے رہ جاتے ہیں۔سیاست میں کوئی دائمی دشمن ہوتا ہے نہ دوست، یہاں مصلحت اور مفاد سب سے اہم ہوتا ہے۔اس لیے یہ خدشہ کہ اپنی قیادت سے مسلمان سیاسی اچھوت ہوجائیں گے، ایک مفروضے سے زیادہ نہیں ہے۔مخلوط حکومتوں کے دور میں دو چار سیٹ والی پارٹیاں بھی اہم رول نبھاتی ہیں، جیسا کہ مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے،رہا یہ سوال کہ؛
مسلم پارٹی سے ہندو ووٹر متحد ہوجائے گا !!
یہ بات اس وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ملک کی تمام پارٹیاں کسی ایک پارٹی میں ضم ہوجائیں اور سارے ہندو کسی ایک پارٹی کے تحت آجائیں، یہ کام عملاً ناممکن ہے۔کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کانگریس بی جے پی کے لیے خود کو ختم کر سکتی ہے، یا بی جے پی خود کو مٹا کر شو سینا میں شامل ہوسکتی ہے؟
کیا لالو پرساد ،اکھلیش یادو، شرد پوار ، نتیش کمار ، نوین پٹنائک ، کے سی آر، جگن موہن ریڈی اور چندر بابو نائڈو جیسے لیڈر اور ان کی برادریاں خود کو ختم کرنے پر آمادہ ہوجائیں گی؟
اقتدار کا نشہ بہت خطرناک ہوتا ہے اس کے لیے انسان خونی رشتوں کو بھول جاتا ہے تو محض مسلم دشمنی میں وہ خود کو قربان کرنے کی ہمت نہیں جٹا سکتے۔جب کہ مسلم پارٹی کے ساتھ مل کر اقتدار میں رہنے کا راستہ بھی کھلا ہے اس لیے یہ خدشہ بھی ایک مفروضہ سے زیادہ نہیں ہے۔1941 میں ہندو مہا سبھا جیسی کٹر مسلم دشمن پارٹی نے محمد علی جناح کی مسلم لیگ کے ساتھ بنگال میں مشترکہ حکومت بنائی تھی، جس کے وزیر اعظم مسلم لیگ کے فضل الحق تھے اور وزیر خزانہ جَن سَنگھ کے بانی اور بی جے پی کے سب سے بڑے رہنما شیاما پرساد مکھرجی تھے۔اس نظیر سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اقتدار کے لیے سخت ترین حریف سے بھی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے۔
_سیاست کرنے کے دو طریقے ہیں:
1- تابع داری 2- حصہ داری
مولانا آزاد اور جمیعۃ علماے ہند کی ان تھک کوششوں کی بدولت مسلمانان ہند نے تابع داری کی سیاست کو پسند کیا،مسلمانوں کی طرح دلتوں اور پس ماندہ ذاتوں نے بھی شروعاتی دور میں تابع داری ہی کی سیاست کی، اس لیے کانگریس نہایت آرام وسکون کے ساتھ ملک پر راج کرتی رہی۔اسّی کی دہائی میں دلتوں اور پچھڑوں نے اپنی قیادت اور حصہ دارانہ سیاست کی اہمیت کو سمجھا، سن 1984 میں کانشی رام نے دلتوں کے لیے بہوجن سماج پارٹی تشکیل دی۔اس سے پہلے تک دلت سماج بھی مسلمانوں کی طرح نہرو اور کانگریس کا غیر مشروط وفادار تھا۔تابع داری کا ہی نتیجہ تھا کہ دلتوں کے مسیحا امبیڈکر کو ریزرو سیٹ پر بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔کانشی رام کی قیادت میں دلتوں نے حصے دارانہ سیاست کا آغاز کیا اور محض گیارہ سال کی محنت کے بعد ایک دلت خاتون یوپی کی وزیر اعلی بن چکی تھی۔دلتوں کی بیداری دیکھ کر پس ماندہ قوموں نے بھی انگڑائی لی اور مختلف صوبوں میں پچھڑے سماج کے کئی لیڈر ابھر کر آئے۔سن 1992 میں یوپی میں ملائم سنگھ نے سماج وادی پارٹی ، سن 1997 میں بہار میں لالو پرساد نے راشٹریہ جنتا دَل ، نتیش کمار نے 2003 میں جنتا دَل یونائٹیڈ ، دیوے گوڑا نے کرناٹک میں 1999 میں جنتا دَل سیکولر ، بیجو پٹنائک نے اڑیسہ میں 1997 میں ہی بیجو جنتا دَل بنا کر حصے دارانہ سیاست کا آغاز کیا۔اب تک یہ قومیں تابع داری والی سیاست کرتی آئی تھیں اس لیے ہمیشہ دوسروں کی دریاں ہی بچھاتے رہے لیکن حصے دارانہ سیاست نے ان ذاتوں کو وزارت اعلی اور مرکزی وزارتوں میں اہم قلم دان دلائے، دیکھتے ہی دیکھتے یہ قومیں ملکی اور صوبائی سطح پر طاقت ور قومیں بن گئیں۔اس فہرست میں کیرل کی مسلم لیگ کو بھی شامل کرلیا جائے یہ پارٹی دلتوں اور پچھڑوں کی طرح وزارت اعلی تک تو نہیں پہنچی لیکن حصے دارانہ سیاست کی سوچ اور اپنی قیادت کی اہمیت جاننے کی بنا پر کانگریس جیسی پارٹی اس سے اتحاد کرنے اور صوبائی حکومت میں حصے داری دینے پر مجبور رہتی ہے۔صوبائی طاقت کی بدولت یہ پارٹی مرکز میں بھی اہم وزارت سنبھال چکی ہے۔اگر پورے صوبے کے مسلمان اس کے ساتھ ہوجائیں تو کسی موقع پر وزارت اعلی تک بھی رسائی ہوسکتی ہے۔
قسط سوم
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
*اپنی قیادت کے فوائد*
سیاست طاقت، دباؤ اور موقع کا کھیل ہے، جس کے پاس سیاسی طاقت ہوتی ہے وقت پڑنے پر اس کا سیاسی حریف بھی شراکت کو مجبور ہوتا ہے۔اس کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے، کشمیر میں بی جے پی محبوبہ مفتی، یوپی میں مایاوتی اکھلیش، بہار میں لالو پرساد نتیش کمار اور مہاراشٹر میں کانگریس شو سینا اتحاد کے بارے میں کون سوچ سکتا تھا؟ مگر اقتدار کے لیے نظریاتی حریفوں کے درمیان بھی اتحاد ہوا، کیوں کہ اقتدار کے لیے سارے نظریات دھرے رہ جاتے ہیں۔سیاست میں کوئی دائمی دشمن ہوتا ہے نہ دوست، یہاں مصلحت اور مفاد سب سے اہم ہوتا ہے۔اس لیے یہ خدشہ کہ اپنی قیادت سے مسلمان سیاسی اچھوت ہوجائیں گے، ایک مفروضے سے زیادہ نہیں ہے۔مخلوط حکومتوں کے دور میں دو چار سیٹ والی پارٹیاں بھی اہم رول نبھاتی ہیں، جیسا کہ مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے،رہا یہ سوال کہ؛
مسلم پارٹی سے ہندو ووٹر متحد ہوجائے گا !!
یہ بات اس وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ملک کی تمام پارٹیاں کسی ایک پارٹی میں ضم ہوجائیں اور سارے ہندو کسی ایک پارٹی کے تحت آجائیں، یہ کام عملاً ناممکن ہے۔کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کانگریس بی جے پی کے لیے خود کو ختم کر سکتی ہے، یا بی جے پی خود کو مٹا کر شو سینا میں شامل ہوسکتی ہے؟
کیا لالو پرساد ،اکھلیش یادو، شرد پوار ، نتیش کمار ، نوین پٹنائک ، کے سی آر، جگن موہن ریڈی اور چندر بابو نائڈو جیسے لیڈر اور ان کی برادریاں خود کو ختم کرنے پر آمادہ ہوجائیں گی؟
اقتدار کا نشہ بہت خطرناک ہوتا ہے اس کے لیے انسان خونی رشتوں کو بھول جاتا ہے تو محض مسلم دشمنی میں وہ خود کو قربان کرنے کی ہمت نہیں جٹا سکتے۔جب کہ مسلم پارٹی کے ساتھ مل کر اقتدار میں رہنے کا راستہ بھی کھلا ہے اس لیے یہ خدشہ بھی ایک مفروضہ سے زیادہ نہیں ہے۔1941 میں ہندو مہا سبھا جیسی کٹر مسلم دشمن پارٹی نے محمد علی جناح کی مسلم لیگ کے ساتھ بنگال میں مشترکہ حکومت بنائی تھی، جس کے وزیر اعظم مسلم لیگ کے فضل الحق تھے اور وزیر خزانہ جَن سَنگھ کے بانی اور بی جے پی کے سب سے بڑے رہنما شیاما پرساد مکھرجی تھے۔اس نظیر سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اقتدار کے لیے سخت ترین حریف سے بھی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے۔
_سیاست کرنے کے دو طریقے ہیں:
1- تابع داری 2- حصہ داری
مولانا آزاد اور جمیعۃ علماے ہند کی ان تھک کوششوں کی بدولت مسلمانان ہند نے تابع داری کی سیاست کو پسند کیا،مسلمانوں کی طرح دلتوں اور پس ماندہ ذاتوں نے بھی شروعاتی دور میں تابع داری ہی کی سیاست کی، اس لیے کانگریس نہایت آرام وسکون کے ساتھ ملک پر راج کرتی رہی۔اسّی کی دہائی میں دلتوں اور پچھڑوں نے اپنی قیادت اور حصہ دارانہ سیاست کی اہمیت کو سمجھا، سن 1984 میں کانشی رام نے دلتوں کے لیے بہوجن سماج پارٹی تشکیل دی۔اس سے پہلے تک دلت سماج بھی مسلمانوں کی طرح نہرو اور کانگریس کا غیر مشروط وفادار تھا۔تابع داری کا ہی نتیجہ تھا کہ دلتوں کے مسیحا امبیڈکر کو ریزرو سیٹ پر بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔کانشی رام کی قیادت میں دلتوں نے حصے دارانہ سیاست کا آغاز کیا اور محض گیارہ سال کی محنت کے بعد ایک دلت خاتون یوپی کی وزیر اعلی بن چکی تھی۔دلتوں کی بیداری دیکھ کر پس ماندہ قوموں نے بھی انگڑائی لی اور مختلف صوبوں میں پچھڑے سماج کے کئی لیڈر ابھر کر آئے۔سن 1992 میں یوپی میں ملائم سنگھ نے سماج وادی پارٹی ، سن 1997 میں بہار میں لالو پرساد نے راشٹریہ جنتا دَل ، نتیش کمار نے 2003 میں جنتا دَل یونائٹیڈ ، دیوے گوڑا نے کرناٹک میں 1999 میں جنتا دَل سیکولر ، بیجو پٹنائک نے اڑیسہ میں 1997 میں ہی بیجو جنتا دَل بنا کر حصے دارانہ سیاست کا آغاز کیا۔اب تک یہ قومیں تابع داری والی سیاست کرتی آئی تھیں اس لیے ہمیشہ دوسروں کی دریاں ہی بچھاتے رہے لیکن حصے دارانہ سیاست نے ان ذاتوں کو وزارت اعلی اور مرکزی وزارتوں میں اہم قلم دان دلائے، دیکھتے ہی دیکھتے یہ قومیں ملکی اور صوبائی سطح پر طاقت ور قومیں بن گئیں۔اس فہرست میں کیرل کی مسلم لیگ کو بھی شامل کرلیا جائے یہ پارٹی دلتوں اور پچھڑوں کی طرح وزارت اعلی تک تو نہیں پہنچی لیکن حصے دارانہ سیاست کی سوچ اور اپنی قیادت کی اہمیت جاننے کی بنا پر کانگریس جیسی پارٹی اس سے اتحاد کرنے اور صوبائی حکومت میں حصے داری دینے پر مجبور رہتی ہے۔صوبائی طاقت کی بدولت یہ پارٹی مرکز میں بھی اہم وزارت سنبھال چکی ہے۔اگر پورے صوبے کے مسلمان اس کے ساتھ ہوجائیں تو کسی موقع پر وزارت اعلی تک بھی رسائی ہوسکتی ہے۔
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ قسط دوم غلام مصطفےٰ نعیمی مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی *مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ کا رویہ* مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم…
اپنی قیادت کی اہمیت سمجھنے کے لیے بہار کی نو زائدہ پارٹی وی آئی پی (VIP) کی مثال بہت خاص ہے۔اس پارٹی کے بانی مکیش سہنی ہیں، جو ماہی گیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔بہار میں ماہی گیروں کی تعداد پانچ فیصد ہے، اس سماج کے دم پر مکیش سہنی نے 2018 میں اپنی پارٹی بنائی اور 2019 کے انتخاب میں لالو اور کانگریس نے سہنی سے اتحاد کرتے ہوئے تین پارلیمانی سیٹیں دیں۔سہنی تینوں سیٹیں ہار گئے مگر برادری کے یک مشت ووٹ پرسینٹ کی بنا پر سیاسی پکڑ بن گئی جس کا پھل 2020 کے اسمبلی الیکشن میں ملا جب بی جے پی جیسی پارٹی نے سہنی سے اتحاد کیا اور گیارہ سیٹیں دیں۔اس بار سہنی کی پارٹی چار سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی اور آج بہار کابینہ میں شامل ہے۔
*غور کریں!*
اگر ماہی گیر سماج نے یہ سوچا ہوتا کہ ہم اکیلے کیا کر پائیں گے تو وہ آج بھی دریاں بچھا رہے ہوتے لیکن انہوں نے اپنی طاقت کو یکجا کیا، طاقت بنتے ہی دوسرے لوگ بھی جڑ گئے اور آج ان کی قیادت جڑ پکڑ چکی ہے۔
*مسلم پارٹیوں کی ناکامی کے اسباب*
آزادی کے بعد کیرل اور کشمیر کے علاوہ کہیں بھی مسلم پارٹی موجود نہیں تھی،1957 میں آندھرا پردیش میں مجلس اتحاد المسلمین دوبارہ منظر عام پر آئی، 1968 میں یوپی میں مسلم مجلس سامنے آئی۔ممبئی انڈر ورلڈ کے بے تاج بادشاہ حاجی مستان مرزا نے 1984 میں "مسلم دلت سُرکشا مہا سنگھ" بنائی۔1995 میں ڈاکٹر مسعود نے یوپی میں NLP نیشنل لوک تانترک پارٹی، سن 2001 میں مولانا توقیر رضا خان نے یوپی میں اتحاد ملت کونسل بنائی، سال 2005 میں مولانا بدرالدین اجمل نے آسام میں یو ڈی ایف اور سال 2008 میں ڈاکٹر ایوب نے یوپی میں پیس پارٹی کی تشکیل کی۔آج ایم آئی ایم، مسلم لیگ اور یو ڈی ایف ہی اپنا سیاسی وجود رکھتی ہیں باقی پارٹیاں بھولی بسری داستان بن چکی ہیں یا دوسری پارٹیوں کے لیے تشہیری ایجنسی بن کر رہ گئیں ہیں۔ان تین پارٹیوں کے علاوہ جماعت اسلامی کی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، پیس پارٹی، علما کونسل اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا بھی پاؤں جمانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ماضی میں مسلم پارٹیوں کی ناکامی کے اسباب کیا تھے؟ اس بارے میں مختلف رائیں ہوسکتی ہیں اور صحیح حقائق ان پارٹیوں کے وابستگان ہی بتا سکتے ہیں لیکن حالات اور حقائق کا تجزیہ کرنے کے بعد کچھ اسباب ہماری ناقص سمجھ میں آتے ہیں، اسے سمجھنے کے لیے یہ بنیادی نکتہ ذہن میں رکھیں کہ آزادی کے بعد کشمیر اور کیرل کے علاوہ پورا ملک مسلم پارٹی سے خالی تھا، اس وقت کانگریس اور جمیعۃ نواز افراد ہی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کر رہے تھے۔ دس بیس سال کے بعد جب مسلم قیادت نے سر اٹھانا شروع کیا تو ان کے سامنے درج ذیل مشکلات تھیں:
🔹 کانگریس پورے ملک میں اپنا دبدبہ رکھتی تھی اس لیے کسی نو زائدہ پارٹی کو مسلمان نظر میں نہیں لاتے تھے۔
🔸 کانگریس ودیگر سیکولر پارٹیاں مالی/افرادی وسائل سے مالا مال تھیں جب کہ مسلم پارٹیوں کے سامنے مالی/افرادی مشکلات بہت زیادہ تھیں۔
🔹 جو مسلم نمائندے کانگریس یا دیگر پارٹیوں سے وابستہ تھے انہوں نے مسلم پارٹی کو اپنے لیے خطرہ سمجھا اور ان کی زبردست مخالفت کی۔
🔸 مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ مسلم پارٹی کی شد ومد سے مخالفت کیا کرتا تھا اس لیے عوامی رجحان بھی مسلم پارٹی کے مخالف بن جاتا تھا۔
🔹 ہندو مہا سبھا اور جَن سَنگھ جیسی پارٹیوں اور فسادات کا خوف دکھایا جاتا تھا۔
🔸 نمائندہ مسلم تنظیمیں سیکولرزم کی علم برداری کے جوش میں ہر مسلم پارٹی کو یکسر مسترد کر دیا کرتی تھیں۔
🔹 کانگریس ودیگر سیکولر پارٹیوں سے وابستہ مسلمان انتظامیہ وغیرہ میں رسوخ اور پہچان رکھتے تھے، عوام کے چِھٹ پُٹ کام کرا دیتے تھے اس بنا پر عوام انہیں کی ہم رائے ہوجاتے تھے۔
مذکورہ مشکلات وہ تھیں جو مسلم پارٹیوں کو بیرونی طور پر پیش آتی تھیں، جب کہ کچھ مشکلات اپنی پالیسیوں اور منصوبہ بندی کی بنیاد پر پیش آتی رہیں؛
🔸 ضرورت سے زیادہ جذباتی ہونا۔
🔹 عوام کے بنیادی کاموں پر زیادہ توجہ نہ دینا۔
🔸 زمینی سطح پر کارکنان نہ بنانا۔
🔹 الیکشن سے کچھ پہلے ہی سرگرم ہونا۔
🔸 بوتھ مینجمنٹ پر توجہ نہ دینا۔
🔹 کارکنان کی تربیت نہ کرنا۔
🔸 کرشمائی چہرے اور اچھے مقررین پر زیادہ منحصر رہنا۔
🔹 سیکولر پارٹیوں پر اعتبار کرکے ان لیے کیمپین چلانا۔
🔸 ٹکٹ تقسیم میں اپنے کارکنان کی بجائے دوسری پارٹیوں کے بھگوڑوں کو ترجیح دینا۔
ان وجوہات کے سبب بھی مسلم پارٹیاں مشکلات سے دو چار رہیں اور عوامی اعتماد جیتنے/بحال رکھنے میں ناکام رہیں۔جس کی بنا پر ان کی مقبولیت میں کمی آئی اور عوامی پکڑ دن بدن کمزور ہوتی گئی۔موجودہ مسلم پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ سابقہ مسلم پارٹیوں کی غلطیوں کو نگاہ میں رکھیں اور خود کو ان کمزروریوں سے بچائیں جن کی بنا پر پہلے کئی پارٹیاں ختم ہوگئیں۔
*آخری بات*
*غور کریں!*
اگر ماہی گیر سماج نے یہ سوچا ہوتا کہ ہم اکیلے کیا کر پائیں گے تو وہ آج بھی دریاں بچھا رہے ہوتے لیکن انہوں نے اپنی طاقت کو یکجا کیا، طاقت بنتے ہی دوسرے لوگ بھی جڑ گئے اور آج ان کی قیادت جڑ پکڑ چکی ہے۔
*مسلم پارٹیوں کی ناکامی کے اسباب*
آزادی کے بعد کیرل اور کشمیر کے علاوہ کہیں بھی مسلم پارٹی موجود نہیں تھی،1957 میں آندھرا پردیش میں مجلس اتحاد المسلمین دوبارہ منظر عام پر آئی، 1968 میں یوپی میں مسلم مجلس سامنے آئی۔ممبئی انڈر ورلڈ کے بے تاج بادشاہ حاجی مستان مرزا نے 1984 میں "مسلم دلت سُرکشا مہا سنگھ" بنائی۔1995 میں ڈاکٹر مسعود نے یوپی میں NLP نیشنل لوک تانترک پارٹی، سن 2001 میں مولانا توقیر رضا خان نے یوپی میں اتحاد ملت کونسل بنائی، سال 2005 میں مولانا بدرالدین اجمل نے آسام میں یو ڈی ایف اور سال 2008 میں ڈاکٹر ایوب نے یوپی میں پیس پارٹی کی تشکیل کی۔آج ایم آئی ایم، مسلم لیگ اور یو ڈی ایف ہی اپنا سیاسی وجود رکھتی ہیں باقی پارٹیاں بھولی بسری داستان بن چکی ہیں یا دوسری پارٹیوں کے لیے تشہیری ایجنسی بن کر رہ گئیں ہیں۔ان تین پارٹیوں کے علاوہ جماعت اسلامی کی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، پیس پارٹی، علما کونسل اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا بھی پاؤں جمانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ماضی میں مسلم پارٹیوں کی ناکامی کے اسباب کیا تھے؟ اس بارے میں مختلف رائیں ہوسکتی ہیں اور صحیح حقائق ان پارٹیوں کے وابستگان ہی بتا سکتے ہیں لیکن حالات اور حقائق کا تجزیہ کرنے کے بعد کچھ اسباب ہماری ناقص سمجھ میں آتے ہیں، اسے سمجھنے کے لیے یہ بنیادی نکتہ ذہن میں رکھیں کہ آزادی کے بعد کشمیر اور کیرل کے علاوہ پورا ملک مسلم پارٹی سے خالی تھا، اس وقت کانگریس اور جمیعۃ نواز افراد ہی مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کر رہے تھے۔ دس بیس سال کے بعد جب مسلم قیادت نے سر اٹھانا شروع کیا تو ان کے سامنے درج ذیل مشکلات تھیں:
🔹 کانگریس پورے ملک میں اپنا دبدبہ رکھتی تھی اس لیے کسی نو زائدہ پارٹی کو مسلمان نظر میں نہیں لاتے تھے۔
🔸 کانگریس ودیگر سیکولر پارٹیاں مالی/افرادی وسائل سے مالا مال تھیں جب کہ مسلم پارٹیوں کے سامنے مالی/افرادی مشکلات بہت زیادہ تھیں۔
🔹 جو مسلم نمائندے کانگریس یا دیگر پارٹیوں سے وابستہ تھے انہوں نے مسلم پارٹی کو اپنے لیے خطرہ سمجھا اور ان کی زبردست مخالفت کی۔
🔸 مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ مسلم پارٹی کی شد ومد سے مخالفت کیا کرتا تھا اس لیے عوامی رجحان بھی مسلم پارٹی کے مخالف بن جاتا تھا۔
🔹 ہندو مہا سبھا اور جَن سَنگھ جیسی پارٹیوں اور فسادات کا خوف دکھایا جاتا تھا۔
🔸 نمائندہ مسلم تنظیمیں سیکولرزم کی علم برداری کے جوش میں ہر مسلم پارٹی کو یکسر مسترد کر دیا کرتی تھیں۔
🔹 کانگریس ودیگر سیکولر پارٹیوں سے وابستہ مسلمان انتظامیہ وغیرہ میں رسوخ اور پہچان رکھتے تھے، عوام کے چِھٹ پُٹ کام کرا دیتے تھے اس بنا پر عوام انہیں کی ہم رائے ہوجاتے تھے۔
مذکورہ مشکلات وہ تھیں جو مسلم پارٹیوں کو بیرونی طور پر پیش آتی تھیں، جب کہ کچھ مشکلات اپنی پالیسیوں اور منصوبہ بندی کی بنیاد پر پیش آتی رہیں؛
🔸 ضرورت سے زیادہ جذباتی ہونا۔
🔹 عوام کے بنیادی کاموں پر زیادہ توجہ نہ دینا۔
🔸 زمینی سطح پر کارکنان نہ بنانا۔
🔹 الیکشن سے کچھ پہلے ہی سرگرم ہونا۔
🔸 بوتھ مینجمنٹ پر توجہ نہ دینا۔
🔹 کارکنان کی تربیت نہ کرنا۔
🔸 کرشمائی چہرے اور اچھے مقررین پر زیادہ منحصر رہنا۔
🔹 سیکولر پارٹیوں پر اعتبار کرکے ان لیے کیمپین چلانا۔
🔸 ٹکٹ تقسیم میں اپنے کارکنان کی بجائے دوسری پارٹیوں کے بھگوڑوں کو ترجیح دینا۔
ان وجوہات کے سبب بھی مسلم پارٹیاں مشکلات سے دو چار رہیں اور عوامی اعتماد جیتنے/بحال رکھنے میں ناکام رہیں۔جس کی بنا پر ان کی مقبولیت میں کمی آئی اور عوامی پکڑ دن بدن کمزور ہوتی گئی۔موجودہ مسلم پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ سابقہ مسلم پارٹیوں کی غلطیوں کو نگاہ میں رکھیں اور خود کو ان کمزروریوں سے بچائیں جن کی بنا پر پہلے کئی پارٹیاں ختم ہوگئیں۔
*آخری بات*
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ قسط دوم غلام مصطفےٰ نعیمی مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی *مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ کا رویہ* مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم…
__مسلم پارٹی کو لیکر جو خدشات ہیں وہ اب کمزور پڑ چکے ہیں۔کانگریس کیرل میں مسلم لیگ، آسام میں بدرالدین اجمل کے ساتھ اتحاد میں ہے۔اس سے قبل آندھراپردیش میں مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ بھی کانگریس اتحاد میں رہ چکی ہے۔لیکن یہ اتحاد تبھی ممکن ہوسکا جب مسلمانوں نے اپنی قیادت پر بھروسہ کیا اگر ان علاقوں کے مسلمان اب تک کانگریس سے ہی وابستہ رہتے تو کیا یہ مسلم پارٹیاں اپنا وجود بنا سکتی تھیں؟
مسلمانوں نے کیرل اور کشمیر کے علاوہ سیکولر پارٹیوں کو پورے ستّر سال دئے، بدلے میں کیا ملا؟
اس لیے بے جا خدشات سے باہر آئیں۔مسلسل محرومیوں کی بنا پر نئی نسل نئی راہوں پر چلنا چاہتی ہے تو ایک طبقہ مسلم قیادت کی مخالفت پر آمادہ ہے، پچھلے دنوں جمیعۃ کے صدر مولانا محمود مدنی نے ایک بڑے مسلم لیڈر کا نام لیکر کہا تھا؛
"ہم انہیں ملک کے مسلمانوں کا لیڈر نہیں بننے دیں گے۔"
ذرا سوچیں!
یہ بیان کس ذہنیت کی غمازی کرتا ہے؟ ملک کا مسلمان نہرو سے ملائم تک غیر مسلم لیڈروں اپنا رہنما مانتا آیا تو کوئی پریشانی نہیں ہوئی لیکن آج ایک مسلم لیڈر کی مقبولیت بڑھ رہی ہے تو آپ کو کس بات کی تکلیف ہورہی ہے؟
جمیعۃ کے سیاسی فلسفے پر ملت اسلامیہ نے پورے ستّر سال آنکھ بند کرکے عمل کیا، لیکن بربادی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، چاہیے تو یہ تھا کہ جمیعۃ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتی اور مسلم قیادت کی راہیں ہموار کرتی، الٹا پروان چڑھتی قیادت کو روکنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔آخر یہ جارحانہ رویہ اور تلخ تیور کس کے اشارے پر ہیں؟
جمیعۃ کی طرح ہی بہت سارے صحافی، دانش ور اور تنظیمی افراد بھی مسلم پارٹیوں کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ معروضی انداز میں ملکی صورت حال اور چلی آرہی پالیسی کا جائزہ لیں پھر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں۔نئی نسل تبدیلی کی بات کر رہی ہے تو جمیعۃ علماے ہند اور اس سے وابستہ افراد مسلم سیاست کی مخالفت نہ کریں، کیوں کہ ان کا فلسفہ عملی طور پر ناکام ہوچکا ہے اور مسلمانوں کو اس کی بڑی قیمت بھی چکانا پڑی ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمت ودانائی کے ساتھ اپنی قیادت کو مضبوط کیا جائے تاکہ محرومیوں کا دور ختم ہو اور قوم پھر سے عروج وارتقا کا سفر طے کر سکے۔
4 ذوالحجه 1442ھ
15 جولائی 2021 بروز جمعرات
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/951192862117899/
مسلمانوں نے کیرل اور کشمیر کے علاوہ سیکولر پارٹیوں کو پورے ستّر سال دئے، بدلے میں کیا ملا؟
اس لیے بے جا خدشات سے باہر آئیں۔مسلسل محرومیوں کی بنا پر نئی نسل نئی راہوں پر چلنا چاہتی ہے تو ایک طبقہ مسلم قیادت کی مخالفت پر آمادہ ہے، پچھلے دنوں جمیعۃ کے صدر مولانا محمود مدنی نے ایک بڑے مسلم لیڈر کا نام لیکر کہا تھا؛
"ہم انہیں ملک کے مسلمانوں کا لیڈر نہیں بننے دیں گے۔"
ذرا سوچیں!
یہ بیان کس ذہنیت کی غمازی کرتا ہے؟ ملک کا مسلمان نہرو سے ملائم تک غیر مسلم لیڈروں اپنا رہنما مانتا آیا تو کوئی پریشانی نہیں ہوئی لیکن آج ایک مسلم لیڈر کی مقبولیت بڑھ رہی ہے تو آپ کو کس بات کی تکلیف ہورہی ہے؟
جمیعۃ کے سیاسی فلسفے پر ملت اسلامیہ نے پورے ستّر سال آنکھ بند کرکے عمل کیا، لیکن بربادی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، چاہیے تو یہ تھا کہ جمیعۃ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتی اور مسلم قیادت کی راہیں ہموار کرتی، الٹا پروان چڑھتی قیادت کو روکنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔آخر یہ جارحانہ رویہ اور تلخ تیور کس کے اشارے پر ہیں؟
جمیعۃ کی طرح ہی بہت سارے صحافی، دانش ور اور تنظیمی افراد بھی مسلم پارٹیوں کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ معروضی انداز میں ملکی صورت حال اور چلی آرہی پالیسی کا جائزہ لیں پھر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں۔نئی نسل تبدیلی کی بات کر رہی ہے تو جمیعۃ علماے ہند اور اس سے وابستہ افراد مسلم سیاست کی مخالفت نہ کریں، کیوں کہ ان کا فلسفہ عملی طور پر ناکام ہوچکا ہے اور مسلمانوں کو اس کی بڑی قیمت بھی چکانا پڑی ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمت ودانائی کے ساتھ اپنی قیادت کو مضبوط کیا جائے تاکہ محرومیوں کا دور ختم ہو اور قوم پھر سے عروج وارتقا کا سفر طے کر سکے۔
4 ذوالحجه 1442ھ
15 جولائی 2021 بروز جمعرات
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/951192862117899/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"پردھان منتری مینٹور شپ اسکیم" کیا ہے اور تیاری کیسے کریں؟
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
بھارت جوانوں کا ملک ہے اس ملک کی 65 فیصد آبادی جوان ہے اس لیے سائنس کے اس دور میں بھارت کی آزادی کے جانبازوں اور بھارت کی بے مثال تاریخ اور ثقافت سے نوجوانوں کو منسلک کرنے کے لیے اس اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔
پردھان منتری نریندر مودی نے 31 جنوری 2021 کو "من کی بات" پروگرام کے درمیان کہا تھا:
"मैं अपने युवा मित्रों का आवाहन करता हूं कि वह हमारे स्वतंत्रता सेनानियों उनसे जुड़ी घटनाओं और अपने क्षेत्र से स्वतंत्रता संग्राम के दौरान उनकी वीरता की गाथाओं के बारे में लिखें।"
श्री नरेंद्र मोदी, प्रधानमंत्री
اس اسکیم کی بنیادی بات یہ ہے کہ
यह योजना अज्ञात नायकों, अज्ञात स्वतंत्रता सेनानियों और विस्मृत स्थानों तथा राष्ट्रीय आंदोलन एवं अन्य संबंधित विषयों में उनकी भूमिका जैसे विषयों पर लेखकों की युवा पीढ़ी के दृष्टिकोण को एक नवाचारी एवं रचनात्मक तरीके से सामने लाने के लिए इंडिया @75 परियोजना का हिस्सा है।
یہ کام ہماری سرکاریں کافی پہلے سے کر رہی ہیں جس کے تحت حکومت ہند نے 1967 سے 1972 تک تین ضخیم جلدوں میں مجاہدین تحریک آزادی کا ڈیٹا جمع کیا ہے اور اس کے بعد 2009 سے لے کر 2020 تک پانچ ضخیم جلدوں میں شہدائے تحریک آزادی کی ڈکشنری تیار کی ہے۔ موجودہ اسکیم بھی اسی کا حصہ ہے۔
کوئی بھی ملک اپنے محسنین کو بھولنا نہیں چاہتا اسی لیے بھارت سرکار نے آپ کو موقع دیا ہے آپ اپنے علاقے و اطراف کے ان مجاہدین آزادی کا تذکرہ جمع کریں جو ابھی تک حکومت ہند تک نہیں پہنچ سکا ہے۔
یہ ایک سنہرا موقع ہے اپنے آباؤ اجداد و مسلم مجاہدین آزادی کی خدمات حکومت کی فہرست میں درج کرانے کا۔ لہذا اس موقع کا بھر کور فائدہ اٹھائیں اور جی بھر کوشش کرکے اپنے مسلم بھائیوں کا نام اس فہرست میں ضرور شامل کرائیں۔
حکومت ہند کی جانب سے اس سکیم کے تحت 75 لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ منتخب افراد کے نام کا اعلان 15اگست 2021 کو ہوگا۔ اس اسکیم کا فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 31 جولائی 2021 ہے۔
منتخب افراد کو تین مہینہ قابل ترین افراد کی نگرانی میں کام کرنے کا موقع ملے گا جس میں ان کو تاریخ لکھنے کی باریکیاں سکھائی جائیں گی۔
پھر تین مہینہ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ملک کے مختلف مقامات پر آن لائن یا آف لائن پروگراموں میں شرکت کرائی جائے گی۔
منتخب افراد کے لکھے ہوئے مضامین کو کتابی شکل میں مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ حکومت مستقبل میں تاریخی کاموں لیے انہیں منتخب اور تیار شدہ افراد کی مدد لے اور یہ ان افراد کے لیے مستقل کام ہو۔
ان چھ مہینوں میں منتخب افراد کو 50,000 روپے ماہانہ اسکالرشپ بھی دی جائے گی۔
اب یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مقابلہ کے لیے صرف گم نام مجاہد آزادی اور انگریزوں سے گم نام تصادم کا تذکرہ آپ کو تلاش کرنا ہوگا اور یہ تذکرہ پہلے سے کسی کتاب یا کسی رسالہ میں چھپا ہوا نہ ہو ورنہ قابل قبول نہ ہوگا۔
لہذا آپ کو اس کے لیے کافی محنت کرنی ہوگی اور پرانے لوگوں یا اپنے علاقے کے تاریخ دان افراد سے مدد لینی ہوگی۔
اس مقابلے کے عنوانات:
1 نامعلوم مجاہدین آزادی۔
2 ملک کی تحریک آزادی کے متعلق غیر ظاہر معلومات۔
3 ملک کی تحریک آزادی میں مختلف مقامات کا کردار
4 تحریک آزادی کے سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی، پہلو پر اپنے نظریہ کو پیش کرتی ہوئی تحریر قابل قبول ہوں گی۔
مضمون کی زبان:
مضامین اردو اور ہندی کے ساتھ ملک کی 22 زبانوں لکھے جاسکتے ہیں جن میں اسمیاں، بنگلہ، گجراتی، کنڑ، کاشمیری، کونکنی، ملیالم، منیپوری، مراٹھی، نیپالی، اوڑیا، پنجابی، سنسکرت، سندھی، تامل، تیلگو، بوڈو، سنتھالی، میتھلی، اور ڈونگری۔
مضمون جمع کیسے کریں؟
ای میل کے ذریعے آپ اپنا مضمون جمع کر سکتے ہیں. نیز مضمون نگار کی عمر 30 (تیس) برس سے کم ہونا لازم ہے۔
مضمون کتنے صفحات اور کس فائل میں ہو؟
صفحات کی قید اس مضمون میں نہیں ہے البتہ 14 کے فانٹ اور پانچ ہزار الفاظ کی قید ہے۔ اس سے زیادہ اور کم نہ ہو۔ یہ مضمون ایم ایس ورڈ یا یونیکوڈ فائل میں جمع کیا جاسکتا ہے۔
آپ کو اپنی درخواست اور 5٫000 (پانچ ہزار) الفاظ پر مشتمل مضمون ایک ہی ای میل میں الگ الگ اٹیچ کرکے جمع کرنے ہیں۔
درخواست کی ضروری چیزیں:
نام
والد یا والدہ کا نام
تاریخ پیدائش
پیدائش کا کوئی سرٹیفکیٹ مارکشیٹ وغیرہ
1 جون 2021 کو عمر
جنس
خط و کتابت کا موجودہ پتہ
مستقل پتہ
ای میل
فون نمبر
موجودہ پیشہ
تعلیمی لیاقت
تحریری خدمات (مضامین یا کتابیں) اگر ہوں۔
مضمون کی زبان
مضمون کا عنوان (جو مضمون کے اوپر لکھا ہو.)
مضمون کا خلاصہ 100 سے 150 الفاظ میں ہندی یا انگریزی زبان میں۔
آپ اپنی درخواست اور اپنا مضمون ایک ہی ای میل میں الگ الگ فائل میں اٹیچ کرکے بھیج دیں۔
Website: www.nbtindia.gov.in
Email: nbtyoungwriters@gmail.com
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
بھارت جوانوں کا ملک ہے اس ملک کی 65 فیصد آبادی جوان ہے اس لیے سائنس کے اس دور میں بھارت کی آزادی کے جانبازوں اور بھارت کی بے مثال تاریخ اور ثقافت سے نوجوانوں کو منسلک کرنے کے لیے اس اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔
پردھان منتری نریندر مودی نے 31 جنوری 2021 کو "من کی بات" پروگرام کے درمیان کہا تھا:
"मैं अपने युवा मित्रों का आवाहन करता हूं कि वह हमारे स्वतंत्रता सेनानियों उनसे जुड़ी घटनाओं और अपने क्षेत्र से स्वतंत्रता संग्राम के दौरान उनकी वीरता की गाथाओं के बारे में लिखें।"
श्री नरेंद्र मोदी, प्रधानमंत्री
اس اسکیم کی بنیادی بات یہ ہے کہ
यह योजना अज्ञात नायकों, अज्ञात स्वतंत्रता सेनानियों और विस्मृत स्थानों तथा राष्ट्रीय आंदोलन एवं अन्य संबंधित विषयों में उनकी भूमिका जैसे विषयों पर लेखकों की युवा पीढ़ी के दृष्टिकोण को एक नवाचारी एवं रचनात्मक तरीके से सामने लाने के लिए इंडिया @75 परियोजना का हिस्सा है।
یہ کام ہماری سرکاریں کافی پہلے سے کر رہی ہیں جس کے تحت حکومت ہند نے 1967 سے 1972 تک تین ضخیم جلدوں میں مجاہدین تحریک آزادی کا ڈیٹا جمع کیا ہے اور اس کے بعد 2009 سے لے کر 2020 تک پانچ ضخیم جلدوں میں شہدائے تحریک آزادی کی ڈکشنری تیار کی ہے۔ موجودہ اسکیم بھی اسی کا حصہ ہے۔
کوئی بھی ملک اپنے محسنین کو بھولنا نہیں چاہتا اسی لیے بھارت سرکار نے آپ کو موقع دیا ہے آپ اپنے علاقے و اطراف کے ان مجاہدین آزادی کا تذکرہ جمع کریں جو ابھی تک حکومت ہند تک نہیں پہنچ سکا ہے۔
یہ ایک سنہرا موقع ہے اپنے آباؤ اجداد و مسلم مجاہدین آزادی کی خدمات حکومت کی فہرست میں درج کرانے کا۔ لہذا اس موقع کا بھر کور فائدہ اٹھائیں اور جی بھر کوشش کرکے اپنے مسلم بھائیوں کا نام اس فہرست میں ضرور شامل کرائیں۔
حکومت ہند کی جانب سے اس سکیم کے تحت 75 لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ منتخب افراد کے نام کا اعلان 15اگست 2021 کو ہوگا۔ اس اسکیم کا فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 31 جولائی 2021 ہے۔
منتخب افراد کو تین مہینہ قابل ترین افراد کی نگرانی میں کام کرنے کا موقع ملے گا جس میں ان کو تاریخ لکھنے کی باریکیاں سکھائی جائیں گی۔
پھر تین مہینہ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ملک کے مختلف مقامات پر آن لائن یا آف لائن پروگراموں میں شرکت کرائی جائے گی۔
منتخب افراد کے لکھے ہوئے مضامین کو کتابی شکل میں مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ حکومت مستقبل میں تاریخی کاموں لیے انہیں منتخب اور تیار شدہ افراد کی مدد لے اور یہ ان افراد کے لیے مستقل کام ہو۔
ان چھ مہینوں میں منتخب افراد کو 50,000 روپے ماہانہ اسکالرشپ بھی دی جائے گی۔
اب یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مقابلہ کے لیے صرف گم نام مجاہد آزادی اور انگریزوں سے گم نام تصادم کا تذکرہ آپ کو تلاش کرنا ہوگا اور یہ تذکرہ پہلے سے کسی کتاب یا کسی رسالہ میں چھپا ہوا نہ ہو ورنہ قابل قبول نہ ہوگا۔
لہذا آپ کو اس کے لیے کافی محنت کرنی ہوگی اور پرانے لوگوں یا اپنے علاقے کے تاریخ دان افراد سے مدد لینی ہوگی۔
اس مقابلے کے عنوانات:
1 نامعلوم مجاہدین آزادی۔
2 ملک کی تحریک آزادی کے متعلق غیر ظاہر معلومات۔
3 ملک کی تحریک آزادی میں مختلف مقامات کا کردار
4 تحریک آزادی کے سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی، پہلو پر اپنے نظریہ کو پیش کرتی ہوئی تحریر قابل قبول ہوں گی۔
مضمون کی زبان:
مضامین اردو اور ہندی کے ساتھ ملک کی 22 زبانوں لکھے جاسکتے ہیں جن میں اسمیاں، بنگلہ، گجراتی، کنڑ، کاشمیری، کونکنی، ملیالم، منیپوری، مراٹھی، نیپالی، اوڑیا، پنجابی، سنسکرت، سندھی، تامل، تیلگو، بوڈو، سنتھالی، میتھلی، اور ڈونگری۔
مضمون جمع کیسے کریں؟
ای میل کے ذریعے آپ اپنا مضمون جمع کر سکتے ہیں. نیز مضمون نگار کی عمر 30 (تیس) برس سے کم ہونا لازم ہے۔
مضمون کتنے صفحات اور کس فائل میں ہو؟
صفحات کی قید اس مضمون میں نہیں ہے البتہ 14 کے فانٹ اور پانچ ہزار الفاظ کی قید ہے۔ اس سے زیادہ اور کم نہ ہو۔ یہ مضمون ایم ایس ورڈ یا یونیکوڈ فائل میں جمع کیا جاسکتا ہے۔
آپ کو اپنی درخواست اور 5٫000 (پانچ ہزار) الفاظ پر مشتمل مضمون ایک ہی ای میل میں الگ الگ اٹیچ کرکے جمع کرنے ہیں۔
درخواست کی ضروری چیزیں:
نام
والد یا والدہ کا نام
تاریخ پیدائش
پیدائش کا کوئی سرٹیفکیٹ مارکشیٹ وغیرہ
1 جون 2021 کو عمر
جنس
خط و کتابت کا موجودہ پتہ
مستقل پتہ
ای میل
فون نمبر
موجودہ پیشہ
تعلیمی لیاقت
تحریری خدمات (مضامین یا کتابیں) اگر ہوں۔
مضمون کی زبان
مضمون کا عنوان (جو مضمون کے اوپر لکھا ہو.)
مضمون کا خلاصہ 100 سے 150 الفاظ میں ہندی یا انگریزی زبان میں۔
آپ اپنی درخواست اور اپنا مضمون ایک ہی ای میل میں الگ الگ فائل میں اٹیچ کرکے بھیج دیں۔
Website: www.nbtindia.gov.in
Email: nbtyoungwriters@gmail.com
پردھان منتری مینٹور شپ اسکیم"
کیا ہے اور تیاری کیسے کریں؟
✍ محمد شاہد علی مصباحی
📇 روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/951579238745928/
کیا ہے اور تیاری کیسے کریں؟
✍ محمد شاہد علی مصباحی
📇 روشن مستقبل دہلی
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/951579238745928/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری اور علماے بریلی شریف*
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
سلسلۂ نقشبندیہ کی عظیم وقدیم خانقاہ ’’علی پورشریف‘‘ کے بزرگ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری (ولادت: ١٢٥٧ھ/١٨٤١ء؛وصال: ١٣٧٠ھ/١٩٥١ء) اپنے عہد کے عظیم قائداور شیخِ طریقت تھے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت (ولادت: ١٢٧٢ھ/١٨٥٦ء؛ وصال ١٣٤٠ھ/١٩٢١ء) نے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے جو کوششیں کیں، کامیاب جدوجہد کی؛ اس میں آپ نے اعلیٰ حضرت کے موقفِ حق کی تائید و حمایت کی۔ گستاخِ رسول فرقوں کی تردید میں اعلیٰ حضرت کے ہم زباں رہے۔
برصغیر میں نوپید فرقوں کے باطل عقائد کی تردید میں اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ "حسام الحرمین" جاری کیا۔ جس میں کفریہ عقائد کی بنیاد پر دیوبند کے عناصر اربعہ نیز قادیانیت وغیرہ پر ٣٣ علماے حرمین نے فتویٰ کفر جاری فرمایا۔ "حسام الحرمین" کی تائید و تصدیق میں برصغیر کی بیش تر مشہور خانقاہوں کے مشائخ اور اکابر نے تحریریں جاری کیں۔ جن کی اشاعت ’’الصوارم الہندیہ‘‘ کے نام سے ہوئی۔
*حسام الحرمین پر تصدیق:*
حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری "حسام الحرمین" پر تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حسام الحرمین کے فتاویٰ حق ہیں اور اہلِ اسلام کو ان کا ماننا اور ان کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ جو شخص ان کو تسلیم نہیں کرتا وہ راہِ راست سے دور ہے، حضرت رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان مبارک میں جو شخص عمداً و سہواً بھی گستاخی کرے اور آپ کی ادنیٰ توہین و تنقیص کا تقریراً یا تحریراً مرتکب ہو وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔‘‘ (١)
حضرت پیر جماعت علی شاہ نقشبندی محدث علی پوری کی اس تحریر پر مولانا محمد حسین (مہتمم مدرسۂ نقشبندیہ علی پور سیداں)، محمد کرم الٰہی بی اے، مولانا خان محمد وغیرہم کے دستخط ہیں۔
*قائدانہ کردار:*
آپ نے اپنے عہد میں اہل سنّت کی قیادت کی۔ عقائد اہل سنّت کی حفاظت و صیانت کے لیے مستعد رہے۔ تردیدِ فرق ہاے باطلہ کے لیے سینہ سپر رہے۔ بیعت و ارشاد کے ساتھ ہی عقائد اہل سنّت کا جام عرفاں بھی پلاتے۔ آپ کی ذات خانقاہی بزم میں مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت کی ایک مثال ہے۔
آپ نے ١٨٨٥ء میں لاہور میں انجمن نعمانیہ کی بنیاد رکھی- ١٩٢٣ء میں اعلیٰ حضرت کی قائم کردہ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف نے جب مشرکین کے فتنۂ ارتداد کے انسداد کے لیے مجاہدانہ کردار ادا کیا تو جماعت رضائے مصطفیٰ کے تعاون کے لیے انجمن نعمانیہ کا وفد بھیجا گیا- شدھی تحریک کے انسداد میں علماے بریلی شریف کے ساتھ انجمن سے مربوط اراکین نے خدمت انجام دی-
شدھی تحریک کے ناپاک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری، حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی، مبلغ اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقی، مفتی اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضا خان، تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی، مولانا نثار احمد کانپوری ، مولانا سید غلام محمد بھیک نیرنگ...... اور ان کے متبعین نے اس سلسلہ میں عدیم النظیر کارنامے سر انجام دیے-(٢)
اس زمانے کی بعض تحریکیں ہنود و مشرکین کی اسلام مخالف سازشوں کا محور تھیں... جن کے باطل نظریات کے خلاف اعلیٰ حضرت نے متعدد فتاویٰ صادر فرمائے- مسلمانوں کو ان کے فتنہ و سازش سے باخبر کیا- حضرت امیر ملت نے بھی ایسی تحریکوں کی مخالفت کی- علامہ عبدالحکیم شرف قادری لکھتے ہیں:
"آپ کی سیاسی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں- تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت (٢١-١٩٢٠ء) کے نقصانات سے مسلمانوں کو پوری طرح باخبر کیا- ١٩٣٥ء میں مسجد شہید گنج کی تحریک کے وقت شاہی مسجد لاہور میں ولولہ انگیز تقریر کی جس کی بنا پر آپ کو امیر ملت کا خطاب دیا گیا-"(٣)
آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں بحیثیت سرپرست شریک ہوئے- جس کی قیادت اکابر علماے بریلی فرما رہے تھے-
*سفر بریلی شریف:*
۲۴؍اکتوبر ۱۹۳۵ء کی صبح تھی۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف کے رضا کار استقبال کی تیاریوں میں منہمک تھے۔ کیوں کہ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری شہر محبت بریلی شریف تشریف لا رہے تھے۔ اخبار الفقیہ امرتسر میں اس ضمن میں رپورٹ شائع ہوئی۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’صبح کو ۷؍بجے سے مسلمانانِ شہر و نیز بریلی کی جملہ سنی انجمنیں و جماعتیں اپنے اپنے رضا کاروں کے ساتھ بآں شان ہاے امتیازی حضرت امیر ملت کے استقبال کے واسطے بریلی جنکشن جانا شروع ہوئے اور گاڑی آنے کے وقت تک سینکڑوں مسلمان اسٹیشن پر جمع ہو گئے۔ جس وقت گاڑی پلیٹ فارم پر آئی اور حضرت امیر ملت کو مسلمانوں نے دیکھا تو اس وقت اللہ اکبر اور امیر ملت زندہ باد کے نعروں سے اسٹیشن گونج اٹھا….... غرضیکہ اسٹیشن بریلی سے نہایت شان و شوکت کے ساتھ حضرت امیر ملت کو محلہ سوداگران لایا گیا اور (اعلیٰ حضرت کے چھوٹے بھائی) حضرت مولانا مولوی محمد رضا خان صاحب قبلہ کے مکان میں ٹھہرایا گیا۔ ‘‘ (٤)
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
سلسلۂ نقشبندیہ کی عظیم وقدیم خانقاہ ’’علی پورشریف‘‘ کے بزرگ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری (ولادت: ١٢٥٧ھ/١٨٤١ء؛وصال: ١٣٧٠ھ/١٩٥١ء) اپنے عہد کے عظیم قائداور شیخِ طریقت تھے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت (ولادت: ١٢٧٢ھ/١٨٥٦ء؛ وصال ١٣٤٠ھ/١٩٢١ء) نے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے جو کوششیں کیں، کامیاب جدوجہد کی؛ اس میں آپ نے اعلیٰ حضرت کے موقفِ حق کی تائید و حمایت کی۔ گستاخِ رسول فرقوں کی تردید میں اعلیٰ حضرت کے ہم زباں رہے۔
برصغیر میں نوپید فرقوں کے باطل عقائد کی تردید میں اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ "حسام الحرمین" جاری کیا۔ جس میں کفریہ عقائد کی بنیاد پر دیوبند کے عناصر اربعہ نیز قادیانیت وغیرہ پر ٣٣ علماے حرمین نے فتویٰ کفر جاری فرمایا۔ "حسام الحرمین" کی تائید و تصدیق میں برصغیر کی بیش تر مشہور خانقاہوں کے مشائخ اور اکابر نے تحریریں جاری کیں۔ جن کی اشاعت ’’الصوارم الہندیہ‘‘ کے نام سے ہوئی۔
*حسام الحرمین پر تصدیق:*
حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری "حسام الحرمین" پر تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حسام الحرمین کے فتاویٰ حق ہیں اور اہلِ اسلام کو ان کا ماننا اور ان کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ جو شخص ان کو تسلیم نہیں کرتا وہ راہِ راست سے دور ہے، حضرت رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان مبارک میں جو شخص عمداً و سہواً بھی گستاخی کرے اور آپ کی ادنیٰ توہین و تنقیص کا تقریراً یا تحریراً مرتکب ہو وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔‘‘ (١)
حضرت پیر جماعت علی شاہ نقشبندی محدث علی پوری کی اس تحریر پر مولانا محمد حسین (مہتمم مدرسۂ نقشبندیہ علی پور سیداں)، محمد کرم الٰہی بی اے، مولانا خان محمد وغیرہم کے دستخط ہیں۔
*قائدانہ کردار:*
آپ نے اپنے عہد میں اہل سنّت کی قیادت کی۔ عقائد اہل سنّت کی حفاظت و صیانت کے لیے مستعد رہے۔ تردیدِ فرق ہاے باطلہ کے لیے سینہ سپر رہے۔ بیعت و ارشاد کے ساتھ ہی عقائد اہل سنّت کا جام عرفاں بھی پلاتے۔ آپ کی ذات خانقاہی بزم میں مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت کی ایک مثال ہے۔
آپ نے ١٨٨٥ء میں لاہور میں انجمن نعمانیہ کی بنیاد رکھی- ١٩٢٣ء میں اعلیٰ حضرت کی قائم کردہ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف نے جب مشرکین کے فتنۂ ارتداد کے انسداد کے لیے مجاہدانہ کردار ادا کیا تو جماعت رضائے مصطفیٰ کے تعاون کے لیے انجمن نعمانیہ کا وفد بھیجا گیا- شدھی تحریک کے انسداد میں علماے بریلی شریف کے ساتھ انجمن سے مربوط اراکین نے خدمت انجام دی-
شدھی تحریک کے ناپاک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری، حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی، مبلغ اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقی، مفتی اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضا خان، تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی، مولانا نثار احمد کانپوری ، مولانا سید غلام محمد بھیک نیرنگ...... اور ان کے متبعین نے اس سلسلہ میں عدیم النظیر کارنامے سر انجام دیے-(٢)
اس زمانے کی بعض تحریکیں ہنود و مشرکین کی اسلام مخالف سازشوں کا محور تھیں... جن کے باطل نظریات کے خلاف اعلیٰ حضرت نے متعدد فتاویٰ صادر فرمائے- مسلمانوں کو ان کے فتنہ و سازش سے باخبر کیا- حضرت امیر ملت نے بھی ایسی تحریکوں کی مخالفت کی- علامہ عبدالحکیم شرف قادری لکھتے ہیں:
"آپ کی سیاسی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں- تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت (٢١-١٩٢٠ء) کے نقصانات سے مسلمانوں کو پوری طرح باخبر کیا- ١٩٣٥ء میں مسجد شہید گنج کی تحریک کے وقت شاہی مسجد لاہور میں ولولہ انگیز تقریر کی جس کی بنا پر آپ کو امیر ملت کا خطاب دیا گیا-"(٣)
آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں بحیثیت سرپرست شریک ہوئے- جس کی قیادت اکابر علماے بریلی فرما رہے تھے-
*سفر بریلی شریف:*
۲۴؍اکتوبر ۱۹۳۵ء کی صبح تھی۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف کے رضا کار استقبال کی تیاریوں میں منہمک تھے۔ کیوں کہ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری شہر محبت بریلی شریف تشریف لا رہے تھے۔ اخبار الفقیہ امرتسر میں اس ضمن میں رپورٹ شائع ہوئی۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’صبح کو ۷؍بجے سے مسلمانانِ شہر و نیز بریلی کی جملہ سنی انجمنیں و جماعتیں اپنے اپنے رضا کاروں کے ساتھ بآں شان ہاے امتیازی حضرت امیر ملت کے استقبال کے واسطے بریلی جنکشن جانا شروع ہوئے اور گاڑی آنے کے وقت تک سینکڑوں مسلمان اسٹیشن پر جمع ہو گئے۔ جس وقت گاڑی پلیٹ فارم پر آئی اور حضرت امیر ملت کو مسلمانوں نے دیکھا تو اس وقت اللہ اکبر اور امیر ملت زندہ باد کے نعروں سے اسٹیشن گونج اٹھا….... غرضیکہ اسٹیشن بریلی سے نہایت شان و شوکت کے ساتھ حضرت امیر ملت کو محلہ سوداگران لایا گیا اور (اعلیٰ حضرت کے چھوٹے بھائی) حضرت مولانا مولوی محمد رضا خان صاحب قبلہ کے مکان میں ٹھہرایا گیا۔ ‘‘ (٤)
۲۴؍اکتوبر ۱۹۳۵ء کو عید گاہ بریلی میں جلسہ ہوا۔ حضرت امیر ملت نے شرکت کی۔ جہاں (حضور تاج الشریعہ کے والد) مفسر اعظم علامہ ابراہیم رضا خان، صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی، مولانا عبدالقدیر بدایونی کی تقریریں ہوئیں۔ حضرت امیر ملت نے بھی اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
*جماعت رضاے مصطفیٰ کانفرنس میں شرکت:*
۲۵؍اکتوبر کو عید گاہ میں جماعت رضائے مصطفیٰ کا عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت امیر ملت نے کی۔ مولانا عبدالقدیر بدایونی، خواجہ غلام نظام الدین قادری بدایونی کی پرزور تقاریر ہوئیں۔ اجلاس کے عناوین فروغ اہل سنت، تردید فرق ہاے باطلہ اور فلاح مسلمین کے ساتھ ہی سیاسی حالات کے تناظر میں لائحۂ عمل پر مبنی تھے- جیسا کہ رپورٹ میں مذکور ہے:
’’جس میں مسلمانوں کے مالی اور اقتصادی کمزوریوں پر بحث کرتے ہوئے مسلمانوں کو تجارت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اور اس امر پر کافی روشنی ڈالی گئی کہ مسلمان اس پر نہایت سختی کے ساتھ عمل پیرا ہوں کہ اپنے آپس ہی میں خرید و فروخت کا معاملہ کریں۔اس وقت مسلمانوں کا منظم ہو جانا اور ایک مرکز اتحاد پر جمع ہو جانا نہایت ضروری ہے۔‘‘ (٥)
اس عہد میں ملک میں سیاسی تحریکات عروج پر تھیں۔ انگریز کے انخلا کا وقت قریب تھا۔ انگریز چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو کمزور کر دے۔ ہندو چاہتے تھے کہ وہ سوراج قائم کر لیں۔ مسلمانوں کی بربادی کو دونوں ہی آمادہ تھے۔ ادغام و اتحاد کی تحریکوں نے مسلمانوں کو مشرکانہ رسوم میں گرفتار کروا دیا۔ اعلیٰ حضرت اور اکابر اہل سنّت نے ایسے اتحاد کی مذمت کی۔ فتاویٰ جاری کیے۔ مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کی کوششیں کیں۔ اعلیٰ حضرت کے وصال کے ۱۴؍سال بعد منعقدہ اس جلسہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور عہد کی باطل تحریکات کے ازالہ کے لیے علما نے تجاویز پاس کیں۔
مذکورہ اقتباس میں علما کی سماجی بصیرت اور مسلم اقتصادیات کے لیے درد و کرب کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مشاہداتی بات ہے کہ جہاں مسلمانوں نے تجارت کی بزم سجائی۔ دیانت داری سے اور کم نفع کے ساتھ نیز اپنوں سے کاروبار کیا؛ ترقی کی منزلیں طے ہوئیں۔ خوش حالی کا دور آیا۔ مذکورہ ترغیب پر عمل کی آج بھی ضرورت ہے۔
اِسی اجلاس میں حجۃ الاسلام شہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ حامد رضا خان قادری بریلوی نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں، تجاویز کے صرف تین پوائنٹ ملاحظہ کریں:
[۱] مسلمانوں کا یہ اجتماع عمومی مسلمانوں کو خود اپنی تجارت بڑھانے کی ہدایت اور اس کے ذرائع کی توسیع اور حتی الامکان وہ صورتیں بہم پہنچانا کہ مسلمان کبھی کسی غیر مسلم وطنی خواہ بیرونی کے تجارت کے محتاج نہ رہیں۔
[۲]یہ جلسۂ عام مسلمانوں کو ترغیب دلاتا ہے کہ باہمی مقدمات جن میں گورنمنٹ کی دست اندازی نہ ہو باہم فیصل کریں۔ یا دارالقضاء سے اس کا تصفیہ چاہیں۔ کچہری کی مقدمہ بازی کی تباہ کن لعنت سے بچیں۔
[۳] یہ جلسۂ عام تجار و رؤساءِ ہند سے ایک اسلامی خزانہ قائم کرنے کی اپیل کرتا ہے جس میں ماہ بماہ یا سال بہ سال کچھ رقم محفوظ ہوتی رہے کہ وقتاً فوقتاً دینی ضرورتوں اور محکمۂ امارت شرعیہ میں کام آئے۔ (٦)
تجاویز کے سبھی نکات بہت اہم ہیں؛ تاہم یہاں مندرجہ بالا تین نکات ایسے ہیں کہ جن پر اگر عمل کر لیا جاتا تو معاشی و اقتصادی اور دینی و سماجی سطح پر مسلمان خود کفیل ہوتے۔ آج جب کہ پے در پے مسلم معیشت پر حملے کیے جا رہے ہیں؛ مختلف شعبہ ہاے حیات میں مسلمانوں کو توڑنے کے لیے جاں توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں، مدارس کو مفلوک الحال بنایا جا رہا ہے۔ ان تجاویز میں بہت کچھ ترقی کا سامان موجود ہے۔ آج بھی انھیں عمل کی بزم میں سجا لیا جائے تو بہتر نتائج رونما ہوں گے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی کے خاتمہ کے لیے ان پر غور و خوض کرنا چاہیے۔ ان کی افادیت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ ٨٦؍برس قبل تھی۔
ان تجاویز کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ تاریخی اجلاس کی صدارت حضرت امیر ملت نے کی اور تجاویز کو پسند فرمایا۔ تفصیلی رپورٹ ’’الفقیہ امرتسر" شمارہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۳۵ء میں مطبوع ہے۔
بہر کیف تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں، صفحات اُلٹے جائیں، ریکارڈ چھانے جائیں تو اسلاف کی پاکیزہ حیات کے کئی نقوش اجاگر ہوں گے۔ حضرت امیر ملت کی اصابتِ فکر اور حضور حجۃ الاسلام کی تعمقِ نظر اور علماے بریلی شریف سے حضرت امیر ملت کے تعلقات و مراسم کی کئی کڑیاں ظاہر ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلک اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے اسلاف کے نقوش نمایاں کیے جائیں:
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
*حوالہ جات:*
(١) الصوارم الہندیہ۱۳۴۵ھ، مرتب مولانا حشمت علی خان قادری، نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور،جنوری۲۰۱۱ء،ص۵۵
(٢) بحوالہ ویب سائٹ امیر ملت ڈاٹ کام، از عمران خالد
(٣) تذکرہ اکابر اہل سنت، نوری کتب خانہ لاہور، ص١١٤
(٤) الفقیہ امرتسر، ۱۴؍نومبر ۱۹۳۵ء،ص۷
(٥) نفس مصدر، ص۸
(٦) نفس مصدر،ص۸
*جماعت رضاے مصطفیٰ کانفرنس میں شرکت:*
۲۵؍اکتوبر کو عید گاہ میں جماعت رضائے مصطفیٰ کا عظیم الشان اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت امیر ملت نے کی۔ مولانا عبدالقدیر بدایونی، خواجہ غلام نظام الدین قادری بدایونی کی پرزور تقاریر ہوئیں۔ اجلاس کے عناوین فروغ اہل سنت، تردید فرق ہاے باطلہ اور فلاح مسلمین کے ساتھ ہی سیاسی حالات کے تناظر میں لائحۂ عمل پر مبنی تھے- جیسا کہ رپورٹ میں مذکور ہے:
’’جس میں مسلمانوں کے مالی اور اقتصادی کمزوریوں پر بحث کرتے ہوئے مسلمانوں کو تجارت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اور اس امر پر کافی روشنی ڈالی گئی کہ مسلمان اس پر نہایت سختی کے ساتھ عمل پیرا ہوں کہ اپنے آپس ہی میں خرید و فروخت کا معاملہ کریں۔اس وقت مسلمانوں کا منظم ہو جانا اور ایک مرکز اتحاد پر جمع ہو جانا نہایت ضروری ہے۔‘‘ (٥)
اس عہد میں ملک میں سیاسی تحریکات عروج پر تھیں۔ انگریز کے انخلا کا وقت قریب تھا۔ انگریز چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو کمزور کر دے۔ ہندو چاہتے تھے کہ وہ سوراج قائم کر لیں۔ مسلمانوں کی بربادی کو دونوں ہی آمادہ تھے۔ ادغام و اتحاد کی تحریکوں نے مسلمانوں کو مشرکانہ رسوم میں گرفتار کروا دیا۔ اعلیٰ حضرت اور اکابر اہل سنّت نے ایسے اتحاد کی مذمت کی۔ فتاویٰ جاری کیے۔ مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کی کوششیں کیں۔ اعلیٰ حضرت کے وصال کے ۱۴؍سال بعد منعقدہ اس جلسہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور عہد کی باطل تحریکات کے ازالہ کے لیے علما نے تجاویز پاس کیں۔
مذکورہ اقتباس میں علما کی سماجی بصیرت اور مسلم اقتصادیات کے لیے درد و کرب کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مشاہداتی بات ہے کہ جہاں مسلمانوں نے تجارت کی بزم سجائی۔ دیانت داری سے اور کم نفع کے ساتھ نیز اپنوں سے کاروبار کیا؛ ترقی کی منزلیں طے ہوئیں۔ خوش حالی کا دور آیا۔ مذکورہ ترغیب پر عمل کی آج بھی ضرورت ہے۔
اِسی اجلاس میں حجۃ الاسلام شہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ حامد رضا خان قادری بریلوی نے معرکہ آرا تجاویز پیش کیں، تجاویز کے صرف تین پوائنٹ ملاحظہ کریں:
[۱] مسلمانوں کا یہ اجتماع عمومی مسلمانوں کو خود اپنی تجارت بڑھانے کی ہدایت اور اس کے ذرائع کی توسیع اور حتی الامکان وہ صورتیں بہم پہنچانا کہ مسلمان کبھی کسی غیر مسلم وطنی خواہ بیرونی کے تجارت کے محتاج نہ رہیں۔
[۲]یہ جلسۂ عام مسلمانوں کو ترغیب دلاتا ہے کہ باہمی مقدمات جن میں گورنمنٹ کی دست اندازی نہ ہو باہم فیصل کریں۔ یا دارالقضاء سے اس کا تصفیہ چاہیں۔ کچہری کی مقدمہ بازی کی تباہ کن لعنت سے بچیں۔
[۳] یہ جلسۂ عام تجار و رؤساءِ ہند سے ایک اسلامی خزانہ قائم کرنے کی اپیل کرتا ہے جس میں ماہ بماہ یا سال بہ سال کچھ رقم محفوظ ہوتی رہے کہ وقتاً فوقتاً دینی ضرورتوں اور محکمۂ امارت شرعیہ میں کام آئے۔ (٦)
تجاویز کے سبھی نکات بہت اہم ہیں؛ تاہم یہاں مندرجہ بالا تین نکات ایسے ہیں کہ جن پر اگر عمل کر لیا جاتا تو معاشی و اقتصادی اور دینی و سماجی سطح پر مسلمان خود کفیل ہوتے۔ آج جب کہ پے در پے مسلم معیشت پر حملے کیے جا رہے ہیں؛ مختلف شعبہ ہاے حیات میں مسلمانوں کو توڑنے کے لیے جاں توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں، مدارس کو مفلوک الحال بنایا جا رہا ہے۔ ان تجاویز میں بہت کچھ ترقی کا سامان موجود ہے۔ آج بھی انھیں عمل کی بزم میں سجا لیا جائے تو بہتر نتائج رونما ہوں گے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی کے خاتمہ کے لیے ان پر غور و خوض کرنا چاہیے۔ ان کی افادیت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ ٨٦؍برس قبل تھی۔
ان تجاویز کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ تاریخی اجلاس کی صدارت حضرت امیر ملت نے کی اور تجاویز کو پسند فرمایا۔ تفصیلی رپورٹ ’’الفقیہ امرتسر" شمارہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۳۵ء میں مطبوع ہے۔
بہر کیف تاریخ کے اوراق کھنگالے جائیں، صفحات اُلٹے جائیں، ریکارڈ چھانے جائیں تو اسلاف کی پاکیزہ حیات کے کئی نقوش اجاگر ہوں گے۔ حضرت امیر ملت کی اصابتِ فکر اور حضور حجۃ الاسلام کی تعمقِ نظر اور علماے بریلی شریف سے حضرت امیر ملت کے تعلقات و مراسم کی کئی کڑیاں ظاہر ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلک اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے اسلاف کے نقوش نمایاں کیے جائیں:
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
*حوالہ جات:*
(١) الصوارم الہندیہ۱۳۴۵ھ، مرتب مولانا حشمت علی خان قادری، نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور،جنوری۲۰۱۱ء،ص۵۵
(٢) بحوالہ ویب سائٹ امیر ملت ڈاٹ کام، از عمران خالد
(٣) تذکرہ اکابر اہل سنت، نوری کتب خانہ لاہور، ص١١٤
(٤) الفقیہ امرتسر، ۱۴؍نومبر ۱۹۳۵ء،ص۷
(٥) نفس مصدر، ص۸
(٦) نفس مصدر،ص۸
٭ ٭ ٭
ترسیل: اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
١٨؍ جولائی ۲۰۲۱ء
Cell. +91 9325028586
noorimission92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
ترسیل: اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
١٨؍ جولائی ۲۰۲۱ء
Cell. +91 9325028586
noorimission92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
حضرت امیر ملت کا
بریلی میں ورود مسعود
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
بریلی میں ورود مسعود
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4237232976358382&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*درود و سلام کی نکہتیں...*
اور سلفِ صالحین کا پاکیزہ عمل
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
عہدِ رواں میں ہر طرف توہینِ رسالت ﷺ کا بازار گرم ہے۔ اسلام دُشمن قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کا رشتہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس سے منقطع کر دیا جائے۔ سلفِ صالحین نے مسلمانوں کی بقا و تحفظ کو اسی میں جانا کہ رشتۂ محبت کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے جوڑ دیا جائے۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ نسبتوں کی صبح طلوع ہوگی۔ نفرتوں کی شب دور ہو گی۔ گستاخانِ بارگاہِ رسالت سے دوری پیدا ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے کہ دل جب عشقِ رسول ﷺ کے والہانہ جذبات سے لبریز ہوگا تو وہ کسی گستاخ کی جسارت کو کیوں برداشت کر سکے گا۔
آج جب کہ باطل قوتیں اسلام کے چراغ کو توہینِ رسالت کی منافرت سے بجھانا چاہتی ہیں؛ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی نسبتوں کی تجدید کریں۔ محبتوں کے جذبات کو پروان چڑھائیں۔ سلفِ صالحین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ دلوں میں نورِ ایماں فروزاں کرنے کی غرض سے لبوں پر ہمیشہ درود و سلام کے نغمے سجائے رہتے۔ محافل درود و سلام آراستہ کرتے- علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ’’دلائل الخیرات‘‘ کے پیشِ لفظ میں فرماتے ہیں:
’’ زمانۂ سلفِ صالحین سے لے کر آج تک اہلِ سنت کے سارے اکابر و مشائخ ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ مسلمانوں کے درمیان درود و سلام کو فروغ حاصل ہو۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر انھوں نے درود و سلام کی ترویج کے لیے مسلم معاشرے میں بہت سارے نئے نئے مواقع پیدا کیے؛ چنانچہ انھیں کی مبارک و مسعود کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج محافلِ میلاد جلسہ ہاے سیرۃ النبی کے ذریعے درود و سلام کا نغمۂ دل نواز پوری دُنیا میں گونج رہا ہے۔ اب دُنیا کے کسی خطے میں رہنے والی قوم کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ رشتہ کیسا ہے۔ لاکھوں افراد قیام تعظیمی کے ساتھ جب آواز میں آواز ملا کر ’یا نبی سلام علیک‘ کا ترانہ پڑھتے ہیں تو کیف و مستی کا ایک عجیب سماں بندھ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ آنکھ بند کرتے ہی ہم مدینے میں پہنچ گئے ہیں۔
دورِ حاضر میں امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ آبِ زر سے لکھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے قلمی جہاد کے ذریعہ ان سارے مواقع اور تقریبات کو مٹنے سے بچا لیا جو درود و سلام کی کثرت اور ذکرِ مصطفیٰ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے فروغ کے لیے سلفِ صالحین سے ہمیں وراثت میں ملے تھے۔ (پیش لفظ: دلائل الخیرات)
سلفِ صالحین کی اسی پاکیزہ وراثت کی ترسیل کے جذبے سے لبریز ہو کر نوری مشن نے ’’صلوٰۃ وسلام‘‘ کی اشاعت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد جن کا اسلوب اردو زبان میں مثالی ہے؛ کے نوکِ قلم سے درود وسلام کے برکات و ثمرات پر کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی گئی مذکورہ کتاب ہر اردو خواں کے لیے عظیم نعمت ہے۔ یقینی طور پر بزمِ مطالعہ میں اسے سجایا جانا لمحہ لمحہ خوشبو کا باعث ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماحول کو اسلامی بنائیں۔ برائیوں کا قلع قمع کریں۔ اچھائیوں کو فروغ دیں۔ سچائی کی راہ چلیں۔ اس کے لیے درود و سلام سے رشتہ کی استواری ضروری ہے تا کہ من کی دنیا میں چاندنی پھیل جائے۔ باطن مہک مہک اٹھے اور ظاہر بھی اس کے زیر اثر اسلامی رنگ میں رنگ جائے۔؎
کعبے کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے اپنے ترغیبی مقالہ میں درود و سلام سے متعلق بہت دل لگتی بات لکھی ہے، آپ بھی پڑھیں اور سر دُھنیں:
ﷲ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم پر ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہے ہیں اور ایمان والوں سے بھی کہا جارہا ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و سلام بھیجو… جب ﷲ تعالیٰ ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہا ہے، تو پھر فرشتوں کی کیا ضرورت؟… اور اُمت کی کیا حاجت؟ … حضور انور صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے تو ان کا مولیٰ کافی ہے… حقیقت یہ ہے کہ صلوٰۃ و سلام حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے لیےہے… ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھی شریک کرلیا… یہ اس کا عین کرم ہے… یہ کیسی بابرکت اور یگانہ و یکتا یاد ہے جس کی نظیر نہیں… صلوٰۃ و سلام بھیجنے والا بندہ بھی صلوٰۃ کا مستحق ٹھہرا… خود سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم فرمارہے ہیں:
مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللہ عَلَیْہِ بِھَا عَشَرًا (محمد علی الصابونی: روائع البیان، ج ۲، ص ۳۳۷)
جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔
یہ نغمہ روح کا نغمہ ہے۔ آپ بھی درود و سلام کو وِردِ زباں بنا لیں۔ ان شاءاللہ ظاہر و باطن انقلابِ تازہ سے آشنا ہوں گے-
*
13 جولائی 2021ء
ترسیل : اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
*
+91 9325028586
noorimission92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4225365287545151&id=100002151654486
اور سلفِ صالحین کا پاکیزہ عمل
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
عہدِ رواں میں ہر طرف توہینِ رسالت ﷺ کا بازار گرم ہے۔ اسلام دُشمن قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کا رشتہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس سے منقطع کر دیا جائے۔ سلفِ صالحین نے مسلمانوں کی بقا و تحفظ کو اسی میں جانا کہ رشتۂ محبت کو بارگاہِ رسالت ﷺ سے جوڑ دیا جائے۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ نسبتوں کی صبح طلوع ہوگی۔ نفرتوں کی شب دور ہو گی۔ گستاخانِ بارگاہِ رسالت سے دوری پیدا ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے کہ دل جب عشقِ رسول ﷺ کے والہانہ جذبات سے لبریز ہوگا تو وہ کسی گستاخ کی جسارت کو کیوں برداشت کر سکے گا۔
آج جب کہ باطل قوتیں اسلام کے چراغ کو توہینِ رسالت کی منافرت سے بجھانا چاہتی ہیں؛ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی نسبتوں کی تجدید کریں۔ محبتوں کے جذبات کو پروان چڑھائیں۔ سلفِ صالحین کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ دلوں میں نورِ ایماں فروزاں کرنے کی غرض سے لبوں پر ہمیشہ درود و سلام کے نغمے سجائے رہتے۔ محافل درود و سلام آراستہ کرتے- علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ’’دلائل الخیرات‘‘ کے پیشِ لفظ میں فرماتے ہیں:
’’ زمانۂ سلفِ صالحین سے لے کر آج تک اہلِ سنت کے سارے اکابر و مشائخ ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ مسلمانوں کے درمیان درود و سلام کو فروغ حاصل ہو۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر انھوں نے درود و سلام کی ترویج کے لیے مسلم معاشرے میں بہت سارے نئے نئے مواقع پیدا کیے؛ چنانچہ انھیں کی مبارک و مسعود کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج محافلِ میلاد جلسہ ہاے سیرۃ النبی کے ذریعے درود و سلام کا نغمۂ دل نواز پوری دُنیا میں گونج رہا ہے۔ اب دُنیا کے کسی خطے میں رہنے والی قوم کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ رشتہ کیسا ہے۔ لاکھوں افراد قیام تعظیمی کے ساتھ جب آواز میں آواز ملا کر ’یا نبی سلام علیک‘ کا ترانہ پڑھتے ہیں تو کیف و مستی کا ایک عجیب سماں بندھ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ آنکھ بند کرتے ہی ہم مدینے میں پہنچ گئے ہیں۔
دورِ حاضر میں امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ آبِ زر سے لکھا جائے گا کہ انھوں نے اپنے قلمی جہاد کے ذریعہ ان سارے مواقع اور تقریبات کو مٹنے سے بچا لیا جو درود و سلام کی کثرت اور ذکرِ مصطفیٰ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے فروغ کے لیے سلفِ صالحین سے ہمیں وراثت میں ملے تھے۔ (پیش لفظ: دلائل الخیرات)
سلفِ صالحین کی اسی پاکیزہ وراثت کی ترسیل کے جذبے سے لبریز ہو کر نوری مشن نے ’’صلوٰۃ وسلام‘‘ کی اشاعت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد جن کا اسلوب اردو زبان میں مثالی ہے؛ کے نوکِ قلم سے درود وسلام کے برکات و ثمرات پر کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی گئی مذکورہ کتاب ہر اردو خواں کے لیے عظیم نعمت ہے۔ یقینی طور پر بزمِ مطالعہ میں اسے سجایا جانا لمحہ لمحہ خوشبو کا باعث ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماحول کو اسلامی بنائیں۔ برائیوں کا قلع قمع کریں۔ اچھائیوں کو فروغ دیں۔ سچائی کی راہ چلیں۔ اس کے لیے درود و سلام سے رشتہ کی استواری ضروری ہے تا کہ من کی دنیا میں چاندنی پھیل جائے۔ باطن مہک مہک اٹھے اور ظاہر بھی اس کے زیر اثر اسلامی رنگ میں رنگ جائے۔؎
کعبے کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے اپنے ترغیبی مقالہ میں درود و سلام سے متعلق بہت دل لگتی بات لکھی ہے، آپ بھی پڑھیں اور سر دُھنیں:
ﷲ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم پر ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہے ہیں اور ایمان والوں سے بھی کہا جارہا ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و سلام بھیجو… جب ﷲ تعالیٰ ’’صلوٰۃ‘‘ بھیج رہا ہے، تو پھر فرشتوں کی کیا ضرورت؟… اور اُمت کی کیا حاجت؟ … حضور انور صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے تو ان کا مولیٰ کافی ہے… حقیقت یہ ہے کہ صلوٰۃ و سلام حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے لیےہے… ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بھی شریک کرلیا… یہ اس کا عین کرم ہے… یہ کیسی بابرکت اور یگانہ و یکتا یاد ہے جس کی نظیر نہیں… صلوٰۃ و سلام بھیجنے والا بندہ بھی صلوٰۃ کا مستحق ٹھہرا… خود سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم فرمارہے ہیں:
مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللہ عَلَیْہِ بِھَا عَشَرًا (محمد علی الصابونی: روائع البیان، ج ۲، ص ۳۳۷)
جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے۔
یہ نغمہ روح کا نغمہ ہے۔ آپ بھی درود و سلام کو وِردِ زباں بنا لیں۔ ان شاءاللہ ظاہر و باطن انقلابِ تازہ سے آشنا ہوں گے-
*
13 جولائی 2021ء
ترسیل : اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
*
+91 9325028586
noorimission92@gmail.com
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4225365287545151&id=100002151654486