🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
ذابح کی نیت وقت ذبح معتبر ہے
بتوں یا غیر اللہ کے نام پر چھوڑا
ہوا جانور حلال ہے! | بت | بتوں
کافر کے معبودوں کا جانور ...
کس شخص کا ذبیحہ جائز
اور کس شخص کا ذبیحہ ناجائز ؟
حلال جانور کے بائیس اجزاء مکروہ
حلال جانور کے 22 اجزا ممنوع ...
گوشت کے تین حصے کرنا لازمی ہے؟
خنثیٰ جانور کا ذبیحہ جائز یا نہیں؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #قربانی #عید_الاضحی ⁵
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
بتوں یا غیر اللہ کے نام پر چھوڑا
ہوا جانور حلال ہے! | بت | بتوں
کافر کے معبودوں کا جانور ...
کس شخص کا ذبیحہ جائز
اور کس شخص کا ذبیحہ ناجائز ؟
حلال جانور کے بائیس اجزاء مکروہ
حلال جانور کے 22 اجزا ممنوع ...
گوشت کے تین حصے کرنا لازمی ہے؟
خنثیٰ جانور کا ذبیحہ جائز یا نہیں؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #قربانی #عید_الاضحی ⁵
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
قربانی کا بیان کیا بتائیں ہم ...
قربانی کے بدلے رقم صدقہ کرنا
کیا ہر سال قربانی کرنا واجب ہے؟
قربانی کے جانور کا دودھ دوہنا
ذبح سے قبل جانور کو تکلیف دینا
کس کس جانور کی قربانی جائز عمر
قربانی کا جانور عورت ذبح کرے
بکری یا ہرنی کتی یا خنزیر کا دودھ
حلال جانور کی اوجھڑی ...
اوجهڑی اور آنتیں کھانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #قربانی #عید_الاضحی ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
قربانی کے بدلے رقم صدقہ کرنا
کیا ہر سال قربانی کرنا واجب ہے؟
قربانی کے جانور کا دودھ دوہنا
ذبح سے قبل جانور کو تکلیف دینا
کس کس جانور کی قربانی جائز عمر
قربانی کا جانور عورت ذبح کرے
بکری یا ہرنی کتی یا خنزیر کا دودھ
حلال جانور کی اوجھڑی ...
اوجهڑی اور آنتیں کھانا کیسا ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع #قربانی #عید_الاضحی ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ قسط اول غلام مصطفےٰ نعیمی روشن مستقبل دہلی آزاد بھارت کا پہلا انتخاب 1952 میں مکمل ہوا تھا۔اس الیکشن نے ملک کی اکثریت کی سوچ اور ان کے مزاج کی جھلک دکھا دی…
#مسلم_سیاسی_پارٹی_مفید_یا_مضر_ایک_تجزیہ
قسط دوم
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
*مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ کا رویہ*
مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم پارٹی کے دروازے شروع ہی میں بند کر دیے گیے تھے لیکن جنوبی ہند میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں جما لی تھیں۔بعد میں متحدہ آندھرا پردیش میں اسدالدین اویسی کے دادا عبدالواحد اویسی صاحب نے مجلس اتحاد المسلمین کو از سر نو زندہ کیا۔حالانکہ یہ پارٹی 1927 میں قائم ہوئی تھی مگر تقسیم وطن کے بعد اس کے ذمہ داران پاکستان چلے گیے تھے اس لیے یہ پارٹی بھی ختم ہوگئی۔ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہوجانے کے بعد سن 1957 میں عبدالواحد اویسی نے نئے دستور کے ساتھ اس پارٹی کو ری لانچ کیا، آہستہ آہستہ یہ پارٹی حیدرآباد میں مضبوط ہوتی گئی۔1962 میں اسدالدین کے والد سلطان صلاح الدین اویسی نے اسمبلی انتخاب جیتا اور 1984 میں حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر کامیابی حاصل کی، تب سے لیکر آج تک حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر مجلس کا قبضہ برقرار ہے۔اپنے والد کے بعد بیرسٹر اسدالدین اویسی اس سیٹ سے لگاتار چوتھی بار منتخب ہوئے ہیں۔غیر منقسم آندھرا اور اب نو تشکیل شدہ تلنگانہ میں اس پارٹی کے سات ممبران اسمبلی موجود ہیں۔یہ پارٹی ایک صوبائی پارٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔اسدالدین نے پارٹی کی توسیع کرتے ہوئے مہاراشٹر اور بہار میں اسمبلی انتخاب لڑا جہاں دو اور پانچ سیٹیں حاصل ہوئیں۔اس سے قبل کشن گنج بہار کے ضمنی انتخاب میں اسمبلی سیٹ بھی مجلس کے حصے میں آئی تھی، فی الحال حیدرآباد کے باہر اورنگ آباد سے امتیاز جلیل بھی رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔اس پارٹی کے ساتھ کانگریس اور سیکولر پارٹیوں کا سلوک کبھی اچھا نہیں رہا آج بھی سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ سے تعلق رکھنے والے افراد مجلس اور اویسی پر تنقید کرنے اور بی جے پی کا ایجنٹ بتانے سے باز نہیں آتے۔سیکولر پارٹیاں کسی بھی نو زائدہ پارٹی سے سیاسی اتحاد بہ خوشی کر لیتی ہیں لیکن اویسی سے کوئی اتحاد نہیں کرنا چاہتا، کیوں کہ ہر سیکولر پارٹی مسلم قیادت کو دیکھنا پسند نہیں کرتی، افسوس اس بات کا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مسلم دانش ور/صحافی بھی مسلم قیادت کی کردار کشی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔
___جنوبی ہند میں مسلم پارٹیاں جد وجہد کر رہی تھیں تو شمالی ہند میں بھی کانگریس اور جمیعۃ کی پالیسی کے تئیں بے چینی بڑھ رہی تھی، آخرکار ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 1968 میں مسلم مجلس کے نام سے سیاسی پارٹی تشکیل دی ڈالی۔یہ پارٹی مسلم مجلس مشاورت کے بطن سے نکلی تھی جس کے بانی ڈاکٹر سید محمود تھے۔جو ایک زمانے میں نہرو کابینہ میں شامل رہ چکے تھے۔اس لیے ان لوگوں کا مطمح نظر مسلم قیادت کی بجائے سیکولر پارٹیوں کو مضبوط کرنا تھا، جب کہ فریدی صاحب کا ماننا تھا کہ جب تک اپنی قیادت مضبوط نہیں ہوتی تب تک سیکولر پارٹیاں بھی مسلمانوں کا جائز حق نہیں دیں گی۔ ابتداً ڈاکٹر فریدی صاحب کچھ نہ کر سکے لیکن بعد میں انہوں نے مسلم مجلس کے بینر پر 1971 میں یوپی اسمبلی انتخاب میں پانچ سیٹیں جیت کر اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔یوپی کے قدآور لیڈر اعظم خان نے بھی اپنا سیاسی سفر مسلم مجلس کے ساتھ ہی شروع کیا تھا، سن 1974 اور 1977 میں انہوں نے دو الیکشن مسلم مجلس کی جانب سے لڑے حالانکہ دونوں بار شکست ہوئی۔اس کے بعد وہ چودھری چرن سنگھ اور پھر ملائم سنگھ کے ساتھ چلے گئے۔
مسلم مجلس نے اسمبلی کے بعد سلطان پور اور الہ آباد پارلیمانی سیٹیں بھی جیتیں، اس طرح یوپی میں مسلم سیاست جڑ پکڑ رہی تھی مگر جمیعۃ اور کانگریسی افراد مسلسل اس پارٹی کے خلاف تھے، سن 1965 میں جب مجلس کا ایک اجلاس دیوبند میں مدرسہ اصغریہ کے پاس چل رہا تھا تو جمیعۃ کے اشارے پر دارالعلوم دیوبند کے طلبہ نے جلسے پر حملہ کردیا۔اسٹیج کے سارے لوگ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے، حالانکہ اس وقت اسٹیج پر مفتی عتیق الرحمن اور ڈاکٹر فریدی جیسے کئی اہم ذمہ دار موجود تھے مگر طلبہ نے کسی کا لحاظ نہیں کیا، مائک ٹینٹ وغیرہ سب کچھ توڑ پھوڑ کر نالے میں پھینک دیا۔
اس طرح کی درجنوں مثالیں ہیں جب مسلم قیادت کے خلاف کانگریس/سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ نواز افراد نے کھلے چھپے سازشیں کیں اور ہر ممکن کوشش کی کہ مسلم قیادت پروان نہ چڑھنے پائے۔
*سیکولر پارٹیوں کی بے وفائیاں*
آزادی وطن کے بعد مسلمان آنکھ بند کرکے سیکولر پارٹیوں کے وفادار رہے لیکن سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو زبانی تسلیوں اور چند ایک علامتی کاموں سے ہی بہلاوا دیتی رہیں، ان علامتی کاموں میں عید وبقر عید، محرم اور عید میلادالنبی وغیرہ کی مبارکباد، عرسوں میں چادر بھیجنا، افطار پارٹی کرانا، مشاعرے کرانا اور موقع بہ موقع اردو زبان کی اہمیت پر لیکچر دینا تھا۔مسلمانوں انہیں کاموں سے خوش ہوتے رہے اور سیکولر پارٹیوں کو اپنا
قسط دوم
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
*مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ کا رویہ*
مولانا آزاد اور جمیعۃ کی بدولت شمالی ہند میں مسلم پارٹی کے دروازے شروع ہی میں بند کر دیے گیے تھے لیکن جنوبی ہند میں آل انڈیا مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں جما لی تھیں۔بعد میں متحدہ آندھرا پردیش میں اسدالدین اویسی کے دادا عبدالواحد اویسی صاحب نے مجلس اتحاد المسلمین کو از سر نو زندہ کیا۔حالانکہ یہ پارٹی 1927 میں قائم ہوئی تھی مگر تقسیم وطن کے بعد اس کے ذمہ داران پاکستان چلے گیے تھے اس لیے یہ پارٹی بھی ختم ہوگئی۔ریاست حیدرآباد کے بھارت میں ضم ہوجانے کے بعد سن 1957 میں عبدالواحد اویسی نے نئے دستور کے ساتھ اس پارٹی کو ری لانچ کیا، آہستہ آہستہ یہ پارٹی حیدرآباد میں مضبوط ہوتی گئی۔1962 میں اسدالدین کے والد سلطان صلاح الدین اویسی نے اسمبلی انتخاب جیتا اور 1984 میں حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر کامیابی حاصل کی، تب سے لیکر آج تک حیدرآباد پارلیمانی سیٹ پر مجلس کا قبضہ برقرار ہے۔اپنے والد کے بعد بیرسٹر اسدالدین اویسی اس سیٹ سے لگاتار چوتھی بار منتخب ہوئے ہیں۔غیر منقسم آندھرا اور اب نو تشکیل شدہ تلنگانہ میں اس پارٹی کے سات ممبران اسمبلی موجود ہیں۔یہ پارٹی ایک صوبائی پارٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔اسدالدین نے پارٹی کی توسیع کرتے ہوئے مہاراشٹر اور بہار میں اسمبلی انتخاب لڑا جہاں دو اور پانچ سیٹیں حاصل ہوئیں۔اس سے قبل کشن گنج بہار کے ضمنی انتخاب میں اسمبلی سیٹ بھی مجلس کے حصے میں آئی تھی، فی الحال حیدرآباد کے باہر اورنگ آباد سے امتیاز جلیل بھی رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔اس پارٹی کے ساتھ کانگریس اور سیکولر پارٹیوں کا سلوک کبھی اچھا نہیں رہا آج بھی سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ سے تعلق رکھنے والے افراد مجلس اور اویسی پر تنقید کرنے اور بی جے پی کا ایجنٹ بتانے سے باز نہیں آتے۔سیکولر پارٹیاں کسی بھی نو زائدہ پارٹی سے سیاسی اتحاد بہ خوشی کر لیتی ہیں لیکن اویسی سے کوئی اتحاد نہیں کرنا چاہتا، کیوں کہ ہر سیکولر پارٹی مسلم قیادت کو دیکھنا پسند نہیں کرتی، افسوس اس بات کا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مسلم دانش ور/صحافی بھی مسلم قیادت کی کردار کشی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔
___جنوبی ہند میں مسلم پارٹیاں جد وجہد کر رہی تھیں تو شمالی ہند میں بھی کانگریس اور جمیعۃ کی پالیسی کے تئیں بے چینی بڑھ رہی تھی، آخرکار ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 1968 میں مسلم مجلس کے نام سے سیاسی پارٹی تشکیل دی ڈالی۔یہ پارٹی مسلم مجلس مشاورت کے بطن سے نکلی تھی جس کے بانی ڈاکٹر سید محمود تھے۔جو ایک زمانے میں نہرو کابینہ میں شامل رہ چکے تھے۔اس لیے ان لوگوں کا مطمح نظر مسلم قیادت کی بجائے سیکولر پارٹیوں کو مضبوط کرنا تھا، جب کہ فریدی صاحب کا ماننا تھا کہ جب تک اپنی قیادت مضبوط نہیں ہوتی تب تک سیکولر پارٹیاں بھی مسلمانوں کا جائز حق نہیں دیں گی۔ ابتداً ڈاکٹر فریدی صاحب کچھ نہ کر سکے لیکن بعد میں انہوں نے مسلم مجلس کے بینر پر 1971 میں یوپی اسمبلی انتخاب میں پانچ سیٹیں جیت کر اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔یوپی کے قدآور لیڈر اعظم خان نے بھی اپنا سیاسی سفر مسلم مجلس کے ساتھ ہی شروع کیا تھا، سن 1974 اور 1977 میں انہوں نے دو الیکشن مسلم مجلس کی جانب سے لڑے حالانکہ دونوں بار شکست ہوئی۔اس کے بعد وہ چودھری چرن سنگھ اور پھر ملائم سنگھ کے ساتھ چلے گئے۔
مسلم مجلس نے اسمبلی کے بعد سلطان پور اور الہ آباد پارلیمانی سیٹیں بھی جیتیں، اس طرح یوپی میں مسلم سیاست جڑ پکڑ رہی تھی مگر جمیعۃ اور کانگریسی افراد مسلسل اس پارٹی کے خلاف تھے، سن 1965 میں جب مجلس کا ایک اجلاس دیوبند میں مدرسہ اصغریہ کے پاس چل رہا تھا تو جمیعۃ کے اشارے پر دارالعلوم دیوبند کے طلبہ نے جلسے پر حملہ کردیا۔اسٹیج کے سارے لوگ جان بچا کر بھاگ کھڑے ہوئے، حالانکہ اس وقت اسٹیج پر مفتی عتیق الرحمن اور ڈاکٹر فریدی جیسے کئی اہم ذمہ دار موجود تھے مگر طلبہ نے کسی کا لحاظ نہیں کیا، مائک ٹینٹ وغیرہ سب کچھ توڑ پھوڑ کر نالے میں پھینک دیا۔
اس طرح کی درجنوں مثالیں ہیں جب مسلم قیادت کے خلاف کانگریس/سیکولر پارٹیوں اور جمیعۃ نواز افراد نے کھلے چھپے سازشیں کیں اور ہر ممکن کوشش کی کہ مسلم قیادت پروان نہ چڑھنے پائے۔
*سیکولر پارٹیوں کی بے وفائیاں*
آزادی وطن کے بعد مسلمان آنکھ بند کرکے سیکولر پارٹیوں کے وفادار رہے لیکن سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو زبانی تسلیوں اور چند ایک علامتی کاموں سے ہی بہلاوا دیتی رہیں، ان علامتی کاموں میں عید وبقر عید، محرم اور عید میلادالنبی وغیرہ کی مبارکباد، عرسوں میں چادر بھیجنا، افطار پارٹی کرانا، مشاعرے کرانا اور موقع بہ موقع اردو زبان کی اہمیت پر لیکچر دینا تھا۔مسلمانوں انہیں کاموں سے خوش ہوتے رہے اور سیکولر پارٹیوں کو اپنا