🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Yeh Post 34 Zabaan Men↴ https://www.facebook.com/114021443682673/posts/359876399097175/ یہ پوسٹ 34 زبان میں ↑
The Noblest and Greatest Prophet ﷺ said,

لَيْسَ ‌مِنَّا ‌مَنْ ‌ضَرَبَ ‌الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ

Urdu: جو اپنے منہ پر طمانچہ مارے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کا پکارنا پکارے (نوحہ کرے) وہ ہم سے نہیں۔

English: Whoever slaps his face, and tears his collars and calls out the words of the days of ignorance (i.e. wailing), is not from amongst us.

Roman: Jo apne munh par tamaancha maray aur gareban phade aur jahiliyyat ka pukarna pukaray (nauha kare) woh hum mein se nahin.

Hindi: जो अपने मुॅंह पर तमाॅंचा मारे और गरेबान फाड़े और जाहिलिय्यत का पुकारना पुकारे (नौह़ा करे), वोह हम में से नहीं।

Gujarati: જે કોઈ (કોક ના મોત પર) પોતાના ચહેરા પર થપ્પડ મારે, અને કાપડ ફાડે અને જહિલત ના દિવસો ના બોલ બોલે (એટલે ​​કે વિલાપ બોલાવે છે), તે આપણી વચ્ચેનો નથી.

Chinese: 拍打自己的面颊,撕裂自己的衣服,以蒙昧时期的方式哀悼者,不属于我们中的一员。

صحيح البخاري، كتاب الجنائز، ‌‌باب ليس منا من ضرب الخدود، الحدیث 1297

Yeh Post 34 Zabaan Men↴
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/360390672379081/
یہ پوسٹ 34 زبان میں ↑
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*خیال خاطر - 3*

*ستاروں کا ایمان*

ہر چند کہ
موسیقی، فلم انڈسٹری، کرکٹ، مصوری، صحافت، تجارت، ادب، سیاست اور گلو کاری جیسے فنون لطیفہ/ ہنر مندیوں کے مسلم ماہرین کا مذہب و مذہبیات سے نہ کچھ لینا دینا ہو اور نہ انھوں نے کبھی کوئی مذہبی و ملّی خدمت کی ہو،
لیکن
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب ان کی سافٹ اسکلس انھیں برانڈ بنا دیتی ہیں تو آزاد دنیا میں یہ ستارے -بھلے محض اپنے خاندانی نام اور نسبت کی وجہ سے ہی سہی- غیروں کی نظر میں مسلم قوم کی قابلِ افتخار پہچان بن چکے ہوتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے اپنے ملک کے لیے یہ ملکی و قومی سرمایہ ثابت ہوتے ہیں۔
یعنی
اس اعتراف کے باوجود کہ 3 خان، راحت اندوری، اے پی جے عبد الکلام، دلیپ کمار، عظیم پریم جی اور اے آر رحمٰن جیسے لوگ بھلے خیر سے ہفتوں کے نہیں، سالوں کے بھی عملی مسلمان نہ ہوں،
بلکہ
بظاہر شعوری/غیر شعوری طور پر گاہے گاہے خلاف اسلام بھی گئے ہوں، تب بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ فن پسند دنیا کی نگاہوں میں وہ نہ صرف مسلمان بلکہ مسلمانوں کے نمائندے ہوتے ہیں
اور
مظاہر پرست قومیں ان تک پہنچتے ہوئے تمام مذہبی تعصبات اور امتیازات بھول چکی ہوتی ہیں بلکہ اس بات کی متمنی رہتی ہیں کہ کسی طرح ان سے رہ و رسم نکل آئے، یا بن آئے
کیوں کہ
یہ مادی عروج کا وہ ارتقائی مرحلہ ہوتا ہے، جہاں ان کے اپنے غیر مذہبی مزاج کے مطابق یہ مذہب سے بالاتر ہو چکے ہوتے ہیں جب کہ اسلامی اور فکری نقطہ نظر سے ہم اس نظریے سے سر مو اتفاق نہیں رکھ سکتے، کیوں کہ
اگر کوئی بڑی سے بڑی شخصیت ملکی آئین سے اوپر نہیں ہو سکتی، تو الہی قوانین سے بلند کیسے ہو سکتی ہے؟
تاہم
عملی حقیقت تو یہی ہے کہ یہ مذہبی تعلیمات کے فقدان، یا مادی ترقی کی خواہش، یا اپنی دانست میں حکمت عملی کے تحت بزعم خویش خود کو سماجی بندشوں اور مذہبی رسموں سے ما ورا سمجھ بیٹھتے ہیں،
لیکن
چوں کہ ان تمام قباحتوں کے باوجود ان کی عوامی مقبولیت کا لیول اور عالم گیر شہرتوں کا سورج اتنی بلندی پر ہوتا ہے کہ بارہا ان کا ایک بیان، ایک ٹیوٹ اور ایک ایکشن کسی اسلامی پیغام کی ترسیل کا ایسا معیار/ذریعہ بھی بن سکتا ہے، جو کئی مبلغوں کی سالوں کی محنت پر فائق ثابت ہو،
جب کہ
اس کے بالمقابل ان پر اصل احکام شرع نافذ کرنے/ فتویٰ جاری کرنے/ شرعی بحثیں چھیڑنے سے ان کو/ ان کی فین فولوونگ کو اسلام و اسلامیات سے بد گمان کرنے کے علاوہ، جیسے ان کی قد کاٹھی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، ویسے ہی ان کی اسلام سے دوری اور کفر سے قربت کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔
سو
ایسے ستاروں کے تئیں اسلامی تعلیمات کی حکمت غامضہ کا تقاضا یہ ہو سکتا ہے کہ ایسے لوگوں سے بھلے یارانہ نہ رکھا جائے، یا ان کی تائید اور حوصلہ افزائی نہ کی جائے، لیکن اسی طرح ان کے ایمان و کفر پر سوشل بحثیں بھی نہ کی جائیں اور برائے نام ہی سہی، ان کے خاندانی اسلام کے تئیں سافٹ کورنر اختیار کر لیا جائے، تاکہ کوئی فائدہ حاصل ہو، ہو، کم سے کم نقصان نہ ہو۔ دفع المضار اولی من جلب المنافع۔
بلکہ
ایمان کی تو یہ ہے کہ
بہ نیت اصلاح ان سے داعیانہ ملاقاتوں کی گنجائش بھی باقی رکھی جائے تاکہ مخلص اور بصیرت مند داعیانِ دین، ان سیلبرٹیز تک پیغامِ حق کی ترسیل کر سکیں۔
اگر
پانی کی مسلسل گرتی بوندیں پتھر پر بھی اثر دار ہو جاتی ہیں تو کیا حکمت کے ساتھ مسلسل کی گئی دینی کوششیں ان بے چین انسانوں کے دل کی دنیا نہیں بدل سکتیں؟؟؟

بشکریہ: روشن مستقبل، دہلی

خالد ایوب مصباحی شیرانی
10/ جولائی 2021- سنیچر

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/947930939110758/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیٹیاں صابرہ ، شاکرہ ، عابدہ زاہدہ ۔۔۔۔۔۔ ہنر مند ، عقل مند ، سلیقہ مند ، تمیز دار ، وفا شعار اور فرماں بردار ہونی چاہییں ؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں یہ حوصلہ بھی ہونا چاہیے کہ اگر کسی موڑ پر آکے خاوند اور سسرال والے ظلم شروع کردیں تو چپ سادھ کے ہلاک نہ ہوجائیں ، ان سے علاحدگی اختیار کرسکیں ۔

بعض شوہر اور سسرالی رشتے دار واقعی ایسے اجڈ ، جاہل اور ظالم ہوتے ہیں کہ الامان !
ایسوں کو انسانیت سکھانے کے لیےزمانے کی ٹھوکریں درکار ہوتی ہیں ، جو وقت کے ساتھ ہی مل سکتی ہیں-

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3203335016613332&id=100008105947430
ایک دفعہ میں نے اپنے شیخ سے شکایت کی کہ:

" میں نے ایک کتاب پڑھی ہے ، لیکن مجھے اس میں سے کچھ بھی یاد نہیں رہا ۔ "

شیخ نے مجھے کھجور دےکر کہا:

اسے چباؤ!

پھر مجھ سے پوچھا:

کیا ( یہ کھجور کھانے سے ) تم بڑے ہوگئے ہو ؟
میں نے کہا: نہیں ۔

کہنے لگے: لیکن یہ کھجور تمھارے جسم میں گُھل مِل گئ ۔۔۔۔۔‌۔۔ اس کا کچھ حصہ گوشت بنا ، کچھ ہڈی ، کچھ پٹھا ، کچھ کھال ، کچھ بال ، کچھ ناخن اور کچھ مسام ۔۔۔۔!

تب میں نے جانا کہ:

" میں جو بھی کتاب پڑھتا ہوں وہ تقسیم ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا کچھ حصہ میری لغت مضبوط کرتا ہے ، کچھ میری معرفت بڑھاتا ہے ، کچھ اخلاق سنوارتا ہے ، کچھ میرے لکھنے ، بولنے کے اسلوب کو ترقی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اگرچہ میں (کھجور کی طرح ) یہ سب محسوس نہیں کرپاتا۔ "

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3204045416542292&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج میرے دونوں بیٹے بیٹھ کر مولا علی پاک رضی اللہ عنہ کاذکرِ خیر کررہے تھے ۔

محمد امیر معاویہ کَہ رہا تھا ؎

میرے جینے کا واحد قرینہ علی
ہے محمد مرے دل ، تو سینہ علی

اور محمد امیر حمزہ کَہ رہاتھا:

حیدر کرار ابوتراب علی علی ، ہاشمی چراغ لاجواب علی علی

میرا دل بہت خوش ہوا ، اللہ کا شکر ادا کیا ، اور انھیں دعائیں دیں ۔

پھر انھیں کہا کہ:

بیٹا ! مولا علی پاک کی شان میں اشعار پڑھنا اور سننا باعثِ اجر ہے ، لیکن ایک بات آپ نے ہمیشہ یاد رکھنی ہے کہ:
کسی رافضی کی زبان سے آپ کی کوئی منقبت نہیں سننی ، آپ رضی اللہ عنہ کی منقبت جب بھی سننی ہے ، کسی مسلمان سے ہی سننی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹

خدا توفیق دے ، جس طرح ہم اپنی اولاد کو نماز روزے کے مسائل سکھاتے ہیں ، اسی طرح اہل بیت ، صحابہ ، علما اور اولیا کی محبت کے مسائل بھی سکھائیں ، تاکہ وہ خیرِ کثیر حاصل‌ کرسکیں ۔

✍️لقمان شاہد
9-7-2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3204268449853322&id=100008105947430