نوٹ :- عوام و خواص کے عقائد و اعمال کی حفاظت و علم و ادب کے فروغ کے لئے امام اہل سنت کی تصانیف مبارکہ کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے ہر شہر قصبہ گاوں میں لائبریری قائم کر کے امام اہل سنت کی کتب کو رکھا جائے اہل علم و شائقین مطالعہ کو تحفے میں پیش کی جائیں صرف نعرہ بازی سے کچھ نہیں ہوگا امام کی روح حقیقت میں انکی تصانیف مبارکہ کو عام کرنے سے ہی خوش ہوگی ---
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ :03:جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=849552605662958&id=100018246788149
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ :03:جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=849552605662958&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#برعظیم_کے_نامور_صوفی_فلاسفہ_کی_تعلیمات_کی_آڑ_میں_فتنہ_انکار_حدیث_کی_جدید_لہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#رجوع_قرآن_کی_آڑ_میں_فتنہ_انکار_حدیث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برعظیم پاک وھند کے دور آخر میں تین نامور صوفی فلسفی گزرے ہیں
1۔علامہ محمد اقبال مرحوم
2۔ سید ظفر الحسن مرحوم
3۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی مرحوم
علامہ محمد اقبال کی علمی' فنی' اعتقادی' اور فلسفیانہ آراء تو across the globe شائع ہو چکی ہیں اور ان پر تائیدی'تنقیدی اورتجزیاتی مطالعات گزشتہ کئی سال سے اقبال اکادمی (لاہور' پنجاب ' پاکستان) کے زیر اہتمام پبلش ہوکر اہل علم و فن کو دعوت فکر دے رہے ہیں ۔لیکن دیگر دو حضرات(ڈاکٹر سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی رحمہ الله اجمعین ) کی تحریروں اور خدمات پر زمانے کی گرد کی دبیز تہ جم چکی ہے ۔عوام اور خواص تو کیا ۔۔خواص الخواص کی علمی اور فکری مجالس میں' انکی تحریروں میں 'نجی محافل میں ان دو فلاسفہ کے تذکار تو دور کی بات ہے ' ان اہل علم کا نام تک سننے کو نہیں ملتا ۔ جب کہ اہل یورپ انکی علمی خدمات سے آج بھی استفادہ کر رہے ہیں ۔
میرے ناقص مطالعہ کے مطابق ۔۔۔سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ہر دو حضرات کلاسیکل تصوف کی روایت کے حاملین اور عاملین میں سے تھے ۔ انکا اکثر تحریری کام اعلی سطح کی انگریزی زبان میں پبلش ہوا ہے ۔جب کہ چند ایک کتب اردو زبان میں بھی مل جاتی ہیں ۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تینوں اہل علم کی تحریری خدمات کا تفصیلی جائزہ اہل مدرسہ کے کسی بھی مکتب فکرکے لکھاری (متکلم 'مفکر' مؤرخ) نے لینے کی کوشش گوارا نہیں کی سواۓ سید سلیمان ندوی یا ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کے (انہوں نے بھی صرف علامہ اقبال پر تھوڑا بہت لکھا ہے)۔اکثر متجدد'مستشرق یا آزاد خیال فکر کےحاملین نے اپنی پھسپھسی اور پلپلی فکر کو ان حضرات کے علمی قد کاٹھ کی آڑ میں پیش کررہے ہیں۔جن میں ایک نام ڈاکٹر خضر یٰسین کا ہے ۔(عھد متعدد متجدد حضرات میں سے ڈاکٹر خضر یٰسین اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنے آپ کو ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کا شاگرد بتاتے ہیں )۔
ڈاکٹر خضر یٰسین اپنی تحریروں میں ' اپنی تقریروں میں بظاھر رجوع اللقرآن کی دعوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر اسکی آڑ میں دانستہ طور پر یا غیر دانستہ طور پر حدیث ' علوم حدیث'متعلقات حدیث' راویان حدیث ۔فنون حدیث ' علوم تفسیر و مفسرین اور سلف و خلف کی جملہ تفاسیر (بلاامتیازتفاسیر ماثوره و غیر ماثوره ' متداول و غیر متداول ' راجح و مرجوح ) کا صریح الفاظ میں انکار کر رہے ہیں ۔اوریہ انکار حدیث والی گفتگو اب نجی محافل سے نکل کر عوامی جلسوں میں بھی کی جا رہی ہے اور عوام الناس بغیر سوچے سمجھے واہ واہ کر رہی ہے ۔یہ صرف الزام نہیں ہے ۔بلکہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر خضر یٰسین کی کثیر تعداد میں پبلش شدہ تحریروں اور عوامی مجالس میں بیانات (جو کہ بڑے پیمانے پر ریکارڈنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائےجا رہے ہیں)کے متن سے اظہر من الشمس ہے ۔اگر ڈاکٹرخضریٰسین یہ سب کچھ اپنی capacity میں کرتے تو اور بات تھی ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور سید ظفر الحسن کی شاگردی کی آڑ میں کر رہے ہیں ۔اب اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ برعظیم کے ان تین نامور فلاسفہ (اقبال ' سید ظفر الحسن ' اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ) کی تخلیقات کا دقت نظر سے جائزہ لیا جائے اور پھر یہ کھوج لگانے کی کوشش کی جاۓ آیا کہ انکار حدیث کی یہ نئی لہر کس کی فکری کج فہمی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے ۔ اسکا کوئی سرا ان فلاسفہ پاک و ھند کی کسی تحریر سے اخذ کیا جا رہا ہے یا کہ نبوت کما ھی اور ما انزل الله۔۔۔۔ کے پردے میں ڈاکٹر خضر یٰسین کے اپنے ذہنی اختراعات ہیں ۔
کیوں کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ صوفی صفات کا حامل اہل علم چاہے جس میدان کا بھی آدمی ہو وہ کبھی بھی انکار حدیث جیسے قبیح جرم کا باعث نہیں بن سکتا ۔۔ برعظیم پاک و ھند کے جملہ اہل فکر اور ارباب حل عقد کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#رجوع_قرآن_کی_آڑ_میں_فتنہ_انکار_حدیث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برعظیم پاک وھند کے دور آخر میں تین نامور صوفی فلسفی گزرے ہیں
1۔علامہ محمد اقبال مرحوم
2۔ سید ظفر الحسن مرحوم
3۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی مرحوم
علامہ محمد اقبال کی علمی' فنی' اعتقادی' اور فلسفیانہ آراء تو across the globe شائع ہو چکی ہیں اور ان پر تائیدی'تنقیدی اورتجزیاتی مطالعات گزشتہ کئی سال سے اقبال اکادمی (لاہور' پنجاب ' پاکستان) کے زیر اہتمام پبلش ہوکر اہل علم و فن کو دعوت فکر دے رہے ہیں ۔لیکن دیگر دو حضرات(ڈاکٹر سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی رحمہ الله اجمعین ) کی تحریروں اور خدمات پر زمانے کی گرد کی دبیز تہ جم چکی ہے ۔عوام اور خواص تو کیا ۔۔خواص الخواص کی علمی اور فکری مجالس میں' انکی تحریروں میں 'نجی محافل میں ان دو فلاسفہ کے تذکار تو دور کی بات ہے ' ان اہل علم کا نام تک سننے کو نہیں ملتا ۔ جب کہ اہل یورپ انکی علمی خدمات سے آج بھی استفادہ کر رہے ہیں ۔
میرے ناقص مطالعہ کے مطابق ۔۔۔سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ہر دو حضرات کلاسیکل تصوف کی روایت کے حاملین اور عاملین میں سے تھے ۔ انکا اکثر تحریری کام اعلی سطح کی انگریزی زبان میں پبلش ہوا ہے ۔جب کہ چند ایک کتب اردو زبان میں بھی مل جاتی ہیں ۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تینوں اہل علم کی تحریری خدمات کا تفصیلی جائزہ اہل مدرسہ کے کسی بھی مکتب فکرکے لکھاری (متکلم 'مفکر' مؤرخ) نے لینے کی کوشش گوارا نہیں کی سواۓ سید سلیمان ندوی یا ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کے (انہوں نے بھی صرف علامہ اقبال پر تھوڑا بہت لکھا ہے)۔اکثر متجدد'مستشرق یا آزاد خیال فکر کےحاملین نے اپنی پھسپھسی اور پلپلی فکر کو ان حضرات کے علمی قد کاٹھ کی آڑ میں پیش کررہے ہیں۔جن میں ایک نام ڈاکٹر خضر یٰسین کا ہے ۔(عھد متعدد متجدد حضرات میں سے ڈاکٹر خضر یٰسین اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنے آپ کو ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کا شاگرد بتاتے ہیں )۔
ڈاکٹر خضر یٰسین اپنی تحریروں میں ' اپنی تقریروں میں بظاھر رجوع اللقرآن کی دعوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر اسکی آڑ میں دانستہ طور پر یا غیر دانستہ طور پر حدیث ' علوم حدیث'متعلقات حدیث' راویان حدیث ۔فنون حدیث ' علوم تفسیر و مفسرین اور سلف و خلف کی جملہ تفاسیر (بلاامتیازتفاسیر ماثوره و غیر ماثوره ' متداول و غیر متداول ' راجح و مرجوح ) کا صریح الفاظ میں انکار کر رہے ہیں ۔اوریہ انکار حدیث والی گفتگو اب نجی محافل سے نکل کر عوامی جلسوں میں بھی کی جا رہی ہے اور عوام الناس بغیر سوچے سمجھے واہ واہ کر رہی ہے ۔یہ صرف الزام نہیں ہے ۔بلکہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر خضر یٰسین کی کثیر تعداد میں پبلش شدہ تحریروں اور عوامی مجالس میں بیانات (جو کہ بڑے پیمانے پر ریکارڈنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائےجا رہے ہیں)کے متن سے اظہر من الشمس ہے ۔اگر ڈاکٹرخضریٰسین یہ سب کچھ اپنی capacity میں کرتے تو اور بات تھی ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور سید ظفر الحسن کی شاگردی کی آڑ میں کر رہے ہیں ۔اب اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ برعظیم کے ان تین نامور فلاسفہ (اقبال ' سید ظفر الحسن ' اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ) کی تخلیقات کا دقت نظر سے جائزہ لیا جائے اور پھر یہ کھوج لگانے کی کوشش کی جاۓ آیا کہ انکار حدیث کی یہ نئی لہر کس کی فکری کج فہمی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے ۔ اسکا کوئی سرا ان فلاسفہ پاک و ھند کی کسی تحریر سے اخذ کیا جا رہا ہے یا کہ نبوت کما ھی اور ما انزل الله۔۔۔۔ کے پردے میں ڈاکٹر خضر یٰسین کے اپنے ذہنی اختراعات ہیں ۔
کیوں کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ صوفی صفات کا حامل اہل علم چاہے جس میدان کا بھی آدمی ہو وہ کبھی بھی انکار حدیث جیسے قبیح جرم کا باعث نہیں بن سکتا ۔۔ برعظیم پاک و ھند کے جملہ اہل فکر اور ارباب حل عقد کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
ہمارا ماننا یہ ہے کہ صوفی صفات کا حامل اہل علم چاہے جس میدان کا بھی آدمی ہو وہ کبھی بھی انکار حدیث جیسے قبیح جرم کا باعث نہیں بن سکتا ۔۔ برعظیم پاک و ھند کے جملہ اہل فکر اور ارباب حل عقد کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#نعمتہ_الباری_کی_خصوصیات_و_انفرادیت
نعمتہ الباری حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ اردو زبان میں بخاری شریف کی ایک مایہ ماز شرح ہے جو کہ بخاری شریف کی تمام اردو شروحات میں منفرد خصوصیت و اہمیت کی حامل ہے --
حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ نعمتہ الباری فی شرح صحیح البخاری لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں --
صحیح البخاری کی دستیاب اردو شروحات دیکھ کر مجھے اکثر یہ خیال آتا تھا کہ کتب حدیث میں صحیح البخاری کا جو عظیم الشان مقام ہے اس کے شایان شان اردو میں اس پائے کی کوئی شرح نہیں ہے اس لئے میں چاہتا تھا کہ اردو میں بھی اس کی کوئی ایسی عظیم المرتبہ شرح لکھی جائے جو عربی شروح میں سے شرح ابن بطال ، عمدة القاری ، فتح الباری ، کا عکس جمیل ہو
( ١ ) اس شرح کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بہت ہی تفصیلی و انتہائی ضخیم شرح ہے جو کہ سولہ مجلدات و جہازی سائز کے تقریبًا سولہ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے --
( ٢ ) اس شرح کہ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تفسیر تبیان القرآن کی طرح نہایت ہی معتدل زبان استعمال کی گئی ہے نہ کہ اتنی پے چیدہ کہ عام ذہنوں کے فہم سے پرے ہو اور نہ ہی اتنی آسان کہ خواص دور ہو جائیں بلکہ یہ شرح عوام و خواص دنوں کے لئے ہی مفید ہے ---
( ٣ ) اس شرح کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تحقیق کے عصری تقاضوں کو مد نظر رکھا گیا ہے --
( ۴ ) اس شرح کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مختلف مسائل پر کتب ستہ اور دیگر کتب احادیث سے اتنی کثرت سے احادیث کوڈ کی گئی ہیں کہ اگر اس شرح کو کتب احادیث کا مجموعہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا --
( ٦ ) اس شرح کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بخاری شریف میں قائم کئے گئے بابوں کی بھی لغوی و شرعی وضاحت و شرح کی گئی ہے بعض مقامات پر مختصر تو بعض مقامات پر تفصیل سے کی گئی ہے --
( ٧ ) اس شرح کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اسناد کا بھی ترجمہ کیا گیا ہے نیز اسناد کے رجال کا پہلی مرتبہ میں تعارف بھی کروایا گیا ہے --
( ٨ ) اس شرح کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متن حدیث میں آنے والے رجال کا بھی پہلی مرتبہ میں تعارف کروایا گیا ہے --
( ٩ ) اس شرح کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح فقہی مسائل میں ائمہ اربع کے نظریات کو ان کے دلائل کے ساتھ ذکر کر کے فقہ حنفی کو ترجیح دی گئی ہے --
( ١٠ ) اس شرح کی دسویں خصوصیت یہ ہے اس میں عصری مسائل پر مدلل و تفصیلی بحث کی گئی ہے جس کے نتجے میں دور حاضر کے بہت سے مسائل و الجھنیں دور ہو گئی ہیں --
( ١١ ) اس شرح کی گیارویں خصوصیت یہ ہے اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح مستشرقین کی طرف سے کئے جانے والے اعتراضات کے نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ شافی جوابات دئے گئے ہیں نیز فرقہ باطلہ کا رد ابطال بھی کیا گیا ہے --
( ١٢ ) اس شرح کی بارہویں خصوصیت یہ ہے اس میں عقائد اہل سنت و افکار رضا کو دلائل و براہین سے ثابت کیا گیا ہے نیز سولہویں جلد میں تکفیر اشخاص اربع کی تصدیق بھی کی گئی ہے ----
( ١٣ ) اس شرح کی تیرہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دیگر اردو شروحات کے مقابل کثرت سے کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے تقریبًا پانچ سو کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے جس میں کتب احادیث ، کتب تفاسیر ، کتب شروح احادیث ، کتب فقہ اربع ، کتب اسماء الرجال ، کتب تاریخ و سیر ، کتب لغت وغیرہ شامل ہیں ---
( ١۴ ) اس شرح کی چودہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام اردو و عربی شروحات کے مقابل جس کتاب کا بھی حوالہ دیا گیا تو وہ مکمل حوالہ جات و تخریج و تحقیق کے ساتھ دیا گیا ہے نیز سن طباعت تک درج کیا گیا ہے یہاں تک کہ بخاری شریف کی ہر حدیث کی مکمل تخریج کی گئی ہے کہ یہ حدیث متن کی کتنی تبدیلی کے ساتھ کس حدیث کی کتاب میں درج ہے ---
*نوٹ:-* جو حضرات احادث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کا رجحان رکھتے ہیں وہ لوگ ضرور اس شرح کو اپنے مطالعہ میں رکھے نیز اس کی افادیت و انفرادیت خصوصیت و اہمیت کا لوگوں کو تعارف بھی کروائیں اور زیادہ سے زیادہ عوام و خواص میں عام کریں ---
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ : 07 : جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
نعمتہ الباری حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ اردو زبان میں بخاری شریف کی ایک مایہ ماز شرح ہے جو کہ بخاری شریف کی تمام اردو شروحات میں منفرد خصوصیت و اہمیت کی حامل ہے --
حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ نعمتہ الباری فی شرح صحیح البخاری لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں --
صحیح البخاری کی دستیاب اردو شروحات دیکھ کر مجھے اکثر یہ خیال آتا تھا کہ کتب حدیث میں صحیح البخاری کا جو عظیم الشان مقام ہے اس کے شایان شان اردو میں اس پائے کی کوئی شرح نہیں ہے اس لئے میں چاہتا تھا کہ اردو میں بھی اس کی کوئی ایسی عظیم المرتبہ شرح لکھی جائے جو عربی شروح میں سے شرح ابن بطال ، عمدة القاری ، فتح الباری ، کا عکس جمیل ہو
( ١ ) اس شرح کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بہت ہی تفصیلی و انتہائی ضخیم شرح ہے جو کہ سولہ مجلدات و جہازی سائز کے تقریبًا سولہ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے --
( ٢ ) اس شرح کہ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تفسیر تبیان القرآن کی طرح نہایت ہی معتدل زبان استعمال کی گئی ہے نہ کہ اتنی پے چیدہ کہ عام ذہنوں کے فہم سے پرے ہو اور نہ ہی اتنی آسان کہ خواص دور ہو جائیں بلکہ یہ شرح عوام و خواص دنوں کے لئے ہی مفید ہے ---
( ٣ ) اس شرح کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تحقیق کے عصری تقاضوں کو مد نظر رکھا گیا ہے --
( ۴ ) اس شرح کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مختلف مسائل پر کتب ستہ اور دیگر کتب احادیث سے اتنی کثرت سے احادیث کوڈ کی گئی ہیں کہ اگر اس شرح کو کتب احادیث کا مجموعہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا --
( ٦ ) اس شرح کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بخاری شریف میں قائم کئے گئے بابوں کی بھی لغوی و شرعی وضاحت و شرح کی گئی ہے بعض مقامات پر مختصر تو بعض مقامات پر تفصیل سے کی گئی ہے --
( ٧ ) اس شرح کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اسناد کا بھی ترجمہ کیا گیا ہے نیز اسناد کے رجال کا پہلی مرتبہ میں تعارف بھی کروایا گیا ہے --
( ٨ ) اس شرح کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متن حدیث میں آنے والے رجال کا بھی پہلی مرتبہ میں تعارف کروایا گیا ہے --
( ٩ ) اس شرح کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح فقہی مسائل میں ائمہ اربع کے نظریات کو ان کے دلائل کے ساتھ ذکر کر کے فقہ حنفی کو ترجیح دی گئی ہے --
( ١٠ ) اس شرح کی دسویں خصوصیت یہ ہے اس میں عصری مسائل پر مدلل و تفصیلی بحث کی گئی ہے جس کے نتجے میں دور حاضر کے بہت سے مسائل و الجھنیں دور ہو گئی ہیں --
( ١١ ) اس شرح کی گیارویں خصوصیت یہ ہے اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح مستشرقین کی طرف سے کئے جانے والے اعتراضات کے نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ شافی جوابات دئے گئے ہیں نیز فرقہ باطلہ کا رد ابطال بھی کیا گیا ہے --
( ١٢ ) اس شرح کی بارہویں خصوصیت یہ ہے اس میں عقائد اہل سنت و افکار رضا کو دلائل و براہین سے ثابت کیا گیا ہے نیز سولہویں جلد میں تکفیر اشخاص اربع کی تصدیق بھی کی گئی ہے ----
( ١٣ ) اس شرح کی تیرہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دیگر اردو شروحات کے مقابل کثرت سے کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے تقریبًا پانچ سو کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے جس میں کتب احادیث ، کتب تفاسیر ، کتب شروح احادیث ، کتب فقہ اربع ، کتب اسماء الرجال ، کتب تاریخ و سیر ، کتب لغت وغیرہ شامل ہیں ---
( ١۴ ) اس شرح کی چودہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام اردو و عربی شروحات کے مقابل جس کتاب کا بھی حوالہ دیا گیا تو وہ مکمل حوالہ جات و تخریج و تحقیق کے ساتھ دیا گیا ہے نیز سن طباعت تک درج کیا گیا ہے یہاں تک کہ بخاری شریف کی ہر حدیث کی مکمل تخریج کی گئی ہے کہ یہ حدیث متن کی کتنی تبدیلی کے ساتھ کس حدیث کی کتاب میں درج ہے ---
*نوٹ:-* جو حضرات احادث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کا رجحان رکھتے ہیں وہ لوگ ضرور اس شرح کو اپنے مطالعہ میں رکھے نیز اس کی افادیت و انفرادیت خصوصیت و اہمیت کا لوگوں کو تعارف بھی کروائیں اور زیادہ سے زیادہ عوام و خواص میں عام کریں ---
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ : 07 : جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
نعمتہ الباری حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ اردو زبان میں بخاری شریف کی ایک مایہ ماز شرح ہے جو کہ بخاری شریف کی تمام اردو شروحات میں منفرد خصوصیت و اہمیت کی حامل ہے --
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دانائی والی باتیں ، داناؤں کی سمجھ میں آتی ہیں اور وہی اِنھیں درست طریقے سے سمجھتے ہیں ۔
اور
جن کی ذہانت بیدار نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اگر حلیم الطبع ہوں تو ایسی باتوں پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ، اور جھگڑالو طبیعت کے مالک ہوں تو ایسی باتوں کا الٹا سیدھا مطلب نکال کر فتنے فساد کو نئی راہ دیتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3198516773761823&id=100008105947430
اور
جن کی ذہانت بیدار نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اگر حلیم الطبع ہوں تو ایسی باتوں پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ، اور جھگڑالو طبیعت کے مالک ہوں تو ایسی باتوں کا الٹا سیدھا مطلب نکال کر فتنے فساد کو نئی راہ دیتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3198516773761823&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج فن رجال کے عظیم امام ، حافظ شمس الدین محمد ذہبی نوراللہ مرقدہ کی کتاب " تذکرۃ الحفاظ " کا مطالعہ شروع کیا ہے ۔
کافی عرصے سے اسے بالاستیعاب پڑھنے کی خواہش تھی ، آج توفیق نے یاوری کی تو ابتدا کردی ۔
یہ کتاب سُچے موتیوں کی ایک لڑی ہے ؛ جس میں گیارہ سو سے زائد حُفاظِ حدیث کوبڑی نفاست سے پرویا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور پرونے والی بھی وہ ہستی ہے جس کے اپنے فن حدیث میں ایک ہزار سے زیادہ استاد ہیں ۔
رب تعالی ﷻ اس کتاب کی چمک سے میرا سینہ روشن کردے !
یہاں آپ سےعرض کرنے کا مقصد ایک تو آپ سے دعا لینا ہے ، اور دوسرا مطالعہ کی ترغیب دلانا ہے ۔
موبائل نے ہمیں مطالعاتی زندگی سے دور کردیا ہے ، اور ہمارا یہ شعور بھی چھین لیا ہے کہ انسان جتنا مطالعے سے دور ہوتا جاتا ہے اس کی ذہانت و فطانت سکڑتی جاتی ہے ( اب چاہے مطالعہ کتاب کا ہو ، یا مظاہرِ قدرت کا ) ۔
✍️لقمان شاہد
2-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3198625437084290&id=100008105947430
کافی عرصے سے اسے بالاستیعاب پڑھنے کی خواہش تھی ، آج توفیق نے یاوری کی تو ابتدا کردی ۔
یہ کتاب سُچے موتیوں کی ایک لڑی ہے ؛ جس میں گیارہ سو سے زائد حُفاظِ حدیث کوبڑی نفاست سے پرویا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور پرونے والی بھی وہ ہستی ہے جس کے اپنے فن حدیث میں ایک ہزار سے زیادہ استاد ہیں ۔
رب تعالی ﷻ اس کتاب کی چمک سے میرا سینہ روشن کردے !
یہاں آپ سےعرض کرنے کا مقصد ایک تو آپ سے دعا لینا ہے ، اور دوسرا مطالعہ کی ترغیب دلانا ہے ۔
موبائل نے ہمیں مطالعاتی زندگی سے دور کردیا ہے ، اور ہمارا یہ شعور بھی چھین لیا ہے کہ انسان جتنا مطالعے سے دور ہوتا جاتا ہے اس کی ذہانت و فطانت سکڑتی جاتی ہے ( اب چاہے مطالعہ کتاب کا ہو ، یا مظاہرِ قدرت کا ) ۔
✍️لقمان شاہد
2-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3198625437084290&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کال نہ سننا 📲
ایک دوست مجھے باربار کال کرتے رہے لیکن میں اُن کی کال نہ سن سکا ، تو فرمانے لگے:
" آپ کا اس بندے کے بارے میں کیا خیال ہے جس کا دروازہ بار بار کھٹکھٹایا جائے اور وہ اندر ہوتے ہوئے بھی نہ کھولے ؟ "
میں نے عرض کی:
اس بندے کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ معذور ہے ، اس کے بارے میں حُسن ظن رکھنا چاہیے ، اور ناراض ہوئے بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے ۔
سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ ایک دفعہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے گئے اور ان کے دروازے پر تین بار سلام کر کےاجازت طلب کی ، لیکن دروازہ نہ کھلا تو واپس لوٹ آئے ۔
سیدنا فاروق اعظم نے اپنے معمولات سے فارغ ہوکر آپ کو بلایا اور بغیر ملاقات کیے واپس چلے جانے کا سبب پوچھا تو کہنے لگے:
میں نے رسولاللہ ﷺ سے سناہے:
اذا سلم احدكم ثلاثا ، فلم يجب فليرجع ۔
جب تم میں سے کوئی( کسی سے ملنے جائے ، اور اس کے دروازے پر اجازت لینے کے لیے ) تین بار سلام کرے ، تو اگرجواب نہ ملے تو ( بغیر ناراض ہوئے ) واپس لوٹ جائے ۔
( ملخصاً: مصنف عبدالرزاق ، کتاب الجامع ، باب الاستئذان ثلاثا ، ر 19423 )
🌸 مجبوری اور مصروفیت ہر انسان کے ساتھ ہوتی ہے ، کال اور میسج کرنے والے نے تو اپنے وقت کے مطابق رابطہ کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔ اسے کیا معلوم جس سے رابطہ کیا ہے وہ اس وقت کس حال میں ہے !
اس لیے دینِ فطرت پر عمل کیجیے اور ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بے لوث محبتیں قربان نہ ہونے دیجیے ۔
موبائل فون رکھا ہی کال سننے کے لیے ہوتاہے ، دوسرے کام تو ضمنی ہوتے ہیں ؛ اب اگر کسی کی کال نہ سننی ہو تو یہ رکھنے کا مطلب ہی نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
3-7-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3199399527006881&id=100008105947430
ایک دوست مجھے باربار کال کرتے رہے لیکن میں اُن کی کال نہ سن سکا ، تو فرمانے لگے:
" آپ کا اس بندے کے بارے میں کیا خیال ہے جس کا دروازہ بار بار کھٹکھٹایا جائے اور وہ اندر ہوتے ہوئے بھی نہ کھولے ؟ "
میں نے عرض کی:
اس بندے کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ معذور ہے ، اس کے بارے میں حُسن ظن رکھنا چاہیے ، اور ناراض ہوئے بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے ۔
سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ ایک دفعہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے گئے اور ان کے دروازے پر تین بار سلام کر کےاجازت طلب کی ، لیکن دروازہ نہ کھلا تو واپس لوٹ آئے ۔
سیدنا فاروق اعظم نے اپنے معمولات سے فارغ ہوکر آپ کو بلایا اور بغیر ملاقات کیے واپس چلے جانے کا سبب پوچھا تو کہنے لگے:
میں نے رسولاللہ ﷺ سے سناہے:
اذا سلم احدكم ثلاثا ، فلم يجب فليرجع ۔
جب تم میں سے کوئی( کسی سے ملنے جائے ، اور اس کے دروازے پر اجازت لینے کے لیے ) تین بار سلام کرے ، تو اگرجواب نہ ملے تو ( بغیر ناراض ہوئے ) واپس لوٹ جائے ۔
( ملخصاً: مصنف عبدالرزاق ، کتاب الجامع ، باب الاستئذان ثلاثا ، ر 19423 )
🌸 مجبوری اور مصروفیت ہر انسان کے ساتھ ہوتی ہے ، کال اور میسج کرنے والے نے تو اپنے وقت کے مطابق رابطہ کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔ اسے کیا معلوم جس سے رابطہ کیا ہے وہ اس وقت کس حال میں ہے !
اس لیے دینِ فطرت پر عمل کیجیے اور ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بے لوث محبتیں قربان نہ ہونے دیجیے ۔
موبائل فون رکھا ہی کال سننے کے لیے ہوتاہے ، دوسرے کام تو ضمنی ہوتے ہیں ؛ اب اگر کسی کی کال نہ سننی ہو تو یہ رکھنے کا مطلب ہی نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
3-7-2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3199399527006881&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🕌 امام مسجد کے لیے 🕌
🌺 امام مسجد کو زندہ دل اور ہنس مکھ ہونا چاہیے ، مقتدیوں کو دیکھ کر اس کا چہرہ کِھل اٹھے ، مرجھاہٹ طاری نہ ہوجائے ۔
🌺 یہ خواہش نہ کرے کہ مقتدی میرے ہاتھ چومیں ، مجھ سے سلام میں پہل کریں ، میرے ساتھ آکر مصافحہ کریں ۔
بلکہ ہوسکے تو مقتدیوں کو خود سلام میں پہل کرے کہ اس کا اجر زیادہ ہے ، اور آگے بڑھ کر پرتپاک طریقے سے اُن کے ساتھ مصافحہ و معانقہ کرے ، حال احوال دریافت کرے ۔
🌺 امام کی چال ڈھال اور حرکات و سکنات میں ٹھہراؤ ہونا چاہیے ، اس کا دل پُرسکون اور چہرہ مطمئن ہونا چاہیے ، تاکہ یہ نعمتیں مقتدیوں کو بھی نصیب ہوں ۔
🌺 امام جیسے ہی کسی مسجد میں تعینات ہو ، اپنے مقتدیوں کی نماز اور عقائد کی اصلاح شروع کردے ، اور یہ سلسلہ جاری رکھے ۔
اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ اِس کے نامہ اعمال میں نا ختم ہونے والا اجر لکھاجاتا رہے گا ، اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ مقتدیوں کے دلوں میں اِس کی جگہ بن جائے گی ۔
🌺 امام مقتدیوں کو دینی مسائل ، ان کی زبان میں سمجھائے ( وہ پنجابی ہو ، اردو ہو ، فارسی ہو ، انگریزی ہو ، ہندی ہو یاسندھی ۔) تاکہ انھیں مسائل اچھی طرح ذہن نشین ہوجائیں ۔
مجھے یاد پڑتا ہے ایک دفعہ دعوت اسلامی کے مدنی قافلے کے ساتھ پٹھانوں کے علاقے بیگو خیل اور کاکا خیل میں گیا تھا ۔
وہاں ہم نماز کے بعد اگر اردو میں اعلان کرتے تھے تو پٹھان کم بیٹھتے تھے ، لیکن وہی اعلان جب پشتو میں کیا جاتا تو کافی سارے لوگ بیٹھ جاتے ، اور بیان سنتے تھے ۔
میں نے یہ صورت حال دیکھ کر وہاں کے ایک پٹھان اسلامی بھائی سے کہا:
مجھے بھی پشتو میں اعلان یاد کروادیں تاکہ میں بھی اردو کے بجائے پشتو میں اعلان کیا کروں ۔
تو انھوں نے مجھےاعلان یاد کروایا:
" خوږو خوږو اسلامى رونړو اوس د مانځه نه بعد د سنتو نه ډک بيان به کيګى تاسو ټول تشريف راوړۍ او ډير زيات ثوابونه حاصل کړۍ."
مطلب: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ابھی نماز کےبعد سنتوں بھرا بیان ہوگا ، آپ تشریف رکھیے اور ڈھیروں ثواب کمائیے ۔
🌺 جب کوئی نمازی ایسا فقہی مسئلہ پوچھے جو لوگوں میں غلط مشہور ہو تو اسے دلیل کے ساتھ سمجھائیں اور مطمئن کریں ، دو لفظی ہاں ، ناں میں جواب نہ دے دیں ۔
اسی طرح عقائد کے متعلقہ مسائل کو بھی دلیل صحیح سے واضح کریں ۔
✍️لقمان شاہد
3-7-2021
( جاری ہے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3199649893648511&id=100008105947430
🌺 امام مسجد کو زندہ دل اور ہنس مکھ ہونا چاہیے ، مقتدیوں کو دیکھ کر اس کا چہرہ کِھل اٹھے ، مرجھاہٹ طاری نہ ہوجائے ۔
🌺 یہ خواہش نہ کرے کہ مقتدی میرے ہاتھ چومیں ، مجھ سے سلام میں پہل کریں ، میرے ساتھ آکر مصافحہ کریں ۔
بلکہ ہوسکے تو مقتدیوں کو خود سلام میں پہل کرے کہ اس کا اجر زیادہ ہے ، اور آگے بڑھ کر پرتپاک طریقے سے اُن کے ساتھ مصافحہ و معانقہ کرے ، حال احوال دریافت کرے ۔
🌺 امام کی چال ڈھال اور حرکات و سکنات میں ٹھہراؤ ہونا چاہیے ، اس کا دل پُرسکون اور چہرہ مطمئن ہونا چاہیے ، تاکہ یہ نعمتیں مقتدیوں کو بھی نصیب ہوں ۔
🌺 امام جیسے ہی کسی مسجد میں تعینات ہو ، اپنے مقتدیوں کی نماز اور عقائد کی اصلاح شروع کردے ، اور یہ سلسلہ جاری رکھے ۔
اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ اِس کے نامہ اعمال میں نا ختم ہونے والا اجر لکھاجاتا رہے گا ، اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ مقتدیوں کے دلوں میں اِس کی جگہ بن جائے گی ۔
🌺 امام مقتدیوں کو دینی مسائل ، ان کی زبان میں سمجھائے ( وہ پنجابی ہو ، اردو ہو ، فارسی ہو ، انگریزی ہو ، ہندی ہو یاسندھی ۔) تاکہ انھیں مسائل اچھی طرح ذہن نشین ہوجائیں ۔
مجھے یاد پڑتا ہے ایک دفعہ دعوت اسلامی کے مدنی قافلے کے ساتھ پٹھانوں کے علاقے بیگو خیل اور کاکا خیل میں گیا تھا ۔
وہاں ہم نماز کے بعد اگر اردو میں اعلان کرتے تھے تو پٹھان کم بیٹھتے تھے ، لیکن وہی اعلان جب پشتو میں کیا جاتا تو کافی سارے لوگ بیٹھ جاتے ، اور بیان سنتے تھے ۔
میں نے یہ صورت حال دیکھ کر وہاں کے ایک پٹھان اسلامی بھائی سے کہا:
مجھے بھی پشتو میں اعلان یاد کروادیں تاکہ میں بھی اردو کے بجائے پشتو میں اعلان کیا کروں ۔
تو انھوں نے مجھےاعلان یاد کروایا:
" خوږو خوږو اسلامى رونړو اوس د مانځه نه بعد د سنتو نه ډک بيان به کيګى تاسو ټول تشريف راوړۍ او ډير زيات ثوابونه حاصل کړۍ."
مطلب: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ابھی نماز کےبعد سنتوں بھرا بیان ہوگا ، آپ تشریف رکھیے اور ڈھیروں ثواب کمائیے ۔
🌺 جب کوئی نمازی ایسا فقہی مسئلہ پوچھے جو لوگوں میں غلط مشہور ہو تو اسے دلیل کے ساتھ سمجھائیں اور مطمئن کریں ، دو لفظی ہاں ، ناں میں جواب نہ دے دیں ۔
اسی طرح عقائد کے متعلقہ مسائل کو بھی دلیل صحیح سے واضح کریں ۔
✍️لقمان شاہد
3-7-2021
( جاری ہے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3199649893648511&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM