نتائج کے اعتبار سے غیر یقینی ہونے کا یہی وہ عیب ہے جس کی وجہ سے سائنس کبھی بھی مذہب کا متبادل نہیں ہو سکتی.
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ، جدید سائنس اور مذہب کے بیان کردہ روحانی تجربات یا ماورائے عقل معجزات کے درمیان مفاہمت کی؛ اس قسم کی کوشش؛ منسوخ ادیان کے ذریعے ماضی قریب میں ہو چکی ہے اور نتیجے میں انہیں الحاد سے منہ کی کھانی پڑی ہے. ہندوازم ہو چاہے عیسائیت یا یہودیت؛ سب یہ غلطی کر چکے ہیں اور اب انہیں تدارک کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی. گَنِیش کے دھڑ پر ہاتھی کا سر فٹ کرنے والی روایت کو آپریشن کی بنیاد بتا کر اِترانے والا ہندو؛ آج تک ملحدين کا یہ اعتراض سن کر ہکاّ بکاّ کھڑا ہے کہ اگر انسان کے سر کی جگہ جانور کا سر لگانا ٹھیک ہے بلکہ قابل فخر ہے تو مرد کے آلہ تناسل کو عورت کے آلہ تناسل میں تبدیل کرنا کیوں غلط ہے، خصوصاً تب جب کہ دونوں ہی انسان ہیں. ایسے ہی تثلیث کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا عیسائی جب ملحدین کی Mathematics کے ہاتھ چڑھتا ہے تو ایک سے تین کی جگہ بے چارے کی تین سے ایک کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے. ایسی لایعنی تشریحات کے نتیجے میں آخر کار یہ منسوخ مذاہب؛ ما بعد جدید دور میں اپنی الحاد زدہ شکل ہی پر رضا مند ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں.
ناسخ الادیان اور دین کامل کے طور پر انسانیت کی آخری پناہ گاہ اسلام ہے. خدا کے آخری پیغام کی روشنی اور آخری پیغمبر کی رہنمائی میں آخری دور کی امت کے لیے وحی اور سنت کی جو عظیم شاہ راہ دکھلائی گئی ہے وہ اسلام ہے. وحی اور پیغمبرانہ فراست کی وسعتوں کو جدید سائنس کے محدود پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے وہ بچہ جس کے حواس ابھی کمال کو نہیں پہنچے ہیں اس کا بتکلّف اعلیٰ تجربات کے میدان میں اپنی حیثیت منوانے کی کوشش کرنا. بسا اوقات ہم اچھی نیت کے ساتھ مذہبیات کی سائنسی توجیہ کا دروازہ کھولتے ہیں مگر جب اس میں بے احتیاطی کا مست ہاتھی لے کر کوئی نااہل داخل ہونے لگتا ہے تو صرف ظاہری ڈھانچے ہی کو نہیں، بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے. ہمیں صراحت کے ساتھ یہ بتانا ہوگا کہ ہم اسلام کو پیغمبرانہ تعلیمات کی بنیاد پر مانتے ہیں؛ جن کا ماخذ وحی ہے، اپنی ناقص عقلوں کی بنیاد پر نہیں مانتے. ہم کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی اسلامی حکم کا Reason تلاش کریں اور اس کے ذریعے عقل کو مطمئن کریں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم عقل کے گھوڑے پر سوار ہو کر وحی کی آسمانی عظمتوں کو فراموش کر چکے ہیں. جیسے دلیل کی بنیاد پر بات کو ماننا ہمارا ایک طریق ہے ایسے ہی وحی کی بنیاد پر عقل سے ماورا باتوں کو ماننا ہمارا اولین طریق ہے.
تقریرِ مسئلہ، تقریبِ فہم، تسکینِ مخاطب اور معترض پر معارضے کے لیے جدید سائنس کا سہارا لینا مذموم نہیں، لیکن اگر اس سے آگے بڑھ کر دین کی بنیاد سائنس پر رکھنے کا طریقہ اپنایا جائے تو یہ غیر کفو میں رشتہ کرنے کے مترادف ہوگا. مناسب تو یہ ہے کہ دین جس قسم کی اعلیٰ اقدار پر مشتمل ہے، اس کے لیے وحی جیسا اعلیٰ source of knowledge ہی چنا جائے تاکہ جوڑا بھی خوبصورت ہو اور ان کا گھر یعنی دنیا بھی آباد رہے. مذہبیات کے لیے وحی سے کم تر کوئی سہارا تراشا گیا تو آج کی مذہبیات کل بیوہ ہو کر رہ جائے گی.
20.11.1442
30.06.2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/944424996128019/
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ، جدید سائنس اور مذہب کے بیان کردہ روحانی تجربات یا ماورائے عقل معجزات کے درمیان مفاہمت کی؛ اس قسم کی کوشش؛ منسوخ ادیان کے ذریعے ماضی قریب میں ہو چکی ہے اور نتیجے میں انہیں الحاد سے منہ کی کھانی پڑی ہے. ہندوازم ہو چاہے عیسائیت یا یہودیت؛ سب یہ غلطی کر چکے ہیں اور اب انہیں تدارک کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی. گَنِیش کے دھڑ پر ہاتھی کا سر فٹ کرنے والی روایت کو آپریشن کی بنیاد بتا کر اِترانے والا ہندو؛ آج تک ملحدين کا یہ اعتراض سن کر ہکاّ بکاّ کھڑا ہے کہ اگر انسان کے سر کی جگہ جانور کا سر لگانا ٹھیک ہے بلکہ قابل فخر ہے تو مرد کے آلہ تناسل کو عورت کے آلہ تناسل میں تبدیل کرنا کیوں غلط ہے، خصوصاً تب جب کہ دونوں ہی انسان ہیں. ایسے ہی تثلیث کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا عیسائی جب ملحدین کی Mathematics کے ہاتھ چڑھتا ہے تو ایک سے تین کی جگہ بے چارے کی تین سے ایک کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے. ایسی لایعنی تشریحات کے نتیجے میں آخر کار یہ منسوخ مذاہب؛ ما بعد جدید دور میں اپنی الحاد زدہ شکل ہی پر رضا مند ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں.
ناسخ الادیان اور دین کامل کے طور پر انسانیت کی آخری پناہ گاہ اسلام ہے. خدا کے آخری پیغام کی روشنی اور آخری پیغمبر کی رہنمائی میں آخری دور کی امت کے لیے وحی اور سنت کی جو عظیم شاہ راہ دکھلائی گئی ہے وہ اسلام ہے. وحی اور پیغمبرانہ فراست کی وسعتوں کو جدید سائنس کے محدود پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے وہ بچہ جس کے حواس ابھی کمال کو نہیں پہنچے ہیں اس کا بتکلّف اعلیٰ تجربات کے میدان میں اپنی حیثیت منوانے کی کوشش کرنا. بسا اوقات ہم اچھی نیت کے ساتھ مذہبیات کی سائنسی توجیہ کا دروازہ کھولتے ہیں مگر جب اس میں بے احتیاطی کا مست ہاتھی لے کر کوئی نااہل داخل ہونے لگتا ہے تو صرف ظاہری ڈھانچے ہی کو نہیں، بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے. ہمیں صراحت کے ساتھ یہ بتانا ہوگا کہ ہم اسلام کو پیغمبرانہ تعلیمات کی بنیاد پر مانتے ہیں؛ جن کا ماخذ وحی ہے، اپنی ناقص عقلوں کی بنیاد پر نہیں مانتے. ہم کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی اسلامی حکم کا Reason تلاش کریں اور اس کے ذریعے عقل کو مطمئن کریں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم عقل کے گھوڑے پر سوار ہو کر وحی کی آسمانی عظمتوں کو فراموش کر چکے ہیں. جیسے دلیل کی بنیاد پر بات کو ماننا ہمارا ایک طریق ہے ایسے ہی وحی کی بنیاد پر عقل سے ماورا باتوں کو ماننا ہمارا اولین طریق ہے.
تقریرِ مسئلہ، تقریبِ فہم، تسکینِ مخاطب اور معترض پر معارضے کے لیے جدید سائنس کا سہارا لینا مذموم نہیں، لیکن اگر اس سے آگے بڑھ کر دین کی بنیاد سائنس پر رکھنے کا طریقہ اپنایا جائے تو یہ غیر کفو میں رشتہ کرنے کے مترادف ہوگا. مناسب تو یہ ہے کہ دین جس قسم کی اعلیٰ اقدار پر مشتمل ہے، اس کے لیے وحی جیسا اعلیٰ source of knowledge ہی چنا جائے تاکہ جوڑا بھی خوبصورت ہو اور ان کا گھر یعنی دنیا بھی آباد رہے. مذہبیات کے لیے وحی سے کم تر کوئی سہارا تراشا گیا تو آج کی مذہبیات کل بیوہ ہو کر رہ جائے گی.
20.11.1442
30.06.2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/944424996128019/
مذہبیات کی سائنسی توجیہ ایک فکری تجزیہ
✍️ پٹیل عبد الرحمن مصباحی ،گجرات (انڈیا)
انگریزی کی ایک کہاوت ہے،
The theology, that marries the science of today, will be the widow of tomorrow.
"آج اگر مذہبیات کی شادی سائنس سے کرائی گئی تو کل وہ(مذہبیات) بیوہ ہو جائے گی."
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/944424996128019/
✍️ پٹیل عبد الرحمن مصباحی ،گجرات (انڈیا)
انگریزی کی ایک کہاوت ہے،
The theology, that marries the science of today, will be the widow of tomorrow.
"آج اگر مذہبیات کی شادی سائنس سے کرائی گئی تو کل وہ(مذہبیات) بیوہ ہو جائے گی."
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/944424996128019/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#अफसोस_आज_हम_लोगों_की_सोच_ये_है
सबसे ज़्यादा सियासत का अगर कोई हक़दार है तो मुसलमान है
अगर आज कोई आलिम किसी इलेक्शन के लिए खड़ा हो जाता है और सियासत में आना चाहता है तो हम लोग कहते हैं उल्मा सियासत में क्या करेंगे?
या सियासत से कोई आलिम दिलचस्पी रखें
कहते हैं आखिर सियासत में इन आलिमों का क्या काम है? कहते हैं इसका ईमान खत्म हो गया इसी वजह से सियासत में आया
या बोलते हैं इसको कुछ आता नहीं इसी वजह से ये सियासत में आया है
#तो_सुनिए_कुछ_तारीख_उठा_कर_देख_लिया_करें
अल्लाह पाक ने अपने नबी (सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम) व दूसरे अम्बिंया को हुकूमत अता फरमाई
बनी इस्राइल की सियासत रानी अमंबियाए किराम क्या करते थे क्या इस बात का सुबूत नहीं है अल्लाह पाक ने हुकूमत मुसलमानों के लिए बनाई है और इसकी नियाबत (डिप्टी) अम्बियां के वारसीन के अलावा कौन करेगा?
और वारिस कौन? उल्मा ही तो हैं
जब अम्बियां के उलूम के वारिस उल्मा हैं तो सियासत में ही उल्मा वारिस हुए
नबी करीम (सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम)का फरमान है العلماء ورثة الأنبياء (उल्मा अम्बियां के वारिस हैं)
इसीलिए उल्मा को अपने दीन और अपनी कौ़म की हिफाज़त के लिए सियासत में हिस्सा लेना चाहिए जिस दिन उलमाए किराम सियासत में आएंगे जिस दिन उलमाए किराम को हम लोग पार्लियामेंट में भेज देंगे इन्शा अल्लाह वो दिन ऐसा होगा जब कोई क़ानून बनेगा पार्लियामेंट में शरियत के खिलाफ जब कोई आवाज़ उठाई जाएगी तो ये उलमाए किराम शरयत और इस्लाम के बचाव के लिए जो मुमकिन होगा पूरी कोशिश करेंगे
उल्मा से बेहतर सियासत किसी नहीं की और ना ही कोई कर सकता है अगर वक्त मिलें #छुटभैया (नेताओं) को तो तारीख पढ़ लिया करें सियासत में काम देगी कि
हज़रत अबुबक्र सिद्दीक(रदीअल्लाहु अन्हु) आलिम नहीं थे हज़रत उमर फारूक रदी(रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत उष्मान (रदीअल्लाहु अन्हु)हजरत मौला अली (रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत इमामे हसन (रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत अमीर मआविया (रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत उमर बिन अब्दुल अज़ीज़ (रदीअल्लाहु अन्हु)
व दीगर उलमाए किराम जब तक खिलाफतों हुकुमत में रहे तो उन लोगों ने इस्लाम का बोलबाला किया और इस्लाम को सिर्फ 150 साल के वक़्त में दुनिया के कोने कोने में इस्लाम को पहुचां दिया इसीलिए उल्मा बढ़चढ़कर लोगों को सियासत के बारे में बता रहे हैं और अब जिसको तारीख ना मालूम हो उससे हमारी कोई बहस ही नहीं. करते रहिए गुलामी दूसरे काफिरों को वोट देकर बनाते रहेंगे तुम्हारे खिलाफ कानून
अभी वक्त है सुधरने का
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1162413464258477&id=100014695034621
सबसे ज़्यादा सियासत का अगर कोई हक़दार है तो मुसलमान है
अगर आज कोई आलिम किसी इलेक्शन के लिए खड़ा हो जाता है और सियासत में आना चाहता है तो हम लोग कहते हैं उल्मा सियासत में क्या करेंगे?
या सियासत से कोई आलिम दिलचस्पी रखें
कहते हैं आखिर सियासत में इन आलिमों का क्या काम है? कहते हैं इसका ईमान खत्म हो गया इसी वजह से सियासत में आया
या बोलते हैं इसको कुछ आता नहीं इसी वजह से ये सियासत में आया है
#तो_सुनिए_कुछ_तारीख_उठा_कर_देख_लिया_करें
अल्लाह पाक ने अपने नबी (सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम) व दूसरे अम्बिंया को हुकूमत अता फरमाई
बनी इस्राइल की सियासत रानी अमंबियाए किराम क्या करते थे क्या इस बात का सुबूत नहीं है अल्लाह पाक ने हुकूमत मुसलमानों के लिए बनाई है और इसकी नियाबत (डिप्टी) अम्बियां के वारसीन के अलावा कौन करेगा?
और वारिस कौन? उल्मा ही तो हैं
जब अम्बियां के उलूम के वारिस उल्मा हैं तो सियासत में ही उल्मा वारिस हुए
नबी करीम (सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम)का फरमान है العلماء ورثة الأنبياء (उल्मा अम्बियां के वारिस हैं)
इसीलिए उल्मा को अपने दीन और अपनी कौ़म की हिफाज़त के लिए सियासत में हिस्सा लेना चाहिए जिस दिन उलमाए किराम सियासत में आएंगे जिस दिन उलमाए किराम को हम लोग पार्लियामेंट में भेज देंगे इन्शा अल्लाह वो दिन ऐसा होगा जब कोई क़ानून बनेगा पार्लियामेंट में शरियत के खिलाफ जब कोई आवाज़ उठाई जाएगी तो ये उलमाए किराम शरयत और इस्लाम के बचाव के लिए जो मुमकिन होगा पूरी कोशिश करेंगे
उल्मा से बेहतर सियासत किसी नहीं की और ना ही कोई कर सकता है अगर वक्त मिलें #छुटभैया (नेताओं) को तो तारीख पढ़ लिया करें सियासत में काम देगी कि
हज़रत अबुबक्र सिद्दीक(रदीअल्लाहु अन्हु) आलिम नहीं थे हज़रत उमर फारूक रदी(रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत उष्मान (रदीअल्लाहु अन्हु)हजरत मौला अली (रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत इमामे हसन (रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत अमीर मआविया (रदीअल्लाहु अन्हु)
हज़रत उमर बिन अब्दुल अज़ीज़ (रदीअल्लाहु अन्हु)
व दीगर उलमाए किराम जब तक खिलाफतों हुकुमत में रहे तो उन लोगों ने इस्लाम का बोलबाला किया और इस्लाम को सिर्फ 150 साल के वक़्त में दुनिया के कोने कोने में इस्लाम को पहुचां दिया इसीलिए उल्मा बढ़चढ़कर लोगों को सियासत के बारे में बता रहे हैं और अब जिसको तारीख ना मालूम हो उससे हमारी कोई बहस ही नहीं. करते रहिए गुलामी दूसरे काफिरों को वोट देकर बनाते रहेंगे तुम्हारे खिलाफ कानून
अभी वक्त है सुधरने का
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1162413464258477&id=100014695034621
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تصانیف_رضا_کی_خصوصیات_و_انفرادیت
نویں صدی کے مجدد خاتم الحفاظ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ کے بعد سب سے زیادہ کثرت سے کتب چودھویں صدی کے مجدد مجدد مئة ماضیہ صاحب حجت القاہرہ موئد ملت طاہرہ الشاہ امام احمد رضا خاں حنفی ماتریدی قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمائی --
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے عصر کے رائج شدہ علوم پر مختلف موضوعات و مختلف زبانوں میں کم و بیش ایک ہزار کتب و رسائل تحریر فرمائے --
( ١ ) تصانیف رضا کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی اکثر کتب کے نام عربی زبان میں ہیں
( ٢ ) تصانیف رضا کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی کتب کے عربی نام نظم کی صورت میں ہیں مثلًا العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة ، الدولة المکیة بالمادة الغیبة ، المحجت الموتمة فی آیت الممتحنة ، دوام العیش فی الائمة من قریش ، ازاحت العیب بسیف الغیب ، شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ، وغیرہ
( ٣ ) تصانیف رضا کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی کتب کے نام سے ہی موضوع کا علم ہو جاتا ہے
( ۴ ) تصانیف رضا کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی کتب کے نام کے اعداد نکانے سے سن تصنیف معلوم ہو جاتا ہے --
( ۵ ) تصانیف رضا کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف فصاحت و بلاغت سے لبریز ہیں جس کی شہادت العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة کا خطبہ دیتا ہوا نظر آتا ہے --
( ٦ ) تصانیف رضا کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ بعض وہ مسائل جن میں ایک دو دلیل سے زیادہ کا امکان نہیں ہوتا وہاں آپ کی تصانیف مبارکہ میں دلائل کی جھڑیاں نظر آتی ہیں جس کی شہادت آپ کا رسالہ مبارک لمعة الضحی فی اعفاء اللحی دیتا ہوا نظر آتا ہے --
( ٧ ) تصانیف رضا کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ میں بے جاں طوالت سے اجتناب کیا گیا ہے --
( ٨ ) تصانیف رضا کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ مرجع العلما ہے--
( ٩ ) تصانیف رضا کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ کی انفرادیت کا اعتراف غیروں تک نے کیا ہے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہند و پاک کے مشہور مفکر کوثر نیازی اپنے ایک رسالہ بہ مسمی *" امام احمد رضا ایک ہمہ جہت شخصیت "* کے صفحہ ٣١ پر رقم طراز ہیں --
فقہ حنفی میں ہندوستان میں دو کتابیں مستند ترین ہیں ان میں ایک فتاوی عالمگیریہ جو در اصل چالیس علماء کی مشترکہ خدمت ہے جنہوں نے فقہ حنفی کا ایک جامع مجموعہ ترتیب دیا دوسرا فتاوی رضویہ ہے جس کی انفرادیت یہ ہے کہ جو کام چالیس علماء نے مل کر انجام دیا وہ اس مرد مجاہد نے تنہا کر کے دکھایا اور مجموعہ فتاوی رضویہ فتاوی عالمگیریہ سے زیادہ جامع ہے---
( ١٠ ) تصانیف رضا کی دسویں خصوصیت و انفرادیت یہ ہے کہ آپ کی بعض تصانیف مبارکہ کو جس میں الدولة المکیة بالمادة الغیبة ، الکفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراھم ، المعتمد المستند کا بعض حصہ جب علمائے حجاز نے دیکھا تو آپ کو اس دور کا مجدد مئة حاضرہ تسلیم فرمایا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کے مشہور معروف عالم شیخ سید اسماعیل بن خلیل علیہ الرحمہ اپ کے بعض فتاوی کو دیکھ کر فرماتے ہیں
اللہ کی قسم اگر آپ کے فتاوی کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی اور آپ کو اپنے اصحاب میں شامل فرما لیتے --
( ١١ ) تصانیف رضا کی گیارہویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے عقیدہ میں پختگی عمل میں مضبوطی علم میں اضافہ فکر میں وسعت مزاج میں اعتدال کفار و بدمذھب پر سختی مومن پر نرمی بدعات و منکرات سے پرہیزگاری عشق رسول وغیرہ کا حصول ہوتا ہے---
حکیم الامت صاحب تصانیف کثیرہ مفسر قرآن مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ نے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے ایک رسالہ *" عطایا القدیر فی حکم التصویر "* کا جب مطالعہ کیا تو اتنے متحیر ہوئے کہ اپنا تاثر ان الفاظ میں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں --
چوں کہ میری طالب علمی دیوبندی مکتب فکر کے اساتذہ سے متاثر تھی کہ علمی تحقیق صرف علمائے دیوبند کی تالیفات میں ملتی ہے جب میں نے مذکورہ رسالہ مطالعہ کیا تو اس کے لکھنے والے کے تبحر علمی اور دقت نظری کے کمال کا گرویدہ ہو گیا سچ یہ ہے کہ اس رسالے نے میری ذہنی اور اعتقادی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ----
*اقول* تصانیف رضا کی ایک سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ حضرت رضا بریلوی کی تصانیف چودہ سو سالہ علم کے ذخیرے کا عطر تحقیق ہے جس نے تصانیف رضا کا مطالعہ کیا گویا اس نے چودہ سو سالہ تاریخ میں لکھی گئی تمام فقہی اعتقادی کتابوں کو پڑھ لیا--
وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر
جو کچھ بھی ہے اس صدی میں اس میں زیادہ رضا کا ہے
نویں صدی کے مجدد خاتم الحفاظ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ کے بعد سب سے زیادہ کثرت سے کتب چودھویں صدی کے مجدد مجدد مئة ماضیہ صاحب حجت القاہرہ موئد ملت طاہرہ الشاہ امام احمد رضا خاں حنفی ماتریدی قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمائی --
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے عصر کے رائج شدہ علوم پر مختلف موضوعات و مختلف زبانوں میں کم و بیش ایک ہزار کتب و رسائل تحریر فرمائے --
( ١ ) تصانیف رضا کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی اکثر کتب کے نام عربی زبان میں ہیں
( ٢ ) تصانیف رضا کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی کتب کے عربی نام نظم کی صورت میں ہیں مثلًا العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة ، الدولة المکیة بالمادة الغیبة ، المحجت الموتمة فی آیت الممتحنة ، دوام العیش فی الائمة من قریش ، ازاحت العیب بسیف الغیب ، شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ، وغیرہ
( ٣ ) تصانیف رضا کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی کتب کے نام سے ہی موضوع کا علم ہو جاتا ہے
( ۴ ) تصانیف رضا کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی کتب کے نام کے اعداد نکانے سے سن تصنیف معلوم ہو جاتا ہے --
( ۵ ) تصانیف رضا کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف فصاحت و بلاغت سے لبریز ہیں جس کی شہادت العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة کا خطبہ دیتا ہوا نظر آتا ہے --
( ٦ ) تصانیف رضا کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ بعض وہ مسائل جن میں ایک دو دلیل سے زیادہ کا امکان نہیں ہوتا وہاں آپ کی تصانیف مبارکہ میں دلائل کی جھڑیاں نظر آتی ہیں جس کی شہادت آپ کا رسالہ مبارک لمعة الضحی فی اعفاء اللحی دیتا ہوا نظر آتا ہے --
( ٧ ) تصانیف رضا کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ میں بے جاں طوالت سے اجتناب کیا گیا ہے --
( ٨ ) تصانیف رضا کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ مرجع العلما ہے--
( ٩ ) تصانیف رضا کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ کی انفرادیت کا اعتراف غیروں تک نے کیا ہے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہند و پاک کے مشہور مفکر کوثر نیازی اپنے ایک رسالہ بہ مسمی *" امام احمد رضا ایک ہمہ جہت شخصیت "* کے صفحہ ٣١ پر رقم طراز ہیں --
فقہ حنفی میں ہندوستان میں دو کتابیں مستند ترین ہیں ان میں ایک فتاوی عالمگیریہ جو در اصل چالیس علماء کی مشترکہ خدمت ہے جنہوں نے فقہ حنفی کا ایک جامع مجموعہ ترتیب دیا دوسرا فتاوی رضویہ ہے جس کی انفرادیت یہ ہے کہ جو کام چالیس علماء نے مل کر انجام دیا وہ اس مرد مجاہد نے تنہا کر کے دکھایا اور مجموعہ فتاوی رضویہ فتاوی عالمگیریہ سے زیادہ جامع ہے---
( ١٠ ) تصانیف رضا کی دسویں خصوصیت و انفرادیت یہ ہے کہ آپ کی بعض تصانیف مبارکہ کو جس میں الدولة المکیة بالمادة الغیبة ، الکفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراھم ، المعتمد المستند کا بعض حصہ جب علمائے حجاز نے دیکھا تو آپ کو اس دور کا مجدد مئة حاضرہ تسلیم فرمایا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کے مشہور معروف عالم شیخ سید اسماعیل بن خلیل علیہ الرحمہ اپ کے بعض فتاوی کو دیکھ کر فرماتے ہیں
اللہ کی قسم اگر آپ کے فتاوی کو امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی اور آپ کو اپنے اصحاب میں شامل فرما لیتے --
( ١١ ) تصانیف رضا کی گیارہویں خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے عقیدہ میں پختگی عمل میں مضبوطی علم میں اضافہ فکر میں وسعت مزاج میں اعتدال کفار و بدمذھب پر سختی مومن پر نرمی بدعات و منکرات سے پرہیزگاری عشق رسول وغیرہ کا حصول ہوتا ہے---
حکیم الامت صاحب تصانیف کثیرہ مفسر قرآن مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ نے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے ایک رسالہ *" عطایا القدیر فی حکم التصویر "* کا جب مطالعہ کیا تو اتنے متحیر ہوئے کہ اپنا تاثر ان الفاظ میں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں --
چوں کہ میری طالب علمی دیوبندی مکتب فکر کے اساتذہ سے متاثر تھی کہ علمی تحقیق صرف علمائے دیوبند کی تالیفات میں ملتی ہے جب میں نے مذکورہ رسالہ مطالعہ کیا تو اس کے لکھنے والے کے تبحر علمی اور دقت نظری کے کمال کا گرویدہ ہو گیا سچ یہ ہے کہ اس رسالے نے میری ذہنی اور اعتقادی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ----
*اقول* تصانیف رضا کی ایک سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ حضرت رضا بریلوی کی تصانیف چودہ سو سالہ علم کے ذخیرے کا عطر تحقیق ہے جس نے تصانیف رضا کا مطالعہ کیا گویا اس نے چودہ سو سالہ تاریخ میں لکھی گئی تمام فقہی اعتقادی کتابوں کو پڑھ لیا--
وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر
جو کچھ بھی ہے اس صدی میں اس میں زیادہ رضا کا ہے
نوٹ :- عوام و خواص کے عقائد و اعمال کی حفاظت و علم و ادب کے فروغ کے لئے امام اہل سنت کی تصانیف مبارکہ کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے ہر شہر قصبہ گاوں میں لائبریری قائم کر کے امام اہل سنت کی کتب کو رکھا جائے اہل علم و شائقین مطالعہ کو تحفے میں پیش کی جائیں صرف نعرہ بازی سے کچھ نہیں ہوگا امام کی روح حقیقت میں انکی تصانیف مبارکہ کو عام کرنے سے ہی خوش ہوگی ---
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ :03:جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=849552605662958&id=100018246788149
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ :03:جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=849552605662958&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#برعظیم_کے_نامور_صوفی_فلاسفہ_کی_تعلیمات_کی_آڑ_میں_فتنہ_انکار_حدیث_کی_جدید_لہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#رجوع_قرآن_کی_آڑ_میں_فتنہ_انکار_حدیث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برعظیم پاک وھند کے دور آخر میں تین نامور صوفی فلسفی گزرے ہیں
1۔علامہ محمد اقبال مرحوم
2۔ سید ظفر الحسن مرحوم
3۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی مرحوم
علامہ محمد اقبال کی علمی' فنی' اعتقادی' اور فلسفیانہ آراء تو across the globe شائع ہو چکی ہیں اور ان پر تائیدی'تنقیدی اورتجزیاتی مطالعات گزشتہ کئی سال سے اقبال اکادمی (لاہور' پنجاب ' پاکستان) کے زیر اہتمام پبلش ہوکر اہل علم و فن کو دعوت فکر دے رہے ہیں ۔لیکن دیگر دو حضرات(ڈاکٹر سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی رحمہ الله اجمعین ) کی تحریروں اور خدمات پر زمانے کی گرد کی دبیز تہ جم چکی ہے ۔عوام اور خواص تو کیا ۔۔خواص الخواص کی علمی اور فکری مجالس میں' انکی تحریروں میں 'نجی محافل میں ان دو فلاسفہ کے تذکار تو دور کی بات ہے ' ان اہل علم کا نام تک سننے کو نہیں ملتا ۔ جب کہ اہل یورپ انکی علمی خدمات سے آج بھی استفادہ کر رہے ہیں ۔
میرے ناقص مطالعہ کے مطابق ۔۔۔سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ہر دو حضرات کلاسیکل تصوف کی روایت کے حاملین اور عاملین میں سے تھے ۔ انکا اکثر تحریری کام اعلی سطح کی انگریزی زبان میں پبلش ہوا ہے ۔جب کہ چند ایک کتب اردو زبان میں بھی مل جاتی ہیں ۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تینوں اہل علم کی تحریری خدمات کا تفصیلی جائزہ اہل مدرسہ کے کسی بھی مکتب فکرکے لکھاری (متکلم 'مفکر' مؤرخ) نے لینے کی کوشش گوارا نہیں کی سواۓ سید سلیمان ندوی یا ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کے (انہوں نے بھی صرف علامہ اقبال پر تھوڑا بہت لکھا ہے)۔اکثر متجدد'مستشرق یا آزاد خیال فکر کےحاملین نے اپنی پھسپھسی اور پلپلی فکر کو ان حضرات کے علمی قد کاٹھ کی آڑ میں پیش کررہے ہیں۔جن میں ایک نام ڈاکٹر خضر یٰسین کا ہے ۔(عھد متعدد متجدد حضرات میں سے ڈاکٹر خضر یٰسین اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنے آپ کو ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کا شاگرد بتاتے ہیں )۔
ڈاکٹر خضر یٰسین اپنی تحریروں میں ' اپنی تقریروں میں بظاھر رجوع اللقرآن کی دعوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر اسکی آڑ میں دانستہ طور پر یا غیر دانستہ طور پر حدیث ' علوم حدیث'متعلقات حدیث' راویان حدیث ۔فنون حدیث ' علوم تفسیر و مفسرین اور سلف و خلف کی جملہ تفاسیر (بلاامتیازتفاسیر ماثوره و غیر ماثوره ' متداول و غیر متداول ' راجح و مرجوح ) کا صریح الفاظ میں انکار کر رہے ہیں ۔اوریہ انکار حدیث والی گفتگو اب نجی محافل سے نکل کر عوامی جلسوں میں بھی کی جا رہی ہے اور عوام الناس بغیر سوچے سمجھے واہ واہ کر رہی ہے ۔یہ صرف الزام نہیں ہے ۔بلکہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر خضر یٰسین کی کثیر تعداد میں پبلش شدہ تحریروں اور عوامی مجالس میں بیانات (جو کہ بڑے پیمانے پر ریکارڈنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائےجا رہے ہیں)کے متن سے اظہر من الشمس ہے ۔اگر ڈاکٹرخضریٰسین یہ سب کچھ اپنی capacity میں کرتے تو اور بات تھی ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور سید ظفر الحسن کی شاگردی کی آڑ میں کر رہے ہیں ۔اب اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ برعظیم کے ان تین نامور فلاسفہ (اقبال ' سید ظفر الحسن ' اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ) کی تخلیقات کا دقت نظر سے جائزہ لیا جائے اور پھر یہ کھوج لگانے کی کوشش کی جاۓ آیا کہ انکار حدیث کی یہ نئی لہر کس کی فکری کج فہمی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے ۔ اسکا کوئی سرا ان فلاسفہ پاک و ھند کی کسی تحریر سے اخذ کیا جا رہا ہے یا کہ نبوت کما ھی اور ما انزل الله۔۔۔۔ کے پردے میں ڈاکٹر خضر یٰسین کے اپنے ذہنی اختراعات ہیں ۔
کیوں کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ صوفی صفات کا حامل اہل علم چاہے جس میدان کا بھی آدمی ہو وہ کبھی بھی انکار حدیث جیسے قبیح جرم کا باعث نہیں بن سکتا ۔۔ برعظیم پاک و ھند کے جملہ اہل فکر اور ارباب حل عقد کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#رجوع_قرآن_کی_آڑ_میں_فتنہ_انکار_حدیث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برعظیم پاک وھند کے دور آخر میں تین نامور صوفی فلسفی گزرے ہیں
1۔علامہ محمد اقبال مرحوم
2۔ سید ظفر الحسن مرحوم
3۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی مرحوم
علامہ محمد اقبال کی علمی' فنی' اعتقادی' اور فلسفیانہ آراء تو across the globe شائع ہو چکی ہیں اور ان پر تائیدی'تنقیدی اورتجزیاتی مطالعات گزشتہ کئی سال سے اقبال اکادمی (لاہور' پنجاب ' پاکستان) کے زیر اہتمام پبلش ہوکر اہل علم و فن کو دعوت فکر دے رہے ہیں ۔لیکن دیگر دو حضرات(ڈاکٹر سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی رحمہ الله اجمعین ) کی تحریروں اور خدمات پر زمانے کی گرد کی دبیز تہ جم چکی ہے ۔عوام اور خواص تو کیا ۔۔خواص الخواص کی علمی اور فکری مجالس میں' انکی تحریروں میں 'نجی محافل میں ان دو فلاسفہ کے تذکار تو دور کی بات ہے ' ان اہل علم کا نام تک سننے کو نہیں ملتا ۔ جب کہ اہل یورپ انکی علمی خدمات سے آج بھی استفادہ کر رہے ہیں ۔
میرے ناقص مطالعہ کے مطابق ۔۔۔سید ظفر الحسن اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ہر دو حضرات کلاسیکل تصوف کی روایت کے حاملین اور عاملین میں سے تھے ۔ انکا اکثر تحریری کام اعلی سطح کی انگریزی زبان میں پبلش ہوا ہے ۔جب کہ چند ایک کتب اردو زبان میں بھی مل جاتی ہیں ۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تینوں اہل علم کی تحریری خدمات کا تفصیلی جائزہ اہل مدرسہ کے کسی بھی مکتب فکرکے لکھاری (متکلم 'مفکر' مؤرخ) نے لینے کی کوشش گوارا نہیں کی سواۓ سید سلیمان ندوی یا ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کے (انہوں نے بھی صرف علامہ اقبال پر تھوڑا بہت لکھا ہے)۔اکثر متجدد'مستشرق یا آزاد خیال فکر کےحاملین نے اپنی پھسپھسی اور پلپلی فکر کو ان حضرات کے علمی قد کاٹھ کی آڑ میں پیش کررہے ہیں۔جن میں ایک نام ڈاکٹر خضر یٰسین کا ہے ۔(عھد متعدد متجدد حضرات میں سے ڈاکٹر خضر یٰسین اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنے آپ کو ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کا شاگرد بتاتے ہیں )۔
ڈاکٹر خضر یٰسین اپنی تحریروں میں ' اپنی تقریروں میں بظاھر رجوع اللقرآن کی دعوت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر اسکی آڑ میں دانستہ طور پر یا غیر دانستہ طور پر حدیث ' علوم حدیث'متعلقات حدیث' راویان حدیث ۔فنون حدیث ' علوم تفسیر و مفسرین اور سلف و خلف کی جملہ تفاسیر (بلاامتیازتفاسیر ماثوره و غیر ماثوره ' متداول و غیر متداول ' راجح و مرجوح ) کا صریح الفاظ میں انکار کر رہے ہیں ۔اوریہ انکار حدیث والی گفتگو اب نجی محافل سے نکل کر عوامی جلسوں میں بھی کی جا رہی ہے اور عوام الناس بغیر سوچے سمجھے واہ واہ کر رہی ہے ۔یہ صرف الزام نہیں ہے ۔بلکہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر خضر یٰسین کی کثیر تعداد میں پبلش شدہ تحریروں اور عوامی مجالس میں بیانات (جو کہ بڑے پیمانے پر ریکارڈنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائےجا رہے ہیں)کے متن سے اظہر من الشمس ہے ۔اگر ڈاکٹرخضریٰسین یہ سب کچھ اپنی capacity میں کرتے تو اور بات تھی ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور سید ظفر الحسن کی شاگردی کی آڑ میں کر رہے ہیں ۔اب اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ برعظیم کے ان تین نامور فلاسفہ (اقبال ' سید ظفر الحسن ' اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی ) کی تخلیقات کا دقت نظر سے جائزہ لیا جائے اور پھر یہ کھوج لگانے کی کوشش کی جاۓ آیا کہ انکار حدیث کی یہ نئی لہر کس کی فکری کج فہمی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے ۔ اسکا کوئی سرا ان فلاسفہ پاک و ھند کی کسی تحریر سے اخذ کیا جا رہا ہے یا کہ نبوت کما ھی اور ما انزل الله۔۔۔۔ کے پردے میں ڈاکٹر خضر یٰسین کے اپنے ذہنی اختراعات ہیں ۔
کیوں کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ صوفی صفات کا حامل اہل علم چاہے جس میدان کا بھی آدمی ہو وہ کبھی بھی انکار حدیث جیسے قبیح جرم کا باعث نہیں بن سکتا ۔۔ برعظیم پاک و ھند کے جملہ اہل فکر اور ارباب حل عقد کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
ہمارا ماننا یہ ہے کہ صوفی صفات کا حامل اہل علم چاہے جس میدان کا بھی آدمی ہو وہ کبھی بھی انکار حدیث جیسے قبیح جرم کا باعث نہیں بن سکتا ۔۔ برعظیم پاک و ھند کے جملہ اہل فکر اور ارباب حل عقد کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج ذیل تصاویر ان کتب کی ہیں جو مذکورہ بالا مسلم فلاسفہ نے لکھی تھیں اور یہ انٹر نیٹ پر آن لائین دستیاب ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=318828039923017&id=100053874703540
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#نعمتہ_الباری_کی_خصوصیات_و_انفرادیت
نعمتہ الباری حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ اردو زبان میں بخاری شریف کی ایک مایہ ماز شرح ہے جو کہ بخاری شریف کی تمام اردو شروحات میں منفرد خصوصیت و اہمیت کی حامل ہے --
حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ نعمتہ الباری فی شرح صحیح البخاری لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں --
صحیح البخاری کی دستیاب اردو شروحات دیکھ کر مجھے اکثر یہ خیال آتا تھا کہ کتب حدیث میں صحیح البخاری کا جو عظیم الشان مقام ہے اس کے شایان شان اردو میں اس پائے کی کوئی شرح نہیں ہے اس لئے میں چاہتا تھا کہ اردو میں بھی اس کی کوئی ایسی عظیم المرتبہ شرح لکھی جائے جو عربی شروح میں سے شرح ابن بطال ، عمدة القاری ، فتح الباری ، کا عکس جمیل ہو
( ١ ) اس شرح کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بہت ہی تفصیلی و انتہائی ضخیم شرح ہے جو کہ سولہ مجلدات و جہازی سائز کے تقریبًا سولہ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے --
( ٢ ) اس شرح کہ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تفسیر تبیان القرآن کی طرح نہایت ہی معتدل زبان استعمال کی گئی ہے نہ کہ اتنی پے چیدہ کہ عام ذہنوں کے فہم سے پرے ہو اور نہ ہی اتنی آسان کہ خواص دور ہو جائیں بلکہ یہ شرح عوام و خواص دنوں کے لئے ہی مفید ہے ---
( ٣ ) اس شرح کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تحقیق کے عصری تقاضوں کو مد نظر رکھا گیا ہے --
( ۴ ) اس شرح کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مختلف مسائل پر کتب ستہ اور دیگر کتب احادیث سے اتنی کثرت سے احادیث کوڈ کی گئی ہیں کہ اگر اس شرح کو کتب احادیث کا مجموعہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا --
( ٦ ) اس شرح کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بخاری شریف میں قائم کئے گئے بابوں کی بھی لغوی و شرعی وضاحت و شرح کی گئی ہے بعض مقامات پر مختصر تو بعض مقامات پر تفصیل سے کی گئی ہے --
( ٧ ) اس شرح کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اسناد کا بھی ترجمہ کیا گیا ہے نیز اسناد کے رجال کا پہلی مرتبہ میں تعارف بھی کروایا گیا ہے --
( ٨ ) اس شرح کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متن حدیث میں آنے والے رجال کا بھی پہلی مرتبہ میں تعارف کروایا گیا ہے --
( ٩ ) اس شرح کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح فقہی مسائل میں ائمہ اربع کے نظریات کو ان کے دلائل کے ساتھ ذکر کر کے فقہ حنفی کو ترجیح دی گئی ہے --
( ١٠ ) اس شرح کی دسویں خصوصیت یہ ہے اس میں عصری مسائل پر مدلل و تفصیلی بحث کی گئی ہے جس کے نتجے میں دور حاضر کے بہت سے مسائل و الجھنیں دور ہو گئی ہیں --
( ١١ ) اس شرح کی گیارویں خصوصیت یہ ہے اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح مستشرقین کی طرف سے کئے جانے والے اعتراضات کے نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ شافی جوابات دئے گئے ہیں نیز فرقہ باطلہ کا رد ابطال بھی کیا گیا ہے --
( ١٢ ) اس شرح کی بارہویں خصوصیت یہ ہے اس میں عقائد اہل سنت و افکار رضا کو دلائل و براہین سے ثابت کیا گیا ہے نیز سولہویں جلد میں تکفیر اشخاص اربع کی تصدیق بھی کی گئی ہے ----
( ١٣ ) اس شرح کی تیرہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دیگر اردو شروحات کے مقابل کثرت سے کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے تقریبًا پانچ سو کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے جس میں کتب احادیث ، کتب تفاسیر ، کتب شروح احادیث ، کتب فقہ اربع ، کتب اسماء الرجال ، کتب تاریخ و سیر ، کتب لغت وغیرہ شامل ہیں ---
( ١۴ ) اس شرح کی چودہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام اردو و عربی شروحات کے مقابل جس کتاب کا بھی حوالہ دیا گیا تو وہ مکمل حوالہ جات و تخریج و تحقیق کے ساتھ دیا گیا ہے نیز سن طباعت تک درج کیا گیا ہے یہاں تک کہ بخاری شریف کی ہر حدیث کی مکمل تخریج کی گئی ہے کہ یہ حدیث متن کی کتنی تبدیلی کے ساتھ کس حدیث کی کتاب میں درج ہے ---
*نوٹ:-* جو حضرات احادث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کا رجحان رکھتے ہیں وہ لوگ ضرور اس شرح کو اپنے مطالعہ میں رکھے نیز اس کی افادیت و انفرادیت خصوصیت و اہمیت کا لوگوں کو تعارف بھی کروائیں اور زیادہ سے زیادہ عوام و خواص میں عام کریں ---
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ : 07 : جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
نعمتہ الباری حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ اردو زبان میں بخاری شریف کی ایک مایہ ماز شرح ہے جو کہ بخاری شریف کی تمام اردو شروحات میں منفرد خصوصیت و اہمیت کی حامل ہے --
حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ نعمتہ الباری فی شرح صحیح البخاری لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں --
صحیح البخاری کی دستیاب اردو شروحات دیکھ کر مجھے اکثر یہ خیال آتا تھا کہ کتب حدیث میں صحیح البخاری کا جو عظیم الشان مقام ہے اس کے شایان شان اردو میں اس پائے کی کوئی شرح نہیں ہے اس لئے میں چاہتا تھا کہ اردو میں بھی اس کی کوئی ایسی عظیم المرتبہ شرح لکھی جائے جو عربی شروح میں سے شرح ابن بطال ، عمدة القاری ، فتح الباری ، کا عکس جمیل ہو
( ١ ) اس شرح کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بہت ہی تفصیلی و انتہائی ضخیم شرح ہے جو کہ سولہ مجلدات و جہازی سائز کے تقریبًا سولہ ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی ہے --
( ٢ ) اس شرح کہ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تفسیر تبیان القرآن کی طرح نہایت ہی معتدل زبان استعمال کی گئی ہے نہ کہ اتنی پے چیدہ کہ عام ذہنوں کے فہم سے پرے ہو اور نہ ہی اتنی آسان کہ خواص دور ہو جائیں بلکہ یہ شرح عوام و خواص دنوں کے لئے ہی مفید ہے ---
( ٣ ) اس شرح کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تحقیق کے عصری تقاضوں کو مد نظر رکھا گیا ہے --
( ۴ ) اس شرح کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مختلف مسائل پر کتب ستہ اور دیگر کتب احادیث سے اتنی کثرت سے احادیث کوڈ کی گئی ہیں کہ اگر اس شرح کو کتب احادیث کا مجموعہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا --
( ٦ ) اس شرح کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بخاری شریف میں قائم کئے گئے بابوں کی بھی لغوی و شرعی وضاحت و شرح کی گئی ہے بعض مقامات پر مختصر تو بعض مقامات پر تفصیل سے کی گئی ہے --
( ٧ ) اس شرح کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اسناد کا بھی ترجمہ کیا گیا ہے نیز اسناد کے رجال کا پہلی مرتبہ میں تعارف بھی کروایا گیا ہے --
( ٨ ) اس شرح کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متن حدیث میں آنے والے رجال کا بھی پہلی مرتبہ میں تعارف کروایا گیا ہے --
( ٩ ) اس شرح کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح فقہی مسائل میں ائمہ اربع کے نظریات کو ان کے دلائل کے ساتھ ذکر کر کے فقہ حنفی کو ترجیح دی گئی ہے --
( ١٠ ) اس شرح کی دسویں خصوصیت یہ ہے اس میں عصری مسائل پر مدلل و تفصیلی بحث کی گئی ہے جس کے نتجے میں دور حاضر کے بہت سے مسائل و الجھنیں دور ہو گئی ہیں --
( ١١ ) اس شرح کی گیارویں خصوصیت یہ ہے اس میں بھی تفسیر تبیان القرآن کی طرح مستشرقین کی طرف سے کئے جانے والے اعتراضات کے نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ شافی جوابات دئے گئے ہیں نیز فرقہ باطلہ کا رد ابطال بھی کیا گیا ہے --
( ١٢ ) اس شرح کی بارہویں خصوصیت یہ ہے اس میں عقائد اہل سنت و افکار رضا کو دلائل و براہین سے ثابت کیا گیا ہے نیز سولہویں جلد میں تکفیر اشخاص اربع کی تصدیق بھی کی گئی ہے ----
( ١٣ ) اس شرح کی تیرہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دیگر اردو شروحات کے مقابل کثرت سے کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے تقریبًا پانچ سو کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے جس میں کتب احادیث ، کتب تفاسیر ، کتب شروح احادیث ، کتب فقہ اربع ، کتب اسماء الرجال ، کتب تاریخ و سیر ، کتب لغت وغیرہ شامل ہیں ---
( ١۴ ) اس شرح کی چودہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام اردو و عربی شروحات کے مقابل جس کتاب کا بھی حوالہ دیا گیا تو وہ مکمل حوالہ جات و تخریج و تحقیق کے ساتھ دیا گیا ہے نیز سن طباعت تک درج کیا گیا ہے یہاں تک کہ بخاری شریف کی ہر حدیث کی مکمل تخریج کی گئی ہے کہ یہ حدیث متن کی کتنی تبدیلی کے ساتھ کس حدیث کی کتاب میں درج ہے ---
*نوٹ:-* جو حضرات احادث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کا رجحان رکھتے ہیں وہ لوگ ضرور اس شرح کو اپنے مطالعہ میں رکھے نیز اس کی افادیت و انفرادیت خصوصیت و اہمیت کا لوگوں کو تعارف بھی کروائیں اور زیادہ سے زیادہ عوام و خواص میں عام کریں ---
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ : 07 : جولائی 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
نعمتہ الباری حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ اردو زبان میں بخاری شریف کی ایک مایہ ماز شرح ہے جو کہ بخاری شریف کی تمام اردو شروحات میں منفرد خصوصیت و اہمیت کی حامل ہے --
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=851876405430578&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دانائی والی باتیں ، داناؤں کی سمجھ میں آتی ہیں اور وہی اِنھیں درست طریقے سے سمجھتے ہیں ۔
اور
جن کی ذہانت بیدار نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اگر حلیم الطبع ہوں تو ایسی باتوں پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ، اور جھگڑالو طبیعت کے مالک ہوں تو ایسی باتوں کا الٹا سیدھا مطلب نکال کر فتنے فساد کو نئی راہ دیتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3198516773761823&id=100008105947430
اور
جن کی ذہانت بیدار نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اگر حلیم الطبع ہوں تو ایسی باتوں پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ، اور جھگڑالو طبیعت کے مالک ہوں تو ایسی باتوں کا الٹا سیدھا مطلب نکال کر فتنے فساد کو نئی راہ دیتے ہیں ۔
✍️لقمان شاہد
2-7-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3198516773761823&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM