🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
صلح کلی کی تعریف:-
وہ شخص ہےجو ہر مذہب و ملت اور دوست دشمن سے یکساں سلوک رکھے
اور فتاوی شارح بخاری جلد سوم صفحہ نمبر155
صلح کلی وہ ہے جو سارے مذاہب کوصحیح مانےاور جو باطل پرستوں پراحکام شرعیہ ہیں ان کو تسلیم نہ کرے.
۔ لفظ سنی ۔اہلسنت ۔وجماعت کا مخفف ہے جب مذہب کے تعلق سے یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد اہلسنت وجماعت ہی ہوتا ہے ۔اور اہلسنت وجماعت اسے کہتے ہیں جو ۔ما انا علیہ واصحابی۔کا مصداق ہو زبان ومکان اور حالات کے اختلاف سے سنی کی تعریف مخلتف ہوتی رہی ہے ۔
امام الائمہ کشف الغمہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ۔ما انا علیہ واصحابی ۔کے ساتھ ۔تفضل الشیخین علی الختنین۔ یعنی سیدنا ابوبکر صدیق ۔اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کو حضرت سیدنا عثمان غنی اور سیدنا مولی علی رضی اللہ تعالی عنہما ۔سے افضل وبرتر ماننا بھی اہلسنت وجماعت کی پہچان اور شعار قرار دیا ۔اسی طرح تیرہویں صدی ہجری کے اخیر میں اور چودھویں صدی ہجری کے شروع میں باطل فرقوں نے نئے نئے فتنوں کے ساتھ سر اٹھایا تو بر صغیر کے علماء کے علاوہ حرمین شریفین اور حج کے مبارک موقع سے آئے ہوئے اکناف عالم کے علمائے اکرام ومفتیان عظاالاحقر لوار یں ان کے حلقوم کا ہار بن گیئں اور اب سنی کی تعریف ۔ما انا علیہ واصحابی ۔کا مصداق ہونا ۔تفضل شیخین کا معتقد ہونا یا ایصال ثواب
کا قائل ہونا ہی نہ رہی ۔بلکہ ان سب باتوں کے ساتھ اس امر کا بھی اضافہ ہوگیا کہ ان کے باطل فرقوں کے اقوال کفریہ خبیثہ پر اطلاع ہو جانے کے بعد انہیں کافر اور دین اسلام سے خارج جاننا ۔ان کے ساتھ اسلامی اخوت ومرعات کو یکسر ختم کردینا ۔سنی ہونے کے لئے ضروری ہے چنانچہ حسام الحرمین علی منھرالکفر والمین۔کے ص42میں ہے ۔کی غلام احمد قادیانی۔رشید احمد گنگوہی ۔اور جو بھی ان کے پیروکار ہوں جیسے خلیل احمد انبیٹھوی اور اشرفعلی تھانوی وغیرہم ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں نہ شک کی محال ۔بلکہ جو ان کے احوال کو جان کر ان کے کفر میں سک کرے بلکہ انہیں کافر کہنے میں توقف کرے اس کے کفر میں شبہ نہیں ۔
اور اب ہمارے زمانے میں کچھ لوگوں نے تبلیغ دین کے نام پر بد عقیدگی کا پرچار شروع کیا ہے اور کچھ لوگوں نے اصلاح امت اور اتحاد ملت کے نام پر باطل فرقہ کے لیڈروں کو اتحاد کی دعوت دی ہے اور صلح کلیت پر گٹھ جوڑ کرنے چلے ہیں کہ اب ہم ایک دوسرے پر تکفیر وتفسیق کے فتوے نہیں لگائیں گے ۔نیز ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑہیں گے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں گے وغیرہ وغیرہ ۔
یہ فرقہائے متنوعہ جدیدہ جیسے جدید وہابیت ۔دیوبندیت یا صلح کلیت وغیرہ کا نام دیا جاسکتا ہے
مذکورہ بالا مختصر وضاحت کی روشنی میں آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کی دوغلے باتیں کرنے والے کو صلح کلی کہا جاتا ہے
واللہ تعالی اعلم ورسولہ
*عقائد اھل سنت کتاب و سنت کی روشنی میں*
_اللہ عزوجل کےحقیقی عارفوں کابیان_
--------------قسط1---------------------
📝 حسن نوری نپھاڑ ناسک مہاراشٹر +918485880123
------------------------------------------
قارئین کرام :: ان شاء اللہ جلد ہی
( *اکابرین وہابیہ ودیابنہ اپنے اصول و فتاوی کی روشنی میں کافر ہیں*) نامی مضمون کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے بحمدہ تعالٰی اب تک 64 اقساط اس عنوان پہ لکھے جاچکے ہیں جنہیں ان اقساط کا مطالعہ کرنا ہو وہ
*گوگل پہ* سرچ کریں یا یہ بلاگ وژٹ کریں http://islaheaqaid786.blogspot.in یا *حسن جمال مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم* یا *گوگل پلس* پہ
https://plus.google.com/communities/104075053886964143571
*صدائے حق* جوائن کریں
-------------------------------------
*امام ابوشکور سالمی علیہ الرحمہ عارف کی تعریف یوں بیان فرماتے ہیں کہ*
_معلوم ہونا چاہیے کہ در حقیقت اللہ عزوجل کے عارفین وہ ہیں جو بغیر ادراک و احاطہ کے اس کی معرفت میں کامل ہیں_
اور اس معرفت سے انکی مراد یہ ہے کہ ذات کو پہچاننا اس لیے کہ *معرفت کی دو قسمیں ہیں*
1) معرفت ذات
2) معرفت صفات
*امام ابوشکور سالمی کہتے ہیں کہ*
_ہمارا اس پر اجماع ہے کہ ذات باری تعالٰی کی معرفت اور پہچان میں تحیر اور نقصان جائز اور ممکن نہیں_
*معرفت صفات کی تین قسمیں ہیں*
ایک وہ صفات ہیں جو ربوبیت کے مخصوص اوصاف سے تعلق رکھتی ہیں کہ ان میں کسی بھی حال میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا
*صفات میں تحیر توحید ہے اور ذات میں تحیر کفر ہے*
بعض متقدمین سے مروی ہے کہ
ذات میں تحیر کفر ہے اس سے انکی مراد اثبات ذات ہے اس لیے کہ جو اثبات ذات میں تحیر و شک کرے وہ کافر ہے
اور انکا یہ کہنا کہ
صفات میں تحیر و شک توحید ہے یہ مطلقاً نہیں فرمایا

*اشعریہ کہتے ہیں کہ*
_معرفت کی حقیقت یہی ہے کہ معرفت میں حیرت و عجز ہو اس لیے کہ معرفت میں ادرک و احاطہ نہیں ہوسکتا_

*مبتدعین کا نظریہ*
_بعض مبتدعین نے کہا اور وہ مصوریہ ہیں کہ جبتک کوئی صورت دل میں متصور نہ ہو معرفت صحیح نہیں_
کہتے ہیں تعبد و عبادت جب صحیح ہوسکتی ہے کہ معبود کہ صورت سامنے ہو اور یہ کفر ہے

*اللہ عزوجل وہم صورت و خیال کا خالق ہے اس معنی کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ*

_صفات میں تفکر کرو ذات میں تفکر نہ کرو اس لیے کہ ذات میں تفکر ماہیت و کیفیت کو واجب کرتا ہے اور جو خدا کو ماہیت و کیفیت کے ساتھ مانے وہ کافر ہے_

*معرفت کسے کہتے ہیں یا وہ کیا ہے؟*
_اگر سوال کیا جائے معرفت کیا ہے تو ہم کہیں گے کہ حادث و قدیم میں تمیز کرنا_
*معرفت کا ایک اور مطلب ہے*
بعض کہتے ہیں
_کہ صانع کی معرفت اس وقت صحیح ہے کہ اپنے نفس و روح کو پہچانے اور جو شخص اپنے روح و نفس کو نہ پہچانے اس پر صانع کا پہچاننا واجب نہیں اور یہ کفر ہے_
*معرفت کا تیسرا معنی*
اور بعض نے کہا جو چیز مدرک و محاط نہ ہو اسکا پہچاننا صحیح نہیں اور یہ بھی کفر ہے
(اس لیے کہ اللہ مدرک و محاط نہیں مگر پہچاننا فرض ہے)
*ابھی جاری ہے*
ماخوذ :: _عقائد اھل سنت '' باب ایمان و معرفت کا بیان ص 209 از امام ابوشکور سالمی علیہ الرحمہ_
4/01/2017
---------------------------------------------
عقائد اھل سنت و دفاع اہلسنت اور رد وہابیہ کے لیے اس بلاگ کو وژٹ کریںhttp://islaheaqaid786.blogspot.in
یا گوگل پلس پہ صدائے حق جوائن کریں https://plus.google.com/communities/104075053886964143571
فیس بک یوزر اس گروپ کو لائک کریںhttps://www.facebook.com/SADAEHAQE786/