🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
مولیٰ کریم!اخلاصِ عمل کے ساتھ غریب پروری کا جذبہ عطا فرمائے

’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کے افتتاح پر جیلانی میاں کا دعائیہ اظہار خیال

اشاعتی وعلمی امور کے ساتھ ہی نوری مشن سے فلاحی خدمات کا سلسلہ دراز

مالیگاؤں: مولیٰ کریم! اِس شفا خانے سے بیماروں کو شفا یابی عطا فرما۔ تاج الشریعہ کلینک کے ذریعے غریبوں، پریشاں حالوں کی دُشواریاں دور فرما۔ فلاحی خدمات کے ذریعے نوری مشن نے جس کام کو شروع کیا ہے اس میں خیر و برکت اور فیض عطا فرما۔ اخلاصِ عمل اور حسنِ نیت کے ساتھ غریبوں کے لیے کام کا جذبہ عطا فرما۔ اس طرح کے دعائیہ کلمات کے ساتھ شہزادۂ غوث اعظم حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں (ممبئی) نے ’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کا افتتاح فرمایا۔ گولڈن نگر پاور ہاؤس کے سامنے قائم اس اِمدادی دواخانہ کا افتتاح ۲۵؍ جون بعد نمازِ جمعہ جیلانی میاں کے دُعا سے عمل میں آیا۔ اس موقع پر آپ نے کہا کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی اور شریعت مصطفیٰ ﷺ پر استقامت کا درس دیا۔ یہاں گلزار خان صاحب نے جیلانی میاں کا استقبال کیا۔ واضح رہے کہ نوری مشن کے ذریعے ۲۰۱۸ء سے ہی انفرادی و اجتماعی سطح پر طبی معاونت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کارواں کو ’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کی شکل میں آگے بڑھایا گیا ہے۔ ازیں قبل مولانا عبیداللہ خان مصباحی (استاذ: جامعہ حنفیہ سنیہ) نے فرمایا کہ ہمیں صحابۂ کرام و سلفِ صالحین کی زندگیوں سے یہ درس ملتا ہے کہ غریبوں کی اعانت کریں۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ان کی مدد کریں۔ حتی المقدور جو کچھ نیک کام ہو سکے وہ انجام دیں۔ حضور تاج الشریعہ نے تصلبِ دینی کا درس دیا اور غریب پروری کا بھی درس دیا۔ آپ سے محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ آپ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس طرح کے کام انجام دیے جائیں۔ نوری مشن نے اشاعتی، علمی و فلاحی رُخ سے مثالی خدمات انجام دیں۔ عرسِ حضور تاج الشریعہ کی نسبت سے افتتاحی تقریب کا آغازحافظ عبدالوکیل رضوی کی تلاوت سے ہوا۔ حافظ محمد اعجاز نے نعت خوانی کی۔ اس موقع پر معززین میں سرکردہ شخصیات موجود تھیں جن میں ڈاکٹر عاطف خان، ڈاکٹر محمد زاہد، انجینئر عابد، غلام مصطفیٰ رضوی وغیرہم شامل ہیں۔ جب کہ انتظامی امور کی انجام دہی میں معین پٹھان رضوی، فرید رضوی، یاسین رضا، محسن پٹھان، عبدالحق مالیگ، شہزاد برکاتی، شیخ شاداب رضوی، سعد رضوی، آصف رضوی، عدنان رضوی، زید رضا شامل ہیں۔

ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
27 جون 2021ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*اقوالِ حضور اشرف الفقہاء*
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/227676512520877/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

خلیفۂ حضور مفتی اعظم حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی خدمات کی کئی جہتیں ہیں۔ آپ شیریں سخن تھے۔ واعظِ خوش بیاں تھے۔ مسند افتا کی زینت تھے۔ آپ کے اقوال انقلاب بداماں ہوتے- باتیں دل میں اُتر جاتیں۔ جس علاقے میں جاتے؛ گلشنِ اہلِ سُنّت میں بہار آجاتی۔ عشقِ رسول ﷺ کو فروغ ملتا۔ گستاخوں سے دوری پیدا ہوتی۔ گویا آپ اقبالؔ کے اِس شعر کے مصداق تھے؎

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

آپ کا حرف حرف قندیل ہوتا اور لفظ لفظ خوشبو۔ بولتے تو موتی جھڑتے۔ مسکراتے تو عقیدت فروزاں ہوتی۔ گویا ہوتے تو ایمان کو تازگی ملتی۔ ان کی محافل بھی بڑی پاکیزہ ہوتیں۔ ان کا کردار و گفتار ایک تھا۔ ان کا تقویٰ ہر ہر ادا سے عیاں تھا۔ حضور مفتی اعظم علامہ مصطفیٰ رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی تقویٰ شعار زندگی سے انھیں خاص فیض ملا تھا۔ جہاں جاتے بنجر زمیں باغ و بہار ہو جاتی۔ ان کی محفل میں جو بیٹھتا؛ علم کے موتی لے کر اُٹھتا۔ کتنے ہی بدعقیدہ تائب ہوئے۔ کتنے ہی مشرکین ایمان کی دولت سے باریاب ہوئے۔ ایک ایک قول زندگی میں انقلاب برپا کر دیتا۔

مجھے آج علی الصبح ایک عزیز نے کہا کہ حضور اشرف الفقہاء کے اقوالِ زریں مرتب کر کے عنایت کریں۔ ہجومِ کار کے باوصف حضور اشرف الفقہاء سے نسبت و تعلق کا تقاضا تھا کہ کچھ لکھ دیا جائے تا کہ قسمت کا چمن مہک اُٹھے۔ ویسے بھی راقم غلام مصطفیٰ رضوی پر حضور اشرف الفقہاء کی نوازشات اتنی کہ ’’سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے‘‘ تمام باتیں لکھی جائیں تو صفحات پُر ہو جائیں اور بات ادھوری رہ جائے۔ بہر کیف چند اقوال اس امید پر نقل کر رہا ہوں کہ حضور اشرف الفقہاء کے ان نصائح پر عمل کر کے اپنے عمل کی راہ کو روشن کریں گے۔

*اقوالِ حضور اشرف الفقہاء:*
(1) شریعت کی پیروی میں نجات ہے۔
(2) عزت! مصطفیٰ ﷺ کی گلی میں ملے گی۔ عزت! اللہ کے یہاں ہے، عزت! اللہ کے لیے اور اس کے رسولﷺ کے لیے اور سچے مومنین یعنی غوث و خواجہ اور اولیائے اسلام کے لیے ہے؛ اور ان ہی کے دامن سے وابستگی میں مسلمانوں کی عزت ہے۔
(3) صوفیا کی اصل تعلیمات کی تعبیری اصطلاح مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے۔ صوفی ازم وہی ہے جو عقیدے کی سلامتی کے ساتھ ہو۔ جہاں ملاوٹ نہ ہو بلکہ احکامِ شریعت کی بالادستی ہو۔
(4) قرآن شفا و تندرستی کا منبع ہے۔ قرآن سے رجوع نے مسلمانوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
(5) عقیدہ، احترامِ رسولﷺ اور عبادت... یہ اسلام کے تین ایسے پوائنٹ ہیں کہ جنھیں اپنا لیا جائے تو زندگی کامیاب ہو جائے۔
(6) پابندیِ وقت سے کئی رُخ سے کامیابی پا سکتے ہیں۔ جلسوں کا معیار بھی اِس سے بلند ہوگا۔ زیادہ دیر تک جلسوں کے جاری رکھنے سے فجر میں بعض لوگ کوتاہی کر جاتے ہیں، جلسے وقت پر شروع کر دینے اور وقت پر ختم کر دینے سے نماز اور کاروبار سبھی میں پابندی ہوتی ہے۔
(7) عقائد کی حفاظت کیجیے اور اعمال و عبادات کو بچائیے۔ نمازوں کی پابندی کیجیے اور مسلکِ امام احمد رضا جو عظمت و ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کا نام ہے؛ پر کاربند رہیے۔
(8) نیت اور مقصد نیک ہونا چاہیے۔ بچو! حصولِ علمِ حدیث میں خلوصِ نیت رکھو گے تو بخاری شریف کا فیض حاصل ہوگا۔
(9) مسلک اعلیٰ حضرت کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں اور امام اہلسنّت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں-
(10) موت کی یاد آخرت کی نعمتوں کو یاد دلاتی ہے- موت کی یاد کرو ان شاء اللہ خشیت پیدا ہو گی اور دُنیا سے بے نیاز ہو جاؤ گے۔
(11) پابندیِ شریعت کے لیے مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت ضروری ہے۔
(12) قرآن نے اللہ سے ڈرنے اور تقویٰ کی روِش اختیار کرنے کی تعلیم دی۔
(13) نبی اکرمﷺ سے سچی محبت رکھنے والا سچا ہے۔
(14) زرخیز زمین ہی برکت لاتی ہے اس لیے اپنی نسبت بنجر زمینوں سے نہیں بلکہ اولیائے کرام کی زرخیز بارگاہوں سے استوار کریں،
(15) حسینیت حفاظتِ شریعت کا نام ہے۔
(16) علم و تقویٰ سے سیرت وکردار سنورتے ہیں۔
(17) مساجد کو جبینوں سے آباد کرو۔
(18) دل و نگاہ میں عظمت رسول ﷺ کا نقش جمیل ہوگا توعبادت مقبول ہوگی۔
(19) اسلافِ کرام نے عقیدے کی سلامتی کا پیغام دیا-
(20) مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے اسلاف کے طریقوں پر چلیں-

ان پیغامات میں مختصر جملوں کیسی کیسی نصیحتیں مستور ہیں۔ کاش ہم اپنے اسلاف کی تعلیمات و اقوال کو پڑھیں، سمجھیں، عمل کے گلدستے میں آویزاں کریں۔ یقیناً صحنِ حیات مشک بار ہوگا۔
٭ ٭ ٭

[ماخوذ:پیغام فکر و عمل:خطباتِ حضور اشرف الفقہاء کے آئینے میں، از غلام مصطفیٰ رضوی، نیٹ ایڈیشن ۲۰۲۰ء]
29 جون 2021ء
+91 9325028586
noorimission92@gmail.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
نبی کی کہانی سناؤ !!

غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

رات کو سونے سے پہلے ہمارے بچے زنیرہ فاطمہ اور محمد(اریب مصطفیٰ)یہ پیاری سی فرمائش کرنا نہیں بھولتے؛

"ابو، نبی کی کہانی سناؤ"

صدیوں سے ہمارے معاشرے میں بچوں کو کہانی سنانے کی رسم چلی آرہی ہے، شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچوں کو کہانی نہ سنائی جاتی ہو، یا بچے گھر والوں سے کہانی سنانے کی فرمائش نہ کرتے ہوں، کیوں کہ جب تک کہانی نہ سنائی جائے بچوں کو نیند نہیں آتی:

ایک ہاتھی، ایک راجہ، ایک رانی کے بغیر
نیند بچوں کو نہیں آتی، کہانی کے بغیر

___کہانیاں ہماری تہذیب وثقافت کا اہم حصہ ہیں۔دنیا کی ہر تہذیب میں قصہ گوئی کی روایت موجود رہی ہے۔عام طور پر کہانی سنانے کی ذمہ داری دادا دادی یا نانا نانی کے حصے میں آتی ہے۔ایک تو ان کے پاس فرصت کی کمی نہیں ہوتی دوسرے بچوں کے مزاج سے ان کی ہم آہنگی بھی جلد ہوجاتی ہے۔کبھی کبھی یہ ذمہ داری خالہ/پھوپھی اور ماں باپ بھی نبھا لیا کرتے ہیں۔

عموماً کہانیاں بچوں کو بہلانے کے لیے سنائی جاتی ہیں لیکن کہانیاں سنانے کا بنیادی مقصد بچوں کی تربیت اور ان کی ذہنی نشوونما ہونا چاہیے، تاکہ بچے کھیل کھیل میں ان چیزوں کو سیکھ جائیں جو ان کی فکرو شخصیت کا لازمی حصہ بن جائیں تاکہ جب وہ شعور سنبھالیں تو یہ چیزیں ان کی طبیعت میں رچ بس چکی ہوں۔مشہور مفکر ارسطو کا کہنا تھا؛
"ادب اور کہانیاں صرف انسانوں کی تفریح کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کا سبق سکھانے اور قاعدے قانون بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔"

عام طور پر ہمارے معاشرے میں بچوں کو پریوں، راجہ، رانی، بھوت پریت اور فرضی کہانیاں سنانے کا رواج زیادہ ہے، مگر اسلام نے اس حوالے سے بھی ہماری اچھی رہنمائی کی ہے،اللہ تعالیٰ نے قصہ گوئی کو فکر و تدبر اور عبرت ونصیحت کا ذریعہ قرار دیا ہے؛
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ(يوسف:١١١)
"بیشک ان کے قصوں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں"

فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ(الاعراف:١٧٦)
"تو تم نصیحت(دینے والی کہانی) سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں۔"

یعنی بچوں کی ذہنی صلاحیت کے مد نظر ایسے قصے کہانیاں سنائی جائیں جن میں واقعات کے ساتھ اعتقادی واصلاحی فکر، نظریاتی تبلیغ اور معاشرتی اچھائیوں کا پہلو بھی شامل ہو تو اس سے بچوں کی ذہنی تفریح بھی ہوگی اور کہانی کہانی میں اخلاقی اور نظریاتی طور پر بھی پختہ ہوتے جائیں گے۔

کہانی سنانے کا فائدہ

بچے جب دنیا میں آتے ہیں تو ان کا دل ودماغ ہر نقش وصورت سے خالی اور کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔وہ اپنے آس پاس کا ماحول دیکھتے ہیں اور قریب کی آوازوں کو سنتے ہیں، دیکھ کر اور سن کر ہی وہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق بچے کسی بھی چیز کو تین طرح سے سیکھتے ہیں:
1، دیکھ کر
2، سن کر
3،حرکت کرکے

امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"بچہ والدین کے پاس امانت ہے، اس کا پاک دل ایک ایسا جوہرِ نایاب ہے جو ہر نقش و صورت سے خالی ہے لہٰذا وہ ہر نقش کو قبول کرنے والا اور جس طرف اسے مائل کیا جائے اس کی طرف مائل ہو جانے والا ہے۔اگر اسےاچھی باتوں کی عادت ڈالی جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کی جائے تو اسی پر اس کی نَشْوو نَما ہوتی ہے،جس کے باعث وہ دُنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جاتا ہے۔(احیاء العلوم)

یعنی بچے کی ذہنی ڈوائس پوری طرح بلینک(Blank) ہوتی ہے، اس کے آس پاس جیسا پروگرام ایکٹو ہوتا ہے بچے کی میموری میں ویسا ہی پروگرام انسٹال ہوجاتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچے کے ارد گرد ایسا ماحول بنائیں جو اس کی ذہنی نشوونما کو اچھی طرح ڈیولپ کرے تاکہ بچہ کی شخصیت نکھر کر سامنے آئے۔

جرنل آرکائیوز آف ڈیزیز ان چائلڈ ہڈ(Journal Archives of Diseases in childhood) نامی میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کہانیاں بچے میں سوچنے کی صلاحیت کو مہمیز کرتی ہیں جبکہ ان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔علاوہ ازیں بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ان کی زبان بھی بہتر ہوتی ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کہانیاں سننے کے برعکس جو بچے رات سونے سے قبل ٹی وی دیکھتے ہیں، یا اسمارٹ فون، کمپیوٹر یا ویڈیوز گیمز کھلتے ہیں انہیں سونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

__بچوں کی تربیت کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہماری رہنمائی فرماتا ہے:
أَدِّبُوا أَولَادَكُم على ثَلاثِ خِصَالٍ: حُبِّ نَبِيِّكُم، وَحُبِّ أَهلِ بَيتِهِ، وَقِرَاءَةِ القُرآنِ، (الجَامِعِ الصَّغِيرِ، وأَخرَجَهُ الدَّيلَمِيُّ في الفِردَوسِ)

"آقائے کریم ﷺفرماتے ہیں:اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ، اپنے نبی کی محبت، اہل بیت کی محبت اور قرآن کی محبت۔"

صالحین کا قول ہے:
علم ولدك القرآن والقرآن سيعلمه كل شئی۔

"اپنی اولاد کو قرآن سکھاؤ قرآن اسے سب کچھ سکھا دے گا۔"
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
__کئی بار لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو کس طرح سکھایا جائے؟ ابتداً میں بھی یہی سوچا کرتا تھا مگر پھر سوچا کہ جب ہم بچوں کو گود میں کِھلاتے ہیں یا گلے سے لگا کر تھپ تھپاتے ہیں تو "میرا گڈا کتنا پیارا، میرا بابو کتنا سوہنا، میرے مُنے سَو جا، میرا راجہ کتنا اچھا" جیسے جملے ضرور دہراتے ہیں تو اس وقت انہیں قرآن کی تلاوت یا نعت مصطفیٰ سنانے میں کیا پریشانی ہے؟بس اس کے بعد فقیر نے اپنے بچوں کو قرآن/نعت سنانا معمول بنا لیا۔کئی بار تو ایسا ہوتا کہ رات کے کسی پہر بچے رونا شروع کرتے، ان کی والدہ جب خاموش کراتے تھک جاتیں تو ہمیں اٹھا کر بچے سونپ دیتیں اور خود فری ہوجاتیں، اس وقت بچوں کو سورہ فاتحہ ، سورہ اخلاص ، سورہ یٰسین وغیرہ سنانا شروع کردیتا اور بچے پر سکون ہوجاتے، سنتے سنتے ہی سو جایا کرتے تھے۔جب بچوں نے بولنا شروع کیا تو فقیر نے حضور نبی اکرم ﷺ کے سیرت پاک کے چنندہ واقعات کہانی کے طور پر سنانا شروع کیے، اس ضمن میں حضور کی بچوں سے محبت، حضرت عائشہ کی سوئی کھونے کا واقعہ، ہرنی کے جال میں پھنسنے کا واقعہ، بچوں کے اذان کی نقل اتارنے کا واقعہ، صحابی کے اونٹ کا واقعہ، جیسے درجنوں واقعات سنا چکا ہوں اور لگاتار سناتا رہتا ہوں، کچھ واقعات لگاتار دہراتا بھی ہوں اس کا نتیجہ یہ آیا کہ اب بچے خود فرمائش کرتے ہیں۔دو روز پہلے میں نے بڑے شہزادے محمد میاں سے کہا کہ آج آپ مجھے نبی کی کہانی سناؤ۔
مجھے بے حد خوشی ہوئی جب ہمارے ڈھائی سالہ بیٹے نے اپنے انداز میں ہرنی کا پورا واقعہ سنا ڈالا، یعنی بچے کو جو سنایا گیا وہ ضائع نہیں گیا بلکہ اس کے دل ودماغ میں پیوست ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے اب یہ فرمائش بھی کرنے لگے ہیں کہ:
"ابو، نبی کے شہر لیکر چلو!

اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہی نہیں یقین کامل ہے کہ ہمارے بچوں کی خواہش ایک دن ضرور بالضرور حرمین شریفین کی زیارت کا موقع فراہم کرے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

کہانی سنانے کے طریقے

بچے چونکہ تشکیلی دور میں ہوتے ہیں اس لیے ادیبانہ اور فلسفیانہ انداز کو بالکل نہیں سمجھ پائیں گے اس لیے انہیں سمجھانے کے لیے سادہ اور عام فہم الفاظ اور انداز کی ضرورت ہے، چند طریقے جو مفید ثابت ہوسکتے ہیں:
🔸 سادہ الفاظ استعمال کریں، تاکہ بچے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

🔸 فطری لہجے میں ہی کہانی سنائیں، بناوٹی اور مصنوعی انداز اختیار نہ کریں۔

🔸 بچے کے تاثرات اور ہاؤ بھاؤ پر نظر رکھیں کہ وہ توجہ سے سن رہا ہے کہ نہیں، تاکہ اس کی دل چسپی کا پتا چل سکے۔

🔸 بچے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہانی کے الفاظ و انداز میں ہلکی پھلکی تبدیلی بھی کرتے رہیں تاکہ دل چسپی بنی رہے۔

🔸کہانی کے اختتام پر اس کا خلاصہ یا کہانی میں موجود سبق ضرور بتائیں۔

رات کو سونے سے قبل بچے کے ساتھ کچھ وقت ضرور گزاریں اس سے بچوں اور والدین کے تعلق مضبوط ہوتے ہیں۔اس وقت والدین تمام بیرونی سرگرمیوں اور دیگر افراد سے دور صرف اپنے بچے کے ساتھ ہوتے ہیں جو ان میں تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے، ایسے موقع پر والدین موبائل، ٹی وی میں نہ لگے رہیں، بچوں کے ساتھ کھیلیں، بات کریں، ہنسیں اور انہیں ایسی کہانیاں سنائیں جو ان کی تفریح کے ساتھ شخصیت سازی بھی کریں، بہ حیثیت والدین یہ ہماری ذمہ داری اور بچوں کا حق ہے۔

١٨ ذوالقعدہ ١٤٤٢ھ
30 جون 2021 بروز بدھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تفسیر_تبیان_القرآن_کی_خصوصیات_و_انفرادیت

تفیسر تبیان القرآن حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ ایک منفرد تفسیر ہے تبیان القرآن دور حاضر کی نہایت جامع اور کامل تفسیر ہے --

علامہ صاحب اپنی تفیسر کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ تبیان القرآن لکھنے کا داعی اور باعث یہ تھا کہ شرح مسلم لکھنے کے دوران جب آیات آتیں میں ان کے تراجم دیکھتا تو میں نے محسوس کیا کہ قرآن مجید کے ترجمے کا حق کسی نے ادا نہیں کیا چنانچہ میں نے تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا --

( ١ ) اس تفیسر کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آیات کا لفظی ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے

( ٢ ) اس تفسیر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جن آیات میں احکام اور مسائل کا ذکر ہے ان کی تفسیر میں ائمہ اربعہ کے فقہی نظریات کا ذکر ان کے دلائل کے ساتھ کرنے کے بعد فقہ حنفی کو ترجیح دی گئی ہے نیز بعض مقامات پر ائمہ اربع کے ساتھ ساتھ دیگر مذاھب کے بھی فقہی نظریات کا ذکر کیا گیا ہے

( ٣ ) اس تفسیر کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام مذاھب کے نظریات کا ذکر ان کی اصل کتب سے مکمل حوالہ جات کے ساتھ کیا گیا ہے یہاں تک کہ سن طباعت تک درج کیا گیا ہے

( ۴ ) اس کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ دیگر اردو و عربی تفاسیر کے مقابل اس تفسیر میں کثرت سے احادیث پاک و اثار کو ان کی مکمل تخریج و حوالہ جات کے ساتھ کوڈ کیا گیا ہے

( ۵ ) اس تفسیر کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عصر حاضر کے تمام اختلافی مسائل نیز جدید مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے

( ٦ ) اس تفسیر کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بعض اختلافی اعتقادی و فقہی مسائل میں ماضی قریب کے مفکرین کی آرا کو بھی نقل کیا گیا ہے بعدہ مصنف نے اپنے موقف کو دلائل سے ثابت کیا ہے

( ٧ ) اس تفسیر کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی طرف سے کئے جانے والے قدیم و جدید اعتراضات کے شافی جوابات دئے گئے ہیں مثلًا تعدد ازواج ' عام مسلم کو چار نکاح کی اجازت تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سے زائد نکاح کیوں کئے ، اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی ، حلالہ ، وغیرہا مسائل پر نقلی و عقلی دلائل سے شافی جوابات دئے گئے ہیں --

( ٨ ) اس تفسیر کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں معمولات اہل سنت و افکار رضا کو دلائل و براہین سے ثابت کیا گیا ہے مثلًا علم غیب مصطفے ، اختیارات مصطفے ، ندائے یا رسول اللہ ، عقیدہ توسل ، عقیدہ شفاعت ، حیات النبی ، تعویذات کے ذریعہ علاج وغیرہ مسائل کو دلائل سے ثابت کیا گیا نیز فرقہ باطلہ کا رد بلیغ بھی کیا گیا ہے --

( ٩ ) اس تفسیر کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہایت ہی معتدل زبان استعمال کی گئی ہے نہ کہ اتنی پے چیدہ کہ عام اردو داں طبقے کے سمجھ سے باہر ہو اور نہ ہی اتنی آسان کہ خواص دور ہو جائیں بلکہ یہ تفسیر عوام و خواص دونوں کے لئے مفید ہے

( ١٠ ) اس تفسیر کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں چار سو سے زائد کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے جس میں کتب سماویہ ، کتب تفسیر ، کتب حدیث ، کتب شروح احادیث ، کتب فقہ اربعہ ، کتب فرقہ باطلہ , کتب اسماءالرجال ، کتب تاریخ و سیر ، کتب اصول فقہ ، کتب عقائد و کلام ، کتب شیعہ ، کتب لغت وغیرہ شامل ہیں --

( ١١ ) بنیادی طور پر تفسیر تبیان القرآن تمام تفاسیر کا عطر تحقیق و تفسیری انسائکلوپیڈیا ہے جو کہ بارہ مجلدات میں پھیلا ہوا ہے ہر جلد ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے --

محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )

جاری کردہ :27: جون 2021

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=846388715979347&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیارا گاؤں

🔹 گاؤں کی زندگی شہر کی بنسبت بہترین اور پرسکون ہوتی ہے۔ ہرچند کے یہاں شہر کی طرح سہولیات میسر نہیں ہوتی، مگر گاؤں کی آب و ہوا، سادگی، اپنائیت، معصومیت، ان سب چیزوں کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔

🔹 گاؤں کی زندگی مختلف قسم کی آلودگی مثلا صوتی آلودگی، بصری آلودگی، اور ہوا کی آلودگی سے پاک و صاف ہوتی ہے۔ گاؤں کی صبح و شام کا خوبصورت منظر دیکھ کر خوشی وامان کی کیفیت طاری ہوتی ہے، اور ہم اپنے فطرت کے بہت قریب ہوتے ہیں۔

🔹 گاؤں کی زندگی میں ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، گرم دل اور ہر وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں ۔

🔹 اخلاق ،محبت، ہمدردی، اخلاص، صبروشکر ،تعاون گاؤں کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔

مگر افسوس یہ سب باتیں ماضی کا حصہ بنتا جارہا ہے۔
اور دنیا کی موجودہ تیز رفتار ترقی کی وجہ سے ہر چیز میں تبدیلی آرہی ہے۔
اور ہم اچھائی کو کم اور خرابی کو زیادہ قبول کر رہے ہیں ۔اور وہ باغ و بہار سب ختم ہوتا جا رہا ہے۔

🔹 زیر نظر یہ تصویر ہمارے گاؤں نان پور (ضلع سیتامڑھی، بہار) کی ہے اور نظر آنے والا یہ دروازہ ایک تاریخی دروازہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: "الہ آباد (یوپی)کے رہنے والے چودھری مہادیو پرساد نے تقریبا 1890ء میں ایک خوبصورت محل، سنگ مرمر سے بنا شیوالہ اور اس سے متصل ایک بھول بھلیا کی تعمیر کروائ۔اور ساتھ میں ایک پکے تالاب کی بھی تعمیر کروائ۔

اور کہا جاتا ہے اس وقت چودھری مہادیو پرساد کا نان پور سمیت 26۔27گاؤں ان کی ملکیت میں تھا۔

لیکن 1937ءکے زلزلے میں سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا اور پھر دوبارہ اس کی تعبیر نہیں ہو پائی۔

مگر تالاب، دروازہ اور کچھ نشانات ابھی باقی ہیں۔

محمد صبغۃاللہ رضوانی
30/جون2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2964020557199527&id=100007748358884
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اُٹھایا اور مسکرانے لگے۔ عرض کی گئی، یارسول اللہ ﷺ! آپ آسمان کی طرف سر اُٹھا کر کیوں مسکرائے؟

ارشاد فرمایا: میں دو (2) فرشتوں پر حیران ہوں کہ وہ دونوں ایک بندے کو ایک مسجد میں تلاش کر رہے تھے، جس میں وہ نماز پڑھا کرتا تھا، جب انہوں نے اسے نہ پایا تو واپس چلے گئے اور عرض کی، اے رب کریم! ہم تیرے فلاں بندے کے دن اور رات میں کیے ہوئے اعمال لکھتے تھے، پھر ہم نے دیکھا کہ تو نے اسے آزمائش میں مبتلا فرما دیا۔

تو الله پاک نے فرمایا: میرا بندہ دن اور رات میں جو عمل کیا کرتا تھا، اس کے لیے وہ عمل لکھو اور اس کے اجر میں کمی نہ کرو، جب تک وہ میری طرف سے آزمائش میں ہے، اس کا ثواب میرے ذمۂ کرم پر ہے اور جو اعمال وہ کیا کرتا تھا، اس کے لیے ان کا بھی ثواب ہے۔

بحوالہ: المعجم الاوسط للطبراني، جلد 2، صفحہ 11، حديث 2317

اس حدیث مبارکہ پر غور کیجیے! معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ ہمارے جیسے بشر ہرگز ہرگز نہیں، فرشتوں کو دیکھنا تو دور کی بات ہے ہمیں تو مخصوص فاصلے پر موجود انسان یا بڑی چیز کو دیکھنے میں بھی بڑی دشواری پیش آتی ہے، مگر قربان جايیے نگاہ مصطفیٰ ﷺ پر! جنہوں نے نہ صرف چھپی ہوئی نوری مخلوق یعنی فرشتوں کو دیکھ لیا بلکہ وہ کس مقصد کے ليے، کس جگہ پر اور کس کو تلاش کرنے کے ليے آئے، نمازی کس وجہ سے عبادات سے عاجز ہوا، فرشتوں نے واپس جا کر رب کریم سے کیا عرض کی اور اللہ پاک نے انہیں اپنے اس بندے کے متعلق کیا حکم ارشاد فرمایا، یہ تمام معاملات بھی آپ ﷺ نے دیکھ ليے۔ نگاہ مصطفیٰ ﷺ کی شان و عظمت بیان کرتے ہوئے حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

نبی کریم ﷺ اپنے ہر امتی اور اس کے ہر عمل سے خبردار ہیں۔ حضور انور، شافع محشر ﷺ کی نگاہیں اندھیرے، اجیالے، کھلی، چھپی، موجود و معدوم (ختم ہونے والی) ہر چیز کو دیکھ لیتی ہیں۔

دیکھیے: مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 439

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/943555906221979/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
محب اور محبوب کے قصے کہانیاں داستانیں آپ نے بہت سنی پڑھی ہوں گی، لیکن جس ادبی و نثری انداز میں مرشد و امام سیدنا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے قلم بند فرمایا اس کی مثال نہیں۔ محب و محبوب کے تعلق کو ایک سوال کے جواب میں یوں بیان فرمایا؛

" محب کومحبوب کی ہرشے عزیزہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی گلی کاکتابھی۔ حضرت مولاناقدس سرہ مثنوی شریف میں حضرت مجنوں رحمہ اﷲ تعالٰی کی حکایت تحریرفرمائی کہ کسی نے ان کودیکھا کمال محبت کے طورپر ایک کتے کے بوسے لے رہے ہیں، اعتراض کیا کہ کتانجس ہے چنیں ہے چناں ہے۔ فرمایانہیں جانتا ؎

کاین طلسم بستہ مولٰی ست ایں
پاسبان کوچہ لیلٰی ست ایں
(جیسے یہ اﷲ کی بنائی ہوئی تصویرہے، یہ(کتا) لیلٰی کی گلی کاچوکیدارہے۔)

(مثنوی معنوی:قصہ نواختن مجنون آن سگ الخ، نورانی کتب خانہ پشاور، دفترسوم ص۱۷)

یہ کتا لیلٰی کی گلی کا ہے محبان صادق کاجب دنیا کے محبوبوں کے ساتھ یہ حال ہے جن میں ایک حسن فانی کا کمال سہی ہزاروں عیب ونقص بھی ہوتے ہیں، توکیاکہنا ہے ہمارے محبوب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا جنہیں تمام اوصاف حمیدہ میں اعلٰی کمال، اور جن کا ہرکمال ابدی اور لازوال اور جو ہرعیب ونقص سے منزہ وبے مثال، ان کا ہرعلاقہ والاسنی کے سرکاتاج ہے، صحابہ ہوں خواہ ازواج خواہ اہلبیت رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین۔
(فتاوٰی رضویہ ج 24، کتاب الحظر والاباحہ)

📝افتخار الحسن رضوی
#IloveImamAhmadRaza

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2068295089976334&id=100003875890529
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خدا را! خدا را! احتیاط کیجیے!

ہم سبھی کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہم پر یہ بالکل بھی لازم نہیں کہ ہر سنی سنائی بات یا سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے ہر ہر پیغام کو یونہی آگے بڑھا دیں۔ خدارا! ہاتھ جوڑ کر عرض ہے کہ کسی بھی میسیج، خصوصاً مذہبی نوعیت کے پیغامات کو آگے بڑھانے سے پہلے مکمل اطمینان کر لیجیے کہ وہ میسیج کسی معتمد سنی صحیح العقیدہ شخص سے موصول ہوا ہو یا پھر کسی ذمہ دار شخصیت یا مستند کتاب کے مکمل حوالے کے ساتھ ہو۔ مزید بہتر یہ ہے کہ تصحیحِ نقل کر لی جائے اور اگر یہ ممکن نہیں تو کسی معتبر سُنّی صحیح العقیدہ عالم دین یا صاحب علم شخصیت کو پہلے دکھا یا سنا دیا جائے اور ان کی اجازت کے بعد ہی وہ میسج آگے بڑھایا جائے۔

میرے عزیز۔۔۔ میرے اپنے۔۔۔ میرے پیارے! فتنوں کا دور دورہ ہے، فتنے بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ اپنے اور اپنے احباب کے عقائد و اعمال کی حفاظت کیجیے۔ بہت بہت اور بہت ہی زیادہ احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔ الله کریم عمل کی نیک توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2068295573309619&id=100003875890529
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پانچ کاموں میں جلدی کرنی چاہیے

حضرت حاتم أصم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
"العجلة من الشيطان الا في خمسة فانها من سنة رسول الله صلي الله عليه وسلم ، اطعام الضيف وتجهيز الميت وتزويج البكر وقضاء الدين والتوبة من الذنب."

ترجمہ : جلدبازی شیطان کا کام ہے مگر پانچ چیزوں میں جلدی کرنا سنت ہے :

(1) مہمان کو کھانا کھلانے میں
(2) میت کو دفن کرنے میں
(3) کنواری لڑکی کا نکاح کرنے میں
(4) قرض ادا کرنے میں
(5) گناہوں سے توبہ کرنے میں۔

( احياء علوم الدين للغزالي ، كتاب آداب الأكل ، الباب الرابع في آداب الضيافة ، ص 448 ، دار ابن حزم ، بيروت )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2068451393294037&id=100003875890529
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اُٹھایا اور مسکرانے لگے۔ عرض کی گئی، یارسول اللہ ﷺ! آپ آسمان کی طرف سر اُٹھا کر کیوں مسکرائے؟

ارشاد فرمایا: میں دو (2) فرشتوں پر حیران ہوں کہ وہ دونوں ایک بندے کو ایک مسجد میں تلاش کر رہے تھے، جس میں وہ نماز پڑھا کرتا تھا، جب انہوں نے اسے نہ پایا تو واپس چلے گئے اور عرض کی، اے رب کریم! ہم تیرے فلاں بندے کے دن اور رات میں کیے ہوئے اعمال لکھتے تھے، پھر ہم نے دیکھا کہ تو نے اسے آزمائش میں مبتلا فرما دیا۔

تو الله پاک نے فرمایا: میرا بندہ دن اور رات میں جو عمل کیا کرتا تھا، اس کے لیے وہ عمل لکھو اور اس کے اجر میں کمی نہ کرو، جب تک وہ میری طرف سے آزمائش میں ہے، اس کا ثواب میرے ذمۂ کرم پر ہے اور جو اعمال وہ کیا کرتا تھا، اس کے لیے ان کا بھی ثواب ہے۔

بحوالہ: المعجم الاوسط للطبراني، جلد ۲، صفحہ ۱۱، حديث ۲۳۱۷

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2068890186583491&id=100003875890529