Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
استفتاء نمبر 01 #Fatawa_Raeesia
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ مقتدی اگر امام کے پیچھے بھول کر واجب ترک کرے تو اس کی نماز ہو جائے گی؟ بینوا توجروا۔
( 23 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق مورخہ 06 فروری 2021 بروز ہفتہ)
جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
اگر مقتدی امام کے پیچھے بھول کر واجب ترک کردے تو اس پر اصلاً سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا بلکہ اس کی نماز ہو جاتی ہے کیونکہ اگر وہ اکیلا سجدہ سہو ادا کرے گا تو امام کی مخالفت لازم آئے گی اور اگر امام بھی اس کے ساتھ سجدہ سھو کرے تو معاملہ الٹ ہو جائے گا(یعنی اصل تابع اور تابع اصل بن جائے گا)۔ اور اس پر نماز کا اعادہ بھی نہیں ہو گا۔
چنانچہ اللّٰہ پاک کے آخری نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لیس علی من خلف الامام سھو فان سھا الامام فعلیہ وعلی من خلفہ السھو"
ترجمہ: امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے پر سجدہ سہو نہیں، اگر امام بھول گیا تو اس پر اور اس کے مقتدیوں پر سجدہ سہو ہے۔(سنن دارقطنی ، باب لیس علی المقتدی سھو، جلد02، صفحہ212، حصہ 1413، مؤسسة الرسالہ، بيروت).
بدائع امام ملک العلماء جلد اول صفحہ 175 میں ہے: "المقتدی اذاسھا فی صلوٰتہ فلا سہو علیہ"
ترجمہ: اگر مقتدی نماز میں بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں۔ (بدائع الصنائع فصل من یجب علیہ سجود السہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۷۵)
امام اجل امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی اس مسئلے پر دلائل دینے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں " ثبت ان المأمومین یجب علیھم حکم السھو لسھو الامام وینتفی عنھم حکم السھو بانتفائہ عن الامام'
ترجمہ: بات ثابت ہوگئی کہ امام کے سہو کی وجہ سے مقتدیوں پر سجدہ سہو واجب ہے اور امام سے نفی کی صورت میں مقتدیوں سے بھی اس کی نفی ہوگی۔ (الطحاوی شرح معانی الآثار باب الرجل یصلی الفریضۃ خلف من یصلی تطوعا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۲۸۰)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاویٰ امجدیہ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی جلد اول صفحہ 274 پر اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
"چوں از مقتدی سھواً ترک واجب واقع شد، نہ برد سجدہ سھو واجب است، نہ اعادہ نماز" یعنی چونکہ مقتدی سے سھواً واجب ترک ہوا ہےلہذا اس صورت میں سجدہ سھو واجب نہیں ہو گا اور نہ ہی اعادہ نماز ہے۔
بہارِ شریعت میں ہے " اگر مقتدی سے بحالتِ اقتدا سہو واقع ہوا تو سجدۂ سہو واجب نہیں"۔ (بہارِ شریعت حصہ چہارم جلد اول (ب) مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
اور اسی کے تحت حاشیہ میں ہے کہ " اور اعادہ بھی اس کے ذمہ نہیں"کماحققناہ فی فتاوٰنا۔۱۲ منہ
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
✍🏻کتبہ:سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر
( مورخہ 24 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 06 فروری 2021 بروز ہفتہ)
تصحیح 26 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 08 فروری 2021 بروز پیر
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ مقتدی اگر امام کے پیچھے بھول کر واجب ترک کرے تو اس کی نماز ہو جائے گی؟ بینوا توجروا۔
( 23 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق مورخہ 06 فروری 2021 بروز ہفتہ)
جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
اگر مقتدی امام کے پیچھے بھول کر واجب ترک کردے تو اس پر اصلاً سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا بلکہ اس کی نماز ہو جاتی ہے کیونکہ اگر وہ اکیلا سجدہ سہو ادا کرے گا تو امام کی مخالفت لازم آئے گی اور اگر امام بھی اس کے ساتھ سجدہ سھو کرے تو معاملہ الٹ ہو جائے گا(یعنی اصل تابع اور تابع اصل بن جائے گا)۔ اور اس پر نماز کا اعادہ بھی نہیں ہو گا۔
چنانچہ اللّٰہ پاک کے آخری نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لیس علی من خلف الامام سھو فان سھا الامام فعلیہ وعلی من خلفہ السھو"
ترجمہ: امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے پر سجدہ سہو نہیں، اگر امام بھول گیا تو اس پر اور اس کے مقتدیوں پر سجدہ سہو ہے۔(سنن دارقطنی ، باب لیس علی المقتدی سھو، جلد02، صفحہ212، حصہ 1413، مؤسسة الرسالہ، بيروت).
بدائع امام ملک العلماء جلد اول صفحہ 175 میں ہے: "المقتدی اذاسھا فی صلوٰتہ فلا سہو علیہ"
ترجمہ: اگر مقتدی نماز میں بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں۔ (بدائع الصنائع فصل من یجب علیہ سجود السہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۷۵)
امام اجل امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی اس مسئلے پر دلائل دینے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں " ثبت ان المأمومین یجب علیھم حکم السھو لسھو الامام وینتفی عنھم حکم السھو بانتفائہ عن الامام'
ترجمہ: بات ثابت ہوگئی کہ امام کے سہو کی وجہ سے مقتدیوں پر سجدہ سہو واجب ہے اور امام سے نفی کی صورت میں مقتدیوں سے بھی اس کی نفی ہوگی۔ (الطحاوی شرح معانی الآثار باب الرجل یصلی الفریضۃ خلف من یصلی تطوعا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۲۸۰)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاویٰ امجدیہ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی جلد اول صفحہ 274 پر اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
"چوں از مقتدی سھواً ترک واجب واقع شد، نہ برد سجدہ سھو واجب است، نہ اعادہ نماز" یعنی چونکہ مقتدی سے سھواً واجب ترک ہوا ہےلہذا اس صورت میں سجدہ سھو واجب نہیں ہو گا اور نہ ہی اعادہ نماز ہے۔
بہارِ شریعت میں ہے " اگر مقتدی سے بحالتِ اقتدا سہو واقع ہوا تو سجدۂ سہو واجب نہیں"۔ (بہارِ شریعت حصہ چہارم جلد اول (ب) مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
اور اسی کے تحت حاشیہ میں ہے کہ " اور اعادہ بھی اس کے ذمہ نہیں"کماحققناہ فی فتاوٰنا۔۱۲ منہ
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
✍🏻کتبہ:سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر
( مورخہ 24 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 06 فروری 2021 بروز ہفتہ)
تصحیح 26 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 08 فروری 2021 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from دارالافتاء اہلسنت
استفتاء نمبر 02 #Fatawa_Raeesia
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر نماز جنازہ فوت ہونے کا خطرہ ہو تو کیا تیمم کرکے نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟ بینوا توجروا۔
( مورخہ 27 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 10 فروری 2021 بروز بدھ)
جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
اگر نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خطرہ ہو تو غیرِ ولی تیمم کر کے نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے، ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تیمم کر کے نمازِ جنازہ ادا کرے۔ کیونکہ لوگ اس کا انتظار کریں گے، اگر لوگ اس کی اجازت کے بغیر نمازِ جنازہ ادا کر بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب " مختصر القدوری " میں ہے کہ " یجوز التیمم للصحیح المقیم اذا حضرت الجنازۃ والولی غیرہ فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلٰوۃ ".
ترجمہ: تندرست مقیم کے لئے تیمم جائز ہے جب جنازہ آ جائے اور ولی دوسرا ہو، اندیشہ ہو اگر وضو میں لگے گا تو نماز جنازہ فوت ہو جائے گی۔ (مختصر القدوری باب التیمم مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ص 11)
ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے کہ " یتیمم الصحیح فی المصر اذا حضرت جنازۃ -والولی غیرہ- فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلٰوۃ" وقولہ: "والولی غیرہ" اشارۃ الی أنہ لا یجوز للولی۔
ترجمہ: تندرست شہر میں تیمم کرلے جب جنازہ آ جائے اگر طہارت میں مشغول ہونے سے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، کیونکہ اس کی قضاء نہیں ہوتی لہذا عجز متحقق ہو گیا۔
اور ان کا قول "والولی غیرہ" اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ (تیمم کر کے نمازِ جنازہ پڑھنا) ولی کیلئے جائز نہیں ہے۔
(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی باب التیمم مطبوعہ مکتبۃ البشری صفحہ 95 )
منیۃ المصلی میں ہے کہ " الصحیح فی المصر تیمم لصلٰوۃ الجنازۃ اذاخاف الفوت جاز الا الولی ".
ترجمہ: تندرست شہر کے اندر نمازِ جنازہ کے لئے تیمم کرے گا جب فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو مگر ولی کے لئے یہ نہیں۔ (منیۃ المصلی فصل فی التیمم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص 58)
وقایہ مع شرح الوقایہ میں ہے کہ " ھو لمحدث و جنب و حائض ونفساء لم یقدروا علی الماء، و لخوف فوت صلٰوۃ الجنازۃ لغیر الولی "
ترجمہ: تیمم بے وضو، جنب، حائض اور نفاس والی کے لئے ہے جب انہیں پانی پر قدرت نہ ہو اور غیرولی کو نمازِ جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ کے وقت بھی ہے۔ (وقایہ مع شرح الوقایہ باب التیمم مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱ /۹۵ تا ۹۷)
بہارِ شریعت حصہ دوم صفحہ 351 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی پر ہے کہ
" غیر ولی کو نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے ولی کو نہیں کہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اور لوگ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے"۔
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ:سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفر لہ
( مورخہ 27 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 10 فروری 2021 بروز بدھ)
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر نماز جنازہ فوت ہونے کا خطرہ ہو تو کیا تیمم کرکے نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟ بینوا توجروا۔
( مورخہ 27 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 10 فروری 2021 بروز بدھ)
جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
اگر نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خطرہ ہو تو غیرِ ولی تیمم کر کے نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے، ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تیمم کر کے نمازِ جنازہ ادا کرے۔ کیونکہ لوگ اس کا انتظار کریں گے، اگر لوگ اس کی اجازت کے بغیر نمازِ جنازہ ادا کر بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب " مختصر القدوری " میں ہے کہ " یجوز التیمم للصحیح المقیم اذا حضرت الجنازۃ والولی غیرہ فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلٰوۃ ".
ترجمہ: تندرست مقیم کے لئے تیمم جائز ہے جب جنازہ آ جائے اور ولی دوسرا ہو، اندیشہ ہو اگر وضو میں لگے گا تو نماز جنازہ فوت ہو جائے گی۔ (مختصر القدوری باب التیمم مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ص 11)
ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے کہ " یتیمم الصحیح فی المصر اذا حضرت جنازۃ -والولی غیرہ- فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلٰوۃ" وقولہ: "والولی غیرہ" اشارۃ الی أنہ لا یجوز للولی۔
ترجمہ: تندرست شہر میں تیمم کرلے جب جنازہ آ جائے اگر طہارت میں مشغول ہونے سے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، کیونکہ اس کی قضاء نہیں ہوتی لہذا عجز متحقق ہو گیا۔
اور ان کا قول "والولی غیرہ" اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ (تیمم کر کے نمازِ جنازہ پڑھنا) ولی کیلئے جائز نہیں ہے۔
(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی باب التیمم مطبوعہ مکتبۃ البشری صفحہ 95 )
منیۃ المصلی میں ہے کہ " الصحیح فی المصر تیمم لصلٰوۃ الجنازۃ اذاخاف الفوت جاز الا الولی ".
ترجمہ: تندرست شہر کے اندر نمازِ جنازہ کے لئے تیمم کرے گا جب فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو مگر ولی کے لئے یہ نہیں۔ (منیۃ المصلی فصل فی التیمم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص 58)
وقایہ مع شرح الوقایہ میں ہے کہ " ھو لمحدث و جنب و حائض ونفساء لم یقدروا علی الماء، و لخوف فوت صلٰوۃ الجنازۃ لغیر الولی "
ترجمہ: تیمم بے وضو، جنب، حائض اور نفاس والی کے لئے ہے جب انہیں پانی پر قدرت نہ ہو اور غیرولی کو نمازِ جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ کے وقت بھی ہے۔ (وقایہ مع شرح الوقایہ باب التیمم مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱ /۹۵ تا ۹۷)
بہارِ شریعت حصہ دوم صفحہ 351 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی پر ہے کہ
" غیر ولی کو نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے ولی کو نہیں کہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اور لوگ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے"۔
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ:سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفر لہ
( مورخہ 27 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 10 فروری 2021 بروز بدھ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خیال خاطر (1)
- مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:
میں ایک مدت سے یہ نوٹ کر رہا ہوں کہ ہمارے اس عہد کے نوجوان بے مقصد سی زندگی گزار رہے ہیں اور اور ان کی جواں سال صلاحیتیں؛
(الف) کچھ حد تک تعمیری/ تخریبی تنقید اور لفظوں کی بازی گری میں،
(ب) کچھ حد تک اپنی اپنی بساط کے مطابق مثبت/ منفی کام کرنے والے اداروں/ تنظیموں/ خانقاہوں اور شخصیات کی حد سے بڑھی ہوئی حمایت/ مخالفت میں،
(ج) کچھ حد تک سوشل میڈیا پر قدیم فقہی، کلامی اور لاینحل مباحث پر غیر سنجیدہ اور غیر ضروری تحریر و تقریر میں،
(د) کچھ حد تک خود ساختہ افکار و نظریات کو علمی اصولوں سے بالا تر ہو کر بطور اصول پیش کرنے میں،
(ھ) کچھ حد تک شخصی عقیدتوں کے اثبات و ابطال اورمدتوں پرانے گڑے شخصی مردے اکھاڑنے میں،
اور
(و) بہت حد تک ہاتھ پہ ہاتھ دھرے انتظار فردا میں صرف ہو رہی ہیں،
آج کی تکنیکی دنیا میں کام کے لیے مہیا ہر قسم کی نت نئی سہولیات کے باوجود بھی یہ صورت حال امت مسلمہ کا وہ نازک فکری پہلو ہے جو
کسی بھی ناحیہ سے نہ نسل نو کے لیے نیک فال ہے اور نہ ہی روشن مستقبل کے لیے خوش آئند۔
اس لیے خدارا!
جو اچھا کر رہا ہے، اللہ اس کی کوششوں کو قبول فرمائے اور جو برا کر رہا ہے، اللہ اسے ہدایت دے۔ آپ بے شک حق کی واجبی حمایت اور ناحق کی معقول مخالفت ضرور کیجیے، یہ آپ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت شرعی طور پر بھی ضروری بھی ہو سکتا ہے،
لیکن
ان تمام مراحل کے دوران اس بات کو کبھی مت بھولیے کہ اسلام اعتدال و وسطیت اور مقصدیت کا مذہب ہے، جو کسی بھی اچھے/ برے کام میں اتنی ہی مشغولیت کا تقاضا کرتا ہے، جتنی سے نہ وسطیت پامال ہو اور نہ مقصدیت فوت۔
سو
سوشل میڈیا کے لامتناہی سلسلوں میں گم ہونے سے پہلے، گریبان میں اتنا ضرور جھانک لیجیے:
ان سوشل ہنگامہ آرائیوں کے بیچ کہیں آپ کی شخصیت ہی تو نہیں کھو گئی؟؟؟
کسی کے ہرکارے بننے سے قبل خود سے یہ بھی پوچھتے رہیے:
جس دنیا میں رہتے ہوئے ہم نے اس کی ہزار قسم کی نعمتوں سے لاکھوں قسم کے فائدے اٹھائے، کیا ہم وہاں سے جاتے ہوئے اس دنیا کو کچھ دے کر اور اپنی آخرت کے لیے کچھ لے کر جا رہے ہیں؟؟؟
اگر سچ مچ ہاں! تو زہے مبارک،
وگرنہ تو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
خالد ایوب مصباحی شیرانی
25/ جون 2021۔ جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/940679813169204/
- مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:
میں ایک مدت سے یہ نوٹ کر رہا ہوں کہ ہمارے اس عہد کے نوجوان بے مقصد سی زندگی گزار رہے ہیں اور اور ان کی جواں سال صلاحیتیں؛
(الف) کچھ حد تک تعمیری/ تخریبی تنقید اور لفظوں کی بازی گری میں،
(ب) کچھ حد تک اپنی اپنی بساط کے مطابق مثبت/ منفی کام کرنے والے اداروں/ تنظیموں/ خانقاہوں اور شخصیات کی حد سے بڑھی ہوئی حمایت/ مخالفت میں،
(ج) کچھ حد تک سوشل میڈیا پر قدیم فقہی، کلامی اور لاینحل مباحث پر غیر سنجیدہ اور غیر ضروری تحریر و تقریر میں،
(د) کچھ حد تک خود ساختہ افکار و نظریات کو علمی اصولوں سے بالا تر ہو کر بطور اصول پیش کرنے میں،
(ھ) کچھ حد تک شخصی عقیدتوں کے اثبات و ابطال اورمدتوں پرانے گڑے شخصی مردے اکھاڑنے میں،
اور
(و) بہت حد تک ہاتھ پہ ہاتھ دھرے انتظار فردا میں صرف ہو رہی ہیں،
آج کی تکنیکی دنیا میں کام کے لیے مہیا ہر قسم کی نت نئی سہولیات کے باوجود بھی یہ صورت حال امت مسلمہ کا وہ نازک فکری پہلو ہے جو
کسی بھی ناحیہ سے نہ نسل نو کے لیے نیک فال ہے اور نہ ہی روشن مستقبل کے لیے خوش آئند۔
اس لیے خدارا!
جو اچھا کر رہا ہے، اللہ اس کی کوششوں کو قبول فرمائے اور جو برا کر رہا ہے، اللہ اسے ہدایت دے۔ آپ بے شک حق کی واجبی حمایت اور ناحق کی معقول مخالفت ضرور کیجیے، یہ آپ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت شرعی طور پر بھی ضروری بھی ہو سکتا ہے،
لیکن
ان تمام مراحل کے دوران اس بات کو کبھی مت بھولیے کہ اسلام اعتدال و وسطیت اور مقصدیت کا مذہب ہے، جو کسی بھی اچھے/ برے کام میں اتنی ہی مشغولیت کا تقاضا کرتا ہے، جتنی سے نہ وسطیت پامال ہو اور نہ مقصدیت فوت۔
سو
سوشل میڈیا کے لامتناہی سلسلوں میں گم ہونے سے پہلے، گریبان میں اتنا ضرور جھانک لیجیے:
ان سوشل ہنگامہ آرائیوں کے بیچ کہیں آپ کی شخصیت ہی تو نہیں کھو گئی؟؟؟
کسی کے ہرکارے بننے سے قبل خود سے یہ بھی پوچھتے رہیے:
جس دنیا میں رہتے ہوئے ہم نے اس کی ہزار قسم کی نعمتوں سے لاکھوں قسم کے فائدے اٹھائے، کیا ہم وہاں سے جاتے ہوئے اس دنیا کو کچھ دے کر اور اپنی آخرت کے لیے کچھ لے کر جا رہے ہیں؟؟؟
اگر سچ مچ ہاں! تو زہے مبارک،
وگرنہ تو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
خالد ایوب مصباحی شیرانی
25/ جون 2021۔ جمعہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/940679813169204/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*خیال خاطر۔ 2*
*عجیب چیز ہے احساس زندگانی کا*
عام طور پر دنیا کے عام انسان بے حس ہوتے ہیں اور اس عہد بلا خیز میں یہ مردنی تقریباً ہر طبقے میں اپنے عروج پر ہے۔ اس بے حسی اور قدر نا شناسی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ۔ (سورہ زمر، 67)
جبکہ حساس مزاج انسان اقل قلیل تعداد میں ہوتے ہیں اور ظاہر ہے وہ عام نہیں رہتے، ان کا یہ جوہر نایاب انھیں خاص بنا دیتا ہے۔ لیکن زمینی سطح پر یہ تعداد انگلیوں پر گننے جیسی ہوتی ہے، جسے عہد رواں کی خام تربیتوں نے کم یاب سے نایاب بنا دیا ہے۔
اگر ایمان کی کہیے تو حساس انسان ہی دراصل انسان ہے، ورنہ بے حسی اور مردنی میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ اس لیے -ہر چند کہ روبوٹ میں روح نہیں پھونکی جا سکتی- ہمیں یہ پرکھ ضرور کرنی چاہیے کہ ہمارا شمار کس زمرے میں ہوتا ہے؟ اس بیماری کی صحیح تشخیص کے لیے امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی "صفۃ صاحب الذوق السلیم" پڑھنی چاہیے لیکن بطور اجمال یہ سطحی شناختی طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں:
اپنے اندر موجود احساس، یا بے حسی کی شناخت کے لیے اپنے رویوں، ذہنی تاثرات اور رد عمل پر غور کجیے جیسے:
(الف) کسی بھی شخصیت/ کام/ فن/ کتاب/ صلاحیت کو پہچاننے کا آپ کا اپنا ذاتی عملی معیار کیا ہے؟
کیا آپ کسی بھی شخصیت کے محض اس لیے گرویدہ ہو جاتے ہیں کہ دنیا اسے مانتی ہے؟
یا
آپ مارکیٹ ویلیو ویشن نہیں دیکھتے بلکہ اس کے بھی دیوانے ہو جاتے ہیں جسے بھلے خیر سے کوئی نہ جانے، لیکن وہ شخص اپنے اندر ایک شخصیت رکھتا ہے؟
(ب) کیا آپ کوئی بھی چیز محض اس لیے خرید لیتے ہیں کہ وہ برانڈیڈ ہے؟
یا
یا آپ کو اس بات کی آگاہی ہے کہ برانڈنگ ماڈرن دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں، اصل متاع کسی بھی چیز کی کوالٹی ہے اور وہ برانڈنگ کی محتاج نہیں؟
(ج) کیا آپ کو کوئی قیمتی صلاحیت بنا محنت کے ہاتھ لگ جائے تو آپ اس کی واقعی قدر کر پاتے ہیں؟
یا
اسے بے حس دنیا کے اس انتہائی بے حس معیار پر تولتے ہیں: *گھر کی مرغی دال برابر۔*
(د) کیا آپ کو قرآن و حدیث کی کوئی بات اپیل کرتی اور آپ کی تنہائیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی؟
یا
آپ قرآن محض قرآن خوانی اور برکت کے لیے اور حدیث محض علم و مطالعے کے لیے پڑھتے ہیں؟
(ھ) کیا آپ کی خلوتیں آپ کو قبر اور اپنے رب کی نعمتوں کی قدر پر زار زار کر دیتی ہیں؟
یا
آپ ان دونوں ہی چیزوں کی گہرائیاں ناپنے پر یقین نہیں رکھتے؟
(و) کیا آپ بھی کشمیری مسلمانوں کی مظلومیت، فلسطینیوں کی بے کسی یا ہر ترقی یافتہ دنیا میں موجود اولڈ ہاؤسز نامی مہذب قید خانوں میں مقفل بوڑھوں کی بے چارگی جیسی ستم ظریفیوں کو محض ظالمانہ تسلسل سمجھ کر بہت ہلکے میں ٹرخا دیتے ہیں؟
یا
آپ کے اندر کا جگرا پانی پانی ہو جاتا ہے اور آپ ارباب اقتدار کے ساتھ اپنی خاموش عوامی تائیدوں کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں؟
المختصر! اگر آپ سے کسی کی مظلومیت دیکھی نہیں جاتی، دل کو کسی کا دکھڑا بے چین کر دیتا ہے، دنیا بھر میں آڑے ترچھے الجھے بکھرے ہوئے بے بسوں/ بے کسوں کی یاد ستاتی ہے، والدین کے لیے دل سے مخلصانہ دعائیں نکلتی ہیں، اولاد کا مستقبل فکر مند رکھتا ہے، بیوی کی محنتوں کا احساس شرمندہ کرتا ہے اور اپنی ملازمت کی وفاداری مضطرب رکھتی ہے تو شاید ابھی آپ کے اندر کا انسان زندہ ہے اور اگر یہ سب نہیں تو محض ایک کفن کا فاصلہ باقی ہے۔
خالد ایوب مصباحی شیرانی
28/ جون 2021- دوشنبہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/940683093168876/
*عجیب چیز ہے احساس زندگانی کا*
عام طور پر دنیا کے عام انسان بے حس ہوتے ہیں اور اس عہد بلا خیز میں یہ مردنی تقریباً ہر طبقے میں اپنے عروج پر ہے۔ اس بے حسی اور قدر نا شناسی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ۔ (سورہ زمر، 67)
جبکہ حساس مزاج انسان اقل قلیل تعداد میں ہوتے ہیں اور ظاہر ہے وہ عام نہیں رہتے، ان کا یہ جوہر نایاب انھیں خاص بنا دیتا ہے۔ لیکن زمینی سطح پر یہ تعداد انگلیوں پر گننے جیسی ہوتی ہے، جسے عہد رواں کی خام تربیتوں نے کم یاب سے نایاب بنا دیا ہے۔
اگر ایمان کی کہیے تو حساس انسان ہی دراصل انسان ہے، ورنہ بے حسی اور مردنی میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ اس لیے -ہر چند کہ روبوٹ میں روح نہیں پھونکی جا سکتی- ہمیں یہ پرکھ ضرور کرنی چاہیے کہ ہمارا شمار کس زمرے میں ہوتا ہے؟ اس بیماری کی صحیح تشخیص کے لیے امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی "صفۃ صاحب الذوق السلیم" پڑھنی چاہیے لیکن بطور اجمال یہ سطحی شناختی طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں:
اپنے اندر موجود احساس، یا بے حسی کی شناخت کے لیے اپنے رویوں، ذہنی تاثرات اور رد عمل پر غور کجیے جیسے:
(الف) کسی بھی شخصیت/ کام/ فن/ کتاب/ صلاحیت کو پہچاننے کا آپ کا اپنا ذاتی عملی معیار کیا ہے؟
کیا آپ کسی بھی شخصیت کے محض اس لیے گرویدہ ہو جاتے ہیں کہ دنیا اسے مانتی ہے؟
یا
آپ مارکیٹ ویلیو ویشن نہیں دیکھتے بلکہ اس کے بھی دیوانے ہو جاتے ہیں جسے بھلے خیر سے کوئی نہ جانے، لیکن وہ شخص اپنے اندر ایک شخصیت رکھتا ہے؟
(ب) کیا آپ کوئی بھی چیز محض اس لیے خرید لیتے ہیں کہ وہ برانڈیڈ ہے؟
یا
یا آپ کو اس بات کی آگاہی ہے کہ برانڈنگ ماڈرن دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں، اصل متاع کسی بھی چیز کی کوالٹی ہے اور وہ برانڈنگ کی محتاج نہیں؟
(ج) کیا آپ کو کوئی قیمتی صلاحیت بنا محنت کے ہاتھ لگ جائے تو آپ اس کی واقعی قدر کر پاتے ہیں؟
یا
اسے بے حس دنیا کے اس انتہائی بے حس معیار پر تولتے ہیں: *گھر کی مرغی دال برابر۔*
(د) کیا آپ کو قرآن و حدیث کی کوئی بات اپیل کرتی اور آپ کی تنہائیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی؟
یا
آپ قرآن محض قرآن خوانی اور برکت کے لیے اور حدیث محض علم و مطالعے کے لیے پڑھتے ہیں؟
(ھ) کیا آپ کی خلوتیں آپ کو قبر اور اپنے رب کی نعمتوں کی قدر پر زار زار کر دیتی ہیں؟
یا
آپ ان دونوں ہی چیزوں کی گہرائیاں ناپنے پر یقین نہیں رکھتے؟
(و) کیا آپ بھی کشمیری مسلمانوں کی مظلومیت، فلسطینیوں کی بے کسی یا ہر ترقی یافتہ دنیا میں موجود اولڈ ہاؤسز نامی مہذب قید خانوں میں مقفل بوڑھوں کی بے چارگی جیسی ستم ظریفیوں کو محض ظالمانہ تسلسل سمجھ کر بہت ہلکے میں ٹرخا دیتے ہیں؟
یا
آپ کے اندر کا جگرا پانی پانی ہو جاتا ہے اور آپ ارباب اقتدار کے ساتھ اپنی خاموش عوامی تائیدوں کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں؟
المختصر! اگر آپ سے کسی کی مظلومیت دیکھی نہیں جاتی، دل کو کسی کا دکھڑا بے چین کر دیتا ہے، دنیا بھر میں آڑے ترچھے الجھے بکھرے ہوئے بے بسوں/ بے کسوں کی یاد ستاتی ہے، والدین کے لیے دل سے مخلصانہ دعائیں نکلتی ہیں، اولاد کا مستقبل فکر مند رکھتا ہے، بیوی کی محنتوں کا احساس شرمندہ کرتا ہے اور اپنی ملازمت کی وفاداری مضطرب رکھتی ہے تو شاید ابھی آپ کے اندر کا انسان زندہ ہے اور اگر یہ سب نہیں تو محض ایک کفن کا فاصلہ باقی ہے۔
خالد ایوب مصباحی شیرانی
28/ جون 2021- دوشنبہ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/940683093168876/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مُبارک سیرتوں کو اُجاگر کیا جائے!*
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
’’مطالعہ خیر و شر کی پہچان کا ذریعہ ہے‘‘… پروپیگنڈے کے ذریعے دل و دماغ آلودہ ہو جاتے ہیں… مطالعے کے ذریعے فکر و نظر پر پڑے غبار دُھل جاتے ہیں… اسلاف کی خدمات کو دُھندلانے کے لیے تاریخ گری کی گئی… سچ چھپایا گیا؛ لیکن! جب مطالعہ و تحقیق اور علم کی روشنی میں اسلاف کی خدمات وتعلیمات کا تجزیہ کیا گیا تو حیرانگی بڑھتی گئی… غبار چھٹتے گئے… روشنی پھیلتی گئی… پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود نقشبندی فرماتے ہیں:
’’علما وصلحا، ملت کی آن اور مذہب کی آبرو ہیں، ان کے دَم سے دین ودُنیا کی رونق ہے…وہ رونق جو فریبِ نظر نہیں بلکہ حیاتِ قلب و جگر ہے، جو انسانیت کی بہار ہے اور حیوانیت سے کوسوں دور…ہاں وہ مبارک ہستیاں جنھوں نے قلب و نظر کی پرورش کی ہو، جنھوں نے رفعتِ شانِ مصطفیٰ [ﷺ] میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا ہو، آنکھوں پہ بٹھانے اور دِل سے لگانے کے قابل ہیں، بیشک ان کی مبارک سیرتوں کو اُجاگر کیا جائے، ان کی تعلیمات کی اشاعت کی جائے اور ان کے ذکرواذکار کیے جائیں کہ ذکرِ محب ذکرِ محبوب ہی ہے…ان کی پاک زندگیاں جوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اے کاش!وہ اس طرف متوجہ ہوں اور متاعِ خانہ کو درونِ خانہ گم کر کے وہ کام نہ کریں جو ایک نابینا سے بھی متوقع نہیں۔‘‘
[تقدیم؛ تذکرہ اکابر اہلِ سنّت،علامہ عبدالحکیم شرف قادری نقشبندی ،نوری کتب خانہ لاہور۲۰۰۵ء،ص۲۶]
اسلاف کے تذکرے لکھے جائیں…اُن کی اشاعت کی جائے…انھیں قوم تک پہنچایا جائے…تا کہ شان دار ماضی سے حال کا رشتہ استوار ہو…اور تعمیری افکار کی تشکیل دی جا سکے…مُردہ فکروں کو حیات کی سُرخی مہیا کی جا سکے…بلاشبہ! اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی[ولادت:۱۲۷۲ھ/۱۸۵۶ء…وصال:۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء] ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں؛ جن سے شاہراہِ حق واضح ہے…جن سے گلشنِ ایمان میں عطر بیزی ہے…جن کی تجدیدی خدمات اور علمی شان آن بان کو ان کے معاصرخراجِ عقیدت پیش کرتے نظر آتے ہیں…
اعلیٰ حضرت کی مقبولیت اور ان کے علمی کام کا غلغہ چار سٗو پھیل گیا…مخالفین نے پروپیگنڈے کا سہارا لیا…اُجلی سیرت کوداغدار بنانے کی کوشش کی…سچ چھپایا گیا…جھوٹ کی تشہیر کی گئی…جب علمی کام ہونے لگا…حقائق واشگاف ہونے لگے…پَردے اُٹھنے لگے…صدق و وَفا کی خوشبو پھیلنے لگی…تو خرمنِ باطل میں اُداسی چھا گئی…سچ کی صبح نمودار ہوئی…آپ بھی حقائق سے آگہی کے لیے اعلیٰ حضرت کی خدمات کا مطالعہ کیجیے…درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ہوگا:
۱… اُجالا(پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد) مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں/المجمع الاسلامی مبارک پور
۲…امام اہلسنّت (پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد)، مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارک پور
۳…امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات (مولانا یٰسٓ اختر مصباحی) مطبوعہ: دارالقلم دہلی
۴…المیزان کا امام احمد رضا نمبر (قدیم ایڈیشن حضرت سید جیلانی اشرف اشرفی کچھوچھوی نے شائع کیا تھا؛ تازہ ایڈیشن جماعت رضائے مصطفیٰ اورنگ آباد نے شائع کیا ہے۔ )
۵…البریلویہ کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ (مولانا عبدالحکیم شرف قادری) مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
٦…ارشاداتِ اعلیٰ حضرت (مولانا محمد عبدالمبین نعمانی) مطبوعہ اعجاز بکڈپو کلکتہ
۷… جہانِ امام احمد رضا (۲۰؍جلدیں؛مرتب مفتی محمد حنیف خان رضوی) مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف
مطالعہ کی بزم سجائیں…ان شاء اللہ! شَر کی فضا چھٹ جائے گی…خیر کی صبح نمودار ہوگی…نغماتِ رضا گونجتے محسوس ہوں گے…حقائق کی روشنی میں یہ آواز سمتوں میں سُنائی دے گی؎
ڈال دی قلب میں عظمتِ مصطفیٰ ﷺ
سیدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام
٭ ٭ ٭
۲۷؍ جون ۲۰۲۱ء
ترسیل: اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
noorimission92@gmail.com
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
’’مطالعہ خیر و شر کی پہچان کا ذریعہ ہے‘‘… پروپیگنڈے کے ذریعے دل و دماغ آلودہ ہو جاتے ہیں… مطالعے کے ذریعے فکر و نظر پر پڑے غبار دُھل جاتے ہیں… اسلاف کی خدمات کو دُھندلانے کے لیے تاریخ گری کی گئی… سچ چھپایا گیا؛ لیکن! جب مطالعہ و تحقیق اور علم کی روشنی میں اسلاف کی خدمات وتعلیمات کا تجزیہ کیا گیا تو حیرانگی بڑھتی گئی… غبار چھٹتے گئے… روشنی پھیلتی گئی… پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود نقشبندی فرماتے ہیں:
’’علما وصلحا، ملت کی آن اور مذہب کی آبرو ہیں، ان کے دَم سے دین ودُنیا کی رونق ہے…وہ رونق جو فریبِ نظر نہیں بلکہ حیاتِ قلب و جگر ہے، جو انسانیت کی بہار ہے اور حیوانیت سے کوسوں دور…ہاں وہ مبارک ہستیاں جنھوں نے قلب و نظر کی پرورش کی ہو، جنھوں نے رفعتِ شانِ مصطفیٰ [ﷺ] میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا ہو، آنکھوں پہ بٹھانے اور دِل سے لگانے کے قابل ہیں، بیشک ان کی مبارک سیرتوں کو اُجاگر کیا جائے، ان کی تعلیمات کی اشاعت کی جائے اور ان کے ذکرواذکار کیے جائیں کہ ذکرِ محب ذکرِ محبوب ہی ہے…ان کی پاک زندگیاں جوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اے کاش!وہ اس طرف متوجہ ہوں اور متاعِ خانہ کو درونِ خانہ گم کر کے وہ کام نہ کریں جو ایک نابینا سے بھی متوقع نہیں۔‘‘
[تقدیم؛ تذکرہ اکابر اہلِ سنّت،علامہ عبدالحکیم شرف قادری نقشبندی ،نوری کتب خانہ لاہور۲۰۰۵ء،ص۲۶]
اسلاف کے تذکرے لکھے جائیں…اُن کی اشاعت کی جائے…انھیں قوم تک پہنچایا جائے…تا کہ شان دار ماضی سے حال کا رشتہ استوار ہو…اور تعمیری افکار کی تشکیل دی جا سکے…مُردہ فکروں کو حیات کی سُرخی مہیا کی جا سکے…بلاشبہ! اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی[ولادت:۱۲۷۲ھ/۱۸۵۶ء…وصال:۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء] ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں؛ جن سے شاہراہِ حق واضح ہے…جن سے گلشنِ ایمان میں عطر بیزی ہے…جن کی تجدیدی خدمات اور علمی شان آن بان کو ان کے معاصرخراجِ عقیدت پیش کرتے نظر آتے ہیں…
اعلیٰ حضرت کی مقبولیت اور ان کے علمی کام کا غلغہ چار سٗو پھیل گیا…مخالفین نے پروپیگنڈے کا سہارا لیا…اُجلی سیرت کوداغدار بنانے کی کوشش کی…سچ چھپایا گیا…جھوٹ کی تشہیر کی گئی…جب علمی کام ہونے لگا…حقائق واشگاف ہونے لگے…پَردے اُٹھنے لگے…صدق و وَفا کی خوشبو پھیلنے لگی…تو خرمنِ باطل میں اُداسی چھا گئی…سچ کی صبح نمودار ہوئی…آپ بھی حقائق سے آگہی کے لیے اعلیٰ حضرت کی خدمات کا مطالعہ کیجیے…درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ہوگا:
۱… اُجالا(پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد) مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں/المجمع الاسلامی مبارک پور
۲…امام اہلسنّت (پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد)، مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارک پور
۳…امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات (مولانا یٰسٓ اختر مصباحی) مطبوعہ: دارالقلم دہلی
۴…المیزان کا امام احمد رضا نمبر (قدیم ایڈیشن حضرت سید جیلانی اشرف اشرفی کچھوچھوی نے شائع کیا تھا؛ تازہ ایڈیشن جماعت رضائے مصطفیٰ اورنگ آباد نے شائع کیا ہے۔ )
۵…البریلویہ کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ (مولانا عبدالحکیم شرف قادری) مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
٦…ارشاداتِ اعلیٰ حضرت (مولانا محمد عبدالمبین نعمانی) مطبوعہ اعجاز بکڈپو کلکتہ
۷… جہانِ امام احمد رضا (۲۰؍جلدیں؛مرتب مفتی محمد حنیف خان رضوی) مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف
مطالعہ کی بزم سجائیں…ان شاء اللہ! شَر کی فضا چھٹ جائے گی…خیر کی صبح نمودار ہوگی…نغماتِ رضا گونجتے محسوس ہوں گے…حقائق کی روشنی میں یہ آواز سمتوں میں سُنائی دے گی؎
ڈال دی قلب میں عظمتِ مصطفیٰ ﷺ
سیدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام
٭ ٭ ٭
۲۷؍ جون ۲۰۲۱ء
ترسیل: اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں
noorimission92@gmail.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
مولیٰ کریم!اخلاصِ عمل کے ساتھ غریب پروری کا جذبہ عطا فرمائے
’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کے افتتاح پر جیلانی میاں کا دعائیہ اظہار خیال
اشاعتی وعلمی امور کے ساتھ ہی نوری مشن سے فلاحی خدمات کا سلسلہ دراز
مالیگاؤں: مولیٰ کریم! اِس شفا خانے سے بیماروں کو شفا یابی عطا فرما۔ تاج الشریعہ کلینک کے ذریعے غریبوں، پریشاں حالوں کی دُشواریاں دور فرما۔ فلاحی خدمات کے ذریعے نوری مشن نے جس کام کو شروع کیا ہے اس میں خیر و برکت اور فیض عطا فرما۔ اخلاصِ عمل اور حسنِ نیت کے ساتھ غریبوں کے لیے کام کا جذبہ عطا فرما۔ اس طرح کے دعائیہ کلمات کے ساتھ شہزادۂ غوث اعظم حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں (ممبئی) نے ’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کا افتتاح فرمایا۔ گولڈن نگر پاور ہاؤس کے سامنے قائم اس اِمدادی دواخانہ کا افتتاح ۲۵؍ جون بعد نمازِ جمعہ جیلانی میاں کے دُعا سے عمل میں آیا۔ اس موقع پر آپ نے کہا کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی اور شریعت مصطفیٰ ﷺ پر استقامت کا درس دیا۔ یہاں گلزار خان صاحب نے جیلانی میاں کا استقبال کیا۔ واضح رہے کہ نوری مشن کے ذریعے ۲۰۱۸ء سے ہی انفرادی و اجتماعی سطح پر طبی معاونت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کارواں کو ’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کی شکل میں آگے بڑھایا گیا ہے۔ ازیں قبل مولانا عبیداللہ خان مصباحی (استاذ: جامعہ حنفیہ سنیہ) نے فرمایا کہ ہمیں صحابۂ کرام و سلفِ صالحین کی زندگیوں سے یہ درس ملتا ہے کہ غریبوں کی اعانت کریں۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ان کی مدد کریں۔ حتی المقدور جو کچھ نیک کام ہو سکے وہ انجام دیں۔ حضور تاج الشریعہ نے تصلبِ دینی کا درس دیا اور غریب پروری کا بھی درس دیا۔ آپ سے محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ آپ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس طرح کے کام انجام دیے جائیں۔ نوری مشن نے اشاعتی، علمی و فلاحی رُخ سے مثالی خدمات انجام دیں۔ عرسِ حضور تاج الشریعہ کی نسبت سے افتتاحی تقریب کا آغازحافظ عبدالوکیل رضوی کی تلاوت سے ہوا۔ حافظ محمد اعجاز نے نعت خوانی کی۔ اس موقع پر معززین میں سرکردہ شخصیات موجود تھیں جن میں ڈاکٹر عاطف خان، ڈاکٹر محمد زاہد، انجینئر عابد، غلام مصطفیٰ رضوی وغیرہم شامل ہیں۔ جب کہ انتظامی امور کی انجام دہی میں معین پٹھان رضوی، فرید رضوی، یاسین رضا، محسن پٹھان، عبدالحق مالیگ، شہزاد برکاتی، شیخ شاداب رضوی، سعد رضوی، آصف رضوی، عدنان رضوی، زید رضا شامل ہیں۔
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
27 جون 2021ء
’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کے افتتاح پر جیلانی میاں کا دعائیہ اظہار خیال
اشاعتی وعلمی امور کے ساتھ ہی نوری مشن سے فلاحی خدمات کا سلسلہ دراز
مالیگاؤں: مولیٰ کریم! اِس شفا خانے سے بیماروں کو شفا یابی عطا فرما۔ تاج الشریعہ کلینک کے ذریعے غریبوں، پریشاں حالوں کی دُشواریاں دور فرما۔ فلاحی خدمات کے ذریعے نوری مشن نے جس کام کو شروع کیا ہے اس میں خیر و برکت اور فیض عطا فرما۔ اخلاصِ عمل اور حسنِ نیت کے ساتھ غریبوں کے لیے کام کا جذبہ عطا فرما۔ اس طرح کے دعائیہ کلمات کے ساتھ شہزادۂ غوث اعظم حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں (ممبئی) نے ’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کا افتتاح فرمایا۔ گولڈن نگر پاور ہاؤس کے سامنے قائم اس اِمدادی دواخانہ کا افتتاح ۲۵؍ جون بعد نمازِ جمعہ جیلانی میاں کے دُعا سے عمل میں آیا۔ اس موقع پر آپ نے کہا کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی اور شریعت مصطفیٰ ﷺ پر استقامت کا درس دیا۔ یہاں گلزار خان صاحب نے جیلانی میاں کا استقبال کیا۔ واضح رہے کہ نوری مشن کے ذریعے ۲۰۱۸ء سے ہی انفرادی و اجتماعی سطح پر طبی معاونت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کارواں کو ’’تاج الشریعہ کلینک‘‘ کی شکل میں آگے بڑھایا گیا ہے۔ ازیں قبل مولانا عبیداللہ خان مصباحی (استاذ: جامعہ حنفیہ سنیہ) نے فرمایا کہ ہمیں صحابۂ کرام و سلفِ صالحین کی زندگیوں سے یہ درس ملتا ہے کہ غریبوں کی اعانت کریں۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ ان کی مدد کریں۔ حتی المقدور جو کچھ نیک کام ہو سکے وہ انجام دیں۔ حضور تاج الشریعہ نے تصلبِ دینی کا درس دیا اور غریب پروری کا بھی درس دیا۔ آپ سے محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ آپ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس طرح کے کام انجام دیے جائیں۔ نوری مشن نے اشاعتی، علمی و فلاحی رُخ سے مثالی خدمات انجام دیں۔ عرسِ حضور تاج الشریعہ کی نسبت سے افتتاحی تقریب کا آغازحافظ عبدالوکیل رضوی کی تلاوت سے ہوا۔ حافظ محمد اعجاز نے نعت خوانی کی۔ اس موقع پر معززین میں سرکردہ شخصیات موجود تھیں جن میں ڈاکٹر عاطف خان، ڈاکٹر محمد زاہد، انجینئر عابد، غلام مصطفیٰ رضوی وغیرہم شامل ہیں۔ جب کہ انتظامی امور کی انجام دہی میں معین پٹھان رضوی، فرید رضوی، یاسین رضا، محسن پٹھان، عبدالحق مالیگ، شہزاد برکاتی، شیخ شاداب رضوی، سعد رضوی، آصف رضوی، عدنان رضوی، زید رضا شامل ہیں۔
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں
27 جون 2021ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*اقوالِ حضور اشرف الفقہاء*
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/227676512520877/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
خلیفۂ حضور مفتی اعظم حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی خدمات کی کئی جہتیں ہیں۔ آپ شیریں سخن تھے۔ واعظِ خوش بیاں تھے۔ مسند افتا کی زینت تھے۔ آپ کے اقوال انقلاب بداماں ہوتے- باتیں دل میں اُتر جاتیں۔ جس علاقے میں جاتے؛ گلشنِ اہلِ سُنّت میں بہار آجاتی۔ عشقِ رسول ﷺ کو فروغ ملتا۔ گستاخوں سے دوری پیدا ہوتی۔ گویا آپ اقبالؔ کے اِس شعر کے مصداق تھے؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
آپ کا حرف حرف قندیل ہوتا اور لفظ لفظ خوشبو۔ بولتے تو موتی جھڑتے۔ مسکراتے تو عقیدت فروزاں ہوتی۔ گویا ہوتے تو ایمان کو تازگی ملتی۔ ان کی محافل بھی بڑی پاکیزہ ہوتیں۔ ان کا کردار و گفتار ایک تھا۔ ان کا تقویٰ ہر ہر ادا سے عیاں تھا۔ حضور مفتی اعظم علامہ مصطفیٰ رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی تقویٰ شعار زندگی سے انھیں خاص فیض ملا تھا۔ جہاں جاتے بنجر زمیں باغ و بہار ہو جاتی۔ ان کی محفل میں جو بیٹھتا؛ علم کے موتی لے کر اُٹھتا۔ کتنے ہی بدعقیدہ تائب ہوئے۔ کتنے ہی مشرکین ایمان کی دولت سے باریاب ہوئے۔ ایک ایک قول زندگی میں انقلاب برپا کر دیتا۔
مجھے آج علی الصبح ایک عزیز نے کہا کہ حضور اشرف الفقہاء کے اقوالِ زریں مرتب کر کے عنایت کریں۔ ہجومِ کار کے باوصف حضور اشرف الفقہاء سے نسبت و تعلق کا تقاضا تھا کہ کچھ لکھ دیا جائے تا کہ قسمت کا چمن مہک اُٹھے۔ ویسے بھی راقم غلام مصطفیٰ رضوی پر حضور اشرف الفقہاء کی نوازشات اتنی کہ ’’سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے‘‘ تمام باتیں لکھی جائیں تو صفحات پُر ہو جائیں اور بات ادھوری رہ جائے۔ بہر کیف چند اقوال اس امید پر نقل کر رہا ہوں کہ حضور اشرف الفقہاء کے ان نصائح پر عمل کر کے اپنے عمل کی راہ کو روشن کریں گے۔
*اقوالِ حضور اشرف الفقہاء:*
(1) شریعت کی پیروی میں نجات ہے۔
(2) عزت! مصطفیٰ ﷺ کی گلی میں ملے گی۔ عزت! اللہ کے یہاں ہے، عزت! اللہ کے لیے اور اس کے رسولﷺ کے لیے اور سچے مومنین یعنی غوث و خواجہ اور اولیائے اسلام کے لیے ہے؛ اور ان ہی کے دامن سے وابستگی میں مسلمانوں کی عزت ہے۔
(3) صوفیا کی اصل تعلیمات کی تعبیری اصطلاح مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے۔ صوفی ازم وہی ہے جو عقیدے کی سلامتی کے ساتھ ہو۔ جہاں ملاوٹ نہ ہو بلکہ احکامِ شریعت کی بالادستی ہو۔
(4) قرآن شفا و تندرستی کا منبع ہے۔ قرآن سے رجوع نے مسلمانوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
(5) عقیدہ، احترامِ رسولﷺ اور عبادت... یہ اسلام کے تین ایسے پوائنٹ ہیں کہ جنھیں اپنا لیا جائے تو زندگی کامیاب ہو جائے۔
(6) پابندیِ وقت سے کئی رُخ سے کامیابی پا سکتے ہیں۔ جلسوں کا معیار بھی اِس سے بلند ہوگا۔ زیادہ دیر تک جلسوں کے جاری رکھنے سے فجر میں بعض لوگ کوتاہی کر جاتے ہیں، جلسے وقت پر شروع کر دینے اور وقت پر ختم کر دینے سے نماز اور کاروبار سبھی میں پابندی ہوتی ہے۔
(7) عقائد کی حفاظت کیجیے اور اعمال و عبادات کو بچائیے۔ نمازوں کی پابندی کیجیے اور مسلکِ امام احمد رضا جو عظمت و ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کا نام ہے؛ پر کاربند رہیے۔
(8) نیت اور مقصد نیک ہونا چاہیے۔ بچو! حصولِ علمِ حدیث میں خلوصِ نیت رکھو گے تو بخاری شریف کا فیض حاصل ہوگا۔
(9) مسلک اعلیٰ حضرت کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں اور امام اہلسنّت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں-
(10) موت کی یاد آخرت کی نعمتوں کو یاد دلاتی ہے- موت کی یاد کرو ان شاء اللہ خشیت پیدا ہو گی اور دُنیا سے بے نیاز ہو جاؤ گے۔
(11) پابندیِ شریعت کے لیے مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت ضروری ہے۔
(12) قرآن نے اللہ سے ڈرنے اور تقویٰ کی روِش اختیار کرنے کی تعلیم دی۔
(13) نبی اکرمﷺ سے سچی محبت رکھنے والا سچا ہے۔
(14) زرخیز زمین ہی برکت لاتی ہے اس لیے اپنی نسبت بنجر زمینوں سے نہیں بلکہ اولیائے کرام کی زرخیز بارگاہوں سے استوار کریں،
(15) حسینیت حفاظتِ شریعت کا نام ہے۔
(16) علم و تقویٰ سے سیرت وکردار سنورتے ہیں۔
(17) مساجد کو جبینوں سے آباد کرو۔
(18) دل و نگاہ میں عظمت رسول ﷺ کا نقش جمیل ہوگا توعبادت مقبول ہوگی۔
(19) اسلافِ کرام نے عقیدے کی سلامتی کا پیغام دیا-
(20) مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے اسلاف کے طریقوں پر چلیں-
ان پیغامات میں مختصر جملوں کیسی کیسی نصیحتیں مستور ہیں۔ کاش ہم اپنے اسلاف کی تعلیمات و اقوال کو پڑھیں، سمجھیں، عمل کے گلدستے میں آویزاں کریں۔ یقیناً صحنِ حیات مشک بار ہوگا۔
٭ ٭ ٭
[ماخوذ:پیغام فکر و عمل:خطباتِ حضور اشرف الفقہاء کے آئینے میں، از غلام مصطفیٰ رضوی، نیٹ ایڈیشن ۲۰۲۰ء]
29 جون 2021ء
+91 9325028586
noorimission92@gmail.com
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/227676512520877/
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
خلیفۂ حضور مفتی اعظم حضور اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی خدمات کی کئی جہتیں ہیں۔ آپ شیریں سخن تھے۔ واعظِ خوش بیاں تھے۔ مسند افتا کی زینت تھے۔ آپ کے اقوال انقلاب بداماں ہوتے- باتیں دل میں اُتر جاتیں۔ جس علاقے میں جاتے؛ گلشنِ اہلِ سُنّت میں بہار آجاتی۔ عشقِ رسول ﷺ کو فروغ ملتا۔ گستاخوں سے دوری پیدا ہوتی۔ گویا آپ اقبالؔ کے اِس شعر کے مصداق تھے؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
آپ کا حرف حرف قندیل ہوتا اور لفظ لفظ خوشبو۔ بولتے تو موتی جھڑتے۔ مسکراتے تو عقیدت فروزاں ہوتی۔ گویا ہوتے تو ایمان کو تازگی ملتی۔ ان کی محافل بھی بڑی پاکیزہ ہوتیں۔ ان کا کردار و گفتار ایک تھا۔ ان کا تقویٰ ہر ہر ادا سے عیاں تھا۔ حضور مفتی اعظم علامہ مصطفیٰ رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی تقویٰ شعار زندگی سے انھیں خاص فیض ملا تھا۔ جہاں جاتے بنجر زمیں باغ و بہار ہو جاتی۔ ان کی محفل میں جو بیٹھتا؛ علم کے موتی لے کر اُٹھتا۔ کتنے ہی بدعقیدہ تائب ہوئے۔ کتنے ہی مشرکین ایمان کی دولت سے باریاب ہوئے۔ ایک ایک قول زندگی میں انقلاب برپا کر دیتا۔
مجھے آج علی الصبح ایک عزیز نے کہا کہ حضور اشرف الفقہاء کے اقوالِ زریں مرتب کر کے عنایت کریں۔ ہجومِ کار کے باوصف حضور اشرف الفقہاء سے نسبت و تعلق کا تقاضا تھا کہ کچھ لکھ دیا جائے تا کہ قسمت کا چمن مہک اُٹھے۔ ویسے بھی راقم غلام مصطفیٰ رضوی پر حضور اشرف الفقہاء کی نوازشات اتنی کہ ’’سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے‘‘ تمام باتیں لکھی جائیں تو صفحات پُر ہو جائیں اور بات ادھوری رہ جائے۔ بہر کیف چند اقوال اس امید پر نقل کر رہا ہوں کہ حضور اشرف الفقہاء کے ان نصائح پر عمل کر کے اپنے عمل کی راہ کو روشن کریں گے۔
*اقوالِ حضور اشرف الفقہاء:*
(1) شریعت کی پیروی میں نجات ہے۔
(2) عزت! مصطفیٰ ﷺ کی گلی میں ملے گی۔ عزت! اللہ کے یہاں ہے، عزت! اللہ کے لیے اور اس کے رسولﷺ کے لیے اور سچے مومنین یعنی غوث و خواجہ اور اولیائے اسلام کے لیے ہے؛ اور ان ہی کے دامن سے وابستگی میں مسلمانوں کی عزت ہے۔
(3) صوفیا کی اصل تعلیمات کی تعبیری اصطلاح مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے۔ صوفی ازم وہی ہے جو عقیدے کی سلامتی کے ساتھ ہو۔ جہاں ملاوٹ نہ ہو بلکہ احکامِ شریعت کی بالادستی ہو۔
(4) قرآن شفا و تندرستی کا منبع ہے۔ قرآن سے رجوع نے مسلمانوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
(5) عقیدہ، احترامِ رسولﷺ اور عبادت... یہ اسلام کے تین ایسے پوائنٹ ہیں کہ جنھیں اپنا لیا جائے تو زندگی کامیاب ہو جائے۔
(6) پابندیِ وقت سے کئی رُخ سے کامیابی پا سکتے ہیں۔ جلسوں کا معیار بھی اِس سے بلند ہوگا۔ زیادہ دیر تک جلسوں کے جاری رکھنے سے فجر میں بعض لوگ کوتاہی کر جاتے ہیں، جلسے وقت پر شروع کر دینے اور وقت پر ختم کر دینے سے نماز اور کاروبار سبھی میں پابندی ہوتی ہے۔
(7) عقائد کی حفاظت کیجیے اور اعمال و عبادات کو بچائیے۔ نمازوں کی پابندی کیجیے اور مسلکِ امام احمد رضا جو عظمت و ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کا نام ہے؛ پر کاربند رہیے۔
(8) نیت اور مقصد نیک ہونا چاہیے۔ بچو! حصولِ علمِ حدیث میں خلوصِ نیت رکھو گے تو بخاری شریف کا فیض حاصل ہوگا۔
(9) مسلک اعلیٰ حضرت کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں اور امام اہلسنّت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں-
(10) موت کی یاد آخرت کی نعمتوں کو یاد دلاتی ہے- موت کی یاد کرو ان شاء اللہ خشیت پیدا ہو گی اور دُنیا سے بے نیاز ہو جاؤ گے۔
(11) پابندیِ شریعت کے لیے مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت ضروری ہے۔
(12) قرآن نے اللہ سے ڈرنے اور تقویٰ کی روِش اختیار کرنے کی تعلیم دی۔
(13) نبی اکرمﷺ سے سچی محبت رکھنے والا سچا ہے۔
(14) زرخیز زمین ہی برکت لاتی ہے اس لیے اپنی نسبت بنجر زمینوں سے نہیں بلکہ اولیائے کرام کی زرخیز بارگاہوں سے استوار کریں،
(15) حسینیت حفاظتِ شریعت کا نام ہے۔
(16) علم و تقویٰ سے سیرت وکردار سنورتے ہیں۔
(17) مساجد کو جبینوں سے آباد کرو۔
(18) دل و نگاہ میں عظمت رسول ﷺ کا نقش جمیل ہوگا توعبادت مقبول ہوگی۔
(19) اسلافِ کرام نے عقیدے کی سلامتی کا پیغام دیا-
(20) مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے اسلاف کے طریقوں پر چلیں-
ان پیغامات میں مختصر جملوں کیسی کیسی نصیحتیں مستور ہیں۔ کاش ہم اپنے اسلاف کی تعلیمات و اقوال کو پڑھیں، سمجھیں، عمل کے گلدستے میں آویزاں کریں۔ یقیناً صحنِ حیات مشک بار ہوگا۔
٭ ٭ ٭
[ماخوذ:پیغام فکر و عمل:خطباتِ حضور اشرف الفقہاء کے آئینے میں، از غلام مصطفیٰ رضوی، نیٹ ایڈیشن ۲۰۲۰ء]
29 جون 2021ء
+91 9325028586
noorimission92@gmail.com
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
نبی کی کہانی سناؤ !!
غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
رات کو سونے سے پہلے ہمارے بچے زنیرہ فاطمہ اور محمد(اریب مصطفیٰ)یہ پیاری سی فرمائش کرنا نہیں بھولتے؛
"ابو، نبی کی کہانی سناؤ"
صدیوں سے ہمارے معاشرے میں بچوں کو کہانی سنانے کی رسم چلی آرہی ہے، شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچوں کو کہانی نہ سنائی جاتی ہو، یا بچے گھر والوں سے کہانی سنانے کی فرمائش نہ کرتے ہوں، کیوں کہ جب تک کہانی نہ سنائی جائے بچوں کو نیند نہیں آتی:
ایک ہاتھی، ایک راجہ، ایک رانی کے بغیر
نیند بچوں کو نہیں آتی، کہانی کے بغیر
___کہانیاں ہماری تہذیب وثقافت کا اہم حصہ ہیں۔دنیا کی ہر تہذیب میں قصہ گوئی کی روایت موجود رہی ہے۔عام طور پر کہانی سنانے کی ذمہ داری دادا دادی یا نانا نانی کے حصے میں آتی ہے۔ایک تو ان کے پاس فرصت کی کمی نہیں ہوتی دوسرے بچوں کے مزاج سے ان کی ہم آہنگی بھی جلد ہوجاتی ہے۔کبھی کبھی یہ ذمہ داری خالہ/پھوپھی اور ماں باپ بھی نبھا لیا کرتے ہیں۔
عموماً کہانیاں بچوں کو بہلانے کے لیے سنائی جاتی ہیں لیکن کہانیاں سنانے کا بنیادی مقصد بچوں کی تربیت اور ان کی ذہنی نشوونما ہونا چاہیے، تاکہ بچے کھیل کھیل میں ان چیزوں کو سیکھ جائیں جو ان کی فکرو شخصیت کا لازمی حصہ بن جائیں تاکہ جب وہ شعور سنبھالیں تو یہ چیزیں ان کی طبیعت میں رچ بس چکی ہوں۔مشہور مفکر ارسطو کا کہنا تھا؛
"ادب اور کہانیاں صرف انسانوں کی تفریح کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کا سبق سکھانے اور قاعدے قانون بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔"
عام طور پر ہمارے معاشرے میں بچوں کو پریوں، راجہ، رانی، بھوت پریت اور فرضی کہانیاں سنانے کا رواج زیادہ ہے، مگر اسلام نے اس حوالے سے بھی ہماری اچھی رہنمائی کی ہے،اللہ تعالیٰ نے قصہ گوئی کو فکر و تدبر اور عبرت ونصیحت کا ذریعہ قرار دیا ہے؛
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ(يوسف:١١١)
"بیشک ان کے قصوں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں"
فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ(الاعراف:١٧٦)
"تو تم نصیحت(دینے والی کہانی) سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں۔"
یعنی بچوں کی ذہنی صلاحیت کے مد نظر ایسے قصے کہانیاں سنائی جائیں جن میں واقعات کے ساتھ اعتقادی واصلاحی فکر، نظریاتی تبلیغ اور معاشرتی اچھائیوں کا پہلو بھی شامل ہو تو اس سے بچوں کی ذہنی تفریح بھی ہوگی اور کہانی کہانی میں اخلاقی اور نظریاتی طور پر بھی پختہ ہوتے جائیں گے۔
کہانی سنانے کا فائدہ
بچے جب دنیا میں آتے ہیں تو ان کا دل ودماغ ہر نقش وصورت سے خالی اور کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔وہ اپنے آس پاس کا ماحول دیکھتے ہیں اور قریب کی آوازوں کو سنتے ہیں، دیکھ کر اور سن کر ہی وہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق بچے کسی بھی چیز کو تین طرح سے سیکھتے ہیں:
1، دیکھ کر
2، سن کر
3،حرکت کرکے
امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"بچہ والدین کے پاس امانت ہے، اس کا پاک دل ایک ایسا جوہرِ نایاب ہے جو ہر نقش و صورت سے خالی ہے لہٰذا وہ ہر نقش کو قبول کرنے والا اور جس طرف اسے مائل کیا جائے اس کی طرف مائل ہو جانے والا ہے۔اگر اسےاچھی باتوں کی عادت ڈالی جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کی جائے تو اسی پر اس کی نَشْوو نَما ہوتی ہے،جس کے باعث وہ دُنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جاتا ہے۔(احیاء العلوم)
یعنی بچے کی ذہنی ڈوائس پوری طرح بلینک(Blank) ہوتی ہے، اس کے آس پاس جیسا پروگرام ایکٹو ہوتا ہے بچے کی میموری میں ویسا ہی پروگرام انسٹال ہوجاتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچے کے ارد گرد ایسا ماحول بنائیں جو اس کی ذہنی نشوونما کو اچھی طرح ڈیولپ کرے تاکہ بچہ کی شخصیت نکھر کر سامنے آئے۔
جرنل آرکائیوز آف ڈیزیز ان چائلڈ ہڈ(Journal Archives of Diseases in childhood) نامی میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کہانیاں بچے میں سوچنے کی صلاحیت کو مہمیز کرتی ہیں جبکہ ان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔علاوہ ازیں بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ان کی زبان بھی بہتر ہوتی ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کہانیاں سننے کے برعکس جو بچے رات سونے سے قبل ٹی وی دیکھتے ہیں، یا اسمارٹ فون، کمپیوٹر یا ویڈیوز گیمز کھلتے ہیں انہیں سونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
__بچوں کی تربیت کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہماری رہنمائی فرماتا ہے:
أَدِّبُوا أَولَادَكُم على ثَلاثِ خِصَالٍ: حُبِّ نَبِيِّكُم، وَحُبِّ أَهلِ بَيتِهِ، وَقِرَاءَةِ القُرآنِ، (الجَامِعِ الصَّغِيرِ، وأَخرَجَهُ الدَّيلَمِيُّ في الفِردَوسِ)
"آقائے کریم ﷺفرماتے ہیں:اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ، اپنے نبی کی محبت، اہل بیت کی محبت اور قرآن کی محبت۔"
صالحین کا قول ہے:
علم ولدك القرآن والقرآن سيعلمه كل شئی۔
"اپنی اولاد کو قرآن سکھاؤ قرآن اسے سب کچھ سکھا دے گا۔"
غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
رات کو سونے سے پہلے ہمارے بچے زنیرہ فاطمہ اور محمد(اریب مصطفیٰ)یہ پیاری سی فرمائش کرنا نہیں بھولتے؛
"ابو، نبی کی کہانی سناؤ"
صدیوں سے ہمارے معاشرے میں بچوں کو کہانی سنانے کی رسم چلی آرہی ہے، شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچوں کو کہانی نہ سنائی جاتی ہو، یا بچے گھر والوں سے کہانی سنانے کی فرمائش نہ کرتے ہوں، کیوں کہ جب تک کہانی نہ سنائی جائے بچوں کو نیند نہیں آتی:
ایک ہاتھی، ایک راجہ، ایک رانی کے بغیر
نیند بچوں کو نہیں آتی، کہانی کے بغیر
___کہانیاں ہماری تہذیب وثقافت کا اہم حصہ ہیں۔دنیا کی ہر تہذیب میں قصہ گوئی کی روایت موجود رہی ہے۔عام طور پر کہانی سنانے کی ذمہ داری دادا دادی یا نانا نانی کے حصے میں آتی ہے۔ایک تو ان کے پاس فرصت کی کمی نہیں ہوتی دوسرے بچوں کے مزاج سے ان کی ہم آہنگی بھی جلد ہوجاتی ہے۔کبھی کبھی یہ ذمہ داری خالہ/پھوپھی اور ماں باپ بھی نبھا لیا کرتے ہیں۔
عموماً کہانیاں بچوں کو بہلانے کے لیے سنائی جاتی ہیں لیکن کہانیاں سنانے کا بنیادی مقصد بچوں کی تربیت اور ان کی ذہنی نشوونما ہونا چاہیے، تاکہ بچے کھیل کھیل میں ان چیزوں کو سیکھ جائیں جو ان کی فکرو شخصیت کا لازمی حصہ بن جائیں تاکہ جب وہ شعور سنبھالیں تو یہ چیزیں ان کی طبیعت میں رچ بس چکی ہوں۔مشہور مفکر ارسطو کا کہنا تھا؛
"ادب اور کہانیاں صرف انسانوں کی تفریح کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کا سبق سکھانے اور قاعدے قانون بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔"
عام طور پر ہمارے معاشرے میں بچوں کو پریوں، راجہ، رانی، بھوت پریت اور فرضی کہانیاں سنانے کا رواج زیادہ ہے، مگر اسلام نے اس حوالے سے بھی ہماری اچھی رہنمائی کی ہے،اللہ تعالیٰ نے قصہ گوئی کو فکر و تدبر اور عبرت ونصیحت کا ذریعہ قرار دیا ہے؛
لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ(يوسف:١١١)
"بیشک ان کے قصوں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں"
فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ(الاعراف:١٧٦)
"تو تم نصیحت(دینے والی کہانی) سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں۔"
یعنی بچوں کی ذہنی صلاحیت کے مد نظر ایسے قصے کہانیاں سنائی جائیں جن میں واقعات کے ساتھ اعتقادی واصلاحی فکر، نظریاتی تبلیغ اور معاشرتی اچھائیوں کا پہلو بھی شامل ہو تو اس سے بچوں کی ذہنی تفریح بھی ہوگی اور کہانی کہانی میں اخلاقی اور نظریاتی طور پر بھی پختہ ہوتے جائیں گے۔
کہانی سنانے کا فائدہ
بچے جب دنیا میں آتے ہیں تو ان کا دل ودماغ ہر نقش وصورت سے خالی اور کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔وہ اپنے آس پاس کا ماحول دیکھتے ہیں اور قریب کی آوازوں کو سنتے ہیں، دیکھ کر اور سن کر ہی وہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ماہرین کے مطابق بچے کسی بھی چیز کو تین طرح سے سیکھتے ہیں:
1، دیکھ کر
2، سن کر
3،حرکت کرکے
امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"بچہ والدین کے پاس امانت ہے، اس کا پاک دل ایک ایسا جوہرِ نایاب ہے جو ہر نقش و صورت سے خالی ہے لہٰذا وہ ہر نقش کو قبول کرنے والا اور جس طرف اسے مائل کیا جائے اس کی طرف مائل ہو جانے والا ہے۔اگر اسےاچھی باتوں کی عادت ڈالی جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کی جائے تو اسی پر اس کی نَشْوو نَما ہوتی ہے،جس کے باعث وہ دُنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جاتا ہے۔(احیاء العلوم)
یعنی بچے کی ذہنی ڈوائس پوری طرح بلینک(Blank) ہوتی ہے، اس کے آس پاس جیسا پروگرام ایکٹو ہوتا ہے بچے کی میموری میں ویسا ہی پروگرام انسٹال ہوجاتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچے کے ارد گرد ایسا ماحول بنائیں جو اس کی ذہنی نشوونما کو اچھی طرح ڈیولپ کرے تاکہ بچہ کی شخصیت نکھر کر سامنے آئے۔
جرنل آرکائیوز آف ڈیزیز ان چائلڈ ہڈ(Journal Archives of Diseases in childhood) نامی میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کہانیاں بچے میں سوچنے کی صلاحیت کو مہمیز کرتی ہیں جبکہ ان کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔علاوہ ازیں بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ان کی زبان بھی بہتر ہوتی ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کہانیاں سننے کے برعکس جو بچے رات سونے سے قبل ٹی وی دیکھتے ہیں، یا اسمارٹ فون، کمپیوٹر یا ویڈیوز گیمز کھلتے ہیں انہیں سونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
__بچوں کی تربیت کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہماری رہنمائی فرماتا ہے:
أَدِّبُوا أَولَادَكُم على ثَلاثِ خِصَالٍ: حُبِّ نَبِيِّكُم، وَحُبِّ أَهلِ بَيتِهِ، وَقِرَاءَةِ القُرآنِ، (الجَامِعِ الصَّغِيرِ، وأَخرَجَهُ الدَّيلَمِيُّ في الفِردَوسِ)
"آقائے کریم ﷺفرماتے ہیں:اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ، اپنے نبی کی محبت، اہل بیت کی محبت اور قرآن کی محبت۔"
صالحین کا قول ہے:
علم ولدك القرآن والقرآن سيعلمه كل شئی۔
"اپنی اولاد کو قرآن سکھاؤ قرآن اسے سب کچھ سکھا دے گا۔"
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
__کئی بار لوگ یہ سوچتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کو کس طرح سکھایا جائے؟ ابتداً میں بھی یہی سوچا کرتا تھا مگر پھر سوچا کہ جب ہم بچوں کو گود میں کِھلاتے ہیں یا گلے سے لگا کر تھپ تھپاتے ہیں تو "میرا گڈا کتنا پیارا، میرا بابو کتنا سوہنا، میرے مُنے سَو جا، میرا راجہ کتنا اچھا" جیسے جملے ضرور دہراتے ہیں تو اس وقت انہیں قرآن کی تلاوت یا نعت مصطفیٰ سنانے میں کیا پریشانی ہے؟بس اس کے بعد فقیر نے اپنے بچوں کو قرآن/نعت سنانا معمول بنا لیا۔کئی بار تو ایسا ہوتا کہ رات کے کسی پہر بچے رونا شروع کرتے، ان کی والدہ جب خاموش کراتے تھک جاتیں تو ہمیں اٹھا کر بچے سونپ دیتیں اور خود فری ہوجاتیں، اس وقت بچوں کو سورہ فاتحہ ، سورہ اخلاص ، سورہ یٰسین وغیرہ سنانا شروع کردیتا اور بچے پر سکون ہوجاتے، سنتے سنتے ہی سو جایا کرتے تھے۔جب بچوں نے بولنا شروع کیا تو فقیر نے حضور نبی اکرم ﷺ کے سیرت پاک کے چنندہ واقعات کہانی کے طور پر سنانا شروع کیے، اس ضمن میں حضور کی بچوں سے محبت، حضرت عائشہ کی سوئی کھونے کا واقعہ، ہرنی کے جال میں پھنسنے کا واقعہ، بچوں کے اذان کی نقل اتارنے کا واقعہ، صحابی کے اونٹ کا واقعہ، جیسے درجنوں واقعات سنا چکا ہوں اور لگاتار سناتا رہتا ہوں، کچھ واقعات لگاتار دہراتا بھی ہوں اس کا نتیجہ یہ آیا کہ اب بچے خود فرمائش کرتے ہیں۔دو روز پہلے میں نے بڑے شہزادے محمد میاں سے کہا کہ آج آپ مجھے نبی کی کہانی سناؤ۔
مجھے بے حد خوشی ہوئی جب ہمارے ڈھائی سالہ بیٹے نے اپنے انداز میں ہرنی کا پورا واقعہ سنا ڈالا، یعنی بچے کو جو سنایا گیا وہ ضائع نہیں گیا بلکہ اس کے دل ودماغ میں پیوست ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے اب یہ فرمائش بھی کرنے لگے ہیں کہ:
"ابو، نبی کے شہر لیکر چلو!
اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہی نہیں یقین کامل ہے کہ ہمارے بچوں کی خواہش ایک دن ضرور بالضرور حرمین شریفین کی زیارت کا موقع فراہم کرے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
کہانی سنانے کے طریقے
بچے چونکہ تشکیلی دور میں ہوتے ہیں اس لیے ادیبانہ اور فلسفیانہ انداز کو بالکل نہیں سمجھ پائیں گے اس لیے انہیں سمجھانے کے لیے سادہ اور عام فہم الفاظ اور انداز کی ضرورت ہے، چند طریقے جو مفید ثابت ہوسکتے ہیں:
🔸 سادہ الفاظ استعمال کریں، تاکہ بچے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
🔸 فطری لہجے میں ہی کہانی سنائیں، بناوٹی اور مصنوعی انداز اختیار نہ کریں۔
🔸 بچے کے تاثرات اور ہاؤ بھاؤ پر نظر رکھیں کہ وہ توجہ سے سن رہا ہے کہ نہیں، تاکہ اس کی دل چسپی کا پتا چل سکے۔
🔸 بچے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہانی کے الفاظ و انداز میں ہلکی پھلکی تبدیلی بھی کرتے رہیں تاکہ دل چسپی بنی رہے۔
🔸کہانی کے اختتام پر اس کا خلاصہ یا کہانی میں موجود سبق ضرور بتائیں۔
رات کو سونے سے قبل بچے کے ساتھ کچھ وقت ضرور گزاریں اس سے بچوں اور والدین کے تعلق مضبوط ہوتے ہیں۔اس وقت والدین تمام بیرونی سرگرمیوں اور دیگر افراد سے دور صرف اپنے بچے کے ساتھ ہوتے ہیں جو ان میں تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے، ایسے موقع پر والدین موبائل، ٹی وی میں نہ لگے رہیں، بچوں کے ساتھ کھیلیں، بات کریں، ہنسیں اور انہیں ایسی کہانیاں سنائیں جو ان کی تفریح کے ساتھ شخصیت سازی بھی کریں، بہ حیثیت والدین یہ ہماری ذمہ داری اور بچوں کا حق ہے۔
١٨ ذوالقعدہ ١٤٤٢ھ
30 جون 2021 بروز بدھ
مجھے بے حد خوشی ہوئی جب ہمارے ڈھائی سالہ بیٹے نے اپنے انداز میں ہرنی کا پورا واقعہ سنا ڈالا، یعنی بچے کو جو سنایا گیا وہ ضائع نہیں گیا بلکہ اس کے دل ودماغ میں پیوست ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے اب یہ فرمائش بھی کرنے لگے ہیں کہ:
"ابو، نبی کے شہر لیکر چلو!
اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہی نہیں یقین کامل ہے کہ ہمارے بچوں کی خواہش ایک دن ضرور بالضرور حرمین شریفین کی زیارت کا موقع فراہم کرے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
کہانی سنانے کے طریقے
بچے چونکہ تشکیلی دور میں ہوتے ہیں اس لیے ادیبانہ اور فلسفیانہ انداز کو بالکل نہیں سمجھ پائیں گے اس لیے انہیں سمجھانے کے لیے سادہ اور عام فہم الفاظ اور انداز کی ضرورت ہے، چند طریقے جو مفید ثابت ہوسکتے ہیں:
🔸 سادہ الفاظ استعمال کریں، تاکہ بچے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
🔸 فطری لہجے میں ہی کہانی سنائیں، بناوٹی اور مصنوعی انداز اختیار نہ کریں۔
🔸 بچے کے تاثرات اور ہاؤ بھاؤ پر نظر رکھیں کہ وہ توجہ سے سن رہا ہے کہ نہیں، تاکہ اس کی دل چسپی کا پتا چل سکے۔
🔸 بچے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہانی کے الفاظ و انداز میں ہلکی پھلکی تبدیلی بھی کرتے رہیں تاکہ دل چسپی بنی رہے۔
🔸کہانی کے اختتام پر اس کا خلاصہ یا کہانی میں موجود سبق ضرور بتائیں۔
رات کو سونے سے قبل بچے کے ساتھ کچھ وقت ضرور گزاریں اس سے بچوں اور والدین کے تعلق مضبوط ہوتے ہیں۔اس وقت والدین تمام بیرونی سرگرمیوں اور دیگر افراد سے دور صرف اپنے بچے کے ساتھ ہوتے ہیں جو ان میں تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے، ایسے موقع پر والدین موبائل، ٹی وی میں نہ لگے رہیں، بچوں کے ساتھ کھیلیں، بات کریں، ہنسیں اور انہیں ایسی کہانیاں سنائیں جو ان کی تفریح کے ساتھ شخصیت سازی بھی کریں، بہ حیثیت والدین یہ ہماری ذمہ داری اور بچوں کا حق ہے۔
١٨ ذوالقعدہ ١٤٤٢ھ
30 جون 2021 بروز بدھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تفسیر_تبیان_القرآن_کی_خصوصیات_و_انفرادیت
تفیسر تبیان القرآن حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ ایک منفرد تفسیر ہے تبیان القرآن دور حاضر کی نہایت جامع اور کامل تفسیر ہے --
علامہ صاحب اپنی تفیسر کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ تبیان القرآن لکھنے کا داعی اور باعث یہ تھا کہ شرح مسلم لکھنے کے دوران جب آیات آتیں میں ان کے تراجم دیکھتا تو میں نے محسوس کیا کہ قرآن مجید کے ترجمے کا حق کسی نے ادا نہیں کیا چنانچہ میں نے تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا --
( ١ ) اس تفیسر کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آیات کا لفظی ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے
( ٢ ) اس تفسیر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جن آیات میں احکام اور مسائل کا ذکر ہے ان کی تفسیر میں ائمہ اربعہ کے فقہی نظریات کا ذکر ان کے دلائل کے ساتھ کرنے کے بعد فقہ حنفی کو ترجیح دی گئی ہے نیز بعض مقامات پر ائمہ اربع کے ساتھ ساتھ دیگر مذاھب کے بھی فقہی نظریات کا ذکر کیا گیا ہے
( ٣ ) اس تفسیر کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام مذاھب کے نظریات کا ذکر ان کی اصل کتب سے مکمل حوالہ جات کے ساتھ کیا گیا ہے یہاں تک کہ سن طباعت تک درج کیا گیا ہے
( ۴ ) اس کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ دیگر اردو و عربی تفاسیر کے مقابل اس تفسیر میں کثرت سے احادیث پاک و اثار کو ان کی مکمل تخریج و حوالہ جات کے ساتھ کوڈ کیا گیا ہے
( ۵ ) اس تفسیر کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عصر حاضر کے تمام اختلافی مسائل نیز جدید مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے
( ٦ ) اس تفسیر کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بعض اختلافی اعتقادی و فقہی مسائل میں ماضی قریب کے مفکرین کی آرا کو بھی نقل کیا گیا ہے بعدہ مصنف نے اپنے موقف کو دلائل سے ثابت کیا ہے
( ٧ ) اس تفسیر کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی طرف سے کئے جانے والے قدیم و جدید اعتراضات کے شافی جوابات دئے گئے ہیں مثلًا تعدد ازواج ' عام مسلم کو چار نکاح کی اجازت تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سے زائد نکاح کیوں کئے ، اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی ، حلالہ ، وغیرہا مسائل پر نقلی و عقلی دلائل سے شافی جوابات دئے گئے ہیں --
( ٨ ) اس تفسیر کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں معمولات اہل سنت و افکار رضا کو دلائل و براہین سے ثابت کیا گیا ہے مثلًا علم غیب مصطفے ، اختیارات مصطفے ، ندائے یا رسول اللہ ، عقیدہ توسل ، عقیدہ شفاعت ، حیات النبی ، تعویذات کے ذریعہ علاج وغیرہ مسائل کو دلائل سے ثابت کیا گیا نیز فرقہ باطلہ کا رد بلیغ بھی کیا گیا ہے --
( ٩ ) اس تفسیر کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہایت ہی معتدل زبان استعمال کی گئی ہے نہ کہ اتنی پے چیدہ کہ عام اردو داں طبقے کے سمجھ سے باہر ہو اور نہ ہی اتنی آسان کہ خواص دور ہو جائیں بلکہ یہ تفسیر عوام و خواص دونوں کے لئے مفید ہے
( ١٠ ) اس تفسیر کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں چار سو سے زائد کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے جس میں کتب سماویہ ، کتب تفسیر ، کتب حدیث ، کتب شروح احادیث ، کتب فقہ اربعہ ، کتب فرقہ باطلہ , کتب اسماءالرجال ، کتب تاریخ و سیر ، کتب اصول فقہ ، کتب عقائد و کلام ، کتب شیعہ ، کتب لغت وغیرہ شامل ہیں --
( ١١ ) بنیادی طور پر تفسیر تبیان القرآن تمام تفاسیر کا عطر تحقیق و تفسیری انسائکلوپیڈیا ہے جو کہ بارہ مجلدات میں پھیلا ہوا ہے ہر جلد ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے --
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ :27: جون 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=846388715979347&id=100018246788149
تفیسر تبیان القرآن حضرت علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ ایک منفرد تفسیر ہے تبیان القرآن دور حاضر کی نہایت جامع اور کامل تفسیر ہے --
علامہ صاحب اپنی تفیسر کے تعلق سے فرماتے ہیں کہ تبیان القرآن لکھنے کا داعی اور باعث یہ تھا کہ شرح مسلم لکھنے کے دوران جب آیات آتیں میں ان کے تراجم دیکھتا تو میں نے محسوس کیا کہ قرآن مجید کے ترجمے کا حق کسی نے ادا نہیں کیا چنانچہ میں نے تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا --
( ١ ) اس تفیسر کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آیات کا لفظی ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے
( ٢ ) اس تفسیر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جن آیات میں احکام اور مسائل کا ذکر ہے ان کی تفسیر میں ائمہ اربعہ کے فقہی نظریات کا ذکر ان کے دلائل کے ساتھ کرنے کے بعد فقہ حنفی کو ترجیح دی گئی ہے نیز بعض مقامات پر ائمہ اربع کے ساتھ ساتھ دیگر مذاھب کے بھی فقہی نظریات کا ذکر کیا گیا ہے
( ٣ ) اس تفسیر کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام مذاھب کے نظریات کا ذکر ان کی اصل کتب سے مکمل حوالہ جات کے ساتھ کیا گیا ہے یہاں تک کہ سن طباعت تک درج کیا گیا ہے
( ۴ ) اس کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ دیگر اردو و عربی تفاسیر کے مقابل اس تفسیر میں کثرت سے احادیث پاک و اثار کو ان کی مکمل تخریج و حوالہ جات کے ساتھ کوڈ کیا گیا ہے
( ۵ ) اس تفسیر کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عصر حاضر کے تمام اختلافی مسائل نیز جدید مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے
( ٦ ) اس تفسیر کی چھٹویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بعض اختلافی اعتقادی و فقہی مسائل میں ماضی قریب کے مفکرین کی آرا کو بھی نقل کیا گیا ہے بعدہ مصنف نے اپنے موقف کو دلائل سے ثابت کیا ہے
( ٧ ) اس تفسیر کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی طرف سے کئے جانے والے قدیم و جدید اعتراضات کے شافی جوابات دئے گئے ہیں مثلًا تعدد ازواج ' عام مسلم کو چار نکاح کی اجازت تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سے زائد نکاح کیوں کئے ، اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی ، حلالہ ، وغیرہا مسائل پر نقلی و عقلی دلائل سے شافی جوابات دئے گئے ہیں --
( ٨ ) اس تفسیر کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں معمولات اہل سنت و افکار رضا کو دلائل و براہین سے ثابت کیا گیا ہے مثلًا علم غیب مصطفے ، اختیارات مصطفے ، ندائے یا رسول اللہ ، عقیدہ توسل ، عقیدہ شفاعت ، حیات النبی ، تعویذات کے ذریعہ علاج وغیرہ مسائل کو دلائل سے ثابت کیا گیا نیز فرقہ باطلہ کا رد بلیغ بھی کیا گیا ہے --
( ٩ ) اس تفسیر کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہایت ہی معتدل زبان استعمال کی گئی ہے نہ کہ اتنی پے چیدہ کہ عام اردو داں طبقے کے سمجھ سے باہر ہو اور نہ ہی اتنی آسان کہ خواص دور ہو جائیں بلکہ یہ تفسیر عوام و خواص دونوں کے لئے مفید ہے
( ١٠ ) اس تفسیر کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں چار سو سے زائد کتب اسلاف سے استفادہ کیا گیا ہے جس میں کتب سماویہ ، کتب تفسیر ، کتب حدیث ، کتب شروح احادیث ، کتب فقہ اربعہ ، کتب فرقہ باطلہ , کتب اسماءالرجال ، کتب تاریخ و سیر ، کتب اصول فقہ ، کتب عقائد و کلام ، کتب شیعہ ، کتب لغت وغیرہ شامل ہیں --
( ١١ ) بنیادی طور پر تفسیر تبیان القرآن تمام تفاسیر کا عطر تحقیق و تفسیری انسائکلوپیڈیا ہے جو کہ بارہ مجلدات میں پھیلا ہوا ہے ہر جلد ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے --
محمد توصیف رضا ( کالپی شریف )
جاری کردہ :27: جون 2021
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=846388715979347&id=100018246788149
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پیارا گاؤں
🔹 گاؤں کی زندگی شہر کی بنسبت بہترین اور پرسکون ہوتی ہے۔ ہرچند کے یہاں شہر کی طرح سہولیات میسر نہیں ہوتی، مگر گاؤں کی آب و ہوا، سادگی، اپنائیت، معصومیت، ان سب چیزوں کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔
🔹 گاؤں کی زندگی مختلف قسم کی آلودگی مثلا صوتی آلودگی، بصری آلودگی، اور ہوا کی آلودگی سے پاک و صاف ہوتی ہے۔ گاؤں کی صبح و شام کا خوبصورت منظر دیکھ کر خوشی وامان کی کیفیت طاری ہوتی ہے، اور ہم اپنے فطرت کے بہت قریب ہوتے ہیں۔
🔹 گاؤں کی زندگی میں ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، گرم دل اور ہر وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں ۔
🔹 اخلاق ،محبت، ہمدردی، اخلاص، صبروشکر ،تعاون گاؤں کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔
مگر افسوس یہ سب باتیں ماضی کا حصہ بنتا جارہا ہے۔
اور دنیا کی موجودہ تیز رفتار ترقی کی وجہ سے ہر چیز میں تبدیلی آرہی ہے۔
اور ہم اچھائی کو کم اور خرابی کو زیادہ قبول کر رہے ہیں ۔اور وہ باغ و بہار سب ختم ہوتا جا رہا ہے۔
🔹 زیر نظر یہ تصویر ہمارے گاؤں نان پور (ضلع سیتامڑھی، بہار) کی ہے اور نظر آنے والا یہ دروازہ ایک تاریخی دروازہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: "الہ آباد (یوپی)کے رہنے والے چودھری مہادیو پرساد نے تقریبا 1890ء میں ایک خوبصورت محل، سنگ مرمر سے بنا شیوالہ اور اس سے متصل ایک بھول بھلیا کی تعمیر کروائ۔اور ساتھ میں ایک پکے تالاب کی بھی تعمیر کروائ۔
اور کہا جاتا ہے اس وقت چودھری مہادیو پرساد کا نان پور سمیت 26۔27گاؤں ان کی ملکیت میں تھا۔
لیکن 1937ءکے زلزلے میں سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا اور پھر دوبارہ اس کی تعبیر نہیں ہو پائی۔
مگر تالاب، دروازہ اور کچھ نشانات ابھی باقی ہیں۔
محمد صبغۃاللہ رضوانی
30/جون2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2964020557199527&id=100007748358884
🔹 گاؤں کی زندگی شہر کی بنسبت بہترین اور پرسکون ہوتی ہے۔ ہرچند کے یہاں شہر کی طرح سہولیات میسر نہیں ہوتی، مگر گاؤں کی آب و ہوا، سادگی، اپنائیت، معصومیت، ان سب چیزوں کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔
🔹 گاؤں کی زندگی مختلف قسم کی آلودگی مثلا صوتی آلودگی، بصری آلودگی، اور ہوا کی آلودگی سے پاک و صاف ہوتی ہے۔ گاؤں کی صبح و شام کا خوبصورت منظر دیکھ کر خوشی وامان کی کیفیت طاری ہوتی ہے، اور ہم اپنے فطرت کے بہت قریب ہوتے ہیں۔
🔹 گاؤں کی زندگی میں ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، گرم دل اور ہر وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں ۔
🔹 اخلاق ،محبت، ہمدردی، اخلاص، صبروشکر ،تعاون گاؤں کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔
مگر افسوس یہ سب باتیں ماضی کا حصہ بنتا جارہا ہے۔
اور دنیا کی موجودہ تیز رفتار ترقی کی وجہ سے ہر چیز میں تبدیلی آرہی ہے۔
اور ہم اچھائی کو کم اور خرابی کو زیادہ قبول کر رہے ہیں ۔اور وہ باغ و بہار سب ختم ہوتا جا رہا ہے۔
🔹 زیر نظر یہ تصویر ہمارے گاؤں نان پور (ضلع سیتامڑھی، بہار) کی ہے اور نظر آنے والا یہ دروازہ ایک تاریخی دروازہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: "الہ آباد (یوپی)کے رہنے والے چودھری مہادیو پرساد نے تقریبا 1890ء میں ایک خوبصورت محل، سنگ مرمر سے بنا شیوالہ اور اس سے متصل ایک بھول بھلیا کی تعمیر کروائ۔اور ساتھ میں ایک پکے تالاب کی بھی تعمیر کروائ۔
اور کہا جاتا ہے اس وقت چودھری مہادیو پرساد کا نان پور سمیت 26۔27گاؤں ان کی ملکیت میں تھا۔
لیکن 1937ءکے زلزلے میں سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا اور پھر دوبارہ اس کی تعبیر نہیں ہو پائی۔
مگر تالاب، دروازہ اور کچھ نشانات ابھی باقی ہیں۔
محمد صبغۃاللہ رضوانی
30/جون2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2964020557199527&id=100007748358884
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM