🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Yeh Post 33 Zabaan Men↴ https://www.facebook.com/114021443682673/posts/336046711480144/ یہ پوسٹ 33 زبان میں ↑
The Prophet of Mercy ﷺ said,

Arabic: إِنَّ ‌النَّاسَ ‌إِذَا ‌رَأَوُا ‌الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ

Urdu: جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتا) دیکھیں اور اسے (ظلم سے) نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔

English: When people see the oppressor (oppressing) and do not stop him (from oppression), then they all will be tormented by Allah soon.

Roman: Jab loug zaalim ko (zulm karta) dekhein aur usay (zulm se) na rokein tou qareeb hay ke Allah un sab ko azaab mein mubtala kar de.

Hindi: जब लोग ज़ालिम को (ज़ुल्म करता) देखें और उसे (ज़ुल्म से) ना रोकें, तो क़रीब है कि अल्लाह उन सब को अज़ाब में मुब्तला कर दे।

Chinese: 当人们看到一个压迫者,但不阻止他犯罪,真主会以他的罪行惩罚他们。
سنن أبي داود، كتاب الملاحم، ‌‌باب الأمر والنهي، الحدیث 4338

Yeh Post 35 Zabaan Men↴
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/351859019898913/
یہ پوسٹ 35 زبان میں ↑
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
استفتاء نمبر 01 #Fatawa_Raeesia
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ مقتدی اگر امام کے پیچھے بھول کر واجب ترک کرے تو اس کی نماز ہو جائے گی؟ بینوا توجروا۔
( 23 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق مورخہ 06 فروری 2021 بروز ہفتہ)

جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

اگر مقتدی امام کے پیچھے بھول کر واجب ترک کردے تو اس پر اصلاً سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا بلکہ اس کی نماز ہو جاتی ہے کیونکہ اگر وہ اکیلا سجدہ سہو ادا کرے گا تو امام کی مخالفت لازم آئے گی اور اگر امام بھی اس کے ساتھ سجدہ سھو کرے تو معاملہ الٹ ہو جائے گا(یعنی اصل تابع اور تابع اصل بن جائے گا)۔ اور اس پر نماز کا اعادہ بھی نہیں ہو گا۔

چنانچہ اللّٰہ پاک کے آخری نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لیس علی من خلف الامام سھو فان سھا الامام فعلیہ وعلی من خلفہ السھو"
ترجمہ: امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے پر سجدہ سہو نہیں، اگر امام بھول گیا تو اس پر اور اس کے مقتدیوں پر سجدہ سہو ہے۔(سنن دارقطنی ، باب لیس علی المقتدی سھو، جلد02، صفحہ212، حصہ 1413، مؤسسة الرسالہ، بيروت).

بدائع امام ملک العلماء جلد اول صفحہ 175 میں ہے: "المقتدی اذاسھا فی صلوٰتہ فلا سہو علیہ"
ترجمہ: اگر مقتدی نماز میں بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں۔ (بدائع الصنائع فصل من یجب علیہ سجود السہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۷۵)

امام اجل امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی اس مسئلے پر دلائل دینے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں " ثبت ان المأمومین یجب علیھم حکم السھو لسھو الامام وینتفی عنھم حکم السھو بانتفائہ عن الامام'

ترجمہ: بات ثابت ہوگئی کہ امام کے سہو کی وجہ سے مقتدیوں پر سجدہ سہو واجب ہے اور امام سے نفی کی صورت میں مقتدیوں سے بھی اس کی نفی ہوگی۔ (الطحاوی شرح معانی الآثار باب الرجل یصلی الفریضۃ خلف من یصلی تطوعا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۲۸۰)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاویٰ امجدیہ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی جلد اول صفحہ 274 پر اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
"چوں از مقتدی سھواً ترک واجب واقع شد، نہ برد سجدہ سھو واجب است، نہ اعادہ نماز" یعنی چونکہ مقتدی سے سھواً واجب ترک ہوا ہےلہذا اس صورت میں سجدہ سھو واجب نہیں ہو گا اور نہ ہی اعادہ نماز ہے۔

بہارِ شریعت میں ہے " اگر مقتدی سے بحالتِ اقتدا سہو واقع ہوا تو سجدۂ سہو واجب نہیں"۔ (بہارِ شریعت حصہ چہارم جلد اول (ب) مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
اور اسی کے تحت حاشیہ میں ہے کہ " اور اعادہ بھی اس کے ذمہ نہیں"کماحققناہ فی فتاوٰنا۔۱۲ منہ

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

✍🏻کتبہ:سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر

( مورخہ 24 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 06 فروری 2021 بروز ہفتہ)

تصحیح 26 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 08 فروری 2021 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
استفتاء نمبر 02 #Fatawa_Raeesia

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر نماز جنازہ فوت ہونے کا خطرہ ہو تو کیا تیمم کرکے نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟ بینوا توجروا۔  
( مورخہ 27 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 10 فروری 2021 بروز بدھ)

جواب: الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

اگر نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خطرہ ہو تو غیرِ ولی تیمم کر کے نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے، ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تیمم کر کے نمازِ جنازہ ادا کرے۔ کیونکہ لوگ اس کا انتظار کریں گے، اگر لوگ اس کی اجازت کے بغیر نمازِ جنازہ ادا کر بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔

فقہ حنفی کی مشہور کتاب " مختصر القدوری " میں ہے کہ " یجوز التیمم للصحیح المقیم اذا حضرت الجنازۃ والولی غیرہ فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلٰوۃ ".   
ترجمہ: تندرست مقیم کے لئے تیمم جائز ہے جب جنازہ آ جائے اور ولی دوسرا ہو، اندیشہ ہو اگر وضو میں لگے گا تو نماز جنازہ فوت ہو جائے گی۔ (مختصر القدوری باب التیمم مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ص 11)

ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے کہ " یتیمم الصحیح فی المصر اذا حضرت جنازۃ -والولی غیرہ- فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلٰوۃ" وقولہ: "والولی غیرہ" اشارۃ الی أنہ لا یجوز للولی۔   
 ترجمہ: تندرست شہر میں تیمم کرلے جب جنازہ آ جائے اگر طہارت میں مشغول ہونے سے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، کیونکہ اس کی قضاء نہیں ہوتی لہذا عجز متحقق ہو گیا۔  
اور ان کا قول "والولی غیرہ" اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ (تیمم کر کے نمازِ جنازہ پڑھنا) ولی کیلئے جائز نہیں ہے۔  
(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی باب التیمم مطبوعہ مکتبۃ البشری صفحہ 95 )

منیۃ المصلی میں ہے کہ " الصحیح فی المصر تیمم لصلٰوۃ الجنازۃ اذاخاف الفوت جاز الا الولی ".  
ترجمہ: تندرست شہر کے اندر نمازِ جنازہ کے لئے تیمم کرے گا جب فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو مگر ولی کے لئے یہ نہیں۔ (منیۃ المصلی فصل فی التیمم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص 58)

وقایہ مع شرح الوقایہ میں ہے کہ " ھو لمحدث و جنب و حائض ونفساء لم یقدروا علی الماء، و لخوف فوت صلٰوۃ الجنازۃ لغیر الولی "  
ترجمہ: تیمم بے وضو، جنب، حائض اور نفاس والی کے لئے ہے جب انہیں پانی پر قدرت نہ ہو اور غیرولی کو نمازِ جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ کے وقت بھی ہے۔ (وقایہ مع شرح الوقایہ باب التیمم مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱ /۹۵ تا ۹۷)

بہارِ شریعت حصہ دوم صفحہ 351 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی پر ہے کہ  
" غیر ولی کو نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے ولی کو نہیں کہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اور لوگ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے"۔

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ الکریم اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  
کتبہ:سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفر لہ

( مورخہ 27 جمادی الثانی 1442ھ بمطابق 10 فروری 2021 بروز بدھ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خیال خاطر (1)

- مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی

اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:
میں ایک مدت سے یہ نوٹ کر رہا ہوں کہ ہمارے اس عہد کے نوجوان بے مقصد سی زندگی گزار رہے ہیں اور اور ان کی جواں سال صلاحیتیں؛
(الف) کچھ حد تک تعمیری/ تخریبی تنقید اور لفظوں کی بازی گری میں،
(ب) کچھ حد تک اپنی اپنی بساط کے مطابق مثبت/ منفی کام کرنے والے اداروں/ تنظیموں/ خانقاہوں اور شخصیات کی حد سے بڑھی ہوئی حمایت/ مخالفت میں،
(ج) کچھ حد تک سوشل میڈیا پر قدیم فقہی، کلامی اور لاینحل مباحث پر غیر سنجیدہ اور غیر ضروری تحریر و تقریر میں،
(د) کچھ حد تک خود ساختہ افکار و نظریات کو علمی اصولوں سے بالا تر ہو کر بطور اصول پیش کرنے میں،
(ھ) کچھ حد تک شخصی عقیدتوں کے اثبات و ابطال اورمدتوں پرانے گڑے شخصی مردے اکھاڑنے میں،
اور
(و) بہت حد تک ہاتھ پہ ہاتھ دھرے انتظار فردا میں صرف ہو رہی ہیں،
آج کی تکنیکی دنیا میں کام کے لیے مہیا ہر قسم کی نت نئی سہولیات کے باوجود بھی یہ صورت حال امت مسلمہ کا وہ نازک فکری پہلو ہے جو
کسی بھی ناحیہ سے نہ نسل نو کے لیے نیک فال ہے اور نہ ہی روشن مستقبل کے لیے خوش آئند۔
اس لیے خدارا!
جو اچھا کر رہا ہے، اللہ اس کی کوششوں کو قبول فرمائے اور جو برا کر رہا ہے، اللہ اسے ہدایت دے۔ آپ بے شک حق کی واجبی حمایت اور ناحق کی معقول مخالفت ضرور کیجیے، یہ آپ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت شرعی طور پر بھی ضروری بھی ہو سکتا ہے،
لیکن
ان تمام مراحل کے دوران اس بات کو کبھی مت بھولیے کہ اسلام اعتدال و وسطیت اور مقصدیت کا مذہب ہے، جو کسی بھی اچھے/ برے کام میں اتنی ہی مشغولیت کا تقاضا کرتا ہے، جتنی سے نہ وسطیت پامال ہو اور نہ مقصدیت فوت۔
سو
سوشل میڈیا کے لامتناہی سلسلوں میں گم ہونے سے پہلے، گریبان میں اتنا ضرور جھانک لیجیے:
ان سوشل ہنگامہ آرائیوں کے بیچ کہیں آپ کی شخصیت ہی تو نہیں کھو گئی؟؟؟
کسی کے ہرکارے بننے سے قبل خود سے یہ بھی پوچھتے رہیے:
جس دنیا میں رہتے ہوئے ہم نے اس کی ہزار قسم کی نعمتوں سے لاکھوں قسم کے فائدے اٹھائے، کیا ہم وہاں سے جاتے ہوئے اس دنیا کو کچھ دے کر اور اپنی آخرت کے لیے کچھ لے کر جا رہے ہیں؟؟؟
اگر سچ مچ ہاں! تو زہے مبارک،
وگرنہ تو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

خالد ایوب مصباحی شیرانی
25/ جون 2021۔ جمعہ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/940679813169204/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*خیال خاطر۔ 2*

*عجیب چیز ہے احساس زندگانی کا*

عام طور پر دنیا کے عام انسان بے حس ہوتے ہیں اور اس عہد بلا خیز میں یہ مردنی تقریباً ہر طبقے میں اپنے عروج پر ہے۔ اس بے حسی اور قدر نا شناسی کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ۔ (سورہ زمر، 67)
جبکہ حساس مزاج انسان اقل قلیل تعداد میں ہوتے ہیں اور ظاہر ہے وہ عام نہیں رہتے، ان کا یہ جوہر نایاب انھیں خاص بنا دیتا ہے۔ لیکن زمینی سطح پر یہ تعداد انگلیوں پر گننے جیسی ہوتی ہے، جسے عہد رواں کی خام تربیتوں نے کم یاب سے نایاب بنا دیا ہے۔
اگر ایمان کی کہیے تو حساس انسان ہی دراصل انسان ہے، ورنہ بے حسی اور مردنی میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ اس لیے -ہر چند کہ روبوٹ میں روح نہیں پھونکی جا سکتی- ہمیں یہ پرکھ ضرور کرنی چاہیے کہ ہمارا شمار کس زمرے میں ہوتا ہے؟ اس بیماری کی صحیح تشخیص کے لیے امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کی "صفۃ صاحب الذوق السلیم" پڑھنی چاہیے لیکن بطور اجمال یہ سطحی شناختی طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں:
اپنے اندر موجود احساس، یا بے حسی کی شناخت کے لیے اپنے رویوں، ذہنی تاثرات اور رد عمل پر غور کجیے جیسے:
(الف) کسی بھی شخصیت/ کام/ فن/ کتاب/ صلاحیت کو پہچاننے کا آپ کا اپنا ذاتی عملی معیار کیا ہے؟
کیا آپ کسی بھی شخصیت کے محض اس لیے گرویدہ ہو جاتے ہیں کہ دنیا اسے مانتی ہے؟
یا
آپ مارکیٹ ویلیو ویشن نہیں دیکھتے بلکہ اس کے بھی دیوانے ہو جاتے ہیں جسے بھلے خیر سے کوئی نہ جانے، لیکن وہ شخص اپنے اندر ایک شخصیت رکھتا ہے؟
(ب) کیا آپ کوئی بھی چیز محض اس لیے خرید لیتے ہیں کہ وہ برانڈیڈ ہے؟
یا
یا آپ کو اس بات کی آگاہی ہے کہ برانڈنگ ماڈرن دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں، اصل متاع کسی بھی چیز کی کوالٹی ہے اور وہ برانڈنگ کی محتاج نہیں؟
(ج) کیا آپ کو کوئی قیمتی صلاحیت بنا محنت کے ہاتھ لگ جائے تو آپ اس کی واقعی قدر کر پاتے ہیں؟
یا
اسے بے حس دنیا کے اس انتہائی بے حس معیار پر تولتے ہیں: *گھر کی مرغی دال برابر۔*
(د) کیا آپ کو قرآن و حدیث کی کوئی بات اپیل کرتی اور آپ کی تنہائیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی؟
یا
آپ قرآن محض قرآن خوانی اور برکت کے لیے اور حدیث محض علم و مطالعے کے لیے پڑھتے ہیں؟
(ھ) کیا آپ کی خلوتیں آپ کو قبر اور اپنے رب کی نعمتوں کی قدر پر زار زار کر دیتی ہیں؟
یا
آپ ان دونوں ہی چیزوں کی گہرائیاں ناپنے پر یقین نہیں رکھتے؟
(و) کیا آپ بھی کشمیری مسلمانوں کی مظلومیت، فلسطینیوں کی بے کسی یا ہر ترقی یافتہ دنیا میں موجود اولڈ ہاؤسز نامی مہذب قید خانوں میں مقفل بوڑھوں کی بے چارگی جیسی ستم ظریفیوں کو محض ظالمانہ تسلسل سمجھ کر بہت ہلکے میں ٹرخا دیتے ہیں؟
یا
آپ کے اندر کا جگرا پانی پانی ہو جاتا ہے اور آپ ارباب اقتدار کے ساتھ اپنی خاموش عوامی تائیدوں کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں؟
المختصر! اگر آپ سے کسی کی مظلومیت دیکھی نہیں جاتی، دل کو کسی کا دکھڑا بے چین کر دیتا ہے، دنیا بھر میں آڑے ترچھے الجھے بکھرے ہوئے بے بسوں/ بے کسوں کی یاد ستاتی ہے، والدین کے لیے دل سے مخلصانہ دعائیں نکلتی ہیں، اولاد کا مستقبل فکر مند رکھتا ہے، بیوی کی محنتوں کا احساس شرمندہ کرتا ہے اور اپنی ملازمت کی وفاداری مضطرب رکھتی ہے تو شاید ابھی آپ کے اندر کا انسان زندہ ہے اور اگر یہ سب نہیں تو محض ایک کفن کا فاصلہ باقی ہے۔

خالد ایوب مصباحی شیرانی
28/ جون 2021- دوشنبہ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/940683093168876/