عمل مخلصانہ ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گفتگو عامیانہ بھی چل جاتی ہے ۔
لیکن گفتگو کتنی ہی فصیحانہ ، ادیبانہ ، محققانہ ، عالمانہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اگر عمل منافقانہ ہے تو ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔
اللہ کریم ﷻ ہمیں عملی نفاق سے بچائے ، ہمارے اعمال کو صرف اپنے لیے کردے !
✍️لقمان شاہد
26-6-2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3193992000880967&id=100008105947430
لیکن گفتگو کتنی ہی فصیحانہ ، ادیبانہ ، محققانہ ، عالمانہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اگر عمل منافقانہ ہے تو ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔
اللہ کریم ﷻ ہمیں عملی نفاق سے بچائے ، ہمارے اعمال کو صرف اپنے لیے کردے !
✍️لقمان شاہد
26-6-2021ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3193992000880967&id=100008105947430
فیس بک پر لکھی گئی تحریریں اگر اللہ کی رضا کے لیے نہ ہوئیں تو ان کی عمر وہی دو چار دن ہوگی ، جن میں لوگ لائک ، کمینٹ اور واہ واہ کردیں گے ۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر اللہ کے لیے ہوئیں تو پھر ان کی عمر لکھنے والے سے بھی طویل ہوجائے گی ، اور یہ ہمیشہ کے لیے معزز فرشتوں کے نوشتوں میں محفوظ ہوجائیں گی ۔ ؎
جس کا عمل ہے بے غرض ، اُس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر
تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر !
✍️لقمان شاہد
24-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3192130011067166&id=100008105947430
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر اللہ کے لیے ہوئیں تو پھر ان کی عمر لکھنے والے سے بھی طویل ہوجائے گی ، اور یہ ہمیشہ کے لیے معزز فرشتوں کے نوشتوں میں محفوظ ہوجائیں گی ۔ ؎
جس کا عمل ہے بے غرض ، اُس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر
تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر !
✍️لقمان شاہد
24-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3192130011067166&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کئی سال پہلے اردو زبان کے ماہرین مل بیٹھے تھے ، اور انھوں نے اتفاق رائے سے بعض مرکبات کے بارے میں طے کیا تھا کہ انھیں اکٹھا نہیں ، الگ الگ لکھنا چاہیے ۔
مثلاً: خوبصورت کو " خوب صورت " آجکل کو " آج کل " قلمکار کو "قلم کار " وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی طے کیا تھا کہ:
مشتقات کو جہاں تک ہوسکے ملا کر ہی لکھنا چاہیے ، مثلاً: زمین دار کو " زمیندار " ، شان دار کو " شاندار " ، دل دار کو " دِلدار " لکھنا چاہیے ۔
( البتہ جن مشتقات کو الگ لکھنے کا چلن ہو انھیں الگ لکھنا بھی درست ہے ۔ )
اسی طرح کئی ایک چیزوں کے متعلق طے ہوا تھا ۔
ہمارے معاصر بعض اہل علم مرکبات کو الگ الگ لکھنے والے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے بعض ایسے الفاظ کو بھی الگ الگ لکھ دیتے ہیں جن کے الگ لکھنے کا نہ تو رواج رہا ہے ، اور نہ ہی اُنھیں الگ لکھنا درست معلوم ہوتا ہے ۔
مثلاً: لفظ " سرخرو " کو بعض سرخ رو لکھتے ہیں ، جو کہ نہ صرف غلط املا ہے بلکہ معنوی طور پر بھی درست معلوم نہیں ہوتا ۔
سُرخرو کا معنی ہوتا ہے: کامیاب اور بامراد ۔
غلام محمد کلکتوی کا شعر ہے ؎
سرخرو ہوتا ہے اِنساں آفتیں آنے کے بعد
رنگ لاتی ہے حِنا پتھر پہ پِس جانے کےبعد
اب اگر اِس کا املا " سرخ رو " کر دیں تو اس سے سرخ چہرے والا معنی مترشح ہوگا ۔
جیسا کہ رشیدلکھنوی کا شعر ہے ؎
گئے تھے حضرتِ زاہِد تو زرد تھا چہرہ
شراب خانے سے نکلے تو سُرخ رُو نکلے
اسی طرح کئی مرکب الفاظ کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے جو کہ ناروا ہے ۔
اردو کے کون سے مرکب الفاظ توڑ کر لکھنے چاہییں ، اور کون سے نہیں ؟
اس کی تفصیل گوپی چند نارنگ کے املا نامہ ( قومی کونسل برائےاردو زبان ہند ، طبع اول 1974 ء ، طبع سوم 2010 ء ) میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
26-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3194266747520159&id=100008105947430
مثلاً: خوبصورت کو " خوب صورت " آجکل کو " آج کل " قلمکار کو "قلم کار " وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی طے کیا تھا کہ:
مشتقات کو جہاں تک ہوسکے ملا کر ہی لکھنا چاہیے ، مثلاً: زمین دار کو " زمیندار " ، شان دار کو " شاندار " ، دل دار کو " دِلدار " لکھنا چاہیے ۔
( البتہ جن مشتقات کو الگ لکھنے کا چلن ہو انھیں الگ لکھنا بھی درست ہے ۔ )
اسی طرح کئی ایک چیزوں کے متعلق طے ہوا تھا ۔
ہمارے معاصر بعض اہل علم مرکبات کو الگ الگ لکھنے والے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے بعض ایسے الفاظ کو بھی الگ الگ لکھ دیتے ہیں جن کے الگ لکھنے کا نہ تو رواج رہا ہے ، اور نہ ہی اُنھیں الگ لکھنا درست معلوم ہوتا ہے ۔
مثلاً: لفظ " سرخرو " کو بعض سرخ رو لکھتے ہیں ، جو کہ نہ صرف غلط املا ہے بلکہ معنوی طور پر بھی درست معلوم نہیں ہوتا ۔
سُرخرو کا معنی ہوتا ہے: کامیاب اور بامراد ۔
غلام محمد کلکتوی کا شعر ہے ؎
سرخرو ہوتا ہے اِنساں آفتیں آنے کے بعد
رنگ لاتی ہے حِنا پتھر پہ پِس جانے کےبعد
اب اگر اِس کا املا " سرخ رو " کر دیں تو اس سے سرخ چہرے والا معنی مترشح ہوگا ۔
جیسا کہ رشیدلکھنوی کا شعر ہے ؎
گئے تھے حضرتِ زاہِد تو زرد تھا چہرہ
شراب خانے سے نکلے تو سُرخ رُو نکلے
اسی طرح کئی مرکب الفاظ کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے جو کہ ناروا ہے ۔
اردو کے کون سے مرکب الفاظ توڑ کر لکھنے چاہییں ، اور کون سے نہیں ؟
اس کی تفصیل گوپی چند نارنگ کے املا نامہ ( قومی کونسل برائےاردو زبان ہند ، طبع اول 1974 ء ، طبع سوم 2010 ء ) میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
26-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3194266747520159&id=100008105947430
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM