🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح مبارکہ کیا اللہ تبارک و تعالٰی نے خود نکالی؟

سوال نمبر 449

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح، اللہ تعالٰی نے اپنے دست قدرت سے نکالی یا حضرت عزرائیل علیہ السلام نے؟

حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

المستفتی: محمد وقاص عطاری فیصل آباد پاکستان

وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ 

جواب:
اللہ رب العزت کا خود بعض خواص بندوں کی روح کا قبض فرمانا حدیث شریف سے ثابت ہے چنانچہ شہدائے بحر کے بارے میں سرکار علیہ السلام نے فرمایا " عن ابى امامة يقول سمعت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم أن الله عز و جل وكل ملك الموت بقبض الارواح الا  شهيد البحر فانه يتولى قبض أرواحهم " اھ  یعنی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالٰی نے ملک الموت کو روح قبض کرنے کے لئے مقرر فرمایا ہے مگر دریا کی شہیدوں کی روح اللہ تعالٰی خود قبض فرماتا ہے " اھ ( ابن ماجہ ص 199) انہیں خواص میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی ہیں جن کی روح اللہ تعالی نے قبض فرمائی ہے جیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ " ان فاطمة الزهراء رضى الله تعالى عنها لما نزل عليها ملك الموت لم ترض بقبضه فقبض الله روحها " اھ یعنی جب خدا نے ملک الموت کو حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا تو آپ راضی نہ ہوئیں تو اللہ عز وجل نے حضرت فاطمہ کی روح خود قبض فرمائی " اھ ( ج 8 ص 114 ) 

واللہ اعلم بالصواب 
کریم اللہ رضوی 

خادم التدریس دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی
 موبائل نمبر  7666456313

http://www.masaileshariya.com/2019/09/Post449.html?m=1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض واعظین بیان کردیتے ہیں کہ ملک الموت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی طویل گفتگو ہوئی کہ ملک الموت نے آنے کی اجازت مانگی جناب فاطمہ رضی اللہ عنھا نے انکار کیا،پھر بہت دراز گفتگو ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فاطمہ کیا ہے آپ نے واقعہ بیان کیا،فرمایا یہ تیرے گھر کا ادب ہے جو وہ اجازت مانگ رہے ہیں،یہ ملک الموت ہیں کسی سے اجازت نہیں مانگا کرتے،یہ سب غلط ہے حضور اس وقت نہ تو فاطمہ زہرا کے گھر میں تھے نہ فاطمہ زہرا وہاں موجود تھیں اس روایت کا کہیں ثبوت نہیں۔

https://www.dawateislami.net/bookslibrary/1090/page/292
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فیس بک پر لکھی گئی تحریریں اگر اللہ کی رضا کے لیے نہ‌ ہوئیں تو ان کی عمر وہی دو چار دن ہوگی ، جن میں لوگ لائک ، کمینٹ اور واہ واہ کردیں گے ۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اللہ کے لیے ہوئیں تو پھر ان کی عمر لکھنے والے سے بھی طویل ہوجائے گی ، اور یہ ہمیشہ کے لیے معزز فرشتوں کے نوشتوں میں محفوظ ہوجائیں گی ۔ ؎

جس کا عمل ہے بے غرض ، اُس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر

تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر !


✍️لقمان شاہد
24-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3192130011067166&id=100008105947430
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سیلف_ڈفینس_ایک_قانونی_حق

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

انسانی جان کا تحفظ دنیا کے تمام ممالک میں انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے۔ہمارے وطن میں بھی انسانی جان کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ سماج دشمن عناصر کی تخریب کاریوں سے معاشرہ محفوظ رہ سکے۔اور ایک عام انسان بھی بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔اسے Right to self Defense "اپنے دفاع کا حق" کہا جاتا ہے۔

تعزیرات ہند کی دفعات 96 تا 106 میں حق دفاع (رائٹ ٹو سیلف ڈفینس) پر بحث کی گئی ہے۔جس میں کل گیارہ دفعات شامل ہیں۔ان دفعات کے تحت ان اسباب وعوامل کا ذکر کیا گیا ہے جن کی موجودگی میں کسی بھی شخص کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔حملہ روکنے اور اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت کے استعمال کی اجازت ہے۔اگر اس طاقت کے استعمال کے نتیجے میں مد مقابل کا جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے تو یہ دفاع کرنے والے کے حق میں "جرم" نہیں مانا جائے گا، کیوں سیلف ڈفینس کے تحت یہ اس کا قانونی حق ہے۔

سیلف ڈفینس کی قانونی تشریح

سیلف ڈفینس قانونی حق ہونے کے ساتھ ساتھ ہر شخص کا بنیادی حق (Fundamental right) بھی ہے۔سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں اس پر زور دیا ہے کہ رائٹ ٹو سیلف ڈفینس انسان کا بنیادی حق ہے۔
قانون حق دفاع کے ساتھ کچھ ہدایات بھی ذہن نشیں رہیں:
1-یہ قانون ہر شخص کو اپنی، بیوی بچوں، اپنی جائداد اور دوسروں کی جان وجائداد کی حفاظت کا حق دیتا ہے، جب کہ حملے کے وقت دفاع کے علاوہ کوئی اور صورت موجود نہ ہو۔

2-سیلف ڈفینس کا حق انتقام لینے یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں ہے، اس کا مطلب صرف اپنا دفاع ہے بالفاظ دیگر "حق دفاع ڈھال ہے تلوار نہیں۔"

3-یہ حق اسی وقت تک حاصل ہے جب تک خطرے کی شدید خدشات ہوں، خطرہ سامنے ہو یا حملہ ہونے والا ہو۔اگر خطرہ ٹل جاتا ہے تو یہ حق ختم ہوجاتا ہے۔

سیلف ڈفینس کی اہم دفعات کی قانونی تشریح ملاحظہ فرمائیں:
🔹 دفعہ 96: اس کے تحت اپنے دفاع کے لیے کیا گیا کوئی بھی کام جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔

🔹دفعہ 97: اس کے تحت ہر فرد کو کسی ایسے جرم سے خود کو یا کسی اور کو بچانے کا حق حاصل ہے جو جسم کو نقصان پہنچاتا ہو۔نیز اس دفعہ کے تحت چوری، ڈکیتی، نقصان رسانی ، مجرمانہ طور پر جائیداد میں دخل اندازی یا ان جرائم کی کوششوں سے جائیداد کے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔جائیداد اپنی ہو یا کسی اور کی، منقولہ ہو یا غیر منقولہ۔مثلاً آپ نے رات کے وقت دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کی دکان یا مکان کا تالہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں، بھلے تالہ نہیں کھلا، نہ ہی وہ لوگ دکان میں داخل ہوئے ہیں مگر تب بھی آپ کو اپنی دکان/مکان کی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنے کی اجازت ہے۔ آپ کا یہ عمل "حق دفاع" مانا جائے گا اور جرم کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

🔹دفعہ 98: کے تحت دماغی طور پر کمزور، مخبوط الحواس، پاگل شخص کے خلاف بھی دفاع کا حاصل رہے گا چاہے ان کا عمل جرم کے زمرے میں آتا ہو یا نہ آتا ہو، مثلاً کسی شخص نے پاگل پن کے زیر اثر دوسرے پر قاتلانہ حملہ کیا، تو دوسرے شخص کو دفاع کا بھر پور حق حاصل رہے گا۔اسی طرح غلط فہمی، حملہ آور کا کم عمر ہونا، حملہ آور کا نشہ میں ہونا وغیرہ مقابل کے حق دفاع کو ختم نہیں کرتا۔

🔹دفعہ 99: کے تحت ان امور کو بیان کیا ہے جن میں حق دفاع حاصل نہیں ہوگا۔جب تک مناسب وجوہات سے اس کا یقین نہ ہوجائے کہ جان کا خطرہ یا شدید زخمی ہوجانے کا اندیشہ ہے۔مثلاً سرکاری ملازمین(پولیس، انکم ٹیکس فوج وغیرہ) کے خلاف حق دفاع حاصل نہیں جب کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہوں۔

🔹 دفعہ 100: یہ دفعہ حق دفاع میں سب سے اہم ہے، اس کے تحت ان اسباب و وجوہات کا تذکرہ ہے جن کی بنا پر کوئی بھی شخص اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کی جان بھی لے سکتا ہے یا اس کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق سات جرائم ایسے ہیں جن کے خلاف اپنی جان کے دفاع کا انتہائی حق حاصل ہوگا، وہ سات جرائم حسب ذیل ہیں:
1- ایسا حملہ جس کی شدت سے ظاہر ہو کہ اگر اس کا دفاع نہ کیا گیا تو خود کی جان جاسکتی ہے۔

2- حملہ ایسا ہو جس کا دفاع نہ کیا جائے تو خود کے شدید زخمی ہونے کا قوی اندیشہ ہو۔

3- زنا بالجبر کی نیت سے حملہ کرنے والے کا دفاع۔

4- غیر فطری شہوت کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

5- اغوا کرنے کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

6- حبس بے جا میں رکھنے کی نیت سے کئے جانے والے حملے کا دفاع۔بشرطیکہ اسباب و عوامل سے ظاہر ہو کہ دفاع کیے بغیر خارجی مدد کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
7- تیزاب کے حملے سے بچنے کا دفاع۔اس صورت حال میں حملہ آور کی جان لی جاسکتی ہے، بشرطیکہ صورت حال ایسی ہو کہ بغیر دفاعی حملہ کیے خود کی جان نہیں بچائی جاسکتی۔
مذکورہ بالا مواقع میں حملہ آور کی "بالارادہ و بالقصد" جان لینے والا شخص قتل کا مجرم نہیں کہلائے گا۔یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ جرائم خود پر ہوں یا کسی اور پر، ہر دو صورت میں دفاع کا حق حاصل رہے گا، مثلاً آپ نے اپنے پڑوس میں دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو قتل کررہا ہے اور آپ کو یقین ہے کہ فوراً کوئی کاروائی نہ کی گئی تو قاتل کامیاب ہوجائے گا، ایسے میں دوسرے شخص کی جان بچانے کے لئے اگر اگر آپ پہلے فرد پر گولی چلائیں یا شدید زخمی کردیں تو آپ مجرم نہیں مانے جائیں گے، کیوں کہ ایسا کرنا آپ کا قانونی حق ہے۔

🔹دفعہ 103: اس دفعہ کے تحت چار جرائم کی صورت میں جائیداد کے دفاع میں حملہ آور کی "بالقصد و بالارادہ" جان لینے کی اجازت ہوگی، وہ چار جرائم یہ ہیں:
1- ڈکیتی 2- رات کے وقت نقب زنی 3- انسانی استعمال میں موجود عمارت یا خیمہ میں آگ لگانا 4- ایسی چوری یا غیر قانونی مداخلت جس کے تعلق سے یقین ہو کہ اگر دفاع نہ کیا جائے تو جان کا خطرہ ہے۔

🔹دفعہ 106: سیلف ڈفینس کی آخری اور اہم دفعہ میں اس نکتہ پر بحث کی گئی ہے کہ اگر جان کا دفاع کرتے وقت یہ محسوس ہو کہ کوئی غیر متعلق فرد بھی دفاعی حملے کی زد میں آسکتا ہے، تو کیا دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا یا نہیں؟ تعزیرات ہند میں اس مسئلہ کو ایک دلچسپ مثال سے واضح کیا گیا ہے، مثال کے مطابق اگر کسی شخص پر کوئی بھیڑ قاتلانہ حملہ کر دے اور اس بھیڑ میں بچے وغیرہ بھی شامل ہیں، مقابل اپنے دفاع کا حق گولی چلائے (یا اندھا دھند تلوار چلائے) بغیر استعمال نہیں کرسکتا ہے تو اپنے حق کے استعمال کی صورت میں اگر کوئی غیر متعلق مرجائے یا اسے نقصان پہنچ جائے تو مقابل شخص کا یہ عمل جرم کے دائرے میں نہیں آئے گا، حالانکہ وہ غیر متعلق صرف بھیڑ کا حصہ تھے حملہ آور نہیں تھے۔

یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ مقدمے کے دوران آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ کا اقدام صرف سلیف ڈفینس کے لیے تھا کوئی اور منشا یا سازش نہیں تھی اگر آپ عدالت میں یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ اپنے دفاع میں کیا تو آپ کو رائٹ ٹو سیلف کے تحت قانونی رعایت مل جائے گی۔

موجودہ دور میں سیلف ڈفینس کی اہمیت

موجودہ حالات میں سیلف ڈفینس کی اہمیت وضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ سماج دشمن عناصر اور قانون سے کھلواڑ کرنے والے غنڈے بدمعاش جابجا خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، راہ گیروں پر حملہ کرکے جانی مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ غنڈے بدمعاش جھنڈ کے جھنڈ میں آتے ہیں اس لیے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے سیلف ڈفینس کا آنا بے حد ضروری ہے، اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل کرکے کسی ناگہانی مصیبت سے خود کو اور دوسروں کو بچا سکیں۔
🔹 سب سے پہلے تو خود کو ذہنی طور پر مضبوط رکھیں، حواس پر قابو رہے، اکیلے بھی ہوں تو خوف زدہ نہ ہوں اور آپ کی باڈی لینگویج بہادرانہ ہو بزدلانہ نہ ہو۔
🔹 آنکھ ناک کان بیدار اور کھلے رکھیں، حملے کا خدشہ محسوس ہو تو قرب وجوار میں محفوظ راستہ اور کچھ ایسے سامان تلاشیں جس سے آپ حملہ آوروں کو کچھ دیر روک سکیں یا وہاں سے نکل سکیں۔
🔹اسکولی لیول سے ہی لڑکے لڑکیوں کو سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ کسی حملے کے وقت اپنی حفاظت کرسکیں۔
🔹سماجی تنظیمیں مختلف مواقع پر عام لوگوں کے لئے سیلف ڈفینس کی ٹریننگ کا اہتمام ضرور کریں تاکہ عام انسان بھی بوقت حملہ خود کو بچا سکیں۔
🔹محرم وغیرہ کے موقع پر چلنے والے اکھاڑوں میں سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے اور لوگوں کو اس حوالے سے بیدار کیا جائے۔
🔹جو لوگ تعلیمی یا کاروباری غرض سے زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں، ان لوگوں کو ترجیحی طور پر سیلف ڈفینس کی تربیت ضرور لینا چاہیے۔
🔹 دوران سفر اپنے ساتھ ایسا حفاظتی سامان ضرور رکھیں جو قانونی طور پر درست ہو، مثلاً پیپر اسپرے ، مرچی پاؤڈر وغیرہ
🔹 اگر کہیں بدمعاشوں کے نرغے میں گھر بھی جائیں تو ہمت وبہادری سے کسی ایک کو ٹارگیٹ کریں تاکہ دوسرے لوگ خوف زدہ ہوجائیں۔جھنڈ میں آنے والے اکثر بزدل ہوتے ہیں، مضبوط جواب ملتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

سیلف ڈفینس کے بہت سارے طریقے یوٹیوب کے ذریعے بھی سیکھے جاسکتے ہیں مگر ان کی عملی مشق ضروری ہے۔اس لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ کسی ٹرینر سے سیکھا جائے اور پھر ہلکی پھلکی مشق کی جاتی رہے تاکہ ضرورت کے وقت آپ خود کو غنڈے بدمعاشوں سے بچا سکیں۔سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور جرائم فری معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
(بعض نکات کی قانونی تشریح میں ایڈووکیٹ نوید سیف کے افکار سے استفادہ کیا گیا ہے)

13 ذوالقعدہ 1442ھ
25 جون 2021 بروز جمعہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4061443317306402&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سیلف_ڈفینس_ایک_قانونی_حق

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

انسانی جان کا تحفظ دنیا کے تمام ممالک میں انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے۔ہمارے وطن میں بھی انسانی جان کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ سماج دشمن عناصر کی تخریب کاریوں سے معاشرہ محفوظ رہ سکے۔اور ایک عام انسان بھی بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔اسے Right to self Defense "اپنے دفاع کا حق" کہا جاتا ہے۔

تعزیرات ہند کی دفعات 96 تا 106 میں حق دفاع (رائٹ ٹو سیلف ڈفینس) پر بحث کی گئی ہے۔جس میں کل گیارہ دفعات شامل ہیں۔ان دفعات کے تحت ان اسباب وعوامل کا ذکر کیا گیا ہے جن کی موجودگی میں کسی بھی شخص کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔حملہ روکنے اور اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت کے استعمال کی اجازت ہے۔اگر اس طاقت کے استعمال کے نتیجے میں مد مقابل کا جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے تو یہ دفاع کرنے والے کے حق میں "جرم" نہیں مانا جائے گا، کیوں سیلف ڈفینس کے تحت یہ اس کا قانونی حق ہے۔

سیلف ڈفینس کی قانونی تشریح

سیلف ڈفینس قانونی حق ہونے کے ساتھ ساتھ ہر شخص کا بنیادی حق (Fundamental right) بھی ہے۔سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں اس پر زور دیا ہے کہ رائٹ ٹو سیلف ڈفینس انسان کا بنیادی حق ہے۔
قانون حق دفاع کے ساتھ کچھ ہدایات بھی ذہن نشیں رہیں:
1-یہ قانون ہر شخص کو اپنی، بیوی بچوں، اپنی جائداد اور دوسروں کی جان وجائداد کی حفاظت کا حق دیتا ہے، جب کہ حملے کے وقت دفاع کے علاوہ کوئی اور صورت موجود نہ ہو۔

2-سیلف ڈفینس کا حق انتقام لینے یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں ہے، اس کا مطلب صرف اپنا دفاع ہے بالفاظ دیگر "حق دفاع ڈھال ہے تلوار نہیں۔"

3-یہ حق اسی وقت تک حاصل ہے جب تک خطرے کی شدید خدشات ہوں، خطرہ سامنے ہو یا حملہ ہونے والا ہو۔اگر خطرہ ٹل جاتا ہے تو یہ حق ختم ہوجاتا ہے۔

سیلف ڈفینس کی اہم دفعات کی قانونی تشریح ملاحظہ فرمائیں:
🔹 دفعہ 96: اس کے تحت اپنے دفاع کے لیے کیا گیا کوئی بھی کام جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔

🔹دفعہ 97: اس کے تحت ہر فرد کو کسی ایسے جرم سے خود کو یا کسی اور کو بچانے کا حق حاصل ہے جو جسم کو نقصان پہنچاتا ہو۔نیز اس دفعہ کے تحت چوری، ڈکیتی، نقصان رسانی ، مجرمانہ طور پر جائیداد میں دخل اندازی یا ان جرائم کی کوششوں سے جائیداد کے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔جائیداد اپنی ہو یا کسی اور کی، منقولہ ہو یا غیر منقولہ۔مثلاً آپ نے رات کے وقت دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کی دکان یا مکان کا تالہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں، بھلے تالہ نہیں کھلا، نہ ہی وہ لوگ دکان میں داخل ہوئے ہیں مگر تب بھی آپ کو اپنی دکان/مکان کی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنے کی اجازت ہے۔ آپ کا یہ عمل "حق دفاع" مانا جائے گا اور جرم کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

🔹دفعہ 98: کے تحت دماغی طور پر کمزور، مخبوط الحواس، پاگل شخص کے خلاف بھی دفاع کا حاصل رہے گا چاہے ان کا عمل جرم کے زمرے میں آتا ہو یا نہ آتا ہو، مثلاً کسی شخص نے پاگل پن کے زیر اثر دوسرے پر قاتلانہ حملہ کیا، تو دوسرے شخص کو دفاع کا بھر پور حق حاصل رہے گا۔اسی طرح غلط فہمی، حملہ آور کا کم عمر ہونا، حملہ آور کا نشہ میں ہونا وغیرہ مقابل کے حق دفاع کو ختم نہیں کرتا۔

🔹دفعہ 99: کے تحت ان امور کو بیان کیا ہے جن میں حق دفاع حاصل نہیں ہوگا۔جب تک مناسب وجوہات سے اس کا یقین نہ ہوجائے کہ جان کا خطرہ یا شدید زخمی ہوجانے کا اندیشہ ہے۔مثلاً سرکاری ملازمین(پولیس، انکم ٹیکس فوج وغیرہ) کے خلاف حق دفاع حاصل نہیں جب کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہوں۔

🔹 دفعہ 100: یہ دفعہ حق دفاع میں سب سے اہم ہے، اس کے تحت ان اسباب و وجوہات کا تذکرہ ہے جن کی بنا پر کوئی بھی شخص اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کی جان بھی لے سکتا ہے یا اس کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق سات جرائم ایسے ہیں جن کے خلاف اپنی جان کے دفاع کا انتہائی حق حاصل ہوگا، وہ سات جرائم حسب ذیل ہیں:
1- ایسا حملہ جس کی شدت سے ظاہر ہو کہ اگر اس کا دفاع نہ کیا گیا تو خود کی جان جاسکتی ہے۔

2- حملہ ایسا ہو جس کا دفاع نہ کیا جائے تو خود کے شدید زخمی ہونے کا قوی اندیشہ ہو۔

3- زنا بالجبر کی نیت سے حملہ کرنے والے کا دفاع۔

4- غیر فطری شہوت کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

5- اغوا کرنے کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

6- حبس بے جا میں رکھنے کی نیت سے کئے جانے والے حملے کا دفاع۔بشرطیکہ اسباب و عوامل سے ظاہر ہو کہ دفاع کیے بغیر خارجی مدد کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
7- تیزاب کے حملے سے بچنے کا دفاع۔اس صورت حال میں حملہ آور کی جان لی جاسکتی ہے، بشرطیکہ صورت حال ایسی ہو کہ بغیر دفاعی حملہ کیے خود کی جان نہیں بچائی جاسکتی۔
مذکورہ بالا مواقع میں حملہ آور کی "بالارادہ و بالقصد" جان لینے والا شخص قتل کا مجرم نہیں کہلائے گا۔یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ جرائم خود پر ہوں یا کسی اور پر، ہر دو صورت میں دفاع کا حق حاصل رہے گا، مثلاً آپ نے اپنے پڑوس میں دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو قتل کررہا ہے اور آپ کو یقین ہے کہ فوراً کوئی کاروائی نہ کی گئی تو قاتل کامیاب ہوجائے گا، ایسے میں دوسرے شخص کی جان بچانے کے لئے اگر اگر آپ پہلے فرد پر گولی چلائیں یا شدید زخمی کردیں تو آپ مجرم نہیں مانے جائیں گے، کیوں کہ ایسا کرنا آپ کا قانونی حق ہے۔

🔹دفعہ 103: اس دفعہ کے تحت چار جرائم کی صورت میں جائیداد کے دفاع میں حملہ آور کی "بالقصد و بالارادہ" جان لینے کی اجازت ہوگی، وہ چار جرائم یہ ہیں:
1- ڈکیتی 2- رات کے وقت نقب زنی 3- انسانی استعمال میں موجود عمارت یا خیمہ میں آگ لگانا 4- ایسی چوری یا غیر قانونی مداخلت جس کے تعلق سے یقین ہو کہ اگر دفاع نہ کیا جائے تو جان کا خطرہ ہے۔

🔹دفعہ 106: سیلف ڈفینس کی آخری اور اہم دفعہ میں اس نکتہ پر بحث کی گئی ہے کہ اگر جان کا دفاع کرتے وقت یہ محسوس ہو کہ کوئی غیر متعلق فرد بھی دفاعی حملے کی زد میں آسکتا ہے، تو کیا دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا یا نہیں؟ تعزیرات ہند میں اس مسئلہ کو ایک دلچسپ مثال سے واضح کیا گیا ہے، مثال کے مطابق اگر کسی شخص پر کوئی بھیڑ قاتلانہ حملہ کر دے اور اس بھیڑ میں بچے وغیرہ بھی شامل ہیں، مقابل اپنے دفاع کا حق گولی چلائے (یا اندھا دھند تلوار چلائے) بغیر استعمال نہیں کرسکتا ہے تو اپنے حق کے استعمال کی صورت میں اگر کوئی غیر متعلق مرجائے یا اسے نقصان پہنچ جائے تو مقابل شخص کا یہ عمل جرم کے دائرے میں نہیں آئے گا، حالانکہ وہ غیر متعلق صرف بھیڑ کا حصہ تھے حملہ آور نہیں تھے۔

یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ مقدمے کے دوران آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ کا اقدام صرف سلیف ڈفینس کے لیے تھا کوئی اور منشا یا سازش نہیں تھی اگر آپ عدالت میں یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ اپنے دفاع میں کیا تو آپ کو رائٹ ٹو سیلف کے تحت قانونی رعایت مل جائے گی۔

موجودہ دور میں سیلف ڈفینس کی اہمیت

موجودہ حالات میں سیلف ڈفینس کی اہمیت وضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ سماج دشمن عناصر اور قانون سے کھلواڑ کرنے والے غنڈے بدمعاش جابجا خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، راہ گیروں پر حملہ کرکے جانی مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ غنڈے بدمعاش جھنڈ کے جھنڈ میں آتے ہیں اس لیے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے سیلف ڈفینس کا آنا بے حد ضروری ہے، اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل کرکے کسی ناگہانی مصیبت سے خود کو اور دوسروں کو بچا سکیں۔
🔹 سب سے پہلے تو خود کو ذہنی طور پر مضبوط رکھیں، حواس پر قابو رہے، اکیلے بھی ہوں تو خوف زدہ نہ ہوں اور آپ کی باڈی لینگویج بہادرانہ ہو بزدلانہ نہ ہو۔
🔹 آنکھ ناک کان بیدار اور کھلے رکھیں، حملے کا خدشہ محسوس ہو تو قرب وجوار میں محفوظ راستہ اور کچھ ایسے سامان تلاشیں جس سے آپ حملہ آوروں کو کچھ دیر روک سکیں یا وہاں سے نکل سکیں۔
🔹اسکولی لیول سے ہی لڑکے لڑکیوں کو سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ کسی حملے کے وقت اپنی حفاظت کرسکیں۔
🔹سماجی تنظیمیں مختلف مواقع پر عام لوگوں کے لئے سیلف ڈفینس کی ٹریننگ کا اہتمام ضرور کریں تاکہ عام انسان بھی بوقت حملہ خود کو بچا سکیں۔
🔹محرم وغیرہ کے موقع پر چلنے والے اکھاڑوں میں سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے اور لوگوں کو اس حوالے سے بیدار کیا جائے۔
🔹جو لوگ تعلیمی یا کاروباری غرض سے زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں، ان لوگوں کو ترجیحی طور پر سیلف ڈفینس کی تربیت ضرور لینا چاہیے۔
🔹 دوران سفر اپنے ساتھ ایسا حفاظتی سامان ضرور رکھیں جو قانونی طور پر درست ہو، مثلاً پیپر اسپرے ، مرچی پاؤڈر وغیرہ
🔹 اگر کہیں بدمعاشوں کے نرغے میں گھر بھی جائیں تو ہمت وبہادری سے کسی ایک کو ٹارگیٹ کریں تاکہ دوسرے لوگ خوف زدہ ہوجائیں۔جھنڈ میں آنے والے اکثر بزدل ہوتے ہیں، مضبوط جواب ملتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

سیلف ڈفینس کے بہت سارے طریقے یوٹیوب کے ذریعے بھی سیکھے جاسکتے ہیں مگر ان کی عملی مشق ضروری ہے۔اس لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ کسی ٹرینر سے سیکھا جائے اور پھر ہلکی پھلکی مشق کی جاتی رہے تاکہ ضرورت کے وقت آپ خود کو غنڈے بدمعاشوں سے بچا سکیں۔سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور جرائم فری معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
(بعض نکات کی قانونی تشریح میں ایڈووکیٹ نوید سیف کے افکار سے استفادہ کیا گیا ہے)

13 ذوالقعدہ 1442ھ
25 جون 2021 بروز جمعہ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/939009740002878/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
الف انار، ب بیمار، پ پیار.......!

" بیٹا! ننھے سے دماغ پہ اتنا بوجھ نہیں ڈالتے، دِھیرے دِھیرے سب کچھ سمجھ جاؤ گے.... سمجھتے تو کچھ ابھی بھی ہو مگر ساتھ دلیل اور وجہ وقوع بھی جاننا چاہتے ہو مگر یہ تو کسی مناسب وقت پہ سمجھ میں آئے گی اور وہ وقت ابھی دُور ہے....

" وہ مجھے ساتھ لے کر قبر سے باہر نکل آئے، لبِ گور کھڑے ہو کر فرمانے لگے۔ " یہ مُشتِ خاک اِنسان صرف اِسی خاکِ قبر میں ہی آسودہ خاطر ہوتا ہے۔ دُنیا کا طمع، لالچ، حرص، اقتدار اور خواہشات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے وسیع وعریض دُنیا کو اس کے لئے بہت تنگ و تاریک، حَبس زدہ اور چھوٹا کر دیتے ہیں۔

وہ اپنی نا آسودہ تمناؤں اور طمع و حرص کے کمزور جال قابلِ ہضم و حصول مچھلیوں کی بجائے دیوہیکل وہیلوں پہ پھینکنا شروع کر دیتا ہے۔ بس، یہیں اس کا اَنت سَرادھ ہو جاتا ہے

اور جو شروع سے ہی آرزوؤں، خواہشوں، آسانیوں اور ہوس کے آزار میں خود کو نہیں پھنساتا، دُنیا کو امتحان گاہ اور چند سانسوں کی عارضی زندگی کو کسی کی امانت سمجھتا ہے تو وہ پھر اپنے جسم اور اپنی رُوح کو مادع پدر آزاد اور اپنی مرضی کا مالک نہیں رہنے دیتا۔

وہ مجاہدوں، مشاہدوں، مراقبوں اور محاسبوں مشکلوں سے اپنے آپ کو اِس قابل بناتا ہے کہ خالقِ جِنّ وبشر، مالکِ اَرض و سما اِس سے راضی ہو جائے۔ یہ میرے جسم پہ لدی وزنی، بے رحم زنجیریں میرے بدن کو اللہ کے احکام میں جکڑ کر رکھتی ہیں اور مجھے احساس دلاتی ہیں کہ مَیں محض قفسِ ہستی میں اَسیر قیدی ہوں۔

یہ میرے پاؤں پڑی بیڑیاں مجھے بے راہ روی سے روکتی ہیں یہ کُھدی ہوئی تیار قبر جس میں بیٹھتا اور سوتا ہوں، لیٹ کر راحت پاتا ہوں، مجھے ہمیشہ یاد دلاتی ہے کہ آخر مجھے یہیں آسودہ خاک ہونا ہے.....

پسینہ خشک ہونے سے پہلے حقِ محنت ادا کر دینا، مقرّر وقت سے پہلے ہی فائدہ کر دینا، اولاد کے بَدراہ ہونے سے پہلے اِن کا نکاح کر دینا اور مرنے سے پہلے اپنی لحد تیار کر لینا اِن لوگوں کاکام ہے جو متقّی ہیں، اللہ سے حیا کرتے ہیں..... "

ازقلم : بابا جان محمد یحییٰ خان
کتاب : "پیا رنگ کالا "صفحہ نمبر (420،421)

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/940505746526995/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کان بجنے کی وجہ

بعض روایات میں ہے کہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جب (میں) انتقال کروں گا (تو) صور پھونکنے تک قبر میں "امتی امتی" پکاروں گا۔ کان بجنے کا یہی سبب ہے کہ وہ آواز جانگداز اس معصوم عاصی نواز ﷺ کی جو ہر وقت بلند ہے، گاہے (کبھی کبھار) ہم سے کسی غافل و مدہوش کے گوش (کان) تک پہنچتی ہے (جس کی وجہ سے کان بجنے لگتے ہیں)، روح اسے ادراک (محسوس) کرتی ہے، اسی باعث اس وقت درود پڑھنا مستحب ہوا کہ جو محبوب ﷺ ہر آن ہماری یاد میں ہے، کچھ دیر ہم ہجراں نصیب (فرقت کے مارے) بھی اس کی یاد میں صَرف کریں۔

بحوالہ: فتاوی رضویہ، جلد ۳۰، صفحہ ۷۱۲

https://www.facebook.com/190656494845261/posts/940921986485371/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نقش و نگار والی مسجد میں نماز پڑھنے سے تجھے سکون ملتا ہو ، اور سادی مسجد میں تیرا دل نہ لگے ، تو اپنے اخلاص کاعلاج کر ۔۔۔۔۔۔۔ تیری نماز اللہ کے لیے نہیں ، زیبائش و زینت کے لیے ہے ۔
اللہ کے لیے ہوتی تو فرشِ زمین پر بھی تجھے اتنا ہی لطف آتا ، جتنا قالین پرآتا ہے ۔

( خلاصہ کلامِ امام غزالی نوراللہ مرقدہ )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3193253347621499&id=100008105947430
عمل مخلصانہ ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گفتگو عامیانہ بھی چل جاتی ہے ۔
لیکن گفتگو کتنی ہی فصیحانہ ، ادیبانہ ، محققانہ ، عالمانہ ہو ۔۔‌‌‌‌‌‌‌۔۔۔۔۔ اگر عمل منافقانہ ہے تو ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔

اللہ کریم‌ ﷻ ہمیں عملی نفاق سے بچائے ، ہمارے اعمال کو صرف اپنے لیے کردے !



✍️لقمان شاہد
26-6-2021ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3193992000880967&id=100008105947430
فیس بک پر لکھی گئی تحریریں اگر اللہ کی رضا کے لیے نہ‌ ہوئیں تو ان کی عمر وہی دو چار دن ہوگی ، جن میں لوگ لائک ، کمینٹ اور واہ واہ کردیں گے ۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اللہ کے لیے ہوئیں تو پھر ان کی عمر لکھنے والے سے بھی طویل ہوجائے گی ، اور یہ ہمیشہ کے لیے معزز فرشتوں کے نوشتوں میں محفوظ ہوجائیں گی ۔ ؎

جس کا عمل ہے بے غرض ، اُس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر

تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر !


✍️لقمان شاہد
24-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3192130011067166&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کئی سال پہلے اردو زبان کے ماہرین مل بیٹھے تھے ، اور انھوں نے اتفاق رائے سے بعض مرکبات کے بارے میں طے کیا تھا کہ انھیں اکٹھا نہیں ، الگ الگ لکھنا چاہیے ۔

مثلاً: خوبصورت کو " خوب صورت " آجکل کو " آج کل " قلمکار کو "قلم کار " وغیرہ وغیرہ ۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی طے کیا تھا کہ:
مشتقات کو جہاں تک ہوسکے ملا کر ہی لکھنا چاہیے ، مثلاً: زمین دار کو " زمیندار " ، شان دار کو " شاندار " ، دل دار کو " دِلدار " لکھنا چاہیے ۔
( البتہ جن مشتقات کو الگ لکھنے کا چلن ہو انھیں الگ لکھنا بھی درست ہے ۔ )

اسی طرح کئی ایک چیزوں کے متعلق طے ہوا تھا ۔

ہمارے معاصر بعض اہل علم مرکبات کو الگ الگ لکھنے والے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے بعض ایسے الفاظ کو بھی الگ الگ لکھ دیتے ہیں جن کے الگ لکھنے کا نہ تو رواج رہا ہے ، اور نہ ہی اُنھیں الگ لکھنا درست معلوم ہوتا ہے ۔

مثلاً: لفظ " سرخرو " کو بعض سرخ رو لکھتے ہیں ، جو کہ نہ صرف غلط املا ہے بلکہ معنوی طور پر بھی درست معلوم نہیں ہوتا ۔

سُرخرو کا معنی ہوتا ہے: کامیاب اور بامراد ۔
غلام محمد کلکتوی کا شعر ہے ؎

سرخرو ہوتا ہے اِنساں آفتیں آنے کے بعد
رنگ لاتی ہے حِنا پتھر پہ پِس جانے کےبعد

اب اگر اِس کا املا " سرخ رو " کر دیں تو اس سے سرخ چہرے والا معنی مترشح ہوگا ۔
جیسا کہ رشیدلکھنوی کا شعر ہے ؎

گئے تھے حضرتِ زاہِد تو زرد تھا چہرہ
شراب خانے سے نکلے تو سُرخ رُو نکلے

اسی طرح کئی مرکب الفاظ کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے جو کہ ناروا ہے ۔

اردو کے کون سے مرکب الفاظ توڑ کر لکھنے چاہییں ، اور کون سے نہیں ؟
اس کی تفصیل گوپی چند نارنگ کے املا نامہ ( قومی کونسل برائےاردو زبان ہند ، طبع اول 1974 ء ، طبع سوم 2010 ء ) میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔

✍️لقمان شاہد
26-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3194266747520159&id=100008105947430