🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*لادینی افکار اور تاج العلماء مارہروی کے نقوشِ بصیرت*
"تاج العلماء جامع مسجد مالیگاؤں‘‘ کے افتتاحی پروگرام 24؍جون کی مناسبت سے اصلاحی تجزیہ
https://www.facebook.com/107640804524449/posts/223487486273113/
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن، مالیگاؤں]

شہر میں اپنی نوعیت کی عظیم الشان نو تعمیر مسجد ’’تاج العلماء جامع مسجد‘‘ (دریگاؤں) کی افتتاحی بزم 24؍جون بروز جمعرات سجے گی۔ جس میں حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری، حضرت سید عبدالقادر جیلانی میاں، مفتی ابویوسف قادری، مولانا اختر حسین قادری، مولانا وقار احمد عزیزی اور دیگر علماے کرام کی کہکشاں سنی جمعیۃ العلماء نے آراستہ کی ہے۔’’تاج العلماء جامع مسجد ‘‘ جس ذات سے منسوب ہے؛ یعنی تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول محمد میاں مارہروی؛آپ عظیم شیخ طریقت، مصلح، قائد، رہبر ، مدبر و مفکرتھے۔خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کی روحانی برکتوں اور نسبتوں کے امین تھے۔ مالیگاؤں سے آپ کے رشتہ و تعلق کی کڑیاں تقریباً ایک صدی سے منسلک ہیں۔ 1923ء میں جب دارالعلوم حنفیہ سنیہ قائم ہوا۔ اس کے بانیان میں تاج العلماء کا نامِ نامی سنہرے حروف سے رقم ہے۔ آپ کے نام سے دریگاؤں (مالیگاؤں) میں جامعہ حنفیہ سنیہ سے متصل تاج العلماء جامع مسجد کا قیام اپنے اسلاف کی یادیں تازہ کرنے سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ! سنی جمعیۃ العلماء کی اِس سعی کو قبول فرمائے۔ اس ساعتِ سعید کی نسبت سے ہم یہاں تاج العلماء کے افکار پر مختصراً تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
تاج العلماء مولانا سید اولاد رسول مارہروی (۱۳۰۹ھ۔۱۳۷۵ھ) کے عہد میں یہود و نصاریٰ کے برپا کردہ طوفانِ بد تمیزی نے فکروں کو پراگندہ اور اذہان کو گدلا کر کے رکھ دیا تھا۔ جس کے زیر اثر اخلاقی اقدار تنزل پذیر تھیں۔ جیسا کہ آج حالات اس سے زیادہ ہی پیچیدہ ہیں، تاج العلماء نے اپنے فکر و قلم، وعظ و ارشاد اور خانقاہی پیغام کے ذریعے اصلاح کی کوششیں کیں۔ اس سلسلے میں راقم کے پیش نظر تاج العلماء کی ایک جاندار تحریر ہے؛ جس میں اصلاحِ فکر و نظر کے کئی ایک ایسے گوشے ذکر کیے ہیں جن پر عمل کے ذریعے صالح اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔ لامذہبی کے سیلاب پر بند باندھا جا سکتا ہے۔
خانقاہِ برکاتیہ کے گلِ سر سبد تاج العلماء فکرِ صالح کے مالک تھے۔ ان کی دینی بصیرت مستقبل شناس تھی۔ احیاے فکر و نظر کے لیے آپ نے جو سعی و کاوش فرمائی و ممتاز ہے۔ خانقاہِ برکاتیہ ویسے بھی ہند کی نمایاں اور مرکزی خانقاہ رہی ہے؛ اس سے جو بھی صدا بلند ہوئی اس کی بازِ گشت پورے برِصغیر میں صاف سنی گئی۔ بایں وجہ تاج العلماء کی اصلاحی خدمات کے اثرات دور تک پہنچے۔آپ کی فکر و بصیرت سے چند گوشے یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:

*فکری تنزل:*
باطل کے مکرو فریب میں یہ بات شامل تھی کہ اگر مسلمانوں کو زوال کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو ان میں فکری بے راہ روی اور شہوانی لذت سے رغبت پیدا کر دی جائے۔ اسی غرض سے مغربی کلچر کو مسلم معاشرے میں رائج کیا گیا تاج العلماء لکھتے ہیں: ’’یورپ کے عیش پرستوں کو دیکھ کر ملک کے نوجوانوں کی رال ٹپکنے لگی، اور وہ دیکھتے ہیں کہ مذہب شہوانی جذبات کو دباتا اور نفسانی امنگوں کا گلا گھونٹتا ہے، شہوت انگیزی کے تمام دواعی و اسباب کی بندش کرتا ہے، مذہب کے اثر و اقتدار کی حالت میں نفس پرستی و شہوت رانی کے مواقع ہاتھ نہیں آتے۔‘‘ (پاسبان الہ آباد، جون ۱۹۶۳ء ص۱۹)
مذہب سے دوری و بیزاری کا سبب غیر اخلاقی محرکات کی تسکین ہے اور یہی عوامل ہیں جن میں مبتلا ہو کر نسل نو تباہ ہو رہی ہے۔

*منفی تربیت کے اثرات:*
تاج العلما اس پہلو سے لکھتے ہیں: ’’جب اس (بے حیائی و فحاشی کی) آب و ہوا میں پرورش پائی ہو اور جس انسان کا ماحول اس قدر تاریک رہا ہو، اس کو مذہب کی شکل کیوں بھیانک نظر نہ آئے اور وہ پابندیوں کے تصور اوراپنی فاسد اُمیدوں کے خون ہو جانے کے اندیشے سے خائف و مضطرب نہ ہو۔‘‘ (مرجع سابق)

*احیاے دین اور ہماری غفلت:*
’’احیاے ملت اور حمایتِ دین مسلمانوں کے لیے تمام ضروریات میں سب سے اعلیٰ ضرورت ہے؛ اس کا احساس و ادراک کریں۔ اور علما کی معاش کی طرف سے غفلت نہ برتیں مگر بجائے اس کے ان پر یہ الزام لگانا کہ وہ بیکار ہیں دین کو بیکار سمجھنا ہے۔‘‘ (مرجع سابق ص۲۰)
علما کی توہین آج عام سی بات ہے؛ جس کا یہ اثر ہے کہ علما کو حقیر جانا جاتا ہے حالاں کہ زندگی کے ہر شعبے میں علما کی ضرورت ہے، علما کی توہین میں مبتلاافراد کو اپنی منفی روش تبدیل کر نی چاہیے۔

*میڈیا کا منفی رُخ:*
جدت پسندی کے شکار اخبارات اسلامی اصولوں کی بجائے مغربی اصولِ صحافت کو محورِ نگاہ بنا بیٹھے، تاج العلماء فرماتے ہیں: ’’اخبار نویسوں نے اسلام کے ساتھ کیا کیا بغض نکالے ہیں، ان تمام افعال کو جو اسلام کو مٹانے والے تھے، اصلاحات کہہ کر عوام کے عقیدوں کو خراب کیا گیا… یہ اصلاح ہے کہ اسلامی زندگی کو ترک کر دیاجائے اور مذہب کی حمایت کو ظلم بتایا جائے؟ … ان
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کی خامہ فرسائی، دماغ سوزی اور اخبار سیاہ کرنے کا صرف یہی مقصد ہے کہ ہمارے ملک کے جذبۂ مذہبیت کو ضعیف کیا جائے۔‘‘ (مرجع سابق ص۲۱)
میڈیا کے حوالے سے یہودی دستاویز میں بھی ہے کہ وہ میڈیا پر اسی لیے اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں کہ مذہبی (اسلامی) افکار کے مقابل منفی فکر کو رواج دے سکیں۔اس رُخ سے موجودہ میڈیا کا معاملہ سامنے ہے کہ اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کے بجائے منفی تصویر گڑھ رہا ہے،معاصر میڈیا عموماً دیانت و صداقت سے عاری و خالی ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے۔ جس کے بعض احوال کی نشان دہی تاج العلماء نے نصف صدی قبل کر دی تھی۔

*علما کی ذمہ داری:*
’’اپنے زاویے سے نکلیے، خلوتوں سے باہر آئیے! اسلام کی حمایت کا وقت ہے، اہلِ باطل کے بطلان کے پردے فاش کیجیے، بد دین فریبیوں کی فریب کاریوں کا افشاے راز کر کے مسلمانوں کی دینی و مذہبی حمایت و حفاظت کیجیے، وہ پرچے وہ رسالے وہ اخبار وہ تحریر جو اسلام کی مخالفت میں بھرے ہوتے ہیں جن میں بے دینی کی ترویج کی جاتی ہے، ان کو دیکھنے سے مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کیجیے، بے دینی پھیلانے والے جلسے جو ملک میں منعقد کیے جاتے ہیں؛ ان سے مسلمانوں کو آگاہ کیجیے اور ان کے شر سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو مشورہ دیجیے کہ ان میں شرکت نہ کریں۔‘‘ (مرجع سابق ص۲۱) ع
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

*مسلمانوں کی ذمہ داری:*
’’اسلام کی حمایت جیسی علما پر فرض ہے (عام) مسلمانوں پر بھی فرض ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ایسی صحبتوں سے بچانے کی زبردست کوشش کریں جو بے قیدی سکھاتی اور بے دین بناتی ہے۔ اس بات کی بھی کوشش کریں کہ محزبِ اخلاق اور بے دینی اور بد مذہبی کی تحریرات ان کے مطالعہ میں نہ آئیں۔ اسلامی تعلیم کے صحیفہ ہائے سے دماغ سادہ اور خالی نہ ہوں۔ مذہب کی قدر اور محبت سے انھیں واقف اور با خبر کیا جائے۔‘‘(مرجع سابق)

مشائخ مارہرہ مطہرہ نے جو خدمات انجام دی ہیں؛ ان سے تاریخ ہند کے صفحات جگمگا رہے ہیں۔ تاجدار مارہرہ تاج العلماء نے اپنے اصلاحی اور تعلیمی مشن کے توسط سے فکرِ اعلیٰ حضرت کو عام کیا اور تاباں ماضی کے خانقاہی دور کی یادیں تازہ کر دیں۔
***
ترسیل: نوری مشن/اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر/رضا لائبریری مالیگاؤں
٢٣ جون ٢٠٢١ء
noorimission92@gmail.com
+91 9325028586
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*مَدارِ ایمان*
_بقلم:_
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی

ہاں، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار بڑے ادب کا دربار ہے… ایمان کا مدار ہی آپ کی تعظیم و تکریم پر ہے…صحابہ نے کبھی آپ کی موجودگی میں آپ سے پیٹھ نہ پھیری…ان کا رُخ تو نماز میں بھی آپ ہی کی طرف رہتا تھا، انہوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی… ان کی شان تو یہ ہے کہ جب کوئی قبلہ رُخ نماز میں مشغول ہو اور وہ آواز دیں تو قبلہ سے پیٹھ پھیر کر آپ کی آواز پر لبیک کہنا فرض ہے… اس حقیقت پر قرآن گواہ ہے… کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کریں گے کہ اس کے چاہنے والے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوجائیں؟ ہر گز نہیں… یقیناً یہ عمل اللہ و رسول کی ایذا کا باعث ہو گا اور اللہ و رسول کو ایذا دینا کوئی معمولی بات نہیں… بہت بڑی بات ہے… ان کی سرکار تو عالی ہے… کسی بادشاہ کے دربار میں، بادشاہ سے پیٹھ پھیر کر کوئی نماز بھی پڑھنے لگے تو یقیناً اس کو آدابِ شاہی کے خلاف سمجھا جائے گا… نماز پڑھنے والے کو دربار سے ہٹا دیا جائے گا، ہر گز اجازت نہ دی جائے گی کہ وہ بادشاہ کے سامنے پیٹھ پھیر کر نماز پڑھتا ہے… جب دُنیوی بادشاہوں کے دربار کا یہ عالم ہے تو اس دربار کا کیا عالم ہوگا جہاں خود احکم الحاکمین متوجہ ہونے کا حکم دے رہا ہے… صدیوں ہمارے اسلاف و اکابر کا یہی عمل رہا، ائمہ اربعہ بھی اس پر متفق ہیں کہ جب روضہ شریف کے سامنے دُعا کرنے والا دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو چہرہ سرکار کی طرف رہے… اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سچوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے…

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوااللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (سورۂ توبہ:۱۱۹)…
'’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو‘‘

کہ سچے گمراہ نہیں ہو سکتے… اسی میں سعادت ہے کہ قرآن و حدیث کی پیروی کریں اور صالحین کے راستے پر چلتے رہیں۔

[قبلہ، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ۲۰۲۰ء، ص۲۰۔۲۱]
ترسیل: نوری مشن/اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر/ رضا لائبریری مالیگاؤں
***

https://m.facebook.com/107640804524449/posts/222292239725971/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*نامِ نامیﷺ بہارِ زندگی*
نوری مشن کی تازہ اشاعت کی پاکیزہ تمہید... بقلم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مِشن مالیگاؤں

ذکرِ رسولﷺ کی خوشبو سے گلشنِ حیات معطر ہے... لاریب! ذکرِ پاک کی برکت سے اُفق کا جمال ہے... سحر کی نمود ہے... صبح کی رونقیں ہیں... آفتاب کی تمکنت ہے... ماہتاب کی کرنیں ہیں... شب کی روحانیت ہے... بزم پُرنور ہے... حریمِ کائنات میں قندیلِ طیبہ سے آرائش ہے... بات جب تاجدارِ ختم نبوت ﷺ کی ہو؛ تو پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کا رہوارِ فکر بھی جھوم کر چلتا ہے... اسلوب کی دل کشی... فکر کی رعنائی... محبت کی جلوہ سامانی... اور وادیِ عشق کی جادہ پیمائی مشاہدہ ہوتی ہے... نُوری مِشَن مالیگاؤں کی تازہ اشاعت اِسی رُخ سے منصۂ شہود پر ہوگی... آج کی بزم میں نئی اشاعت کی تمہید مطالعہ کیجئے... ان شاء اللہ! ایمان کا غنچہ تروتازہ ہوگا... کلیاں کھل اُٹھیں گی...

"ذکر مصطفیٰﷺ کہاں نہیں؟… کوئی جگہ نہیں،جہاں نہیں… اللہ اللہ!… ان کے کرم سے موجودات نے لباسِ وجود پہنا… ان کا چرچا آسمانوں میں… ان کا چرچا زمینوں میں… ان کا چرچا سمندروں میں… انبیا و رسل، فلک و ملک، جن و انس سب ان کی آمد آمد کے منتظر… ان کا نامِ نامی، بہارِ زندگی…ان کا وجودِ گرامی، شبابِ زندگی… ان کی راتیں، مغفرت کی برسات… ان کے دن، رحمت کی پھوار… ان کا تبسم، طلوعِ فجر… ان کا غم، غروبِ سحر… ان کی عنایت، دلوں کی ٹھنڈک… ان کا کرم، روحوں کی فرحت…ان کا دیدار، آنکھوں کی روشنی… ان کا کردار، انسانوں کی معراج… ذکرِ مصطفیٰ ﷺ بڑی سعادت ہے… وہ دل، دل نہیں جو ان کے لیے نہ سلگے… وہ آنکھ، آنکھ نہیں جو ان کی یاد میں نہ برسے… وہ سینہ، سینہ نہیں جو ان کی محبت میں نہ پھکے… وہ زباں، زباں نہیں جو ان کی مدح و ثنا میں نہ کھلے… ہاں! رگوں میں خون دوڑ رہا ہے… دل میں جذبات اُمنڈ رہے ہیں… دماغ میں خیالات پھوٹ رہے ہیں… زباں پر الفاظ مچل رہے ہیں… جسم میں ہلچل مچی ہے… پھر کیوں نہ اس جانِ جاں کا ذکر کریں!… ہاں! رب العالمین خود ان کا ذکر فرمارہا ہے… اللہ اللہ! وہ ذکر کی کن بلندیوں پر فائز ہیں… اس سے بڑھ کر بلندی اور کیا ہوگی کہ نامِ نامی رب کریم کے حضور اس طرح سرفراز ہوا کہ ہر سرفرازی، اس سرفرازی کے قدم چومنے لگی… ہمارا کیا منہ؟ ہماری کیا اوقات، ہماری کیا بساط جو ان کا ذکر کریں… عقل نہیں جو ان کی بلندیوں کو پاسکے… دماغ نہیں جو اس جوامع الکلم کی بات سمجھ سکے… آنکھ نہیں جو ان کے جلوؤں کو دیکھ سکے… کیا کریں اور کیا نہ کریں؟… دل بے قرار ہے… آنکھیں اشکبار ہیں… اللہ اللہ! مگر وہ تو غریب نواز ہیں، ہاں!؎

اک ننگ غم عشق بھی ہے منتظر دید
صدقے ترے اے صورت سلطان مدینہ"

عنقریب کتاب طبع ہوگی... بزمِ مطالعہ منور ہوگی... لفظ لفظ خوشبو؛ حرف حرف مُشکبو... اور بالیدگیِ فکر کا سامان ہوگا... زبان پر درودوں کے نغمے ہوں گے... ان شاء اللہ!
***
٢٢ جون ٢٠٢١ء
noorimission92@gmail.com
+91 9325028586
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/222900042998524/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی
✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰:
السلام علیکم
حضرت کدو کھانا سنت ہے یہ کہاں سے ثابت ہے دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں ؟
المستفتی : ولی حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ
جواب : کدو جسے لوکی بھی کہا جاتا ہے ایک معروف سبزی ہے جس کا کھانا سنت ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے بہت پسند فرمایا ہے حدیث شریف میں ہے کہ " عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم عَلٰی غُـلَامٍ لَہٗ خَیَّاطٍ، فَقَدَّمَ إِلَیْہِ قَصْعَۃً فِیْہَا ثَرِیْدٌ، قَالَ: وَأَقْبَلَ عَلٰی عَمَلِہٖ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم یَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُہٗ فَأَضَعُہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ بَعْدُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْه " اھ یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم کے پاس گیا جو درزی کا کام کرتا تھا۔ پس اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا۔حضرت انس کا بیان ہے کہ پھر وہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس میں کدو کے ٹکڑے تلاش فرما رہے تھے۔ اُن کا بیان ہے کہ میں بھی تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھنے لگا اور اُس کے بعد میں نے ہمیشہ کدو کو پسند کیا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے " اھ ( أخرجہ البخاري في الصحیح ، کتاب الأطعمۃ ، باب الثرید ، 5 / 2067 ، الرقم : 5104 ، وأبو داود في السنن، کتاب الأطعمۃ ، باب في أکل الدباء ، 3 / 350 ، الرقم : 3782 )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح مبارکہ کیا اللہ تبارک و تعالٰی نے خود نکالی؟

سوال نمبر 449

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روح، اللہ تعالٰی نے اپنے دست قدرت سے نکالی یا حضرت عزرائیل علیہ السلام نے؟

حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

المستفتی: محمد وقاص عطاری فیصل آباد پاکستان

وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ 

جواب:
اللہ رب العزت کا خود بعض خواص بندوں کی روح کا قبض فرمانا حدیث شریف سے ثابت ہے چنانچہ شہدائے بحر کے بارے میں سرکار علیہ السلام نے فرمایا " عن ابى امامة يقول سمعت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم أن الله عز و جل وكل ملك الموت بقبض الارواح الا  شهيد البحر فانه يتولى قبض أرواحهم " اھ  یعنی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالٰی نے ملک الموت کو روح قبض کرنے کے لئے مقرر فرمایا ہے مگر دریا کی شہیدوں کی روح اللہ تعالٰی خود قبض فرماتا ہے " اھ ( ابن ماجہ ص 199) انہیں خواص میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا بھی ہیں جن کی روح اللہ تعالی نے قبض فرمائی ہے جیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ " ان فاطمة الزهراء رضى الله تعالى عنها لما نزل عليها ملك الموت لم ترض بقبضه فقبض الله روحها " اھ یعنی جب خدا نے ملک الموت کو حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا تو آپ راضی نہ ہوئیں تو اللہ عز وجل نے حضرت فاطمہ کی روح خود قبض فرمائی " اھ ( ج 8 ص 114 ) 

واللہ اعلم بالصواب 
کریم اللہ رضوی 

خادم التدریس دارالعلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی
 موبائل نمبر  7666456313

http://www.masaileshariya.com/2019/09/Post449.html?m=1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بعض واعظین بیان کردیتے ہیں کہ ملک الموت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی طویل گفتگو ہوئی کہ ملک الموت نے آنے کی اجازت مانگی جناب فاطمہ رضی اللہ عنھا نے انکار کیا،پھر بہت دراز گفتگو ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فاطمہ کیا ہے آپ نے واقعہ بیان کیا،فرمایا یہ تیرے گھر کا ادب ہے جو وہ اجازت مانگ رہے ہیں،یہ ملک الموت ہیں کسی سے اجازت نہیں مانگا کرتے،یہ سب غلط ہے حضور اس وقت نہ تو فاطمہ زہرا کے گھر میں تھے نہ فاطمہ زہرا وہاں موجود تھیں اس روایت کا کہیں ثبوت نہیں۔

https://www.dawateislami.net/bookslibrary/1090/page/292
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فیس بک پر لکھی گئی تحریریں اگر اللہ کی رضا کے لیے نہ‌ ہوئیں تو ان کی عمر وہی دو چار دن ہوگی ، جن میں لوگ لائک ، کمینٹ اور واہ واہ کردیں گے ۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اللہ کے لیے ہوئیں تو پھر ان کی عمر لکھنے والے سے بھی طویل ہوجائے گی ، اور یہ ہمیشہ کے لیے معزز فرشتوں کے نوشتوں میں محفوظ ہوجائیں گی ۔ ؎

جس کا عمل ہے بے غرض ، اُس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر

تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر !


✍️لقمان شاہد
24-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3192130011067166&id=100008105947430
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سیلف_ڈفینس_ایک_قانونی_حق

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

انسانی جان کا تحفظ دنیا کے تمام ممالک میں انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے۔ہمارے وطن میں بھی انسانی جان کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ سماج دشمن عناصر کی تخریب کاریوں سے معاشرہ محفوظ رہ سکے۔اور ایک عام انسان بھی بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔اسے Right to self Defense "اپنے دفاع کا حق" کہا جاتا ہے۔

تعزیرات ہند کی دفعات 96 تا 106 میں حق دفاع (رائٹ ٹو سیلف ڈفینس) پر بحث کی گئی ہے۔جس میں کل گیارہ دفعات شامل ہیں۔ان دفعات کے تحت ان اسباب وعوامل کا ذکر کیا گیا ہے جن کی موجودگی میں کسی بھی شخص کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔حملہ روکنے اور اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت کے استعمال کی اجازت ہے۔اگر اس طاقت کے استعمال کے نتیجے میں مد مقابل کا جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے تو یہ دفاع کرنے والے کے حق میں "جرم" نہیں مانا جائے گا، کیوں سیلف ڈفینس کے تحت یہ اس کا قانونی حق ہے۔

سیلف ڈفینس کی قانونی تشریح

سیلف ڈفینس قانونی حق ہونے کے ساتھ ساتھ ہر شخص کا بنیادی حق (Fundamental right) بھی ہے۔سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں اس پر زور دیا ہے کہ رائٹ ٹو سیلف ڈفینس انسان کا بنیادی حق ہے۔
قانون حق دفاع کے ساتھ کچھ ہدایات بھی ذہن نشیں رہیں:
1-یہ قانون ہر شخص کو اپنی، بیوی بچوں، اپنی جائداد اور دوسروں کی جان وجائداد کی حفاظت کا حق دیتا ہے، جب کہ حملے کے وقت دفاع کے علاوہ کوئی اور صورت موجود نہ ہو۔

2-سیلف ڈفینس کا حق انتقام لینے یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں ہے، اس کا مطلب صرف اپنا دفاع ہے بالفاظ دیگر "حق دفاع ڈھال ہے تلوار نہیں۔"

3-یہ حق اسی وقت تک حاصل ہے جب تک خطرے کی شدید خدشات ہوں، خطرہ سامنے ہو یا حملہ ہونے والا ہو۔اگر خطرہ ٹل جاتا ہے تو یہ حق ختم ہوجاتا ہے۔

سیلف ڈفینس کی اہم دفعات کی قانونی تشریح ملاحظہ فرمائیں:
🔹 دفعہ 96: اس کے تحت اپنے دفاع کے لیے کیا گیا کوئی بھی کام جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔

🔹دفعہ 97: اس کے تحت ہر فرد کو کسی ایسے جرم سے خود کو یا کسی اور کو بچانے کا حق حاصل ہے جو جسم کو نقصان پہنچاتا ہو۔نیز اس دفعہ کے تحت چوری، ڈکیتی، نقصان رسانی ، مجرمانہ طور پر جائیداد میں دخل اندازی یا ان جرائم کی کوششوں سے جائیداد کے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔جائیداد اپنی ہو یا کسی اور کی، منقولہ ہو یا غیر منقولہ۔مثلاً آپ نے رات کے وقت دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کی دکان یا مکان کا تالہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں، بھلے تالہ نہیں کھلا، نہ ہی وہ لوگ دکان میں داخل ہوئے ہیں مگر تب بھی آپ کو اپنی دکان/مکان کی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنے کی اجازت ہے۔ آپ کا یہ عمل "حق دفاع" مانا جائے گا اور جرم کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

🔹دفعہ 98: کے تحت دماغی طور پر کمزور، مخبوط الحواس، پاگل شخص کے خلاف بھی دفاع کا حاصل رہے گا چاہے ان کا عمل جرم کے زمرے میں آتا ہو یا نہ آتا ہو، مثلاً کسی شخص نے پاگل پن کے زیر اثر دوسرے پر قاتلانہ حملہ کیا، تو دوسرے شخص کو دفاع کا بھر پور حق حاصل رہے گا۔اسی طرح غلط فہمی، حملہ آور کا کم عمر ہونا، حملہ آور کا نشہ میں ہونا وغیرہ مقابل کے حق دفاع کو ختم نہیں کرتا۔

🔹دفعہ 99: کے تحت ان امور کو بیان کیا ہے جن میں حق دفاع حاصل نہیں ہوگا۔جب تک مناسب وجوہات سے اس کا یقین نہ ہوجائے کہ جان کا خطرہ یا شدید زخمی ہوجانے کا اندیشہ ہے۔مثلاً سرکاری ملازمین(پولیس، انکم ٹیکس فوج وغیرہ) کے خلاف حق دفاع حاصل نہیں جب کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہوں۔

🔹 دفعہ 100: یہ دفعہ حق دفاع میں سب سے اہم ہے، اس کے تحت ان اسباب و وجوہات کا تذکرہ ہے جن کی بنا پر کوئی بھی شخص اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کی جان بھی لے سکتا ہے یا اس کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق سات جرائم ایسے ہیں جن کے خلاف اپنی جان کے دفاع کا انتہائی حق حاصل ہوگا، وہ سات جرائم حسب ذیل ہیں:
1- ایسا حملہ جس کی شدت سے ظاہر ہو کہ اگر اس کا دفاع نہ کیا گیا تو خود کی جان جاسکتی ہے۔

2- حملہ ایسا ہو جس کا دفاع نہ کیا جائے تو خود کے شدید زخمی ہونے کا قوی اندیشہ ہو۔

3- زنا بالجبر کی نیت سے حملہ کرنے والے کا دفاع۔

4- غیر فطری شہوت کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

5- اغوا کرنے کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

6- حبس بے جا میں رکھنے کی نیت سے کئے جانے والے حملے کا دفاع۔بشرطیکہ اسباب و عوامل سے ظاہر ہو کہ دفاع کیے بغیر خارجی مدد کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
7- تیزاب کے حملے سے بچنے کا دفاع۔اس صورت حال میں حملہ آور کی جان لی جاسکتی ہے، بشرطیکہ صورت حال ایسی ہو کہ بغیر دفاعی حملہ کیے خود کی جان نہیں بچائی جاسکتی۔
مذکورہ بالا مواقع میں حملہ آور کی "بالارادہ و بالقصد" جان لینے والا شخص قتل کا مجرم نہیں کہلائے گا۔یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ جرائم خود پر ہوں یا کسی اور پر، ہر دو صورت میں دفاع کا حق حاصل رہے گا، مثلاً آپ نے اپنے پڑوس میں دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو قتل کررہا ہے اور آپ کو یقین ہے کہ فوراً کوئی کاروائی نہ کی گئی تو قاتل کامیاب ہوجائے گا، ایسے میں دوسرے شخص کی جان بچانے کے لئے اگر اگر آپ پہلے فرد پر گولی چلائیں یا شدید زخمی کردیں تو آپ مجرم نہیں مانے جائیں گے، کیوں کہ ایسا کرنا آپ کا قانونی حق ہے۔

🔹دفعہ 103: اس دفعہ کے تحت چار جرائم کی صورت میں جائیداد کے دفاع میں حملہ آور کی "بالقصد و بالارادہ" جان لینے کی اجازت ہوگی، وہ چار جرائم یہ ہیں:
1- ڈکیتی 2- رات کے وقت نقب زنی 3- انسانی استعمال میں موجود عمارت یا خیمہ میں آگ لگانا 4- ایسی چوری یا غیر قانونی مداخلت جس کے تعلق سے یقین ہو کہ اگر دفاع نہ کیا جائے تو جان کا خطرہ ہے۔

🔹دفعہ 106: سیلف ڈفینس کی آخری اور اہم دفعہ میں اس نکتہ پر بحث کی گئی ہے کہ اگر جان کا دفاع کرتے وقت یہ محسوس ہو کہ کوئی غیر متعلق فرد بھی دفاعی حملے کی زد میں آسکتا ہے، تو کیا دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا یا نہیں؟ تعزیرات ہند میں اس مسئلہ کو ایک دلچسپ مثال سے واضح کیا گیا ہے، مثال کے مطابق اگر کسی شخص پر کوئی بھیڑ قاتلانہ حملہ کر دے اور اس بھیڑ میں بچے وغیرہ بھی شامل ہیں، مقابل اپنے دفاع کا حق گولی چلائے (یا اندھا دھند تلوار چلائے) بغیر استعمال نہیں کرسکتا ہے تو اپنے حق کے استعمال کی صورت میں اگر کوئی غیر متعلق مرجائے یا اسے نقصان پہنچ جائے تو مقابل شخص کا یہ عمل جرم کے دائرے میں نہیں آئے گا، حالانکہ وہ غیر متعلق صرف بھیڑ کا حصہ تھے حملہ آور نہیں تھے۔

یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ مقدمے کے دوران آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ کا اقدام صرف سلیف ڈفینس کے لیے تھا کوئی اور منشا یا سازش نہیں تھی اگر آپ عدالت میں یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ اپنے دفاع میں کیا تو آپ کو رائٹ ٹو سیلف کے تحت قانونی رعایت مل جائے گی۔

موجودہ دور میں سیلف ڈفینس کی اہمیت

موجودہ حالات میں سیلف ڈفینس کی اہمیت وضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ سماج دشمن عناصر اور قانون سے کھلواڑ کرنے والے غنڈے بدمعاش جابجا خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، راہ گیروں پر حملہ کرکے جانی مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ غنڈے بدمعاش جھنڈ کے جھنڈ میں آتے ہیں اس لیے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے سیلف ڈفینس کا آنا بے حد ضروری ہے، اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل کرکے کسی ناگہانی مصیبت سے خود کو اور دوسروں کو بچا سکیں۔
🔹 سب سے پہلے تو خود کو ذہنی طور پر مضبوط رکھیں، حواس پر قابو رہے، اکیلے بھی ہوں تو خوف زدہ نہ ہوں اور آپ کی باڈی لینگویج بہادرانہ ہو بزدلانہ نہ ہو۔
🔹 آنکھ ناک کان بیدار اور کھلے رکھیں، حملے کا خدشہ محسوس ہو تو قرب وجوار میں محفوظ راستہ اور کچھ ایسے سامان تلاشیں جس سے آپ حملہ آوروں کو کچھ دیر روک سکیں یا وہاں سے نکل سکیں۔
🔹اسکولی لیول سے ہی لڑکے لڑکیوں کو سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ کسی حملے کے وقت اپنی حفاظت کرسکیں۔
🔹سماجی تنظیمیں مختلف مواقع پر عام لوگوں کے لئے سیلف ڈفینس کی ٹریننگ کا اہتمام ضرور کریں تاکہ عام انسان بھی بوقت حملہ خود کو بچا سکیں۔
🔹محرم وغیرہ کے موقع پر چلنے والے اکھاڑوں میں سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے اور لوگوں کو اس حوالے سے بیدار کیا جائے۔
🔹جو لوگ تعلیمی یا کاروباری غرض سے زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں، ان لوگوں کو ترجیحی طور پر سیلف ڈفینس کی تربیت ضرور لینا چاہیے۔
🔹 دوران سفر اپنے ساتھ ایسا حفاظتی سامان ضرور رکھیں جو قانونی طور پر درست ہو، مثلاً پیپر اسپرے ، مرچی پاؤڈر وغیرہ
🔹 اگر کہیں بدمعاشوں کے نرغے میں گھر بھی جائیں تو ہمت وبہادری سے کسی ایک کو ٹارگیٹ کریں تاکہ دوسرے لوگ خوف زدہ ہوجائیں۔جھنڈ میں آنے والے اکثر بزدل ہوتے ہیں، مضبوط جواب ملتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

سیلف ڈفینس کے بہت سارے طریقے یوٹیوب کے ذریعے بھی سیکھے جاسکتے ہیں مگر ان کی عملی مشق ضروری ہے۔اس لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ کسی ٹرینر سے سیکھا جائے اور پھر ہلکی پھلکی مشق کی جاتی رہے تاکہ ضرورت کے وقت آپ خود کو غنڈے بدمعاشوں سے بچا سکیں۔سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور جرائم فری معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
(بعض نکات کی قانونی تشریح میں ایڈووکیٹ نوید سیف کے افکار سے استفادہ کیا گیا ہے)

13 ذوالقعدہ 1442ھ
25 جون 2021 بروز جمعہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4061443317306402&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سیلف_ڈفینس_ایک_قانونی_حق

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

انسانی جان کا تحفظ دنیا کے تمام ممالک میں انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے۔ہمارے وطن میں بھی انسانی جان کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ سماج دشمن عناصر کی تخریب کاریوں سے معاشرہ محفوظ رہ سکے۔اور ایک عام انسان بھی بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔اسے Right to self Defense "اپنے دفاع کا حق" کہا جاتا ہے۔

تعزیرات ہند کی دفعات 96 تا 106 میں حق دفاع (رائٹ ٹو سیلف ڈفینس) پر بحث کی گئی ہے۔جس میں کل گیارہ دفعات شامل ہیں۔ان دفعات کے تحت ان اسباب وعوامل کا ذکر کیا گیا ہے جن کی موجودگی میں کسی بھی شخص کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔حملہ روکنے اور اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت کے استعمال کی اجازت ہے۔اگر اس طاقت کے استعمال کے نتیجے میں مد مقابل کا جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے تو یہ دفاع کرنے والے کے حق میں "جرم" نہیں مانا جائے گا، کیوں سیلف ڈفینس کے تحت یہ اس کا قانونی حق ہے۔

سیلف ڈفینس کی قانونی تشریح

سیلف ڈفینس قانونی حق ہونے کے ساتھ ساتھ ہر شخص کا بنیادی حق (Fundamental right) بھی ہے۔سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں اس پر زور دیا ہے کہ رائٹ ٹو سیلف ڈفینس انسان کا بنیادی حق ہے۔
قانون حق دفاع کے ساتھ کچھ ہدایات بھی ذہن نشیں رہیں:
1-یہ قانون ہر شخص کو اپنی، بیوی بچوں، اپنی جائداد اور دوسروں کی جان وجائداد کی حفاظت کا حق دیتا ہے، جب کہ حملے کے وقت دفاع کے علاوہ کوئی اور صورت موجود نہ ہو۔

2-سیلف ڈفینس کا حق انتقام لینے یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں ہے، اس کا مطلب صرف اپنا دفاع ہے بالفاظ دیگر "حق دفاع ڈھال ہے تلوار نہیں۔"

3-یہ حق اسی وقت تک حاصل ہے جب تک خطرے کی شدید خدشات ہوں، خطرہ سامنے ہو یا حملہ ہونے والا ہو۔اگر خطرہ ٹل جاتا ہے تو یہ حق ختم ہوجاتا ہے۔

سیلف ڈفینس کی اہم دفعات کی قانونی تشریح ملاحظہ فرمائیں:
🔹 دفعہ 96: اس کے تحت اپنے دفاع کے لیے کیا گیا کوئی بھی کام جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔

🔹دفعہ 97: اس کے تحت ہر فرد کو کسی ایسے جرم سے خود کو یا کسی اور کو بچانے کا حق حاصل ہے جو جسم کو نقصان پہنچاتا ہو۔نیز اس دفعہ کے تحت چوری، ڈکیتی، نقصان رسانی ، مجرمانہ طور پر جائیداد میں دخل اندازی یا ان جرائم کی کوششوں سے جائیداد کے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔جائیداد اپنی ہو یا کسی اور کی، منقولہ ہو یا غیر منقولہ۔مثلاً آپ نے رات کے وقت دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کی دکان یا مکان کا تالہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں، بھلے تالہ نہیں کھلا، نہ ہی وہ لوگ دکان میں داخل ہوئے ہیں مگر تب بھی آپ کو اپنی دکان/مکان کی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنے کی اجازت ہے۔ آپ کا یہ عمل "حق دفاع" مانا جائے گا اور جرم کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

🔹دفعہ 98: کے تحت دماغی طور پر کمزور، مخبوط الحواس، پاگل شخص کے خلاف بھی دفاع کا حاصل رہے گا چاہے ان کا عمل جرم کے زمرے میں آتا ہو یا نہ آتا ہو، مثلاً کسی شخص نے پاگل پن کے زیر اثر دوسرے پر قاتلانہ حملہ کیا، تو دوسرے شخص کو دفاع کا بھر پور حق حاصل رہے گا۔اسی طرح غلط فہمی، حملہ آور کا کم عمر ہونا، حملہ آور کا نشہ میں ہونا وغیرہ مقابل کے حق دفاع کو ختم نہیں کرتا۔

🔹دفعہ 99: کے تحت ان امور کو بیان کیا ہے جن میں حق دفاع حاصل نہیں ہوگا۔جب تک مناسب وجوہات سے اس کا یقین نہ ہوجائے کہ جان کا خطرہ یا شدید زخمی ہوجانے کا اندیشہ ہے۔مثلاً سرکاری ملازمین(پولیس، انکم ٹیکس فوج وغیرہ) کے خلاف حق دفاع حاصل نہیں جب کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہوں۔

🔹 دفعہ 100: یہ دفعہ حق دفاع میں سب سے اہم ہے، اس کے تحت ان اسباب و وجوہات کا تذکرہ ہے جن کی بنا پر کوئی بھی شخص اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کی جان بھی لے سکتا ہے یا اس کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق سات جرائم ایسے ہیں جن کے خلاف اپنی جان کے دفاع کا انتہائی حق حاصل ہوگا، وہ سات جرائم حسب ذیل ہیں:
1- ایسا حملہ جس کی شدت سے ظاہر ہو کہ اگر اس کا دفاع نہ کیا گیا تو خود کی جان جاسکتی ہے۔

2- حملہ ایسا ہو جس کا دفاع نہ کیا جائے تو خود کے شدید زخمی ہونے کا قوی اندیشہ ہو۔

3- زنا بالجبر کی نیت سے حملہ کرنے والے کا دفاع۔

4- غیر فطری شہوت کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

5- اغوا کرنے کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

6- حبس بے جا میں رکھنے کی نیت سے کئے جانے والے حملے کا دفاع۔بشرطیکہ اسباب و عوامل سے ظاہر ہو کہ دفاع کیے بغیر خارجی مدد کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
7- تیزاب کے حملے سے بچنے کا دفاع۔اس صورت حال میں حملہ آور کی جان لی جاسکتی ہے، بشرطیکہ صورت حال ایسی ہو کہ بغیر دفاعی حملہ کیے خود کی جان نہیں بچائی جاسکتی۔
مذکورہ بالا مواقع میں حملہ آور کی "بالارادہ و بالقصد" جان لینے والا شخص قتل کا مجرم نہیں کہلائے گا۔یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ جرائم خود پر ہوں یا کسی اور پر، ہر دو صورت میں دفاع کا حق حاصل رہے گا، مثلاً آپ نے اپنے پڑوس میں دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو قتل کررہا ہے اور آپ کو یقین ہے کہ فوراً کوئی کاروائی نہ کی گئی تو قاتل کامیاب ہوجائے گا، ایسے میں دوسرے شخص کی جان بچانے کے لئے اگر اگر آپ پہلے فرد پر گولی چلائیں یا شدید زخمی کردیں تو آپ مجرم نہیں مانے جائیں گے، کیوں کہ ایسا کرنا آپ کا قانونی حق ہے۔

🔹دفعہ 103: اس دفعہ کے تحت چار جرائم کی صورت میں جائیداد کے دفاع میں حملہ آور کی "بالقصد و بالارادہ" جان لینے کی اجازت ہوگی، وہ چار جرائم یہ ہیں:
1- ڈکیتی 2- رات کے وقت نقب زنی 3- انسانی استعمال میں موجود عمارت یا خیمہ میں آگ لگانا 4- ایسی چوری یا غیر قانونی مداخلت جس کے تعلق سے یقین ہو کہ اگر دفاع نہ کیا جائے تو جان کا خطرہ ہے۔

🔹دفعہ 106: سیلف ڈفینس کی آخری اور اہم دفعہ میں اس نکتہ پر بحث کی گئی ہے کہ اگر جان کا دفاع کرتے وقت یہ محسوس ہو کہ کوئی غیر متعلق فرد بھی دفاعی حملے کی زد میں آسکتا ہے، تو کیا دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا یا نہیں؟ تعزیرات ہند میں اس مسئلہ کو ایک دلچسپ مثال سے واضح کیا گیا ہے، مثال کے مطابق اگر کسی شخص پر کوئی بھیڑ قاتلانہ حملہ کر دے اور اس بھیڑ میں بچے وغیرہ بھی شامل ہیں، مقابل اپنے دفاع کا حق گولی چلائے (یا اندھا دھند تلوار چلائے) بغیر استعمال نہیں کرسکتا ہے تو اپنے حق کے استعمال کی صورت میں اگر کوئی غیر متعلق مرجائے یا اسے نقصان پہنچ جائے تو مقابل شخص کا یہ عمل جرم کے دائرے میں نہیں آئے گا، حالانکہ وہ غیر متعلق صرف بھیڑ کا حصہ تھے حملہ آور نہیں تھے۔

یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ مقدمے کے دوران آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ کا اقدام صرف سلیف ڈفینس کے لیے تھا کوئی اور منشا یا سازش نہیں تھی اگر آپ عدالت میں یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ اپنے دفاع میں کیا تو آپ کو رائٹ ٹو سیلف کے تحت قانونی رعایت مل جائے گی۔

موجودہ دور میں سیلف ڈفینس کی اہمیت

موجودہ حالات میں سیلف ڈفینس کی اہمیت وضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ سماج دشمن عناصر اور قانون سے کھلواڑ کرنے والے غنڈے بدمعاش جابجا خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، راہ گیروں پر حملہ کرکے جانی مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ غنڈے بدمعاش جھنڈ کے جھنڈ میں آتے ہیں اس لیے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے سیلف ڈفینس کا آنا بے حد ضروری ہے، اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل کرکے کسی ناگہانی مصیبت سے خود کو اور دوسروں کو بچا سکیں۔
🔹 سب سے پہلے تو خود کو ذہنی طور پر مضبوط رکھیں، حواس پر قابو رہے، اکیلے بھی ہوں تو خوف زدہ نہ ہوں اور آپ کی باڈی لینگویج بہادرانہ ہو بزدلانہ نہ ہو۔
🔹 آنکھ ناک کان بیدار اور کھلے رکھیں، حملے کا خدشہ محسوس ہو تو قرب وجوار میں محفوظ راستہ اور کچھ ایسے سامان تلاشیں جس سے آپ حملہ آوروں کو کچھ دیر روک سکیں یا وہاں سے نکل سکیں۔
🔹اسکولی لیول سے ہی لڑکے لڑکیوں کو سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ کسی حملے کے وقت اپنی حفاظت کرسکیں۔
🔹سماجی تنظیمیں مختلف مواقع پر عام لوگوں کے لئے سیلف ڈفینس کی ٹریننگ کا اہتمام ضرور کریں تاکہ عام انسان بھی بوقت حملہ خود کو بچا سکیں۔
🔹محرم وغیرہ کے موقع پر چلنے والے اکھاڑوں میں سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے اور لوگوں کو اس حوالے سے بیدار کیا جائے۔
🔹جو لوگ تعلیمی یا کاروباری غرض سے زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں، ان لوگوں کو ترجیحی طور پر سیلف ڈفینس کی تربیت ضرور لینا چاہیے۔
🔹 دوران سفر اپنے ساتھ ایسا حفاظتی سامان ضرور رکھیں جو قانونی طور پر درست ہو، مثلاً پیپر اسپرے ، مرچی پاؤڈر وغیرہ
🔹 اگر کہیں بدمعاشوں کے نرغے میں گھر بھی جائیں تو ہمت وبہادری سے کسی ایک کو ٹارگیٹ کریں تاکہ دوسرے لوگ خوف زدہ ہوجائیں۔جھنڈ میں آنے والے اکثر بزدل ہوتے ہیں، مضبوط جواب ملتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

سیلف ڈفینس کے بہت سارے طریقے یوٹیوب کے ذریعے بھی سیکھے جاسکتے ہیں مگر ان کی عملی مشق ضروری ہے۔اس لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ کسی ٹرینر سے سیکھا جائے اور پھر ہلکی پھلکی مشق کی جاتی رہے تاکہ ضرورت کے وقت آپ خود کو غنڈے بدمعاشوں سے بچا سکیں۔سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور جرائم فری معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
(بعض نکات کی قانونی تشریح میں ایڈووکیٹ نوید سیف کے افکار سے استفادہ کیا گیا ہے)

13 ذوالقعدہ 1442ھ
25 جون 2021 بروز جمعہ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/939009740002878/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM