*صدرالعلماء_ماہرعلوم_کثیرہ_حضرت_علامہ_مولانا_محمد_احمد_مصباحی_دام_ظلہ_العالی_کے_افکارِ_عالیہ۔*
*انسان جسم و روح کا مجموعہ ہے،جب کہا جاتا ہے فلاں آدمی مرگیا ،تو بتاؤ جسم و روح میں سے وہ کونسی چیز ہے جو مرگئ یا فنا ہوگئی؟ کیا روح مرجاتی ہے؟ ہرگز نہیں، اہل اسلام میں ہی نہیں ،بلکہ فلاسفہ کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ روح نہیں مرتی، پھر کیا جسم مرجاتا ہے؟ یہ بھی نہیں، اسے تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو ،ہاتھوں سے ٹٹولتے ہو، تمام اعضاء اپنی جگہ سلامت ہیں ،کوئ عضو فنا نہیں ہوا، پھر موت کیا ہے؟؟ میں کہتا ہوں موت جسم و روح کے اختلاف کا نام ہے۔ جب تک روح اور جسم کا اتصال و اتفاق تھا، آدمی زندہ تھا ،جب دونوں میں اختلاف اور جدائی ہوگئ، کہدیا انسان مرگیا۔*
*معلوم ہوا اتفاق زندگی ہے اور اختلاف موت ۔ایک جسم و روح کا اختلاف شخص کی موت ہے۔ ایک محلہ، ایک گاؤں، ایک شہر یا ایک ملک کا اختلاف، اس محلہ، گاوں، شہر یا ملک کی موت ہے۔*
(حافظ ملت نمبر،اشرفیہ، ص:184،185 از مولانا محمد احمد صاحب مصباحی بھیروی)
بشکریہ Saleemul Quadri Misbahi زید علمہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808218109805241&id=100018511772807
*انسان جسم و روح کا مجموعہ ہے،جب کہا جاتا ہے فلاں آدمی مرگیا ،تو بتاؤ جسم و روح میں سے وہ کونسی چیز ہے جو مرگئ یا فنا ہوگئی؟ کیا روح مرجاتی ہے؟ ہرگز نہیں، اہل اسلام میں ہی نہیں ،بلکہ فلاسفہ کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ روح نہیں مرتی، پھر کیا جسم مرجاتا ہے؟ یہ بھی نہیں، اسے تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو ،ہاتھوں سے ٹٹولتے ہو، تمام اعضاء اپنی جگہ سلامت ہیں ،کوئ عضو فنا نہیں ہوا، پھر موت کیا ہے؟؟ میں کہتا ہوں موت جسم و روح کے اختلاف کا نام ہے۔ جب تک روح اور جسم کا اتصال و اتفاق تھا، آدمی زندہ تھا ،جب دونوں میں اختلاف اور جدائی ہوگئ، کہدیا انسان مرگیا۔*
*معلوم ہوا اتفاق زندگی ہے اور اختلاف موت ۔ایک جسم و روح کا اختلاف شخص کی موت ہے۔ ایک محلہ، ایک گاؤں، ایک شہر یا ایک ملک کا اختلاف، اس محلہ، گاوں، شہر یا ملک کی موت ہے۔*
(حافظ ملت نمبر،اشرفیہ، ص:184،185 از مولانا محمد احمد صاحب مصباحی بھیروی)
بشکریہ Saleemul Quadri Misbahi زید علمہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808218109805241&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سراج الفقہا ء فقیہ اعظم مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی دام ظلہ کا عظیم الشان کارنامہ۔۔۔علم حدیث اور علم عقائد و کلام پر گراں قدر اضافہ ۔
احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف (دو جلدیں )
دو جلدوں پر مشتمل 255 آیات قرآنی اور 520 احادیث نبویہ کا بیش بہا ذخیرہ ،عام فہم تشریح اور دل نشیں استدلال کے ساتھ۔
سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی شیخ الحدیث و صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور اس کتاب کی تصنیف پر پوری جماعت اہل سنت کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ عزوجل سراج الفقہاء کا سایہ عاطفت اہل سنت و جماعت پر صحت و سلامتی کے ساتھ تادیر قائم فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کتاب کا تعارف جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے شیخ الادب مولانا نفیس احمد مصباحی صاحب قبلہ کے قلم سے چند ساعتوں بعد ملاحظہ فرمائیں.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808359953124390&id=100018511772807
احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف (دو جلدیں )
دو جلدوں پر مشتمل 255 آیات قرآنی اور 520 احادیث نبویہ کا بیش بہا ذخیرہ ،عام فہم تشریح اور دل نشیں استدلال کے ساتھ۔
سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی شیخ الحدیث و صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور اس کتاب کی تصنیف پر پوری جماعت اہل سنت کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ عزوجل سراج الفقہاء کا سایہ عاطفت اہل سنت و جماعت پر صحت و سلامتی کے ساتھ تادیر قائم فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کتاب کا تعارف جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے شیخ الادب مولانا نفیس احمد مصباحی صاحب قبلہ کے قلم سے چند ساعتوں بعد ملاحظہ فرمائیں.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808359953124390&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
شریعت کا پاس دار
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
طلبہ نہایت ڈسپلن اور شائستگی کے ساتھ قطار در قطار کھڑے تھے۔موقع جشن جمہوریہ کا تھا۔ادارے کی روایت تھی کہ اس موقع پر حکومت غیر ملکی طلبہ سے اظہار اپنائیت اور بطور خیر سگالی اپنا ایک نمائندہ بھیجا کرتی تھی۔آج ایک بار پھر وہی موقع تھا۔طلبہ سجے سنورے کھڑے تھے۔ادارے کے معزز افراد کے ساتھ حکومت کا خاص نمائندہ بھی موجود تھا۔
ادارے کی روایت کے مطابق حکومت کا نمائندہ قطار میں کھڑے طلبہ سے ہاتھ ملاتا اور یوم جمہوریہ کی مبارکباد دیتا۔دستور آج بھی وہی تھا مگر اس بار نمائندہ بدل چکا تھا۔اب تک جتنے بھی نمائندے آئے وہ سب مرد تھے مگر اس بار خلاف معمول ایک خاتون بطور نمائندہ حاضر تھی۔دستور کے مطابق خاتون اہلکار نے طلبہ سے ہاتھ ملا کر مبارکباد دینا شروع کیا۔یہ منظر دیکھ کر قطار میں موجود ایک طالب علم کے چہرے پر پریشانی کے آثار نظر آنے لگے۔جیسے جیسے خاتون اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہورہا تھا نوجوان طالب علم کی پریشانی میں اضافہ ہورہا تھا۔ظاہری کیفیت دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ نوجوان کے دل ودماغ میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔اندرونی کیفیت کا اثر چہرے پر صاف نمایاں تھا۔ایک طرف ادارے کی روایت پیش نظر تھی تو دوسری جانب شریعت کی پاس داری کا خیال آ رہا تھا۔اسی کش مکش میں فاصلہ سمٹتا گیا۔جیسے جیسے فاصلہ سمٹا نوجوان کے چہرے کی بے چینی اور اضطراب عزم ویقین میں بدل گیا۔خاتون قریب آئی اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔نوجوان نے نہایت شرافت و متانت کے ساتھ خود کو لائن سے الگ کر لیا۔خاتون اہلکار کو حیرت کا جھٹکا لگا۔خیر مقدم اور اظہار اپنائیت کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا بین الاقوامی روایت سی بن گیا ہے۔خود اس ادارے کا قدیم دستور بھی یہی تھا مگر آج خلاف دستور ایک نوجوان نے عورت سے ہاتھ ملانے کی بجائے خود کو لائن سے الگ کرلیا تھا۔خاتون نے نگاہ اٹھا کر اس جوان کو دیکھا، بیس اکیس سال کا خوب رو جوان متانت وسنجیدگی کے ساتھ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ۔(النور: 30) کی عملی تفسیر بن کر ایک طرف کھڑا تھا۔جھکی ہوئی نگاہیں اس کی شرافت اور خاندانی تربیت کا پتہ دے رہی تھیں۔خاتون نے ایک نگاہ دوسرے طلبہ اور ایک نگاہ اس باحیا جوان پر ڈالی۔متواضع مگر پر وقار انداز میں کھڑا وہ نوجوان کسی اور ہی جہان کا لگ رہا تھا۔چہرے پر برستا نور اور عالمانہ وقار دیکھ کر خاتون اہلکار نے اندازہ لگا لیا کہ نوجوان کسی منصوبے یا توہین کی نیت سے نہیں بلکہ پاس داری شریعت کے تحت اجنبیہ عورت سے مصافحہ نہیں کرنا چاہتا۔ڈپلومیٹک خاتون تھی چہرے کی حرکات وسکنات سے دلی کیفیات کو جاننے کا ہنر رکھتی تھی اس لیے فوراً ہی سارا ماجرا سمجھ گئی مگر اس بات پر سخت حیران تھی کہ ابھرتی ہوئی جوانی اور آج کے مخلوط ماحول میں کوئی انسان شرعی احکام کا اس قدر بھی پابند ہوسکتا ہے؟
خاتون نے اس نوجوان کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھا اور دوسرے طلبہ کو مبارکباد دینے کے لیے آگے بڑھ گئی مگر اس نوجوان کی شرافت اور دینی غیرت دل ودماغ پر نقش ہوچکی تھی۔یہ واقعہ عالم اسلام کی سب سے قدیم یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر میں پیش آیا تھا۔
آپ جانتے ہیں کہ شریعت کی پاس داری میں حکومتی اہلکار سے مصافحہ نہ کرنے والا غیرت مند نوجوان کون تھا؟
یہ غیرت مند جوان امام احمد رضا کا عکس جمیل ، حجۃ الاسلام کے پوتے ، مفتی اعظم کی امانت ، پیکر تقویٰ، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے۔
جنہوں نے شریعت کی پاس داری اور اپنے جد اعلی، امام احمد رضا کی خاندانی شرافت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا:
اہل دول ہوں سامنے یا صاحبان تاج
اہل شرع کو پاس شریعت عزیز ہے
___ اسی قطار میں آپ سے ٹھیک پہلے آپ کے عزیز دوست علامہ شمیم ازہری علیہ الرحمہ بھی کھڑے تھے۔مگر آپ دیگر طلبہ کی دیکھم دیکھ ادارے کی روایت سے بغاوت نہ کر سکے اور خاتون اہلکار سے ہاتھ ملا بیٹھے۔
بس پھر کیا تھا؟
اسی غیر شرعی عمل کی بنیاد پر تاج الشریعہ نے اپنے چہیتے دوست سے ترک تعلق کر لیا۔ایک ایسا دوست جس کے بغیر ایک لمحہ چین نہیں پڑتا تھا مگر پاس شریعت کی خاطر اپنے جگری یار سے بول چال تک بند کردی اور
"الحب في الله والبغض في الله"
(صحيح الجامع 2539)
کی عملی تفسیر بن کر کمال ایمان کا مظاہرہ کیا۔
کہتے ہیں جس سے جتنی محبت ہوتی ہے اس کی ناراضگی بھی اتنی ہی زیادہ گراں گزرتی ہے۔یہی حال علامہ شمیم ازہری کا تھا۔کئی دن گزر گئے مگر تاج الشریعہ کی بے رخی برقرار تھی۔جب دوست کو منانے کی ہر ترکیب ناکام ہوگئی تو جگری دوست کا پیمانہ صبر چھلک پڑا۔درد حد سے بڑھا تو آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس پڑیں۔برستی آنکھوں کے ساتھ اپنے جان سے پیارے دوست کو آواز لگائی:
جان برادر!
للہ!
مجھ سے ناراض نہ ہوں۔آپ کی رفاقت اور دوستی میرے لیے عزت وشرف کی بات ہے۔
آپ یوں ہی ناراض رہے تو میرے درد کا درماں کون بنے گا؟
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
طلبہ نہایت ڈسپلن اور شائستگی کے ساتھ قطار در قطار کھڑے تھے۔موقع جشن جمہوریہ کا تھا۔ادارے کی روایت تھی کہ اس موقع پر حکومت غیر ملکی طلبہ سے اظہار اپنائیت اور بطور خیر سگالی اپنا ایک نمائندہ بھیجا کرتی تھی۔آج ایک بار پھر وہی موقع تھا۔طلبہ سجے سنورے کھڑے تھے۔ادارے کے معزز افراد کے ساتھ حکومت کا خاص نمائندہ بھی موجود تھا۔
ادارے کی روایت کے مطابق حکومت کا نمائندہ قطار میں کھڑے طلبہ سے ہاتھ ملاتا اور یوم جمہوریہ کی مبارکباد دیتا۔دستور آج بھی وہی تھا مگر اس بار نمائندہ بدل چکا تھا۔اب تک جتنے بھی نمائندے آئے وہ سب مرد تھے مگر اس بار خلاف معمول ایک خاتون بطور نمائندہ حاضر تھی۔دستور کے مطابق خاتون اہلکار نے طلبہ سے ہاتھ ملا کر مبارکباد دینا شروع کیا۔یہ منظر دیکھ کر قطار میں موجود ایک طالب علم کے چہرے پر پریشانی کے آثار نظر آنے لگے۔جیسے جیسے خاتون اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہورہا تھا نوجوان طالب علم کی پریشانی میں اضافہ ہورہا تھا۔ظاہری کیفیت دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ نوجوان کے دل ودماغ میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔اندرونی کیفیت کا اثر چہرے پر صاف نمایاں تھا۔ایک طرف ادارے کی روایت پیش نظر تھی تو دوسری جانب شریعت کی پاس داری کا خیال آ رہا تھا۔اسی کش مکش میں فاصلہ سمٹتا گیا۔جیسے جیسے فاصلہ سمٹا نوجوان کے چہرے کی بے چینی اور اضطراب عزم ویقین میں بدل گیا۔خاتون قریب آئی اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔نوجوان نے نہایت شرافت و متانت کے ساتھ خود کو لائن سے الگ کر لیا۔خاتون اہلکار کو حیرت کا جھٹکا لگا۔خیر مقدم اور اظہار اپنائیت کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا بین الاقوامی روایت سی بن گیا ہے۔خود اس ادارے کا قدیم دستور بھی یہی تھا مگر آج خلاف دستور ایک نوجوان نے عورت سے ہاتھ ملانے کی بجائے خود کو لائن سے الگ کرلیا تھا۔خاتون نے نگاہ اٹھا کر اس جوان کو دیکھا، بیس اکیس سال کا خوب رو جوان متانت وسنجیدگی کے ساتھ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ۔(النور: 30) کی عملی تفسیر بن کر ایک طرف کھڑا تھا۔جھکی ہوئی نگاہیں اس کی شرافت اور خاندانی تربیت کا پتہ دے رہی تھیں۔خاتون نے ایک نگاہ دوسرے طلبہ اور ایک نگاہ اس باحیا جوان پر ڈالی۔متواضع مگر پر وقار انداز میں کھڑا وہ نوجوان کسی اور ہی جہان کا لگ رہا تھا۔چہرے پر برستا نور اور عالمانہ وقار دیکھ کر خاتون اہلکار نے اندازہ لگا لیا کہ نوجوان کسی منصوبے یا توہین کی نیت سے نہیں بلکہ پاس داری شریعت کے تحت اجنبیہ عورت سے مصافحہ نہیں کرنا چاہتا۔ڈپلومیٹک خاتون تھی چہرے کی حرکات وسکنات سے دلی کیفیات کو جاننے کا ہنر رکھتی تھی اس لیے فوراً ہی سارا ماجرا سمجھ گئی مگر اس بات پر سخت حیران تھی کہ ابھرتی ہوئی جوانی اور آج کے مخلوط ماحول میں کوئی انسان شرعی احکام کا اس قدر بھی پابند ہوسکتا ہے؟
خاتون نے اس نوجوان کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھا اور دوسرے طلبہ کو مبارکباد دینے کے لیے آگے بڑھ گئی مگر اس نوجوان کی شرافت اور دینی غیرت دل ودماغ پر نقش ہوچکی تھی۔یہ واقعہ عالم اسلام کی سب سے قدیم یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر میں پیش آیا تھا۔
آپ جانتے ہیں کہ شریعت کی پاس داری میں حکومتی اہلکار سے مصافحہ نہ کرنے والا غیرت مند نوجوان کون تھا؟
یہ غیرت مند جوان امام احمد رضا کا عکس جمیل ، حجۃ الاسلام کے پوتے ، مفتی اعظم کی امانت ، پیکر تقویٰ، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے۔
جنہوں نے شریعت کی پاس داری اور اپنے جد اعلی، امام احمد رضا کی خاندانی شرافت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا:
اہل دول ہوں سامنے یا صاحبان تاج
اہل شرع کو پاس شریعت عزیز ہے
___ اسی قطار میں آپ سے ٹھیک پہلے آپ کے عزیز دوست علامہ شمیم ازہری علیہ الرحمہ بھی کھڑے تھے۔مگر آپ دیگر طلبہ کی دیکھم دیکھ ادارے کی روایت سے بغاوت نہ کر سکے اور خاتون اہلکار سے ہاتھ ملا بیٹھے۔
بس پھر کیا تھا؟
اسی غیر شرعی عمل کی بنیاد پر تاج الشریعہ نے اپنے چہیتے دوست سے ترک تعلق کر لیا۔ایک ایسا دوست جس کے بغیر ایک لمحہ چین نہیں پڑتا تھا مگر پاس شریعت کی خاطر اپنے جگری یار سے بول چال تک بند کردی اور
"الحب في الله والبغض في الله"
(صحيح الجامع 2539)
کی عملی تفسیر بن کر کمال ایمان کا مظاہرہ کیا۔
کہتے ہیں جس سے جتنی محبت ہوتی ہے اس کی ناراضگی بھی اتنی ہی زیادہ گراں گزرتی ہے۔یہی حال علامہ شمیم ازہری کا تھا۔کئی دن گزر گئے مگر تاج الشریعہ کی بے رخی برقرار تھی۔جب دوست کو منانے کی ہر ترکیب ناکام ہوگئی تو جگری دوست کا پیمانہ صبر چھلک پڑا۔درد حد سے بڑھا تو آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس پڑیں۔برستی آنکھوں کے ساتھ اپنے جان سے پیارے دوست کو آواز لگائی:
جان برادر!
للہ!
مجھ سے ناراض نہ ہوں۔آپ کی رفاقت اور دوستی میرے لیے عزت وشرف کی بات ہے۔
آپ یوں ہی ناراض رہے تو میرے درد کا درماں کون بنے گا؟
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
آپ روٹھے رہے تو زمانے بھر کی رعنائیاں میرے لیے سناٹا بن جائیں گی۔
درد سے بھری ہوئی آواز اور اشک بار آنکھیں دیکھ کر تاج الشریعہ کا بھی دل بھر آیا:
دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے
بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا
آنسوؤں کا ظاہری تعلق بھلے ہی آنکھوں سے ہوتا ہے مگر ان کا اصل رشتہ دل سے ہوتا ہے۔دل پر چوٹ لگتی ہے تو آنکھ خود بخود اشک بار ہوجاتی ہے۔یہ آنسو بھی بڑے کمال کے ہوتے ہیں۔کبھی کبھی جو کام ہزاروں الفاظ نہیں کر پاتے، آنکھ سے بہنے والا ایک آنسو کردیا کرتا ہے۔آپ نے علامہ شمیم ازہری کے شانہ پر اپنائیت کے ساتھ ہاتھ رکھا اور کہا:
شمیم صاحب!
میں آپ سے اپنی ذات کے لیے ناراض نہیں تھا۔میری ناراضگی اللہ ورسول کے لیے تھی۔آپ نے اس خاتون سے ہاتھ ملا کر غیر شرعی کام کیا۔کیوں کہ وہ آپ کی محرم نہیں تھی۔دوست ہونے کے ناطے میں آپ کے لیے بھی وہی بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔
سوکھے دھانوں پر جیسے بارش برس گئی۔تاج شریعت کا ایک ایک لفظ شبنم کی طرح روح کو ٹھنڈا کرتا چلا گیا۔دل سے تائب ہوئے اور آئندہ غیر شرعی کاموں سے مکمل پرہیز کا وعدہ کیا۔
ایسے تھے تاج الشریعہ!
جو جوانی میں ہی بزرگی کے منصب پر فائز تھے۔
جو پاس داری شریعت میں اعلی حضرت کا عکس جمیل تھے۔
جن کی دینی غیرت حجۃ الاسلام کی یاد دلاتی تھی۔
جو مفتی اعظم کے داعیانہ اوصاف کے سچے امین تھے۔
جنہوں نے ہمیشہ شریعت کی پاس داری کی۔جو نفاذ شریعت میں کسی کو خاطر میں نہیں لائے۔جنہوں نے بلا خوف لومۃ لائم نعرہ حق بلند کیا۔اسی کا انعام یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اتنا بلند کردیا کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کی عظمت کے قصیدے پڑھتے ہیں۔
بارش فضل خدا تجھ پہ سدا ہوتی رہے
حشر تک جاری رہے فیض کا دریا تیرا
(ماخوذ تاج الشریعہ کی تقوی شعار زندگی، مشمولہ یادگار تاج الشریعہ نمبر، سواد اعظم دہلی مجریہ جولائی 2019)
7 ذوالقعدہ 1442ھ
18 جون 2021 بروز جمعہ
درد سے بھری ہوئی آواز اور اشک بار آنکھیں دیکھ کر تاج الشریعہ کا بھی دل بھر آیا:
دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے
بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا
آنسوؤں کا ظاہری تعلق بھلے ہی آنکھوں سے ہوتا ہے مگر ان کا اصل رشتہ دل سے ہوتا ہے۔دل پر چوٹ لگتی ہے تو آنکھ خود بخود اشک بار ہوجاتی ہے۔یہ آنسو بھی بڑے کمال کے ہوتے ہیں۔کبھی کبھی جو کام ہزاروں الفاظ نہیں کر پاتے، آنکھ سے بہنے والا ایک آنسو کردیا کرتا ہے۔آپ نے علامہ شمیم ازہری کے شانہ پر اپنائیت کے ساتھ ہاتھ رکھا اور کہا:
شمیم صاحب!
میں آپ سے اپنی ذات کے لیے ناراض نہیں تھا۔میری ناراضگی اللہ ورسول کے لیے تھی۔آپ نے اس خاتون سے ہاتھ ملا کر غیر شرعی کام کیا۔کیوں کہ وہ آپ کی محرم نہیں تھی۔دوست ہونے کے ناطے میں آپ کے لیے بھی وہی بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔
سوکھے دھانوں پر جیسے بارش برس گئی۔تاج شریعت کا ایک ایک لفظ شبنم کی طرح روح کو ٹھنڈا کرتا چلا گیا۔دل سے تائب ہوئے اور آئندہ غیر شرعی کاموں سے مکمل پرہیز کا وعدہ کیا۔
ایسے تھے تاج الشریعہ!
جو جوانی میں ہی بزرگی کے منصب پر فائز تھے۔
جو پاس داری شریعت میں اعلی حضرت کا عکس جمیل تھے۔
جن کی دینی غیرت حجۃ الاسلام کی یاد دلاتی تھی۔
جو مفتی اعظم کے داعیانہ اوصاف کے سچے امین تھے۔
جنہوں نے ہمیشہ شریعت کی پاس داری کی۔جو نفاذ شریعت میں کسی کو خاطر میں نہیں لائے۔جنہوں نے بلا خوف لومۃ لائم نعرہ حق بلند کیا۔اسی کا انعام یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اتنا بلند کردیا کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کی عظمت کے قصیدے پڑھتے ہیں۔
بارش فضل خدا تجھ پہ سدا ہوتی رہے
حشر تک جاری رہے فیض کا دریا تیرا
(ماخوذ تاج الشریعہ کی تقوی شعار زندگی، مشمولہ یادگار تاج الشریعہ نمبر، سواد اعظم دہلی مجریہ جولائی 2019)
7 ذوالقعدہ 1442ھ
18 جون 2021 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نیچے دی گئی تصویر میں ایک دوست کی ٹانگ نہیں ، تو اس کے دوست بھی اپنی ایک ٹانگ باندھ کر اسے بتا رہے ہیں کہ:
بھائی ! احساس کم تری کاشکار نہیں ہوتے ، ایکٹانگ سے بھی تو کھیلا جاسکتا ہے ، جیسے ہم کھیل رہے ہیں ۔
🌸 اپنوں کو ہمیشہ حوصلہ دیتے ہیں ، ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی کمزوریاں دور کرتے ہیں ، ان کا چرچا نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی آزمائشوں پر پریشان ہونے کے بجائے ، انھیں آزمائشوں سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
آخر ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ، اپنے ہوتے ہیں ؛ انھیں اُسی طرح اپنا سمجھتے ہیں ، جیسے اپنے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
✍️ لقمان شاہد
17-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3186861824927318&id=100008105947430
بھائی ! احساس کم تری کاشکار نہیں ہوتے ، ایکٹانگ سے بھی تو کھیلا جاسکتا ہے ، جیسے ہم کھیل رہے ہیں ۔
🌸 اپنوں کو ہمیشہ حوصلہ دیتے ہیں ، ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی کمزوریاں دور کرتے ہیں ، ان کا چرچا نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی آزمائشوں پر پریشان ہونے کے بجائے ، انھیں آزمائشوں سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
آخر ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ، اپنے ہوتے ہیں ؛ انھیں اُسی طرح اپنا سمجھتے ہیں ، جیسے اپنے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
✍️ لقمان شاہد
17-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3186861824927318&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں پاگل ہو جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔ میری شکل دیکھو میں بھکارن بن گئی ہوں ، تھک گئی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس بیٹھ کر بولا:
تُو ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے کبھی تو پیار سے بات کر لیا کر میرے ساتھ ۔
میں نے اسے سائیڈ پہ دھکا دیا ، وہ خاموش ہو گیا ۔
میں تھک ہار گئی تھی ، اب سوچ رہی تھی بس اس سے طلاق لے لوں گی ، اپنے ایک دو کزن سے بھی بات کی تھی جو وکیل تھے ، انھوں نے تسلی دی کہ ہم ساتھ ہیں آپ کے طلاق لے لو اس کمینے سے ۔ میں سوچ رہی تھی آج گھر آئے گا تو بس اس کو بول دوں گی طلاق دے دو مجھے ۔
میں انتظار کر رہی تھی ، وہ رات 10 بجے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے سو رہے تھے ، دونوں بچوں کے ماتھوں پر اس نے بوسہ دیا ، ان کے ہاتھ چومے ، پھر چارپائی پہ بیٹھ کر مجھے آواز دی:
شہناز مجھے روٹی دے !
میں کروٹ بدلے لیٹی رہی ، اس نے پھر آواز دی ، شہناز ! سن لے ، اٹھ جا۔۔۔۔
میں چپ رہی ، وہ پاس آیا مجھے دیکھا ، میں نے آنکھیں بند کر لیں ؛ مجھ پہ کمبل اوڑھا کر بولا: تھک جاتی ہے سارا دن ۔۔۔۔۔۔۔ پھر کچن میں گیا ، کھانا دیکھنے لگا ، کچھ بھی نہیں تھا کھانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیالی میں نمک مرچ ڈال کر اس میں تھوڑا پانی ملا کر سوکھی روٹی کھانے لگا ، میں دیکھ رہی تھی ، میں دل میں سوچنے لگی: یہ مرتا بھی نہیں ہے ، وہ کھانا کھا کر سو گیا ۔
دوسرے دن صبح صبح ہم کسی بات پہ جھگڑنے لگے ، میں نے اسے کہا:
بس مجھے طلاق دے دو میں اب برداشت نہیں کر سکتی ، میں تھک گئی ہوں ، غصے میں مَیں نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے ؛ وہ طلاق کا نام سنتے ہی چپ ہو گیا ، جلدی سے کپڑے چینج کرنے لگا ، پھر بائیک لی اور باہر جانے لگا ۔
میں نے چلا کر کہا:
اللہ کرے تو مر جائے ، میری جان تو چھوٹ جائے تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرے میں گیا ، کسی کاپی پہ کچھ لکھا ، چلا گیا ۔
میں گالیاں دے رہی تھی ، رو رو کر تھک گئی تھی ، اسے بدعا دے رہی تھی ، میں نے ارادہ کر لیا تھا بس اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہنا ۔
دو چار گھنٹے گزرے ، اور میں میکے جانے لگی ، بچوں کو ساتھ لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں گلی میں ایک شور سا برپا ہوا ، میں رو رہی تھی ، ہمارے دروازے پہ دستک ہوئی ، میں نے دروازہ کھولا ، پورا گاؤں چارپائی اٹھائے میرے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ، میں حیران تھی کیا ہوا ۔۔۔؟
اتنے میں ایک لڑکا فون پہ بات کر رہا تھا ، یار اکبر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر گیا ہے ۔
یہ سنتے ہی جیسے مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ، میں ساکت ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ چارپائی صحن میں رکھی گئی ، سب لوگ قبر کھودنے کی بات کرنے لگے ، کچھ جنازے کا ٹائم دیکھنے لگے ، مسجد میں اعلان ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر میرے سامنے چارپائی پہ لیٹا ہوا تھا ، کون یقین کرے وہ مر چکا ہے ؛ میں چیخنے چلانے لگی:
اکبر اٹھ جا ، میں نہیں کچھ مانگتی ، مجھے کچھ نہیں چاہیے ، میں طلاق کی بات بھی نہیں کرتی 😢
میں اس کے پاؤں چومنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر اٹھ جا میری جان اٹھ جا ، دیکھ ، دیکھ میں کہیں نہیں جا رہی ، مجھے تیرے ساتھ ہی رہنا ہے ؛ میں بھوکی پیاسی رہ لوں گی ، مجھے یوں چھوڑ کر نہ جا ۔۔۔۔۔۔ میں کھانا بنا کر لاتی ہوں ، بھوک لگی ہے نا تم کو ۔۔۔؟؟
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ، اب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چیختی چلاتی رہی لیکن وہ منوں مٹی تلے جا سویا ۔
اس کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے رنگ نظر آنے لگے ، مجھے رشتے بدلتے دکھائی دینے لگے ، پھر جو اپنے تھے وہ سب منہ موڑنے لگے ، مجھ پہ دنیا نظریں کسنے لگی ، بچے بابا ڈھونڈنے لگے ، اب کون ان کا نیند میں آ کر ماتھا چومے گا؟؟
کون مجھے آواز دے گا ، کون میرے تلخ لہجے برداشت کرے گا۔۔۔؟
مجھ سے مکان چھین لیا گیا ، جو حصہ بنتا تھا وہ بھی نہ دیا ، میں اکبر کے بعد در بدر ٹھوکریں کھانے لگی ۔
اب بچے بھی کچھ فرمائش نہیں کرتے ، وہ جانتے ہیں بابا اب نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سگے بھائی بھی منھ موڑ گئے ، میں لوگوں کے گھروں میں نوکرانی بن کے کام کرنے لگی ۔
ایک دن مجھے اس کی ڈائری ملی ، جس پہ لکھا تھا:
شہناز سے شادی کر کے بہت خوش ہوں ، شہناز سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔
وہ پاگل ہے بلکل سمجھتی ہی نہیں جھگڑتی رہتی ہے ، دیکھو آج اس نے مجھے کھانا نہیں دیا ۔
وہ کہتی ہے: مہنگا موبائل لا کر دو ، اسے کیسے بتاؤں نہیں لا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
آج میرے بچوں کو میرے بھائی نے گالی دی ، میں بہت رویا ہوں میرے بچے میری جان ہیں ۔۔۔
شہناز کو بخار ہے وہ بیچاری میرے لیے کیا کچھ برداشت کر رہی ہے ، اللہ نے چاہاتو ہمارے حالات بدل جائیں گے ، پھر شہناز کو دنیا کی ہر خوشی دوں گا ؛ اب وہ مجھے کھانا نہیں دیتی ، میں جانتا ہوں ناراض ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے نمک مرچ کےساتھ سوکھی روٹی کھائی ہے ، آج میری کمر میں اینٹ لگی ہے ، زخم بہت گہرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ شہناز کو نہیں بتاؤں گا وہ پریشان ہو جائے گی بیچاری ۔
میرے پاس بیٹھ کر بولا:
تُو ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے کبھی تو پیار سے بات کر لیا کر میرے ساتھ ۔
میں نے اسے سائیڈ پہ دھکا دیا ، وہ خاموش ہو گیا ۔
میں تھک ہار گئی تھی ، اب سوچ رہی تھی بس اس سے طلاق لے لوں گی ، اپنے ایک دو کزن سے بھی بات کی تھی جو وکیل تھے ، انھوں نے تسلی دی کہ ہم ساتھ ہیں آپ کے طلاق لے لو اس کمینے سے ۔ میں سوچ رہی تھی آج گھر آئے گا تو بس اس کو بول دوں گی طلاق دے دو مجھے ۔
میں انتظار کر رہی تھی ، وہ رات 10 بجے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے سو رہے تھے ، دونوں بچوں کے ماتھوں پر اس نے بوسہ دیا ، ان کے ہاتھ چومے ، پھر چارپائی پہ بیٹھ کر مجھے آواز دی:
شہناز مجھے روٹی دے !
میں کروٹ بدلے لیٹی رہی ، اس نے پھر آواز دی ، شہناز ! سن لے ، اٹھ جا۔۔۔۔
میں چپ رہی ، وہ پاس آیا مجھے دیکھا ، میں نے آنکھیں بند کر لیں ؛ مجھ پہ کمبل اوڑھا کر بولا: تھک جاتی ہے سارا دن ۔۔۔۔۔۔۔ پھر کچن میں گیا ، کھانا دیکھنے لگا ، کچھ بھی نہیں تھا کھانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیالی میں نمک مرچ ڈال کر اس میں تھوڑا پانی ملا کر سوکھی روٹی کھانے لگا ، میں دیکھ رہی تھی ، میں دل میں سوچنے لگی: یہ مرتا بھی نہیں ہے ، وہ کھانا کھا کر سو گیا ۔
دوسرے دن صبح صبح ہم کسی بات پہ جھگڑنے لگے ، میں نے اسے کہا:
بس مجھے طلاق دے دو میں اب برداشت نہیں کر سکتی ، میں تھک گئی ہوں ، غصے میں مَیں نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے ؛ وہ طلاق کا نام سنتے ہی چپ ہو گیا ، جلدی سے کپڑے چینج کرنے لگا ، پھر بائیک لی اور باہر جانے لگا ۔
میں نے چلا کر کہا:
اللہ کرے تو مر جائے ، میری جان تو چھوٹ جائے تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرے میں گیا ، کسی کاپی پہ کچھ لکھا ، چلا گیا ۔
میں گالیاں دے رہی تھی ، رو رو کر تھک گئی تھی ، اسے بدعا دے رہی تھی ، میں نے ارادہ کر لیا تھا بس اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہنا ۔
دو چار گھنٹے گزرے ، اور میں میکے جانے لگی ، بچوں کو ساتھ لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں گلی میں ایک شور سا برپا ہوا ، میں رو رہی تھی ، ہمارے دروازے پہ دستک ہوئی ، میں نے دروازہ کھولا ، پورا گاؤں چارپائی اٹھائے میرے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ، میں حیران تھی کیا ہوا ۔۔۔؟
اتنے میں ایک لڑکا فون پہ بات کر رہا تھا ، یار اکبر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر گیا ہے ۔
یہ سنتے ہی جیسے مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ، میں ساکت ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ چارپائی صحن میں رکھی گئی ، سب لوگ قبر کھودنے کی بات کرنے لگے ، کچھ جنازے کا ٹائم دیکھنے لگے ، مسجد میں اعلان ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر میرے سامنے چارپائی پہ لیٹا ہوا تھا ، کون یقین کرے وہ مر چکا ہے ؛ میں چیخنے چلانے لگی:
اکبر اٹھ جا ، میں نہیں کچھ مانگتی ، مجھے کچھ نہیں چاہیے ، میں طلاق کی بات بھی نہیں کرتی 😢
میں اس کے پاؤں چومنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر اٹھ جا میری جان اٹھ جا ، دیکھ ، دیکھ میں کہیں نہیں جا رہی ، مجھے تیرے ساتھ ہی رہنا ہے ؛ میں بھوکی پیاسی رہ لوں گی ، مجھے یوں چھوڑ کر نہ جا ۔۔۔۔۔۔ میں کھانا بنا کر لاتی ہوں ، بھوک لگی ہے نا تم کو ۔۔۔؟؟
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ، اب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چیختی چلاتی رہی لیکن وہ منوں مٹی تلے جا سویا ۔
اس کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے رنگ نظر آنے لگے ، مجھے رشتے بدلتے دکھائی دینے لگے ، پھر جو اپنے تھے وہ سب منہ موڑنے لگے ، مجھ پہ دنیا نظریں کسنے لگی ، بچے بابا ڈھونڈنے لگے ، اب کون ان کا نیند میں آ کر ماتھا چومے گا؟؟
کون مجھے آواز دے گا ، کون میرے تلخ لہجے برداشت کرے گا۔۔۔؟
مجھ سے مکان چھین لیا گیا ، جو حصہ بنتا تھا وہ بھی نہ دیا ، میں اکبر کے بعد در بدر ٹھوکریں کھانے لگی ۔
اب بچے بھی کچھ فرمائش نہیں کرتے ، وہ جانتے ہیں بابا اب نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سگے بھائی بھی منھ موڑ گئے ، میں لوگوں کے گھروں میں نوکرانی بن کے کام کرنے لگی ۔
ایک دن مجھے اس کی ڈائری ملی ، جس پہ لکھا تھا:
شہناز سے شادی کر کے بہت خوش ہوں ، شہناز سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔
وہ پاگل ہے بلکل سمجھتی ہی نہیں جھگڑتی رہتی ہے ، دیکھو آج اس نے مجھے کھانا نہیں دیا ۔
وہ کہتی ہے: مہنگا موبائل لا کر دو ، اسے کیسے بتاؤں نہیں لا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
آج میرے بچوں کو میرے بھائی نے گالی دی ، میں بہت رویا ہوں میرے بچے میری جان ہیں ۔۔۔
شہناز کو بخار ہے وہ بیچاری میرے لیے کیا کچھ برداشت کر رہی ہے ، اللہ نے چاہاتو ہمارے حالات بدل جائیں گے ، پھر شہناز کو دنیا کی ہر خوشی دوں گا ؛ اب وہ مجھے کھانا نہیں دیتی ، میں جانتا ہوں ناراض ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے نمک مرچ کےساتھ سوکھی روٹی کھائی ہے ، آج میری کمر میں اینٹ لگی ہے ، زخم بہت گہرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ شہناز کو نہیں بتاؤں گا وہ پریشان ہو جائے گی بیچاری ۔
ڈاکٹر کہہ رہاتھا 15 ٹانکے لگنے ہیں ، آج مجھے چوٹ لگی ہے ، کہہ رہی ہے طلاق دے دو ، میں مر جاؤں گا اس کے بنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی غصے میں ہے ٹھیک ہو جائے گی ۔ میں ڈائری کو سینے لگا کر چیخ چیخ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔😢😥😢
ہمسفر تو ہمسفر ہوتا ہے نا ، وہ جیسا بھی تھا میرا سایہ تھا ، میری ڈھال تھا ، اس کے بعد زمانے کی ٹھوکریں کھا کر سمجھی ہوں اس کے ساتھ میرے دونوں جہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھک ہار کر گھر آتی ہوں ، اب ٹوٹ گئی ہوں ، میں بچوں کی خاطر زندہ ہوں بس ؛ ورنہ کب کی ختم ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔
میں خود کو اذیت دیتی ہوں ، کیوں جھگڑتی تھی اس کے ساتھ ، کیوں اس کو ستاتی تھی ، کیوں میں لوگوں کو دیکھ کر بڑے خواب دیکھتی تھی ، وہ میرے ساتھ ہوتا تو کیسی زندگی گزار رہی ہوتی ۔
کیا میں بخشی جاؤں گی ۔۔۔؟؟
اللہ مجھے معاف کرے گا ۔۔۔۔ ؟
میں مشکل وقت میں اس کا سہارا ، اس کی ہمت نہ بن سکی ؛ میں مطلب پرست لالچی ہو گئی تھی ، اب تو اکثر لوگ میری مدد کرتے ہوئے میرے جسم کی بات بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
سب عورتوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں کہ پیسہ ہمسفر کے سامنے خاک بھی نہیں ہے ، لالچ اور بڑے بڑے خواب کی تمنا میں لوگوں کی نوکرانی نہ بن جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شوہر اگر ایک وقت کی روٹی بھی کھلائے تو مسکرا کر سینے سے لگ جانا ، خدا کی قسم زمانے کی لاکھ تلخیوں کو وہ تمھاری خاطر اپنے سینے پہ برداشت کرتا ہے ، پلیز اگر کوئی بہن اپنے شوہر سے بیزار ہے تو وہ سمجھ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ آنسو اس کا مقدر بن جائیں ۔ ۔ ۔😥
( مرحوم اکبر کی ....... مجبور شہناز )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3188907364722764&id=100008105947430
ہمسفر تو ہمسفر ہوتا ہے نا ، وہ جیسا بھی تھا میرا سایہ تھا ، میری ڈھال تھا ، اس کے بعد زمانے کی ٹھوکریں کھا کر سمجھی ہوں اس کے ساتھ میرے دونوں جہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھک ہار کر گھر آتی ہوں ، اب ٹوٹ گئی ہوں ، میں بچوں کی خاطر زندہ ہوں بس ؛ ورنہ کب کی ختم ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔
میں خود کو اذیت دیتی ہوں ، کیوں جھگڑتی تھی اس کے ساتھ ، کیوں اس کو ستاتی تھی ، کیوں میں لوگوں کو دیکھ کر بڑے خواب دیکھتی تھی ، وہ میرے ساتھ ہوتا تو کیسی زندگی گزار رہی ہوتی ۔
کیا میں بخشی جاؤں گی ۔۔۔؟؟
اللہ مجھے معاف کرے گا ۔۔۔۔ ؟
میں مشکل وقت میں اس کا سہارا ، اس کی ہمت نہ بن سکی ؛ میں مطلب پرست لالچی ہو گئی تھی ، اب تو اکثر لوگ میری مدد کرتے ہوئے میرے جسم کی بات بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
سب عورتوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں کہ پیسہ ہمسفر کے سامنے خاک بھی نہیں ہے ، لالچ اور بڑے بڑے خواب کی تمنا میں لوگوں کی نوکرانی نہ بن جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شوہر اگر ایک وقت کی روٹی بھی کھلائے تو مسکرا کر سینے سے لگ جانا ، خدا کی قسم زمانے کی لاکھ تلخیوں کو وہ تمھاری خاطر اپنے سینے پہ برداشت کرتا ہے ، پلیز اگر کوئی بہن اپنے شوہر سے بیزار ہے تو وہ سمجھ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ آنسو اس کا مقدر بن جائیں ۔ ۔ ۔😥
( مرحوم اکبر کی ....... مجبور شہناز )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3188907364722764&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Ghulam Mustafa Naimi
شریعت کا پاس دار تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی روشن مستقبل دہلی طلبہ نہایت ڈسپلن اور شائستگی کے ساتھ قطار در قطار کھڑے تھے۔موقع جشن جمہوریہ کا تھا۔ادارے کی روایت تھی کہ اس موقع پر حکومت غیر ملکی طلبہ سے اظہار اپنائیت اور بطور خیر سگالی اپنا ایک نمائندہ بھیجا…
#Shariat_Ka_Paas_Daar
Tehreer: Ghulam Mustafa Naimi
Roshan Mustaqbil Dehli
Tulba Nihayat Discipline Or Shaistagi Ke Sath Qataar Dar Qataar Khade The. Maoqa Jashn'e Jamhuriya (Republic Day) Ka Tha. Idare Ki Riwayat Thi Ke Is Maoqe Pr Hukumat Gair Mulki Tulba Se Izhar'e Apnaiyat Or Bataor Khair Sagali Apna Ek Numainda Bheja Karti Thi. Aaj Ek Baar Phir Wahi Maoqa Tha. Tulba Saje Sañware Khade The. Idare Ke Maozziz Afrad Ke Sath Hukumat Ka Khas Numainda Bhi Maojud Tha. Idare Ki Riwayat Ke Mutabiq Hukumat Ka Numainda Qataar Me Khade Tulba Se Hath Milata Or Youm'e Jamhuriya Ki Mubarak Baad Deta.
Dastoor Aaj Bhi Wahi Tha Magar Is Baar Numainda Badal Chuka Tha. Ab Tak Jitne Bhi Numainde Aay Wo Sab Mard The Magar Is Baar Khilaf'e Mamul Ek Khatun Bataor Numainda Hazir Thi. Dastoor Ke Mutabiq Khatun Ahelkar Ne Tulba Se Hath Mila Kar MubarakBaad Dena Shuru Kiya. Ye Manzar Dekh Kar Qataar Me Maojud Ek Talib'e Ilm Ke Chahere Pr Pareshani Ke Aasar Nazar Aane Lage.
Jaise Jaise Khatun Or Uske Darmiyan Fasla Kam Ho Raha Tha Naojawan Talib'e Ilm Ki Pareshani Me Izafa Ho Raha Tha. Zahiri Kaifiyat Dekh Kar Aisa Lagta Tha Ke Naojawan Ke Dil O Dimag Me Uthal Puthal Machi Hui Hai. Andruni Kaifiyat Ka Asar Chahere Pr Saaf Numaya Tha.
Ek Taraf Idare Ki Riwayat Pesh'e Nazar Thi To Dusri Janib Shariat Ki Paasdari Ka Khayal Aaraha Tha. Isi Kash Makash Me Fasla Simat'ta Gaya. Jaise Jaise Fasla Simta Naojawan Ke Chahere Ki Be Chayni Or Izterab Azm O Yaqeen Me Badal Gaya.
Khatun Qareeb Aai Or Musafah Ke Liye Hath Aage Badhaya. Naojawan Ne Nihayat Sharafat O Matanat Ke Sath Khud Ko Line Se Alag Kar Liya. Khatun Ahelkar Ko Hairat Ka Jhatka Laga. Khair Maqdam Or Izhar'e Apnaiyat Ke Liye Ek Dusre Se Hath Milana Bainul Aqwami Riwayat Si Ban Gaya Hai. Khud Is Idare Ka Qadeem Dastoor Bhi Yahi Tha Magar Aaj Khilaf'e Dastoor Ek Naojawan Ne Aurat Se Hath Milane Ki Bajay Khud Ko Line Se Alag Kar Liya Tha. Khatun Ne Nigah Utha Kar Us Jawan Ko Dekha, Bees 20 Ikkees 21 Saal Ka Khub Roo Jawan Matanat O Sanjeedgi Ke Sath Ek Taraf Khada Tha. Jhuki Hui Nigahe Uski Sharafat Or Khandani Tarbiyat Ka Pata De Rahi Thi. Khatun Ne Ek Nigah Dusre Tulba Or Ek Nigah Is Ba Haya Jawan Pr Dali. Mutawaze Magar Purwaqar Andaz Me Khada Wo Naojawan Kisi Or Hi Jahan Ka Lag Raha Tha. Chahere Pr Barasta Noor Or Aalimana Waqar Dekh Kar Khatun Ahelkar Ne Andaza Laga Liya Ke Naojawan Kisi Mansube Ya Taoheen Ki Niyyat Se Nahi Balke Paasdari'e Shariat Ke Tahet Ajnabiya Aurat Se Musafah Nahi Karna Chahta. Diplomatic Khatun Thi Chahere Ki Harkaat O Saknaat Se Dili Kaifiyaat Ko Janne Ka Hunar Rakhti Thi Is Liye Faoran Hi Sara Majra Samajh Gai Magar Is Baat Pr Sakht Hairan Thi Ke Ubharti Hui Jawani Or Aaj Ke Makhlut Mahol Me koi Insan Sharai Ahekam Ka Is Qadr Bhi Paband Ho Sakta Hai_?
Khatun Ne Us Naojawan Ko Ko Rashk Bhari Nigaho Se Dekha Or Dusre Tulba Ko MubarakBaad Dene Ke Liye Aage Badh Gai Magar Us Naojawan Ko Sharafat Or Deeni Gairat Dil O Dimag Pr Naqsh Ho Chuki Thi. Ye Waqia Aalam'e Islam Ki Sabse Qadeem University Jamia Azhar Misr Me Pesh Aaya Tha.
Aap Jante Haiñ Ke Shariat Ki Paasdari Me Hukumati Ahelkar Se Musafah Na Karne Wala Gairat Mand Naojawan Kon Tha_?
Ye Gairat Mand Jawan Imaam Ahmad Raza Ka Aqs'e Jameel, Hujjatul Islam Ke Pote, Mufti'e Aazam Ki Amanat, Paikar'e Taqwa, TajushShariaH Ash'shah Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan Qadri Azhari (نور اللّٰہ تعالیٰ مرقدہ) The.
Jinhone Shariat Ki Paasdari Or Apne Jadd'e Aala, Imaam Ahmad Raza Ki Khandani Sharafat Ka Muzahira Kar Ke Ye Sabit Kar Diya:
Ahl'e Duwal Hoñ Samne Ya Sahiban'e Taj
Ahl'e Shara Ko Paas'e Shariat Azeez Hai
___ Isi Qataar Me Aap Se Thik Pahele Aapke Azeez Dost Allama Shameem Azhari (علیہ الرحمہ) Bhi Khade The. Magar Aap Deegar Tulba Ki Dekham Dekh Idare Ki Riwayat Se Bagawat Na Kar Sake Or Khatun Ahelkar Se Hath Mila Baithe.
Bas Phir Kya Tha_?
Tehreer: Ghulam Mustafa Naimi
Roshan Mustaqbil Dehli
Tulba Nihayat Discipline Or Shaistagi Ke Sath Qataar Dar Qataar Khade The. Maoqa Jashn'e Jamhuriya (Republic Day) Ka Tha. Idare Ki Riwayat Thi Ke Is Maoqe Pr Hukumat Gair Mulki Tulba Se Izhar'e Apnaiyat Or Bataor Khair Sagali Apna Ek Numainda Bheja Karti Thi. Aaj Ek Baar Phir Wahi Maoqa Tha. Tulba Saje Sañware Khade The. Idare Ke Maozziz Afrad Ke Sath Hukumat Ka Khas Numainda Bhi Maojud Tha. Idare Ki Riwayat Ke Mutabiq Hukumat Ka Numainda Qataar Me Khade Tulba Se Hath Milata Or Youm'e Jamhuriya Ki Mubarak Baad Deta.
Dastoor Aaj Bhi Wahi Tha Magar Is Baar Numainda Badal Chuka Tha. Ab Tak Jitne Bhi Numainde Aay Wo Sab Mard The Magar Is Baar Khilaf'e Mamul Ek Khatun Bataor Numainda Hazir Thi. Dastoor Ke Mutabiq Khatun Ahelkar Ne Tulba Se Hath Mila Kar MubarakBaad Dena Shuru Kiya. Ye Manzar Dekh Kar Qataar Me Maojud Ek Talib'e Ilm Ke Chahere Pr Pareshani Ke Aasar Nazar Aane Lage.
Jaise Jaise Khatun Or Uske Darmiyan Fasla Kam Ho Raha Tha Naojawan Talib'e Ilm Ki Pareshani Me Izafa Ho Raha Tha. Zahiri Kaifiyat Dekh Kar Aisa Lagta Tha Ke Naojawan Ke Dil O Dimag Me Uthal Puthal Machi Hui Hai. Andruni Kaifiyat Ka Asar Chahere Pr Saaf Numaya Tha.
Ek Taraf Idare Ki Riwayat Pesh'e Nazar Thi To Dusri Janib Shariat Ki Paasdari Ka Khayal Aaraha Tha. Isi Kash Makash Me Fasla Simat'ta Gaya. Jaise Jaise Fasla Simta Naojawan Ke Chahere Ki Be Chayni Or Izterab Azm O Yaqeen Me Badal Gaya.
Khatun Qareeb Aai Or Musafah Ke Liye Hath Aage Badhaya. Naojawan Ne Nihayat Sharafat O Matanat Ke Sath Khud Ko Line Se Alag Kar Liya. Khatun Ahelkar Ko Hairat Ka Jhatka Laga. Khair Maqdam Or Izhar'e Apnaiyat Ke Liye Ek Dusre Se Hath Milana Bainul Aqwami Riwayat Si Ban Gaya Hai. Khud Is Idare Ka Qadeem Dastoor Bhi Yahi Tha Magar Aaj Khilaf'e Dastoor Ek Naojawan Ne Aurat Se Hath Milane Ki Bajay Khud Ko Line Se Alag Kar Liya Tha. Khatun Ne Nigah Utha Kar Us Jawan Ko Dekha, Bees 20 Ikkees 21 Saal Ka Khub Roo Jawan Matanat O Sanjeedgi Ke Sath Ek Taraf Khada Tha. Jhuki Hui Nigahe Uski Sharafat Or Khandani Tarbiyat Ka Pata De Rahi Thi. Khatun Ne Ek Nigah Dusre Tulba Or Ek Nigah Is Ba Haya Jawan Pr Dali. Mutawaze Magar Purwaqar Andaz Me Khada Wo Naojawan Kisi Or Hi Jahan Ka Lag Raha Tha. Chahere Pr Barasta Noor Or Aalimana Waqar Dekh Kar Khatun Ahelkar Ne Andaza Laga Liya Ke Naojawan Kisi Mansube Ya Taoheen Ki Niyyat Se Nahi Balke Paasdari'e Shariat Ke Tahet Ajnabiya Aurat Se Musafah Nahi Karna Chahta. Diplomatic Khatun Thi Chahere Ki Harkaat O Saknaat Se Dili Kaifiyaat Ko Janne Ka Hunar Rakhti Thi Is Liye Faoran Hi Sara Majra Samajh Gai Magar Is Baat Pr Sakht Hairan Thi Ke Ubharti Hui Jawani Or Aaj Ke Makhlut Mahol Me koi Insan Sharai Ahekam Ka Is Qadr Bhi Paband Ho Sakta Hai_?
Khatun Ne Us Naojawan Ko Ko Rashk Bhari Nigaho Se Dekha Or Dusre Tulba Ko MubarakBaad Dene Ke Liye Aage Badh Gai Magar Us Naojawan Ko Sharafat Or Deeni Gairat Dil O Dimag Pr Naqsh Ho Chuki Thi. Ye Waqia Aalam'e Islam Ki Sabse Qadeem University Jamia Azhar Misr Me Pesh Aaya Tha.
Aap Jante Haiñ Ke Shariat Ki Paasdari Me Hukumati Ahelkar Se Musafah Na Karne Wala Gairat Mand Naojawan Kon Tha_?
Ye Gairat Mand Jawan Imaam Ahmad Raza Ka Aqs'e Jameel, Hujjatul Islam Ke Pote, Mufti'e Aazam Ki Amanat, Paikar'e Taqwa, TajushShariaH Ash'shah Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan Qadri Azhari (نور اللّٰہ تعالیٰ مرقدہ) The.
Jinhone Shariat Ki Paasdari Or Apne Jadd'e Aala, Imaam Ahmad Raza Ki Khandani Sharafat Ka Muzahira Kar Ke Ye Sabit Kar Diya:
Ahl'e Duwal Hoñ Samne Ya Sahiban'e Taj
Ahl'e Shara Ko Paas'e Shariat Azeez Hai
___ Isi Qataar Me Aap Se Thik Pahele Aapke Azeez Dost Allama Shameem Azhari (علیہ الرحمہ) Bhi Khade The. Magar Aap Deegar Tulba Ki Dekham Dekh Idare Ki Riwayat Se Bagawat Na Kar Sake Or Khatun Ahelkar Se Hath Mila Baithe.
Bas Phir Kya Tha_?
Ghulam Mustafa Naimi
شریعت کا پاس دار تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی روشن مستقبل دہلی طلبہ نہایت ڈسپلن اور شائستگی کے ساتھ قطار در قطار کھڑے تھے۔موقع جشن جمہوریہ کا تھا۔ادارے کی روایت تھی کہ اس موقع پر حکومت غیر ملکی طلبہ سے اظہار اپنائیت اور بطور خیر سگالی اپنا ایک نمائندہ بھیجا…
Isi Gair Sharai Amal Ki Bunyad pr TajushShariaH Ne Apne Chahite Dost Se Tark'e Talluq Kar Liya. Ek Aisa Dost Jiske Bagair Ek Lamha Chain Nahi Padta Tha Magar Paas'e Shariat Ki Khatir Apne Jigri Yaar Se Bol Chal Tak Band Kardi Or
"اَلْحُبُّ فِی اللہِ وَالْبُغْضُ فِی اللہِ"
(Sahi Al'Jame 2539)
Ki Amali Tafseer Ban Kar Kamal Imaan Ka Muzahira Kiya.
Kahete Haiñ Jis Se Jitni Muhabbat Hoti Hai Us Ki Narazgi Bhi Utni Hi Ziyada Gira Guzarti Hai. Yahi Haal Allama Shameem Azhari Ka Tha, Kai Din Guzar Gaye Magar TajushShariaH Ki Be Rukhi Barqarar Thi. Jab Dost Ko Manane Ki Har Tarkeeb Nakam Hogai To Jigri Dost Ka Paimana Sabr Chhalak Pada. Dard Had Se Badha To Aankhe Sawan Bhado Ki Tarah Baras Padi. Barasti Aankho Ke Satg Apne Jaan Se Pyare Dost Ko Aawaz Lagai:
Jaan'e Biradar!
Lillah!
Mujhse Naraz Na Ho. Aapki Rafaqat Or Dosti Mere Liye Izzat O Sharf Ki Baat Hai.
Aap Yu Hi Naraz Rahe To Mere Dard Ka Darma Kon Banega_?
Aap Ruthe Rahe To Zamane Bhar Ki Ranaiya Mere Liye Sanata Ban Jayngi.
Dard Se Bhari Hui Aawaz Or Ashk Baar Aankhe Dekh Kar TajushShariaH Ka Bhi Dil Bhar Aaya:
Dil Me Ik Dard Utha Aankho Me Aansu Bhar Aay
Baithe Baithe Hame Kya Janay Kya Yaad Aaya
Aansuo Ka Zahiri Talluq Bhale Hi Aankho Se Hota Hai Magar Unka Asal Rishta Dil Se Hota Hai. Dil Or Chot Lagti Hai To Aankh Khud Bakhud Ashk Baar Hojati Hai. Ye Aansu Bhi Bade Kamal Hote Haiñ. Kabhi kabhi Jo Kaam Hazaro Alfaz Nahi Kar Pate, Aankh Se Bahene Wala Ek Aansu Kardiya Karta Hai. Aapne Allama Shameem Azhari Ke Shana Pr Apnaiyat Ke Sath Hath Rakha Or Kaha:
Shameem Sahab!
Main Aapse Apni Zaat Ke Liye Naraz Nahi Tha. Meri Narazgi Allah O Rasool (ﷻ ﷺ) Ke Liye Thi. Aapne Us Khatun Se Hath Milakar Gair Sharai Kaam Kiya. Q Ke Wo Aapki Mehram Nahi Thi. Dost Hone Ke Nate Main Aap Ke Liye Bhi Wahi Baat Pasand Karta Hu Jo Apne Liye Pasand Karta Hu.
Sukhe Dhano Pr Jaise Barish Baras Gai. Taj'e Shariat Ka Ek Ek Lafz Shabnam Ki Tarah Rooh Ko Thanda Karta Chala Gaya. Dil Se Ta'ib Hue Or Aainda Gair Sharai Kaamo Se Mukammal Parhez Ka Wada Kiya.
Aise The TajushShariaH!
Jo Jawani Me Hi Buzurgi Ke Mansab Pr Fa'iz The.
Jo Paasdari'e Shariat Me Aala'Hazrat Ka Aqs'e Jameel The.
Jin Ki Deeni Gairat Hujjatul Islam Ki Yaad Dilati Thi.
Jo Mufti'e Aazam Ke Daiyana Aosaaf Ke Sachche Ameen The.
Jinhone Hamesha Shariat Ki Paasdari Ki. Jo Nifaz'e Shariat Me Kisi Ko Khatir Me Nahi Lay. Jinhone Bila Khaof Laomata Laim Nara'e Haq Buland Kiya. Isi Ka Inaam Ye Mila ke Allah Ta'ala (ﷻ) Ne Unka Naam Itna Buland Kar Diya Ke Apne To Apne Gair Bhi Unki Azmat Ke Qaseede Padhte Haiñ.
Barish'e Fazl'e Khuda Tujh Le Hoti Rahe
Hashr Tak Jari Rahe Faiz Ka Darya Tera
(Makhuz TajushShariaH Ki Taqwa Shiar Zindagi, Mashamula Yaadgar'e TajushShariaH Number, Sawad'e Aazam Dehli)
07 Zil Qada 1442 H
18 June 2021 Baroz Juma'h
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=125201299725537&id=100067070037092
"اَلْحُبُّ فِی اللہِ وَالْبُغْضُ فِی اللہِ"
(Sahi Al'Jame 2539)
Ki Amali Tafseer Ban Kar Kamal Imaan Ka Muzahira Kiya.
Kahete Haiñ Jis Se Jitni Muhabbat Hoti Hai Us Ki Narazgi Bhi Utni Hi Ziyada Gira Guzarti Hai. Yahi Haal Allama Shameem Azhari Ka Tha, Kai Din Guzar Gaye Magar TajushShariaH Ki Be Rukhi Barqarar Thi. Jab Dost Ko Manane Ki Har Tarkeeb Nakam Hogai To Jigri Dost Ka Paimana Sabr Chhalak Pada. Dard Had Se Badha To Aankhe Sawan Bhado Ki Tarah Baras Padi. Barasti Aankho Ke Satg Apne Jaan Se Pyare Dost Ko Aawaz Lagai:
Jaan'e Biradar!
Lillah!
Mujhse Naraz Na Ho. Aapki Rafaqat Or Dosti Mere Liye Izzat O Sharf Ki Baat Hai.
Aap Yu Hi Naraz Rahe To Mere Dard Ka Darma Kon Banega_?
Aap Ruthe Rahe To Zamane Bhar Ki Ranaiya Mere Liye Sanata Ban Jayngi.
Dard Se Bhari Hui Aawaz Or Ashk Baar Aankhe Dekh Kar TajushShariaH Ka Bhi Dil Bhar Aaya:
Dil Me Ik Dard Utha Aankho Me Aansu Bhar Aay
Baithe Baithe Hame Kya Janay Kya Yaad Aaya
Aansuo Ka Zahiri Talluq Bhale Hi Aankho Se Hota Hai Magar Unka Asal Rishta Dil Se Hota Hai. Dil Or Chot Lagti Hai To Aankh Khud Bakhud Ashk Baar Hojati Hai. Ye Aansu Bhi Bade Kamal Hote Haiñ. Kabhi kabhi Jo Kaam Hazaro Alfaz Nahi Kar Pate, Aankh Se Bahene Wala Ek Aansu Kardiya Karta Hai. Aapne Allama Shameem Azhari Ke Shana Pr Apnaiyat Ke Sath Hath Rakha Or Kaha:
Shameem Sahab!
Main Aapse Apni Zaat Ke Liye Naraz Nahi Tha. Meri Narazgi Allah O Rasool (ﷻ ﷺ) Ke Liye Thi. Aapne Us Khatun Se Hath Milakar Gair Sharai Kaam Kiya. Q Ke Wo Aapki Mehram Nahi Thi. Dost Hone Ke Nate Main Aap Ke Liye Bhi Wahi Baat Pasand Karta Hu Jo Apne Liye Pasand Karta Hu.
Sukhe Dhano Pr Jaise Barish Baras Gai. Taj'e Shariat Ka Ek Ek Lafz Shabnam Ki Tarah Rooh Ko Thanda Karta Chala Gaya. Dil Se Ta'ib Hue Or Aainda Gair Sharai Kaamo Se Mukammal Parhez Ka Wada Kiya.
Aise The TajushShariaH!
Jo Jawani Me Hi Buzurgi Ke Mansab Pr Fa'iz The.
Jo Paasdari'e Shariat Me Aala'Hazrat Ka Aqs'e Jameel The.
Jin Ki Deeni Gairat Hujjatul Islam Ki Yaad Dilati Thi.
Jo Mufti'e Aazam Ke Daiyana Aosaaf Ke Sachche Ameen The.
Jinhone Hamesha Shariat Ki Paasdari Ki. Jo Nifaz'e Shariat Me Kisi Ko Khatir Me Nahi Lay. Jinhone Bila Khaof Laomata Laim Nara'e Haq Buland Kiya. Isi Ka Inaam Ye Mila ke Allah Ta'ala (ﷻ) Ne Unka Naam Itna Buland Kar Diya Ke Apne To Apne Gair Bhi Unki Azmat Ke Qaseede Padhte Haiñ.
Barish'e Fazl'e Khuda Tujh Le Hoti Rahe
Hashr Tak Jari Rahe Faiz Ka Darya Tera
(Makhuz TajushShariaH Ki Taqwa Shiar Zindagi, Mashamula Yaadgar'e TajushShariaH Number, Sawad'e Aazam Dehli)
07 Zil Qada 1442 H
18 June 2021 Baroz Juma'h
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=125201299725537&id=100067070037092
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہندوستان میں اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت میں ہندی زبان وادب کا کردار
(تیسری اورآخری قسط)
تحریر:- محمد عبداللہ رضوانی مرکزی
خانقاہ رضوانیہ،نان پور، سیتامڑھی،بہار
مدارس کے طلبہ کے لیے ہندی زبان فروغ دین کا اہم ذریعہ:
آج کے دور میں ہندی زبان مدارس کے طلبہ کے لیے خدمت دین کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جس محنت و مشقت ساتھ طلبائے مدارس عربی، فارسی اور اردو ادب کو سیکھنے میں جد وجہدکرتے ہیں، وہیں اگر تھوڑی توجہ ہندی زبان پر دے دی جائے تو اس سے دین کا بڑا فائدہ ہو سکتا ہے،اور علمی فیضان سےعام لوگوں کو بھی سیراب کیا جاسکتا ہے؛پر اس کے لیے ہندی زبان کا جانکار ہونا لازم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مدارس اسلامیہ میں ہندی کی ابتدائی تعلیم کو شامل نصاب کیاجائے اور طلبائے مدارس اسے دعوت دین کااہم ذریعہ سمجھ کر سیکھیں۔
ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ انہوں نے اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے رائج زبانوں سے خوب مدد لی اور پیغام حق و صداقت کو عام فرمایا،اور مخالف قوتوں کا انہیں کے مذہب اور انہیں کی زبان میں رد فرمایا۔ اس تناظر میں ہندوستان کی وہ تاریخ شاہد ہےجب شدھی تحریک زوروں پر تھی، اور ہندوؤں نے مسلمانوں کو نار ارتداد میں جھونکنےکےلیے ہر طرح کی سعی بھی کی،جس میں مجموعی طور پر ساڑھے چار لاکھ مسلمان مرتد ہوئے اور قتل و غارت گری کا تو کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔ اس خطرناک تحریک کو کچلنے اور اس کی ہلاکت آفرینیوں سے امت مرحومہ کو بچانے کے لیے اہل سنت وجماعت کے مشائخ عظام نے جو تاریخ ساز کردار ادا کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے،خاص کر مولانا قطب الدین برہمچاری علیہ الرحمہ کاجذبہ دعوت وتبلیغ کہ آپ نے انھیں کی کتاب و زبان کے ذریعے اسلام کے پرچم کو بلندفرمایا۔جیساکہ ''بھیگی پلکوں کابوجھ'' میں مذکور ہے:
’’شدی تحریک کے دورعروج میں مولانا قطب الدین برہمچاری علیہ الرحمہ نے نمایاں کارنامہ انجام دیا،آپ علوم اسلامیہ کی فراغت سے ایک سال قبل ہی ہندوانہ وضع قطع اختیار کرکے بنارس کے سب سے بڑے مندر میں میں دنیا دار پجاری کی حیثیت سے داخل ہوگئے،مندر کے کارکنوں سے جلد ہی دوستانہ مراسم قائم فرمالیا۔ جوانی کے عالم میں شخصیت کی دلآویزی اور پر وقار سراپے نے حسب و نسب کے معاملے کو کو بڑی آسانی سے طے کر دیا۔جلد ہی پنڈتوں اور پجاریوں کے نور نظر بن گئے۔انھیں پجاریوں سے آپ نےچھوٹی سے لے کر بڑی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ مسلسل تین برس تک سخت محنت اور جانفشانی سے ویدانتوں اور شاستروں پر عبور حاصل کرلیا۔ اور اپنے سینے کو ہندو دھرم کے اسرار حقائق اور معلومات کا خزانہ بنا کر مندر سے باہر تشریف لائے۔ علما و مشایخ کی عام روش سے الگ آپ نے اسلام کی تبلیغ کے لیے ایک نیا میدان منتخب فرمایا اور اس میدان میں حددرجہ کامیاب رہے۔ بڑے بڑے پنڈتوں اور شنکر آچاریوں سے کامیاب مناظرے کیے۔ مخالف اپنے دھرم پر آپ کی وسعت مطالعہ دیکھ کر ہکا بکاہو جاتا۔ آپ نے مذاہب کی تاریخ وادیوں میں بھٹکنے والے ہزاروں مسافروں کی آنکھیں کھول دیں اور حق و صداقت کی مشعل دیکھ کر ہزارہا ہزارہندو آپ کے دست حق پرست پر اسلام لائے۔‘‘(بھیگی پلکوں کا بوجھ، ص: ۱۳۶، ۱۳۵ مفہوماََ)
اس واقعے سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ حالات کے اعتبار سے ہمیں خدمت دین کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور فی زماننا ہندی زبان دعوت و تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے،کیوں کہ اگر طلبائے مدارس ہندی اور اردو دونوں زبانوں کے عالم ہونگے تو آسانی سے اپنی کتابیں، مضامین اور مکتوبات کو دونوں زبانوں میں شائع کر سکیں گے۔ اس سے ان کی ایک الگ شناخت بھی قائم ہوگی ساتھ میں دین اسلام کا فروغ بھی ہوگا۔
*علماے دین ہندی زبان کے حوالے سے بیداری پیدا کریں:*
آج ہندی زبان ابلاغ ترسیل اور عوام الناس تک اپنی بات پہنچانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن علماے دین کی اکثریت اس زبان کے حصول میں پیچھے ہے۔ آج ہم اپنے معاشرے کے مسلم افراد کا جائزہ لیں تو بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد کو چھوڑیں آپ کو جوانوں کی ایک کثیر تعداد ایسی مل جائے گی جو اردو زبان سے ناواقفیت رکھتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اردو بول اور سمجھ تو ضرور لیتاہے لیکن پڑھنے اور لکھنے میں انھیں کافی دشواری ہوتی ہے۔ جس کے سبب وہ دین کی باتوں سے زیادہ مستفید نہیں ہوپاتے اور اسلامی احکامات و فرمودات سے نا آشنائی رہتی ہے،مگر انھیں میں بہت سارے ایسے ہیں جو ہندی زبان پڑھنا جانتے ہیں۔اگر علمائے دین اس جانب توجہ فرمائیں،اور اسلامی کتب و رسائل کو ہندی زبان میں ترجمہ کرکے شایع کریں تو اس سے عام لوگوں کو بھی دین سیکھنے کا بہتر موقع فراہم ہوسکتا ہے۔
یہ ایک عام بات ہے کہ ہم اردو زبان کی کتابوں سے صرف ان خاص لوگوں کو فایدہ پہنچا سکتے ہیں جو اردوداں ہیں، مگر ہندی زبان کے ذریعے ایک بڑی آبادی تک باتوں کو پہنچائی جا سکتی ہے۔
(تیسری اورآخری قسط)
تحریر:- محمد عبداللہ رضوانی مرکزی
خانقاہ رضوانیہ،نان پور، سیتامڑھی،بہار
مدارس کے طلبہ کے لیے ہندی زبان فروغ دین کا اہم ذریعہ:
آج کے دور میں ہندی زبان مدارس کے طلبہ کے لیے خدمت دین کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جس محنت و مشقت ساتھ طلبائے مدارس عربی، فارسی اور اردو ادب کو سیکھنے میں جد وجہدکرتے ہیں، وہیں اگر تھوڑی توجہ ہندی زبان پر دے دی جائے تو اس سے دین کا بڑا فائدہ ہو سکتا ہے،اور علمی فیضان سےعام لوگوں کو بھی سیراب کیا جاسکتا ہے؛پر اس کے لیے ہندی زبان کا جانکار ہونا لازم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مدارس اسلامیہ میں ہندی کی ابتدائی تعلیم کو شامل نصاب کیاجائے اور طلبائے مدارس اسے دعوت دین کااہم ذریعہ سمجھ کر سیکھیں۔
ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ انہوں نے اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے رائج زبانوں سے خوب مدد لی اور پیغام حق و صداقت کو عام فرمایا،اور مخالف قوتوں کا انہیں کے مذہب اور انہیں کی زبان میں رد فرمایا۔ اس تناظر میں ہندوستان کی وہ تاریخ شاہد ہےجب شدھی تحریک زوروں پر تھی، اور ہندوؤں نے مسلمانوں کو نار ارتداد میں جھونکنےکےلیے ہر طرح کی سعی بھی کی،جس میں مجموعی طور پر ساڑھے چار لاکھ مسلمان مرتد ہوئے اور قتل و غارت گری کا تو کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔ اس خطرناک تحریک کو کچلنے اور اس کی ہلاکت آفرینیوں سے امت مرحومہ کو بچانے کے لیے اہل سنت وجماعت کے مشائخ عظام نے جو تاریخ ساز کردار ادا کیا وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے،خاص کر مولانا قطب الدین برہمچاری علیہ الرحمہ کاجذبہ دعوت وتبلیغ کہ آپ نے انھیں کی کتاب و زبان کے ذریعے اسلام کے پرچم کو بلندفرمایا۔جیساکہ ''بھیگی پلکوں کابوجھ'' میں مذکور ہے:
’’شدی تحریک کے دورعروج میں مولانا قطب الدین برہمچاری علیہ الرحمہ نے نمایاں کارنامہ انجام دیا،آپ علوم اسلامیہ کی فراغت سے ایک سال قبل ہی ہندوانہ وضع قطع اختیار کرکے بنارس کے سب سے بڑے مندر میں میں دنیا دار پجاری کی حیثیت سے داخل ہوگئے،مندر کے کارکنوں سے جلد ہی دوستانہ مراسم قائم فرمالیا۔ جوانی کے عالم میں شخصیت کی دلآویزی اور پر وقار سراپے نے حسب و نسب کے معاملے کو کو بڑی آسانی سے طے کر دیا۔جلد ہی پنڈتوں اور پجاریوں کے نور نظر بن گئے۔انھیں پجاریوں سے آپ نےچھوٹی سے لے کر بڑی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ مسلسل تین برس تک سخت محنت اور جانفشانی سے ویدانتوں اور شاستروں پر عبور حاصل کرلیا۔ اور اپنے سینے کو ہندو دھرم کے اسرار حقائق اور معلومات کا خزانہ بنا کر مندر سے باہر تشریف لائے۔ علما و مشایخ کی عام روش سے الگ آپ نے اسلام کی تبلیغ کے لیے ایک نیا میدان منتخب فرمایا اور اس میدان میں حددرجہ کامیاب رہے۔ بڑے بڑے پنڈتوں اور شنکر آچاریوں سے کامیاب مناظرے کیے۔ مخالف اپنے دھرم پر آپ کی وسعت مطالعہ دیکھ کر ہکا بکاہو جاتا۔ آپ نے مذاہب کی تاریخ وادیوں میں بھٹکنے والے ہزاروں مسافروں کی آنکھیں کھول دیں اور حق و صداقت کی مشعل دیکھ کر ہزارہا ہزارہندو آپ کے دست حق پرست پر اسلام لائے۔‘‘(بھیگی پلکوں کا بوجھ، ص: ۱۳۶، ۱۳۵ مفہوماََ)
اس واقعے سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ حالات کے اعتبار سے ہمیں خدمت دین کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور فی زماننا ہندی زبان دعوت و تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے،کیوں کہ اگر طلبائے مدارس ہندی اور اردو دونوں زبانوں کے عالم ہونگے تو آسانی سے اپنی کتابیں، مضامین اور مکتوبات کو دونوں زبانوں میں شائع کر سکیں گے۔ اس سے ان کی ایک الگ شناخت بھی قائم ہوگی ساتھ میں دین اسلام کا فروغ بھی ہوگا۔
*علماے دین ہندی زبان کے حوالے سے بیداری پیدا کریں:*
آج ہندی زبان ابلاغ ترسیل اور عوام الناس تک اپنی بات پہنچانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن علماے دین کی اکثریت اس زبان کے حصول میں پیچھے ہے۔ آج ہم اپنے معاشرے کے مسلم افراد کا جائزہ لیں تو بوڑھے اور عمر رسیدہ افراد کو چھوڑیں آپ کو جوانوں کی ایک کثیر تعداد ایسی مل جائے گی جو اردو زبان سے ناواقفیت رکھتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اردو بول اور سمجھ تو ضرور لیتاہے لیکن پڑھنے اور لکھنے میں انھیں کافی دشواری ہوتی ہے۔ جس کے سبب وہ دین کی باتوں سے زیادہ مستفید نہیں ہوپاتے اور اسلامی احکامات و فرمودات سے نا آشنائی رہتی ہے،مگر انھیں میں بہت سارے ایسے ہیں جو ہندی زبان پڑھنا جانتے ہیں۔اگر علمائے دین اس جانب توجہ فرمائیں،اور اسلامی کتب و رسائل کو ہندی زبان میں ترجمہ کرکے شایع کریں تو اس سے عام لوگوں کو بھی دین سیکھنے کا بہتر موقع فراہم ہوسکتا ہے۔
یہ ایک عام بات ہے کہ ہم اردو زبان کی کتابوں سے صرف ان خاص لوگوں کو فایدہ پہنچا سکتے ہیں جو اردوداں ہیں، مگر ہندی زبان کے ذریعے ایک بڑی آبادی تک باتوں کو پہنچائی جا سکتی ہے۔
آج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے ہر طرح کی کتابیں اور معلومات نیٹ پر اپلوڈ ہیں۔لوگ وہیں سے جانکاری حاصل کر رہے ہیں، لیکن اسلامی معلومات کا بڑا ذخیرہ عربی، فارسی اور اردوزبان میں ہے اور ہماری اکثریت ہندی لکھنے پڑھنے والوں کی ہے، پرہندی زبان میں اسلامی معلومات کا ذخیرہ بہت کم ہے۔اس لیے علماے دین کے پاس ایک اچھا موقع ہے کہ وہ ہندی زبان میں بھی مضامین اور رسالے وغیرہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچائیں،اس سے ہمارے مذہب و مسلک کافی فایدہ ہوگا۔
اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہم میں سے کوئی مصنف یا مرتب دین کی ابتدائی اور بہت ہی معلوماتی کتاب اردو زبان میں لکھتاہے اور اسے عوام میں تقسیم کرتا ہے،تو ان کی جانب سے پہلاسوال یہی ہوتا ہے کیا یہ کتاب ہندی زبان میں بھی دستیاب ہے؟ لیکن نہ ہونے کی وجہ سےاگر انھیں اردو زبان میں ہی دے دی جائے تو وہ اس سے مستفید ہونے کے بجائے زینت طاق بنائے رکھتے ہیں۔ اس لیے علماے کرام کوشش کریں کہ اردوزبان کے ساتھ ہندی زبان پر بھی توجہ دیں تاکہ اس سے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسلامی احکامات سے روشناس ہوسکے۔
خلاصہ تحریر:
دور حاضر میں ایک طرف مسلمانوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس ملک میں صدیوں سے آباد رہنے کے باوجود انہوں نے ہندووں کی زبان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، وہیں دوسری طرف بے شمار ہندوستانیوں کی تعلیم و تربیت کا واحد ذریعہ ہندی زبان ہے۔ تو ضرورت ہے اس امر کی کہ اسلامی تعلیمات و احکامات کو زیادہ سے زیادہ ہندی زبان و ادب کے توسط سے عام کیا جائےاورعربی، فارسی زبان کی کتابوں کا ہندی میں ترجمہ کرکے شایع کیاجائے تاکہ اس سے لوگوں کے تعصب کا بھی خاتمہ ہو اور دین متین کی خدمت بھی ہو۔
اللہ رب العزت ہمیں ہر نہج اور ہر زاویے سے خادم اسلام بنائے۔ والله الھادی و المستعان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2955569354711314&id=100007748358884
اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہم میں سے کوئی مصنف یا مرتب دین کی ابتدائی اور بہت ہی معلوماتی کتاب اردو زبان میں لکھتاہے اور اسے عوام میں تقسیم کرتا ہے،تو ان کی جانب سے پہلاسوال یہی ہوتا ہے کیا یہ کتاب ہندی زبان میں بھی دستیاب ہے؟ لیکن نہ ہونے کی وجہ سےاگر انھیں اردو زبان میں ہی دے دی جائے تو وہ اس سے مستفید ہونے کے بجائے زینت طاق بنائے رکھتے ہیں۔ اس لیے علماے کرام کوشش کریں کہ اردوزبان کے ساتھ ہندی زبان پر بھی توجہ دیں تاکہ اس سے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسلامی احکامات سے روشناس ہوسکے۔
خلاصہ تحریر:
دور حاضر میں ایک طرف مسلمانوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس ملک میں صدیوں سے آباد رہنے کے باوجود انہوں نے ہندووں کی زبان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، وہیں دوسری طرف بے شمار ہندوستانیوں کی تعلیم و تربیت کا واحد ذریعہ ہندی زبان ہے۔ تو ضرورت ہے اس امر کی کہ اسلامی تعلیمات و احکامات کو زیادہ سے زیادہ ہندی زبان و ادب کے توسط سے عام کیا جائےاورعربی، فارسی زبان کی کتابوں کا ہندی میں ترجمہ کرکے شایع کیاجائے تاکہ اس سے لوگوں کے تعصب کا بھی خاتمہ ہو اور دین متین کی خدمت بھی ہو۔
اللہ رب العزت ہمیں ہر نہج اور ہر زاویے سے خادم اسلام بنائے۔ والله الھادی و المستعان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2955569354711314&id=100007748358884
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*مَدارِ ایمان*
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی
ہاں، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار بڑے ادب کا دربار ہے… ایمان کا مدار ہی آپ کی تعظیم و تکریم پر ہے…صحابہ نے کبھی آپ کی موجودگی میں آپ سے پیٹھ نہ پھیری…ان کا رُخ تو نماز میں بھی آپ ہی کی طرف رہتا تھا، انہوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی… ان کی شان تو یہ ہے کہ جب کوئی قبلہ رُخ نماز میں مشغول ہو اور وہ آواز دیں تو قبلہ سے پیٹھ پھیر کر آپ کی آواز پر لبیک کہنا فرض ہے… اس حقیقت پر قرآن گواہ ہے… کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کریں گے کہ اس کے چاہنے والے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوجائیں؟ ہر گز نہیں… یقیناً یہ عمل اللہ و رسول کی ایذا کا باعث ہو گا اور اللہ و رسول کو ایذا دینا کوئی معمولی بات نہیں… بہت بڑی بات ہے… ان کی سرکار تو عالی ہے… کسی بادشاہ کے دربار میں، بادشاہ سے پیٹھ پھیر کر کوئی نماز بھی پڑھنے لگے تو یقیناً اس کو آدابِ شاہی کے خلاف سمجھا جائے گا… نماز پڑھنے والے کو دربار سے ہٹا دیا جائے گا، ہر گز اجازت نہ دی جائے گی کہ وہ بادشاہ کے سامنے پیٹھ پھیر کر نماز پڑھتا ہے… جب دُنیوی بادشاہوں کے دربار کا یہ عالم ہے تو اس دربار کا کیا عالم ہوگا جہاں خود احکم الحاکمین متوجہ ہونے کا حکم دے رہا ہے… صدیوں ہمارے اسلاف و اکابر کا یہی عمل رہا، ائمہ اربعہ بھی اس پر متفق ہیں کہ جب روضہ شریف کے سامنے دُعا کرنے والا دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو چہرہ سرکار کی طرف رہے… اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سچوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے…
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوااللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (سورۂ توبہ:۱۱۹)…
'’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو‘‘
کہ سچے گمراہ نہیں ہو سکتے… اسی میں سعادت ہے کہ قرآن و حدیث کی پیروی کریں اور صالحین کے راستے پر چلتے رہیں۔
[قبلہ، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ۲۰۲۰ء، ص۲۰۔۲۱]
ترسیل: نوری مشن/اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر/ رضا لائبریری مالیگاؤں
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4152610981487249&id=100002151654486
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی
ہاں، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار بڑے ادب کا دربار ہے… ایمان کا مدار ہی آپ کی تعظیم و تکریم پر ہے…صحابہ نے کبھی آپ کی موجودگی میں آپ سے پیٹھ نہ پھیری…ان کا رُخ تو نماز میں بھی آپ ہی کی طرف رہتا تھا، انہوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی… ان کی شان تو یہ ہے کہ جب کوئی قبلہ رُخ نماز میں مشغول ہو اور وہ آواز دیں تو قبلہ سے پیٹھ پھیر کر آپ کی آواز پر لبیک کہنا فرض ہے… اس حقیقت پر قرآن گواہ ہے… کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کریں گے کہ اس کے چاہنے والے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوجائیں؟ ہر گز نہیں… یقیناً یہ عمل اللہ و رسول کی ایذا کا باعث ہو گا اور اللہ و رسول کو ایذا دینا کوئی معمولی بات نہیں… بہت بڑی بات ہے… ان کی سرکار تو عالی ہے… کسی بادشاہ کے دربار میں، بادشاہ سے پیٹھ پھیر کر کوئی نماز بھی پڑھنے لگے تو یقیناً اس کو آدابِ شاہی کے خلاف سمجھا جائے گا… نماز پڑھنے والے کو دربار سے ہٹا دیا جائے گا، ہر گز اجازت نہ دی جائے گی کہ وہ بادشاہ کے سامنے پیٹھ پھیر کر نماز پڑھتا ہے… جب دُنیوی بادشاہوں کے دربار کا یہ عالم ہے تو اس دربار کا کیا عالم ہوگا جہاں خود احکم الحاکمین متوجہ ہونے کا حکم دے رہا ہے… صدیوں ہمارے اسلاف و اکابر کا یہی عمل رہا، ائمہ اربعہ بھی اس پر متفق ہیں کہ جب روضہ شریف کے سامنے دُعا کرنے والا دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو چہرہ سرکار کی طرف رہے… اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سچوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے…
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوااللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (سورۂ توبہ:۱۱۹)…
'’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو‘‘
کہ سچے گمراہ نہیں ہو سکتے… اسی میں سعادت ہے کہ قرآن و حدیث کی پیروی کریں اور صالحین کے راستے پر چلتے رہیں۔
[قبلہ، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ۲۰۲۰ء، ص۲۰۔۲۱]
ترسیل: نوری مشن/اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر/ رضا لائبریری مالیگاؤں
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4152610981487249&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*آواز دو انصاف کو، انصاف کہاں ہے؟*
وامن میشرام کے جھوٹ کو بے نقاب کرتی تحریر!
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین :تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج ہمارے کرم فرما، محب گرامی حضرت مولانا صادق مصباحی صاحب قبلہ (مہراج گنجوی) نے علی الصباح ایک لنک بھیجا اور سننے کو کہا - لنک اوپن کیا تو ویڈیو بام سیف کے صدر "وامن میشرام" کا تھا - مہاراشٹر کے کسی علاقے میں جمعیت کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے جس قدر جھوٹ بولا اور مسلمانوں کو ملزم اور حکم خدا سے انحراف کرنے والا ٹھہرایا اسے سن کر بڑا تعجب ہوا - اسی پر بس نہ کیا بل کہ دو ہاتھ آگے بڑھتے ہوے یہ بھی کہا کہ" آج ہندوستان میں مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے وہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ مسلمانوں نے دلتوں، پچھڑوں، نچلی قوموں کا ساتھ نہیں دیا- اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ، لیکن مسلمان ہمارے ساتھ نہیں آئے۔"
پہلے ہم ان کے ویڈیو کے اہم پوائنٹس آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں پھر اپنی بات رکھیں گے -
(1) مسلمانوں نے دلتوں، مظلوموں کا ساتھ نہیں دیا -
(2) کسی بھی فساد میں کوئی اونچی ذات کا بندہ لڑنے نہیں آتا، سب دلت اور بیک ورڈ ہوتے ہیں -
(3) مسلمان اللہ کے فرمان "مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ" پر عمل پیرا نہیں ہوے، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کی یہی وجہ ہے-
(4) مسلمان کانگریس جیسی پارٹیوں کا ساتھ دیتے رہے، ہمارا ساتھ نہیں دیا-
وامن میشرام صاحب!
شاید آپ بھول گئے ہیں کہ آپ کا ساتھ ہم نے ہمیشہ دیا ہے۔گول میز کانفرنس میں ہم نے آپ کا ساتھ دیا اور آپ کی قوم کے لئے الگ سے انتخابات کی وکالت کی۔کامیابی بھی ملی- لیکن مسٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے 24 ستمر 1932 کو مسٹر گاندھی کی مرن برت (مرنے تک بھوک ہڑتال) سے عقیدت دکھا کر اپنی قوم کے پیروں میں کلہاڑی مار دی ۔۔۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 131 نشستوں پر کامیاب ہوکر بھی آپ کی قوم آج بھی ذہنی طور پر غلام ہے-
آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ مسٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو آپ کی قوم نے بامبے کی ریزرو سیٹ سے بھی کامیاب نہیں کیا-اور ایک ہی ٹرم میں دو دو لوک سبھا الیکشن ہار گئے تھے -
ع پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں!
*کیا مسلمانوں نے صرف کانگریس کو ووٹ دیا؟*
ہم نے 1980 سے کانگریس کو چھوڑ کر، کانشی رام، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا، لالو پرساد یادو، ملائم سنگھ یادو، مایا وتی، شرد پوار، شرد یادو، چودھری چرن سنگھ، نیتیش کمار، رام ولاس پاسوان جیسے ملک بھر میں سیکڑوں دلت، بیک ورڈ لیڈر دیے، چار چار بار وزیر اعلی بنایا، مگر جو سلوک کانگریس نے ہمارے ساتھ کیا، اس سے برا سلوک آپ نے کیا- کانگریس تو ہماری مجبوری تھی، لیکن آپ کو تو ہم نے اپنا سمجھ کر چنا تھا، پھر
کیا ہوا ترا وعدہ ؟
ہم نے آپ کو فرش سے عرش پر بٹھایا، کئی صوبوں میں وزیر اعلی کی کرسی کئی کئی بار آپ کو دی-اگر یہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ نے ہمیں کیا دیا؟ نوکری، کاروبار، تعلیمی مراکز، جان و مال کی حفاظت، کیا دیا؟
کبھی یہ بھی بتائیں!
ہم تو جتنے پہلے لاچار، بے سہارا، مجبور تھے اس سے زیادہ آج ہیں- ع
قصئہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم!
*فسادات میں دلت، بیک ورڈ ہی کیوں؟*
وأمن میشرام صاحب اچھا ہوا کہ یہ سچائی آپ ہی نے بتادی، ہم کہتے تو شکایت ہوتی- اگر آج بھی ہمارے خلاف آپ لڑنے آتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا؟ یہی نا! کہ آپ کے لوگ ہمیں آج تک سپورٹ نہیں کرتے! جھوٹی کہانیوں اور جھوٹے لوگوں پر آپ کو آج بھی وہی بھروسا ہے جو کئی صدیوں قبل تھا- آپ کا دشمن کوئی اور ہے اور آپ لڑتے کسی اور سے ہیں- یہ معمہ ہماری سمجھ سے باہر ہے -
ہمیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ آج بھی اپر کاسٹ سے اندرونی پریم رکھتے ہیں- (جیسے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب ہمیشہ اپر کاسٹ کے خلاف لڑتے رہے لیکن عمر کے اخیر پڑاؤ میں ایک برہمن لڑکی سے شادی کر بیٹھے-) اور جب موقع ملتا ہے اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں-جب آپ ہماری طرف سے سیکڑوں سالوں سے محبت اور برابری کا برتاؤ دیکھ رہے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آپ ہمیں پھوٹی آنکھ نہیں دیکھنا چاہتے! جب کہ آپ کے چہیتے آپ کو گھوڑے پر چڑھنے نہیں دیتے اور مونچھیں بھی نہیں رکھنے دیتے، کیا یہ سلوک کوئی مسلم کرتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیوں ہم سے ہی بیر ہے؟ اور کیوں ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں؟ اس کا جواب تو آپ ہی بہتر دے سکتے ہیں -
سچ کہا جائے تو قوم مسلم کو دلتوں سے آج تک کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں پہنچا-جب کہ ہم نے تعلیم کا حق، اٹھنے بیٹھنے سے لے کر ہر ہر موڑ پر دلتوں، مظلوموں کا ساتھ دیا ہے لیکن افسوس! کہ آپ جیسے لوگ بھی انھیں ہی ملزم ٹھہراتے ہیں جنھیں ساری دنیا ملزم گردانتی ہے-دنیا میں سب سے زیادہ آسان اگر کوئی کام ہے تو وہ مسلمانوں کو ہر کالے سفید کا مجرم ٹھہرانا ہی ہے جسے آپ بھی بخوبی نبھا رہے ہیں -
*بے وقوف بنانا بند کریں*
وامن میشرام کے جھوٹ کو بے نقاب کرتی تحریر!
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین :تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج ہمارے کرم فرما، محب گرامی حضرت مولانا صادق مصباحی صاحب قبلہ (مہراج گنجوی) نے علی الصباح ایک لنک بھیجا اور سننے کو کہا - لنک اوپن کیا تو ویڈیو بام سیف کے صدر "وامن میشرام" کا تھا - مہاراشٹر کے کسی علاقے میں جمعیت کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے جس قدر جھوٹ بولا اور مسلمانوں کو ملزم اور حکم خدا سے انحراف کرنے والا ٹھہرایا اسے سن کر بڑا تعجب ہوا - اسی پر بس نہ کیا بل کہ دو ہاتھ آگے بڑھتے ہوے یہ بھی کہا کہ" آج ہندوستان میں مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے وہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ مسلمانوں نے دلتوں، پچھڑوں، نچلی قوموں کا ساتھ نہیں دیا- اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ، لیکن مسلمان ہمارے ساتھ نہیں آئے۔"
پہلے ہم ان کے ویڈیو کے اہم پوائنٹس آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں پھر اپنی بات رکھیں گے -
(1) مسلمانوں نے دلتوں، مظلوموں کا ساتھ نہیں دیا -
(2) کسی بھی فساد میں کوئی اونچی ذات کا بندہ لڑنے نہیں آتا، سب دلت اور بیک ورڈ ہوتے ہیں -
(3) مسلمان اللہ کے فرمان "مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ" پر عمل پیرا نہیں ہوے، بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کی یہی وجہ ہے-
(4) مسلمان کانگریس جیسی پارٹیوں کا ساتھ دیتے رہے، ہمارا ساتھ نہیں دیا-
وامن میشرام صاحب!
شاید آپ بھول گئے ہیں کہ آپ کا ساتھ ہم نے ہمیشہ دیا ہے۔گول میز کانفرنس میں ہم نے آپ کا ساتھ دیا اور آپ کی قوم کے لئے الگ سے انتخابات کی وکالت کی۔کامیابی بھی ملی- لیکن مسٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے 24 ستمر 1932 کو مسٹر گاندھی کی مرن برت (مرنے تک بھوک ہڑتال) سے عقیدت دکھا کر اپنی قوم کے پیروں میں کلہاڑی مار دی ۔۔۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 131 نشستوں پر کامیاب ہوکر بھی آپ کی قوم آج بھی ذہنی طور پر غلام ہے-
آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ مسٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو آپ کی قوم نے بامبے کی ریزرو سیٹ سے بھی کامیاب نہیں کیا-اور ایک ہی ٹرم میں دو دو لوک سبھا الیکشن ہار گئے تھے -
ع پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں!
*کیا مسلمانوں نے صرف کانگریس کو ووٹ دیا؟*
ہم نے 1980 سے کانگریس کو چھوڑ کر، کانشی رام، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا، لالو پرساد یادو، ملائم سنگھ یادو، مایا وتی، شرد پوار، شرد یادو، چودھری چرن سنگھ، نیتیش کمار، رام ولاس پاسوان جیسے ملک بھر میں سیکڑوں دلت، بیک ورڈ لیڈر دیے، چار چار بار وزیر اعلی بنایا، مگر جو سلوک کانگریس نے ہمارے ساتھ کیا، اس سے برا سلوک آپ نے کیا- کانگریس تو ہماری مجبوری تھی، لیکن آپ کو تو ہم نے اپنا سمجھ کر چنا تھا، پھر
کیا ہوا ترا وعدہ ؟
ہم نے آپ کو فرش سے عرش پر بٹھایا، کئی صوبوں میں وزیر اعلی کی کرسی کئی کئی بار آپ کو دی-اگر یہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ نے ہمیں کیا دیا؟ نوکری، کاروبار، تعلیمی مراکز، جان و مال کی حفاظت، کیا دیا؟
کبھی یہ بھی بتائیں!
ہم تو جتنے پہلے لاچار، بے سہارا، مجبور تھے اس سے زیادہ آج ہیں- ع
قصئہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم!
*فسادات میں دلت، بیک ورڈ ہی کیوں؟*
وأمن میشرام صاحب اچھا ہوا کہ یہ سچائی آپ ہی نے بتادی، ہم کہتے تو شکایت ہوتی- اگر آج بھی ہمارے خلاف آپ لڑنے آتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا؟ یہی نا! کہ آپ کے لوگ ہمیں آج تک سپورٹ نہیں کرتے! جھوٹی کہانیوں اور جھوٹے لوگوں پر آپ کو آج بھی وہی بھروسا ہے جو کئی صدیوں قبل تھا- آپ کا دشمن کوئی اور ہے اور آپ لڑتے کسی اور سے ہیں- یہ معمہ ہماری سمجھ سے باہر ہے -
ہمیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ آج بھی اپر کاسٹ سے اندرونی پریم رکھتے ہیں- (جیسے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب ہمیشہ اپر کاسٹ کے خلاف لڑتے رہے لیکن عمر کے اخیر پڑاؤ میں ایک برہمن لڑکی سے شادی کر بیٹھے-) اور جب موقع ملتا ہے اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں-جب آپ ہماری طرف سے سیکڑوں سالوں سے محبت اور برابری کا برتاؤ دیکھ رہے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آپ ہمیں پھوٹی آنکھ نہیں دیکھنا چاہتے! جب کہ آپ کے چہیتے آپ کو گھوڑے پر چڑھنے نہیں دیتے اور مونچھیں بھی نہیں رکھنے دیتے، کیا یہ سلوک کوئی مسلم کرتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیوں ہم سے ہی بیر ہے؟ اور کیوں ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں؟ اس کا جواب تو آپ ہی بہتر دے سکتے ہیں -
سچ کہا جائے تو قوم مسلم کو دلتوں سے آج تک کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں پہنچا-جب کہ ہم نے تعلیم کا حق، اٹھنے بیٹھنے سے لے کر ہر ہر موڑ پر دلتوں، مظلوموں کا ساتھ دیا ہے لیکن افسوس! کہ آپ جیسے لوگ بھی انھیں ہی ملزم ٹھہراتے ہیں جنھیں ساری دنیا ملزم گردانتی ہے-دنیا میں سب سے زیادہ آسان اگر کوئی کام ہے تو وہ مسلمانوں کو ہر کالے سفید کا مجرم ٹھہرانا ہی ہے جسے آپ بھی بخوبی نبھا رہے ہیں -
*بے وقوف بنانا بند کریں*