دلائل الخیرات شریف ایپ
UPDATED VERSION OF DALAILUL KHAIRAT
دلائل الخیرات ایپلی کیشن کا اپ ڈیٹیڈ ورژن پیش خدمت ہے۔ اس نے واقعتاً تلاوت میں کافی آسانی پیدا کردی ہے۔ دلائل الخیرات شریف سے اہل اللہ کی ہر دور میں اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اس گئے گزرے دور میں فقیر قادری نے عاجزانہ آواز لگائی تو ہزاروں کی تعداد میں ارباب عشق و سعادت اس کی تلاوت و قراءت پر کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت حیرت اور دو آتشہ ہوئی جب سینکڑوں کی تعداد میں بر صغیر کی خواتین نے اس کی سند کا مطالبہ کیا اور اس کی مداومت کا عزم بالجزم دکھایا- ہماہمی میں بہت سے احباب کی فرمائش سند پوری نہیں کی جاسکی تھی، تاہم اگر وہ مندرجہ ذیل نمبر پر درخواست گزار ہونے کی دوبارہ زحمت گوارا فرمائیں تو باذن اللہ ترسیل سند ممکن بنا دی جائے گی۔ اللہ ہمیں علم و روایت، دین و دیانت اور خیر و سعادت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🌷چریاکوٹی 🌷
Whatapp Number ↴
https://wa.me/919838747722
Play Store Link ↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.dalail_ul_khirat_shareef
FB ↴
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4278534718875971/
UPDATED VERSION OF DALAILUL KHAIRAT
دلائل الخیرات ایپلی کیشن کا اپ ڈیٹیڈ ورژن پیش خدمت ہے۔ اس نے واقعتاً تلاوت میں کافی آسانی پیدا کردی ہے۔ دلائل الخیرات شریف سے اہل اللہ کی ہر دور میں اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اس گئے گزرے دور میں فقیر قادری نے عاجزانہ آواز لگائی تو ہزاروں کی تعداد میں ارباب عشق و سعادت اس کی تلاوت و قراءت پر کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت حیرت اور دو آتشہ ہوئی جب سینکڑوں کی تعداد میں بر صغیر کی خواتین نے اس کی سند کا مطالبہ کیا اور اس کی مداومت کا عزم بالجزم دکھایا- ہماہمی میں بہت سے احباب کی فرمائش سند پوری نہیں کی جاسکی تھی، تاہم اگر وہ مندرجہ ذیل نمبر پر درخواست گزار ہونے کی دوبارہ زحمت گوارا فرمائیں تو باذن اللہ ترسیل سند ممکن بنا دی جائے گی۔ اللہ ہمیں علم و روایت، دین و دیانت اور خیر و سعادت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🌷چریاکوٹی 🌷
Whatapp Number ↴
https://wa.me/919838747722
Play Store Link ↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.dalail_ul_khirat_shareef
FB ↴
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4278534718875971/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن
دنیا کا کوئی باشعور انسان اپنی کسی جائیداد کو تہس نہس کرتا,بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے,اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت کی ایک قیمتی جائیداد ہے۔ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے,اور جو کچھ کمی بیشی ہو,اس کو درست کرنا ہے۔ہم اس وقت جدائی اختیار کرلیتے,جب دعوت اسلامی یہ کہہ دیتی کہ آپ کو ہمارے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں۔
ارکان تحریک کو بھی معلوم ہے کہ یہ تحریک اہل سنت وجماعت کی ایک امانت ہے۔کل ہم اور آپ نہیں رہیں گے,لیکن ہماری خانقاہیں, تحریکیں,ادارے,مساجد ومدارس رہ جائیں گے۔ہمیں خداداد نعمتوں کی قدر کرنی ہے۔اگر دعوتی تحریکیں نہ ہوں تو بدمذہب جماعتیں اپنا دائرہ وسیع کر لیں گی۔ہاں,ہمیں اپنی خامیوں کی اصلاح بھی کرنی ہے۔جب دعوت اسلامی ہماری تنظیم ہے تو اس کی خامی دراصل ہماری خامی ہے۔
گزشتہ شوال1441 میں حضرت علامہ مفتی شمشاد حسین رضوی بدایونی صاحب قبلہ سے لفظ میٹھا سے متعلق میری کچھ بات چیت ہوئی۔انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں لفظ میٹھا کا استعمال کرنا مناسب نہیں۔
راقم نے عرض کیا کہ میں دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے بات کرتا ہوں۔دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کے پاس بھی کچھ دلائل تھے۔وہ مجھے بھیجے گئے۔میں نے وہ سب مفتی موصوف کو بھیج دیا,اور عرض کیا کہ آپ مفصل فتوی تحریر فرمائیں۔چند دنوں میں موصوف نے 14:صفحات پر مشتمل مبسوط فتوی رقم فرما کر مجھے بھیجا۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تو فتوی مجھے صحیح معلوم ہوا۔
وہ فتوی میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس گزارش کے ساتھ بھیج دیا کہ آئندہ حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں تحریر وتقریر میں لفظ میٹھا کا استعمال نہ کیا جائے۔ایک سال بعد کل میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے اس بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اب مدنی چینل پر اور تحریروں میں بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے لفظ میٹھا کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔
ہم نے یہ فتوی اسی لئے انھیں بھیجا تھاکہ دعوت اسلامی ہماری تحریک ہے۔اس کی اصلاح ہو جائے۔ارکان تحریک نے بھی یہی سمجھ کر میری بات پر توجہ دی کہ کوئی سنی آدمی ایک صحیح بات کا مطالبہ مجھ سے کر رہا ہے۔
یہ رشتۂ محبت کچھ اس طرح نبھے گا
کچھ تم قدم بڑھاؤ کچھ ہم قدم بڑھائیں
بعض احباب نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لفظ میٹھا"پیارا"کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ اسی عرف کے سبب ارکان دعوت اسلامی نے پیارے کی جگہ میٹھے کا استعمال رائج کر دیا ہو۔
سال 2014 میں متعدد امور سے متعلق ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داروں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔فقیہ ملت مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبد الحلیم ناگپوری علیہ الرحمۃ والرضوان نے رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ مجھے تفصیلات بھیجی تھیں۔
اس پوسٹ میں تحریک دعوت اسلامی کے اصول وقوانین کے کاغذات اور دیگر امور کی وضاحت تھی۔نماز میں بدمذہبوں کی اقتدا کا انکار اور رد بدمذہباں کا اقرار تھا۔دستور العمل ہی میں امام احمد رضا قادری اور حسام الحرمین کا زکر ہے۔ان شاء اللہ تعالی حسب ضرورت تفصیل رقم کی جائے گی۔
دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت ہی کی تحریک ہے۔چوں کہ تحریک کے ذمہ داران ومبلغین طبقۂ عوام سے ہیں,پس کچھ خامی بعید نہیں۔ہمیں موقع بہ موقع تحریک کے طریق کار کا جائزہ لیتے رہنا ہو گا۔اصحاب تحریک کو اللہ تعالی نے یہ ہمت وحوصلہ عطا فرمایا ہے کہ جب کوئی لغزش وخامی کا علم ہو جاتا ہے تو اس سے توبہ ورجوع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی انھیں توفیق احسن کی دولت سے ہمیشہ مالامال رکھے:آمین
06:مارچ 2013 کو ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داران کو جامعہ حضرت نظام الدین اولیا(دہلی)میں ایک مٹنگ کے لئے بلایا تھا۔محترم حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری اور احمد آباد کے4/3ذمہ داران مرکزی مجلس شوری کی اجازت لے کر ہماری مٹنگ میں شریک ہوئے۔اسی مٹنگ میں حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری نے کہا تھا کہ مختلف فیہ فقہی مسائل کے علاوہ دیگر مسائل میں اگر دعوت اسلامی میں کوئی بات مسلک اعلی حضرت کے خلاف ہے تو ہم توبہ پہلے کریں گے اور سانس بعد میں لیں گے,اور یہی نظریہ دعوت اسلامی کے مرکزی اراکین ومنتظمین اور امیر دعوت اسلامی کا ہے۔
جب حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان اور ہمارے استاذ عالی المراتب حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس نے اس جانب توجہ دلائی کہ دعوت اسلامی میں بعض امور قابل اصلاح ہیں,تب ہم نے اس جانب پیش قدمی کی۔غالبا 2010 سے ہم نے رابطہ شروع کیا۔ہمارے استاذ گرامی دام ظلہ العالی یا مرشد گرامی قدس سرہ العزیز کا مقصد اصلاح ہے۔شکست وریخت یا توڑ پھوڑ ہرگز مقصود نہیں:فافہم وتدبر
تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن
دنیا کا کوئی باشعور انسان اپنی کسی جائیداد کو تہس نہس کرتا,بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے,اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت کی ایک قیمتی جائیداد ہے۔ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے,اور جو کچھ کمی بیشی ہو,اس کو درست کرنا ہے۔ہم اس وقت جدائی اختیار کرلیتے,جب دعوت اسلامی یہ کہہ دیتی کہ آپ کو ہمارے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں۔
ارکان تحریک کو بھی معلوم ہے کہ یہ تحریک اہل سنت وجماعت کی ایک امانت ہے۔کل ہم اور آپ نہیں رہیں گے,لیکن ہماری خانقاہیں, تحریکیں,ادارے,مساجد ومدارس رہ جائیں گے۔ہمیں خداداد نعمتوں کی قدر کرنی ہے۔اگر دعوتی تحریکیں نہ ہوں تو بدمذہب جماعتیں اپنا دائرہ وسیع کر لیں گی۔ہاں,ہمیں اپنی خامیوں کی اصلاح بھی کرنی ہے۔جب دعوت اسلامی ہماری تنظیم ہے تو اس کی خامی دراصل ہماری خامی ہے۔
گزشتہ شوال1441 میں حضرت علامہ مفتی شمشاد حسین رضوی بدایونی صاحب قبلہ سے لفظ میٹھا سے متعلق میری کچھ بات چیت ہوئی۔انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں لفظ میٹھا کا استعمال کرنا مناسب نہیں۔
راقم نے عرض کیا کہ میں دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے بات کرتا ہوں۔دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کے پاس بھی کچھ دلائل تھے۔وہ مجھے بھیجے گئے۔میں نے وہ سب مفتی موصوف کو بھیج دیا,اور عرض کیا کہ آپ مفصل فتوی تحریر فرمائیں۔چند دنوں میں موصوف نے 14:صفحات پر مشتمل مبسوط فتوی رقم فرما کر مجھے بھیجا۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تو فتوی مجھے صحیح معلوم ہوا۔
وہ فتوی میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس گزارش کے ساتھ بھیج دیا کہ آئندہ حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں تحریر وتقریر میں لفظ میٹھا کا استعمال نہ کیا جائے۔ایک سال بعد کل میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے اس بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اب مدنی چینل پر اور تحریروں میں بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے لفظ میٹھا کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔
ہم نے یہ فتوی اسی لئے انھیں بھیجا تھاکہ دعوت اسلامی ہماری تحریک ہے۔اس کی اصلاح ہو جائے۔ارکان تحریک نے بھی یہی سمجھ کر میری بات پر توجہ دی کہ کوئی سنی آدمی ایک صحیح بات کا مطالبہ مجھ سے کر رہا ہے۔
یہ رشتۂ محبت کچھ اس طرح نبھے گا
کچھ تم قدم بڑھاؤ کچھ ہم قدم بڑھائیں
بعض احباب نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لفظ میٹھا"پیارا"کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ اسی عرف کے سبب ارکان دعوت اسلامی نے پیارے کی جگہ میٹھے کا استعمال رائج کر دیا ہو۔
سال 2014 میں متعدد امور سے متعلق ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داروں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔فقیہ ملت مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبد الحلیم ناگپوری علیہ الرحمۃ والرضوان نے رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ مجھے تفصیلات بھیجی تھیں۔
اس پوسٹ میں تحریک دعوت اسلامی کے اصول وقوانین کے کاغذات اور دیگر امور کی وضاحت تھی۔نماز میں بدمذہبوں کی اقتدا کا انکار اور رد بدمذہباں کا اقرار تھا۔دستور العمل ہی میں امام احمد رضا قادری اور حسام الحرمین کا زکر ہے۔ان شاء اللہ تعالی حسب ضرورت تفصیل رقم کی جائے گی۔
دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت ہی کی تحریک ہے۔چوں کہ تحریک کے ذمہ داران ومبلغین طبقۂ عوام سے ہیں,پس کچھ خامی بعید نہیں۔ہمیں موقع بہ موقع تحریک کے طریق کار کا جائزہ لیتے رہنا ہو گا۔اصحاب تحریک کو اللہ تعالی نے یہ ہمت وحوصلہ عطا فرمایا ہے کہ جب کوئی لغزش وخامی کا علم ہو جاتا ہے تو اس سے توبہ ورجوع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی انھیں توفیق احسن کی دولت سے ہمیشہ مالامال رکھے:آمین
06:مارچ 2013 کو ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داران کو جامعہ حضرت نظام الدین اولیا(دہلی)میں ایک مٹنگ کے لئے بلایا تھا۔محترم حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری اور احمد آباد کے4/3ذمہ داران مرکزی مجلس شوری کی اجازت لے کر ہماری مٹنگ میں شریک ہوئے۔اسی مٹنگ میں حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری نے کہا تھا کہ مختلف فیہ فقہی مسائل کے علاوہ دیگر مسائل میں اگر دعوت اسلامی میں کوئی بات مسلک اعلی حضرت کے خلاف ہے تو ہم توبہ پہلے کریں گے اور سانس بعد میں لیں گے,اور یہی نظریہ دعوت اسلامی کے مرکزی اراکین ومنتظمین اور امیر دعوت اسلامی کا ہے۔
جب حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان اور ہمارے استاذ عالی المراتب حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس نے اس جانب توجہ دلائی کہ دعوت اسلامی میں بعض امور قابل اصلاح ہیں,تب ہم نے اس جانب پیش قدمی کی۔غالبا 2010 سے ہم نے رابطہ شروع کیا۔ہمارے استاذ گرامی دام ظلہ العالی یا مرشد گرامی قدس سرہ العزیز کا مقصد اصلاح ہے۔شکست وریخت یا توڑ پھوڑ ہرگز مقصود نہیں:فافہم وتدبر
دینی وملی خدمات انجام دینے والے افراد وشخصیات,مدارس وتحریکات,خانقاہوں,اشاعتی اداروں,محررین ومقررین اور علما ودانشوران کی تائید وحمایت اور ان کی حوصلہ افزائی وتشجیع وترغیب پر مشتمل کلمات ہمارے متفرق مضامین میں مرقوم ومسطور ہیں۔ہماری جانب سے یہ کوئی امر جدید نہیں۔جو حضرات ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کو تسلیم کرتے ہیں۔وہ سنی اور ہمارے دینی بھائی ہیں۔طرز عمل کااختلاف ممکن ہے,لیکن اس سبب سے وہ مذہب اہل سنت سے خارج نہیں۔اکابر اہل سنت کےاقوال وفرمودات کے صحیح مطالب بیان کئے جائیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جون 2021
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/808696159757436/
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جون 2021
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/808696159757436/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا مسلما
دعوت اسلامی میں فکر رضا کی جلوہ سامانیاں
جب کسی مسلمان کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ صراط مستقیم سے پھٹک سکتا ہے,یا غلط راہ پر جا چکا ہو تو اس کے دل میں محبت نبوی اور عشق مصطفوی کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی جائے,تاکہ وہ اپنے رسول کی طاعت اختیار کرے اور راہ حق پر مستحکم وقائم ہو جائے,کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے,اور اس میں فرحت وشادمانی اور لذت روحانی محسوس کرتا ہے۔
حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
تعصی الالہ وانت تظہر حبہ
ہذا محال فی القیاس بدیع
ترجمہ:تم اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہو اور اس کی محبت ظاہر کرتے ہو۔یہ محال ہے اور عقل کے نزدیک ایک اختراعی بات ہے۔
لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ان المحب لمن یحب مطیع
ترجمہ:اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو ضرور تم رب تعالی کی فرماں برداری کرتے۔بے شک محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے۔
جب کوئی مومن حضور اقدس سرور دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خوب محبت کرنے لگتا ہے تو وہ ہر امر میں یہ تلاش کرتا ہے کہ اس بارے میں ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم کیا ہے؟وہ کسی شخصیت کا منہ نہیں دیکھتا,خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم الشان ہو,بلکہ وہ حکم مصطفوی کو ہر اس مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے,جہاں اسے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم ملنے کی امید ہو۔
امام احمد رضا قادری کے عہد میں برصغیر میں اعتقادی فتنوں کا سیلاب آ چکا تھا۔غیر مقلدیت,دیوبندیت,قادیانیت,ندویت,نیچریت ودیگر فتنے عروج پر تھے۔امام احمد رضا قادری نے نظم ونثر ہر دو صنف کے ذریعہ قوم مسلم کو عشق مصطفوی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی,یہاں تک کہ بر صغیر کی فضا عشق محمدی ومحبت مصطفوی کی خوشبو سے مشکبار ہو گئی۔
جب قوم کے دلوں میں عشق مصطفوی کی قندیل روشن ہو جائے گی تو قوم کا ہر فرد درپیش امر سے متعلق پکارے گا کہ اس بارے میں ارشاد مصطفوی کیا ہے؟حکم نبوی کیا ہے؟شریعت محمدی کا فیصلہ کیا ہے؟
عشق کی اس منزل میں پہنچ کر کوئی عاشق رسول(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) اپنے پیر واستاذ کو نہیں دیکھتا ہے,بلکہ اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے صحیح حکم کو تلاش کرتا ہے,خواہ احکام صحیحہ بتانے والا کوئی بھی ہو۔استاذ وپیر ہو,یا کوئی دوسرے عالم۔
امام احمد رضا قادری لوگوں کو عشق مصطفوی کی ترغیب بھی دے رہے تھے اور ارشادات نبویہ واحکام مصطفویہ سے بھی قوم مسلم کو آشنا کر رہے تھے۔
تحریک دعوت اسلامی نے بھی قوم مسلم کو عشق محمدی کی جانب لانے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی نے یہ حسین تصور اور اثر آفریں فکر ارکان دعوت اسلامی کو ودیعت فرمائی۔
جامعۃ المدینہ,فیضان مدینہ,مدرسۃ المدینہ,دار المدینہ,مکتبۃ المدینہ,مدنی ماحول,مدنی پھول,مدنی منا,مدنی ترکیب,قفل مدینہ وغیرہ اصطلاحات واسما ایک مومن کے قلب وذہن اور فکر ونظر کو دربار حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کی جانب کشاں کشاں لے جاتے ہیں۔
تحریک دعوت اسلامی لوگوں کو امام احمد رضا قادری کی تعلیمات سے بھی آشنا کر رہی ہے,اور ان کی تعلیمات پر عمل کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔امیر دعوت اسلامی(جزاہ اللہ تعالی عنا وعن جمیع المسلمین)کو عاشق اعلی حضرت بھی کہا جاتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی فکر رضا کی صحیح ترجمانی کر رہی ہے۔یہ لوگ فکر رضا کے سچے مبلغین ہیں۔
ہمارے ایک قابل اعتماد لاہوری دوست نے بتایا کہ جب دعوت اسلامی کے مبلغین کو کسی امر سے متعلق کہا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ اس بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟ حکم شرع بتاؤ۔
اگر یہ مبلغین حقیقت میں ایسا ہی کہتے ہیں تو ٹھیک اسی راہ پر گئے ہیں,جس راہ پر امام احمد رضا قادری قوم مسلم کو لے جانا چاہتے تھے۔
اگر یہ مبلغین یہ کہتے کہ ہمارے امیر نے ایسا کہا,یا ہمارے پیر نے ایسا کہا,یا ہمارے استاذ نے ایسا کہا,اس لئے ہم نے ایسا کیا تو یہ شبہہ ہوتا کہ شاید یہ لوگ دیوبندی طرز فکر کے قریب جا رہے ہیں۔دیابنہ اپنے استاذ وپیر کی محبت میں حکم شرع سے غافل ہو گئے۔دیابنہ نے ناموس رسالت پر اپنے پیروں اور استاذوں کی عزت وناموس کو ترجیح دی اور اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی صریح بے ادبیوں کے باوجود اپنے پیروں اور استاذوں سے جدا نہ ہوئے۔
مجھے تو وہی لوگ پسند ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہوں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔میں قوم مسلم کو اسی لئے امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان ان ہی کی طرح سنی صحیح العقیدہ رہیں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔اپنے روز وشب کو تصور مصطفوی میں مستغرق رکھیں۔
دعوت اسلامی میں فکر رضا کی جلوہ سامانیاں
جب کسی مسلمان کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ صراط مستقیم سے پھٹک سکتا ہے,یا غلط راہ پر جا چکا ہو تو اس کے دل میں محبت نبوی اور عشق مصطفوی کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی جائے,تاکہ وہ اپنے رسول کی طاعت اختیار کرے اور راہ حق پر مستحکم وقائم ہو جائے,کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے,اور اس میں فرحت وشادمانی اور لذت روحانی محسوس کرتا ہے۔
حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
تعصی الالہ وانت تظہر حبہ
ہذا محال فی القیاس بدیع
ترجمہ:تم اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہو اور اس کی محبت ظاہر کرتے ہو۔یہ محال ہے اور عقل کے نزدیک ایک اختراعی بات ہے۔
لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ان المحب لمن یحب مطیع
ترجمہ:اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو ضرور تم رب تعالی کی فرماں برداری کرتے۔بے شک محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے۔
جب کوئی مومن حضور اقدس سرور دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خوب محبت کرنے لگتا ہے تو وہ ہر امر میں یہ تلاش کرتا ہے کہ اس بارے میں ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم کیا ہے؟وہ کسی شخصیت کا منہ نہیں دیکھتا,خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم الشان ہو,بلکہ وہ حکم مصطفوی کو ہر اس مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے,جہاں اسے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم ملنے کی امید ہو۔
امام احمد رضا قادری کے عہد میں برصغیر میں اعتقادی فتنوں کا سیلاب آ چکا تھا۔غیر مقلدیت,دیوبندیت,قادیانیت,ندویت,نیچریت ودیگر فتنے عروج پر تھے۔امام احمد رضا قادری نے نظم ونثر ہر دو صنف کے ذریعہ قوم مسلم کو عشق مصطفوی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی,یہاں تک کہ بر صغیر کی فضا عشق محمدی ومحبت مصطفوی کی خوشبو سے مشکبار ہو گئی۔
جب قوم کے دلوں میں عشق مصطفوی کی قندیل روشن ہو جائے گی تو قوم کا ہر فرد درپیش امر سے متعلق پکارے گا کہ اس بارے میں ارشاد مصطفوی کیا ہے؟حکم نبوی کیا ہے؟شریعت محمدی کا فیصلہ کیا ہے؟
عشق کی اس منزل میں پہنچ کر کوئی عاشق رسول(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) اپنے پیر واستاذ کو نہیں دیکھتا ہے,بلکہ اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے صحیح حکم کو تلاش کرتا ہے,خواہ احکام صحیحہ بتانے والا کوئی بھی ہو۔استاذ وپیر ہو,یا کوئی دوسرے عالم۔
امام احمد رضا قادری لوگوں کو عشق مصطفوی کی ترغیب بھی دے رہے تھے اور ارشادات نبویہ واحکام مصطفویہ سے بھی قوم مسلم کو آشنا کر رہے تھے۔
تحریک دعوت اسلامی نے بھی قوم مسلم کو عشق محمدی کی جانب لانے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی نے یہ حسین تصور اور اثر آفریں فکر ارکان دعوت اسلامی کو ودیعت فرمائی۔
جامعۃ المدینہ,فیضان مدینہ,مدرسۃ المدینہ,دار المدینہ,مکتبۃ المدینہ,مدنی ماحول,مدنی پھول,مدنی منا,مدنی ترکیب,قفل مدینہ وغیرہ اصطلاحات واسما ایک مومن کے قلب وذہن اور فکر ونظر کو دربار حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کی جانب کشاں کشاں لے جاتے ہیں۔
تحریک دعوت اسلامی لوگوں کو امام احمد رضا قادری کی تعلیمات سے بھی آشنا کر رہی ہے,اور ان کی تعلیمات پر عمل کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔امیر دعوت اسلامی(جزاہ اللہ تعالی عنا وعن جمیع المسلمین)کو عاشق اعلی حضرت بھی کہا جاتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی فکر رضا کی صحیح ترجمانی کر رہی ہے۔یہ لوگ فکر رضا کے سچے مبلغین ہیں۔
ہمارے ایک قابل اعتماد لاہوری دوست نے بتایا کہ جب دعوت اسلامی کے مبلغین کو کسی امر سے متعلق کہا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ اس بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟ حکم شرع بتاؤ۔
اگر یہ مبلغین حقیقت میں ایسا ہی کہتے ہیں تو ٹھیک اسی راہ پر گئے ہیں,جس راہ پر امام احمد رضا قادری قوم مسلم کو لے جانا چاہتے تھے۔
اگر یہ مبلغین یہ کہتے کہ ہمارے امیر نے ایسا کہا,یا ہمارے پیر نے ایسا کہا,یا ہمارے استاذ نے ایسا کہا,اس لئے ہم نے ایسا کیا تو یہ شبہہ ہوتا کہ شاید یہ لوگ دیوبندی طرز فکر کے قریب جا رہے ہیں۔دیابنہ اپنے استاذ وپیر کی محبت میں حکم شرع سے غافل ہو گئے۔دیابنہ نے ناموس رسالت پر اپنے پیروں اور استاذوں کی عزت وناموس کو ترجیح دی اور اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی صریح بے ادبیوں کے باوجود اپنے پیروں اور استاذوں سے جدا نہ ہوئے۔
مجھے تو وہی لوگ پسند ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہوں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔میں قوم مسلم کو اسی لئے امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان ان ہی کی طرح سنی صحیح العقیدہ رہیں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔اپنے روز وشب کو تصور مصطفوی میں مستغرق رکھیں۔
👍2
جب کوئی باطنی طور پر خود کو دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا میں حاضر کر لیتا ہے تو اس کی نظر بھی بدل جاتی ہے اور نظریہ بھی بدل جاتا ہے۔وہ جب اہل سنت وجماعت کے تمام طبقات یعنی حنفی,مالکی,شافعی,حنبلی,اشعری وماتریدی,قادری,چشتی,نقشبندی وسہروردی کو دربار اعظم میں قبولیت سے سرفراز پاتا ہے تو طبقاتی عصبیت اس کے قلب وذہن سے غائب ہو جاتی ہے۔
مقبول ومردود کا فرق مشکل نہیں۔جن کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا:(لا تجالسوہم ولا تواکلوہم:الحدیث)۔ایسے لوگ مردود بارگاہ ہیں۔خواہ وہ مرتد ہوں,یا بدمذہب۔
سوال:محض عشق نبوی سے ہمیں کیسے معلوم ہو گا کہ کون دربار رسالت میں مقبول ہے اور کون مردود؟
جواب:ہم نے متعدد مضامین میں وضاحت کر دی ہے کہ عہد حاضر کے بدمذہبوں کی تعیین وتشخیص اور ان کے شرعی احکام امام احمد رضا قادری نے بیان فرما دیئے ہیں۔اس بارے میں ان کے فتاوی اور کتب ورسائل دیکھ لیں۔
جب کوئی خود کو دربار اعظم سے منسلک کرے گا تو اس کا باطن طاعت مصطفوی کی طرف مائل وراغب ہو گا۔امام احمد رضا کا پتہ اسی لئے بتا رہا ہوں کہ حسب ضرورت ان سے شرعی احکام ومسائل دریافت کر لو۔ان کی تعیین وتشخیص اس لئے کرتا ہوں کہ ماضی قریب میں ان کو ہی دربار اعظم سے شرعی احکام ومسائل کی تحقیق وتبلیغ کے واسطے مقرر کیا گیا تھا۔مقرر کردہ خدام دین کو مجدد کہا جاتا ہے۔
دعوت اسلامی اور حسام الحرمین
تحریک دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین"حسام الحرمین"کو اعلانیہ طور پر مانتے ہیں۔دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین اعتقادی طور پر متصلب سنی ہیں۔یہ لوگ ندوی فکر یعنی صلح کلیت کے حامی وقائل نہیں۔صلح کلیت یہ ہے کہ ہر ایک فرقہ کو اہل حق سمجھا جائے۔جب دعوت اسلامی حسام الحرمین کو مانتی ہے تو بدمذہبوں کو اہل حق نہیں مانتی ہے,بلکہ نگاہ شریعت میں وہ لوگ جیسے ہیں,انہیں ویسا ہی مانتی ہے۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ شرفہ کی کتاب"کفریہ کلمات کے بارے میں سوال وجواب"(مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ)ص84-85میں حسام الحرمین کی تصدیق مرقوم ومطبوع ہے۔
مدنی چینل کا قیام
ماضی قریب میں پاکستان کے سب سے بڑے عالم اہل سنت غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی(1913-1986)ٹی وی کے جواز کے قائل تھے۔یہ ٹی وی کی تصویر کو تصویر نہیں مانتے تھے۔اس سبب سے اکثر علمائے پاکستان ٹی وی کے جواز کے قائل ہوئے۔جمعیت علمائے پاکستان,تنظیم المدارس, تحریک تحفظ ختم نبوت اور تحریک دعوت اسلامی کے قیام میں حضرت علامہ کاظمی علیہ الرحمۃ وارضوان کا اہم کردار رہا ہے۔
ارکان دعوت اسلامی نے علمائے پاکستان کے قول جواز کے پیش نظر"مدنی چینل"تشکیل دی۔اس سے قبل"کیو ٹی وی"(Q TV)نے دنیا بھر میں قبولیت حاصل کر لی تھی۔یہ چینل ایک مشترکہ پلیٹ فارم تھا,جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے بیانات نشر ہوتے تھے۔
مدنی چینل کے مثبت نتائج ظاہرہوئے۔بے شمار لوگ گناہوں سے تائب ہوئے۔بہت سے لوگ بدمذہبیت سے تائب ہوئے۔دنیا کےدوسو ممالک میں مدنی چینل کے ذریعہ دعوت وتبلیغ کی خدمت انجام دی جا رہی ہے۔
سلسلہ رضویہ کی عظیم الشان شاخ
امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کے مرید وخلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری رضوی علیہ الرحمہ(1877-1981) کے مرید ہیں,اور قطب مدینہ کے خلیفہ حضرت مولانا عبد السلام فتح پوری قادری رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان(1925-1998)کے خلیفہ ہیں۔
عہد حاضر میں مولانا موصوف کے ذریعہ سلسلہ رضویہ کو ساری دنیا میں فروغ ملا۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ فضلہ کے مریدین کی تعداد کئی لاکھ ہے۔عصر حاضرمیں ان سے جاری ہونے والا سلسلہ عطاریہ,سلسلہ رضویہ کی بہت بڑی شاخ ہے۔
تحریک دعوت اسلامی کا قیام
تحریک دعوت اسلامی کا قیام 1401 مطابق 1981 میں علمائے اہل سنت وجماعت کے مشورہ کے مطابق ہوا۔
02:ستمبر 1981 کو حضرت علامہ شاہ احمد نورانی کی رہائش گاہ پر کراچی میں ایک دعوتی تنظیم کے قیام کے لئے حضرت علامہ ارشد القادری,حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی,حضرت علامہ شاہ احمد نورانی,حضرت مفتی وقار الدین رضوی علیہم الرحمۃ والرضوان نے میٹنگ کی۔حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ کو اس دعوتی تحریک کے قیام وفروغ کے لئے منتخب کیا گیا۔مولانا موصوف پہلے بھی دعوتی وتبلیغی خدمات انجام دیتے تھے۔تحریک کے قیام کے بعد منظم انداز میں کام کرنے لگے۔
یہ عوام اہل سنت کی تبلیغی تحریک ہے۔رفتہ رفتہ اس تحریک نے اپنا دائرۂ کار وسیع کر لیا۔اس کے پاس دینی خدمات کے سو سے زائد شعبے ہیں۔یہ تحریک مختلف قسم کی خدمات انجام دیتی ہے اور دنیا کے دو سو ممالک میں اس کی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔
دنیا کی کوئی غیر حکومتی تنظیم(NGO)شاید ہی اس کے مساوی ہو,جب کہ یہ تحریک چالیس سال قبل ہی قائم ہوئی ہے۔یہ ایک جدید تحریک ہے۔
بدمذہبوں کی بوکھلاہٹ
مقبول ومردود کا فرق مشکل نہیں۔جن کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا:(لا تجالسوہم ولا تواکلوہم:الحدیث)۔ایسے لوگ مردود بارگاہ ہیں۔خواہ وہ مرتد ہوں,یا بدمذہب۔
سوال:محض عشق نبوی سے ہمیں کیسے معلوم ہو گا کہ کون دربار رسالت میں مقبول ہے اور کون مردود؟
جواب:ہم نے متعدد مضامین میں وضاحت کر دی ہے کہ عہد حاضر کے بدمذہبوں کی تعیین وتشخیص اور ان کے شرعی احکام امام احمد رضا قادری نے بیان فرما دیئے ہیں۔اس بارے میں ان کے فتاوی اور کتب ورسائل دیکھ لیں۔
جب کوئی خود کو دربار اعظم سے منسلک کرے گا تو اس کا باطن طاعت مصطفوی کی طرف مائل وراغب ہو گا۔امام احمد رضا کا پتہ اسی لئے بتا رہا ہوں کہ حسب ضرورت ان سے شرعی احکام ومسائل دریافت کر لو۔ان کی تعیین وتشخیص اس لئے کرتا ہوں کہ ماضی قریب میں ان کو ہی دربار اعظم سے شرعی احکام ومسائل کی تحقیق وتبلیغ کے واسطے مقرر کیا گیا تھا۔مقرر کردہ خدام دین کو مجدد کہا جاتا ہے۔
دعوت اسلامی اور حسام الحرمین
تحریک دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین"حسام الحرمین"کو اعلانیہ طور پر مانتے ہیں۔دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین اعتقادی طور پر متصلب سنی ہیں۔یہ لوگ ندوی فکر یعنی صلح کلیت کے حامی وقائل نہیں۔صلح کلیت یہ ہے کہ ہر ایک فرقہ کو اہل حق سمجھا جائے۔جب دعوت اسلامی حسام الحرمین کو مانتی ہے تو بدمذہبوں کو اہل حق نہیں مانتی ہے,بلکہ نگاہ شریعت میں وہ لوگ جیسے ہیں,انہیں ویسا ہی مانتی ہے۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ شرفہ کی کتاب"کفریہ کلمات کے بارے میں سوال وجواب"(مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ)ص84-85میں حسام الحرمین کی تصدیق مرقوم ومطبوع ہے۔
مدنی چینل کا قیام
ماضی قریب میں پاکستان کے سب سے بڑے عالم اہل سنت غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی(1913-1986)ٹی وی کے جواز کے قائل تھے۔یہ ٹی وی کی تصویر کو تصویر نہیں مانتے تھے۔اس سبب سے اکثر علمائے پاکستان ٹی وی کے جواز کے قائل ہوئے۔جمعیت علمائے پاکستان,تنظیم المدارس, تحریک تحفظ ختم نبوت اور تحریک دعوت اسلامی کے قیام میں حضرت علامہ کاظمی علیہ الرحمۃ وارضوان کا اہم کردار رہا ہے۔
ارکان دعوت اسلامی نے علمائے پاکستان کے قول جواز کے پیش نظر"مدنی چینل"تشکیل دی۔اس سے قبل"کیو ٹی وی"(Q TV)نے دنیا بھر میں قبولیت حاصل کر لی تھی۔یہ چینل ایک مشترکہ پلیٹ فارم تھا,جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے بیانات نشر ہوتے تھے۔
مدنی چینل کے مثبت نتائج ظاہرہوئے۔بے شمار لوگ گناہوں سے تائب ہوئے۔بہت سے لوگ بدمذہبیت سے تائب ہوئے۔دنیا کےدوسو ممالک میں مدنی چینل کے ذریعہ دعوت وتبلیغ کی خدمت انجام دی جا رہی ہے۔
سلسلہ رضویہ کی عظیم الشان شاخ
امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کے مرید وخلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری رضوی علیہ الرحمہ(1877-1981) کے مرید ہیں,اور قطب مدینہ کے خلیفہ حضرت مولانا عبد السلام فتح پوری قادری رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان(1925-1998)کے خلیفہ ہیں۔
عہد حاضر میں مولانا موصوف کے ذریعہ سلسلہ رضویہ کو ساری دنیا میں فروغ ملا۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ فضلہ کے مریدین کی تعداد کئی لاکھ ہے۔عصر حاضرمیں ان سے جاری ہونے والا سلسلہ عطاریہ,سلسلہ رضویہ کی بہت بڑی شاخ ہے۔
تحریک دعوت اسلامی کا قیام
تحریک دعوت اسلامی کا قیام 1401 مطابق 1981 میں علمائے اہل سنت وجماعت کے مشورہ کے مطابق ہوا۔
02:ستمبر 1981 کو حضرت علامہ شاہ احمد نورانی کی رہائش گاہ پر کراچی میں ایک دعوتی تنظیم کے قیام کے لئے حضرت علامہ ارشد القادری,حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی,حضرت علامہ شاہ احمد نورانی,حضرت مفتی وقار الدین رضوی علیہم الرحمۃ والرضوان نے میٹنگ کی۔حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ کو اس دعوتی تحریک کے قیام وفروغ کے لئے منتخب کیا گیا۔مولانا موصوف پہلے بھی دعوتی وتبلیغی خدمات انجام دیتے تھے۔تحریک کے قیام کے بعد منظم انداز میں کام کرنے لگے۔
یہ عوام اہل سنت کی تبلیغی تحریک ہے۔رفتہ رفتہ اس تحریک نے اپنا دائرۂ کار وسیع کر لیا۔اس کے پاس دینی خدمات کے سو سے زائد شعبے ہیں۔یہ تحریک مختلف قسم کی خدمات انجام دیتی ہے اور دنیا کے دو سو ممالک میں اس کی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔
دنیا کی کوئی غیر حکومتی تنظیم(NGO)شاید ہی اس کے مساوی ہو,جب کہ یہ تحریک چالیس سال قبل ہی قائم ہوئی ہے۔یہ ایک جدید تحریک ہے۔
بدمذہبوں کی بوکھلاہٹ
الیاس کاندھلوی نے دیوبندی مذہب کے فروغ کے لئے 1926 میں تبلیغی جماعت قائم کی۔اس کے قیام کو 95 سال ہو گئے۔اس کا دائرۂ کار بھی وسیع ہے,لیکن دعوت اسلامی کے بالمقابل اس کی کوئی خاص حیثیت نہیں۔
دعوت اسلامی کی وسعت وترقی دیکھ کر تمام بدمذہب فرقے بلبلا اٹھے ہیں۔دعوت اسلامی کے خلاف ہم نے مدرسہ دیوبند کا فتوی بھی دیکھا ہے اور غیر مقلدین کی معاندانہ تحریریں بھی۔خاص کر مدنی چینل کے ذریعہ مذہب ایل سنت کو کافی فروغ حاصل ہوا۔لوگ بدعقیدگی سے بھی محفوظ ہوئے اور انھیں اصلاح اعمال کا بھی موقع میسر آیا۔
جو لوگ جلسوں اور محفلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے,ان لوگوں نے مدنی چینل سے استفادہ کیا اور مذہب اہل سنت وجماعت سے وابستہ رہے۔جو بدمذہب ہو چکے تھے,یا بدمذہبیت کی جانب مائل تھے,وہ صحیح العقیدہ سنی بن گئے۔
دعوت اسلامی نے دنیا بھر میں وہابی فکر کی تبلیغ واشاعت کی روک تھام کے لئے قابل تحسین اقدام کیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اکیسویں صدی امام احمد رضا کی صدی ہو گی۔ممالک عالم میں فکر رضا کو فروغ وعروج حاصل ہو گا اور دنیا بھر میں عشق مصطفے علیہ التحیۃ والثنا کے ترانے گونجیں گے۔
دعوت وتبلیغ کے لئے ہمارے پاس تحریک دعوت اسلامی ہے۔مسائل شرعیہ کی تحقیق وتدقیق کے لئے برصغیر میں متعدد فقہی مجالس ہیں,مثلا شرعی کونسل(بریلی شریف),مجلس شرعی(مبارک پور),مجلس تحقیقات شرعیہ(دعوت اسلامی)-
ہمارے پاس بہت سی سنی خانقاہیں ہیں جو مسلک اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں مصروف ہیں,مثلا خانقاہ برکاتیہ(ماریرہ مطہرہ),خانقاہ اشرفیہ(کچھوچھہ مقدسہ),خانقاہ رضویہ(بریلی شریف)-تعلیم وتدریس کے لئے بہت سے ادارے ہیں,مثلا جامعہ منظر اسلام وجامعۃ الرضا(بریلی شریف)جامعہ اشرفیہ(مبارک پور),جامعہ رضویہ(لاہور)۔
بطور مثال چند خانقاہوں اور اداروں کا ذکر کیا گیا۔استیعاب کی گنجائش نہیں۔
فکر رضا سے وابستہ بے شمار علمائے اہل سنت ومشائخ طریقت ومفتیان شریعت عرب وعجم میں مختلف قسم کی دینی,ملی,اشاعتی,تحقیقی ودیگر خدمات میں مصروف عمل ہیں۔ہماری تمام خانقاہیں,ادارے,تنظیمیں اور علما ومشائخ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی تعلیمات پر مستحکم وقائم ہیں۔ان میں ربط باہم کی ضرورت ہے:لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:جون 2021
بروز: جمعہ مبارکہ۔بعد نماز عصر
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808403183120067&id=100018511772807
دعوت اسلامی کی وسعت وترقی دیکھ کر تمام بدمذہب فرقے بلبلا اٹھے ہیں۔دعوت اسلامی کے خلاف ہم نے مدرسہ دیوبند کا فتوی بھی دیکھا ہے اور غیر مقلدین کی معاندانہ تحریریں بھی۔خاص کر مدنی چینل کے ذریعہ مذہب ایل سنت کو کافی فروغ حاصل ہوا۔لوگ بدعقیدگی سے بھی محفوظ ہوئے اور انھیں اصلاح اعمال کا بھی موقع میسر آیا۔
جو لوگ جلسوں اور محفلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے,ان لوگوں نے مدنی چینل سے استفادہ کیا اور مذہب اہل سنت وجماعت سے وابستہ رہے۔جو بدمذہب ہو چکے تھے,یا بدمذہبیت کی جانب مائل تھے,وہ صحیح العقیدہ سنی بن گئے۔
دعوت اسلامی نے دنیا بھر میں وہابی فکر کی تبلیغ واشاعت کی روک تھام کے لئے قابل تحسین اقدام کیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اکیسویں صدی امام احمد رضا کی صدی ہو گی۔ممالک عالم میں فکر رضا کو فروغ وعروج حاصل ہو گا اور دنیا بھر میں عشق مصطفے علیہ التحیۃ والثنا کے ترانے گونجیں گے۔
دعوت وتبلیغ کے لئے ہمارے پاس تحریک دعوت اسلامی ہے۔مسائل شرعیہ کی تحقیق وتدقیق کے لئے برصغیر میں متعدد فقہی مجالس ہیں,مثلا شرعی کونسل(بریلی شریف),مجلس شرعی(مبارک پور),مجلس تحقیقات شرعیہ(دعوت اسلامی)-
ہمارے پاس بہت سی سنی خانقاہیں ہیں جو مسلک اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں مصروف ہیں,مثلا خانقاہ برکاتیہ(ماریرہ مطہرہ),خانقاہ اشرفیہ(کچھوچھہ مقدسہ),خانقاہ رضویہ(بریلی شریف)-تعلیم وتدریس کے لئے بہت سے ادارے ہیں,مثلا جامعہ منظر اسلام وجامعۃ الرضا(بریلی شریف)جامعہ اشرفیہ(مبارک پور),جامعہ رضویہ(لاہور)۔
بطور مثال چند خانقاہوں اور اداروں کا ذکر کیا گیا۔استیعاب کی گنجائش نہیں۔
فکر رضا سے وابستہ بے شمار علمائے اہل سنت ومشائخ طریقت ومفتیان شریعت عرب وعجم میں مختلف قسم کی دینی,ملی,اشاعتی,تحقیقی ودیگر خدمات میں مصروف عمل ہیں۔ہماری تمام خانقاہیں,ادارے,تنظیمیں اور علما ومشائخ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی تعلیمات پر مستحکم وقائم ہیں۔ان میں ربط باہم کی ضرورت ہے:لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:جون 2021
بروز: جمعہ مبارکہ۔بعد نماز عصر
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808403183120067&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*صدرالعلماء_ماہرعلوم_کثیرہ_حضرت_علامہ_مولانا_محمد_احمد_مصباحی_دام_ظلہ_العالی_کے_افکارِ_عالیہ۔*
*انسان جسم و روح کا مجموعہ ہے،جب کہا جاتا ہے فلاں آدمی مرگیا ،تو بتاؤ جسم و روح میں سے وہ کونسی چیز ہے جو مرگئ یا فنا ہوگئی؟ کیا روح مرجاتی ہے؟ ہرگز نہیں، اہل اسلام میں ہی نہیں ،بلکہ فلاسفہ کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ روح نہیں مرتی، پھر کیا جسم مرجاتا ہے؟ یہ بھی نہیں، اسے تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو ،ہاتھوں سے ٹٹولتے ہو، تمام اعضاء اپنی جگہ سلامت ہیں ،کوئ عضو فنا نہیں ہوا، پھر موت کیا ہے؟؟ میں کہتا ہوں موت جسم و روح کے اختلاف کا نام ہے۔ جب تک روح اور جسم کا اتصال و اتفاق تھا، آدمی زندہ تھا ،جب دونوں میں اختلاف اور جدائی ہوگئ، کہدیا انسان مرگیا۔*
*معلوم ہوا اتفاق زندگی ہے اور اختلاف موت ۔ایک جسم و روح کا اختلاف شخص کی موت ہے۔ ایک محلہ، ایک گاؤں، ایک شہر یا ایک ملک کا اختلاف، اس محلہ، گاوں، شہر یا ملک کی موت ہے۔*
(حافظ ملت نمبر،اشرفیہ، ص:184،185 از مولانا محمد احمد صاحب مصباحی بھیروی)
بشکریہ Saleemul Quadri Misbahi زید علمہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808218109805241&id=100018511772807
*انسان جسم و روح کا مجموعہ ہے،جب کہا جاتا ہے فلاں آدمی مرگیا ،تو بتاؤ جسم و روح میں سے وہ کونسی چیز ہے جو مرگئ یا فنا ہوگئی؟ کیا روح مرجاتی ہے؟ ہرگز نہیں، اہل اسلام میں ہی نہیں ،بلکہ فلاسفہ کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ روح نہیں مرتی، پھر کیا جسم مرجاتا ہے؟ یہ بھی نہیں، اسے تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو ،ہاتھوں سے ٹٹولتے ہو، تمام اعضاء اپنی جگہ سلامت ہیں ،کوئ عضو فنا نہیں ہوا، پھر موت کیا ہے؟؟ میں کہتا ہوں موت جسم و روح کے اختلاف کا نام ہے۔ جب تک روح اور جسم کا اتصال و اتفاق تھا، آدمی زندہ تھا ،جب دونوں میں اختلاف اور جدائی ہوگئ، کہدیا انسان مرگیا۔*
*معلوم ہوا اتفاق زندگی ہے اور اختلاف موت ۔ایک جسم و روح کا اختلاف شخص کی موت ہے۔ ایک محلہ، ایک گاؤں، ایک شہر یا ایک ملک کا اختلاف، اس محلہ، گاوں، شہر یا ملک کی موت ہے۔*
(حافظ ملت نمبر،اشرفیہ، ص:184،185 از مولانا محمد احمد صاحب مصباحی بھیروی)
بشکریہ Saleemul Quadri Misbahi زید علمہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808218109805241&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سراج الفقہا ء فقیہ اعظم مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی دام ظلہ کا عظیم الشان کارنامہ۔۔۔علم حدیث اور علم عقائد و کلام پر گراں قدر اضافہ ۔
احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف (دو جلدیں )
دو جلدوں پر مشتمل 255 آیات قرآنی اور 520 احادیث نبویہ کا بیش بہا ذخیرہ ،عام فہم تشریح اور دل نشیں استدلال کے ساتھ۔
سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی شیخ الحدیث و صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور اس کتاب کی تصنیف پر پوری جماعت اہل سنت کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ عزوجل سراج الفقہاء کا سایہ عاطفت اہل سنت و جماعت پر صحت و سلامتی کے ساتھ تادیر قائم فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کتاب کا تعارف جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے شیخ الادب مولانا نفیس احمد مصباحی صاحب قبلہ کے قلم سے چند ساعتوں بعد ملاحظہ فرمائیں.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808359953124390&id=100018511772807
احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف (دو جلدیں )
دو جلدوں پر مشتمل 255 آیات قرآنی اور 520 احادیث نبویہ کا بیش بہا ذخیرہ ،عام فہم تشریح اور دل نشیں استدلال کے ساتھ۔
سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی شیخ الحدیث و صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور اس کتاب کی تصنیف پر پوری جماعت اہل سنت کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ عزوجل سراج الفقہاء کا سایہ عاطفت اہل سنت و جماعت پر صحت و سلامتی کے ساتھ تادیر قائم فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کتاب کا تعارف جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے شیخ الادب مولانا نفیس احمد مصباحی صاحب قبلہ کے قلم سے چند ساعتوں بعد ملاحظہ فرمائیں.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=808359953124390&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
شریعت کا پاس دار
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
طلبہ نہایت ڈسپلن اور شائستگی کے ساتھ قطار در قطار کھڑے تھے۔موقع جشن جمہوریہ کا تھا۔ادارے کی روایت تھی کہ اس موقع پر حکومت غیر ملکی طلبہ سے اظہار اپنائیت اور بطور خیر سگالی اپنا ایک نمائندہ بھیجا کرتی تھی۔آج ایک بار پھر وہی موقع تھا۔طلبہ سجے سنورے کھڑے تھے۔ادارے کے معزز افراد کے ساتھ حکومت کا خاص نمائندہ بھی موجود تھا۔
ادارے کی روایت کے مطابق حکومت کا نمائندہ قطار میں کھڑے طلبہ سے ہاتھ ملاتا اور یوم جمہوریہ کی مبارکباد دیتا۔دستور آج بھی وہی تھا مگر اس بار نمائندہ بدل چکا تھا۔اب تک جتنے بھی نمائندے آئے وہ سب مرد تھے مگر اس بار خلاف معمول ایک خاتون بطور نمائندہ حاضر تھی۔دستور کے مطابق خاتون اہلکار نے طلبہ سے ہاتھ ملا کر مبارکباد دینا شروع کیا۔یہ منظر دیکھ کر قطار میں موجود ایک طالب علم کے چہرے پر پریشانی کے آثار نظر آنے لگے۔جیسے جیسے خاتون اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہورہا تھا نوجوان طالب علم کی پریشانی میں اضافہ ہورہا تھا۔ظاہری کیفیت دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ نوجوان کے دل ودماغ میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔اندرونی کیفیت کا اثر چہرے پر صاف نمایاں تھا۔ایک طرف ادارے کی روایت پیش نظر تھی تو دوسری جانب شریعت کی پاس داری کا خیال آ رہا تھا۔اسی کش مکش میں فاصلہ سمٹتا گیا۔جیسے جیسے فاصلہ سمٹا نوجوان کے چہرے کی بے چینی اور اضطراب عزم ویقین میں بدل گیا۔خاتون قریب آئی اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔نوجوان نے نہایت شرافت و متانت کے ساتھ خود کو لائن سے الگ کر لیا۔خاتون اہلکار کو حیرت کا جھٹکا لگا۔خیر مقدم اور اظہار اپنائیت کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا بین الاقوامی روایت سی بن گیا ہے۔خود اس ادارے کا قدیم دستور بھی یہی تھا مگر آج خلاف دستور ایک نوجوان نے عورت سے ہاتھ ملانے کی بجائے خود کو لائن سے الگ کرلیا تھا۔خاتون نے نگاہ اٹھا کر اس جوان کو دیکھا، بیس اکیس سال کا خوب رو جوان متانت وسنجیدگی کے ساتھ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ۔(النور: 30) کی عملی تفسیر بن کر ایک طرف کھڑا تھا۔جھکی ہوئی نگاہیں اس کی شرافت اور خاندانی تربیت کا پتہ دے رہی تھیں۔خاتون نے ایک نگاہ دوسرے طلبہ اور ایک نگاہ اس باحیا جوان پر ڈالی۔متواضع مگر پر وقار انداز میں کھڑا وہ نوجوان کسی اور ہی جہان کا لگ رہا تھا۔چہرے پر برستا نور اور عالمانہ وقار دیکھ کر خاتون اہلکار نے اندازہ لگا لیا کہ نوجوان کسی منصوبے یا توہین کی نیت سے نہیں بلکہ پاس داری شریعت کے تحت اجنبیہ عورت سے مصافحہ نہیں کرنا چاہتا۔ڈپلومیٹک خاتون تھی چہرے کی حرکات وسکنات سے دلی کیفیات کو جاننے کا ہنر رکھتی تھی اس لیے فوراً ہی سارا ماجرا سمجھ گئی مگر اس بات پر سخت حیران تھی کہ ابھرتی ہوئی جوانی اور آج کے مخلوط ماحول میں کوئی انسان شرعی احکام کا اس قدر بھی پابند ہوسکتا ہے؟
خاتون نے اس نوجوان کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھا اور دوسرے طلبہ کو مبارکباد دینے کے لیے آگے بڑھ گئی مگر اس نوجوان کی شرافت اور دینی غیرت دل ودماغ پر نقش ہوچکی تھی۔یہ واقعہ عالم اسلام کی سب سے قدیم یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر میں پیش آیا تھا۔
آپ جانتے ہیں کہ شریعت کی پاس داری میں حکومتی اہلکار سے مصافحہ نہ کرنے والا غیرت مند نوجوان کون تھا؟
یہ غیرت مند جوان امام احمد رضا کا عکس جمیل ، حجۃ الاسلام کے پوتے ، مفتی اعظم کی امانت ، پیکر تقویٰ، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے۔
جنہوں نے شریعت کی پاس داری اور اپنے جد اعلی، امام احمد رضا کی خاندانی شرافت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا:
اہل دول ہوں سامنے یا صاحبان تاج
اہل شرع کو پاس شریعت عزیز ہے
___ اسی قطار میں آپ سے ٹھیک پہلے آپ کے عزیز دوست علامہ شمیم ازہری علیہ الرحمہ بھی کھڑے تھے۔مگر آپ دیگر طلبہ کی دیکھم دیکھ ادارے کی روایت سے بغاوت نہ کر سکے اور خاتون اہلکار سے ہاتھ ملا بیٹھے۔
بس پھر کیا تھا؟
اسی غیر شرعی عمل کی بنیاد پر تاج الشریعہ نے اپنے چہیتے دوست سے ترک تعلق کر لیا۔ایک ایسا دوست جس کے بغیر ایک لمحہ چین نہیں پڑتا تھا مگر پاس شریعت کی خاطر اپنے جگری یار سے بول چال تک بند کردی اور
"الحب في الله والبغض في الله"
(صحيح الجامع 2539)
کی عملی تفسیر بن کر کمال ایمان کا مظاہرہ کیا۔
کہتے ہیں جس سے جتنی محبت ہوتی ہے اس کی ناراضگی بھی اتنی ہی زیادہ گراں گزرتی ہے۔یہی حال علامہ شمیم ازہری کا تھا۔کئی دن گزر گئے مگر تاج الشریعہ کی بے رخی برقرار تھی۔جب دوست کو منانے کی ہر ترکیب ناکام ہوگئی تو جگری دوست کا پیمانہ صبر چھلک پڑا۔درد حد سے بڑھا تو آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس پڑیں۔برستی آنکھوں کے ساتھ اپنے جان سے پیارے دوست کو آواز لگائی:
جان برادر!
للہ!
مجھ سے ناراض نہ ہوں۔آپ کی رفاقت اور دوستی میرے لیے عزت وشرف کی بات ہے۔
آپ یوں ہی ناراض رہے تو میرے درد کا درماں کون بنے گا؟
تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
طلبہ نہایت ڈسپلن اور شائستگی کے ساتھ قطار در قطار کھڑے تھے۔موقع جشن جمہوریہ کا تھا۔ادارے کی روایت تھی کہ اس موقع پر حکومت غیر ملکی طلبہ سے اظہار اپنائیت اور بطور خیر سگالی اپنا ایک نمائندہ بھیجا کرتی تھی۔آج ایک بار پھر وہی موقع تھا۔طلبہ سجے سنورے کھڑے تھے۔ادارے کے معزز افراد کے ساتھ حکومت کا خاص نمائندہ بھی موجود تھا۔
ادارے کی روایت کے مطابق حکومت کا نمائندہ قطار میں کھڑے طلبہ سے ہاتھ ملاتا اور یوم جمہوریہ کی مبارکباد دیتا۔دستور آج بھی وہی تھا مگر اس بار نمائندہ بدل چکا تھا۔اب تک جتنے بھی نمائندے آئے وہ سب مرد تھے مگر اس بار خلاف معمول ایک خاتون بطور نمائندہ حاضر تھی۔دستور کے مطابق خاتون اہلکار نے طلبہ سے ہاتھ ملا کر مبارکباد دینا شروع کیا۔یہ منظر دیکھ کر قطار میں موجود ایک طالب علم کے چہرے پر پریشانی کے آثار نظر آنے لگے۔جیسے جیسے خاتون اور اس کے درمیان فاصلہ کم ہورہا تھا نوجوان طالب علم کی پریشانی میں اضافہ ہورہا تھا۔ظاہری کیفیت دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ نوجوان کے دل ودماغ میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔اندرونی کیفیت کا اثر چہرے پر صاف نمایاں تھا۔ایک طرف ادارے کی روایت پیش نظر تھی تو دوسری جانب شریعت کی پاس داری کا خیال آ رہا تھا۔اسی کش مکش میں فاصلہ سمٹتا گیا۔جیسے جیسے فاصلہ سمٹا نوجوان کے چہرے کی بے چینی اور اضطراب عزم ویقین میں بدل گیا۔خاتون قریب آئی اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔نوجوان نے نہایت شرافت و متانت کے ساتھ خود کو لائن سے الگ کر لیا۔خاتون اہلکار کو حیرت کا جھٹکا لگا۔خیر مقدم اور اظہار اپنائیت کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا بین الاقوامی روایت سی بن گیا ہے۔خود اس ادارے کا قدیم دستور بھی یہی تھا مگر آج خلاف دستور ایک نوجوان نے عورت سے ہاتھ ملانے کی بجائے خود کو لائن سے الگ کرلیا تھا۔خاتون نے نگاہ اٹھا کر اس جوان کو دیکھا، بیس اکیس سال کا خوب رو جوان متانت وسنجیدگی کے ساتھ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ۔(النور: 30) کی عملی تفسیر بن کر ایک طرف کھڑا تھا۔جھکی ہوئی نگاہیں اس کی شرافت اور خاندانی تربیت کا پتہ دے رہی تھیں۔خاتون نے ایک نگاہ دوسرے طلبہ اور ایک نگاہ اس باحیا جوان پر ڈالی۔متواضع مگر پر وقار انداز میں کھڑا وہ نوجوان کسی اور ہی جہان کا لگ رہا تھا۔چہرے پر برستا نور اور عالمانہ وقار دیکھ کر خاتون اہلکار نے اندازہ لگا لیا کہ نوجوان کسی منصوبے یا توہین کی نیت سے نہیں بلکہ پاس داری شریعت کے تحت اجنبیہ عورت سے مصافحہ نہیں کرنا چاہتا۔ڈپلومیٹک خاتون تھی چہرے کی حرکات وسکنات سے دلی کیفیات کو جاننے کا ہنر رکھتی تھی اس لیے فوراً ہی سارا ماجرا سمجھ گئی مگر اس بات پر سخت حیران تھی کہ ابھرتی ہوئی جوانی اور آج کے مخلوط ماحول میں کوئی انسان شرعی احکام کا اس قدر بھی پابند ہوسکتا ہے؟
خاتون نے اس نوجوان کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھا اور دوسرے طلبہ کو مبارکباد دینے کے لیے آگے بڑھ گئی مگر اس نوجوان کی شرافت اور دینی غیرت دل ودماغ پر نقش ہوچکی تھی۔یہ واقعہ عالم اسلام کی سب سے قدیم یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر میں پیش آیا تھا۔
آپ جانتے ہیں کہ شریعت کی پاس داری میں حکومتی اہلکار سے مصافحہ نہ کرنے والا غیرت مند نوجوان کون تھا؟
یہ غیرت مند جوان امام احمد رضا کا عکس جمیل ، حجۃ الاسلام کے پوتے ، مفتی اعظم کی امانت ، پیکر تقویٰ، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے۔
جنہوں نے شریعت کی پاس داری اور اپنے جد اعلی، امام احمد رضا کی خاندانی شرافت کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کردیا:
اہل دول ہوں سامنے یا صاحبان تاج
اہل شرع کو پاس شریعت عزیز ہے
___ اسی قطار میں آپ سے ٹھیک پہلے آپ کے عزیز دوست علامہ شمیم ازہری علیہ الرحمہ بھی کھڑے تھے۔مگر آپ دیگر طلبہ کی دیکھم دیکھ ادارے کی روایت سے بغاوت نہ کر سکے اور خاتون اہلکار سے ہاتھ ملا بیٹھے۔
بس پھر کیا تھا؟
اسی غیر شرعی عمل کی بنیاد پر تاج الشریعہ نے اپنے چہیتے دوست سے ترک تعلق کر لیا۔ایک ایسا دوست جس کے بغیر ایک لمحہ چین نہیں پڑتا تھا مگر پاس شریعت کی خاطر اپنے جگری یار سے بول چال تک بند کردی اور
"الحب في الله والبغض في الله"
(صحيح الجامع 2539)
کی عملی تفسیر بن کر کمال ایمان کا مظاہرہ کیا۔
کہتے ہیں جس سے جتنی محبت ہوتی ہے اس کی ناراضگی بھی اتنی ہی زیادہ گراں گزرتی ہے۔یہی حال علامہ شمیم ازہری کا تھا۔کئی دن گزر گئے مگر تاج الشریعہ کی بے رخی برقرار تھی۔جب دوست کو منانے کی ہر ترکیب ناکام ہوگئی تو جگری دوست کا پیمانہ صبر چھلک پڑا۔درد حد سے بڑھا تو آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برس پڑیں۔برستی آنکھوں کے ساتھ اپنے جان سے پیارے دوست کو آواز لگائی:
جان برادر!
للہ!
مجھ سے ناراض نہ ہوں۔آپ کی رفاقت اور دوستی میرے لیے عزت وشرف کی بات ہے۔
آپ یوں ہی ناراض رہے تو میرے درد کا درماں کون بنے گا؟
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
آپ روٹھے رہے تو زمانے بھر کی رعنائیاں میرے لیے سناٹا بن جائیں گی۔
درد سے بھری ہوئی آواز اور اشک بار آنکھیں دیکھ کر تاج الشریعہ کا بھی دل بھر آیا:
دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے
بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا
آنسوؤں کا ظاہری تعلق بھلے ہی آنکھوں سے ہوتا ہے مگر ان کا اصل رشتہ دل سے ہوتا ہے۔دل پر چوٹ لگتی ہے تو آنکھ خود بخود اشک بار ہوجاتی ہے۔یہ آنسو بھی بڑے کمال کے ہوتے ہیں۔کبھی کبھی جو کام ہزاروں الفاظ نہیں کر پاتے، آنکھ سے بہنے والا ایک آنسو کردیا کرتا ہے۔آپ نے علامہ شمیم ازہری کے شانہ پر اپنائیت کے ساتھ ہاتھ رکھا اور کہا:
شمیم صاحب!
میں آپ سے اپنی ذات کے لیے ناراض نہیں تھا۔میری ناراضگی اللہ ورسول کے لیے تھی۔آپ نے اس خاتون سے ہاتھ ملا کر غیر شرعی کام کیا۔کیوں کہ وہ آپ کی محرم نہیں تھی۔دوست ہونے کے ناطے میں آپ کے لیے بھی وہی بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔
سوکھے دھانوں پر جیسے بارش برس گئی۔تاج شریعت کا ایک ایک لفظ شبنم کی طرح روح کو ٹھنڈا کرتا چلا گیا۔دل سے تائب ہوئے اور آئندہ غیر شرعی کاموں سے مکمل پرہیز کا وعدہ کیا۔
ایسے تھے تاج الشریعہ!
جو جوانی میں ہی بزرگی کے منصب پر فائز تھے۔
جو پاس داری شریعت میں اعلی حضرت کا عکس جمیل تھے۔
جن کی دینی غیرت حجۃ الاسلام کی یاد دلاتی تھی۔
جو مفتی اعظم کے داعیانہ اوصاف کے سچے امین تھے۔
جنہوں نے ہمیشہ شریعت کی پاس داری کی۔جو نفاذ شریعت میں کسی کو خاطر میں نہیں لائے۔جنہوں نے بلا خوف لومۃ لائم نعرہ حق بلند کیا۔اسی کا انعام یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اتنا بلند کردیا کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کی عظمت کے قصیدے پڑھتے ہیں۔
بارش فضل خدا تجھ پہ سدا ہوتی رہے
حشر تک جاری رہے فیض کا دریا تیرا
(ماخوذ تاج الشریعہ کی تقوی شعار زندگی، مشمولہ یادگار تاج الشریعہ نمبر، سواد اعظم دہلی مجریہ جولائی 2019)
7 ذوالقعدہ 1442ھ
18 جون 2021 بروز جمعہ
درد سے بھری ہوئی آواز اور اشک بار آنکھیں دیکھ کر تاج الشریعہ کا بھی دل بھر آیا:
دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے
بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا
آنسوؤں کا ظاہری تعلق بھلے ہی آنکھوں سے ہوتا ہے مگر ان کا اصل رشتہ دل سے ہوتا ہے۔دل پر چوٹ لگتی ہے تو آنکھ خود بخود اشک بار ہوجاتی ہے۔یہ آنسو بھی بڑے کمال کے ہوتے ہیں۔کبھی کبھی جو کام ہزاروں الفاظ نہیں کر پاتے، آنکھ سے بہنے والا ایک آنسو کردیا کرتا ہے۔آپ نے علامہ شمیم ازہری کے شانہ پر اپنائیت کے ساتھ ہاتھ رکھا اور کہا:
شمیم صاحب!
میں آپ سے اپنی ذات کے لیے ناراض نہیں تھا۔میری ناراضگی اللہ ورسول کے لیے تھی۔آپ نے اس خاتون سے ہاتھ ملا کر غیر شرعی کام کیا۔کیوں کہ وہ آپ کی محرم نہیں تھی۔دوست ہونے کے ناطے میں آپ کے لیے بھی وہی بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔
سوکھے دھانوں پر جیسے بارش برس گئی۔تاج شریعت کا ایک ایک لفظ شبنم کی طرح روح کو ٹھنڈا کرتا چلا گیا۔دل سے تائب ہوئے اور آئندہ غیر شرعی کاموں سے مکمل پرہیز کا وعدہ کیا۔
ایسے تھے تاج الشریعہ!
جو جوانی میں ہی بزرگی کے منصب پر فائز تھے۔
جو پاس داری شریعت میں اعلی حضرت کا عکس جمیل تھے۔
جن کی دینی غیرت حجۃ الاسلام کی یاد دلاتی تھی۔
جو مفتی اعظم کے داعیانہ اوصاف کے سچے امین تھے۔
جنہوں نے ہمیشہ شریعت کی پاس داری کی۔جو نفاذ شریعت میں کسی کو خاطر میں نہیں لائے۔جنہوں نے بلا خوف لومۃ لائم نعرہ حق بلند کیا۔اسی کا انعام یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اتنا بلند کردیا کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کی عظمت کے قصیدے پڑھتے ہیں۔
بارش فضل خدا تجھ پہ سدا ہوتی رہے
حشر تک جاری رہے فیض کا دریا تیرا
(ماخوذ تاج الشریعہ کی تقوی شعار زندگی، مشمولہ یادگار تاج الشریعہ نمبر، سواد اعظم دہلی مجریہ جولائی 2019)
7 ذوالقعدہ 1442ھ
18 جون 2021 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نیچے دی گئی تصویر میں ایک دوست کی ٹانگ نہیں ، تو اس کے دوست بھی اپنی ایک ٹانگ باندھ کر اسے بتا رہے ہیں کہ:
بھائی ! احساس کم تری کاشکار نہیں ہوتے ، ایکٹانگ سے بھی تو کھیلا جاسکتا ہے ، جیسے ہم کھیل رہے ہیں ۔
🌸 اپنوں کو ہمیشہ حوصلہ دیتے ہیں ، ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی کمزوریاں دور کرتے ہیں ، ان کا چرچا نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی آزمائشوں پر پریشان ہونے کے بجائے ، انھیں آزمائشوں سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
آخر ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ، اپنے ہوتے ہیں ؛ انھیں اُسی طرح اپنا سمجھتے ہیں ، جیسے اپنے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
✍️ لقمان شاہد
17-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3186861824927318&id=100008105947430
بھائی ! احساس کم تری کاشکار نہیں ہوتے ، ایکٹانگ سے بھی تو کھیلا جاسکتا ہے ، جیسے ہم کھیل رہے ہیں ۔
🌸 اپنوں کو ہمیشہ حوصلہ دیتے ہیں ، ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی کمزوریاں دور کرتے ہیں ، ان کا چرچا نہیں کرتے ۔
🌸 اپنوں کی آزمائشوں پر پریشان ہونے کے بجائے ، انھیں آزمائشوں سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
آخر ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ، اپنے ہوتے ہیں ؛ انھیں اُسی طرح اپنا سمجھتے ہیں ، جیسے اپنے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
✍️ لقمان شاہد
17-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3186861824927318&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میں پاگل ہو جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔ میری شکل دیکھو میں بھکارن بن گئی ہوں ، تھک گئی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس بیٹھ کر بولا:
تُو ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے کبھی تو پیار سے بات کر لیا کر میرے ساتھ ۔
میں نے اسے سائیڈ پہ دھکا دیا ، وہ خاموش ہو گیا ۔
میں تھک ہار گئی تھی ، اب سوچ رہی تھی بس اس سے طلاق لے لوں گی ، اپنے ایک دو کزن سے بھی بات کی تھی جو وکیل تھے ، انھوں نے تسلی دی کہ ہم ساتھ ہیں آپ کے طلاق لے لو اس کمینے سے ۔ میں سوچ رہی تھی آج گھر آئے گا تو بس اس کو بول دوں گی طلاق دے دو مجھے ۔
میں انتظار کر رہی تھی ، وہ رات 10 بجے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے سو رہے تھے ، دونوں بچوں کے ماتھوں پر اس نے بوسہ دیا ، ان کے ہاتھ چومے ، پھر چارپائی پہ بیٹھ کر مجھے آواز دی:
شہناز مجھے روٹی دے !
میں کروٹ بدلے لیٹی رہی ، اس نے پھر آواز دی ، شہناز ! سن لے ، اٹھ جا۔۔۔۔
میں چپ رہی ، وہ پاس آیا مجھے دیکھا ، میں نے آنکھیں بند کر لیں ؛ مجھ پہ کمبل اوڑھا کر بولا: تھک جاتی ہے سارا دن ۔۔۔۔۔۔۔ پھر کچن میں گیا ، کھانا دیکھنے لگا ، کچھ بھی نہیں تھا کھانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیالی میں نمک مرچ ڈال کر اس میں تھوڑا پانی ملا کر سوکھی روٹی کھانے لگا ، میں دیکھ رہی تھی ، میں دل میں سوچنے لگی: یہ مرتا بھی نہیں ہے ، وہ کھانا کھا کر سو گیا ۔
دوسرے دن صبح صبح ہم کسی بات پہ جھگڑنے لگے ، میں نے اسے کہا:
بس مجھے طلاق دے دو میں اب برداشت نہیں کر سکتی ، میں تھک گئی ہوں ، غصے میں مَیں نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے ؛ وہ طلاق کا نام سنتے ہی چپ ہو گیا ، جلدی سے کپڑے چینج کرنے لگا ، پھر بائیک لی اور باہر جانے لگا ۔
میں نے چلا کر کہا:
اللہ کرے تو مر جائے ، میری جان تو چھوٹ جائے تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرے میں گیا ، کسی کاپی پہ کچھ لکھا ، چلا گیا ۔
میں گالیاں دے رہی تھی ، رو رو کر تھک گئی تھی ، اسے بدعا دے رہی تھی ، میں نے ارادہ کر لیا تھا بس اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہنا ۔
دو چار گھنٹے گزرے ، اور میں میکے جانے لگی ، بچوں کو ساتھ لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں گلی میں ایک شور سا برپا ہوا ، میں رو رہی تھی ، ہمارے دروازے پہ دستک ہوئی ، میں نے دروازہ کھولا ، پورا گاؤں چارپائی اٹھائے میرے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ، میں حیران تھی کیا ہوا ۔۔۔؟
اتنے میں ایک لڑکا فون پہ بات کر رہا تھا ، یار اکبر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر گیا ہے ۔
یہ سنتے ہی جیسے مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ، میں ساکت ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ چارپائی صحن میں رکھی گئی ، سب لوگ قبر کھودنے کی بات کرنے لگے ، کچھ جنازے کا ٹائم دیکھنے لگے ، مسجد میں اعلان ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر میرے سامنے چارپائی پہ لیٹا ہوا تھا ، کون یقین کرے وہ مر چکا ہے ؛ میں چیخنے چلانے لگی:
اکبر اٹھ جا ، میں نہیں کچھ مانگتی ، مجھے کچھ نہیں چاہیے ، میں طلاق کی بات بھی نہیں کرتی 😢
میں اس کے پاؤں چومنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر اٹھ جا میری جان اٹھ جا ، دیکھ ، دیکھ میں کہیں نہیں جا رہی ، مجھے تیرے ساتھ ہی رہنا ہے ؛ میں بھوکی پیاسی رہ لوں گی ، مجھے یوں چھوڑ کر نہ جا ۔۔۔۔۔۔ میں کھانا بنا کر لاتی ہوں ، بھوک لگی ہے نا تم کو ۔۔۔؟؟
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ، اب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چیختی چلاتی رہی لیکن وہ منوں مٹی تلے جا سویا ۔
اس کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے رنگ نظر آنے لگے ، مجھے رشتے بدلتے دکھائی دینے لگے ، پھر جو اپنے تھے وہ سب منہ موڑنے لگے ، مجھ پہ دنیا نظریں کسنے لگی ، بچے بابا ڈھونڈنے لگے ، اب کون ان کا نیند میں آ کر ماتھا چومے گا؟؟
کون مجھے آواز دے گا ، کون میرے تلخ لہجے برداشت کرے گا۔۔۔؟
مجھ سے مکان چھین لیا گیا ، جو حصہ بنتا تھا وہ بھی نہ دیا ، میں اکبر کے بعد در بدر ٹھوکریں کھانے لگی ۔
اب بچے بھی کچھ فرمائش نہیں کرتے ، وہ جانتے ہیں بابا اب نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سگے بھائی بھی منھ موڑ گئے ، میں لوگوں کے گھروں میں نوکرانی بن کے کام کرنے لگی ۔
ایک دن مجھے اس کی ڈائری ملی ، جس پہ لکھا تھا:
شہناز سے شادی کر کے بہت خوش ہوں ، شہناز سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔
وہ پاگل ہے بلکل سمجھتی ہی نہیں جھگڑتی رہتی ہے ، دیکھو آج اس نے مجھے کھانا نہیں دیا ۔
وہ کہتی ہے: مہنگا موبائل لا کر دو ، اسے کیسے بتاؤں نہیں لا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
آج میرے بچوں کو میرے بھائی نے گالی دی ، میں بہت رویا ہوں میرے بچے میری جان ہیں ۔۔۔
شہناز کو بخار ہے وہ بیچاری میرے لیے کیا کچھ برداشت کر رہی ہے ، اللہ نے چاہاتو ہمارے حالات بدل جائیں گے ، پھر شہناز کو دنیا کی ہر خوشی دوں گا ؛ اب وہ مجھے کھانا نہیں دیتی ، میں جانتا ہوں ناراض ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے نمک مرچ کےساتھ سوکھی روٹی کھائی ہے ، آج میری کمر میں اینٹ لگی ہے ، زخم بہت گہرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ شہناز کو نہیں بتاؤں گا وہ پریشان ہو جائے گی بیچاری ۔
میرے پاس بیٹھ کر بولا:
تُو ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے کبھی تو پیار سے بات کر لیا کر میرے ساتھ ۔
میں نے اسے سائیڈ پہ دھکا دیا ، وہ خاموش ہو گیا ۔
میں تھک ہار گئی تھی ، اب سوچ رہی تھی بس اس سے طلاق لے لوں گی ، اپنے ایک دو کزن سے بھی بات کی تھی جو وکیل تھے ، انھوں نے تسلی دی کہ ہم ساتھ ہیں آپ کے طلاق لے لو اس کمینے سے ۔ میں سوچ رہی تھی آج گھر آئے گا تو بس اس کو بول دوں گی طلاق دے دو مجھے ۔
میں انتظار کر رہی تھی ، وہ رات 10 بجے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بچے سو رہے تھے ، دونوں بچوں کے ماتھوں پر اس نے بوسہ دیا ، ان کے ہاتھ چومے ، پھر چارپائی پہ بیٹھ کر مجھے آواز دی:
شہناز مجھے روٹی دے !
میں کروٹ بدلے لیٹی رہی ، اس نے پھر آواز دی ، شہناز ! سن لے ، اٹھ جا۔۔۔۔
میں چپ رہی ، وہ پاس آیا مجھے دیکھا ، میں نے آنکھیں بند کر لیں ؛ مجھ پہ کمبل اوڑھا کر بولا: تھک جاتی ہے سارا دن ۔۔۔۔۔۔۔ پھر کچن میں گیا ، کھانا دیکھنے لگا ، کچھ بھی نہیں تھا کھانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیالی میں نمک مرچ ڈال کر اس میں تھوڑا پانی ملا کر سوکھی روٹی کھانے لگا ، میں دیکھ رہی تھی ، میں دل میں سوچنے لگی: یہ مرتا بھی نہیں ہے ، وہ کھانا کھا کر سو گیا ۔
دوسرے دن صبح صبح ہم کسی بات پہ جھگڑنے لگے ، میں نے اسے کہا:
بس مجھے طلاق دے دو میں اب برداشت نہیں کر سکتی ، میں تھک گئی ہوں ، غصے میں مَیں نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے ؛ وہ طلاق کا نام سنتے ہی چپ ہو گیا ، جلدی سے کپڑے چینج کرنے لگا ، پھر بائیک لی اور باہر جانے لگا ۔
میں نے چلا کر کہا:
اللہ کرے تو مر جائے ، میری جان تو چھوٹ جائے تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرے میں گیا ، کسی کاپی پہ کچھ لکھا ، چلا گیا ۔
میں گالیاں دے رہی تھی ، رو رو کر تھک گئی تھی ، اسے بدعا دے رہی تھی ، میں نے ارادہ کر لیا تھا بس اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہنا ۔
دو چار گھنٹے گزرے ، اور میں میکے جانے لگی ، بچوں کو ساتھ لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں گلی میں ایک شور سا برپا ہوا ، میں رو رہی تھی ، ہمارے دروازے پہ دستک ہوئی ، میں نے دروازہ کھولا ، پورا گاؤں چارپائی اٹھائے میرے دروازے کے سامنے کھڑا تھا ، میں حیران تھی کیا ہوا ۔۔۔؟
اتنے میں ایک لڑکا فون پہ بات کر رہا تھا ، یار اکبر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر گیا ہے ۔
یہ سنتے ہی جیسے مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ، میں ساکت ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔ چارپائی صحن میں رکھی گئی ، سب لوگ قبر کھودنے کی بات کرنے لگے ، کچھ جنازے کا ٹائم دیکھنے لگے ، مسجد میں اعلان ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر میرے سامنے چارپائی پہ لیٹا ہوا تھا ، کون یقین کرے وہ مر چکا ہے ؛ میں چیخنے چلانے لگی:
اکبر اٹھ جا ، میں نہیں کچھ مانگتی ، مجھے کچھ نہیں چاہیے ، میں طلاق کی بات بھی نہیں کرتی 😢
میں اس کے پاؤں چومنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ اکبر اٹھ جا میری جان اٹھ جا ، دیکھ ، دیکھ میں کہیں نہیں جا رہی ، مجھے تیرے ساتھ ہی رہنا ہے ؛ میں بھوکی پیاسی رہ لوں گی ، مجھے یوں چھوڑ کر نہ جا ۔۔۔۔۔۔ میں کھانا بنا کر لاتی ہوں ، بھوک لگی ہے نا تم کو ۔۔۔؟؟
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ، اب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چیختی چلاتی رہی لیکن وہ منوں مٹی تلے جا سویا ۔
اس کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے رنگ نظر آنے لگے ، مجھے رشتے بدلتے دکھائی دینے لگے ، پھر جو اپنے تھے وہ سب منہ موڑنے لگے ، مجھ پہ دنیا نظریں کسنے لگی ، بچے بابا ڈھونڈنے لگے ، اب کون ان کا نیند میں آ کر ماتھا چومے گا؟؟
کون مجھے آواز دے گا ، کون میرے تلخ لہجے برداشت کرے گا۔۔۔؟
مجھ سے مکان چھین لیا گیا ، جو حصہ بنتا تھا وہ بھی نہ دیا ، میں اکبر کے بعد در بدر ٹھوکریں کھانے لگی ۔
اب بچے بھی کچھ فرمائش نہیں کرتے ، وہ جانتے ہیں بابا اب نہیں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سگے بھائی بھی منھ موڑ گئے ، میں لوگوں کے گھروں میں نوکرانی بن کے کام کرنے لگی ۔
ایک دن مجھے اس کی ڈائری ملی ، جس پہ لکھا تھا:
شہناز سے شادی کر کے بہت خوش ہوں ، شہناز سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔
وہ پاگل ہے بلکل سمجھتی ہی نہیں جھگڑتی رہتی ہے ، دیکھو آج اس نے مجھے کھانا نہیں دیا ۔
وہ کہتی ہے: مہنگا موبائل لا کر دو ، اسے کیسے بتاؤں نہیں لا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
آج میرے بچوں کو میرے بھائی نے گالی دی ، میں بہت رویا ہوں میرے بچے میری جان ہیں ۔۔۔
شہناز کو بخار ہے وہ بیچاری میرے لیے کیا کچھ برداشت کر رہی ہے ، اللہ نے چاہاتو ہمارے حالات بدل جائیں گے ، پھر شہناز کو دنیا کی ہر خوشی دوں گا ؛ اب وہ مجھے کھانا نہیں دیتی ، میں جانتا ہوں ناراض ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے نمک مرچ کےساتھ سوکھی روٹی کھائی ہے ، آج میری کمر میں اینٹ لگی ہے ، زخم بہت گہرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ شہناز کو نہیں بتاؤں گا وہ پریشان ہو جائے گی بیچاری ۔
ڈاکٹر کہہ رہاتھا 15 ٹانکے لگنے ہیں ، آج مجھے چوٹ لگی ہے ، کہہ رہی ہے طلاق دے دو ، میں مر جاؤں گا اس کے بنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی غصے میں ہے ٹھیک ہو جائے گی ۔ میں ڈائری کو سینے لگا کر چیخ چیخ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔😢😥😢
ہمسفر تو ہمسفر ہوتا ہے نا ، وہ جیسا بھی تھا میرا سایہ تھا ، میری ڈھال تھا ، اس کے بعد زمانے کی ٹھوکریں کھا کر سمجھی ہوں اس کے ساتھ میرے دونوں جہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھک ہار کر گھر آتی ہوں ، اب ٹوٹ گئی ہوں ، میں بچوں کی خاطر زندہ ہوں بس ؛ ورنہ کب کی ختم ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔
میں خود کو اذیت دیتی ہوں ، کیوں جھگڑتی تھی اس کے ساتھ ، کیوں اس کو ستاتی تھی ، کیوں میں لوگوں کو دیکھ کر بڑے خواب دیکھتی تھی ، وہ میرے ساتھ ہوتا تو کیسی زندگی گزار رہی ہوتی ۔
کیا میں بخشی جاؤں گی ۔۔۔؟؟
اللہ مجھے معاف کرے گا ۔۔۔۔ ؟
میں مشکل وقت میں اس کا سہارا ، اس کی ہمت نہ بن سکی ؛ میں مطلب پرست لالچی ہو گئی تھی ، اب تو اکثر لوگ میری مدد کرتے ہوئے میرے جسم کی بات بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
سب عورتوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں کہ پیسہ ہمسفر کے سامنے خاک بھی نہیں ہے ، لالچ اور بڑے بڑے خواب کی تمنا میں لوگوں کی نوکرانی نہ بن جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شوہر اگر ایک وقت کی روٹی بھی کھلائے تو مسکرا کر سینے سے لگ جانا ، خدا کی قسم زمانے کی لاکھ تلخیوں کو وہ تمھاری خاطر اپنے سینے پہ برداشت کرتا ہے ، پلیز اگر کوئی بہن اپنے شوہر سے بیزار ہے تو وہ سمجھ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ آنسو اس کا مقدر بن جائیں ۔ ۔ ۔😥
( مرحوم اکبر کی ....... مجبور شہناز )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3188907364722764&id=100008105947430
ہمسفر تو ہمسفر ہوتا ہے نا ، وہ جیسا بھی تھا میرا سایہ تھا ، میری ڈھال تھا ، اس کے بعد زمانے کی ٹھوکریں کھا کر سمجھی ہوں اس کے ساتھ میرے دونوں جہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھک ہار کر گھر آتی ہوں ، اب ٹوٹ گئی ہوں ، میں بچوں کی خاطر زندہ ہوں بس ؛ ورنہ کب کی ختم ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔
میں خود کو اذیت دیتی ہوں ، کیوں جھگڑتی تھی اس کے ساتھ ، کیوں اس کو ستاتی تھی ، کیوں میں لوگوں کو دیکھ کر بڑے خواب دیکھتی تھی ، وہ میرے ساتھ ہوتا تو کیسی زندگی گزار رہی ہوتی ۔
کیا میں بخشی جاؤں گی ۔۔۔؟؟
اللہ مجھے معاف کرے گا ۔۔۔۔ ؟
میں مشکل وقت میں اس کا سہارا ، اس کی ہمت نہ بن سکی ؛ میں مطلب پرست لالچی ہو گئی تھی ، اب تو اکثر لوگ میری مدد کرتے ہوئے میرے جسم کی بات بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
سب عورتوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں کہ پیسہ ہمسفر کے سامنے خاک بھی نہیں ہے ، لالچ اور بڑے بڑے خواب کی تمنا میں لوگوں کی نوکرانی نہ بن جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شوہر اگر ایک وقت کی روٹی بھی کھلائے تو مسکرا کر سینے سے لگ جانا ، خدا کی قسم زمانے کی لاکھ تلخیوں کو وہ تمھاری خاطر اپنے سینے پہ برداشت کرتا ہے ، پلیز اگر کوئی بہن اپنے شوہر سے بیزار ہے تو وہ سمجھ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ آنسو اس کا مقدر بن جائیں ۔ ۔ ۔😥
( مرحوم اکبر کی ....... مجبور شہناز )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3188907364722764&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM