Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
تجارت اور ہمارا معاشرہ
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
بعض پیشوں کو گھٹیا
اور
باعث عار سمجھنا
صرف اس دور کی لعنت ہے
آج کل جو شخص پھیری لگا کر
کندھے پر گٹھڑی رکھ کر
کپڑا بیچتا ہو
اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں
مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے
امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ
بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،
ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں،
عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں
یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔
علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔
ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے
اور
درس نظامی میں شامل ہے،
القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔
علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ
ایک فقیہ ہیں
عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں
جو چٹائی بناتا ہو۔
امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔
انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔
عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔
آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے،
جوتیوں کی مرمت کرنے والے
مٹی کے برتن بنانے والے
چٹائی بنانے والے
اور
لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے
اور پوش علاقوں میں رہنے والے
ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے
لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔
اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا
اور
کسی پیشہ کو خسیس
اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے،
اسمگلنگ کرنے والے،
نفلی دوائیں بنا کر بیچنے والے
اور ناجائز اور حرام ذرئاع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے،
بینک بیلنس والے عزت دار ہیں
اور
رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔
( تفسیر تبیان القرآن )
✍️ ابو معاویہ قادری
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
بعض پیشوں کو گھٹیا
اور
باعث عار سمجھنا
صرف اس دور کی لعنت ہے
آج کل جو شخص پھیری لگا کر
کندھے پر گٹھڑی رکھ کر
کپڑا بیچتا ہو
اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں
مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے
امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ
بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،
ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں،
عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں
یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔
علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔
ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے
اور
درس نظامی میں شامل ہے،
القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔
علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ
ایک فقیہ ہیں
عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں
جو چٹائی بناتا ہو۔
امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔
انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔
عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔
آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے،
جوتیوں کی مرمت کرنے والے
مٹی کے برتن بنانے والے
چٹائی بنانے والے
اور
لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے
اور پوش علاقوں میں رہنے والے
ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے
لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔
اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا
اور
کسی پیشہ کو خسیس
اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے،
اسمگلنگ کرنے والے،
نفلی دوائیں بنا کر بیچنے والے
اور ناجائز اور حرام ذرئاع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے،
بینک بیلنس والے عزت دار ہیں
اور
رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔
( تفسیر تبیان القرآن )
✍️ ابو معاویہ قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
📍 *چند اہم گزارشات* 📍
👈 *رابطے میں رہنا* ذمہ داری کا ایک اہم تقاضا ہے
رابطے میں رہنے کا ایک ذریعہ رپلائی کرنا ہے
👈ہمارا نگران ہو یا ماتحت
جس نے بھی ہم سے میسج، کال، واٹس اپ پر رابطہ کیا
*اسے رپلائی کرنا ہماری تنظیمی و اخلاقی ذمہ داری ہے*
👈اگر کسی ذاتی و تنظیمی مصروفیت
(مثلاً سفر، مدنی مشورہ، نماز وغیرہ)
کی وجہ سے بروقت رپلائی نہ کرسکیں تو مصروفیت ختم ہوتے ہی رپلائی کر دینا چاہیے
مثلاً کال بیک کرنا، میسج یا واٹس اپ کا جواب دینا
📣 *نوٹ۔۔۔*
بعض واٹس اپ اطلاع والے ہوتے ہیں
ان کا رپلائی کرنا لازمی نہیں ہوتا
مگر
بعض واٹس اپ ہوتے ہی سوالیہ ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے
جواب نہ دینا دوسرے کو تشویش، پریشانی میں مبتلا کرتا ہے
بعض اوقات بدگمانیوں کے دروازے کھلتے ہیں
👈جتنی بھی مصروفیت ہو
*اپنا ذہن بنا لیجیے کہ رات سونے سے پہلے میں نے تمام پینڈنگ واٹس اپ، میسج کا رپلائی کرکے سونا ہے*
👈کام ہو یا نہ ہو، رپلائی ضرور دینا چاہیے
⚠️ *یاد رکھیں* ⚠️
*بروقت رپلائی کرنا آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے*
جبکہ
*رپلائی نہ کرنا آپ کی شخصیت کو Damage کرتا ہے*
👈 *رابطے میں رہنا* ذمہ داری کا ایک اہم تقاضا ہے
رابطے میں رہنے کا ایک ذریعہ رپلائی کرنا ہے
👈ہمارا نگران ہو یا ماتحت
جس نے بھی ہم سے میسج، کال، واٹس اپ پر رابطہ کیا
*اسے رپلائی کرنا ہماری تنظیمی و اخلاقی ذمہ داری ہے*
👈اگر کسی ذاتی و تنظیمی مصروفیت
(مثلاً سفر، مدنی مشورہ، نماز وغیرہ)
کی وجہ سے بروقت رپلائی نہ کرسکیں تو مصروفیت ختم ہوتے ہی رپلائی کر دینا چاہیے
مثلاً کال بیک کرنا، میسج یا واٹس اپ کا جواب دینا
📣 *نوٹ۔۔۔*
بعض واٹس اپ اطلاع والے ہوتے ہیں
ان کا رپلائی کرنا لازمی نہیں ہوتا
مگر
بعض واٹس اپ ہوتے ہی سوالیہ ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے
جواب نہ دینا دوسرے کو تشویش، پریشانی میں مبتلا کرتا ہے
بعض اوقات بدگمانیوں کے دروازے کھلتے ہیں
👈جتنی بھی مصروفیت ہو
*اپنا ذہن بنا لیجیے کہ رات سونے سے پہلے میں نے تمام پینڈنگ واٹس اپ، میسج کا رپلائی کرکے سونا ہے*
👈کام ہو یا نہ ہو، رپلائی ضرور دینا چاہیے
⚠️ *یاد رکھیں* ⚠️
*بروقت رپلائی کرنا آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے*
جبکہ
*رپلائی نہ کرنا آپ کی شخصیت کو Damage کرتا ہے*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نفس و شیطان کے چنگل سے
حرمت والے مہینوں کے بارے میں
مہمان کی خوش دلی سے خدمت
احسان جتلانے والے | جتانے والے
انسان کے غرور کی اوقات
اپنی غلطی تسلیم کرنا در اصل
جو تکبر کے تاج کو دور پھینکتے
تکبر چاہے دولت کا ہو یا طاقت کا
جلدی میں ندامت وقار و اطمینان
مریض کی دعا فرشتوں کی مانند
حرمت والے مہینوں کے بارے میں
مہمان کی خوش دلی سے خدمت
احسان جتلانے والے | جتانے والے
انسان کے غرور کی اوقات
اپنی غلطی تسلیم کرنا در اصل
جو تکبر کے تاج کو دور پھینکتے
تکبر چاہے دولت کا ہو یا طاقت کا
جلدی میں ندامت وقار و اطمینان
مریض کی دعا فرشتوں کی مانند
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دلائل الخیرات شریف ایپ
UPDATED VERSION OF DALAILUL KHAIRAT
دلائل الخیرات ایپلی کیشن کا اپ ڈیٹیڈ ورژن پیش خدمت ہے۔ اس نے واقعتاً تلاوت میں کافی آسانی پیدا کردی ہے۔ دلائل الخیرات شریف سے اہل اللہ کی ہر دور میں اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اس گئے گزرے دور میں فقیر قادری نے عاجزانہ آواز لگائی تو ہزاروں کی تعداد میں ارباب عشق و سعادت اس کی تلاوت و قراءت پر کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت حیرت اور دو آتشہ ہوئی جب سینکڑوں کی تعداد میں بر صغیر کی خواتین نے اس کی سند کا مطالبہ کیا اور اس کی مداومت کا عزم بالجزم دکھایا- ہماہمی میں بہت سے احباب کی فرمائش سند پوری نہیں کی جاسکی تھی، تاہم اگر وہ مندرجہ ذیل نمبر پر درخواست گزار ہونے کی دوبارہ زحمت گوارا فرمائیں تو باذن اللہ ترسیل سند ممکن بنا دی جائے گی۔ اللہ ہمیں علم و روایت، دین و دیانت اور خیر و سعادت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🌷چریاکوٹی 🌷
Whatapp Number ↴
https://wa.me/919838747722
Play Store Link ↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.dalail_ul_khirat_shareef
FB ↴
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4278534718875971/
UPDATED VERSION OF DALAILUL KHAIRAT
دلائل الخیرات ایپلی کیشن کا اپ ڈیٹیڈ ورژن پیش خدمت ہے۔ اس نے واقعتاً تلاوت میں کافی آسانی پیدا کردی ہے۔ دلائل الخیرات شریف سے اہل اللہ کی ہر دور میں اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اس گئے گزرے دور میں فقیر قادری نے عاجزانہ آواز لگائی تو ہزاروں کی تعداد میں ارباب عشق و سعادت اس کی تلاوت و قراءت پر کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت حیرت اور دو آتشہ ہوئی جب سینکڑوں کی تعداد میں بر صغیر کی خواتین نے اس کی سند کا مطالبہ کیا اور اس کی مداومت کا عزم بالجزم دکھایا- ہماہمی میں بہت سے احباب کی فرمائش سند پوری نہیں کی جاسکی تھی، تاہم اگر وہ مندرجہ ذیل نمبر پر درخواست گزار ہونے کی دوبارہ زحمت گوارا فرمائیں تو باذن اللہ ترسیل سند ممکن بنا دی جائے گی۔ اللہ ہمیں علم و روایت، دین و دیانت اور خیر و سعادت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🌷چریاکوٹی 🌷
Whatapp Number ↴
https://wa.me/919838747722
Play Store Link ↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.dalail_ul_khirat_shareef
FB ↴
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4278534718875971/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن
دنیا کا کوئی باشعور انسان اپنی کسی جائیداد کو تہس نہس کرتا,بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے,اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت کی ایک قیمتی جائیداد ہے۔ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے,اور جو کچھ کمی بیشی ہو,اس کو درست کرنا ہے۔ہم اس وقت جدائی اختیار کرلیتے,جب دعوت اسلامی یہ کہہ دیتی کہ آپ کو ہمارے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں۔
ارکان تحریک کو بھی معلوم ہے کہ یہ تحریک اہل سنت وجماعت کی ایک امانت ہے۔کل ہم اور آپ نہیں رہیں گے,لیکن ہماری خانقاہیں, تحریکیں,ادارے,مساجد ومدارس رہ جائیں گے۔ہمیں خداداد نعمتوں کی قدر کرنی ہے۔اگر دعوتی تحریکیں نہ ہوں تو بدمذہب جماعتیں اپنا دائرہ وسیع کر لیں گی۔ہاں,ہمیں اپنی خامیوں کی اصلاح بھی کرنی ہے۔جب دعوت اسلامی ہماری تنظیم ہے تو اس کی خامی دراصل ہماری خامی ہے۔
گزشتہ شوال1441 میں حضرت علامہ مفتی شمشاد حسین رضوی بدایونی صاحب قبلہ سے لفظ میٹھا سے متعلق میری کچھ بات چیت ہوئی۔انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں لفظ میٹھا کا استعمال کرنا مناسب نہیں۔
راقم نے عرض کیا کہ میں دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے بات کرتا ہوں۔دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کے پاس بھی کچھ دلائل تھے۔وہ مجھے بھیجے گئے۔میں نے وہ سب مفتی موصوف کو بھیج دیا,اور عرض کیا کہ آپ مفصل فتوی تحریر فرمائیں۔چند دنوں میں موصوف نے 14:صفحات پر مشتمل مبسوط فتوی رقم فرما کر مجھے بھیجا۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تو فتوی مجھے صحیح معلوم ہوا۔
وہ فتوی میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس گزارش کے ساتھ بھیج دیا کہ آئندہ حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں تحریر وتقریر میں لفظ میٹھا کا استعمال نہ کیا جائے۔ایک سال بعد کل میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے اس بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اب مدنی چینل پر اور تحریروں میں بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے لفظ میٹھا کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔
ہم نے یہ فتوی اسی لئے انھیں بھیجا تھاکہ دعوت اسلامی ہماری تحریک ہے۔اس کی اصلاح ہو جائے۔ارکان تحریک نے بھی یہی سمجھ کر میری بات پر توجہ دی کہ کوئی سنی آدمی ایک صحیح بات کا مطالبہ مجھ سے کر رہا ہے۔
یہ رشتۂ محبت کچھ اس طرح نبھے گا
کچھ تم قدم بڑھاؤ کچھ ہم قدم بڑھائیں
بعض احباب نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لفظ میٹھا"پیارا"کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ اسی عرف کے سبب ارکان دعوت اسلامی نے پیارے کی جگہ میٹھے کا استعمال رائج کر دیا ہو۔
سال 2014 میں متعدد امور سے متعلق ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داروں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔فقیہ ملت مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبد الحلیم ناگپوری علیہ الرحمۃ والرضوان نے رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ مجھے تفصیلات بھیجی تھیں۔
اس پوسٹ میں تحریک دعوت اسلامی کے اصول وقوانین کے کاغذات اور دیگر امور کی وضاحت تھی۔نماز میں بدمذہبوں کی اقتدا کا انکار اور رد بدمذہباں کا اقرار تھا۔دستور العمل ہی میں امام احمد رضا قادری اور حسام الحرمین کا زکر ہے۔ان شاء اللہ تعالی حسب ضرورت تفصیل رقم کی جائے گی۔
دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت ہی کی تحریک ہے۔چوں کہ تحریک کے ذمہ داران ومبلغین طبقۂ عوام سے ہیں,پس کچھ خامی بعید نہیں۔ہمیں موقع بہ موقع تحریک کے طریق کار کا جائزہ لیتے رہنا ہو گا۔اصحاب تحریک کو اللہ تعالی نے یہ ہمت وحوصلہ عطا فرمایا ہے کہ جب کوئی لغزش وخامی کا علم ہو جاتا ہے تو اس سے توبہ ورجوع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی انھیں توفیق احسن کی دولت سے ہمیشہ مالامال رکھے:آمین
06:مارچ 2013 کو ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داران کو جامعہ حضرت نظام الدین اولیا(دہلی)میں ایک مٹنگ کے لئے بلایا تھا۔محترم حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری اور احمد آباد کے4/3ذمہ داران مرکزی مجلس شوری کی اجازت لے کر ہماری مٹنگ میں شریک ہوئے۔اسی مٹنگ میں حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری نے کہا تھا کہ مختلف فیہ فقہی مسائل کے علاوہ دیگر مسائل میں اگر دعوت اسلامی میں کوئی بات مسلک اعلی حضرت کے خلاف ہے تو ہم توبہ پہلے کریں گے اور سانس بعد میں لیں گے,اور یہی نظریہ دعوت اسلامی کے مرکزی اراکین ومنتظمین اور امیر دعوت اسلامی کا ہے۔
جب حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان اور ہمارے استاذ عالی المراتب حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس نے اس جانب توجہ دلائی کہ دعوت اسلامی میں بعض امور قابل اصلاح ہیں,تب ہم نے اس جانب پیش قدمی کی۔غالبا 2010 سے ہم نے رابطہ شروع کیا۔ہمارے استاذ گرامی دام ظلہ العالی یا مرشد گرامی قدس سرہ العزیز کا مقصد اصلاح ہے۔شکست وریخت یا توڑ پھوڑ ہرگز مقصود نہیں:فافہم وتدبر
تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن
دنیا کا کوئی باشعور انسان اپنی کسی جائیداد کو تہس نہس کرتا,بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے,اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت کی ایک قیمتی جائیداد ہے۔ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے,اور جو کچھ کمی بیشی ہو,اس کو درست کرنا ہے۔ہم اس وقت جدائی اختیار کرلیتے,جب دعوت اسلامی یہ کہہ دیتی کہ آپ کو ہمارے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں۔
ارکان تحریک کو بھی معلوم ہے کہ یہ تحریک اہل سنت وجماعت کی ایک امانت ہے۔کل ہم اور آپ نہیں رہیں گے,لیکن ہماری خانقاہیں, تحریکیں,ادارے,مساجد ومدارس رہ جائیں گے۔ہمیں خداداد نعمتوں کی قدر کرنی ہے۔اگر دعوتی تحریکیں نہ ہوں تو بدمذہب جماعتیں اپنا دائرہ وسیع کر لیں گی۔ہاں,ہمیں اپنی خامیوں کی اصلاح بھی کرنی ہے۔جب دعوت اسلامی ہماری تنظیم ہے تو اس کی خامی دراصل ہماری خامی ہے۔
گزشتہ شوال1441 میں حضرت علامہ مفتی شمشاد حسین رضوی بدایونی صاحب قبلہ سے لفظ میٹھا سے متعلق میری کچھ بات چیت ہوئی۔انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں لفظ میٹھا کا استعمال کرنا مناسب نہیں۔
راقم نے عرض کیا کہ میں دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے بات کرتا ہوں۔دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کے پاس بھی کچھ دلائل تھے۔وہ مجھے بھیجے گئے۔میں نے وہ سب مفتی موصوف کو بھیج دیا,اور عرض کیا کہ آپ مفصل فتوی تحریر فرمائیں۔چند دنوں میں موصوف نے 14:صفحات پر مشتمل مبسوط فتوی رقم فرما کر مجھے بھیجا۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تو فتوی مجھے صحیح معلوم ہوا۔
وہ فتوی میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس گزارش کے ساتھ بھیج دیا کہ آئندہ حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں تحریر وتقریر میں لفظ میٹھا کا استعمال نہ کیا جائے۔ایک سال بعد کل میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے اس بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اب مدنی چینل پر اور تحریروں میں بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے لفظ میٹھا کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔
ہم نے یہ فتوی اسی لئے انھیں بھیجا تھاکہ دعوت اسلامی ہماری تحریک ہے۔اس کی اصلاح ہو جائے۔ارکان تحریک نے بھی یہی سمجھ کر میری بات پر توجہ دی کہ کوئی سنی آدمی ایک صحیح بات کا مطالبہ مجھ سے کر رہا ہے۔
یہ رشتۂ محبت کچھ اس طرح نبھے گا
کچھ تم قدم بڑھاؤ کچھ ہم قدم بڑھائیں
بعض احباب نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لفظ میٹھا"پیارا"کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ اسی عرف کے سبب ارکان دعوت اسلامی نے پیارے کی جگہ میٹھے کا استعمال رائج کر دیا ہو۔
سال 2014 میں متعدد امور سے متعلق ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داروں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔فقیہ ملت مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبد الحلیم ناگپوری علیہ الرحمۃ والرضوان نے رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ مجھے تفصیلات بھیجی تھیں۔
اس پوسٹ میں تحریک دعوت اسلامی کے اصول وقوانین کے کاغذات اور دیگر امور کی وضاحت تھی۔نماز میں بدمذہبوں کی اقتدا کا انکار اور رد بدمذہباں کا اقرار تھا۔دستور العمل ہی میں امام احمد رضا قادری اور حسام الحرمین کا زکر ہے۔ان شاء اللہ تعالی حسب ضرورت تفصیل رقم کی جائے گی۔
دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت ہی کی تحریک ہے۔چوں کہ تحریک کے ذمہ داران ومبلغین طبقۂ عوام سے ہیں,پس کچھ خامی بعید نہیں۔ہمیں موقع بہ موقع تحریک کے طریق کار کا جائزہ لیتے رہنا ہو گا۔اصحاب تحریک کو اللہ تعالی نے یہ ہمت وحوصلہ عطا فرمایا ہے کہ جب کوئی لغزش وخامی کا علم ہو جاتا ہے تو اس سے توبہ ورجوع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی انھیں توفیق احسن کی دولت سے ہمیشہ مالامال رکھے:آمین
06:مارچ 2013 کو ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داران کو جامعہ حضرت نظام الدین اولیا(دہلی)میں ایک مٹنگ کے لئے بلایا تھا۔محترم حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری اور احمد آباد کے4/3ذمہ داران مرکزی مجلس شوری کی اجازت لے کر ہماری مٹنگ میں شریک ہوئے۔اسی مٹنگ میں حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری نے کہا تھا کہ مختلف فیہ فقہی مسائل کے علاوہ دیگر مسائل میں اگر دعوت اسلامی میں کوئی بات مسلک اعلی حضرت کے خلاف ہے تو ہم توبہ پہلے کریں گے اور سانس بعد میں لیں گے,اور یہی نظریہ دعوت اسلامی کے مرکزی اراکین ومنتظمین اور امیر دعوت اسلامی کا ہے۔
جب حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان اور ہمارے استاذ عالی المراتب حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس نے اس جانب توجہ دلائی کہ دعوت اسلامی میں بعض امور قابل اصلاح ہیں,تب ہم نے اس جانب پیش قدمی کی۔غالبا 2010 سے ہم نے رابطہ شروع کیا۔ہمارے استاذ گرامی دام ظلہ العالی یا مرشد گرامی قدس سرہ العزیز کا مقصد اصلاح ہے۔شکست وریخت یا توڑ پھوڑ ہرگز مقصود نہیں:فافہم وتدبر
دینی وملی خدمات انجام دینے والے افراد وشخصیات,مدارس وتحریکات,خانقاہوں,اشاعتی اداروں,محررین ومقررین اور علما ودانشوران کی تائید وحمایت اور ان کی حوصلہ افزائی وتشجیع وترغیب پر مشتمل کلمات ہمارے متفرق مضامین میں مرقوم ومسطور ہیں۔ہماری جانب سے یہ کوئی امر جدید نہیں۔جو حضرات ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کو تسلیم کرتے ہیں۔وہ سنی اور ہمارے دینی بھائی ہیں۔طرز عمل کااختلاف ممکن ہے,لیکن اس سبب سے وہ مذہب اہل سنت سے خارج نہیں۔اکابر اہل سنت کےاقوال وفرمودات کے صحیح مطالب بیان کئے جائیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جون 2021
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/808696159757436/
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جون 2021
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/808696159757436/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا مسلما
دعوت اسلامی میں فکر رضا کی جلوہ سامانیاں
جب کسی مسلمان کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ صراط مستقیم سے پھٹک سکتا ہے,یا غلط راہ پر جا چکا ہو تو اس کے دل میں محبت نبوی اور عشق مصطفوی کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی جائے,تاکہ وہ اپنے رسول کی طاعت اختیار کرے اور راہ حق پر مستحکم وقائم ہو جائے,کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے,اور اس میں فرحت وشادمانی اور لذت روحانی محسوس کرتا ہے۔
حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
تعصی الالہ وانت تظہر حبہ
ہذا محال فی القیاس بدیع
ترجمہ:تم اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہو اور اس کی محبت ظاہر کرتے ہو۔یہ محال ہے اور عقل کے نزدیک ایک اختراعی بات ہے۔
لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ان المحب لمن یحب مطیع
ترجمہ:اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو ضرور تم رب تعالی کی فرماں برداری کرتے۔بے شک محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے۔
جب کوئی مومن حضور اقدس سرور دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خوب محبت کرنے لگتا ہے تو وہ ہر امر میں یہ تلاش کرتا ہے کہ اس بارے میں ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم کیا ہے؟وہ کسی شخصیت کا منہ نہیں دیکھتا,خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم الشان ہو,بلکہ وہ حکم مصطفوی کو ہر اس مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے,جہاں اسے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم ملنے کی امید ہو۔
امام احمد رضا قادری کے عہد میں برصغیر میں اعتقادی فتنوں کا سیلاب آ چکا تھا۔غیر مقلدیت,دیوبندیت,قادیانیت,ندویت,نیچریت ودیگر فتنے عروج پر تھے۔امام احمد رضا قادری نے نظم ونثر ہر دو صنف کے ذریعہ قوم مسلم کو عشق مصطفوی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی,یہاں تک کہ بر صغیر کی فضا عشق محمدی ومحبت مصطفوی کی خوشبو سے مشکبار ہو گئی۔
جب قوم کے دلوں میں عشق مصطفوی کی قندیل روشن ہو جائے گی تو قوم کا ہر فرد درپیش امر سے متعلق پکارے گا کہ اس بارے میں ارشاد مصطفوی کیا ہے؟حکم نبوی کیا ہے؟شریعت محمدی کا فیصلہ کیا ہے؟
عشق کی اس منزل میں پہنچ کر کوئی عاشق رسول(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) اپنے پیر واستاذ کو نہیں دیکھتا ہے,بلکہ اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے صحیح حکم کو تلاش کرتا ہے,خواہ احکام صحیحہ بتانے والا کوئی بھی ہو۔استاذ وپیر ہو,یا کوئی دوسرے عالم۔
امام احمد رضا قادری لوگوں کو عشق مصطفوی کی ترغیب بھی دے رہے تھے اور ارشادات نبویہ واحکام مصطفویہ سے بھی قوم مسلم کو آشنا کر رہے تھے۔
تحریک دعوت اسلامی نے بھی قوم مسلم کو عشق محمدی کی جانب لانے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی نے یہ حسین تصور اور اثر آفریں فکر ارکان دعوت اسلامی کو ودیعت فرمائی۔
جامعۃ المدینہ,فیضان مدینہ,مدرسۃ المدینہ,دار المدینہ,مکتبۃ المدینہ,مدنی ماحول,مدنی پھول,مدنی منا,مدنی ترکیب,قفل مدینہ وغیرہ اصطلاحات واسما ایک مومن کے قلب وذہن اور فکر ونظر کو دربار حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کی جانب کشاں کشاں لے جاتے ہیں۔
تحریک دعوت اسلامی لوگوں کو امام احمد رضا قادری کی تعلیمات سے بھی آشنا کر رہی ہے,اور ان کی تعلیمات پر عمل کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔امیر دعوت اسلامی(جزاہ اللہ تعالی عنا وعن جمیع المسلمین)کو عاشق اعلی حضرت بھی کہا جاتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی فکر رضا کی صحیح ترجمانی کر رہی ہے۔یہ لوگ فکر رضا کے سچے مبلغین ہیں۔
ہمارے ایک قابل اعتماد لاہوری دوست نے بتایا کہ جب دعوت اسلامی کے مبلغین کو کسی امر سے متعلق کہا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ اس بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟ حکم شرع بتاؤ۔
اگر یہ مبلغین حقیقت میں ایسا ہی کہتے ہیں تو ٹھیک اسی راہ پر گئے ہیں,جس راہ پر امام احمد رضا قادری قوم مسلم کو لے جانا چاہتے تھے۔
اگر یہ مبلغین یہ کہتے کہ ہمارے امیر نے ایسا کہا,یا ہمارے پیر نے ایسا کہا,یا ہمارے استاذ نے ایسا کہا,اس لئے ہم نے ایسا کیا تو یہ شبہہ ہوتا کہ شاید یہ لوگ دیوبندی طرز فکر کے قریب جا رہے ہیں۔دیابنہ اپنے استاذ وپیر کی محبت میں حکم شرع سے غافل ہو گئے۔دیابنہ نے ناموس رسالت پر اپنے پیروں اور استاذوں کی عزت وناموس کو ترجیح دی اور اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی صریح بے ادبیوں کے باوجود اپنے پیروں اور استاذوں سے جدا نہ ہوئے۔
مجھے تو وہی لوگ پسند ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہوں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔میں قوم مسلم کو اسی لئے امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان ان ہی کی طرح سنی صحیح العقیدہ رہیں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔اپنے روز وشب کو تصور مصطفوی میں مستغرق رکھیں۔
دعوت اسلامی میں فکر رضا کی جلوہ سامانیاں
جب کسی مسلمان کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ صراط مستقیم سے پھٹک سکتا ہے,یا غلط راہ پر جا چکا ہو تو اس کے دل میں محبت نبوی اور عشق مصطفوی کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی جائے,تاکہ وہ اپنے رسول کی طاعت اختیار کرے اور راہ حق پر مستحکم وقائم ہو جائے,کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے,اور اس میں فرحت وشادمانی اور لذت روحانی محسوس کرتا ہے۔
حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
تعصی الالہ وانت تظہر حبہ
ہذا محال فی القیاس بدیع
ترجمہ:تم اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہو اور اس کی محبت ظاہر کرتے ہو۔یہ محال ہے اور عقل کے نزدیک ایک اختراعی بات ہے۔
لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ان المحب لمن یحب مطیع
ترجمہ:اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو ضرور تم رب تعالی کی فرماں برداری کرتے۔بے شک محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے۔
جب کوئی مومن حضور اقدس سرور دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خوب محبت کرنے لگتا ہے تو وہ ہر امر میں یہ تلاش کرتا ہے کہ اس بارے میں ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم کیا ہے؟وہ کسی شخصیت کا منہ نہیں دیکھتا,خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم الشان ہو,بلکہ وہ حکم مصطفوی کو ہر اس مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے,جہاں اسے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم ملنے کی امید ہو۔
امام احمد رضا قادری کے عہد میں برصغیر میں اعتقادی فتنوں کا سیلاب آ چکا تھا۔غیر مقلدیت,دیوبندیت,قادیانیت,ندویت,نیچریت ودیگر فتنے عروج پر تھے۔امام احمد رضا قادری نے نظم ونثر ہر دو صنف کے ذریعہ قوم مسلم کو عشق مصطفوی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی,یہاں تک کہ بر صغیر کی فضا عشق محمدی ومحبت مصطفوی کی خوشبو سے مشکبار ہو گئی۔
جب قوم کے دلوں میں عشق مصطفوی کی قندیل روشن ہو جائے گی تو قوم کا ہر فرد درپیش امر سے متعلق پکارے گا کہ اس بارے میں ارشاد مصطفوی کیا ہے؟حکم نبوی کیا ہے؟شریعت محمدی کا فیصلہ کیا ہے؟
عشق کی اس منزل میں پہنچ کر کوئی عاشق رسول(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) اپنے پیر واستاذ کو نہیں دیکھتا ہے,بلکہ اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے صحیح حکم کو تلاش کرتا ہے,خواہ احکام صحیحہ بتانے والا کوئی بھی ہو۔استاذ وپیر ہو,یا کوئی دوسرے عالم۔
امام احمد رضا قادری لوگوں کو عشق مصطفوی کی ترغیب بھی دے رہے تھے اور ارشادات نبویہ واحکام مصطفویہ سے بھی قوم مسلم کو آشنا کر رہے تھے۔
تحریک دعوت اسلامی نے بھی قوم مسلم کو عشق محمدی کی جانب لانے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی نے یہ حسین تصور اور اثر آفریں فکر ارکان دعوت اسلامی کو ودیعت فرمائی۔
جامعۃ المدینہ,فیضان مدینہ,مدرسۃ المدینہ,دار المدینہ,مکتبۃ المدینہ,مدنی ماحول,مدنی پھول,مدنی منا,مدنی ترکیب,قفل مدینہ وغیرہ اصطلاحات واسما ایک مومن کے قلب وذہن اور فکر ونظر کو دربار حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کی جانب کشاں کشاں لے جاتے ہیں۔
تحریک دعوت اسلامی لوگوں کو امام احمد رضا قادری کی تعلیمات سے بھی آشنا کر رہی ہے,اور ان کی تعلیمات پر عمل کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔امیر دعوت اسلامی(جزاہ اللہ تعالی عنا وعن جمیع المسلمین)کو عاشق اعلی حضرت بھی کہا جاتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی فکر رضا کی صحیح ترجمانی کر رہی ہے۔یہ لوگ فکر رضا کے سچے مبلغین ہیں۔
ہمارے ایک قابل اعتماد لاہوری دوست نے بتایا کہ جب دعوت اسلامی کے مبلغین کو کسی امر سے متعلق کہا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ اس بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟ حکم شرع بتاؤ۔
اگر یہ مبلغین حقیقت میں ایسا ہی کہتے ہیں تو ٹھیک اسی راہ پر گئے ہیں,جس راہ پر امام احمد رضا قادری قوم مسلم کو لے جانا چاہتے تھے۔
اگر یہ مبلغین یہ کہتے کہ ہمارے امیر نے ایسا کہا,یا ہمارے پیر نے ایسا کہا,یا ہمارے استاذ نے ایسا کہا,اس لئے ہم نے ایسا کیا تو یہ شبہہ ہوتا کہ شاید یہ لوگ دیوبندی طرز فکر کے قریب جا رہے ہیں۔دیابنہ اپنے استاذ وپیر کی محبت میں حکم شرع سے غافل ہو گئے۔دیابنہ نے ناموس رسالت پر اپنے پیروں اور استاذوں کی عزت وناموس کو ترجیح دی اور اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی صریح بے ادبیوں کے باوجود اپنے پیروں اور استاذوں سے جدا نہ ہوئے۔
مجھے تو وہی لوگ پسند ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہوں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔میں قوم مسلم کو اسی لئے امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان ان ہی کی طرح سنی صحیح العقیدہ رہیں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔اپنے روز وشب کو تصور مصطفوی میں مستغرق رکھیں۔
👍2