Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
الیاس کاندھلوی نے دیوبندی مذہب کے فروغ کے لئے 1926 میں تبلیغی جماعت قائم کی۔اس کے قیام کو 95 سال ہو گئے۔اس کا دائرۂ کار بھی وسیع ہے,لیکن دعوت اسلامی کے بالمقابل اس کی کوئی خاص حیثیت نہیں۔
دعوت اسلامی کی وسعت وترقی دیکھ کر تمام بدمذہب فرقے بلبلا اٹھے ہیں۔دعوت اسلامی کے خلاف ہم نے مدرسہ دیوبند کا فتوی بھی دیکھا ہے اور غیر مقلدین کی معاندانہ تحریریں بھی۔خاص کر مدنی چینل کے ذریعہ مذہب ایل سنت کو کافی فروغ حاصل ہوا۔لوگ بدعقیدگی سے بھی محفوظ ہوئے اور انھیں اصلاح اعمال کا بھی موقع میسر آیا۔
جو لوگ جلسوں اور محفلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے,ان لوگوں نے مدنی چینل سے استفادہ کیا اور مذہب اہل سنت وجماعت سے وابستہ رہے۔جو بدمذہب ہو چکے تھے,یا بدمذہبیت کی جانب مائل تھے,وہ صحیح العقیدہ سنی بن گئے۔
دعوت اسلامی نے دنیا بھر میں وہابی فکر کی تبلیغ واشاعت کی روک تھام کے لئے قابل تحسین اقدام کیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اکیسویں صدی امام احمد رضا کی صدی ہو گی۔ممالک عالم میں فکر رضا کو فروغ وعروج حاصل ہو گا اور دنیا بھر میں عشق مصطفے علیہ التحیۃ والثنا کے ترانے گونجیں گے۔
دعوت وتبلیغ کے لئے ہمارے پاس تحریک دعوت اسلامی ہے۔مسائل شرعیہ کی تحقیق وتدقیق کے لئے برصغیر میں متعدد فقہی مجالس ہیں,مثلا شرعی کونسل(بریلی شریف),مجلس شرعی(مبارک پور),مجلس تحقیقات شرعیہ(دعوت اسلامی)-
ہمارے پاس بہت سی سنی خانقاہیں ہیں جو مسلک اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں مصروف ہیں,مثلا خانقاہ برکاتیہ(ماریرہ مطہرہ),خانقاہ اشرفیہ(کچھوچھہ مقدسہ),خانقاہ رضویہ(بریلی شریف)-تعلیم وتدریس کے لئے بہت سے ادارے ہیں,مثلا جامعہ منظر اسلام وجامعۃ الرضا(بریلی شریف)جامعہ اشرفیہ(مبارک پور),جامعہ رضویہ(لاہور)۔
بطور مثال چند خانقاہوں اور اداروں کا ذکر کیا گیا۔استیعاب کی گنجائش نہیں۔
فکر رضا سے وابستہ بے شمار علمائے اہل سنت ومشائخ طریقت ومفتیان شریعت عرب وعجم میں مختلف قسم کی دینی,ملی,اشاعتی,تحقیقی ودیگر خدمات میں مصروف عمل ہیں۔ہماری تمام خانقاہیں,ادارے,تنظیمیں اور علما ومشائخ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی تعلیمات پر مستحکم وقائم ہیں۔ان میں ربط باہم کی ضرورت ہے:لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:جون 2021
بروز: جمعہ مبارکہ۔بعد نماز عصر
دعوت اسلامی کی وسعت وترقی دیکھ کر تمام بدمذہب فرقے بلبلا اٹھے ہیں۔دعوت اسلامی کے خلاف ہم نے مدرسہ دیوبند کا فتوی بھی دیکھا ہے اور غیر مقلدین کی معاندانہ تحریریں بھی۔خاص کر مدنی چینل کے ذریعہ مذہب ایل سنت کو کافی فروغ حاصل ہوا۔لوگ بدعقیدگی سے بھی محفوظ ہوئے اور انھیں اصلاح اعمال کا بھی موقع میسر آیا۔
جو لوگ جلسوں اور محفلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے,ان لوگوں نے مدنی چینل سے استفادہ کیا اور مذہب اہل سنت وجماعت سے وابستہ رہے۔جو بدمذہب ہو چکے تھے,یا بدمذہبیت کی جانب مائل تھے,وہ صحیح العقیدہ سنی بن گئے۔
دعوت اسلامی نے دنیا بھر میں وہابی فکر کی تبلیغ واشاعت کی روک تھام کے لئے قابل تحسین اقدام کیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اکیسویں صدی امام احمد رضا کی صدی ہو گی۔ممالک عالم میں فکر رضا کو فروغ وعروج حاصل ہو گا اور دنیا بھر میں عشق مصطفے علیہ التحیۃ والثنا کے ترانے گونجیں گے۔
دعوت وتبلیغ کے لئے ہمارے پاس تحریک دعوت اسلامی ہے۔مسائل شرعیہ کی تحقیق وتدقیق کے لئے برصغیر میں متعدد فقہی مجالس ہیں,مثلا شرعی کونسل(بریلی شریف),مجلس شرعی(مبارک پور),مجلس تحقیقات شرعیہ(دعوت اسلامی)-
ہمارے پاس بہت سی سنی خانقاہیں ہیں جو مسلک اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں مصروف ہیں,مثلا خانقاہ برکاتیہ(ماریرہ مطہرہ),خانقاہ اشرفیہ(کچھوچھہ مقدسہ),خانقاہ رضویہ(بریلی شریف)-تعلیم وتدریس کے لئے بہت سے ادارے ہیں,مثلا جامعہ منظر اسلام وجامعۃ الرضا(بریلی شریف)جامعہ اشرفیہ(مبارک پور),جامعہ رضویہ(لاہور)۔
بطور مثال چند خانقاہوں اور اداروں کا ذکر کیا گیا۔استیعاب کی گنجائش نہیں۔
فکر رضا سے وابستہ بے شمار علمائے اہل سنت ومشائخ طریقت ومفتیان شریعت عرب وعجم میں مختلف قسم کی دینی,ملی,اشاعتی,تحقیقی ودیگر خدمات میں مصروف عمل ہیں۔ہماری تمام خانقاہیں,ادارے,تنظیمیں اور علما ومشائخ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی تعلیمات پر مستحکم وقائم ہیں۔ان میں ربط باہم کی ضرورت ہے:لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:18:جون 2021
بروز: جمعہ مبارکہ۔بعد نماز عصر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
تجارت اور ہمارا معاشرہ
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
بعض پیشوں کو گھٹیا
اور
باعث عار سمجھنا
صرف اس دور کی لعنت ہے
آج کل جو شخص پھیری لگا کر
کندھے پر گٹھڑی رکھ کر
کپڑا بیچتا ہو
اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں
مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے
امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ
بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،
ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں،
عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں
یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔
علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔
ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے
اور
درس نظامی میں شامل ہے،
القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔
علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ
ایک فقیہ ہیں
عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں
جو چٹائی بناتا ہو۔
امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔
انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔
عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔
آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے،
جوتیوں کی مرمت کرنے والے
مٹی کے برتن بنانے والے
چٹائی بنانے والے
اور
لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے
اور پوش علاقوں میں رہنے والے
ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے
لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔
اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا
اور
کسی پیشہ کو خسیس
اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے،
اسمگلنگ کرنے والے،
نفلی دوائیں بنا کر بیچنے والے
اور ناجائز اور حرام ذرئاع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے،
بینک بیلنس والے عزت دار ہیں
اور
رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔
( تفسیر تبیان القرآن )
✍️ ابو معاویہ قادری
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
بعض پیشوں کو گھٹیا
اور
باعث عار سمجھنا
صرف اس دور کی لعنت ہے
آج کل جو شخص پھیری لگا کر
کندھے پر گٹھڑی رکھ کر
کپڑا بیچتا ہو
اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں
مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے
امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ
بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،
ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں،
عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں
یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔
علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔
ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے
اور
درس نظامی میں شامل ہے،
القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔
علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ
ایک فقیہ ہیں
عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں
جو چٹائی بناتا ہو۔
امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔
انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔
عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔
آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے،
جوتیوں کی مرمت کرنے والے
مٹی کے برتن بنانے والے
چٹائی بنانے والے
اور
لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے
اور پوش علاقوں میں رہنے والے
ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے
لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔
اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا
اور
کسی پیشہ کو خسیس
اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے،
اسمگلنگ کرنے والے،
نفلی دوائیں بنا کر بیچنے والے
اور ناجائز اور حرام ذرئاع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے،
بینک بیلنس والے عزت دار ہیں
اور
رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔
( تفسیر تبیان القرآن )
✍️ ابو معاویہ قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
📍 *چند اہم گزارشات* 📍
👈 *رابطے میں رہنا* ذمہ داری کا ایک اہم تقاضا ہے
رابطے میں رہنے کا ایک ذریعہ رپلائی کرنا ہے
👈ہمارا نگران ہو یا ماتحت
جس نے بھی ہم سے میسج، کال، واٹس اپ پر رابطہ کیا
*اسے رپلائی کرنا ہماری تنظیمی و اخلاقی ذمہ داری ہے*
👈اگر کسی ذاتی و تنظیمی مصروفیت
(مثلاً سفر، مدنی مشورہ، نماز وغیرہ)
کی وجہ سے بروقت رپلائی نہ کرسکیں تو مصروفیت ختم ہوتے ہی رپلائی کر دینا چاہیے
مثلاً کال بیک کرنا، میسج یا واٹس اپ کا جواب دینا
📣 *نوٹ۔۔۔*
بعض واٹس اپ اطلاع والے ہوتے ہیں
ان کا رپلائی کرنا لازمی نہیں ہوتا
مگر
بعض واٹس اپ ہوتے ہی سوالیہ ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے
جواب نہ دینا دوسرے کو تشویش، پریشانی میں مبتلا کرتا ہے
بعض اوقات بدگمانیوں کے دروازے کھلتے ہیں
👈جتنی بھی مصروفیت ہو
*اپنا ذہن بنا لیجیے کہ رات سونے سے پہلے میں نے تمام پینڈنگ واٹس اپ، میسج کا رپلائی کرکے سونا ہے*
👈کام ہو یا نہ ہو، رپلائی ضرور دینا چاہیے
⚠️ *یاد رکھیں* ⚠️
*بروقت رپلائی کرنا آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے*
جبکہ
*رپلائی نہ کرنا آپ کی شخصیت کو Damage کرتا ہے*
👈 *رابطے میں رہنا* ذمہ داری کا ایک اہم تقاضا ہے
رابطے میں رہنے کا ایک ذریعہ رپلائی کرنا ہے
👈ہمارا نگران ہو یا ماتحت
جس نے بھی ہم سے میسج، کال، واٹس اپ پر رابطہ کیا
*اسے رپلائی کرنا ہماری تنظیمی و اخلاقی ذمہ داری ہے*
👈اگر کسی ذاتی و تنظیمی مصروفیت
(مثلاً سفر، مدنی مشورہ، نماز وغیرہ)
کی وجہ سے بروقت رپلائی نہ کرسکیں تو مصروفیت ختم ہوتے ہی رپلائی کر دینا چاہیے
مثلاً کال بیک کرنا، میسج یا واٹس اپ کا جواب دینا
📣 *نوٹ۔۔۔*
بعض واٹس اپ اطلاع والے ہوتے ہیں
ان کا رپلائی کرنا لازمی نہیں ہوتا
مگر
بعض واٹس اپ ہوتے ہی سوالیہ ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے
جواب نہ دینا دوسرے کو تشویش، پریشانی میں مبتلا کرتا ہے
بعض اوقات بدگمانیوں کے دروازے کھلتے ہیں
👈جتنی بھی مصروفیت ہو
*اپنا ذہن بنا لیجیے کہ رات سونے سے پہلے میں نے تمام پینڈنگ واٹس اپ، میسج کا رپلائی کرکے سونا ہے*
👈کام ہو یا نہ ہو، رپلائی ضرور دینا چاہیے
⚠️ *یاد رکھیں* ⚠️
*بروقت رپلائی کرنا آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے*
جبکہ
*رپلائی نہ کرنا آپ کی شخصیت کو Damage کرتا ہے*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نفس و شیطان کے چنگل سے
حرمت والے مہینوں کے بارے میں
مہمان کی خوش دلی سے خدمت
احسان جتلانے والے | جتانے والے
انسان کے غرور کی اوقات
اپنی غلطی تسلیم کرنا در اصل
جو تکبر کے تاج کو دور پھینکتے
تکبر چاہے دولت کا ہو یا طاقت کا
جلدی میں ندامت وقار و اطمینان
مریض کی دعا فرشتوں کی مانند
حرمت والے مہینوں کے بارے میں
مہمان کی خوش دلی سے خدمت
احسان جتلانے والے | جتانے والے
انسان کے غرور کی اوقات
اپنی غلطی تسلیم کرنا در اصل
جو تکبر کے تاج کو دور پھینکتے
تکبر چاہے دولت کا ہو یا طاقت کا
جلدی میں ندامت وقار و اطمینان
مریض کی دعا فرشتوں کی مانند
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دلائل الخیرات شریف ایپ
UPDATED VERSION OF DALAILUL KHAIRAT
دلائل الخیرات ایپلی کیشن کا اپ ڈیٹیڈ ورژن پیش خدمت ہے۔ اس نے واقعتاً تلاوت میں کافی آسانی پیدا کردی ہے۔ دلائل الخیرات شریف سے اہل اللہ کی ہر دور میں اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اس گئے گزرے دور میں فقیر قادری نے عاجزانہ آواز لگائی تو ہزاروں کی تعداد میں ارباب عشق و سعادت اس کی تلاوت و قراءت پر کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت حیرت اور دو آتشہ ہوئی جب سینکڑوں کی تعداد میں بر صغیر کی خواتین نے اس کی سند کا مطالبہ کیا اور اس کی مداومت کا عزم بالجزم دکھایا- ہماہمی میں بہت سے احباب کی فرمائش سند پوری نہیں کی جاسکی تھی، تاہم اگر وہ مندرجہ ذیل نمبر پر درخواست گزار ہونے کی دوبارہ زحمت گوارا فرمائیں تو باذن اللہ ترسیل سند ممکن بنا دی جائے گی۔ اللہ ہمیں علم و روایت، دین و دیانت اور خیر و سعادت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🌷چریاکوٹی 🌷
Whatapp Number ↴
https://wa.me/919838747722
Play Store Link ↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.dalail_ul_khirat_shareef
FB ↴
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4278534718875971/
UPDATED VERSION OF DALAILUL KHAIRAT
دلائل الخیرات ایپلی کیشن کا اپ ڈیٹیڈ ورژن پیش خدمت ہے۔ اس نے واقعتاً تلاوت میں کافی آسانی پیدا کردی ہے۔ دلائل الخیرات شریف سے اہل اللہ کی ہر دور میں اٹوٹ وابستگی رہی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اس گئے گزرے دور میں فقیر قادری نے عاجزانہ آواز لگائی تو ہزاروں کی تعداد میں ارباب عشق و سعادت اس کی تلاوت و قراءت پر کمربستہ ہو گئے۔ اس وقت حیرت اور دو آتشہ ہوئی جب سینکڑوں کی تعداد میں بر صغیر کی خواتین نے اس کی سند کا مطالبہ کیا اور اس کی مداومت کا عزم بالجزم دکھایا- ہماہمی میں بہت سے احباب کی فرمائش سند پوری نہیں کی جاسکی تھی، تاہم اگر وہ مندرجہ ذیل نمبر پر درخواست گزار ہونے کی دوبارہ زحمت گوارا فرمائیں تو باذن اللہ ترسیل سند ممکن بنا دی جائے گی۔ اللہ ہمیں علم و روایت، دین و دیانت اور خیر و سعادت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🌷چریاکوٹی 🌷
Whatapp Number ↴
https://wa.me/919838747722
Play Store Link ↴
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.wafasoft.dalail_ul_khirat_shareef
FB ↴
https://www.facebook.com/100001584556962/posts/4278534718875971/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن
دنیا کا کوئی باشعور انسان اپنی کسی جائیداد کو تہس نہس کرتا,بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے,اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت کی ایک قیمتی جائیداد ہے۔ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے,اور جو کچھ کمی بیشی ہو,اس کو درست کرنا ہے۔ہم اس وقت جدائی اختیار کرلیتے,جب دعوت اسلامی یہ کہہ دیتی کہ آپ کو ہمارے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں۔
ارکان تحریک کو بھی معلوم ہے کہ یہ تحریک اہل سنت وجماعت کی ایک امانت ہے۔کل ہم اور آپ نہیں رہیں گے,لیکن ہماری خانقاہیں, تحریکیں,ادارے,مساجد ومدارس رہ جائیں گے۔ہمیں خداداد نعمتوں کی قدر کرنی ہے۔اگر دعوتی تحریکیں نہ ہوں تو بدمذہب جماعتیں اپنا دائرہ وسیع کر لیں گی۔ہاں,ہمیں اپنی خامیوں کی اصلاح بھی کرنی ہے۔جب دعوت اسلامی ہماری تنظیم ہے تو اس کی خامی دراصل ہماری خامی ہے۔
گزشتہ شوال1441 میں حضرت علامہ مفتی شمشاد حسین رضوی بدایونی صاحب قبلہ سے لفظ میٹھا سے متعلق میری کچھ بات چیت ہوئی۔انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں لفظ میٹھا کا استعمال کرنا مناسب نہیں۔
راقم نے عرض کیا کہ میں دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے بات کرتا ہوں۔دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کے پاس بھی کچھ دلائل تھے۔وہ مجھے بھیجے گئے۔میں نے وہ سب مفتی موصوف کو بھیج دیا,اور عرض کیا کہ آپ مفصل فتوی تحریر فرمائیں۔چند دنوں میں موصوف نے 14:صفحات پر مشتمل مبسوط فتوی رقم فرما کر مجھے بھیجا۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تو فتوی مجھے صحیح معلوم ہوا۔
وہ فتوی میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس گزارش کے ساتھ بھیج دیا کہ آئندہ حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں تحریر وتقریر میں لفظ میٹھا کا استعمال نہ کیا جائے۔ایک سال بعد کل میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے اس بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اب مدنی چینل پر اور تحریروں میں بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے لفظ میٹھا کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔
ہم نے یہ فتوی اسی لئے انھیں بھیجا تھاکہ دعوت اسلامی ہماری تحریک ہے۔اس کی اصلاح ہو جائے۔ارکان تحریک نے بھی یہی سمجھ کر میری بات پر توجہ دی کہ کوئی سنی آدمی ایک صحیح بات کا مطالبہ مجھ سے کر رہا ہے۔
یہ رشتۂ محبت کچھ اس طرح نبھے گا
کچھ تم قدم بڑھاؤ کچھ ہم قدم بڑھائیں
بعض احباب نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لفظ میٹھا"پیارا"کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ اسی عرف کے سبب ارکان دعوت اسلامی نے پیارے کی جگہ میٹھے کا استعمال رائج کر دیا ہو۔
سال 2014 میں متعدد امور سے متعلق ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داروں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔فقیہ ملت مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبد الحلیم ناگپوری علیہ الرحمۃ والرضوان نے رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ مجھے تفصیلات بھیجی تھیں۔
اس پوسٹ میں تحریک دعوت اسلامی کے اصول وقوانین کے کاغذات اور دیگر امور کی وضاحت تھی۔نماز میں بدمذہبوں کی اقتدا کا انکار اور رد بدمذہباں کا اقرار تھا۔دستور العمل ہی میں امام احمد رضا قادری اور حسام الحرمین کا زکر ہے۔ان شاء اللہ تعالی حسب ضرورت تفصیل رقم کی جائے گی۔
دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت ہی کی تحریک ہے۔چوں کہ تحریک کے ذمہ داران ومبلغین طبقۂ عوام سے ہیں,پس کچھ خامی بعید نہیں۔ہمیں موقع بہ موقع تحریک کے طریق کار کا جائزہ لیتے رہنا ہو گا۔اصحاب تحریک کو اللہ تعالی نے یہ ہمت وحوصلہ عطا فرمایا ہے کہ جب کوئی لغزش وخامی کا علم ہو جاتا ہے تو اس سے توبہ ورجوع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی انھیں توفیق احسن کی دولت سے ہمیشہ مالامال رکھے:آمین
06:مارچ 2013 کو ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داران کو جامعہ حضرت نظام الدین اولیا(دہلی)میں ایک مٹنگ کے لئے بلایا تھا۔محترم حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری اور احمد آباد کے4/3ذمہ داران مرکزی مجلس شوری کی اجازت لے کر ہماری مٹنگ میں شریک ہوئے۔اسی مٹنگ میں حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری نے کہا تھا کہ مختلف فیہ فقہی مسائل کے علاوہ دیگر مسائل میں اگر دعوت اسلامی میں کوئی بات مسلک اعلی حضرت کے خلاف ہے تو ہم توبہ پہلے کریں گے اور سانس بعد میں لیں گے,اور یہی نظریہ دعوت اسلامی کے مرکزی اراکین ومنتظمین اور امیر دعوت اسلامی کا ہے۔
جب حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان اور ہمارے استاذ عالی المراتب حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس نے اس جانب توجہ دلائی کہ دعوت اسلامی میں بعض امور قابل اصلاح ہیں,تب ہم نے اس جانب پیش قدمی کی۔غالبا 2010 سے ہم نے رابطہ شروع کیا۔ہمارے استاذ گرامی دام ظلہ العالی یا مرشد گرامی قدس سرہ العزیز کا مقصد اصلاح ہے۔شکست وریخت یا توڑ پھوڑ ہرگز مقصود نہیں:فافہم وتدبر
تحریک دعوت اسلامی کے فکری محاسن
دنیا کا کوئی باشعور انسان اپنی کسی جائیداد کو تہس نہس کرتا,بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے,اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرتا ہے۔
تحریک دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت کی ایک قیمتی جائیداد ہے۔ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے,اور جو کچھ کمی بیشی ہو,اس کو درست کرنا ہے۔ہم اس وقت جدائی اختیار کرلیتے,جب دعوت اسلامی یہ کہہ دیتی کہ آپ کو ہمارے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں۔
ارکان تحریک کو بھی معلوم ہے کہ یہ تحریک اہل سنت وجماعت کی ایک امانت ہے۔کل ہم اور آپ نہیں رہیں گے,لیکن ہماری خانقاہیں, تحریکیں,ادارے,مساجد ومدارس رہ جائیں گے۔ہمیں خداداد نعمتوں کی قدر کرنی ہے۔اگر دعوتی تحریکیں نہ ہوں تو بدمذہب جماعتیں اپنا دائرہ وسیع کر لیں گی۔ہاں,ہمیں اپنی خامیوں کی اصلاح بھی کرنی ہے۔جب دعوت اسلامی ہماری تنظیم ہے تو اس کی خامی دراصل ہماری خامی ہے۔
گزشتہ شوال1441 میں حضرت علامہ مفتی شمشاد حسین رضوی بدایونی صاحب قبلہ سے لفظ میٹھا سے متعلق میری کچھ بات چیت ہوئی۔انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان اقدس میں لفظ میٹھا کا استعمال کرنا مناسب نہیں۔
راقم نے عرض کیا کہ میں دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے بات کرتا ہوں۔دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کے پاس بھی کچھ دلائل تھے۔وہ مجھے بھیجے گئے۔میں نے وہ سب مفتی موصوف کو بھیج دیا,اور عرض کیا کہ آپ مفصل فتوی تحریر فرمائیں۔چند دنوں میں موصوف نے 14:صفحات پر مشتمل مبسوط فتوی رقم فرما کر مجھے بھیجا۔میں نے اس کا مطالعہ کیا تو فتوی مجھے صحیح معلوم ہوا۔
وہ فتوی میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں کو اس گزارش کے ساتھ بھیج دیا کہ آئندہ حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا کی شان اقدس میں تحریر وتقریر میں لفظ میٹھا کا استعمال نہ کیا جائے۔ایک سال بعد کل میں نے دعوت اسلامی کے ذمہ داروں سے اس بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اب مدنی چینل پر اور تحریروں میں بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے لفظ میٹھا کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔
ہم نے یہ فتوی اسی لئے انھیں بھیجا تھاکہ دعوت اسلامی ہماری تحریک ہے۔اس کی اصلاح ہو جائے۔ارکان تحریک نے بھی یہی سمجھ کر میری بات پر توجہ دی کہ کوئی سنی آدمی ایک صحیح بات کا مطالبہ مجھ سے کر رہا ہے۔
یہ رشتۂ محبت کچھ اس طرح نبھے گا
کچھ تم قدم بڑھاؤ کچھ ہم قدم بڑھائیں
بعض احباب نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لفظ میٹھا"پیارا"کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ اسی عرف کے سبب ارکان دعوت اسلامی نے پیارے کی جگہ میٹھے کا استعمال رائج کر دیا ہو۔
سال 2014 میں متعدد امور سے متعلق ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داروں سے تحریری وضاحت طلب کی تھی۔فقیہ ملت مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی عبد الحلیم ناگپوری علیہ الرحمۃ والرضوان نے رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعہ مجھے تفصیلات بھیجی تھیں۔
اس پوسٹ میں تحریک دعوت اسلامی کے اصول وقوانین کے کاغذات اور دیگر امور کی وضاحت تھی۔نماز میں بدمذہبوں کی اقتدا کا انکار اور رد بدمذہباں کا اقرار تھا۔دستور العمل ہی میں امام احمد رضا قادری اور حسام الحرمین کا زکر ہے۔ان شاء اللہ تعالی حسب ضرورت تفصیل رقم کی جائے گی۔
دعوت اسلامی اہل سنت وجماعت ہی کی تحریک ہے۔چوں کہ تحریک کے ذمہ داران ومبلغین طبقۂ عوام سے ہیں,پس کچھ خامی بعید نہیں۔ہمیں موقع بہ موقع تحریک کے طریق کار کا جائزہ لیتے رہنا ہو گا۔اصحاب تحریک کو اللہ تعالی نے یہ ہمت وحوصلہ عطا فرمایا ہے کہ جب کوئی لغزش وخامی کا علم ہو جاتا ہے تو اس سے توبہ ورجوع کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی انھیں توفیق احسن کی دولت سے ہمیشہ مالامال رکھے:آمین
06:مارچ 2013 کو ہم نے دعوت اسلامی(ہند)کے ذمہ داران کو جامعہ حضرت نظام الدین اولیا(دہلی)میں ایک مٹنگ کے لئے بلایا تھا۔محترم حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری اور احمد آباد کے4/3ذمہ داران مرکزی مجلس شوری کی اجازت لے کر ہماری مٹنگ میں شریک ہوئے۔اسی مٹنگ میں حاجی غلام یسین صاحب ناگپوری نے کہا تھا کہ مختلف فیہ فقہی مسائل کے علاوہ دیگر مسائل میں اگر دعوت اسلامی میں کوئی بات مسلک اعلی حضرت کے خلاف ہے تو ہم توبہ پہلے کریں گے اور سانس بعد میں لیں گے,اور یہی نظریہ دعوت اسلامی کے مرکزی اراکین ومنتظمین اور امیر دعوت اسلامی کا ہے۔
جب حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان اور ہمارے استاذ عالی المراتب حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس نے اس جانب توجہ دلائی کہ دعوت اسلامی میں بعض امور قابل اصلاح ہیں,تب ہم نے اس جانب پیش قدمی کی۔غالبا 2010 سے ہم نے رابطہ شروع کیا۔ہمارے استاذ گرامی دام ظلہ العالی یا مرشد گرامی قدس سرہ العزیز کا مقصد اصلاح ہے۔شکست وریخت یا توڑ پھوڑ ہرگز مقصود نہیں:فافہم وتدبر
دینی وملی خدمات انجام دینے والے افراد وشخصیات,مدارس وتحریکات,خانقاہوں,اشاعتی اداروں,محررین ومقررین اور علما ودانشوران کی تائید وحمایت اور ان کی حوصلہ افزائی وتشجیع وترغیب پر مشتمل کلمات ہمارے متفرق مضامین میں مرقوم ومسطور ہیں۔ہماری جانب سے یہ کوئی امر جدید نہیں۔جو حضرات ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کو تسلیم کرتے ہیں۔وہ سنی اور ہمارے دینی بھائی ہیں۔طرز عمل کااختلاف ممکن ہے,لیکن اس سبب سے وہ مذہب اہل سنت سے خارج نہیں۔اکابر اہل سنت کےاقوال وفرمودات کے صحیح مطالب بیان کئے جائیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جون 2021
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/808696159757436/
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:19:جون 2021
https://www.facebook.com/100018511772807/posts/808696159757436/