🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
الشریعہ رحمہ اللہ، ص۴۵، تحقیق: ابوسہل نجاح عوض، ط: المقطم للنشر و التوضیع، قاہرہ، مصر)
حضور تاج الشریعہ جانشین مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ نے اپنی اس علمی،تحقیقی و تنقیدی گفتگو میں مندرجہ ذیل پیغام امت مسلمہ کو پہونچانے کی بہترین کوشش فرمائی ہے،ملاحظہ فرمائیں:
(۱)ایک ناقد و محقق کے لیے مناسب نہیں کہ کسی کی تحقیق خاص کر کسی حدیثی کی تحقیق کو دیکھ کر مرعوب ہوجائے اور بلاتحقیق و تفتیش آمنا و صدقنا کہے۔
(۲) اہل سنت و جماعت کے عوام پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر معاملہ خاص کر وہ معاملہ جس کا تعلق دین متین سے ہے، اس میں ضرور اپنے علماے اہل سنت ہی کی طرف رجوع کریں تاکہ حق سے انحراف کی کوئی سبیل پیدا نہ ہو۔
(۳) زیر بحث حدیث کے متعلق حدیثی محقق کی تحقیق قابل قبول نہیں؛ کیوں کہ اس نے جن علما و ناقدین کے اقوال سے استدلال کیا تھا وہ خود خاص اس حدیث کے موضوع ہونے کے قائل نہیں، البتہ ابن حزم نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے مگر خود ان کا استدلال ان کے دعوی کا ساتھ نہیں دے رہا ہے؛ اس لیے ان کی رائے قابل اعتماد نہیں۔
(۴) اس حدیث کے راوی جعفر نے بعض احادیث روایت کی جس کی بنا پر بعض لوگوں نے ان پر جرح و قدح کیا مگر چوں کہ یہ احادیث اصول شرع سے متصادم نہیں بلکہ ان میں سے بعض متواتر یا صحیح ہیں؛ اس لیے ان احادیث کی بنا پر جرح اور دیگر مبہم و محتمل جرح محل نظر ہے، خاص کر اس صورت میں کہ بعض ناقدین نے آپ کی توثیق بھی کی ہے۔
(۵) اس حدیث کے متعلق جو اکثر اقوال ہیں وہ یہی بتاتے ہیں کہ حدیث موضوع نہیں بلکہ ضعیف ہے بلکہ بعض رجحان کے مطابق اس حدیث کے حسن لغیرہ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
(۶) ابن حزم نامی شخصیت نے آیات سے بے محل استدلال کیا جو بہت ساری شرعی خرابیوں کی جامع اور بعض اوقات یہ جرح و قدح میں بہت سخت ثابت ہوئے ہیں یہاں تک کہ صحابی رسول ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کو بھی اپنی جرح و قدح کا نشانہ بنایا جو تمام صحابی کی جرح و قدح کے مترادف ہے۔
(۷) کشف کے ذریعہ بھی احادیث کی صحت ثابت ہوتی ہے؛ اسی لیے بعض اوقات محدثین کرام بعض احادیث کو موضوع یا ضعیف قرار دیتے ہیں مگر اہل کشف کے نزدیک وہ حدیث صحیح ہوتی ہے۔
(۸) راوی کتنا بھی ضعیف ہو، اس کی روایت کردہ حدیث کے متعلق موضوع ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ کبھی بہت جھوٹ بولنے والا بھی سچ بولتا ہے اور یہی مذہب محتاط ہے۔
(۹) اگر بر سبیل تنزل زیر بحث حدیث کو ضعیف مان لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ اس طرح کی حدیث فضائل کے باب میں معتبر اور قابل عمل ہے، نیز کوئی ایسی حدیث جس کی سند قوی نہیں بلکہ ضعیف یا شدید ضعیف ہے اور وہ اصول شرع سے متصادم نہیں تو اس پر بھی عمل کرنا جائز ہے ۔
اللہ تعالی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کی قبر انور پر رحمت و انوار کی بارش فرمائے، ہمیں ان کے علمی و عملی فیوض و برکات سے مالا مال کرے،ہم سب کو باطل سے بچنے، حق بولنے اور حق قبول کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہرشریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۳۰؍ذوالقعدۃ ۱۴۳۹ھ مطابق ۱۲؍اگست ۲۰۱۸ء
ای میل:amjadiazhari@gmail.com
موبائل نمبر:8318177138


https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=807336366560082&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عرس تاج الشریعۃ مبارک.

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

وارث علوم اعلی حضرت، جانشین مفتی اعظم ہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں ازہری علیہ الرحمۃ و الرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آ پ کی شخصیت عالمی شخصیت تھی، یوں تو آپ مختلف علوم و فنون میں ماہر تھے مگر علم فقہ اور علم حدیث میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی اور آپ کی نعت گوئی بھی خوب ہے، سن کر دل و دماغ پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہوجاتی ہے، علوم و فنون میں مہارت تو کوئی بھی محنت اور جد و جہد کرکے حاصل کرسکتا ہے، لیکن علم کے ساتھ عمل بھی کرنا، ہر گھڑی شریعت کا پاس و لحاظ رکھنے کی پوری کوشش کرنا، تقوی و پرہیزگاری اور تصلب فی الدین کو اپنا طرہ امتیاز بناناوغیرہ یہ ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتا، یہ اسی کے حصہ میں آتا ہے جسے اللہ تعالی اپنا محبوب بناتا ہے اور حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ کو اللہ تعالی نے اپنا محبوب بنایا ہے؛ کیوں کہ آپ کی زندگی میں عوام و خواص کا آپ سے بے پناہ محبت کرنا اور دار فانی سے رخصت ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں علما اور عوام کا آپ کے جنازہ میں شرکت کرنا، اللہ تعالی کے نزدیک اور فرشتوں کے جھرمٹ میں آپ کے محبوب ہونے کی واضح و بین دلیل ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
((إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا)) (مریم:19، الآیۃ:96) ترجمہ: ((بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عن قریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا)) (کنز الایمان)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
((إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ العَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الأَرْضِ)) (متفق علیہ)
ترجمہ: ((جب اللہ تعالی بندہ کو محبوب بناتا ہے؛ تو جبریل علیہ السلام کو ندا دے کر فرماتا ہے: بے شک اللہ تعالی فلاں بندہ کو پسند کرتا ہے، اے جبریل تم بھی اسے محبوب رکھو؛ تو جبریل علیہ السلام اسے محبوب رکھتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں کے درمیان یہ اعلان فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالی فلاں بندہ کو محبوب رکھتا ہے، تم بھی اسے محبوب رکھو؛ تو آسمان والے بھی اسے محبوب رکھتے ہیں، پھر اس فلاں شخص کو اہل زمین کے درمیان مقبولیت عطا کردی جاتی ہے))
اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ پوری دنیاے اہل سنت آپ کو جانتی اور مانتی ہے، آپ کے دست حق پرست پر سیکڑوں لوگ کفر کے اندھیرے کو چھوڑکر اسلام کی تابناک روشنی میں داخل ہوتے نظر آئے، ہزاروں بے راہ رو آپ کی حکیمانہ تبلیغ سے بے راہ روی کو چھوڑکر راوہ ست اختیار کرتے ہوئے دکھائی دئے اور لاکھوں کی تعداد میں عوام و خواص آپ کی بیعت و ارادت میں شامل ہوکر خوشی و سعادت محسوس کر رہے ہیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خداے بخشندہ
ایک حاکم جب ملک فتح کرتا ہے؛ تو اس کے لیے قوت اور طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، تب جاکر کہیں اسے ملک اور قوم کے اعصاب پر راج کرنے کا موقع ملتا ہے، مگر قربان جائیے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کی ذات پر کہ جنہوں نے طاقت و قوت کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور حکیمانہ زندگی سے ملک اور لوگوں کے جسم پر نہیں بلکہ ان کے دلوں پر راج کیااور یوں ان کے دلوں کی فتح و نصرت آپ کے حصہ میں آئی، کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے:
وہ اداے دلبری ہو کہ نواے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ
آپ علم و حکمت میں بھی یگانہ روزگار تھے؛ یہی وجہ ہے کہ آپ کے رشحات قلم سے متعدد علمی و تحقیقی تصنیفات وجود میں آئیں، آپ کے علم و حکمت اور خطاب نایاب سے صرف متعدد صوبے یا ایک ملک ہندوستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ عرب و عجم میں کئی ملک کے لوگ مستفید ہوئے، آپ کے علم، تقوی و پرہیزگاری اور تصلب فی الدین کو علماے عرب و عجم بلکہ علماے جامعہ ازہر ،مصر نے بھی نگاہ تحسین سے دیکھنے کے ساتھ آپ کے اس وصف محمود کو سراہا، آپ اہل سنت و جماعت کے بے مثال رہنما تھے، آپ سنیت کی جان تھے، آپ سنیت کی آن بان شان تھے، آپ نے اپنی پوری زندگی مسلک اعلی حضرت یعنی مسلک اہل سنت و جماعت کے لیے وقف کردی تھی؛ انہی تمام اوصاف حمیدہ اور بے لوث قربانیوں ہی کی وجہ سے جب آپ کے دار فانی سے کوچ کرنے کی جانکاہ خبر ۶؍ذوالقعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۰؍جولائی ۱۸ء سنیچر کی رات بعد مغرب عالم اسلام میں ہوا کی طرح پھیلی؛ تو اہل سنت تو اہل سنت غیروں کی بھی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، دل اضطراب کا شکار ہوگیے، چین و سکون غارت ہوگیا، لوگوں پر ایک لمحہ کے لیے سکتہ طاری ہوگیا اور جب ہوش میں آئے؛ تو پورے عالم اسلام سے علماے کرام اور پیران عظام تعزیتی خطوط بھیجنے لگے
اور مختلف ممالک سے عوام و خواص سبھی لوگ آپ کی ایک جھلک دیکھنے اور آپ کے مبارک جنازہ میں شرکت کے لیے اپنے مرکز عقیدت بریلی شریف کا رخت سفر باندھ لیا، دیکھتے ہی دیکھتے بریلی شریف میں سیلاب کی طرح لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوگیے، جدھر نظر دوڑائیے صرف انسانوں کے ہی سر نظر آرہے ہیں! بالآخر تمام محبین و مخلصین نے اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر ۸؍ذو القعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۲؍جولائی ۱۸ء بروز اتوار صبح ۱۱؍ بجے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد اپنی پرنم آنکھوں سے اس مرد مجاہد اور مرد قلندر کو بریلی شریف کی سرزمین پر ازہری گیسٹ ہاؤس میں سپر دخاک کیا۔
ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
اللہ تعالی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قرب عطا فرمائے، اہل سنت و جماعت کو آپ کا نعم البدل عطا کرے، آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا عسجد رضا صاحب قبلہ دام ظلہ، دیگر اہل خانہ اور اعزا و اقربا کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور ہم سب کو عملی طور پر سچی محبت کرکے آپ کے نقش قدم پر چل کر دین و سنیت اور مسلک اعلی حضرت کی بیش بہا خدمت کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
طالب دعا:
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
ای میل: amjadiazhari@gmail.com
۱۲؍ذوالقعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۶؍جولائی ۱۸ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=807337136560005&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
مبسملا وحامدا::ومصلیا مسلما

دعوت اسلامی میں فکر رضا کی جلوہ سامانیاں

جب کسی مسلمان کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ صراط مستقیم سے پھٹک سکتا ہے,یا غلط راہ پر جا چکا ہو تو اس کے دل میں محبت نبوی اور عشق مصطفوی کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی جائے,تاکہ وہ اپنے رسول کی طاعت اختیار کرے اور راہ حق پر مستحکم وقائم ہو جائے,کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے,اور اس میں فرحت وشادمانی اور لذت روحانی محسوس کرتا ہے۔

حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:

تعصی الالہ وانت تظہر حبہ
ہذا محال فی القیاس بدیع

ترجمہ:تم اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہو اور اس کی محبت ظاہر کرتے ہو۔یہ محال ہے اور عقل کے نزدیک ایک اختراعی بات ہے۔

لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ان المحب لمن یحب مطیع

ترجمہ:اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو ضرور تم رب تعالی کی فرماں برداری کرتے۔بے شک محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے۔

جب کوئی مومن حضور اقدس سرور دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خوب محبت کرنے لگتا ہے تو وہ ہر امر میں یہ تلاش کرتا ہے کہ اس بارے میں ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم کیا ہے؟وہ کسی شخصیت کا منہ نہیں دیکھتا,خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم الشان ہو,بلکہ وہ حکم مصطفوی کو ہر اس مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے,جہاں اسے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم ملنے کی امید ہو۔

امام احمد رضا قادری کے عہد میں برصغیر میں اعتقادی فتنوں کا سیلاب آ چکا تھا۔غیر مقلدیت,دیوبندیت,قادیانیت,ندویت,نیچریت ودیگر فتنے عروج پر تھے۔امام احمد رضا قادری نے نظم ونثر ہر دو صنف کے ذریعہ قوم مسلم کو عشق مصطفوی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی,یہاں تک کہ بر صغیر کی فضا عشق محمدی ومحبت مصطفوی کی خوشبو سے مشکبار ہو گئی۔

جب قوم کے دلوں میں عشق مصطفوی کی قندیل روشن ہو جائے گی تو قوم کا ہر فرد درپیش امر سے متعلق پکارے گا کہ اس بارے میں ارشاد مصطفوی کیا ہے؟حکم نبوی کیا ہے؟شریعت محمدی کا فیصلہ کیا ہے؟

عشق کی اس منزل میں پہنچ کر کوئی عاشق رسول(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) اپنے پیر واستاذ کو نہیں دیکھتا ہے,بلکہ اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے صحیح حکم کو تلاش کرتا ہے,خواہ احکام صحیحہ بتانے والا کوئی بھی ہو۔استاذ وپیر ہو,یا کوئی دوسرے عالم۔

امام احمد رضا قادری لوگوں کو عشق مصطفوی کی ترغیب بھی دے رہے تھے اور ارشادات نبویہ واحکام مصطفویہ سے بھی قوم مسلم کو آشنا کر رہے تھے۔


تحریک دعوت اسلامی نے بھی قوم مسلم کو عشق محمدی کی جانب لانے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی نے یہ حسین تصور اور اثر آفریں فکر ارکان دعوت اسلامی کو ودیعت فرمائی۔

جامعۃ المدینہ,فیضان مدینہ,مدرسۃ المدینہ,دار المدینہ,مکتبۃ المدینہ,مدنی ماحول,مدنی پھول,مدنی منا,مدنی ترکیب,قفل مدینہ وغیرہ اصطلاحات واسما ایک مومن کے قلب وذہن اور فکر ونظر کو دربار حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کی جانب کشاں کشاں لے جاتے ہیں۔

تحریک دعوت اسلامی لوگوں کو امام احمد رضا قادری کی تعلیمات سے بھی آشنا کر رہی ہے,اور ان کی تعلیمات پر عمل کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔امیر دعوت اسلامی(جزاہ اللہ تعالی عنا وعن جمیع المسلمین)کو عاشق اعلی حضرت بھی کہا جاتا ہے۔

تحریک دعوت اسلامی فکر رضا کی صحیح ترجمانی کر رہی ہے۔یہ لوگ فکر رضا کے سچے مبلغین ہیں۔

ہمارے ایک قابل اعتماد لاہوری دوست نے بتایا کہ جب دعوت اسلامی کے مبلغین کو کسی امر سے متعلق کہا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ اس بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟ حکم شرع بتاؤ۔

اگر یہ مبلغین حقیقت میں ایسا ہی کہتے ہیں تو ٹھیک اسی راہ پر گئے ہیں,جس راہ پر امام احمد رضا قادری قوم مسلم کو لے جانا چاہتے تھے۔

اگر یہ مبلغین یہ کہتے کہ ہمارے امیر نے ایسا کہا,یا ہمارے پیر نے ایسا کہا,یا ہمارے استاذ نے ایسا کہا,اس لئے ہم نے ایسا کیا تو یہ شبہہ ہوتا کہ شاید یہ لوگ دیوبندی طرز فکر کے قریب جا رہے ہیں۔دیابنہ اپنے استاذ وپیر کی محبت میں حکم شرع سے غافل ہو گئے۔دیابنہ نے ناموس رسالت پر اپنے پیروں اور استاذوں کی عزت وناموس کو ترجیح دی اور اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی صریح بے ادبیوں کے باوجود اپنے پیروں اور استاذوں سے جدا نہ ہوئے۔

مجھے تو وہی لوگ پسند ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہوں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔میں قوم مسلم کو اسی لئے امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان ان ہی کی طرح سنی صحیح العقیدہ رہیں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔اپنے روز وشب کو تصور مصطفوی میں مستغرق رکھیں۔
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
جب کوئی باطنی طور پر خود کو دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا میں حاضر کر لیتا ہے تو اس کی نظر بھی بدل جاتی ہے اور نظریہ بھی بدل جاتا ہے۔وہ جب اہل سنت وجماعت کے تمام طبقات یعنی حنفی,مالکی,شافعی,حنبلی,اشعری وماتریدی,قادری,چشتی,نقشبندی وسہروردی کو دربار اعظم میں قبولیت سے سرفراز پاتا ہے تو طبقاتی عصبیت اس کے قلب وذہن سے غائب ہو جاتی ہے۔

مقبول ومردود کا فرق مشکل نہیں۔جن کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا:(لا تجالسوہم ولا تواکلوہم:الحدیث)۔ایسے لوگ مردود بارگاہ ہیں۔خواہ وہ مرتد ہوں,یا بدمذہب۔

سوال:محض عشق نبوی سے ہمیں کیسے معلوم ہو گا کہ کون دربار رسالت میں مقبول ہے اور کون مردود؟

جواب:ہم نے متعدد مضامین میں وضاحت کر دی ہے کہ عہد حاضر کے بدمذہبوں کی تعیین وتشخیص اور ان کے شرعی احکام امام احمد رضا قادری نے بیان فرما دیئے ہیں۔اس بارے میں ان کے فتاوی اور کتب ورسائل دیکھ لیں۔

جب کوئی خود کو دربار اعظم سے منسلک کرے گا تو اس کا باطن طاعت مصطفوی کی طرف مائل وراغب ہو گا۔امام احمد رضا کا پتہ اسی لئے بتا رہا ہوں کہ حسب ضرورت ان سے شرعی احکام ومسائل دریافت کر لو۔ان کی تعیین وتشخیص اس لئے کرتا ہوں کہ ماضی قریب میں ان کو ہی دربار اعظم سے شرعی احکام ومسائل کی تحقیق وتبلیغ کے واسطے مقرر کیا گیا تھا۔مقرر کردہ خدام دین کو مجدد کہا جاتا ہے۔

دعوت اسلامی اور حسام الحرمین

تحریک دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین"حسام الحرمین"کو اعلانیہ طور پر مانتے ہیں۔دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین اعتقادی طور پر متصلب سنی ہیں۔یہ لوگ ندوی فکر یعنی صلح کلیت کے حامی وقائل نہیں۔صلح کلیت یہ ہے کہ ہر ایک فرقہ کو اہل حق سمجھا جائے۔جب دعوت اسلامی حسام الحرمین کو مانتی ہے تو بدمذہبوں کو اہل حق نہیں مانتی ہے,بلکہ نگاہ شریعت میں وہ لوگ جیسے ہیں,انہیں ویسا ہی مانتی ہے۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ شرفہ کی کتاب"کفریہ کلمات کے بارے میں سوال وجواب"(مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ)ص84-85میں حسام الحرمین کی تصدیق مرقوم ومطبوع ہے۔

مدنی چینل کا قیام

ماضی قریب میں پاکستان کے سب سے بڑے عالم اہل سنت غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی(1913-1986)ٹی وی کے جواز کے قائل تھے۔یہ ٹی وی کی تصویر کو تصویر نہیں مانتے تھے۔اس سبب سے اکثر علمائے پاکستان ٹی وی کے جواز کے قائل ہوئے۔جمعیت علمائے پاکستان,تنظیم المدارس, تحریک تحفظ ختم نبوت اور تحریک دعوت اسلامی کے قیام میں حضرت علامہ کاظمی علیہ الرحمۃ وارضوان کا اہم کردار رہا ہے۔

ارکان دعوت اسلامی نے علمائے پاکستان کے قول جواز کے پیش نظر"مدنی چینل"تشکیل دی۔اس سے قبل"کیو ٹی وی"(Q TV)نے دنیا بھر میں قبولیت حاصل کر لی تھی۔یہ چینل ایک مشترکہ پلیٹ فارم تھا,جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے بیانات نشر ہوتے تھے۔

مدنی چینل کے مثبت نتائج ظاہرہوئے۔بے شمار لوگ گناہوں سے تائب ہوئے۔بہت سے لوگ بدمذہبیت سے تائب ہوئے۔دنیا کےدوسو ممالک میں مدنی چینل کے ذریعہ دعوت وتبلیغ کی خدمت انجام دی جا رہی ہے۔


سلسلہ رضویہ کی عظیم الشان شاخ

امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کے مرید وخلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری رضوی علیہ الرحمہ(1877-1981) کے مرید ہیں,اور قطب مدینہ کے خلیفہ حضرت مولانا عبد السلام فتح پوری قادری رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان(1925-1998)کے خلیفہ ہیں۔

عہد حاضر میں مولانا موصوف کے ذریعہ سلسلہ رضویہ کو ساری دنیا میں فروغ ملا۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ فضلہ کے مریدین کی تعداد کئی لاکھ ہے۔عصر حاضرمیں ان سے جاری ہونے والا سلسلہ عطاریہ,سلسلہ رضویہ کی بہت بڑی شاخ ہے۔

تحریک دعوت اسلامی کا قیام

تحریک دعوت اسلامی کا قیام 1401 مطابق 1981 میں علمائے اہل سنت وجماعت کے مشورہ کے مطابق ہوا۔

02:ستمبر 1981 کو حضرت علامہ شاہ احمد نورانی کی رہائش گاہ پر کراچی میں ایک دعوتی تنظیم کے قیام کے لئے حضرت علامہ ارشد القادری,حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی,حضرت علامہ شاہ احمد نورانی,حضرت مفتی وقار الدین رضوی علیہم الرحمۃ والرضوان نے میٹنگ کی۔حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ کو اس دعوتی تحریک کے قیام وفروغ کے لئے منتخب کیا گیا۔مولانا موصوف پہلے بھی دعوتی وتبلیغی خدمات انجام دیتے تھے۔تحریک کے قیام کے بعد منظم انداز میں کام کرنے لگے۔

یہ عوام اہل سنت کی تبلیغی تحریک ہے۔رفتہ رفتہ اس تحریک نے اپنا دائرۂ کار وسیع کر لیا۔اس کے پاس دینی خدمات کے سو سے زائد شعبے ہیں۔یہ تحریک مختلف قسم کی خدمات انجام دیتی ہے اور دنیا کے دو سو ممالک میں اس کی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔

دنیا کی کوئی غیر حکومتی تنظیم(NGO)شاید ہی اس کے مساوی ہو,جب کہ یہ تحریک چالیس سال قبل ہی قائم ہوئی ہے۔یہ ایک جدید تحریک ہے۔

بدمذہبوں کی بوکھلاہٹ
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
الیاس کاندھلوی نے دیوبندی مذہب کے فروغ کے لئے 1926 میں تبلیغی جماعت قائم کی۔اس کے قیام کو 95 سال ہو گئے۔اس کا دائرۂ کار بھی وسیع ہے,لیکن دعوت اسلامی کے بالمقابل اس کی کوئی خاص حیثیت نہیں۔

دعوت اسلامی کی وسعت وترقی دیکھ کر تمام بدمذہب فرقے بلبلا اٹھے ہیں۔دعوت اسلامی کے خلاف ہم نے مدرسہ دیوبند کا فتوی بھی دیکھا ہے اور غیر مقلدین کی معاندانہ تحریریں بھی۔خاص کر مدنی چینل کے ذریعہ مذہب ایل سنت کو کافی فروغ حاصل ہوا۔لوگ بدعقیدگی سے بھی محفوظ ہوئے اور انھیں اصلاح اعمال کا بھی موقع میسر آیا۔

جو لوگ جلسوں اور محفلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے,ان لوگوں نے مدنی چینل سے استفادہ کیا اور مذہب اہل سنت وجماعت سے وابستہ رہے۔جو بدمذہب ہو چکے تھے,یا بدمذہبیت کی جانب مائل تھے,وہ صحیح العقیدہ سنی بن گئے۔

دعوت اسلامی نے دنیا بھر میں وہابی فکر کی تبلیغ واشاعت کی روک تھام کے لئے قابل تحسین اقدام کیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اکیسویں صدی امام احمد رضا کی صدی ہو گی۔ممالک عالم میں فکر رضا کو فروغ وعروج حاصل ہو گا اور دنیا بھر میں عشق مصطفے علیہ التحیۃ والثنا کے ترانے گونجیں گے۔

دعوت وتبلیغ کے لئے ہمارے پاس تحریک دعوت اسلامی ہے۔مسائل شرعیہ کی تحقیق وتدقیق کے لئے برصغیر میں متعدد فقہی مجالس ہیں,مثلا شرعی کونسل(بریلی شریف),مجلس شرعی(مبارک پور),مجلس تحقیقات شرعیہ(دعوت اسلامی)-

ہمارے پاس بہت سی سنی خانقاہیں ہیں جو مسلک اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں مصروف ہیں,مثلا خانقاہ برکاتیہ(ماریرہ مطہرہ),خانقاہ اشرفیہ(کچھوچھہ مقدسہ),خانقاہ رضویہ(بریلی شریف)-تعلیم وتدریس کے لئے بہت سے ادارے ہیں,مثلا جامعہ منظر اسلام وجامعۃ الرضا(بریلی شریف)جامعہ اشرفیہ(مبارک پور),جامعہ رضویہ(لاہور)۔

بطور مثال چند خانقاہوں اور اداروں کا ذکر کیا گیا۔استیعاب کی گنجائش نہیں۔

فکر رضا سے وابستہ بے شمار علمائے اہل سنت ومشائخ طریقت ومفتیان شریعت عرب وعجم میں مختلف قسم کی دینی,ملی,اشاعتی,تحقیقی ودیگر خدمات میں مصروف عمل ہیں۔ہماری تمام خانقاہیں,ادارے,تنظیمیں اور علما ومشائخ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی تعلیمات پر مستحکم وقائم ہیں۔ان میں ربط باہم کی ضرورت ہے:لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:جون 2021
بروز: جمعہ مبارکہ۔بعد نماز عصر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
تجارت اور ہمارا معاشرہ

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں

بعض پیشوں کو گھٹیا
اور
باعث عار سمجھنا
صرف اس دور کی لعنت ہے
آج کل جو شخص پھیری لگا کر
کندھے پر گٹھڑی رکھ کر
کپڑا بیچتا ہو
اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں
مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے
امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ
بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،
ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں،
عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں
یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔

علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔
ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے
اور
درس نظامی میں شامل ہے،
القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔

علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ
ایک فقیہ ہیں
عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں
جو چٹائی بناتا ہو۔

امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔
انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔
عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔

آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے،
جوتیوں کی مرمت کرنے والے
مٹی کے برتن بنانے والے
چٹائی بنانے والے
اور
لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے
اور پوش علاقوں میں رہنے والے
ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے
لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔
اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا
اور
کسی پیشہ کو خسیس
اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے،
اسمگلنگ کرنے والے،
نفلی دوائیں بنا کر بیچنے والے
اور ناجائز اور حرام ذرئاع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے،
بینک بیلنس والے عزت دار ہیں
اور
رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔
( تفسیر تبیان القرآن )

✍️ ابو معاویہ قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
📍 *چند اہم گزارشات* 📍

👈 *رابطے میں رہنا* ذمہ داری کا ایک اہم تقاضا ہے
رابطے میں رہنے کا ایک ذریعہ رپلائی کرنا ہے

👈ہمارا نگران ہو یا ماتحت
جس نے بھی ہم سے میسج، کال، واٹس اپ پر رابطہ کیا
*اسے رپلائی کرنا ہماری تنظیمی و اخلاقی ذمہ داری ہے*

👈اگر کسی ذاتی و تنظیمی مصروفیت
(مثلاً سفر، مدنی مشورہ، نماز وغیرہ)
کی وجہ سے بروقت رپلائی نہ کرسکیں تو مصروفیت ختم ہوتے ہی رپلائی کر دینا چاہیے
مثلاً کال بیک کرنا، میسج یا واٹس اپ کا جواب دینا

📣 *نوٹ۔۔۔*
بعض واٹس اپ اطلاع والے ہوتے ہیں
ان کا رپلائی کرنا لازمی نہیں ہوتا
مگر
بعض واٹس اپ ہوتے ہی سوالیہ ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے
جواب نہ دینا دوسرے کو تشویش، پریشانی میں مبتلا کرتا ہے
بعض اوقات بدگمانیوں کے دروازے کھلتے ہیں

👈جتنی بھی مصروفیت ہو
*اپنا ذہن بنا لیجیے کہ رات سونے سے پہلے میں نے تمام پینڈنگ واٹس اپ، میسج کا رپلائی کرکے سونا ہے*

👈کام ہو یا نہ ہو، رپلائی ضرور دینا چاہیے

⚠️ *یاد رکھیں* ⚠️

*بروقت رپلائی کرنا آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے*
جبکہ
*رپلائی نہ کرنا آپ کی شخصیت کو Damage کرتا ہے*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
نفس و شیطان کے چنگل سے
حرمت والے مہینوں کے بارے میں
مہمان کی خوش دلی سے خدمت
احسان جتلانے والے | جتانے والے
انسان کے غرور کی اوقات
اپنی غلطی تسلیم کرنا در اصل
جو تکبر کے تاج کو دور پھینکتے
تکبر چاہے دولت کا ہو یا طاقت کا
جلدی میں ندامت وقار و اطمینان
مریض کی دعا فرشتوں کی مانند