🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
سوال نمبر65۔ تاج الشریعہ نے اپنی نگرانی میں کس سنہ میں ماہنامہ جاری کیا اور اس کانام کیا ہے ؟
جواب :۔ 1983ء میں اپنی نگرانی میں ماہنامہ جاری کیا جس کانام سنی دنیا ہے ۔

سوال نمبر66۔ رضا جامع مسجد کی امامت وخطابت تاج الشریعہ کو کب سے سپرد ہوئی تھی ؟
جواب:۔ دوران طالب علمی ہی سے والد ماجد نے رضا جامع مسجد کی امامت وخطابت
آپ کے سپرد کر دی تھی ۔

سوال نمبر67۔ تاج الشریعہ کتنی زبانوں میں خطاب فرماتے تھے ؟
جواب:۔ تین زبانوں میں:ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں اردو میں ،عرب مماملک
میں عربی میں اور یوروپ میں انگلش میں ۔

سوال نمبر68۔ تاج الشریعہ عربی ،فارسی ،انگریزی اور اردو کے علاوہ اور کن کن زبانوں کو
بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے ؟
جواب :۔ ہندی ،سنسکرت ،میمنی،گجراتی،مراٹھی،پنجابی،بنگالی،تیلگو،کنڑ،ملیالم اور
بھوجپوری بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔

سوال نمبر 69۔ تاج الشریعہ کتنے علوم وفنون میں مہارت رکھتے تھے ؟
جواب:۔ 36 ؍علوم وفنون میں۔

سوال نمبر 70۔ تاج الشریعہ کتنی قراء ت کے ماہر تھے ؟
جواب:۔ قراء ت عشرہ کے ماہر تھے ۔

سوال نمبر 71۔ عام طور پر تاج الشریعہ کس لہجے میں تلاوت قرآن کرتے تھے ؟
جواب :۔ مصری لہجے میں ۔

سوال نمبر 72۔ تاج الشریعہ کی پانچ اردو کتابوں کانام بتائیں ؟
جواب:۔ ( 1) شرح حدیث نیت، (2) ؍ہجرت رسول، ( 3) آثار قیامت، (4) ٹائی کامسئلہ
( 5) تین طلاقوں کاشرعی حکم ۔

سوال نمبر73۔ تاج الشریعہ کی پانچ عربی کتابوں کانام بتائیے ؟
جواب:۔( 1) الحق المبین( 2) الصحابۃ نجوم الاہتداء ( 3) شرح حدیث الاخلاص ( 4) سد المشارع علی من یقول ان الدین یستغنی عن الشارع ( 5) مراۃ النجدیہ بجواب البریلویہ ۔

سوال نمبر 74۔ اعلیٰ حضرت کے ان پانچ کتابوں کانام بتائیں ،تاج الشریعہ نے جن
کاترجمہ عربی میں کیا؟
جواب :۔ ( 1) اہلاک الوہابیین ، (2) الہاد الکاف فی حکم الضعاف( 3) برکات الامداد(4) قوارع القہار( 5) سبحان السبوح۔

سوال نمبر 75۔ تاج الشریعہ کی نعتوں کا مجموعہ کس نام سے شائع ہوا ؟
جواب :۔ سفینۂ بخشش .

سوال نمبر 76۔ امریکہ کی جارج ٹائون یونیورسٹی کے اسلامک کرسچن انڈر اسٹینگ سینٹر نے
500بااثر شخصیات کی جو فہرست تیار کی ،اس میں تاج الشریعہ کو کتنے نمبر پر رکھاگیا ؟
جواب :۔ 28ویں نمبر پر۔

سوال نمبر 77۔ 2009 ء میں جامعہ ازہر مصر کی طرف سے آ پ کو جو ایوارڈ ملا تھا اس کاکیانام تھا ؟
جواب :۔ الذراع الفخری۔

سوال نمبر 78۔ تاج الشریعہ نے کتنے حج کیے اور کب کب ؟
جواب :۔ آپ نے چھ حج کیے: پہلا 1403ھ مطابق 1983ء ، دوسرا 1405ھ مطابق
1986ء ،تیسرا 1406ھ مطابق 1987ء ،چوتھا 1429ھ مطابق
2008ء،پانچواں 1430 ھ مطابق2009 ء،چھٹا 1431 ھ مطابق 2010 ء۔

سوال نمبر 79۔ کس حج کے موقع پرتاج الشریعہ کو احقاق حق اور ابطال باطل کی بنیاد پر
سعودی حکومت نے گرفتار کرلیا۔
جواب:۔ 1405ھ مطابق 1986ء میں دوسرے حج کے موقع پر ۔

سوال نمبر 80 ۔ سعودی حکومت نے آپ کو کتنے دنوں تک جیل میں رکھا ؟
جواب:۔ گیارہ دن جیل میں رکھ کر بغیر مدینہ شریف کی زیارت کرائے ہندوستان بھیج دیا ۔

سوال نمبر81۔ 1989 ء میں جناب عثمان عارف نقش بندی گورنر آف اتر پردیش نے آپ
کی بارگاہ میں کس حکومتی عہدے کی پیش کش کی جسے تاج الشریعہ نے قبول نہیں کیا ۔
جواب:۔ حکومت اترپردیش کی جانب سے ایم ۔ایل ۔سی نامزد کرنے کی پیش کش کی
گئی تھی جسے آپ نے قبول نہیں فرمایا ۔

سوال نمبر 82۔ تاج الشریعہ کو شرف بیعت کس بزرگ سے حاصل ہے ۔
جواب:۔ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے حاصل ہے۔

سوال نمبر 83 ۔ تاج الشریعہ کس عمر میں داخل سلسلہ ہوئے۔
جواب:۔ بچپن ہی میں تاج الشریعہ حضور مفتی اعظم ہند سے داخل سلسلہ ہوئے۔

سوال نمبر 84۔ کس عمر میں تاج الشریعہ کو مفتی اعظم ہند نے تمام سلاسل کی اجازت و
خلافت عطا فرمائی۔
جواب:۔ 19 ؍سال کی عمر میں 15؍ جنوری 1962 ء مطابق 8؍ شعبان 1381 ھ میں ایک
میلاد کی محفل میں مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی
اجازت و خلافت اور تمام اوراد و وظائف کی اجازت مرحمت فرمائی ۔

سوال نمبر 85۔ اس محفل میں کون کون سے علماء ومشائخ موجود تھے۔
جواب:۔ مجاہد ملت حضرت علامہ حبیب الرحمان عباسی علیہ الرحمہ ، برہان ملت مفتی
برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ،علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ ، مولانا
قاضی شمس الدین جعفری جونپوری ، مولانا انوار احمد شاہجہاں پوری،وغیرہ
جید علما ء ومشائخ موجود تھے۔
سوال نمبر 86 ۔ مار ہرہ شریف کے کس بزرگ نے تاج الشریعہ کو مجمع عام میں جانشین مفتی
اعظم کہہ کر سلسلہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی خلافت و اجازت مرحمت فرمائی ۔
اور وہ کون سی تاریخ تھی۔
جواب:۔ 14؍ ،15،نومبر 1984ء کو مار ہرہ مطہرہ میں عرس قاسمی کی تقریب میں حضور
احسن العلماء حضرت مفتی سید حید ر حسن میاں برکاتی علیہ الرحمہ نے آپ کو
جانشین مفتی اعظم کہہ کر خلافت واجازت عطا فرمائی۔

سوال نمبر 87 ۔ مفتی اعظم اور حضور احسن العلما ء کے علاوہ اور کن کن بزرگوں نے آپ کو
خلافت عطا فرمائی۔
جواب۔ سید العلماء حضرت مولانا شاہ سید آل مصطفی برکاتی مار ہروی علیہ الرحمہ اور
خلیفہ اعلی حضرت حضرت مفتی برہان الحق رضوی جبل پوری علیہ الرحمہ نے ۔

سوال نمبر 88۔ حضور تاج الشریعہ کا عقد مسنون کس تاریخ کو کس معزز خاتون سے ہوا۔
جواب۔ آپ کا عقد مسنون شعبان المعظم 1388ھ مطابق 3؍ نومبر1967 ء بروز
اتوار حضرت علامہ حسنین رضا خان علیہ الرحمہ کی سب سے چھوٹی
صاحبزادی سلیم فاطمہ عرف اچھی بی سے ہوا۔

سوال نمبر 89۔ تاج الشریعہ کی اہلیہ محترمہ کی خوبیاں بیان کیجیے ۔
جواب ۔ تاج الشریعہ کی اہلیہ محترمہ حسن کردار ، تقویٰ و طہارت ، مہمان نوازی ، غرباء
پروری ،انصاف و دیانت ،سخاوت اور پابندیٔ شریعت میں انوکھی شان
رکھتی ہیں۔حلقۂ ارادت میں پیرانی اماں سے مشہور و معروف ہیں۔

سوال نمبر 90۔ تاج الشریعہ کے کتنے صاحبزادے اور صاحبزادیاں ہیں؟
جواب ۔ پانچ صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ ہیں۔

سوال نمبر 91۔ تاج الشریعہ کے صاحبزادے کا کیانام ہے؟
جواب ۔ حضرت مولانا مفتی عسجدرضا خان

سوال نمبر 92۔ حضرت مولانا مفتی عسجد رضا خان کی ولادت کب اور کہاں ہو ئی ؟
جواب :۔ 14؍شعبان المعظم 1390ھ مطابق 1970ء کو محلہ خواجہ کتب بریلی شریف میں ہوئی۔

سوال نمبر 93۔ تاج الشریعہ کی صاحبزادیوں کا کیانام ہے ؟
جواب ۔ آسیہ فاطمہ، سعدیہ فاطمہ، قدسیہ فاطمہ، عطیہ فاطمہ، ساریہ فاطمہ۔

سوال نمبر 94۔ تاج الشریعہ کا وصال کب اور کہاں ہوا ؟
جواب ۔ 20؍جولائی 2018ء مطابق 7؍ذی قعدہ 1439ھ بروز جمعہ بوقت مغرب
7/بجکر35منٹ پر اپنے گھر بیت الرضاکی پہلی منزل میں ۔

سوال نمبر 95۔ تاج الشریعہ کو غسل کن لوگوں نے دیا ؟
جواب :۔ محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیا ء المصطفیٰ قادری ،حضرت علامہ مفتی عسجد رضا خان،
حضرت مفتی عاشق حسین مصباحی ،حضرت مولانا سلمان رضا خان ،
حضرت مولانا منسوب علی خان ،حضرت مولانا برہان میاں۔

سوال نمبر 96۔ تاج الشریعہ کی نماز جنازہ کہاں پڑھی گئی اور کس نے پڑھائی ؟
جواب ۔ اسلامیہ انٹر کالج بریلی شریف میں حضرت مفتی عسجد رضا خان قاضیٔ شہر
بریلی شریف نے پڑھائی ۔

سوال نمبر 97۔ تاج الشریعہ کی نماز جنازہ میں کتنے لوگوں نے شرکت کی؟
جواب ۔ حکومتی آنکڑے کے مطابق ایک کروڑ ،33؍لاکھ لوگوں نے شرکت کی ۔

سوال نمبر 98۔ تاج الشریعہ کی نماز جنازہ کس تاریخ اور کس وقت میں ادا کی گئی ؟
جواب :۔ 22؍ جولائی 2018ء مطابق 8؍ذی قعدہ 1439ھ بروز اتوار بوقت
دن کے 10؍بجکر 38؍منٹ پر۔

سوال نمبر 99- تاج الشریعہ کی تدفین کہاں عمل میں آئی ؟
جواب ۔ ازہری گیسٹ ہاؤس کے کانفرنس ہال میں دن کے 12/بجکر 55/منٹ میں
آپ کی تدفین عمل میں آئی ۔

سوال نمبر 100۔ تاج الشریعہ کے جسدِ خاکی کو قبر میں کن لوگوں نے اتارا ؟
جواب :۔ حضرت مولانا منسوب علی خان ،حضرت مولانا برہان میاں ۔
************************
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*حضور تاج الشریعہ*
مقبولیتِ عامہ اور جلوۂ تاباں
_(بموقع عرس حضور تاج الشریعہ)_

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

اللہ اللہ ! کردارایسا روشن و تابناک کہ طبیعتیں کھل اُٹھتی ہیں۔ پرنور چہرے پر جمالیات کا پہرہ ہوتا ہے۔ نگاہیں ایسی کہ جن پر پڑ جائے دل کی دُنیا بدل جائے۔ شباہت ایسی کہ مفتی اعظم کا پیکرِ دل پذیر یاد آجائے۔ جنھوں نے مفتی اعظم کو دیکھا ہے وہ اِس بات کی توثیق کرتے ہیں- ہم نے مفتی اعظم کو نہیں دیکھا؛ لیکن ان کے جانشین کو دیکھا ہے؛ جن کی ذات مظہرِ مفتی اعظم ہے؛ اور جن کی یاد آتی ہے تو دل کی کلیاں کھل اُٹھتی ہیں۔ اللہ اللہ! حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان قادری ازہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات اِس قدر محبوب کیوں بن گئی! ہاں! کچھ سبب ہے اس کا۔ وہ ہے شریعت پر استقامت اور اسوۂ مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر عمل؛ اور ظاہر و باطن، کردار و عمل کی یک رنگی۔ جس نے ان کی ذات کو چہار دانگ عالم میں مقبول بنا دیا ، اور ان کا ذکر ہر بزم میں محبت و عشق کی ایک جوت جگا دیتا ہے؛ وہ عاشقِ صادق ہیں؛ کیوں کہ ان کے عشق کا محور ذاتِ سرور دو عالم ﷺ ہے اور اس عشق کی ملاحت نے انھیں دُنیا کی طلب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ سچ ہے محبت رحمت عالمﷺ میں بڑی کشش ہے اور عظیم کامیابی ؎

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی

حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات مرجع العلماء تھی۔ ان کا سراپا دل آویز تھا۔ ان کا کردار بڑا تابندہ و مثالی تھا۔ وہ جس جگہ جاتے تھے؛ عقیدہ و عمل کی سلامتی کا پیغام دیتے تھے۔ دل کے رشتے بارگاہِ سرور کائنات ﷺ سے جوڑ دیتے تھے،اور پھر نگاہوں کا قبلہ بدل جاتا تھا، افکار دَمک اُٹھتے تھے۔ عشق ہی عشق نظر آتا۔ ہاں! عشقِ رسولﷺ میں بڑی پاکیزگی ہے؛ بڑی تب و تاب اور توانائی ہے؛ یہی منزل فتح و سربلندی سے ہمکنار کرتی ہے؛ یہی عشق وارفتگی سکھاتا ہے اور مختلف میادین میں باطل کے فتنہ و یورش کے مقابل مضبوط حصار کا کام کرتا ہے؛ اہلِ محبت نے بڑی پُرخار وادیوں میں ایمان و ایقان کی روشنی پھیلائی ہے- حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بدعقیدگی کے مقابل ناقابلِ تسخیر قوت بن کر سوادِ اعظم اہلِ سنت کے گلشن کی آبیاری کی۔ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے لاکھوں دلوں کو جانبِ گنبدِ خضرا موڑ دیا- آپ کے دیدار کی برکت سے ایمان و ایقان ایسا پختہ ہو جاتا کہ آپ کا یہ شعر دل کی کیفیت کا پتہ دیتا ؎

نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں

راقم نے علما کے جلوے دیکھے، ان کی بزمِ تاباں سے استفادہ کیا- لیکن حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ جیسا متقی نہ دیکھا۔ مفتیانِ کرام دیکھے؛ ان کی تابندہ خدمات کے نقوش ملاحظہ کیے؛ لیکن آپ کے جیسا محتاط نہ پایا۔ محب دیکھے لیکن عشق و عرفان کی جس بلندی پر آپ فائز ہیں؛ وہ منفرد بھی ہے اور جاوداں بھی، کیوں کہ محورِ نگاہ وہ ذات پاک ہے جن کے صدقے وجودِ آدمیت ہے۔ آپ مقبول ہیں مگر یہ مقبولیت وہ نہیں جو مول لی جائے؛ جو بازاروں میں ملتی ہو؛ بلکہ یہ تو عطائے ایزدی ہے- اور جسے اللہ تعالیٰ مقبول بنا دے، اس کی عظمت کو کون کم کر سکتا ہے،کون گھٹا سکتا ہے- جس پر رسول کونین ﷺ کی عنایت خاص ہو؛ اسے جہاں کی باطل قوتیں کیسے اسیرِ گردشِ دوراں کر سکتی ہیں! ان کے نقوشِ دل آویز کو دلوں کی بزم تاباں سے کیسے مٹایا جا سکتا ہے! حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ جہاں جاتے دین پر استقامت کا درس دیتے۔ ہاں! ایمان ہی تو بڑی چیز ہے اگر یہ نہ رہا تو زندہ رہ کر بھی انسان مردہ اور ناکارہ ہے۔ ایمان سے ہی حسنِ آدمیت ہے؛ وہ ایمان والا کیسے ہو سکتا ہے! جو بارگاہِ رحمت عالم ﷺ میں بے ادبی و توہین کی جسارت کرتا ہو۔ اسی وجہ سے آپ جہاں جاتے؛ ایسے رہزنوں سے بچنے کی تلقین فرماتے جو ایمان کی تاک میں ہیں۔ ایسے افراد سے اتحاد کی سختی سے ممانعت فرماتے؛ جن کی صحبت میں عقیدے کا خسارہ ہو، نقصان کا اندیشہ ہو- آخرت کی بربادی کا امکان ہو ؎

دُشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دُشمن دین کا اُن کے دُشمن سے کبھی اُن کا گدا ملتا نہیں

حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری رحمۃاللہ علیہ کا پیغام ہے کہ اللہ و رسول کی شان و عظمت میں جسے جرأت کرتا دیکھو اس سے دور ہو جاؤ۔ جوعاشقِ رسول ہے، سنی ہے؛ اسے گلے لگاؤ۔ آپ جب بولتے تو ایسا لگتا جیسے سخن کی معراج ہو رہی ہو۔ بہاریں چھا رہی ہوں۔ مینھ برس رہا ہو۔ تشنہ لب سیراب ہو رہے ہوں۔ پھوہار پڑ رہی ہو۔ کلیاں چٹک رہی ہوں۔ پھول کھل رہے ہوں۔ فکر کے غبار دُھل رہے ہوں۔ غنچے کھل رہے ہوں۔ ایمان کی فصل سرسبز و شاداب ہو رہی ہو۔ اداسی چھٹ رہی ہو۔ خوشبو پھیل رہی ہو۔ عقیدہ پختہ ہو رہا ہو؛ عقیدت بڑھ رہی ہو۔ایمان کی بزم نورسجی ہو۔ ہم نے خود مشاہدہ کیا- جلوے دیکھے- مدینہ شریف کی بہاروں میں؛ شہر بریلی شریف کے گلشن میں؛ گلشن آباد (ناسک) اور جوارِ مخدوم
👍1
مہائمی(ممبئی) میں- ہر جگہ جمالِ ولایت کے دیدار سے نگاہیں نور بار ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کا درسِ مُصَفّیٰ ملا- سبحان اللہ!
حضور تاج الشریعہ کا نعتیہ کلام کیف و سرور کو بڑھا دیتا ہے اور ایسے اشعار بھی درِ دل پر دستک دے کر فکرکے تاروں کو متحرک کر دیتے ہیں اور محبت کا نصیبہ بیدار ہو جاتا ہے ؎

گل ہو جب اخترؔ خستہ کا چراغ ہستی
اس کی آنکھوں میں تیرا جلوۂ زیبائی ہو
دردِ اُلفت میں دے مزا ایسا
دل نہ پائے کبھی قرار سلام

اسی بے قراری اور محبوب پاک ﷺ سے محبت و اُلفت کی قندیل فروزاں کیے حضور تاج الشریعہ ٦؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ/۲۲؍ جولائی ۲۰۱۸ء کو واصلِ حق ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ رٰجعون۔ وہ گئے بزم سونی کر گئے- ان کی یادوں کے چراغ قلبِ مومن کو فروزاں کر رہے ہیں-
جس کی نگاہوں میں خاکِ حجازِ مقدس کا سرمہ ہو؛ اس کو باطل کی چیرہ دستیاں بھلا کس طرح لرزہ بر اندام کر سکتی ہیں؟ جسے محبوب کی محبت و عشق کا درد ہو؛ اسے حوادث و فتن کس طرح مبتلائے آلام بنا سکتے ہیں؟ جس کا دل محبوب رب العالمین ﷺ کی یاد میں کھویا ہوا ہو اور اسی میں اسے راحت میسر ہو اس کے قلبِ روشن کو کون مضمحل کر سکتا ہے! ایسے عاشق صادق کی نگاہوں میں شفق کا حسن نہیں بس سکتا ،اور چمن کی جلوہ آرائی اس کی نگاہوں کو اپنا اسیر نہیں بنا سکتی ، تو جب اس گام پر کوئی شخصیت مطلع انوار نظر آتی ہے تو وہ حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے؛ جن کی فکر و بصیرت نے کتنے آزردہ دلوں اور شوریدہ فکروں کو گنبدِ خضرا کی بہاروں کا مشتاق بنا دیا ۔ وہ سر جس میں ہوا و ہوس کا سودا سمایا تھا ؛اس میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ یادِ شہ بطحا نے دل و دماغ کو روشن کر دیا ؎

نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں

بندہ جب اللہ کا ہو جاتاہے تو مخلوق اس کی شان و رفعت کی قائل ہو جاتی ہے اور اس کی طرف مائل۔ ہم نے دیکھا کہ جب حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کسی بزم میں پہنچ جاتے تولوگ پروانہ وار ٹوٹ پڑتے، دل و جاں سے فدا ہو جاتے۔ سچ ہے جو شریعت کے اُصولوں کا عامل ہو جاتا ہے؛ مخلوق اس کی تعظیم میں عجلت کرتی ہے اور لوگ دیوانہ وار اس کے دید کو اُمڈ پڑتے ہیں اور یہ شہرت و عطا تو اس بارگاہ کی ہے جہاں دل کا حال کھلا ہوا ہے؛ اور جہاں جود و عطا کے دھارے چلتے ہیں، فیض کے دریا بہتے ہیں- امام بوصیری علیہ الرحمۃ نے فرمایا ؎

کَالزَّھْرِ فِیْ تَرَفٍ والْبَدْرِ فِیْ شَرَفٍ
وَالْبَحْرِ فِی کَرَ مِ والدَّھْرِ فِی ھِمَمٖ

ترجمہ: آپ تازگی میں کلی کی مانند ہیں، اوج و رفعت میں ماہ کامل کے مثل، جود و سخا میں سمندر کی طرح، اور عزم و حوصلہ میں زمانہ کی مانند ہیں۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

واہ ! کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

جسے بارگاہِ رسالتﷺ سے عطاو نوازش کا وافر حصہ ملا ہو اس کی شان تو دوبالاہو گی ہی؛ اس کی رفعت و بلندی کے ترانے گنگنائے جائیں گے۔ آج جو شہرت و دوام حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے؛ وہ عطائے خاص ہے-
الٰہی عزوجل! جب تک چمن میں مرغ نوا سنجی کرتے رہیں حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی لحد پر رحمت و انوار کی بارانِ مبارک برستی رہے۔ جب تک بلبل کی خوش خرامی گلشن میں اپنی آوازکا سحر جگاتی رہے اخترؔ کی تابندگی روز بڑھتی رہے۔ جب تک آبشاروں کا ترنم بزمِ ہستی کو آراستہ کرتا رہے اور اُفق کا جمال نگاہوں کو تازگی دیتا رہے ؛حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ علم کی خوشبو پھیلتی رہے۔ جب تک ستاروں کی انجمن میں روشنی رہے اخترؔ خوشنوا کی رعنائی ایمان کی دَمک بڑھاتی رہے۔ جب تک آسمان نیلگوں پر ماہ تاب کی چمک باقی رہے اور جب تک جامِ محبت چھلکتے رہیں حضور تاج الشریعہ کے علم و فضل کی کرنوں سے کائنات عالم کے مسلماں سیراب و فیضیاب ہوتے رہیں۔ ان کے فیض کے دریا اُبلتے رہیں؛ باغِ رضاؔ کے عندلیب خوشنوا کی بوئے تر مشامِ فکر کو مہکاتی رہے ؎

اے رضاؔ جانِ عنادل ترے نغموں کے نثار
بلبلِ باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے
٭٭٭

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4144813988933615&id=100002151654486
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عرس تاج الشریعۃ مبارک.

حضور تاج الشریعہ کی تحقیقی کتاب ’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘ پر ایک نظر

حضور تاج الشریعۃ جانشین مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ کی ذات بابرکت یقینا مختلف الجہات ذات تھی، آپ ایک ممتاز عالم دین و فقیہ تھے، زہد و تقوی آپ کا طرہ امتیاز تھا، آپ ایک نیک اور باشرع پیر ہونے کے ساتھ ساتھ بے مثال ناصح و خطیب بھی تھے، ان تمام اوصاف حمیدہ کا جامع ہونے کے باوجود بھی سب سے خاص بات جو آپ کے اندر تھی وہ یہ تھی کہ آپ کو درس و تدریس میں مہارت تامہ حاصل تھی، آپ فقہ و فتاوی میں ید طولی رکھتے تھے، فن حدیث میں بھی آپ کی مہارت کا جواب نہیں تھا، آپ متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے، آپ نے متعدد کتابوں کی تعریب کا اہم کام بھی بخوبی انجام دیا، آپ کی تحقیق و تدقیق بڑی عمدہ ہوتی تھی؛ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحقیقی کاوش کو عرب و عجم میں بنظر تحسین دیکھا جاتا تھا،ایسی شخصیت کسی زمانے والوں کو بڑے نصیب سے ملا کرتی ہے، آج اسی شخصیت بارزہ کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کر رہاہوں، آپ کی شخصیت کی ہر جہت پر اس تھوڑے وقت اور چند صفحات میں گفتگو کرنا ممکن نہیں؛ اس لیے میں یہاں پر صرف آپ کی تصنیف کردہ ایک کتاب ’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘ جو فن حدیث کا عظیم شاہکار ہے، اس پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا، و ماتوفیقی إلا باللہ علیہ توکلت و إلیہ أنیب۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے غالبا اپنے مطالعہ کے درمیان ’الشفاء‘ کے حاشیہ کو ملاحظہ فرمایا کہ کسی حدیثی نے اس کتاب میں مذکور حدیث: ((أصحابی کالنجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم)) کو موضوع قرار دیا، آپ نے اپنے وسیع مطالعہ کی وجہ سے اول وہلہ میں سمجھ لیا کہ یہ حدیث موضوع نہیں ہے؛ اس لیے آپ نے اس غلط دعوی اور کج روی سے عام مسلمانوں کو اپنی تحقیق کی روشنی میں آگاہ کرنے کا ارادہ کرکے اس کو بحمد اللہ پایہ تکمیل تک پہونچایا، آپ نے پہلے حدیثی کی دلیل پیش کی پھر اس کے بعد اس کی دلیل کا منصفانہ جائزہ لیا، آپ اس حدیثی کی دلیل ملاحظہ فرمائیں:
’’یہ حدیث موضوع ہے، ذہبی نے اسے جعفر بن عبد الواحد ہاشمی کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے، جعفر کے بارے میں دارقطنی نے فرمایا: یہ حدیث گڑھتا ہے اور ابوزرعہ نے کہا: کچھ احادیث روایت کی ہے، جن کی کوئی اصل نہیں، یہ حدیث اسی راوی کی بلا سے ہے، مزید کے لیے ابن حجر کی تلخیص الحبیر اور ابن حزم کی الإحکام دیکھی جائے‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء،تاج الشریعہ رحمہ اللہ، ص۱۷، تحقیق: ابوسہل نجاح عوض، ط: المقطم للنشر و التوضیع، قاہرہ، مصر)
ہمارے ممدوح گرامی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: اس حدیث کے موضوع ہونے کا دعوی محل نظر بلکہ نادرست ہے، موضوع ہونے کا دعوی کیوں نادرست ہے ملاحظہ فرمائیں:
اولا: ’’امام علی قاری نے خود ذکر کیا کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی تخریج ’الفضائل‘ میں کی اور امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اس کو تخریج کرنے کے بعد فرمایا: ’’اس حدیث سے حجت قائم نہیں ہوگی‘‘۔
نیز امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ’المدخل‘ میں فرمایا: ’’اس حدیث کا متن مشہور ہے اور اس کی ساری اسانید ضعیف ہیں‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۱۸)
اور جب امام حلبی رحمہ اللہ نے امام قاضی عیاض رحمہ اللہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس حدیث کو انہیں اپنی کتاب ’الشفاء‘ میں صیغہ جزم کے ساتھ نہیں ذکر کرنا چاہیے تھا؛ تو اس کا جواب دیتے ہوئے امام علی القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’یہاں اس بات کا احتمال ہے کہ امام قاضی عیاض رحمہ اللہ کے نزدیک اس حدیث کی کوئی سند ثابت ہو یا یہ کہ آپ نے کثرت طرق کی وجہ سے اس حدیث کو حسن کے درجہ میں رکھا ہو، مزید یہ کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کی گنجائش ہے؛ اس لیے ان پر اعتراض مناسب نہیں‘‘۔(الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۱۸)
ہمارے ممدوح گرامی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ درمیان گفتگو اس حدیث کے صرف ضعیف ہونے پر مزید ناقدین کے متعدد اقوال ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’امام علی القاری رحمہ اللہ کے کلام سے چند باتیں سامنے آئیں:
(۱)اما دارقطنی رحمہ اللہ نے خود اس حدیث کو روایت کیا اور اس پر موضوع ہونے کا حکم نہیں لگایا، اگر امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع قراردیا ہوتا؛ تو امام علی القاری رحمہ اللہ ان کے قول کو ضرور نقل فرماتے۔
(۲)امام ابن عبد البر رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کرام نے اس حدیث کے متعلق جو الفاظ استعمال کیے ان کا مفاد صرف اتنا ہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں بلکہ ضعیف ہے، نیز امام دارقطنی رحمہ اللہ کے قول سے: ’’اس حدیث کا متن مشہور ہے اگرچہ اس کی ساری اسانید ضعیف ہیں‘‘ ایک اور فائدہ حاصل ہوا کہ اس حدیث کو تلقی بالقبول کا درجہ حاصل ہے؛ جس کی وجہ سے کثرت طرق کے ساتھ اس حدیث کی قوت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
نیز علامہ شہاب خفاجی رحمہ اللہ نے بھی امام دارقطنی رحمہ اللہ سے حکایت بیان کی کہ آپ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ خاص اس حدیث پر آپ نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے؛ لہذا صرف امام دارقطنی رحمہ اللہ کے قول: ’’راوی جعفر حدیث گڑھتے ہیں‘‘ کے پیش نظر یہ استشہاد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ زیر بحث حدیث موضوع ہے‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۱۹)
ثانیا: ’’امام ابوزرعہ رحمہ اللہ کے قول:’’جعفر نے کچھ احادیث روایت کی ہے جس کی کوئی اصل نہیں‘‘ سے بھی استشہاد تام نہیں؛ کیوں کہ یہ حکم وضع میں صریح نہیں اور اس پر سب سے بڑی دلیل وہ کلام ہے جس کو امام ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’لسان المیزان‘ میں نقل کیا ہےکہ سعید بن عمرو بردعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابوزرعہ رحمہ اللہ سے بعض احادیث کے بارے میں مذاکرہ کیا جسے انہوں نے جعفر بن عبد الواحد سے سنا تھا؛ تو آپ نے ان کا انکار کیا اور فرمایا: ان کی کوئی اصل نہیں اور بعض کے بارے میں فرمایا: یہ باطل و موضوع ہیں۔
امام ابوزرعہ رحمہ اللہ کا ابتدا میں جعفر کی بعض احادیث کے متعلق یہ کہنا کہ ان کی کوئی اصل نہیں، یہ حدیث کے موضوع ہونے کا فائدہ نہیں دیتا؛ کیوں کہ اس کے فورا بعد ہی آپ نے ان کی بعض احادیث کے بارے میں فرمایا کہ وہ باطل و موضوع ہیں، اس کا واضح مفاد یہ ہے کہ آپ کے قول: لا أصل لہ اور موضو ع و باطل کے درمیان فرق ہے، پہلے قول میں سند پر حکم ہے متن پر نہیں، نیز آپ کا قول: لا أصل لہ، آپ کے اپنے علم کے اعتبار سے ہے اور اس پر قرینہ آپ کا ان کی احادیث کا انکار کرنا ہے‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۲۰)
ثالثا: ’’جعفر کے ترجمہ میں جو کہا گیا ہے کہ وہ ایسی احادیث روایت کرتے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں، ثقات سے مناکیر روایت کرتے ہیں، ان پر سند کے گڑھنے اور احادیث چوری کرنے کی بھی تہمت لگائی گئی ہے، یہ تمام باتیں سند کے وضع کرنے پر دال ہیں اور اسی وجہ سے کبھی کسی حدیث کے بارے میں صرف سند کے اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ حدیث موضوع ہے، یہ حکم صرف سند پر ہی منحصر ہوگا اور متن تک تجاوز نہیں کرے گا‘‘۔
پھر ہمارے ممدوح گرامی حضور تاج الشریعہ رحمہ اللہ جرح مفسر اور غیر مفسر کے بارے امام ابن صلاح رحمہ اللہ کا قول فیصل ذکر کرنے کے بعد دوبارہ امام ابوزرعہ رحمہ اللہ کے قول کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
رابعا: ’’امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ نے راوی جعفر کی بعض احادیث کے بارے میں جو یہ کہا کہ یہ موضوع ہیں، اس سے کوئی دھوکا نہ کھائے؛ کیوں کہ اس حکم میں یہ احتمال بہرحال ہے کہ ان احادیث کا دار و مدار انہیں راوی جعفر پر ہو؛ اس لیے ان کے متہم کا لحاظ کرتے ہوئے احادیث کے موضوع ہونے کا حکم لگایا، جس کا مآل وضع کا حکم باعتبار ظن ہےاور یہ اس بات کو مستلزم نہیں کہ جو بھی روای جعفر نے روایت کیا سب موضوع ہے؛ اس لیے خاص اس زیر بحث حدیث کے متعلق یقین نہیں کیا جاسکتا بلکہ گمان کی بھی گنجائش نہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۲۱)
خامسا: ’’یہ حدیث کیسے موضوع ہوسکتی ہے جب کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ اسی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے، نیز فرماتے ہیں: بلکہ ابن حزم سے مروی ہے کہ انہوں نے اس حدیث کے موضوع و باطل ہونے کا قول کیا ہے، مگر امام ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن حزم کے اس حکم کو قبول نہیں کیا، چنانچہ اس کے بعد آپ مزید فرماتے ہیں: لیکن امام بیہقی رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: بے شک مسلم شریف کی حدیث: ستارے آسمان کے امین ہیں۔۔۔الحدیث، اس زیر بحث حدیث کے بعض معنی کو ادا کرتی ہے، پھر امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام بیہقی رحمہ اللہ نے سچ فرمایا، یہ حدیث صحابہ کرام کو ستاروں سے تشبیہ کی مؤید ہے، ہاں اقتدا کے بارے میں تائید ظاہر نہیں، البتہ ممکن ہے کہ ستاروں کے ذریعہ ہدایت کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے اقتدا کا معنی حاصل ہوجائے، امام علی القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ اہتدا اقتدا کی فرع ہے‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۲۱)
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’اس کلام سے بالکل واضح ہوگیا کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن حزم کے دعوی موضوع کو قبول نہیں کیا اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے جس حدیث کو نقل کیا ہے اس کے ذریعہ زیر بحث حدیث کے معنی کی تائید کی ہے، یہیں سے حدیثی نے جو ابن حجر رحمہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا اس کا بھی جواب مل گیا اور وہ یہ کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع و باطل قرار نہیں دیا اور ابن حزم کے دعوی کو بھی قبول نہیں کیابلکہ امام بیہقی رحمہ اللہ کے قول کو باقی رکھا اور زیر بحث حدیث تائید کی حالاں کہ آپ نے شروع کلام میں فرمایا تھا: یہ حدیث ہے‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۲۲)
سادسا: ’’امام ابوزرعہ رحمہ اللہ نے جو اس حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث جعفر کی بلا سے ہے، یہ اپنے ظاہر پر محمول نہیں؛ کیوں زیر بحث حدیث کی تائید صحیح مسلم کی حدیث سے ہورہی ہے اور اس حدیث کا مدار صرف جعفر بن عبد الواحد پر نہیں بلکہ یہ حدیث متعدد طرق کے ذریعہ حضرت عمر، جابر، ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، نیز امام ابوزرعہ رحمہ اللہ کا یہ قول حدیث کے ان الفاظ کے بارے میں ہےجس کو انہیں سے ’المیزان‘ میں نقل کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے: ((أصحابی کالنجوم من اقتدی بشیء منھا اہتدی)) قارئین واضح طور پر ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ یہ وہ حدیث نہیں جس کو ’الشفاء‘ اور ’المشکاۃ‘ وغیرہ میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا: ((بأیہم اقتدیتم اہتدیتم))
لہذا اگر مان بھی لیا جائے کہ امام ابوزرعہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متن پر وضع کا حکم لگایا ہے؛ تو یہ حکم اسی لفظ کے ساتھ خاص ہوگا جس کا ذکر ’المیزان‘ میں ہوا اور ان کا یہ حکم حدیث کے دوسرے الفاظ پر صادق نہیں آئے گا‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۲۵)
پھر حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ امام ابن حجر رحمہ اللہ کی ’التقریر و التحبیر‘ کے حوالہ سے گفتگو کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’امام ابن حجر رحمہ اللہ نے راوی جعفر کے بارے جس کلام کے ذریعہ اپنی بات ختم کی ہے، اس سے بے توجہی نہیں برتی جاسکتی ، وہ کلام یہ ہے: مسلمہ بن قاسم نے فرمایا: راوی جعفر کا مقام ثغر ۲۴۸ھ میں انتقال ہوا، یہ بصری ثقہ ہیں، ان سے امام ابوداؤد نے روایت کی ہے اور اسی طرح ابوعلی جیان نے بھی انہیں شیوخ ابوداؤد میں شمار کیا ہے‘‘۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’اور یہ امام ابن حجر رحمہ اللہ کی جانب سے راوی جعفر کے بارے میں صریح توثیق ہے اور جو راوی جعفر کے بارے میں دوسروں کی جانب سے کلام کیا گیا ہے، وہ محتمل ہے؛ اس لیے راوی جعفر کے بارے میں توثیق ہی مقدم ہونی چاہیے۔
پھر جو ناقد ہوتا ہے وہ غیر کی رائے کے ساتھ مقید نہیں ہوتا ہےاور امام قاضی عیاض رحمہ اللہ یقینی طور پر عظیم ناقد اور حدیث کی علل کو جاننے والے ہیں، اس طرح کے جو لوگ ہوتے ہیں، انہیں اس بات کا حق ہوتا ہے کہ جس راوی کو وہ قابل قبول سمجھیں، ان سے روایت کریں، اگرچہ دوسروں کے نزدیک وہ قابل قبول نہ ہو‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۲۸)
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ اپنے اس دعوی پر صحیح البخاری، مسلم اور ابوداؤد کے بعض متکلم فیہ راویوں کی مثال پیش کرنے کے بعد ابن حزم کی رائے کی طرف اپنی نوک قلم کے ذریعہ متوجہ ہوتے ہیں، آپ فرماتے ہیں:
سابعا: ’’ابن حزم اپنے دعوی میں تمام لوگوں سے متفرد ہیں اور ان کا تفرد ہمیں کوئی ضرر نہیں دے سکتا۔۔۔ابن حزم زیر بحث حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اور روایت: أصحابی کالنجوم، یہ روایت ساقط ہے‘‘۔ پھر سند ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’ابو وہب ثقفی اور سلام بن سلیمان موضوع احادیث روایت کرتے ہیں اور زیر بحث حدیث بلاشک انہیں موضوعات میں سے ہے؛ لہذا یہ روایت ساقط ہے جس کی اسناد ضعیف ہے‘‘۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ ان کے اس قول کا تنقیدی تعاقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ابن حزم کا قول: ’’یہ روایت ساقط ہے‘‘۔ یہ حکم صرف سند پر صادق آئے گا، اس پر قرینہ ابن حزم کی عبارت کے اخیر میں یہ قول ہے: ’’ لہذا یہ روایت ساقط ہے جس کی اسناد ضعیف ہے‘‘۔ اس لیے یہ حکم صرف سند پر ہی منحصر ہوگا اور اس حکم کا متن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا‘‘۔
پھر اپنے جد امجد اعلی حضرت مجدد دین و ملت نور اللہ مرقدہ کی کتاب: ’الھاد الکاف فی أحکام الضعاف‘ کا حوالہ دینے کے بعد ابن حزم کے دعوی کا رد اور ان کے تناقض کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اور گفتگو کے درمیان ابن حزم کا یہ کہنا: ’’یہ حدیث انہیں موضوعات میں سے ہے‘‘ قابل قبول نہیں؛ کیوں کہ یہ دعوی دلیل سے خالی و عاری ہےاور ساتھ ہی یہ دعوی ان کے ضعف سند کے اقرار کے منافی ہے؛ کیوں کہ ضعف سند، متن کے ضعیف ہونے کے مستلزم نہیں چہ جائے کہ حدیث کے موضوع ہونے کو مستلزم ہو‘‘۔(الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۳۰)
پھر حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ ابن حزم کا بعض دیگر ناقدین کے اقوال سے استدلال جیسے متروک، مجہول اور عدم صحت کا علمی و تنقیدی جائزہ لینے کے بعد فرماتے ہیں:
’’ابن حزم کا ان اقوال کو ذکر کرنے کے بعد یہ کہنا: ’’یہاں سے ظاہر ہوگیا کہ یہ روایت بالکل ثابت نہیں، بلاشبہ یہ روایت جھوٹی ہے‘‘۔ دعوی بلا دلیل ہےاور اندازہ سے حکم لگانا ہے جو بہت سخت ہے، نیز تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ابن حزم زیر بحث حدیث کی سند کے بارے میں گفتگو کرکے سند کے ضعیف ہونے کا اقرار کرتے ہیں، امام بزار رحمہ اللہ کا ایسا قول ذکر کرتے ہیں جو ضعیف ہونے کا بھی فائدہ نہیں دیتا، پھر متن کے بارے میں یقینی طور پر مکذوب و موضوع ہونے کا حکم
لگادیتے ہیں!‘‘۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۳۱)
اس کے بعد جانشین مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ نے آیات کریمہ سے ابن حزم کا بے محل استدلال اور ان کی کج روی بیان کرتے ہوئے وضاحت فرائی کہ اس طرح کے بے محل استدلال اور فکری انحراف کی وجہ سے تقلید سے منع کرنا، سارے صحابہ کے اقوال کو رد کرنا، صحیح احادیث کو قبول نہ کرنا بلکہ قرآن کریم کو نہ تسلیم کرنا اور ہر کس و ناکس کے لیے اجتہاد کا باب کھولنے جیسی مہلک خرابیاں لازم آئیں گی۔
نیز ابن حزم نے جو بلادلیل امام بخاری اور راوی ہشام کے درمیان انقطاع کا دعوی کرکے حرمت معازف کے بارے میں وارد حدیث کو رد کرنے کی کوشش کی ہے، اس دعوی کو بھی جانشین مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ نے اپنے علمی وسعت کے پیش نظر قبول نہیں کیا اور بتایا کہ یہ دعوی بالکل غلط ہے؛ کیوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی راوی ہشام سے ملاقات اور سماعت دونوں ثابت ہے اور یہ بھی بتایا کہ اس بےجا استدلال ، بلادلیل دعوی اور کج روی سے واضح ہوگیا کہ ابن حزم نے اپنے نفس اور خواہش کی اتباع کرنے کی مذموم کوشش کی ہے، اس پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ابن حزم نے عام راوی تو عام راوی، صحابی رسول حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کو بھی اپنی بےجا تنقید و طعن کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ مقدوح ہیں، یہ طعن صرف ایک صحابی رسول کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس متفق علیہ اعتقاد کے بھی مخالف ہے کہ سارے صحابہ عدول ہیں؛ کیوں کہ کسی صحابی رسول کی عدالت کو طعن کرکے ساقط کرنا، تمام صحابہ کی عدالت کو ساقط کرنا ہے۔
پھر حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ نے ان بعض احادیث جن کی وجہ سے راوی جعفر کو متہم قرار دیا گیا، ان کا فنی و تنقیدی جائزہ لیا اور ان کے بارے میں بتایا کہ یہ احادیث ایسی نہیں ہیں کہ جن کی وجہ سے انہیں متہم قرار دیا جاسکے بلکہ اس میں سے تو بعض حدیث متواتر یا کم ازکم حسن لغیرہ یا صحیح لغیرہ کو پہونچی ہوئی ہیں، اس کے باجود ان احادیث کو روایت کرنے کی وجہ سے انہیں جرح و قدح کا نشانہ بنانا عجیب و غریب ہے۔
اس کے بعد حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ اپنی قیمتی گفتگوکو سمیٹتے ہوئے اپنے جد امجد حضور اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ کا قول فیصل پیش کرتے ہیں:
’’عقل شاہد ہے کہ حدیث ضعیف اس طرح کے مقام میں مقبول ہے‘‘ اس کے بعد فرماتے ہیں:
’’میں کہتا ہوں: جب عقل سلیم شاہد ہے کہ حدیث ضعیف ایسے مقام پر معتبر ہے؛ تو سند میں خواہ کتنا ہی کیوں نقص نہ ہو، اس حدیث کے باطل ہونے پر یقین نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ زیادہ جھوٹ بولنے والا بھی کبھی سچ بولتا ہے، ممکن ہے کہ اس کے سوا دوسری سند کے ذریعہ صحیح طریقہ سے حدیث روایت کی گئی ہو‘‘۔(الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۴۰)
پھر آپ نے اپنے اس دعوی پر متعدد ناقدین و علما کے اقوال پیش کرکے اپنے دعوی کو مزید محکم اور مضبوط بنایا نیز یہ بھی وضاحت فرمائی کہ کبھی حدیث سند کے اعتبار سے تو ضعیف ہوتی ہے مگر اہل کشف کے نزدیک وہ صحیح ہوتی ہے جیسے امام اکبر ابن عربی اور خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی رحمہما اللہ نے متعدد احادیث کو کشف کے ذریعہ صحیح قرار دیا ہے۔
اس کے بعد آپ نے اخیر میں ایک مفید مثال پیش کی، وہ مثال یہ ہے:
’’ایک آدمی نے طبعی حرارت میں کمی محسوس کی؛ تو زید نے اس سے کہا: فلاں ماہر ڈاکٹر نے اس مرض کے لیے ایک دوا تجویز کی ہے کہ سونے کے اوراق کو بید مشک کے عرق کےساتھ ہاوون دستے میں سونے کے کوٹنے والے اوزار سے کوٹ کر یا اسے ہتھیلی میں شہد کے ساتھ رگڑکر خوب باریک کرکے پی لیا جائے۔
اب مریض کو یہ تجویز معلوم ہونے کے بعد عقل سلیم کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ مذکور دوا کو حرام جانے جب تک کہ ڈاکٹر تک صحیح سند کے ذریعہ اس نسخہ کی حیثیت معلوم نہ ہوجائے، یہاں پر اس کے استعمال کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ طبی اصول کے مطابق اس کے استعمال میں کوئی خرابی نہیں، ورنہ بعید نہیں کہ وہ نسخہ کی صحت کتابوں میں تلاش کرتا پھرے، راویوں کی ثقاہت کی تحقیق کرے اور اپنی بےوقوفی کی وجہ سے اس دوا کے منافع سے محروم ہوجائے اور بیمار کو وقت پر نافع دوا نہ مل پائے۔ (الصحابۃ نجوم الاھتداء، ص۴۴)
اس کے بعد اپنی اس بات کو بطور نتیجہ اس فکر انگیز قول کے ذریعہ اختتام کو پہونچایا، ملاحظہ فرمائیں:
’’فضائل اعمال کی حدیث کا بھی یہی حال ہے کہ ہمارے کانوں تک اس طرح کی کوئی مفید حدیث پہونچی جس سے شریعت مطہرہ نے منع نہیں فرمایا قانون اسلام سے متصادم نہیں؛ تو ہمارے لیے محدثین کے طریقہ کار پر حدیث کی تحقیق ضروری نہیں، اگر حدیث صحیح ہے تو خوب، ورنہ ہماری اچھی نیت کی وجہ سے ہمیں بہترین ثمرہ ملے گا، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: {هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ} (التوبۃ:۹، آیت:۵۲) و صلی اللہ تعالی علی سیدنا محمد و آلہ و صحبہ و بارک وسلم‘‘۔(الصحابۃ نجوم الاھتداء،تاج
الشریعہ رحمہ اللہ، ص۴۵، تحقیق: ابوسہل نجاح عوض، ط: المقطم للنشر و التوضیع، قاہرہ، مصر)
حضور تاج الشریعہ جانشین مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ نے اپنی اس علمی،تحقیقی و تنقیدی گفتگو میں مندرجہ ذیل پیغام امت مسلمہ کو پہونچانے کی بہترین کوشش فرمائی ہے،ملاحظہ فرمائیں:
(۱)ایک ناقد و محقق کے لیے مناسب نہیں کہ کسی کی تحقیق خاص کر کسی حدیثی کی تحقیق کو دیکھ کر مرعوب ہوجائے اور بلاتحقیق و تفتیش آمنا و صدقنا کہے۔
(۲) اہل سنت و جماعت کے عوام پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر معاملہ خاص کر وہ معاملہ جس کا تعلق دین متین سے ہے، اس میں ضرور اپنے علماے اہل سنت ہی کی طرف رجوع کریں تاکہ حق سے انحراف کی کوئی سبیل پیدا نہ ہو۔
(۳) زیر بحث حدیث کے متعلق حدیثی محقق کی تحقیق قابل قبول نہیں؛ کیوں کہ اس نے جن علما و ناقدین کے اقوال سے استدلال کیا تھا وہ خود خاص اس حدیث کے موضوع ہونے کے قائل نہیں، البتہ ابن حزم نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے مگر خود ان کا استدلال ان کے دعوی کا ساتھ نہیں دے رہا ہے؛ اس لیے ان کی رائے قابل اعتماد نہیں۔
(۴) اس حدیث کے راوی جعفر نے بعض احادیث روایت کی جس کی بنا پر بعض لوگوں نے ان پر جرح و قدح کیا مگر چوں کہ یہ احادیث اصول شرع سے متصادم نہیں بلکہ ان میں سے بعض متواتر یا صحیح ہیں؛ اس لیے ان احادیث کی بنا پر جرح اور دیگر مبہم و محتمل جرح محل نظر ہے، خاص کر اس صورت میں کہ بعض ناقدین نے آپ کی توثیق بھی کی ہے۔
(۵) اس حدیث کے متعلق جو اکثر اقوال ہیں وہ یہی بتاتے ہیں کہ حدیث موضوع نہیں بلکہ ضعیف ہے بلکہ بعض رجحان کے مطابق اس حدیث کے حسن لغیرہ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
(۶) ابن حزم نامی شخصیت نے آیات سے بے محل استدلال کیا جو بہت ساری شرعی خرابیوں کی جامع اور بعض اوقات یہ جرح و قدح میں بہت سخت ثابت ہوئے ہیں یہاں تک کہ صحابی رسول ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کو بھی اپنی جرح و قدح کا نشانہ بنایا جو تمام صحابی کی جرح و قدح کے مترادف ہے۔
(۷) کشف کے ذریعہ بھی احادیث کی صحت ثابت ہوتی ہے؛ اسی لیے بعض اوقات محدثین کرام بعض احادیث کو موضوع یا ضعیف قرار دیتے ہیں مگر اہل کشف کے نزدیک وہ حدیث صحیح ہوتی ہے۔
(۸) راوی کتنا بھی ضعیف ہو، اس کی روایت کردہ حدیث کے متعلق موضوع ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ کبھی بہت جھوٹ بولنے والا بھی سچ بولتا ہے اور یہی مذہب محتاط ہے۔
(۹) اگر بر سبیل تنزل زیر بحث حدیث کو ضعیف مان لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ اس طرح کی حدیث فضائل کے باب میں معتبر اور قابل عمل ہے، نیز کوئی ایسی حدیث جس کی سند قوی نہیں بلکہ ضعیف یا شدید ضعیف ہے اور وہ اصول شرع سے متصادم نہیں تو اس پر بھی عمل کرنا جائز ہے ۔
اللہ تعالی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کی قبر انور پر رحمت و انوار کی بارش فرمائے، ہمیں ان کے علمی و عملی فیوض و برکات سے مالا مال کرے،ہم سب کو باطل سے بچنے، حق بولنے اور حق قبول کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہرشریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
۳۰؍ذوالقعدۃ ۱۴۳۹ھ مطابق ۱۲؍اگست ۲۰۱۸ء
ای میل:amjadiazhari@gmail.com
موبائل نمبر:8318177138


https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=807336366560082&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عرس تاج الشریعۃ مبارک.

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز

وارث علوم اعلی حضرت، جانشین مفتی اعظم ہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں ازہری علیہ الرحمۃ و الرضوان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آ پ کی شخصیت عالمی شخصیت تھی، یوں تو آپ مختلف علوم و فنون میں ماہر تھے مگر علم فقہ اور علم حدیث میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی اور آپ کی نعت گوئی بھی خوب ہے، سن کر دل و دماغ پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہوجاتی ہے، علوم و فنون میں مہارت تو کوئی بھی محنت اور جد و جہد کرکے حاصل کرسکتا ہے، لیکن علم کے ساتھ عمل بھی کرنا، ہر گھڑی شریعت کا پاس و لحاظ رکھنے کی پوری کوشش کرنا، تقوی و پرہیزگاری اور تصلب فی الدین کو اپنا طرہ امتیاز بناناوغیرہ یہ ہر ایک کے حصہ میں نہیں آتا، یہ اسی کے حصہ میں آتا ہے جسے اللہ تعالی اپنا محبوب بناتا ہے اور حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ کو اللہ تعالی نے اپنا محبوب بنایا ہے؛ کیوں کہ آپ کی زندگی میں عوام و خواص کا آپ سے بے پناہ محبت کرنا اور دار فانی سے رخصت ہونے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں علما اور عوام کا آپ کے جنازہ میں شرکت کرنا، اللہ تعالی کے نزدیک اور فرشتوں کے جھرمٹ میں آپ کے محبوب ہونے کی واضح و بین دلیل ہے، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
((إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا)) (مریم:19، الآیۃ:96) ترجمہ: ((بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عن قریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا)) (کنز الایمان)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
((إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ العَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الأَرْضِ)) (متفق علیہ)
ترجمہ: ((جب اللہ تعالی بندہ کو محبوب بناتا ہے؛ تو جبریل علیہ السلام کو ندا دے کر فرماتا ہے: بے شک اللہ تعالی فلاں بندہ کو پسند کرتا ہے، اے جبریل تم بھی اسے محبوب رکھو؛ تو جبریل علیہ السلام اسے محبوب رکھتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں کے درمیان یہ اعلان فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالی فلاں بندہ کو محبوب رکھتا ہے، تم بھی اسے محبوب رکھو؛ تو آسمان والے بھی اسے محبوب رکھتے ہیں، پھر اس فلاں شخص کو اہل زمین کے درمیان مقبولیت عطا کردی جاتی ہے))
اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ پوری دنیاے اہل سنت آپ کو جانتی اور مانتی ہے، آپ کے دست حق پرست پر سیکڑوں لوگ کفر کے اندھیرے کو چھوڑکر اسلام کی تابناک روشنی میں داخل ہوتے نظر آئے، ہزاروں بے راہ رو آپ کی حکیمانہ تبلیغ سے بے راہ روی کو چھوڑکر راوہ ست اختیار کرتے ہوئے دکھائی دئے اور لاکھوں کی تعداد میں عوام و خواص آپ کی بیعت و ارادت میں شامل ہوکر خوشی و سعادت محسوس کر رہے ہیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے:
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خداے بخشندہ
ایک حاکم جب ملک فتح کرتا ہے؛ تو اس کے لیے قوت اور طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، تب جاکر کہیں اسے ملک اور قوم کے اعصاب پر راج کرنے کا موقع ملتا ہے، مگر قربان جائیے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کی ذات پر کہ جنہوں نے طاقت و قوت کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور حکیمانہ زندگی سے ملک اور لوگوں کے جسم پر نہیں بلکہ ان کے دلوں پر راج کیااور یوں ان کے دلوں کی فتح و نصرت آپ کے حصہ میں آئی، کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے:
وہ اداے دلبری ہو کہ نواے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ
آپ علم و حکمت میں بھی یگانہ روزگار تھے؛ یہی وجہ ہے کہ آپ کے رشحات قلم سے متعدد علمی و تحقیقی تصنیفات وجود میں آئیں، آپ کے علم و حکمت اور خطاب نایاب سے صرف متعدد صوبے یا ایک ملک ہندوستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ عرب و عجم میں کئی ملک کے لوگ مستفید ہوئے، آپ کے علم، تقوی و پرہیزگاری اور تصلب فی الدین کو علماے عرب و عجم بلکہ علماے جامعہ ازہر ،مصر نے بھی نگاہ تحسین سے دیکھنے کے ساتھ آپ کے اس وصف محمود کو سراہا، آپ اہل سنت و جماعت کے بے مثال رہنما تھے، آپ سنیت کی جان تھے، آپ سنیت کی آن بان شان تھے، آپ نے اپنی پوری زندگی مسلک اعلی حضرت یعنی مسلک اہل سنت و جماعت کے لیے وقف کردی تھی؛ انہی تمام اوصاف حمیدہ اور بے لوث قربانیوں ہی کی وجہ سے جب آپ کے دار فانی سے کوچ کرنے کی جانکاہ خبر ۶؍ذوالقعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۰؍جولائی ۱۸ء سنیچر کی رات بعد مغرب عالم اسلام میں ہوا کی طرح پھیلی؛ تو اہل سنت تو اہل سنت غیروں کی بھی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، دل اضطراب کا شکار ہوگیے، چین و سکون غارت ہوگیا، لوگوں پر ایک لمحہ کے لیے سکتہ طاری ہوگیا اور جب ہوش میں آئے؛ تو پورے عالم اسلام سے علماے کرام اور پیران عظام تعزیتی خطوط بھیجنے لگے
اور مختلف ممالک سے عوام و خواص سبھی لوگ آپ کی ایک جھلک دیکھنے اور آپ کے مبارک جنازہ میں شرکت کے لیے اپنے مرکز عقیدت بریلی شریف کا رخت سفر باندھ لیا، دیکھتے ہی دیکھتے بریلی شریف میں سیلاب کی طرح لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہوگیے، جدھر نظر دوڑائیے صرف انسانوں کے ہی سر نظر آرہے ہیں! بالآخر تمام محبین و مخلصین نے اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر ۸؍ذو القعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۲؍جولائی ۱۸ء بروز اتوار صبح ۱۱؍ بجے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد اپنی پرنم آنکھوں سے اس مرد مجاہد اور مرد قلندر کو بریلی شریف کی سرزمین پر ازہری گیسٹ ہاؤس میں سپر دخاک کیا۔
ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
اللہ تعالی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماکر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قرب عطا فرمائے، اہل سنت و جماعت کو آپ کا نعم البدل عطا کرے، آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا عسجد رضا صاحب قبلہ دام ظلہ، دیگر اہل خانہ اور اعزا و اقربا کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور ہم سب کو عملی طور پر سچی محبت کرکے آپ کے نقش قدم پر چل کر دین و سنیت اور مسلک اعلی حضرت کی بیش بہا خدمت کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
طالب دعا:
ابوعاتکہ ازہار احمد امجدی ازہری غفرلہ
فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم اے
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، اوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا
ای میل: amjadiazhari@gmail.com
۱۲؍ذوالقعدۃ ۳۹ھ مطابق ۲۶؍جولائی ۱۸ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=807337136560005&id=100018511772807
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
مبسملا وحامدا::ومصلیا مسلما

دعوت اسلامی میں فکر رضا کی جلوہ سامانیاں

جب کسی مسلمان کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ صراط مستقیم سے پھٹک سکتا ہے,یا غلط راہ پر جا چکا ہو تو اس کے دل میں محبت نبوی اور عشق مصطفوی کی شمع روشن کرنے کی کوشش کی جائے,تاکہ وہ اپنے رسول کی طاعت اختیار کرے اور راہ حق پر مستحکم وقائم ہو جائے,کیوں کہ ہر محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے,اور اس میں فرحت وشادمانی اور لذت روحانی محسوس کرتا ہے۔

حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:

تعصی الالہ وانت تظہر حبہ
ہذا محال فی القیاس بدیع

ترجمہ:تم اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہو اور اس کی محبت ظاہر کرتے ہو۔یہ محال ہے اور عقل کے نزدیک ایک اختراعی بات ہے۔

لو کان حبک صادقا لاطعتہ
ان المحب لمن یحب مطیع

ترجمہ:اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو ضرور تم رب تعالی کی فرماں برداری کرتے۔بے شک محب اپنے محبوب کی فرماں برداری کرتا ہے۔

جب کوئی مومن حضور اقدس سرور دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے خوب محبت کرنے لگتا ہے تو وہ ہر امر میں یہ تلاش کرتا ہے کہ اس بارے میں ہمارے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم کیا ہے؟وہ کسی شخصیت کا منہ نہیں دیکھتا,خواہ وہ شخص کتنا ہی عظیم الشان ہو,بلکہ وہ حکم مصطفوی کو ہر اس مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے,جہاں اسے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا صحیح حکم ملنے کی امید ہو۔

امام احمد رضا قادری کے عہد میں برصغیر میں اعتقادی فتنوں کا سیلاب آ چکا تھا۔غیر مقلدیت,دیوبندیت,قادیانیت,ندویت,نیچریت ودیگر فتنے عروج پر تھے۔امام احمد رضا قادری نے نظم ونثر ہر دو صنف کے ذریعہ قوم مسلم کو عشق مصطفوی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی,یہاں تک کہ بر صغیر کی فضا عشق محمدی ومحبت مصطفوی کی خوشبو سے مشکبار ہو گئی۔

جب قوم کے دلوں میں عشق مصطفوی کی قندیل روشن ہو جائے گی تو قوم کا ہر فرد درپیش امر سے متعلق پکارے گا کہ اس بارے میں ارشاد مصطفوی کیا ہے؟حکم نبوی کیا ہے؟شریعت محمدی کا فیصلہ کیا ہے؟

عشق کی اس منزل میں پہنچ کر کوئی عاشق رسول(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) اپنے پیر واستاذ کو نہیں دیکھتا ہے,بلکہ اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے صحیح حکم کو تلاش کرتا ہے,خواہ احکام صحیحہ بتانے والا کوئی بھی ہو۔استاذ وپیر ہو,یا کوئی دوسرے عالم۔

امام احمد رضا قادری لوگوں کو عشق مصطفوی کی ترغیب بھی دے رہے تھے اور ارشادات نبویہ واحکام مصطفویہ سے بھی قوم مسلم کو آشنا کر رہے تھے۔


تحریک دعوت اسلامی نے بھی قوم مسلم کو عشق محمدی کی جانب لانے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی نے یہ حسین تصور اور اثر آفریں فکر ارکان دعوت اسلامی کو ودیعت فرمائی۔

جامعۃ المدینہ,فیضان مدینہ,مدرسۃ المدینہ,دار المدینہ,مکتبۃ المدینہ,مدنی ماحول,مدنی پھول,مدنی منا,مدنی ترکیب,قفل مدینہ وغیرہ اصطلاحات واسما ایک مومن کے قلب وذہن اور فکر ونظر کو دربار حبیب خدا علیہ التحیۃ والثنا کی جانب کشاں کشاں لے جاتے ہیں۔

تحریک دعوت اسلامی لوگوں کو امام احمد رضا قادری کی تعلیمات سے بھی آشنا کر رہی ہے,اور ان کی تعلیمات پر عمل کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔امیر دعوت اسلامی(جزاہ اللہ تعالی عنا وعن جمیع المسلمین)کو عاشق اعلی حضرت بھی کہا جاتا ہے۔

تحریک دعوت اسلامی فکر رضا کی صحیح ترجمانی کر رہی ہے۔یہ لوگ فکر رضا کے سچے مبلغین ہیں۔

ہمارے ایک قابل اعتماد لاہوری دوست نے بتایا کہ جب دعوت اسلامی کے مبلغین کو کسی امر سے متعلق کہا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ اس بارے میں حکم شرعی کیا ہے؟ حکم شرع بتاؤ۔

اگر یہ مبلغین حقیقت میں ایسا ہی کہتے ہیں تو ٹھیک اسی راہ پر گئے ہیں,جس راہ پر امام احمد رضا قادری قوم مسلم کو لے جانا چاہتے تھے۔

اگر یہ مبلغین یہ کہتے کہ ہمارے امیر نے ایسا کہا,یا ہمارے پیر نے ایسا کہا,یا ہمارے استاذ نے ایسا کہا,اس لئے ہم نے ایسا کیا تو یہ شبہہ ہوتا کہ شاید یہ لوگ دیوبندی طرز فکر کے قریب جا رہے ہیں۔دیابنہ اپنے استاذ وپیر کی محبت میں حکم شرع سے غافل ہو گئے۔دیابنہ نے ناموس رسالت پر اپنے پیروں اور استاذوں کی عزت وناموس کو ترجیح دی اور اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی صریح بے ادبیوں کے باوجود اپنے پیروں اور استاذوں سے جدا نہ ہوئے۔

مجھے تو وہی لوگ پسند ہیں جو سنی صحیح العقیدہ ہوں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔میں قوم مسلم کو اسی لئے امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان ان ہی کی طرح سنی صحیح العقیدہ رہیں اور ہر وقت مدینہ مدینہ کی صدا بلند کرتے رہیں۔اپنے روز وشب کو تصور مصطفوی میں مستغرق رکھیں۔
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
جب کوئی باطنی طور پر خود کو دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا میں حاضر کر لیتا ہے تو اس کی نظر بھی بدل جاتی ہے اور نظریہ بھی بدل جاتا ہے۔وہ جب اہل سنت وجماعت کے تمام طبقات یعنی حنفی,مالکی,شافعی,حنبلی,اشعری وماتریدی,قادری,چشتی,نقشبندی وسہروردی کو دربار اعظم میں قبولیت سے سرفراز پاتا ہے تو طبقاتی عصبیت اس کے قلب وذہن سے غائب ہو جاتی ہے۔

مقبول ومردود کا فرق مشکل نہیں۔جن کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا:(لا تجالسوہم ولا تواکلوہم:الحدیث)۔ایسے لوگ مردود بارگاہ ہیں۔خواہ وہ مرتد ہوں,یا بدمذہب۔

سوال:محض عشق نبوی سے ہمیں کیسے معلوم ہو گا کہ کون دربار رسالت میں مقبول ہے اور کون مردود؟

جواب:ہم نے متعدد مضامین میں وضاحت کر دی ہے کہ عہد حاضر کے بدمذہبوں کی تعیین وتشخیص اور ان کے شرعی احکام امام احمد رضا قادری نے بیان فرما دیئے ہیں۔اس بارے میں ان کے فتاوی اور کتب ورسائل دیکھ لیں۔

جب کوئی خود کو دربار اعظم سے منسلک کرے گا تو اس کا باطن طاعت مصطفوی کی طرف مائل وراغب ہو گا۔امام احمد رضا کا پتہ اسی لئے بتا رہا ہوں کہ حسب ضرورت ان سے شرعی احکام ومسائل دریافت کر لو۔ان کی تعیین وتشخیص اس لئے کرتا ہوں کہ ماضی قریب میں ان کو ہی دربار اعظم سے شرعی احکام ومسائل کی تحقیق وتبلیغ کے واسطے مقرر کیا گیا تھا۔مقرر کردہ خدام دین کو مجدد کہا جاتا ہے۔

دعوت اسلامی اور حسام الحرمین

تحریک دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین"حسام الحرمین"کو اعلانیہ طور پر مانتے ہیں۔دعوت اسلامی کے ارکان ومبلغین اعتقادی طور پر متصلب سنی ہیں۔یہ لوگ ندوی فکر یعنی صلح کلیت کے حامی وقائل نہیں۔صلح کلیت یہ ہے کہ ہر ایک فرقہ کو اہل حق سمجھا جائے۔جب دعوت اسلامی حسام الحرمین کو مانتی ہے تو بدمذہبوں کو اہل حق نہیں مانتی ہے,بلکہ نگاہ شریعت میں وہ لوگ جیسے ہیں,انہیں ویسا ہی مانتی ہے۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ شرفہ کی کتاب"کفریہ کلمات کے بارے میں سوال وجواب"(مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ)ص84-85میں حسام الحرمین کی تصدیق مرقوم ومطبوع ہے۔

مدنی چینل کا قیام

ماضی قریب میں پاکستان کے سب سے بڑے عالم اہل سنت غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی(1913-1986)ٹی وی کے جواز کے قائل تھے۔یہ ٹی وی کی تصویر کو تصویر نہیں مانتے تھے۔اس سبب سے اکثر علمائے پاکستان ٹی وی کے جواز کے قائل ہوئے۔جمعیت علمائے پاکستان,تنظیم المدارس, تحریک تحفظ ختم نبوت اور تحریک دعوت اسلامی کے قیام میں حضرت علامہ کاظمی علیہ الرحمۃ وارضوان کا اہم کردار رہا ہے۔

ارکان دعوت اسلامی نے علمائے پاکستان کے قول جواز کے پیش نظر"مدنی چینل"تشکیل دی۔اس سے قبل"کیو ٹی وی"(Q TV)نے دنیا بھر میں قبولیت حاصل کر لی تھی۔یہ چینل ایک مشترکہ پلیٹ فارم تھا,جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے بیانات نشر ہوتے تھے۔

مدنی چینل کے مثبت نتائج ظاہرہوئے۔بے شمار لوگ گناہوں سے تائب ہوئے۔بہت سے لوگ بدمذہبیت سے تائب ہوئے۔دنیا کےدوسو ممالک میں مدنی چینل کے ذریعہ دعوت وتبلیغ کی خدمت انجام دی جا رہی ہے۔


سلسلہ رضویہ کی عظیم الشان شاخ

امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کے مرید وخلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین احمد مدنی قادری رضوی علیہ الرحمہ(1877-1981) کے مرید ہیں,اور قطب مدینہ کے خلیفہ حضرت مولانا عبد السلام فتح پوری قادری رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان(1925-1998)کے خلیفہ ہیں۔

عہد حاضر میں مولانا موصوف کے ذریعہ سلسلہ رضویہ کو ساری دنیا میں فروغ ملا۔امیر دعوت اسلامی زاد اللہ فضلہ کے مریدین کی تعداد کئی لاکھ ہے۔عصر حاضرمیں ان سے جاری ہونے والا سلسلہ عطاریہ,سلسلہ رضویہ کی بہت بڑی شاخ ہے۔

تحریک دعوت اسلامی کا قیام

تحریک دعوت اسلامی کا قیام 1401 مطابق 1981 میں علمائے اہل سنت وجماعت کے مشورہ کے مطابق ہوا۔

02:ستمبر 1981 کو حضرت علامہ شاہ احمد نورانی کی رہائش گاہ پر کراچی میں ایک دعوتی تنظیم کے قیام کے لئے حضرت علامہ ارشد القادری,حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی,حضرت علامہ شاہ احمد نورانی,حضرت مفتی وقار الدین رضوی علیہم الرحمۃ والرضوان نے میٹنگ کی۔حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب قبلہ کو اس دعوتی تحریک کے قیام وفروغ کے لئے منتخب کیا گیا۔مولانا موصوف پہلے بھی دعوتی وتبلیغی خدمات انجام دیتے تھے۔تحریک کے قیام کے بعد منظم انداز میں کام کرنے لگے۔

یہ عوام اہل سنت کی تبلیغی تحریک ہے۔رفتہ رفتہ اس تحریک نے اپنا دائرۂ کار وسیع کر لیا۔اس کے پاس دینی خدمات کے سو سے زائد شعبے ہیں۔یہ تحریک مختلف قسم کی خدمات انجام دیتی ہے اور دنیا کے دو سو ممالک میں اس کی خدمات کا سلسلہ جاری ہے۔

دنیا کی کوئی غیر حکومتی تنظیم(NGO)شاید ہی اس کے مساوی ہو,جب کہ یہ تحریک چالیس سال قبل ہی قائم ہوئی ہے۔یہ ایک جدید تحریک ہے۔

بدمذہبوں کی بوکھلاہٹ
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
الیاس کاندھلوی نے دیوبندی مذہب کے فروغ کے لئے 1926 میں تبلیغی جماعت قائم کی۔اس کے قیام کو 95 سال ہو گئے۔اس کا دائرۂ کار بھی وسیع ہے,لیکن دعوت اسلامی کے بالمقابل اس کی کوئی خاص حیثیت نہیں۔

دعوت اسلامی کی وسعت وترقی دیکھ کر تمام بدمذہب فرقے بلبلا اٹھے ہیں۔دعوت اسلامی کے خلاف ہم نے مدرسہ دیوبند کا فتوی بھی دیکھا ہے اور غیر مقلدین کی معاندانہ تحریریں بھی۔خاص کر مدنی چینل کے ذریعہ مذہب ایل سنت کو کافی فروغ حاصل ہوا۔لوگ بدعقیدگی سے بھی محفوظ ہوئے اور انھیں اصلاح اعمال کا بھی موقع میسر آیا۔

جو لوگ جلسوں اور محفلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے,ان لوگوں نے مدنی چینل سے استفادہ کیا اور مذہب اہل سنت وجماعت سے وابستہ رہے۔جو بدمذہب ہو چکے تھے,یا بدمذہبیت کی جانب مائل تھے,وہ صحیح العقیدہ سنی بن گئے۔

دعوت اسلامی نے دنیا بھر میں وہابی فکر کی تبلیغ واشاعت کی روک تھام کے لئے قابل تحسین اقدام کیا ہے۔ان شاء اللہ تعالی اکیسویں صدی امام احمد رضا کی صدی ہو گی۔ممالک عالم میں فکر رضا کو فروغ وعروج حاصل ہو گا اور دنیا بھر میں عشق مصطفے علیہ التحیۃ والثنا کے ترانے گونجیں گے۔

دعوت وتبلیغ کے لئے ہمارے پاس تحریک دعوت اسلامی ہے۔مسائل شرعیہ کی تحقیق وتدقیق کے لئے برصغیر میں متعدد فقہی مجالس ہیں,مثلا شرعی کونسل(بریلی شریف),مجلس شرعی(مبارک پور),مجلس تحقیقات شرعیہ(دعوت اسلامی)-

ہمارے پاس بہت سی سنی خانقاہیں ہیں جو مسلک اہل سنت وجماعت کی ترویج واشاعت میں مصروف ہیں,مثلا خانقاہ برکاتیہ(ماریرہ مطہرہ),خانقاہ اشرفیہ(کچھوچھہ مقدسہ),خانقاہ رضویہ(بریلی شریف)-تعلیم وتدریس کے لئے بہت سے ادارے ہیں,مثلا جامعہ منظر اسلام وجامعۃ الرضا(بریلی شریف)جامعہ اشرفیہ(مبارک پور),جامعہ رضویہ(لاہور)۔

بطور مثال چند خانقاہوں اور اداروں کا ذکر کیا گیا۔استیعاب کی گنجائش نہیں۔

فکر رضا سے وابستہ بے شمار علمائے اہل سنت ومشائخ طریقت ومفتیان شریعت عرب وعجم میں مختلف قسم کی دینی,ملی,اشاعتی,تحقیقی ودیگر خدمات میں مصروف عمل ہیں۔ہماری تمام خانقاہیں,ادارے,تنظیمیں اور علما ومشائخ امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز کی تعلیمات پر مستحکم وقائم ہیں۔ان میں ربط باہم کی ضرورت ہے:لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:18:جون 2021
بروز: جمعہ مبارکہ۔بعد نماز عصر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir (Irfan Attari🌷)
تجارت اور ہمارا معاشرہ

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں

بعض پیشوں کو گھٹیا
اور
باعث عار سمجھنا
صرف اس دور کی لعنت ہے
آج کل جو شخص پھیری لگا کر
کندھے پر گٹھڑی رکھ کر
کپڑا بیچتا ہو
اس کو گھٹیا خیال کرتے ہیں
مگر حضرت ابوبکر یہی کام کرتے تھے
امام احمد بن عمر الخصاف المتوفی 261 ھ
بہت بڑے فقیہ اور عابد و زاہد تھے،
ان کی فقہ میں بہت تصانیف ہیں،
عربی میں خصاف موچی کو کہتے ہیں
یہ جوتیوں کی مرمت کرتے تھے۔

علامہ احمد بن محمد بن احمد القادوری المتوفی 4428 ھ بہت بڑے فقیہ تھے۔
ان کی کتاب مختصر القدوری بہت عظیم کتاب ہے
اور
درس نظامی میں شامل ہے،
القدوری عربی میں مٹی کی ہنڈیا بچینے والے کو کہتے ہیں۔

علامہ محمود بن احمد الحصیری المتوفی 546 ھ
ایک فقیہ ہیں
عربی میں الحصیری اس شخص کو کہتے ہیں
جو چٹائی بناتا ہو۔

امام ابوبکر ابن علی الحدادی المتوفی 800 ھ بہت بڑے عالم تھے۔
انہوں نے مختصر القدوری کی شرح لکھی ہے۔
عربی میں حدادلوہار کو کہتے ہیں، اس لئے ان کو حدادی کہتے ہیں۔

آج کل کندھے پر گٹھڑی رکھ کر بیچنے والے،
جوتیوں کی مرمت کرنے والے
مٹی کے برتن بنانے والے
چٹائی بنانے والے
اور
لوہار کو حقیر اور کمتر آدمی سمجھا جاتا ہے
اور پوش علاقوں میں رہنے والے
ایسے لوگوں کو رشتہ دینے پر تیار نہیں ہوتے
لیکن مسلمانوں کے زرین دور میں یہ لوگ مسلمانوں کے امام تھے۔
اس زمانہ میں کسی بھی پیشہ کو صرف حصول رزق کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا
اور
کسی پیشہ کو خسیس
اور باعث عار نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب عزت اور ذلت کا معیار اور اس کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ اب سودی کاروبار کرنے والے،
اسمگلنگ کرنے والے،
نفلی دوائیں بنا کر بیچنے والے
اور ناجائز اور حرام ذرئاع سے مال بنا کر کوٹھیوں میں رہنے والے،
بینک بیلنس والے عزت دار ہیں
اور
رزق حلال کے حصول کے لئے پھیری لگانے والا لوہے کا کام کرنے والا
چٹائی بنانے والا مٹی کے برتن بنانے والا اور جوتی کی مرمت کرنے والا حقیر اور ذلیل ہے
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عزت والے ہیں، وہ اس دور کے لوگوں کے نزدیک ذلت والے ہیں۔
( تفسیر تبیان القرآن )

✍️ ابو معاویہ قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM