Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تاج الشریعہ : حیات وخدمات
100 سوالوں کے جوابات 💐
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مرتب :مفتی محمد فیض اللّٰہ مصباحی، برکاتی نائب قاضی ادارۂ شرعیہ جھارکھنڈ ۔ پرنسپل اسلامی مرکز، ہند پیڑھی، رانچی۔
▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️
وارث علوم اعلیٰ حضرت، جانشین حضور مفتی اعظم ہند حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان المعروف ازہری میاں قدّس سِرُّہ کی ذات والا درجات کو جس زاویے سے دیکھا اور پڑھا جائے، یکتائے روزگار نظر آتی ہے۔ آپ علم وعمل، زہد وتقوی، حسن کردار اور شیریں گفتار جیسے گونا گوں اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔آپ جہاں بلند پایہ اور راسخ العلم مدرس تھے، وہیں حاضر دماغ اور بالغ نظرمفتی بھی۔آپ کی خطابت میں جہاں خوش بیانی، نکتہ سنجی اور علمی گیرائی کی خوشبوئیں پھوٹتی ہیں، وہیں آپ کی تحریروں میں فکر انگیزی، حقائق نگاری، فقہی بصیرت، حدیثی مہارت کے ساتھ توضیحات، تنقیحات اور تطبیقات کا ایک جہان آباد نظر آتا ہے۔بلاشبہ آپ اپنے آباؤ واجداد کے علم وفکر کے سچے وارث و امین تھے۔
حضور تاج الشریعۃ کی حیات وخدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے جس کا تفصیلی احاطہ مجھ جیسے بے مایہ کے لیے بے حد مشکل ہے۔بے مائیگی کے با وصف حصول سعادت کے لیے زیر نظر تحریر میں آپ کی کتاب حیات کا اجمالی تعارف بشکل سوال و جواب پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے۔
اس طرز تحریر کا داعیہ یہ ہے کہ حضور تاج الشریعۃ کی حیات طیبہ سے متعلق معلومات، یاد داشت کی گرفت میں آجائیں، جس کے لیے سوال وجواب کا انداز ایک مؤثر اور دل چسپ طریقہ ہے۔ سوال پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں جستجوِ جواب کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔اور یہ مسلم ہے کہ جو چیز طلب اور جستجو کے بعد حاصل ہوتی ہے وہ دیر پا اور ذہن وفکر میں پیوست ہوجاتی ہے، اور جو چیز سرسری طور پر نظر سے گزرتی ہے اس پر کوئی خاص التفات نہیں ہوتا ہے۔
اب لیجیے! سوال وجواب کے آئینے میں اپنے ممدوح کی حیات وخدمات کا رخ روشن دیکھیےاور اپنے چراغ عقیدت کی لَو اور تیز کرئیے۔
*سوالات و جوابات*
سوال نمبر 1۔ تاج الشر یعہ کی ولادت کب اور کہا ں ہوئی؟
جواب:۔ آپ کی ولادت باسعا دت 14؍ ذی قعدہ 1361ھ مطابق 23؍ نومبر 1942ء
بروزمنگل ہندوستان کے مشہور شہر بریلی شریف کے محلہ سوداگران کاشانۂ رضا میں ہوئی۔
سوال نمبر 2۔ تاج الشر یعہ کا پیدا ئشی نام کیا ہے؟
جواب:۔ محمد
سوال نمبر 3۔ تاج الشر یعہ کا اصل نام کیا ہے؟
جواب:۔ محمد اسمٰعیل رضا
سوال نمبر 4۔ تاج الشر یعہ کا عرفی نام کیا ہے؟
جواب:۔ اختر رضا
سوال نمبر 5- تاج الشر یعہ کا تخلص کیاہے؟
جواب:۔ اختر
سوال نمبر 6۔ تاج الشر یعہ کا خاندانی پس منظر کیاہے؟
جواب:۔ تاج الشر یعہ کا خاندان افغان النسل اور قبیلہ بڑ ہیج سے تعلق رکھتا ہے
سوال نمبر 7۔ خانوا دۂ رضا کے مورث اعلیٰ کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب:۔ خانوادۂ رضا کے مورث اعلیٰ کانام شہزادہ سعید اللہ خان ہے آپ قند ہار
حکومت افغانستان کے ولی عہد تھے۔
سوال نمبر 8۔ تاج الشر یعہ کے والد کا نام کیاہے؟
جواب:۔ مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم رضا خان قادری عرف جیلانی میاں علیہ الر حمہ
سوال نمبر 9۔ تاج الشر یعہ کے دادا کانام کیا ہے؟
جواب:۔ حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خان علیہ الر حمہ
سوال نمبر 10۔ تاج الشر یعہ کے نانا کانام کیا ہے؟
جواب:۔ مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد مصطفی رضا خان علیہ الر حمہ
سوال نمبر 11- تاج الشر یعہ کے پر دادا کا نا م کیا ہے؟
جواب :۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
سوال نمبر 12۔ تاج الشر یعہ کا شجرۂ پدری کیا ہے؟
جواب:۔ مفتی اختر رضا خان بن مفتی محمد ابراہیم رضا خان بن مفتی محمد حامد رضا خان
بن امام اہل سنت مفتی محمد احمد رضاخان بن مفتی محمد نقی علی خان۔
سوال نمبر 13۔ تاج الشر یعہ کا شجرۂ مادری کیا ہے؟
جواب :۔ مفتی اختر رضا خان بن نگار فاطمہ عر ف سرکار بیگم بنت مفتی اعظم ہند مفتی
محمد مصطفی رضا خان بن امام احمد رضا خان۔
سوال نمبر 14- تاج الشر یعہ کے کتنے بھائی اور کتنی بہنیں ہیں؟
جواب :۔ 5؍ بھائی اور 3؍بہنیں
سوال نمبر 15- کتنے بھائی آپ سے بڑے اور کتنے آپ سے چھو ٹے ہیں؟
جواب:۔ 2؍ بھائی آپ سے بڑے ہیں اور 2؍ آپ سے چھو ٹے۔
سوال نمبر 16۔ تاج الشر یعہ کے بڑے بھائی کا نام کیا ہے؟
جواب:۔ ریحان ملت حضرت مولانا ریحان رضا خان علیہ الرحمہ
سوال نمبر 17۔ تاج الشر یعہ کے اس بھائی کا نام کیا تھا؟ جو بچپن ہی سے جذب کی کیفیت
میں غرق رہتے تھے بالآخر مفقود الخبر ہوگئے۔
جواب:۔ تنویر رضا خان
سوال نمبر 18۔ تاج الشر یعہ کے ان دوبھائیوں کے نام بتائیں جو عمر میں آپ سے چھو ٹے ہیں؟
جواب:۔ ڈاکٹر قمر رضا خان علیہ الرحمہ اور مولانا منّان رضا خان مدّ ظلہ العالی۔
سوال نمبر 19۔ تاج الشر یعہ کا عقیقہ کس نام پر ہوا؟
جواب :۔ محمد۔
100 سوالوں کے جوابات 💐
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مرتب :مفتی محمد فیض اللّٰہ مصباحی، برکاتی نائب قاضی ادارۂ شرعیہ جھارکھنڈ ۔ پرنسپل اسلامی مرکز، ہند پیڑھی، رانچی۔
▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️
وارث علوم اعلیٰ حضرت، جانشین حضور مفتی اعظم ہند حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان المعروف ازہری میاں قدّس سِرُّہ کی ذات والا درجات کو جس زاویے سے دیکھا اور پڑھا جائے، یکتائے روزگار نظر آتی ہے۔ آپ علم وعمل، زہد وتقوی، حسن کردار اور شیریں گفتار جیسے گونا گوں اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔آپ جہاں بلند پایہ اور راسخ العلم مدرس تھے، وہیں حاضر دماغ اور بالغ نظرمفتی بھی۔آپ کی خطابت میں جہاں خوش بیانی، نکتہ سنجی اور علمی گیرائی کی خوشبوئیں پھوٹتی ہیں، وہیں آپ کی تحریروں میں فکر انگیزی، حقائق نگاری، فقہی بصیرت، حدیثی مہارت کے ساتھ توضیحات، تنقیحات اور تطبیقات کا ایک جہان آباد نظر آتا ہے۔بلاشبہ آپ اپنے آباؤ واجداد کے علم وفکر کے سچے وارث و امین تھے۔
حضور تاج الشریعۃ کی حیات وخدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے جس کا تفصیلی احاطہ مجھ جیسے بے مایہ کے لیے بے حد مشکل ہے۔بے مائیگی کے با وصف حصول سعادت کے لیے زیر نظر تحریر میں آپ کی کتاب حیات کا اجمالی تعارف بشکل سوال و جواب پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے۔
اس طرز تحریر کا داعیہ یہ ہے کہ حضور تاج الشریعۃ کی حیات طیبہ سے متعلق معلومات، یاد داشت کی گرفت میں آجائیں، جس کے لیے سوال وجواب کا انداز ایک مؤثر اور دل چسپ طریقہ ہے۔ سوال پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں جستجوِ جواب کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔اور یہ مسلم ہے کہ جو چیز طلب اور جستجو کے بعد حاصل ہوتی ہے وہ دیر پا اور ذہن وفکر میں پیوست ہوجاتی ہے، اور جو چیز سرسری طور پر نظر سے گزرتی ہے اس پر کوئی خاص التفات نہیں ہوتا ہے۔
اب لیجیے! سوال وجواب کے آئینے میں اپنے ممدوح کی حیات وخدمات کا رخ روشن دیکھیےاور اپنے چراغ عقیدت کی لَو اور تیز کرئیے۔
*سوالات و جوابات*
سوال نمبر 1۔ تاج الشر یعہ کی ولادت کب اور کہا ں ہوئی؟
جواب:۔ آپ کی ولادت باسعا دت 14؍ ذی قعدہ 1361ھ مطابق 23؍ نومبر 1942ء
بروزمنگل ہندوستان کے مشہور شہر بریلی شریف کے محلہ سوداگران کاشانۂ رضا میں ہوئی۔
سوال نمبر 2۔ تاج الشر یعہ کا پیدا ئشی نام کیا ہے؟
جواب:۔ محمد
سوال نمبر 3۔ تاج الشر یعہ کا اصل نام کیا ہے؟
جواب:۔ محمد اسمٰعیل رضا
سوال نمبر 4۔ تاج الشر یعہ کا عرفی نام کیا ہے؟
جواب:۔ اختر رضا
سوال نمبر 5- تاج الشر یعہ کا تخلص کیاہے؟
جواب:۔ اختر
سوال نمبر 6۔ تاج الشر یعہ کا خاندانی پس منظر کیاہے؟
جواب:۔ تاج الشر یعہ کا خاندان افغان النسل اور قبیلہ بڑ ہیج سے تعلق رکھتا ہے
سوال نمبر 7۔ خانوا دۂ رضا کے مورث اعلیٰ کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب:۔ خانوادۂ رضا کے مورث اعلیٰ کانام شہزادہ سعید اللہ خان ہے آپ قند ہار
حکومت افغانستان کے ولی عہد تھے۔
سوال نمبر 8۔ تاج الشر یعہ کے والد کا نام کیاہے؟
جواب:۔ مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم رضا خان قادری عرف جیلانی میاں علیہ الر حمہ
سوال نمبر 9۔ تاج الشر یعہ کے دادا کانام کیا ہے؟
جواب:۔ حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خان علیہ الر حمہ
سوال نمبر 10۔ تاج الشر یعہ کے نانا کانام کیا ہے؟
جواب:۔ مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد مصطفی رضا خان علیہ الر حمہ
سوال نمبر 11- تاج الشر یعہ کے پر دادا کا نا م کیا ہے؟
جواب :۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ
سوال نمبر 12۔ تاج الشر یعہ کا شجرۂ پدری کیا ہے؟
جواب:۔ مفتی اختر رضا خان بن مفتی محمد ابراہیم رضا خان بن مفتی محمد حامد رضا خان
بن امام اہل سنت مفتی محمد احمد رضاخان بن مفتی محمد نقی علی خان۔
سوال نمبر 13۔ تاج الشر یعہ کا شجرۂ مادری کیا ہے؟
جواب :۔ مفتی اختر رضا خان بن نگار فاطمہ عر ف سرکار بیگم بنت مفتی اعظم ہند مفتی
محمد مصطفی رضا خان بن امام احمد رضا خان۔
سوال نمبر 14- تاج الشر یعہ کے کتنے بھائی اور کتنی بہنیں ہیں؟
جواب :۔ 5؍ بھائی اور 3؍بہنیں
سوال نمبر 15- کتنے بھائی آپ سے بڑے اور کتنے آپ سے چھو ٹے ہیں؟
جواب:۔ 2؍ بھائی آپ سے بڑے ہیں اور 2؍ آپ سے چھو ٹے۔
سوال نمبر 16۔ تاج الشر یعہ کے بڑے بھائی کا نام کیا ہے؟
جواب:۔ ریحان ملت حضرت مولانا ریحان رضا خان علیہ الرحمہ
سوال نمبر 17۔ تاج الشر یعہ کے اس بھائی کا نام کیا تھا؟ جو بچپن ہی سے جذب کی کیفیت
میں غرق رہتے تھے بالآخر مفقود الخبر ہوگئے۔
جواب:۔ تنویر رضا خان
سوال نمبر 18۔ تاج الشر یعہ کے ان دوبھائیوں کے نام بتائیں جو عمر میں آپ سے چھو ٹے ہیں؟
جواب:۔ ڈاکٹر قمر رضا خان علیہ الرحمہ اور مولانا منّان رضا خان مدّ ظلہ العالی۔
سوال نمبر 19۔ تاج الشر یعہ کا عقیقہ کس نام پر ہوا؟
جواب :۔ محمد۔
سوال نمبر 20۔ رسم بسم اللّٰہ خوانی کے وقت تاج الشریعہ کی عمر کیا تھی۔
جواب:۔ 4؍سال ،4؍ ماہ،4 ؍دن
سوال نمبر 21۔ تاج الشریعہ کی تسمیہ خوانی کس نے کروائی؟
جواب:۔ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے
سوال نمبر 22۔ تاج الشر یعہ نے ناظرہ اور ابتدائی کتب کی تعلیم کس سے حاصل کی؟
جواب:۔ اپنی والدہ ماجدہ نگار فاطمہ علیہا الرحمہ سے
سوال نمبر 23۔ پہلی فارسی ،دوسری فارسی،گلزار دبستاں اور بوستاں کی تعلیم آپ نے
کس سے حاصل کی؟
جواب:۔ جناب حافظ انعام اللّٰہ خان تسنیم حا مدی سے۔
سوال نمبر 24۔ کس سن عیسوی میں فضل الر حمن اسلامیہ انٹر کالج میں آپ کاداخلہ ہوا۔
جواب:۔ 1952ء میں
سوال نمبر 25۔ اسلامیہ انٹر کالج میں آپ نے کون کو ن سے علوم حاصل کیے؟
جواب:۔ ریاضی ،ہندی،سنسکرت اور انگریزی وغیرہ علوم۔
سوال نمبر 26۔ کون سا کلاس پاس کر نے کے بعد آپ نے منظر اسلا م میں داخلہ لیا؟
جواب:۔ 8؍واں کلاس پاس کر نے کے بعد
سوال نمبر 27۔ منظر اسلام کے وہ کون استاذ تھے جنہیں تاج الشریعہ صبح صبح ہندی ،اردواور
انگلش کے اخبارات عربی میں ترجمہ کر کے سنایا کر تے تھے؟
جواب:۔ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عبد التواب مصری جو منظر اسلا م میں عربی ادب کے
استاذ تھے۔
سوال نمبر 28۔ وہ کون بزرگ عالم تھے جنہوں نے آپ کی صلاحیت دیکھ کر مشورہ دیا کہ
انہیں جامعہ ازہر قاہرہ مصر بغرض اعلیٰ تعلیم بھیج دیا جائے؟
جواب:۔ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عبد التواب مصری۔
سوال نمبر 29۔ کس سن عیسوی میں تاج الشر یعہ مشہور یو نیورسٹی جامعہ ازہر قاہرہ مصر
تشریف لے گئے؟
جوابـ:۔ 1963ءمیں
سوال نمبر 30۔ تاج الشر یعہ نے جامعہ ازہر کے کس شعبہ میں داخلہ لیا؟
جواب:۔ کُلِّیَۃُ اُصُوْلِ الْدّیِنِ قِسْمُ ا لتَّفْسِیْرِ وَالْحَدِیْثِ میں۔
سوال نمبر 31۔ کتنے سالو ں تک آپ مصر میں زیر تعلیم رہے؟
جواب:۔ 3؍ سالوں تک
سوال نمبر 32۔ جامعہ ازہر مصر سے کس سن عیسوی میں آپ کی فر اغت ہوئی؟
جواب:۔ 1966ء میں
سوال نمبر 33۔ آپ نے کُلِّیَۃُ اُصُوْلِ الْدّیِنِ قِسْمُ ا لتَّفْسِیْرِ وَالْحَدِیْثِ کے
شعبہ میں کون سا پو زیشن حا صل کیا؟
جواب:۔ اول۔
سوال نمبر 34۔ اول نمبر پر آنے کی وجہ سے مصر میں آپ کو کیا اعزاز ملا؟
جواب:۔ مصر کے صدر جناب کرنل جمال عبد النا صر صاحب نے بطور اعزاز ایوارڈ دیا
اور بی۔ اے۔ کی سند عطاکی۔
سوال نمبر 35۔ آپ کی سند فراغت کا اندراج نمبر کیا ہے؟
جواب:۔ 1207
سوال نمبر 36- 17/ نومبر 1966ء کو جب تاج الشر یعہ جامعہ ازہر مصر سے فارغ التحصیل ہو کر
صبح صبح بریلی اسٹیشن پر اترے تو سب سے پہلے آپ کو کس نے گلے لگایا؟
جواب:۔ حضور مفتی اعظم ہند نے سب سے پہلے گلے لگایا ،پیشانی چومی اور بہت
دعائیں دیں۔
سوال نمبر 37۔ دوران تعلیم جامعہ ازہر مصر، تاج الشر یعہ کو کیا صدمہ پہنچا؟
جواب:۔ دوران تعلیم جامعہ ازہر مصر ، تاج الشر یعہ کے والد مفسر اعظم ہند حضرت مفتی
ابراہیم رضا خان عر ف جیلانی میاں علیہ الرحمہ بعمر 60؍ سال 11؍ صفر المظفر1385ھ
مطابق 12؍جون 1965ء انتقال فر ما گئے۔انتقال کی خبر سے آپ کو گہرا صدمہ پہنچا۔
سوال نمبر 38۔ تاج الشر یعہ کے وہ کون ہم سبق ساتھی تھے جنہوں نے آپ کے برادر اکبر
مولانا ریحان رضا خان علیہ الر حمہ کو تعزیتی مکتوب لکھا۔
جواب:۔ مولانا محمد شمیم اشرف ازہری سائو تھ افریقہ
سوال نمبر 39۔ دوران طالب علمی منظر اسلام بریلی شریف، تاج الشریعہ اپنے والد کی ہدایت
کے مطابق طلبۂ منظر اسلام کو کون سی کتاب سنایا کر تے تھے؟
جواب:۔ سیف الجبار
سوال نمبر 40۔ تاج الشر یعہ نے با ضابطہ طور پر تدریس کا سلسلہ کب اور کہا ں سے شروع کیا؟
جواب:۔ 1967ء میں منظر اسلا م بر یلی شریف سے با ضابطہ طور پر تدریس کا آغاز کیا۔
سوال نمبر 41۔ کس سن عیسوی میں آپ منظر اسلام میں صدر المدرسین کے عہدے پرفائز ہوئے؟
جواب:۔ 1978ء میں آپ منظر اسلام میں صدر المدرسین کے عہدے پر فائز ہوئے۔
سوال نمبر 42۔ کس سن عیسوی میں آپ منظر اسلام سے علا حدہ ہوئے اور کیوں؟
جواب:۔ 1980ء میں آپ کثیر مصروفیا ت کی وجہ سے منظر اسلام سے علا حدہ ہوئے۔
سوال نمبر 43۔ تاج الشر یعہ نے مر کزی درالافتا ء کب اور کیوں قائم فر مایا؟
جواب:۔ 1981ء میں جب سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الر حمہ کا وصال ہوا تو فتاویٰ نویسی
میں آپ مر جع ٹھہرے اور آپ نے مر کزی دارالافتا قائم فر مایا۔
سوال نمبر 44۔ مرکزی دار الافتا میں تر بیت افتا لینے والے طلبہ کو آپ کون کون سی کتابیں
پڑھا تے تھے؟
جواب:۔ بخاری شریف،مسلم شریف،عقود رسم المفتی،الاشباہ والنظائر،فواتح الرحموت،
شامی ،بدائع الصنائع،اجلی الاعلام وغیرہ کتب کا درس دیتے تھے۔
سوال نمبر 45۔ تاج الشریعہ نے شرعی کونسل آف انڈیا کی بنیاد کب رکھی؟
جواب :۔ 7؍جمادی الآخرہ 1424ھ مطابق 8؍اگست 2003ء بروز جمعہ ۔
جواب:۔ 4؍سال ،4؍ ماہ،4 ؍دن
سوال نمبر 21۔ تاج الشریعہ کی تسمیہ خوانی کس نے کروائی؟
جواب:۔ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے
سوال نمبر 22۔ تاج الشر یعہ نے ناظرہ اور ابتدائی کتب کی تعلیم کس سے حاصل کی؟
جواب:۔ اپنی والدہ ماجدہ نگار فاطمہ علیہا الرحمہ سے
سوال نمبر 23۔ پہلی فارسی ،دوسری فارسی،گلزار دبستاں اور بوستاں کی تعلیم آپ نے
کس سے حاصل کی؟
جواب:۔ جناب حافظ انعام اللّٰہ خان تسنیم حا مدی سے۔
سوال نمبر 24۔ کس سن عیسوی میں فضل الر حمن اسلامیہ انٹر کالج میں آپ کاداخلہ ہوا۔
جواب:۔ 1952ء میں
سوال نمبر 25۔ اسلامیہ انٹر کالج میں آپ نے کون کو ن سے علوم حاصل کیے؟
جواب:۔ ریاضی ،ہندی،سنسکرت اور انگریزی وغیرہ علوم۔
سوال نمبر 26۔ کون سا کلاس پاس کر نے کے بعد آپ نے منظر اسلا م میں داخلہ لیا؟
جواب:۔ 8؍واں کلاس پاس کر نے کے بعد
سوال نمبر 27۔ منظر اسلام کے وہ کون استاذ تھے جنہیں تاج الشریعہ صبح صبح ہندی ،اردواور
انگلش کے اخبارات عربی میں ترجمہ کر کے سنایا کر تے تھے؟
جواب:۔ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عبد التواب مصری جو منظر اسلا م میں عربی ادب کے
استاذ تھے۔
سوال نمبر 28۔ وہ کون بزرگ عالم تھے جنہوں نے آپ کی صلاحیت دیکھ کر مشورہ دیا کہ
انہیں جامعہ ازہر قاہرہ مصر بغرض اعلیٰ تعلیم بھیج دیا جائے؟
جواب:۔ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عبد التواب مصری۔
سوال نمبر 29۔ کس سن عیسوی میں تاج الشر یعہ مشہور یو نیورسٹی جامعہ ازہر قاہرہ مصر
تشریف لے گئے؟
جوابـ:۔ 1963ءمیں
سوال نمبر 30۔ تاج الشر یعہ نے جامعہ ازہر کے کس شعبہ میں داخلہ لیا؟
جواب:۔ کُلِّیَۃُ اُصُوْلِ الْدّیِنِ قِسْمُ ا لتَّفْسِیْرِ وَالْحَدِیْثِ میں۔
سوال نمبر 31۔ کتنے سالو ں تک آپ مصر میں زیر تعلیم رہے؟
جواب:۔ 3؍ سالوں تک
سوال نمبر 32۔ جامعہ ازہر مصر سے کس سن عیسوی میں آپ کی فر اغت ہوئی؟
جواب:۔ 1966ء میں
سوال نمبر 33۔ آپ نے کُلِّیَۃُ اُصُوْلِ الْدّیِنِ قِسْمُ ا لتَّفْسِیْرِ وَالْحَدِیْثِ کے
شعبہ میں کون سا پو زیشن حا صل کیا؟
جواب:۔ اول۔
سوال نمبر 34۔ اول نمبر پر آنے کی وجہ سے مصر میں آپ کو کیا اعزاز ملا؟
جواب:۔ مصر کے صدر جناب کرنل جمال عبد النا صر صاحب نے بطور اعزاز ایوارڈ دیا
اور بی۔ اے۔ کی سند عطاکی۔
سوال نمبر 35۔ آپ کی سند فراغت کا اندراج نمبر کیا ہے؟
جواب:۔ 1207
سوال نمبر 36- 17/ نومبر 1966ء کو جب تاج الشر یعہ جامعہ ازہر مصر سے فارغ التحصیل ہو کر
صبح صبح بریلی اسٹیشن پر اترے تو سب سے پہلے آپ کو کس نے گلے لگایا؟
جواب:۔ حضور مفتی اعظم ہند نے سب سے پہلے گلے لگایا ،پیشانی چومی اور بہت
دعائیں دیں۔
سوال نمبر 37۔ دوران تعلیم جامعہ ازہر مصر، تاج الشر یعہ کو کیا صدمہ پہنچا؟
جواب:۔ دوران تعلیم جامعہ ازہر مصر ، تاج الشر یعہ کے والد مفسر اعظم ہند حضرت مفتی
ابراہیم رضا خان عر ف جیلانی میاں علیہ الرحمہ بعمر 60؍ سال 11؍ صفر المظفر1385ھ
مطابق 12؍جون 1965ء انتقال فر ما گئے۔انتقال کی خبر سے آپ کو گہرا صدمہ پہنچا۔
سوال نمبر 38۔ تاج الشر یعہ کے وہ کون ہم سبق ساتھی تھے جنہوں نے آپ کے برادر اکبر
مولانا ریحان رضا خان علیہ الر حمہ کو تعزیتی مکتوب لکھا۔
جواب:۔ مولانا محمد شمیم اشرف ازہری سائو تھ افریقہ
سوال نمبر 39۔ دوران طالب علمی منظر اسلام بریلی شریف، تاج الشریعہ اپنے والد کی ہدایت
کے مطابق طلبۂ منظر اسلام کو کون سی کتاب سنایا کر تے تھے؟
جواب:۔ سیف الجبار
سوال نمبر 40۔ تاج الشر یعہ نے با ضابطہ طور پر تدریس کا سلسلہ کب اور کہا ں سے شروع کیا؟
جواب:۔ 1967ء میں منظر اسلا م بر یلی شریف سے با ضابطہ طور پر تدریس کا آغاز کیا۔
سوال نمبر 41۔ کس سن عیسوی میں آپ منظر اسلام میں صدر المدرسین کے عہدے پرفائز ہوئے؟
جواب:۔ 1978ء میں آپ منظر اسلام میں صدر المدرسین کے عہدے پر فائز ہوئے۔
سوال نمبر 42۔ کس سن عیسوی میں آپ منظر اسلام سے علا حدہ ہوئے اور کیوں؟
جواب:۔ 1980ء میں آپ کثیر مصروفیا ت کی وجہ سے منظر اسلام سے علا حدہ ہوئے۔
سوال نمبر 43۔ تاج الشر یعہ نے مر کزی درالافتا ء کب اور کیوں قائم فر مایا؟
جواب:۔ 1981ء میں جب سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الر حمہ کا وصال ہوا تو فتاویٰ نویسی
میں آپ مر جع ٹھہرے اور آپ نے مر کزی دارالافتا قائم فر مایا۔
سوال نمبر 44۔ مرکزی دار الافتا میں تر بیت افتا لینے والے طلبہ کو آپ کون کون سی کتابیں
پڑھا تے تھے؟
جواب:۔ بخاری شریف،مسلم شریف،عقود رسم المفتی،الاشباہ والنظائر،فواتح الرحموت،
شامی ،بدائع الصنائع،اجلی الاعلام وغیرہ کتب کا درس دیتے تھے۔
سوال نمبر 45۔ تاج الشریعہ نے شرعی کونسل آف انڈیا کی بنیاد کب رکھی؟
جواب :۔ 7؍جمادی الآخرہ 1424ھ مطابق 8؍اگست 2003ء بروز جمعہ ۔
👍1
سوال نمبر 46۔ تاج الشریعہ نے مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا کی بنیاد کب رکھی؟
جواب :۔ 24؍صفر المظفر 1421ھ مطابق 29؍ مئی 2000ء میں۔
سوال نمبر 47۔ کس سن ہجری میں آپ نے دارالعلوم امجدیہ کر اچی، پاکستان میں بخاری
شریف کا درس دے کر تعلیمی افتتاح فر مایا؟
جواب:۔ 1409ھ میں
سوال نمبر 48۔ کس سن ہجری میں آپ نے جامعہ اسلامیہ گنج قدیم رام پورمیں بخاری
شریف کی آخری حدیث کا درس دیا؟
جواب:۔ 1407 ھ اور 1408ھ میں۔
سوال نمبر 49۔ تاج الشریعہ کی درس وتدریس کی کچھ خوبیاں بیان کیجئے ۔
جواب:۔ تاج الشریعہ کادرس اپنے دامن میں بے شمار برکات لیے رہتا تھا،
اندازِتفہیم عمدہ ،زبان سلیس ،فصاحت وبلاغت کی آمیزش،غرض ہرحیثیت
سے خوب رہتاتھا ،پڑھنے والے کاذہن بوجھل نہیں ہوتاتھامتعلمین کے
اندر یہ جذبہ انگڑائی لیتا رہتاکہ کاش درس اور لمبا ہوجاتا ۔
سوال نمبر 50۔ کس سنہ عیسوی سے آپ نے درس قرآن اور حدیث کاسلسلہ شروع کیا ۔
جواب:۔ 1982 ء سے آپ نے درس قرآن اور حدیث کاسلسلہ شروع کیا ۔
سوال نمبر 51۔ تاج الشریعہ کے درس قرآن وحدیث میں کن کن لوگوں نے شرکت کی ۔
جواب:۔ آپ کے درس قرآن وحدیث میں ہند وبیرون ہند کے معززین ،اسکالر س ،
علما،مشائخ ،ائمہ مساجد اور متعدد خانقاہوں کے سجادگان نے شرکت کی ۔
سوال نمبر 52۔ تاج الشریعہ کے خاندان میں فتاوی نویسی کی بنیاد کب اور کس نے ڈالی ؟
جواب:۔ مجاہد جنگ آزادی امام العلما حضرت مولانا مفتی رضاعلی خان علیہ الرحمہ
نے 1246ھ مطابق 1831 ء میں ڈالی ۔
سوال نمبر 53۔ عہدہ افتا پر فائز ہونے والے خانوادہ رضا کے معززافراد کانام بتائیں ؟
جواب:۔ قطب بریلی حضرت مفتی رضاعلی خان ،حضرت مفتی نقی علی خان،
اعلی حضرت امام احمد رضاخان ،حجتہ الاسلام حضرت مفتی حامد رضاخان،
مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد مصطفی رضاخان،مفسر اعظم حضرت مفتی
ابراہیم رضاخان،تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضاخان علیہم الرحمتہ والرضوان۔
سوال نمبر 54۔ ’’اختر میاں اب گھر میں بیٹھنے کاوقت نہیں،یہ لوگ جن کی بھیڑلگی ہوئی ہے
کبھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے اب تم اس (فتاوی نویسی کے )کام کو انجام دو ۔
میں (درالافتا)تمہارے سپرد کرتاہوں ‘‘یہ جملے کن کی زبان سے جاری ہوئے تھے ۔
جواب:۔ حضورمفتی اعظم ہندعلیہ الرحمہ ۔
سوال نمبر 55۔ ’’آپ لوگ اب اختر میاں سلمہ سے رجوع کریں ،انہیں کو میرا قائم مقام
اور جانشیں جانیں‘‘یہ تاریخی جملہ کس نے کہاتھا ؟
جواب:۔ حضور مفتی ا عظم ہند علیہ الرحمہ نے کہاتھا ۔
سوال نمبر 56۔ 1966ء میں جامعہ ازہر مصر سے واپس لوٹنے کے بعد جس استفتا کا آپ
نے شاندار جواب لکھا وہ کہاں سے آیاتھا اورکن مسائل پر مشتمل تھا ؟
جواب :۔ وہ استفتا مرکز اسلام مدینہ منورہ سے آیاتھااور نکاح ،طلاق اور میراث کے
مسائل پر مشتمل تھے ۔
سوال نمبر 57۔ استفتا کاجواب لکھنے کے بعد آ پ نے کن کن بزرگوں کودکھایا؟
جواب:۔ سب سے پہلے بحرالعلوم حضرت مفتی سید افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ کو
دکھایا پھر نانا جان مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کو دکھایا ۔دونوں بزرگوں نے
دلائل وبراہین سے مزین فتوی کو دیکھ کر مسرت کااظہار کیااور صدائے تحسین بلند کی ۔
سوال نمبر58۔ تاج الشریعہ کتنی زبانوں میں فتوی لکھتے تھے ؟
جواب:۔ زیادہ تر تین زبانوں :عربی ،انگریزی ،اور اردو میں فتوی لکھتے تھے اور کبھی
کبھی ہندی اور فارسی میں بھی جواب لکھتے تھے ۔
سوال نمبر59۔ تاج الشریعہ نے انگریزی میں سب سے پہلا فتوی کس سنہ میں تحریر فرمایا ۔؟
جواب:۔ آپ نے انگریزی میں سب سے پہلا فتوی 7؍محرم الحرام 1412ھ مطابق
20 ؍ جولائی 1991ء میں تحریر فرمایا ۔
سوال نمبر60۔ اس انگریزی فتوی کے مستفتی کون تھے اور وہ کن مسائل پر مشتمل تھا؟
جواب :۔ اس کے مستفتی الحاج ہارون رضوی لیڈی اسمتھ سائوتھ افریقہ تھے اور وہ
استفتا دارالاسلام اور دارالحرب میں مسلم اور ذمی کافر سے متعلق مسائل پر مشتمل تھا۔
سوال نمبر 61۔ کس سنہ میں آپ نے نسبندی کے ناجائز وحرام ہونے کافتوی صادر فرمایا؟
جواب:۔ 1975ء میں ۔
سوال نمبر62۔ نسبندی کے ناجائز وحرام ہونے کافتوی آپ نے کس کے حکم پر صاد ر فرمایا؟
جواب:۔ تاجداراہل سنت حضور مفتی اعظم ہندعلیہ الرحمہ کے حکم پر ۔
سوال نمبر63۔ نسبندی کے خلاف فتاوی کی اشاعت کے بعد حکومت ہندنے واپسی کے
لیے دباؤ ڈالا تو آپ نے کیاکہا؟
جواب:۔ آپ نے رجوع کرنے سے انکار کر دیا اور نمائندگا ن حکومت سے صاف
صاف کہہ دیا کی فتوی قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔کسی بھی
صورت میں واپس نہیں لیا جاسکتا ہے ۔
سوال نمبر 64۔ تاج الشریعہ کے فتاوی کا مجموعہ کس نام سے شائع ہوا ؟
جواب :۔ اَلْمَوَاہِبُ الرضویہ فی الفتاوی الازہریہ۔
جواب :۔ 24؍صفر المظفر 1421ھ مطابق 29؍ مئی 2000ء میں۔
سوال نمبر 47۔ کس سن ہجری میں آپ نے دارالعلوم امجدیہ کر اچی، پاکستان میں بخاری
شریف کا درس دے کر تعلیمی افتتاح فر مایا؟
جواب:۔ 1409ھ میں
سوال نمبر 48۔ کس سن ہجری میں آپ نے جامعہ اسلامیہ گنج قدیم رام پورمیں بخاری
شریف کی آخری حدیث کا درس دیا؟
جواب:۔ 1407 ھ اور 1408ھ میں۔
سوال نمبر 49۔ تاج الشریعہ کی درس وتدریس کی کچھ خوبیاں بیان کیجئے ۔
جواب:۔ تاج الشریعہ کادرس اپنے دامن میں بے شمار برکات لیے رہتا تھا،
اندازِتفہیم عمدہ ،زبان سلیس ،فصاحت وبلاغت کی آمیزش،غرض ہرحیثیت
سے خوب رہتاتھا ،پڑھنے والے کاذہن بوجھل نہیں ہوتاتھامتعلمین کے
اندر یہ جذبہ انگڑائی لیتا رہتاکہ کاش درس اور لمبا ہوجاتا ۔
سوال نمبر 50۔ کس سنہ عیسوی سے آپ نے درس قرآن اور حدیث کاسلسلہ شروع کیا ۔
جواب:۔ 1982 ء سے آپ نے درس قرآن اور حدیث کاسلسلہ شروع کیا ۔
سوال نمبر 51۔ تاج الشریعہ کے درس قرآن وحدیث میں کن کن لوگوں نے شرکت کی ۔
جواب:۔ آپ کے درس قرآن وحدیث میں ہند وبیرون ہند کے معززین ،اسکالر س ،
علما،مشائخ ،ائمہ مساجد اور متعدد خانقاہوں کے سجادگان نے شرکت کی ۔
سوال نمبر 52۔ تاج الشریعہ کے خاندان میں فتاوی نویسی کی بنیاد کب اور کس نے ڈالی ؟
جواب:۔ مجاہد جنگ آزادی امام العلما حضرت مولانا مفتی رضاعلی خان علیہ الرحمہ
نے 1246ھ مطابق 1831 ء میں ڈالی ۔
سوال نمبر 53۔ عہدہ افتا پر فائز ہونے والے خانوادہ رضا کے معززافراد کانام بتائیں ؟
جواب:۔ قطب بریلی حضرت مفتی رضاعلی خان ،حضرت مفتی نقی علی خان،
اعلی حضرت امام احمد رضاخان ،حجتہ الاسلام حضرت مفتی حامد رضاخان،
مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد مصطفی رضاخان،مفسر اعظم حضرت مفتی
ابراہیم رضاخان،تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضاخان علیہم الرحمتہ والرضوان۔
سوال نمبر 54۔ ’’اختر میاں اب گھر میں بیٹھنے کاوقت نہیں،یہ لوگ جن کی بھیڑلگی ہوئی ہے
کبھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے اب تم اس (فتاوی نویسی کے )کام کو انجام دو ۔
میں (درالافتا)تمہارے سپرد کرتاہوں ‘‘یہ جملے کن کی زبان سے جاری ہوئے تھے ۔
جواب:۔ حضورمفتی اعظم ہندعلیہ الرحمہ ۔
سوال نمبر 55۔ ’’آپ لوگ اب اختر میاں سلمہ سے رجوع کریں ،انہیں کو میرا قائم مقام
اور جانشیں جانیں‘‘یہ تاریخی جملہ کس نے کہاتھا ؟
جواب:۔ حضور مفتی ا عظم ہند علیہ الرحمہ نے کہاتھا ۔
سوال نمبر 56۔ 1966ء میں جامعہ ازہر مصر سے واپس لوٹنے کے بعد جس استفتا کا آپ
نے شاندار جواب لکھا وہ کہاں سے آیاتھا اورکن مسائل پر مشتمل تھا ؟
جواب :۔ وہ استفتا مرکز اسلام مدینہ منورہ سے آیاتھااور نکاح ،طلاق اور میراث کے
مسائل پر مشتمل تھے ۔
سوال نمبر 57۔ استفتا کاجواب لکھنے کے بعد آ پ نے کن کن بزرگوں کودکھایا؟
جواب:۔ سب سے پہلے بحرالعلوم حضرت مفتی سید افضل حسین مونگیری علیہ الرحمہ کو
دکھایا پھر نانا جان مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کو دکھایا ۔دونوں بزرگوں نے
دلائل وبراہین سے مزین فتوی کو دیکھ کر مسرت کااظہار کیااور صدائے تحسین بلند کی ۔
سوال نمبر58۔ تاج الشریعہ کتنی زبانوں میں فتوی لکھتے تھے ؟
جواب:۔ زیادہ تر تین زبانوں :عربی ،انگریزی ،اور اردو میں فتوی لکھتے تھے اور کبھی
کبھی ہندی اور فارسی میں بھی جواب لکھتے تھے ۔
سوال نمبر59۔ تاج الشریعہ نے انگریزی میں سب سے پہلا فتوی کس سنہ میں تحریر فرمایا ۔؟
جواب:۔ آپ نے انگریزی میں سب سے پہلا فتوی 7؍محرم الحرام 1412ھ مطابق
20 ؍ جولائی 1991ء میں تحریر فرمایا ۔
سوال نمبر60۔ اس انگریزی فتوی کے مستفتی کون تھے اور وہ کن مسائل پر مشتمل تھا؟
جواب :۔ اس کے مستفتی الحاج ہارون رضوی لیڈی اسمتھ سائوتھ افریقہ تھے اور وہ
استفتا دارالاسلام اور دارالحرب میں مسلم اور ذمی کافر سے متعلق مسائل پر مشتمل تھا۔
سوال نمبر 61۔ کس سنہ میں آپ نے نسبندی کے ناجائز وحرام ہونے کافتوی صادر فرمایا؟
جواب:۔ 1975ء میں ۔
سوال نمبر62۔ نسبندی کے ناجائز وحرام ہونے کافتوی آپ نے کس کے حکم پر صاد ر فرمایا؟
جواب:۔ تاجداراہل سنت حضور مفتی اعظم ہندعلیہ الرحمہ کے حکم پر ۔
سوال نمبر63۔ نسبندی کے خلاف فتاوی کی اشاعت کے بعد حکومت ہندنے واپسی کے
لیے دباؤ ڈالا تو آپ نے کیاکہا؟
جواب:۔ آپ نے رجوع کرنے سے انکار کر دیا اور نمائندگا ن حکومت سے صاف
صاف کہہ دیا کی فتوی قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھا گیا ہے ۔کسی بھی
صورت میں واپس نہیں لیا جاسکتا ہے ۔
سوال نمبر 64۔ تاج الشریعہ کے فتاوی کا مجموعہ کس نام سے شائع ہوا ؟
جواب :۔ اَلْمَوَاہِبُ الرضویہ فی الفتاوی الازہریہ۔