🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضور صدر الشریعہ احوال و آثار
مولانا شاداب احمد برکاتی
مولانا محمد راشد رضا امجدی
مولانا ابو ذر امجدی صاحب
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فیضان لا زوال ہے صدر الشریعہ کا
مصطفیٰ کی ضیاء شمع امجد علی
اعطٰنا بہار شریعتہ | اعطٰنا بھار شریعته
دعوت کا حکم | بہار شریعت
صدر الشریعہ کی فقہی بصیرت
مزار سے خوشبو .....
آپ جس پر ہو گئے ہیں مہرباں صدر
تفقہ جس کا نام ہے وہ امجد علی
بعد نماز فجر قرآن و دلائل الخیرات
زیارت قبور مستحب ہے! بہار شریعت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمد راحت خان قادری
ڈاکٹر اقبال
سب سے پہلے ڈاکٹر اقبال صاحب کی شرعی حیثیت بیان کردی جائےناصر سنیت مناظر اہل سنت مفتی ابوالطاہر طیب صدیقی قادری برکاتی داناپوری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر اقبا ل صاحب نے اپنی فارسی اور اردو نظموں میں دہریت اور الحاد کا زبردست پروپیگنڈہ کیا ہے۔ کہیں اللہ عز وجل پر اعتراضات کی بھرمار ہے کہیں علمائے شریعت و ائمۂ طریقت پر حملوں کی بوچھار ہے ۔ کہیں سیدنا جبریل امین و سیدنا موسی کلیم اللہ و سیدنا عیسی مسیح اللہ علیہم الصلاۃ والسلام کی تنقیصوں توہینوں کا انبار ہے۔ کہیں شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا وآلہ الصلاۃ والتحیہ واحکام مذہبیہ و عقائد اسلامیہ پر تمسخر و استہزا اور انکار ہے کہیں اپنی زندیقیت و بے دینی کا فخرو مباہات کے ساتھ کھلا ہوا اقرار ہے۔ ‘‘(تجانب اہل السنۃ عن اہل الفتنۃ ص:۴۷۵)
ڈاکٹر اقبال کے کچھ اشعار
اب ڈاکٹر اقبال کے کچھ ان اشعارکی مثالیں بھی ذکر کردی جائیں کہ جن سے کفر و الہاد کا اظہار ہوتا ہے:
(۱)
تیرے شیشے میں مئے باقی نہیں ہے!
بتا کیا تو مرا ساقی نہیں ہے!!
سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم!
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے!
(بال جبریل ص:۶)
غور کیجئے !ان اشعار میں ڈاکٹر صاحب نے رب العزت جواد کریم ذوالفضل العظیم جلَّ جلالہ کو بخیل بتایا اس کے رازق نہ ہونے کا گیت گایاہے۔
(۲)
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر!
مجھے معلوم کیا وہ راز داں تیرا ہے یا میرا
(بال جبریل ص:۷)
اس شعر میں ڈاکٹر صاحب نے رب تبارک وتعالیٰ سے مخاطب ہوکر یہ کہا ہے کہ ابلیس کو تیرے حکم پر عمل کرنے سے انکار کی جرأت کیوں کر ہوئی یہ مجھے کیا معلوم! آخر وہ تیرا ہی تو راز دار ہے، میرا راز دار تو ہے نہیں میں کیا جانوں کہ ابلیس کو تیرا کون سا ایسا راز معلوم ہوگیا جس کی وجہ سے وہ تیرا حکم بجا لانے سے انکار کی جرأت کر بیٹھا۔
ڈاکٹر صاحب کا یہ انداز گفتگو ایسا ہی ہے جیسے کسی کے خفیہ عیب در پردہ بیان کئے جاتے ہیں۔معاذ اللہ رب العالمین
(۳)
حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظ وپند
احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے بنا سکتے ہیں قرآن کو پازند
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ فردوس کی مانند
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہِ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند!
چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند
ان اشعار میں ڈاکٹر اقبال نے رب تبارک و تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے کھری کھوٹی سنانے کی کوشش کی ہے۔ کہتے ہیں کہ گرجا گھر میں تو شراب و کباب حاضر ہیں ۔ مسجد میں وعظ و نصیحت کے علاوہ کیا رکھا ہے؟ اے اللہ! تیرے احکام تو حق ہیںلیکن ہمارے مفسرین نے قرآن عظیم کی تاویلیں کر کر کے اس کو پاژند یعنی پارسیوں کی مذہبی تفسیر بتا دیا ہے۔ تیرے فردوس کو تو کسی نے دیکھا ہی نہیں لیکن یوروپ کا ہر ایک گاؤں فردوس ہی کی مانند ہے میں وہی بات کہتا ہوں جسے حق سمجھتا ہوں۔ نہ تومیں مسجد کا بے وقوف ملاَّ ہوں۔ نہ تہذیب کا فرزند ہوں۔ یہ وہ اعتراضات ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ بے نیاز پر جڑے ہیں۔ یہ استہزاءات و تمسخرات ہیں جو اقبال صاحب نے اللہ رب العزت جل جلالہ سے کئے ہیں۔ مقطع میں اس امر کا کھلم کھلا اقرار بھی کرلیا کہ شاعر مشرق صاحب اللہ عز وجل کی جناب میں گستاخیاں ضرور کرتے ہیں ۔
نوٹ: مفتی محمد اعظم صاحب مفتی رضوی دارالافتابریلی شریف فرماتے ہیںکہ حضور مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا:
بے شک اس (اقبال) سے اس کی جہالت کی بنا پر کفر تک پہونچانے والی غلطیاں ہوئی ہیںمگر آخری وقت میں مرنے سے پہلے اس کی توبہ مشہور ہے۔انتہی کلامہ
توبہ کے مشہور ہونے کی وجہ سے قائل پر حکم کفر تو نہیں لگایا جائے گا لیکن اس کے کفریہ کلمات ہمیشہ کفریہ ہی رہیں گے اگرچہ توبہ حقیقۃ ہی کیوں نہ کر لی ہو۔ لہذا ان کفریہ کلمات سے اگر کوئی استدلال کرے تو وہ بھی مجرم قرار پائے گا۔

محمد راحت خان قادری غفرلہ القوی
خادم تدریس و افتا دار العلوم فیضان تاج الشریعہ بریلی شریف
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
डॉ. इक़बाल

बदरुल उलमा, हज़रत अल्लामा मौलाना बदरुद्दीन अहमद सिद्दीकी अलैहिर्रहमा, डॉ. इक़बाल के बारे में लिखते है :
रज़वी दारुल इफ्ता, बरेली शरीफ मे एक इस्तेफ्ता पेश किया गया जिस में डॉ. इक़बाल के कुछ (कुफ़्रिया) अश'आर के मुताल्लिक़ सवाल किया गया था तो मौलाना मुफ़्ती मुहम्मद आज़म ने (फतवे में) उन अश'आर को कुफ़्रिया करार दिया और काईल (यानी डॉ. इक़बाल) के बारे में तहरीर किया के मैने हुज़ूर मुफ़्तीये आज़म -ए- हिन्द, अल्लामा मुस्तफ़ा रज़ा खान अलैहिर्रहमा से डॉ. इक़बाल के बारे में दरियाफ्त किया तो आप ने फरमाया :
बेशक इक़बाल से खिलाफ -ए- शरह उमूर का सुदूर हुआ है, कुफ़्रियात तक उस से सादिर हुए है मगर वो अल्लाह त'आला के महबूब, सरकार -ए- दो आलम ﷺ की शान में गुस्ताख़ व बेअदब नही था बेशक जहालत की बिना पर उस से कुफ्र तक पहुचने वाली गलतिया हुई है मगर आखिर वक़्त में मरने से पहले उस की तौबा भी मशहूर है और जो अल्लाह के महबूब की शान में गुस्ताख़ नही होता उस को तौबा की तौफ़ीक़ होती है उस के बाद हुज़ूर मुफ्तिये आज़म -ए- हिन्द ने इक़बाल का ये शेर पढ़ा :

بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر با و نر سیدی تمام بو لہبی است


ये शेर पढ़ कर हज़रत की आंखों में आंसू भर गए और फरमाने लगे के इस शेर से हुज़ूर ﷺ के साथ इक़बाल की सच्ची मुहब्बत ज़ाहिर है, उस के बाद फरमाया के इक़बाल के बारे में तवक़्क़ूफ़ चाहिए और हज़रत का ये फरमान नासाज़ीये तबा से 15-16 साल पहेले का है और हज़रत के इस फरमान पर हमारा अमल है।

(فتاوی بدر العلماء، ص126، 229، ملخصاً)

खलीफा -ए- हुज़ूर मुफ्तिये आज़म -ए- हिन्द हज़रत अल्लामा मुफ़्ती शरीफुल हक़ अमजदी अलैहिर्रहमा, डॉ. इक़बाल के एक शेर की तावील करते हुए लिखते है के हमे हुक्म है के मोमिन के कलाम को अच्छे मानो पर महमूल करना वाजिब है।

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص486، ملتقطاً)

आप रहिमहुल्लाहू त'आला एक और मक़ाम पर लिखते है के इक़बाल की तौबा मशहूर है, बहुत से मुस्तनद आलिमो ने उस की (तौबा की) रिवायत भी की है इस लिए इस बारे में सुकूत किया जाता है।

(فتاوی شارح بخاری، ج3، ص491، ملتقطاً)

अब्दे मुस्तफ़ा
Dr. Iqbal

Badarul Ulama, Hazrat Allama Maulana Badruddin Ahmad Siddiqui Alaihi Rahma, Dr. Iqbal Ke Baare Mein Likhte Hain :
Razvi Darul Ifta, Bareli Shareef Mein Ek Istefta Pesh Kiya Gaya Jis Mein Dr. Iqbal Ke Kuchh (Kufriya) Ash'aar Ke Mutalliq Sawal Kiya Gaya Tha To Maulana Mufti Muhammad Aazam Ne (Fatwe Mein) Un Ash'aar Ko Kufriya Qaraar Diya Aur Qaayil (Yaani Dr. Iqbal) Ke Baare Mein Tehreer Kiya Ke Maine Huzoor Muftiye Aazam -e- Hind, Allama Mustafa Raza Khan Alaihi Rahma Se Dr. Iqbal Ke Baare Mein Daryaft Kiya To Aap Ne Farmaya :
Beshak Iqbal Se Khilaf -e- Shara Umoor Ka Sudoor Hua Hai, Kufriyaat Tak Us Se Saadir Huye Hain Magar Wo Allah Ta'ala Ke Mahboob, Sarkar -e- Do Aalam ﷺ Ki Shaan Mein Gustakh Wa Be Adab Nahin Tha
Beshak Jahalat Ki Bina Par Us Se Kufr Tak Pahunchane Waali Ghalatiya Huyi Hain Magar Aakhir Waqt Mein Marne Se Pehle Us Ki Tauba Bhi Mash'hoor Hai Aur Jo Allah Ke Mahboob Ki Shaan Mein Gustakh Nahin Hota Us Ko Tauba Ki Toufique Hoti Hai
Us Ke Baad Huzoor Muftiye Aazam -e- Hind Ne Iqbal Ka Ye Sher Padha :

بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر با و نر سیدی تمام بو لہبی است

Ye Sher Padh Kar Hazrat Ki Aankho Mein Aansu Bhar Gaye Aur Farmane Lage Ke Is Sher Se Huzoor ﷺ Ke Saath Iqbal Ki Sachhi Muhabbat Zaahir Hai, Uske Baad Farmaya Ke Iqbal Ke Baare Mein Tawaqquf Chahiye Aur Hazrat Ka Ye Farman Nasaaziye Taba Se 15-16 Saal Pehle Ka Hai Aur Hazrat Ke Is Farman Par Humara Amal Hai

(فتاوی بدر العلماء، ص126، 229، ملخصاً)

Khalifa -e- Huzoor Muftiye Aazam -e- Hind, Hazrat Allama Mufti Shariful Haque Amjadi Alaihi Rahma, Dr. Iqbal Ke Ek Sher Ki Taweel Karte Huye Likhte Hain Ke Humein Hukm Hai Ke Momin Ke Kalaam Ko Achhe Maano Par Mahmool Karna Wajib Hai

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص486، ملتقطاً)

Aap Rahimahullahu Ta'ala Ek Aur Maqaam Par Likhte Hain Ke Iqbal Ki Tauba Mash'hoor Hai, Bahut Se Mustanad Aalimo Ne Us Ki (Tauba Ki) Riwayat Bhi Ki Hai Is Liye Is Baare Mein Sukoot Kiya Jaata Hai

(فتاوی شارح بخاری، ج3، ص491، ملتقطاً)

Abde Mustafa
ڈاکٹر اقبال

بدر العلماء، حضرت علامہ مولانا بدر الدین احمد صدیقی علیہ الرحمہ، ڈاکٹر اقبال کے بارے میں لکھتے ہیں:
رضوی دار الافتاء بریلی شریف میں ایک استفتا پیش کیا گیا جس میں ڈاکٹر اقبال کے کچھ (کفریہ) اشعار کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو مولانا مفتی محمد اعظم نے (فتوے میں) اُن اشعار کو کفریہ قرار دیا اور قائل (یعنی ڈاکٹر اقبال) کے بارے میں تحریر کیا کہ میں نے حضور مفتی اعظم ہند، علامہ مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ سے ڈاکٹر اقبال کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:
بے شک اقبال سے خلاف شرع امور کا صدور ہوا ہے، کفریات تک اس سے صادر ہوئے ہیں مگر وہ اللہ تعالی کے محبوب، سرکارِ دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخ و بے ادب نہیں تھا- بے شک جہالت کی بنا پر اس سے کفر تک پہنچانے والی غلطیاں ہوئی ہیں مگر آخر وقت میں مرنے سے پہلے اس کی توبہ بھی مشہور ہے اور جو اللہ کے محبوب کی شان میں گستاخ نہیں ہوتا اس کو توبہ کی توفیق ہوتی ہے-
اس کے بعد حضور مفتی اعظم ہند نے اقبال کا یہ شعر پڑھا:

بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر با و نر سیدی تمام بو لہبی است

یہ شعر پڑھ کر حضرت کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے اور فرمانے لگے کہ اس شعر سے حضور ﷺ کے ساتھ اقبال کی سچی محبت ظاہر ہے- اس کے بعد فرمایا کہ اقبال کے بارے میں توقف چاہیے اور حضرت کا یہ فرمان ناسازی طبع سے پندرہ سولہ سال پہلے کا ہے اور حضرت کے اس فرمان پر ہمارا عمل ہے-

(فتاوی بدر العلماء، ص126، 229، ملخصاً)

خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ تعالی، ڈاکٹر اقبال کے ایک شعر کی تاویل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمیں حکم ہے کہ مومن کے کلام کو اچھے معنوں پر محمول کرنا واجب ہے-

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص486، ملتقطاً)

آپ رحمہ اللہ تعالی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ اقبال کی توبہ مشہور ہے، بہت سے مستند عالموں نے اس کی (توبہ کی) روایت بھی کی ہے اس لیے اس کے بارے میں سکوت کیا جاتا ہے-

(فتاوی شارح بخاری، ج3، ص491، ملتقطاً)

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM