🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اللہ کی خوشنودی اور برائی کی بات
غربت سے نجات کا نسخہ یا ملک
وقت انمول ہیرا ہے جسے کھو کر پانا
تعظیم حضور اور صحابہ | بخاری
جو چپ رہا اس نے نجات پائی
میرے جواب دینے میں فضیلت ہے یا
جو دوسروں کے مسائل حل کرے
تعریف یا برائی کرنے میں جلدی نہ کرو
کس حالت میں صدقہ افضل ہے
حقیقی علم وہی ہے جس کو حاصل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کسی شخص کو مسجد میں آتا دیکھو
انعام | نیکی کا کام اور برائی کا کام
بہار شریعت پر اعتراض کا جواب
ایمان کو غارت کرنے والے فتنے
جو مسلمان کو لباس پہناتا ہے ...
زندگی کا ہر دن ہمیں موت سے قریب
مجھے کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں
جو اپنے اہل کے ساتھ اچھا ہو ...
ڈانس سکھانے والے اسکول میں
بچوں کو تعلیم دلوانا کیسا ہے ؟
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*🌷🖍️مصنف بہار شریعت فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کے حالات بشکل سوالات وجوابات*⁦⁩⁦

۔🖍️🌸📕🌲📘🌷📗🖍️
*سوال*:--- آپ کا اسم گرامی کیا ہے؟
*جواب*:----آپ اسم گرامی محمد امجد علی اعظمی ہے
*سوال*:----آپ کا لقب کیا ھے؟
*جواب*:---آپ کالقب صدر الشریعہ بدرالطریقہ اور فقیہ اعظم ہند ھے۔
*سوال*:---آپ کا سلسلہ نسب کیا ہے ؟
*جواب*:---سلسلہ نسب مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی بن مولاناحکیم جمال الدین بن حکیم مولانا خدابخش بن مولانا خیرالدین (علیھم الرحمہ)ہے
*سوال*:---آپ کی تاریخ ولادت کیاہے ؟
*جواب*:--آپ رحمۃ اللہ علیہ ١٣٠٠ھ مطابق نومبر ١٨٨٢ع ہے۔
*سوال*:---جاۓپیدائش کیاہے؟
*جواب*:---محلہ کریم الدین پور قصبہ گھوسی قدیم ضلع اعظم گڑھ حال ضلع مئو صوبہ اتر پردیش ہے
*سوال*:---آپ کا حلیہ مبارک کیاتھا؟
*جواب*:---صدرُالشریعہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیشانی کُشادَہ، رنگ گندمی، گھنی داڑھی، بدن صحت مند اورقد درمیانہ تھا۔(حیات وخدمات صدرالشریعہ، ص12
*سوال*:۔۔۔۔۔۔بہار شریعت کس بزرگ کی تصنیف ہے ؟
*جواب*:۔۔۔۔۔۔بہار شریعت صد رالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے ۔
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب ،کا اعلی حضرت سے کیا تعلق تھا ؟
*جواب*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب ،اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ تھے .
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی صاحب کو صد ر الشریعہ کا خطاب کس نے دیا ؟
*جواب*:۔۔۔۔۔۔اعلی حضرت نے آپ کو صدر الشریعہ کا خطاب دیا.
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب کس سن عیسوی میں پیداہوئے ؟
*جواب*:۔۔۔۔۔۔آپ1882ء میں پیداہوئے.
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب کا حافظہ کیسا تھا ؟
*جواب* :۔۔۔۔۔۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا حافظہ ایسا باکمال تھا ،کہ آپ نے ''کافیہ'' کتاب کی عبار ت ایک ہی دن میں یاد کر لی ،
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب کے استاد کون تھے ؟
جواب :۔۔۔۔۔۔آپ کے استاد ''وصی احمد محدث سُورتی ''تھے ۔
*سوال*:۔۔۔۔۔۔محدث سُورتی نے مفتی امجد علی صاحب کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟
*جواب* :۔۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا :اگر مجھ سے کسی نے پڑھا ہے ،تووہ ''امجدعلی اعظمی ''ہی ہیں ،آپ ہی نے مدرسہ اہلسنت (پٹنہ) کے صدر مدرس کیلئے صدرالشریعہ کا انتخاب کیا.
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب جس مدرسے میں پڑھاتے تھے ،اس کے متولی کون اور کیسے تھے ؟
*جواب*:۔۔۔۔۔۔اس مدرسے کے متولی قاضی عبد الوحید صاحب باعمل عالم دین تھے ،انکی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے ،جب کہ وہ بیمارہوئے تو اعلی حضرت اور محدث سورتی انکی عیادت کیلئے تشریف لائے ،اور جب ان کا انتقال ہوا ،تو اعلی حضرت نے جنازہ پڑھایا اور محدث سورتی نے قبر میں اتارا ۔
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب نے وہ مدرسہ کیوں چھوڑا تھا ؟
جواب :۔۔۔۔۔۔قاضی عبد الوحید صاحب کی وفات کے بعد انتظام نا اہلوں کے ہاتھ میں آگیا ،صدرالشریعہ دل برداشتہ ہو کر ،ارادہ چھوڑ کر چلے گئے ۔
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی نے مدرسہ چھوڑنے کے بعد کیا کیا ؟
جواب :۔۔۔۔۔۔آپ نے دو سال میں علم طب سیکھا اور مطب کھول لیا.
*سوال*:۔۔۔۔۔۔اعلی حضرت کو جب معلوم ہوا ،کہ مفتی امجدعلی اعظمی صاحب نے تدریس چھوڑ کر مطب کھول لیا ہے ،تو آپ نے کیا کیا ؟
*جواب*:۔۔۔۔۔۔اعلی حضرت نے صدر الشریعہ سے سوال کیا ،آپ کیا کرتے ہیں ،تو انہوں نے کہا ،مطب چلاتا ہوں ،آپ نے فرمایا :مطب بھی اچھا کام ہے ،مگر اس میں مرض کی تشخیص کیلئے صبح صبح پیشاب دیکھنا پڑتا ہے ،اس طرح مفتی صاحب کے دل میں پیشاب دیکھنے سے نفر ت پیدا ہوگی ،چند ماہ بعد اعلی حضرت نے صدر الشریعہ کے بریلی شریف میں مستقل قیام کا بندوبست کر لیا ،صدر الشریعہ بریلی شریف میں تدریس بھی کرواتے تھے ،فتوی نویسی بھی کرتے تھے ۔
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب کتنا عرصہ اعلی حضرت کی صحبت میں رہے ؟
*جواب* :۔۔۔۔۔۔آپ رحمۃ اللہ علیہ 18سال اعلی حضرت کی صحبت میں رہے ۔
*سوال*:----آپ کو اجازت و خلافت کہاں سے ملی؟
*جواب*:---اپنے استادِ محترم حضرت علّامہ وَصی احمد مُحَدِّث سُورتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مشورے پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مرید ہوئے اور بارگاہِ رَضَوِیَّت سے چاروں سَلَاسِل کی اِجازت سے نوازے گئے۔ (حیات صدرالشریعہ ، ص29، سیرت صدر الشریعہ،ص245)
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب کیسے صبر کرنے والے تھے ؟
*جواب* :۔۔۔۔۔۔آپ تراویح پڑھ رہے تھے ،آپ کو خبر ملی ،کہ آپ کے بڑے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا ہے ،آپ نے ''انا للہ وانا الیہ راجعون ''پڑھا ،اور پھر فرمایا:ابھی آٹھ رکعت تراویح باقی ہیں ،پھر نماز میں مصروف ہو گئے
*سوال*:۔۔۔۔۔۔مفتی امجد علی اعظمی صاحب نما زکے کیسے پابند تھے ؟
*جواب*:۔۔۔۔۔۔ایک دفعہ شدید بخار میں آپ پر غشی طاری ہوگئی ،جب ہوش آیا ،تو آپ نے سب سے پہلے یہ پوچھا ؟ظہر کا وقت ہے یا نہیں ؟جواب ملا:ظہر کا وقت نہیں رہا ،یہ سن کر اتنی اذیت پہنچی ،کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ،کسی نے عرض کی ،آپ تو بے ہوش تھے ،اس پر تو قیامت میں مواخذہ نہیں ہو گا ،آپ نے فرمایا :آپ مواخذہ کی بات کر رہے ہیں ،وقت مقررہ پر دربار الہی کی ایک حاضری سے تو محروم رہا ہوں.
*سوال*:۔۔۔۔۔۔آپ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کے کیسے پابند تھے ؟
*جواب* :۔۔۔۔۔۔آخری عمر میں بینائی کمزور ہو چکی تھی ،ایک دن صبح کی نماز کو جارہے تھے ،تو کنویں میں گرنے لگے تھے ،کہ ایک عورت نے چِلا کر کہا ،ارے مولوی صاحب کنویں ہے رُک جاؤ ،تو آپ رُکے ،اس کے باوجود مسجد کی حاضری نہ چھوڑی ۔
*سوال*:۔۔۔۔۔۔آپ کی نعت سنتے وقت کیفیت کیسی ہوتی تھی ؟
*جواب* :۔۔۔۔۔۔نعت سنتے وقت آپ دونوں ہاتھ باندھ کر ،آنکھیں بند کر لیتے ،اور باادب ہو کر بیٹھتے ،اور انتہائی توجہ کے ساتھ سنتے ،پھر کچھ ہی دیر میں آنکھوں سے اشک جاری ہو جاتے،نعت خواں پڑھ کر خاموش ہو جاتا ،لیکن کچھ دیر بعد تک بھی آپ پر وہی کیفیت طاری رہتی ۔
*سوال*:۔۔۔۔۔۔آپ کی وفات کیسے ہوئی ؟
جواب :۔۔۔۔۔۔آپ 1948ء میں سفر حج کیلئے نکلے ،اور وفات پاگئے ،حدیث میں ہے ،جو حج کیلئے نکلااور فوت ہوگیا ،قیامت تک اس کیلئے حج کا ثواب لکھا جا تا رہے گا (مسند ابو یعلی )
*مدینے کا مسافر ہند سے پہونچا مدینے میں*
*قدم رکھنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی سفینے میں*
*سوال*:---کس آیتِ مبارَکہ سے آپ کی وفات کامادَّہ تاریخ نکلتا ہے؟
*جواب*:---آیت کریمہ
"اِنَّ الْمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡن" سے 1367
*سوال*:-----آپ کا عرس مبارک کب منایا جاتا ہے؟
*جواب*:---ہرسال عربی تاریخ کے حساب سے ٢ذیقعدہ کو منایا جاتاہے۔
*سوال*:----اس وقت آپ کے موجودہ سجادہ نشین کون ہیں؟
*جواب*:----آپ کے شہزادے علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ صاحب قبلہ قادری امجدی ہیں ۔جن کو آج دنیا محدث کبیر 'سلطان الاساتذہ' أمیر المؤمنین فی الحدیث'اور نائب قاضی القضاۃ فی الہند کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔
*سوال*:----آپ کا مزار مبارک کہاں ہے؟
*جواب*:----آپ کا مزار مبارک مدینۃ العلماء قصبہ گھوسی ضلع مئویوپی میں ہے۔

ابررحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

*⁦✍️⁩عالمگیر اشرف مصباحی امجدی*
*پرنسپل دارالعلوم بشیریہ رضویہ مادھوسنگھ اورائی ضلع بھدوہی*

---------------------------------------
*💥 📚 خوشخبری🌸*

🌼 *عُرس صدرالشریعہ* کے موقع پر علم کا خزانہ، *اسلامی مسائل کا انسائیکلوپیڈیا* یعنی حضور *صدر الشریعہ* علیہ الرحمہ کی شاہکار تصنیف *📕 بہار شریعت* (مکمل) رعایتی ہدیے میں (محفوظ طریقے سے، اچھی پیکنگ میں) آپ کے گھر تک پہنچائی جارہی ہے جس کے ساتھ *📚 چھ/6 شاندار ایمان افروز کتابیں* بالکل *💥 مفت* دی جارہی ہیں۔

آپ *بہار شریعت* لکھ کر یا صرف *بہار* لکھ کر اس نمبر پر واٹساپ کیجیے 👇

Aap *BAHAR E SHARIAT* Likh Kar
Ya sirf: *BAHAR* Likh Kar is Number Par WhatsApp Karen👇

📲 (+91) 965-786-1546

*کیا آپ اس میسج کو ثواب کی نیت سے شیئر کرسکتے ہیں؟*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی نے علومِ اسلامی کی عظمت و تکریم اجاگر کر کے تعلیمی وقار بلند کیا*

’’اہل علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جس سے علم کی عظمت پیدا ہو‘‘
*[2ذی قعدہ عرس صدرالشریعہ مبارک]*

غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]

انگریز نے ہندُستان پر قبضہ جمایا۔حکومت مسلمانوں سے چھینی۔ دوبارہ مسلمان حکمراں نہ بن سکیں؛ اِس کے لیے سازشیں کیں۔ تعلیم کے میدان مسلمانوں کے لیے تنگ کر دیے۔ علومِ اسلامی کی درس گاہوں پر قدغن لگائے گئے۔ مدارس کے لیے مختص مالیاتی ذرائع ضبط کیے گئے۔ مدارس کو مفلوک الحال بنا دیا گیا۔ بعد ازاں مسلمانوں میں دینی علوم کی ترویج کے لیے جن مفکرین نے کامیاب جدوجہد کی اُن میں نمایاں نام اعلیٰ حضرت امام احمد رضاقادری، صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی اور ان سے متوسل علما و مفکرین کا ہے۔ جنھوں نے برِصغیر میں علومِ اسلامیہ کو تقویت دینے کے لیے باضابطہ درس گاہیں قائم کیں اور اپنے قابل تلامذہ کے ذریعے مدارسِ اسلامیہ کے قیام کی فکر منتقل کی۔جس کے نتیجے میں کثیر مدارس قائم ہوئے۔

صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی نے اردو زبان میں فقہی رہنمائی اور قوانینِ اسلامی کا عظیم خزانہ ’’بہارِ شریعت‘‘ [۲۰؍ حصے، جن میں آخری تین حصے تلامذۂ صدرالشریعہ نے مکمل کئے] لکھ کر احسان فرمایا۔ آج ہر درس گاہ اور دارالافتاء میں بہارِ شریعت سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں فقہی سرمائے میں بہارِ شریعت کو نمایاں و ممتاز مقام حاصل ہے۔جو قوانینِ اسلامی کا منبع اور مسائلِ حنفی کا خزینہ ہے۔ جس کے چشمۂ صافی سے اکتساب کرنے والے تشنگانِ علومِ اسلامیہ ہیں۔ جس سے ہر خاص و عام مستفیض ہو رہے ہیں-

مدارسِ اسلامی کے قیام کے لیے صدرالشریعہ اور ان کے تلامذہ کی خدمات برصغیر میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی جہاں عظیم فقیہ، مدبر، مفکر، کامیاب مدرس تھے وہیں ماہرِ تعلیم بھی تھے۔ آپ کے تعلیمی افکار میں بڑی گہرائی و گیرائی ہے۔ آپ نے زمانہ سازی کی۔ ایسے قابل و ماہر افراد تیار کیے جن کے ذریعے پورا برصغیر فیض یاب ہوا۔ آج جتنے نمایاں علما ہیں ان میں اکثر؛ متعدد واسطوں سے صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی کے شجرِ علمی سے مکتسب و مربوط ہیں۔

صدرالشریعہ کے تعلیمی افکار و نظریات پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ تا کہ فکرِ صحیح و خیالاتِ احسن کو تقویت دی جا سکے۔یہاں صرف تین مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

*مقدم علم:* صدرالشریعہ علم دین کی افادیت و اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سب سے مقدم یہ کہ بچوں کو قرآن مجید پڑھائیں اور دین کی ضروری باتیں سکھائی جائیں، روزہ، نماز، طہارت او ربیع واجارہ و دیگر معاملات کے مسائل جن کی روز مرہ حاجت پڑتی ہے اور ناواقفی سے خلافِ شرع عمل کرنے کے جرم میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کی تعلیم ہو ، اگر دیکھیں کہ بچہ کو علم کی طرف رجحان ہے اور سمجھ دار ہے تو علم دین کی خدمت سے بڑھ کر کیا کام ہے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تصحیح و تعلیم عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعدجس جائز کام میں لگائیں، اختیار ہے۔‘‘ [بہار شریعت، فاروقیہ بکڈپو دہلی، ج۸، ص ۱۴۴]

*حقیقی علم:* معاصر علوم انسانی دماغ کی اختراع ہیں۔ اصل علم دین کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ماضی کی درس گاہیں عالم بھی بناتی تھیں اور مفکر و سائنس داں بھی؛ اور فلاسفہ و ادبا بھی۔ علوم کی تقسیم بعد کو واقع ہوئی۔ جب سے علم سے رشتہ کم زور ہوا علوم کو خانوں میں بانٹ دیا گیا۔ عالم دین ہی تمام علوم میں قائد و رہنما ہوتے تھے۔ بغداد و غرناطہ؛ قرطبہ و بخارا کے مدارسِ اسلامیہ نے کتاب و سنت کے علوم کو عام کیا اور انھیں علوم کی بنیاد پر دنیا کو صالح ایجادات کا شعور بخشا۔ صدرالشریعہ علم دین کے تفوق و فضل و کمال کے ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو، ساری دنیا جانتی ہے کہ علم بہت بہتر چیز ہے، اس کا حاصل کرنا طغرائے امتیاز ہے، یہی وہ چیز ہے کہ جس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیاو آخرت سدھرتی ہے، مگر ہماری مراد اس علم سے وہ علم نہیں جو فلاسفہ سے حاصل ہوا ہو اور جس کو انسانی دماغ نے اختراع کیا ہو یا جس علم سے دنیا کی تحصیل مقصود ہو، ایسے علم کی قرآن کریم نے مذمت کی، بلکہ وہ علم مراد ہے جو قرآن و حدیث سے حاصل ہو کہ یہی وہ علم ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں سنور تے ہیں اور یہی وہ علم ہے جو ذریعۂ نجات ہے اور اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ‘‘ [ بہار شریعت، فاروقیہ بکڈپو دہلی،ج۱۶، ص ۲۰۴]