🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
جب یہ حدیث پاک یاد آتی ہے تو قلبِ گناہ گار میں امید کی ایک شمع روشن ہوجاتی ہے ۔

رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمھارے گناہوں سے زمین و آسمان کا درمیانی حصہ بھر جائے ، پھر اللہ سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تمھیں معاف فرمادے گا ۔
اگر تم گناہ نہ کرتے ، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرتا جو گناہ کر کے معافی مانگتے ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا ۔ ( مسند احمد بن حنبل وغیرہ )

جب کہا عِصیاں سے میں نے ، سخت لاچاروں میں ہوں
جن کے پَلّے کچھ نہیں ہے اُن خریداروں میں ہوں

تیری رَحمت کے لیے شامِل گنہ گاروں میں ہوں ‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بول اُٹھی رَحمت ، نہ گھبرا میں مَدد گاروں میں ہوں

لقمان شاہد عفی عنہ
8-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3179982838948550&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل ایک عزیز نے بتایا کہ گجرات کے فلاں عالم صاحب کی چار بیویاں ہیں ۔

میں نے کہا:

" وہ عالم حفظہ اللہ قابل زیارت ہیں ، ان سے ملاقات کر کے دعا لینی چاہیے ۔ "

اس زمانے میں جس کی دو ، تین یا چار بیویاں ہیں ، وہ حقیقی معنوں میں مجاہد ہے ۔ ( اللہﷻ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے ! )
اس کی آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں ، اس میں حوصلہ اور صبر زیادہ ہوتا ہے ، وہ تقوی اور پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہوتا ہے ، اور اس کے فہم و فراست میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔
نیز اس کی بیویاں بھی بڑی سعادت مند ہوتی ہیں ، جوصبر و رضا کی اعلا مثال اور خلوص و للہیت کا بہترین نمونہ ہوتی ہیں ۔
رب تعالیٰﷻ ایسے مرد و خواتین کی کوتاہیوں سے درگذر فرمائے اور ان کی دنیا آخرت بہتر کرے ۔

✍️لقمان شاہد
9-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180421168904717&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک سے زیادہ نکاح کی بات کرنے سے عام طور پر دو مقصد حاصل ہوتے ہیں ۔

1: گرل/بوائےفرینڈکلچر کا خاتمہ ۔
2: لبرل اور سیکولر مائینڈ کا رد ۔

لیکن ایک تیسرا مقصد بھی حاصل ہوجاتاہے ۔
۔
۔
۔
‌۔
۔

اور وہ یہ کہ:

بہادر ، نیم بہادر ، فل ڈرپوک ، ہاف ڈرپوک ، مضبوط دل ، کمزور دل اور مظلوم و مجبور و مقہور و مرحوم و مغفور کی پہچان ہوجاتی ہے 😄😀

آپ پوچھیں گے یہ کیسے ؟

تو یہ ایک علم ہے ، جسے " علم کمینٹ " کہتے ہیں ، اسی کے ذریعے سب کچھ معلوم ہوتا ہے ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180460288900805&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج بڑی دیر بعد ایک‌ دوست ملنے آئے اور مصروفیت دیکھ کر پوچھنے لگے:

" امید ہے آپ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوں گے ، گھر پر ہی نہیں پڑھ لیتے ہوں گے ؟ "

( مجھے ان کا سوال سن کر خوشی ہوئی ، اور دعا کی کہ:
یااللہ ! ایسے دوست سب کو نصیب کر جو آخرت کے معاملے میں فکر مند رہتے ہوں ۔ )

میں نے کہا:

اللہ پاک جماعت ترک کرنے سے پہلے مجھے ایمان پر موت دے دے ۔۔۔۔۔۔۔ میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے دنیا سے جانا چاہتا ہوں ۔
میری مصروفیت اگر اس سے بھی کئی گنا بڑھ جائے پھر بھی انشاءاللہ جماعت نہیں چھوٹے گی ۔

اللہ پاک ﷻ سفر و حضر اور علالت وصحت ، ہر حالت میں باجماعت نماز ادا کرنے کی اسی طرح توفیق بخشے ، جیسے امام اعمش اور مفتی احمدیار خان رحمھمااللہ کو بخشی تھی‌ ۔
( امام اعمش رحمہ اللہ کی ستر سال تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی ، اور مفتی احمد یارخان رحمہ اللہ کی بھی چالیس سال تک تکبیر اولیٰ فوت نہ ہوئی ۔ )

بغیر عذرِ شرعی ، باجماعت نمازچھوڑنے والا فاسق ہوتا ہے ۔
بلکہ ہمارے بعض فقہا نے تو اسےبھی مردود الشہادت قرار دیا ہے جو جماعت سے نماز تو پڑھتا ہے ، لیکن غفلت کی وجہ سے اقامت کا گھر بیٹھے انتظار کرتا رہتا ہے ۔

مسلمان جتنا بھی مصروف ہو اسے نمازباجماعت ہی پڑھنی چاہیے ، اس میں دوسری کوئی رائے نہیں ۔

✍️لقمان شاہد
10-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3181301005483400&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ دن پہلے ایک‌صاحب نے کسی مشہور عالم دین کے بارے میں کہاکہ:

" وہ اپنی خوبیاں ہی بیان کرتے رہتے ہیں ، اپنے منھ میاں مٹھو بنتے ہیں جو کہ تعلی کی علامت ہے ۔ "

اُن صاحب کی اِس بے جاتنقید پر میں نے کہا:

بھئی ! کیا آپ نے فیس بک پر کبھی اپنی تصویر اپلوڈنہیں کی ؟

کہنے لگے بہت دفعہ کی ہے ۔

تو میں نے عرض کی:

اگر اپنی واقعی خوبیاں بیان کرنا ٹھیک نہیں ، تو کیا اپنی تصویر کو وال پر لگانا درست ہے ؟
کیا یہ نمود و نمائش ، تصنع بناوٹ اور ریا و سمعہ نہیں ہے ؟

آپ بھی کمال کے شخص ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خود اپنی نمائش کرتے نہیں تھکتے ، اور اعتراض دوسروں کی نیت پر کرتے ہیں !

میرے بھائی ! اگر کوئی بندہ اپنے اندر موجود خوبی اچھی نیت سے بیان کرتا ہے تو یہ ناجائز نہیں ، اللہ کے پیارے نبی سیدنا یوسف علیہ السلام نے بھی کہاتھا:

ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ اِنِّى حَفِيظٌ عَلِيم ۔

اس لیے کسی کی نیت اور دل پر حکم لگانے سے پہلے ، کم ازکم اپنے ظاہری حال کو دیکھ لینا چاہیے ، خود میاں فضیحت اور دوسروں کو نصیحت والا معاملہ ٹھیک نہیں ۔

✍️لقمان شاہد
11-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3181973015416199&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب گاؤں میں بجلی نہیں ہوتی تھی تو چھت پر سویا کرتے تھے ، اور جب گرمی لگتی تو دعاکرتےتھے:

یااللہ پاک ! کوئی ٹھنڈی ہوا چلا دے ۔

پھر جب ہوا کاجھونکا آتا تو اللہ کریم کا شکرادا کرتے‌‌ تھے ۔

اِن اے سیوں ، کولروں اور پنکھوں نے ہمیں وہ پیاری دعائیں بھلا دیں ۔ 😥

اے گرمی ، سردی پیدا فرمانے والے ہمیں اپنی بارگاہ کا ہی راستہ‌ دکھا اور بھٹکنے سےمحفوط فرما !

✍️لقمان شاہد
12-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3182608895352611&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فیس بک پر ہمارے بعض دوست ایسے لطیف پیرائے میں مزاح کرتے ہیں ، کہ بندہ دیرتک محظوظ ہوتارہتا ہے ۔
اللہ کریم ان کی زندگیاں بھی خوشیوں سے بھر دے !

¹ مزاح ایساہونا چاہیے جس میں لطافت اور ظرافت ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سےطبیعت کِھل اٹھے اور چہرے پر مسکراہٹ پھیل جائے ۔

² مزاح میں جھوٹ اور ایذاے مسلم سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

³ ایک دائرے میں رہتے ہوئے بطورِ مزاح فرضی بات کرنے کی تو گنجائش ہوسکتی ہے ، لیکن مزاح کو ایک مفروضہ بنا دینا بھی ٹھیک نہیں ۔

✍️لقمان شاہد
12-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3183027368644097&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
علما جب چلے جاتے ہیں تو شاعر اُن کی شان میں قصیدے لکھتے ہیں ، فراق میں مرثیے پڑھتے ہیں ۔
خطیب ان کے مقام و مرتبے پر تقریریں کرتے ہیں ۔
محرر ا‌ن کی خدمات پر تحریریں لکھتے ہیں ۔

یہ سب ٹھیک ہے ، بے شک وہ نفوس خراج عقیدت کے لائق ہیں ۔

لیکن ......... کیا وجہ ہے:

جب وہ ہم میں موجود تھے تو ہم نے اپنی محفلوں میں ان کا نام تک نہ لیا !!

چلے جانے والوں کی لاکھ تعریفیں کرلیں ، لوگ اُن سے اُس طرح استفادہ نہیں کرسکتے ، جیسےزندگی میں کرتے ہیں ۔

خدا ہمیں توفیق دے تو ہم زندوں کی قدر کریں ، ان کے بھی قصیدے اور منقبتیں لکھیں ، تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہوکر کچھ حاصل کرسکیں ۔

کیا میں آپ سے سوال کرسکتا ہوں کہ:

آپ نے آج تک کتنے زندہ علما کی تعریف میں قصیدے لکھے ، تقریریں کیں ، اور تحریریں لکھیں ؟؟

✍️لقمان شاہد
11-6-2020 ء

محترم *لقمان شاہد* صاحب کا یہ دل بر نامہ پڑھ کر چند باتیں یاد آئیں:

(1) علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ تا حین حیات اپنے رسالے جام نور کے لیے سبسکرپشن کی اپیلیں کرتے رہے، لیکن اس درویش کی مسلسل آہ و فغاں کے باوجود اس کے دوسرے بڑے مشن تو کیا پورے ہوتے، جام نور بھی پوری زندگی بار بار مرتا اور زندہ ہوتا رہا، آج جس شان سے ان کی قصیدہ خوانیاں ہوتی ہیں اور جس اہتمام کے ساتھ ان کا عرس منایا جاتا ہے، کیا یہ گمان گزرتا ہے، وقت کے ظالم پہیے نے ان کے ساتھ کیا کچھ سوتیلے سلوک روا رکھے؟

(2) سنا ہے:
قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی نے دنیا سے جاتے جاتے وصیت کی تھی: مجھے میری ماں کی قبر کے پائنتی دفن کرنا، کیوں کہ میں اپنی قوم کا مزاج پہچانتا ہوں، میرا مزار خوب سے خوب تر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے ذاتی طور پر مجھے کیا فائدہ؟ ماں کی پائنتی سے اس قدر فیض تو ملے گا کہ حدیث میں علی الاطلاق ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت سنائی گئی ہے۔

(3) کیا ہم امید کرتے ہیں ہمیں آئندہ علامہ محمد احمد مصباحی، ناظم تعلیمات: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور جیسا سنجیدہ فکر محقق علی الاطلاق،
یا علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی، صدر المدرسین: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور/ علامہ مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی جیسے عظیم فقہا،
یا علامہ یسین اختر مصباحی، بانی: دار القلم، دہلی جیسا گہری نظر رکھنے والا آفاقی قلم کار، /علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی جیسا درد مند مفکر،
یا علامہ قمر الزماں خان اعظمی، سکریٹری جنرل: ورلڈ اسلامک مشن جیسا آفاقی نظر رکھنے والا مفکر خطیب،
یا مولانا شاکر علی نوری، امیر: سنی دعوت اسلامی جیسا درد مند داعی ہمیں دوبارہ ملے گا؟؟؟

شاید کبھی نہیں،
اگر سچ مچ نہیں تو کیا ہم نے ان حضرات کی کما حقہ قدر آشنائی کی؟ ان سے ان کا مشن پوچھا؟ ان حضرات کی مدح سرائی کرنے کے علاوہ بھی ان سے قربت کی کوشش کی؟

اور

کیا نئے عہد کی نئی نسل میں بھی کسی محمد احمد مصباحی کی تراش کی، کسی نظام الدین رضوی کی تلاش کی، کسی قمر الزماں اور کسی یسین اختر مصباحی کو پروان چڑھایا؟؟؟

*خالد ایوب مصباحی شیرانی*
چیرمین: *تحریک علمائے ہند*، جے پور
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM