بلاضرورت انگریزی بولنے کے متعلق اعلٰی حضرت امام اہل سنت علامہ مولانامفتی الشاہ احمدرضابریلوی رحمۃُاللّٰہِ تعالٰی علیہ کافتوی:
"حال قصد التعظیم انگریزی،چینی، جاپانی، جرمنی، لاطینی، جو زبان غیر اسلامی ہو,جسے اسلام نے فارسی اور اردو کی طرح اپنا خادم نہ کرلیا جس کی وہ زبان نہ ہو اسے بلا ضرورت اس میں کلام نہ چاہیے.
*امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
"ایاکم ورطانۃ الاعاجم رواہ البیھقی"
ترجمہ:
"عجمی لوگوں کی زبانیں بولنے سے بچو، امام بہیقی نے اس کو روایت کیا"
(المصنف لعبدا لرزاق باب الصلٰوۃ فی البیعۃ حدیث ۴۱۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۱۱)
*عبداللہ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
"فانہ یورث النفاق رواہ الحاکم فی صحیحہ المستدرک"
ترجمہ:
"کیونکہ یہ چیز نفاق پیدا کردیتی ہے حاکم نے اپنی صحیح مستدرک میں اس کوروایت کیا"
(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃالصحابۃ فضل کافۃ العرب الخ مکتب المطوعات الاسلامیہ ۴ /۸۷)"
(منقول از فتاوی رضویہ, جلد 23, مسئلہ 151)
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3022654738013833&id=100008080090753
"حال قصد التعظیم انگریزی،چینی، جاپانی، جرمنی، لاطینی، جو زبان غیر اسلامی ہو,جسے اسلام نے فارسی اور اردو کی طرح اپنا خادم نہ کرلیا جس کی وہ زبان نہ ہو اسے بلا ضرورت اس میں کلام نہ چاہیے.
*امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
"ایاکم ورطانۃ الاعاجم رواہ البیھقی"
ترجمہ:
"عجمی لوگوں کی زبانیں بولنے سے بچو، امام بہیقی نے اس کو روایت کیا"
(المصنف لعبدا لرزاق باب الصلٰوۃ فی البیعۃ حدیث ۴۱۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۱۱)
*عبداللہ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
"فانہ یورث النفاق رواہ الحاکم فی صحیحہ المستدرک"
ترجمہ:
"کیونکہ یہ چیز نفاق پیدا کردیتی ہے حاکم نے اپنی صحیح مستدرک میں اس کوروایت کیا"
(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃالصحابۃ فضل کافۃ العرب الخ مکتب المطوعات الاسلامیہ ۴ /۸۷)"
(منقول از فتاوی رضویہ, جلد 23, مسئلہ 151)
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3022654738013833&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غیرمسلم,وھابی کابخودمسجدمیں چندہ دینےکاحکم
السلام علیکم ورحمۃاللہ
سوال:
کو ئ غیر مسلم یا وہابی اگر خود سے تعمیر مسجد کےلئے چندہ دے تو اس کی رقم تعمیر مسجد میں لگا نا کیسا ہے? جائز ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی اگر متولی مسجد نے تعمیر مسجد میں وہابی / غیر مسلم کا چندہ لگا دیا ہے تو اس کا کیا حکم ہے . بحوالہء کتب معتمدہ ء اہل سنت جواب مرحمت فرما ئیں . اجرکم اللہ تبارک و تعالی
الجواب بعون الملک الوھاب:
کسی بھی بےایمان کافرومشرک اوروھابی دیوبندی وغیرھم خذلھم اللہ تعالی فی الدنیاوالآخرہ
سےتعمیرمسجدمیں چندہ لیناناجائزوگناہ ھے
کماقال اللہ تعالی
ماکان للمشرکین ان یعمر وامساجداللہ .
یعنی نھیں ھےروامشرکوں کےلےکہ وہ آبادکریں اللہ کی مسجدوں کوانمایعمروامساجداللہ من آمن باللہ والیوم الآخرصرف وھی آبادکرسکتاھےاللہ کی مسجدوں کوجوایمان لایاھواللہ پراورروزقیامت پر
📚سورہ توبہ آیت نمبر17/18
اورحدیث شریف میں ھے
انالانستعین بمشرک
📚بحوالہ رضویہ جلدششم قدیم 320
ھمیں جائزنھیں کہ مشرکوں سےمددطلب کریں
اوراگرکافرومشرک مسجدمیں خودسےروپیہ وغیرہ دیں تواسکی دوصورتیں ھیں
1...ایک یہ کہ بطوراحسان وغیرہ دیں
2....دوسرایہ کہ بطورنیازمندانہ پیش کریں.
پھلےکاحکم ...
اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتےھیں
1.....کافراگراس طورپرروپیہ دیتاھےکہ مسجدیامسلمانوں پراحسان رکھتاھے یااسکےسبب مسجدمیں کوئ مداخلت رھےگی تولیناجائزنھیں
دوسرےکاحکم..
2.....اوراگرنیازمندانہ طورپرپیش کرتاھے توحرج نھیں جبکہ اسکےعوض کافرکی طرف سےکوئ چیزخریدکرنہ لگائ جاےبلکہ مسلمان بطورخودخریدیں یاراھبوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اوراسمیں بھی اسلم طریقہ یہ ھے کہ کافرمسلمان کوھبہ کردےمسلمان اپنی طرف سے لگاے
📚فتاوی رضویہ جلدششم قدیم ص.484
نیزفرماتےھیں کہ
اگراسنےمسجدبنوانےکی صرف نیت سے مسلمان کوروپیہ دیایاروپیہ دیتےوقت صراحۃ کہ بھی دیاکہ اس سےمسجدبنوادو مسلمان نےایساھی کیاتووہ ضرورمسجدھوگئ اوراسمیں نمازپڑھنی درست.
لانہ انمایکون اذناللمسلم بشراء الآلات للمسجدبمالہ.
📚ایضاص.396
پس اگرغیرمسلم کافرنےاپنےروپئےکونیازمندانہ دیاھےیامسلمان کوھبہ کیاھےتواس سےتعمیرمسجدوغیرہ درست ھےاوراسمیں نمازپڑھناجائزھے
اوروھابی دیوبندی وغیرھم کافرومرتدگمراہ وگمراہ گرھیں ان سےتعلق دین وایمان کیلےزھرقاتل ھےلھذااگروہ کسی طرح کاتعاون ازخودکریں تب بھی اسکولیناجائزنھیں کہ ان سےلینابھت بڑےفتنہ کاباعث ھوگاکہ میل جول سلام وکلام تعظیم وغیرہ
تعلقات قائم ھونگے
اوریہ سب ان سےحرام ھے
حدیث شریف میں ھے
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنوکم
📚مسلم شریف جلداول10.
یعنی بدمذھبوں سےدوررھوانکواپنےسےدوررکھوکھیں ایسانہ ھوکہ وہ تمھیں گمراہ کردیں یافتنہ میں مبتلاکردیں..
لھذااگرمتولی مسجدنےوھابی وغیرہ کاپیسہ لیاھےجوانھوں نےازخوددیاھےتومتولی کواس فعل سےتوبہ کرنی چاھئےکہ اس میں مذکورہ حدیث(ایاکم وایاھم)کی مخالفت لازم آرھی ھے
ھذاماظھرلی .واللہ اعلم بالصواب
✏ازقلم: عطا محمد مشاھدی عفی عنہ
3..رمضان المبارک1437ھ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024094177869889&id=100008080090753
السلام علیکم ورحمۃاللہ
سوال:
کو ئ غیر مسلم یا وہابی اگر خود سے تعمیر مسجد کےلئے چندہ دے تو اس کی رقم تعمیر مسجد میں لگا نا کیسا ہے? جائز ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی اگر متولی مسجد نے تعمیر مسجد میں وہابی / غیر مسلم کا چندہ لگا دیا ہے تو اس کا کیا حکم ہے . بحوالہء کتب معتمدہ ء اہل سنت جواب مرحمت فرما ئیں . اجرکم اللہ تبارک و تعالی
الجواب بعون الملک الوھاب:
کسی بھی بےایمان کافرومشرک اوروھابی دیوبندی وغیرھم خذلھم اللہ تعالی فی الدنیاوالآخرہ
سےتعمیرمسجدمیں چندہ لیناناجائزوگناہ ھے
کماقال اللہ تعالی
ماکان للمشرکین ان یعمر وامساجداللہ .
یعنی نھیں ھےروامشرکوں کےلےکہ وہ آبادکریں اللہ کی مسجدوں کوانمایعمروامساجداللہ من آمن باللہ والیوم الآخرصرف وھی آبادکرسکتاھےاللہ کی مسجدوں کوجوایمان لایاھواللہ پراورروزقیامت پر
📚سورہ توبہ آیت نمبر17/18
اورحدیث شریف میں ھے
انالانستعین بمشرک
📚بحوالہ رضویہ جلدششم قدیم 320
ھمیں جائزنھیں کہ مشرکوں سےمددطلب کریں
اوراگرکافرومشرک مسجدمیں خودسےروپیہ وغیرہ دیں تواسکی دوصورتیں ھیں
1...ایک یہ کہ بطوراحسان وغیرہ دیں
2....دوسرایہ کہ بطورنیازمندانہ پیش کریں.
پھلےکاحکم ...
اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتےھیں
1.....کافراگراس طورپرروپیہ دیتاھےکہ مسجدیامسلمانوں پراحسان رکھتاھے یااسکےسبب مسجدمیں کوئ مداخلت رھےگی تولیناجائزنھیں
دوسرےکاحکم..
2.....اوراگرنیازمندانہ طورپرپیش کرتاھے توحرج نھیں جبکہ اسکےعوض کافرکی طرف سےکوئ چیزخریدکرنہ لگائ جاےبلکہ مسلمان بطورخودخریدیں یاراھبوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اوراسمیں بھی اسلم طریقہ یہ ھے کہ کافرمسلمان کوھبہ کردےمسلمان اپنی طرف سے لگاے
📚فتاوی رضویہ جلدششم قدیم ص.484
نیزفرماتےھیں کہ
اگراسنےمسجدبنوانےکی صرف نیت سے مسلمان کوروپیہ دیایاروپیہ دیتےوقت صراحۃ کہ بھی دیاکہ اس سےمسجدبنوادو مسلمان نےایساھی کیاتووہ ضرورمسجدھوگئ اوراسمیں نمازپڑھنی درست.
لانہ انمایکون اذناللمسلم بشراء الآلات للمسجدبمالہ.
📚ایضاص.396
پس اگرغیرمسلم کافرنےاپنےروپئےکونیازمندانہ دیاھےیامسلمان کوھبہ کیاھےتواس سےتعمیرمسجدوغیرہ درست ھےاوراسمیں نمازپڑھناجائزھے
اوروھابی دیوبندی وغیرھم کافرومرتدگمراہ وگمراہ گرھیں ان سےتعلق دین وایمان کیلےزھرقاتل ھےلھذااگروہ کسی طرح کاتعاون ازخودکریں تب بھی اسکولیناجائزنھیں کہ ان سےلینابھت بڑےفتنہ کاباعث ھوگاکہ میل جول سلام وکلام تعظیم وغیرہ
تعلقات قائم ھونگے
اوریہ سب ان سےحرام ھے
حدیث شریف میں ھے
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنوکم
📚مسلم شریف جلداول10.
یعنی بدمذھبوں سےدوررھوانکواپنےسےدوررکھوکھیں ایسانہ ھوکہ وہ تمھیں گمراہ کردیں یافتنہ میں مبتلاکردیں..
لھذااگرمتولی مسجدنےوھابی وغیرہ کاپیسہ لیاھےجوانھوں نےازخوددیاھےتومتولی کواس فعل سےتوبہ کرنی چاھئےکہ اس میں مذکورہ حدیث(ایاکم وایاھم)کی مخالفت لازم آرھی ھے
ھذاماظھرلی .واللہ اعلم بالصواب
✏ازقلم: عطا محمد مشاھدی عفی عنہ
3..رمضان المبارک1437ھ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024094177869889&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضور تاج الشریعہ اور شیخ ابو بکر صاحب(کیرلا)کی یادگار ملاقات
حضور تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) کی شہرت شب و روز عروج پر تھی اور ہر شخص آپ کے دیدار اور ملاقات کا متمنی رہتا کہ کسی طرح حضرت کا دیدار یا ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے،جس میں بہت سوں کو ملاقات کا شرف حاصل ہوتا اور بہت سے صرف دیدار ہی کر پاتے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ "جامعة الثقافة السنية" (کیرالا)سے شیخ ابو بکر شافعی صاحب قبلہ اور" الجامعة السعدية"(کیرلا)سے شیخ عبد القادر شافعی علیہ الرحمہ "مرکز اہل سنت:" بریلی شریف" تشریف لائے اور "رضا مسجد" میں نماز ادا کی ، آپ حضرات نے مذہب شافعی پر عمل کرتے ہوئے رفع یدین بھی کیا جسے کافی لوگوں نے دیکھا اور ذہن میں کچھ خلجان پیدا ہوا۔
نماز کے بعد آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ ازہری صاحب کا گھر کہاں ہے اور وہ کہاں تشریف رکھتے ہیں تو لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی کہ یہ تو غیر مقلد ہیں،کیوں کہ آپ نے نماز میں رفع یدین کیا تھا،لیکن ایک دس بارہ سال کا طالب علم حضور تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) کے گھر پر بنے (ازہری دار الافتا) میں گیا اور جاکر حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا کہ حضور آپ سے دو غیر مقلد ملنا چاہتے ہیں،کیوں کہ وہ طالب بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ غیر مقلد نہیں ہیں۔اتفاق یہ کہ اس وقت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے پاس مولانا یسین اختر مصباحی صاحب اور مفتی مطیع الرحمٰن مضطرصاحب(پورنوی) تشریف فرما تھے اور علمی مذاکرہ چل رہا تھا۔
مفتی مطیع الرحمٰن مضطر صاحب نے حضور تاج الشریعہ سے عرض کیا حضور انہیں آنے دیں کیوں کہ وہ آپ کے پاس آئے ہیں نہ کہ آپ ان سے ملنے گئے ہیں اور اگر غیر مقلد ہوئے بھی تو ہو سکتا ہے ہدایت پا جائیں۔ خیر! سب کی رائے سے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اس بچے سے فرمایا کہ انہیں آنے دو۔
جیسے ہی وہ دونوں حضرات بارگاہ تاج الشریعہ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے داخل ہوتے ہی ایسا سلام کیا کہ سب سمجھ گئے کہ یہ غیر مقلد نہیں بلکہ یہ تو شافعی ہیں کیوں کہ انہوں نے سلام میں کہا:
"السلام عليكم، نحن معكم في تكفير الوهابية مأة في مأة"
یعنی ہم تو وہابیہ کی تکفیر میں سو فیصد آپ کے ساتھ ہیں
اس کے بعد حضور تاج الشریعہ نے ناشتہ وغیرہ کرایا اور کافی دیر تک علمی مذاکرہ بھی ہوا، علمی مذاکرہ میں شیخ ابو بکر صاحب اور شیخ عبد القادر شافعی صاحب اگر کسی موضوع پر ایک دو دلیلیں دیتے تو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ پانچ چھ دلیلیں دیتے جسے سن کر ہم دنگ رہ جاتے اور ساری گفتگو عربی میں ہی ہوئی کیوں کہ شیخ ابو بکر صاحب اور شیخ عبد القادر شافعی صاحب اردو نہیں جانتے تھے۔
مذکورہ واقعہ کو مفتی مطیع الرحمٰن مضطر صاحب نے اپنے مضمون "تاج الشریعہ۔۔۔۔چند مشاہدات" میں ذکر کیا ہے اسی کا ایک واقعہ تھا جس کا مفہوم ذکر کردیا گیا (رسالہ"النظامیہ" تاج الشریعہ نمبر،مجلس علمائے نظامیہ،پاکستان،ص٥٣)
اس واقعہ نے ہمیں بہت کچھ بتا دیا کہ جہاں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے وہیں آپ عربی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔
بلا شبہ آپ کی جو علمی شان و شوکت اور جاہ و عظمت تھی وہ کسی پر مخفی نہیں ،چاہے وہ کوئی سا بھی میدان ہو آپ نے اکثر موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے اور ایسی خامہ فرسائی جو دلائل و براہین سے مزین ہے
مثلاً فتویٰ نویسی،علم حدیث ،اردو تصانیف،عربی تصانیف،انگریزی تصانیف اور بہت سی کتب کا ترجمہ بھی کیا۔
آپ اور کام کرتے مگر اس سے قبل ہی بارگاہ خداوندی سے بلاوہ آ گیا اور ٦/ذی قعدہ ١٤٣٩ھ، مطابق٢٠/ جولائی ٢٠١٨ء کو اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے(انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون)
آپ خود فرماتے ہیں:
اختر قادری خلد میں چل دیا
خلدوا ہے ہر قادری کے لیے
اللہ تعالیٰ پیر و مرشد حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کے روحانی فیضان سے ہم سبھوں کو مالا مال فرمائے آمین
حوالاجات
(1):رسالہ"النظامیہ" تاج الشریعہ نمبر،مجلس علمائے نظامیہ،پاکستان،ص٥٣)
(2)برکات تاج الشریعہ،امام احمد رضا لرننگ رسرچ سینٹر،ناسک
محمد انور علی رضوی مصباحی رام پوری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024483894497584&id=100008080090753
حضور تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) کی شہرت شب و روز عروج پر تھی اور ہر شخص آپ کے دیدار اور ملاقات کا متمنی رہتا کہ کسی طرح حضرت کا دیدار یا ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے،جس میں بہت سوں کو ملاقات کا شرف حاصل ہوتا اور بہت سے صرف دیدار ہی کر پاتے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ "جامعة الثقافة السنية" (کیرالا)سے شیخ ابو بکر شافعی صاحب قبلہ اور" الجامعة السعدية"(کیرلا)سے شیخ عبد القادر شافعی علیہ الرحمہ "مرکز اہل سنت:" بریلی شریف" تشریف لائے اور "رضا مسجد" میں نماز ادا کی ، آپ حضرات نے مذہب شافعی پر عمل کرتے ہوئے رفع یدین بھی کیا جسے کافی لوگوں نے دیکھا اور ذہن میں کچھ خلجان پیدا ہوا۔
نماز کے بعد آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ ازہری صاحب کا گھر کہاں ہے اور وہ کہاں تشریف رکھتے ہیں تو لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی کہ یہ تو غیر مقلد ہیں،کیوں کہ آپ نے نماز میں رفع یدین کیا تھا،لیکن ایک دس بارہ سال کا طالب علم حضور تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) کے گھر پر بنے (ازہری دار الافتا) میں گیا اور جاکر حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا کہ حضور آپ سے دو غیر مقلد ملنا چاہتے ہیں،کیوں کہ وہ طالب بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ غیر مقلد نہیں ہیں۔اتفاق یہ کہ اس وقت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے پاس مولانا یسین اختر مصباحی صاحب اور مفتی مطیع الرحمٰن مضطرصاحب(پورنوی) تشریف فرما تھے اور علمی مذاکرہ چل رہا تھا۔
مفتی مطیع الرحمٰن مضطر صاحب نے حضور تاج الشریعہ سے عرض کیا حضور انہیں آنے دیں کیوں کہ وہ آپ کے پاس آئے ہیں نہ کہ آپ ان سے ملنے گئے ہیں اور اگر غیر مقلد ہوئے بھی تو ہو سکتا ہے ہدایت پا جائیں۔ خیر! سب کی رائے سے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اس بچے سے فرمایا کہ انہیں آنے دو۔
جیسے ہی وہ دونوں حضرات بارگاہ تاج الشریعہ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے داخل ہوتے ہی ایسا سلام کیا کہ سب سمجھ گئے کہ یہ غیر مقلد نہیں بلکہ یہ تو شافعی ہیں کیوں کہ انہوں نے سلام میں کہا:
"السلام عليكم، نحن معكم في تكفير الوهابية مأة في مأة"
یعنی ہم تو وہابیہ کی تکفیر میں سو فیصد آپ کے ساتھ ہیں
اس کے بعد حضور تاج الشریعہ نے ناشتہ وغیرہ کرایا اور کافی دیر تک علمی مذاکرہ بھی ہوا، علمی مذاکرہ میں شیخ ابو بکر صاحب اور شیخ عبد القادر شافعی صاحب اگر کسی موضوع پر ایک دو دلیلیں دیتے تو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ پانچ چھ دلیلیں دیتے جسے سن کر ہم دنگ رہ جاتے اور ساری گفتگو عربی میں ہی ہوئی کیوں کہ شیخ ابو بکر صاحب اور شیخ عبد القادر شافعی صاحب اردو نہیں جانتے تھے۔
مذکورہ واقعہ کو مفتی مطیع الرحمٰن مضطر صاحب نے اپنے مضمون "تاج الشریعہ۔۔۔۔چند مشاہدات" میں ذکر کیا ہے اسی کا ایک واقعہ تھا جس کا مفہوم ذکر کردیا گیا (رسالہ"النظامیہ" تاج الشریعہ نمبر،مجلس علمائے نظامیہ،پاکستان،ص٥٣)
اس واقعہ نے ہمیں بہت کچھ بتا دیا کہ جہاں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے وہیں آپ عربی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔
بلا شبہ آپ کی جو علمی شان و شوکت اور جاہ و عظمت تھی وہ کسی پر مخفی نہیں ،چاہے وہ کوئی سا بھی میدان ہو آپ نے اکثر موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے اور ایسی خامہ فرسائی جو دلائل و براہین سے مزین ہے
مثلاً فتویٰ نویسی،علم حدیث ،اردو تصانیف،عربی تصانیف،انگریزی تصانیف اور بہت سی کتب کا ترجمہ بھی کیا۔
آپ اور کام کرتے مگر اس سے قبل ہی بارگاہ خداوندی سے بلاوہ آ گیا اور ٦/ذی قعدہ ١٤٣٩ھ، مطابق٢٠/ جولائی ٢٠١٨ء کو اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے(انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون)
آپ خود فرماتے ہیں:
اختر قادری خلد میں چل دیا
خلدوا ہے ہر قادری کے لیے
اللہ تعالیٰ پیر و مرشد حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کے روحانی فیضان سے ہم سبھوں کو مالا مال فرمائے آمین
حوالاجات
(1):رسالہ"النظامیہ" تاج الشریعہ نمبر،مجلس علمائے نظامیہ،پاکستان،ص٥٣)
(2)برکات تاج الشریعہ،امام احمد رضا لرننگ رسرچ سینٹر،ناسک
محمد انور علی رضوی مصباحی رام پوری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024483894497584&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مامون الرشید نے ایک دن حسن بن سہیل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے کہا:
"میں نے دنیا کی تمام لذتوں پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہر ایک لذت ایسی ہے جس سے انسان کسی نہ کسی وقت اکتا جاتا ہے ، لیکن ساتؔ لذتیں ایسی ہیں جن سے کبھی اکتاہٹ نہیں ہوتی ۔
1 گندم کی روٹی
2 بکری کا گوشت
3 ٹھنڈا پانی
4 ملائم کپڑا
5 خوشبو،
6 گداز بستر
اور
7 ہر قسم کے حسن کو دیکھنا ۔
حسن بن سہیل رحمہ اللہ نے کہا:
"امیرالمومنین! ایک چیز رہ گئی اور وہ ہے:
لوگوں سے بات چیت ۔
مامون نے اس کی تصدیق کی ۔
(محمد بن محمد۔الیواقیت العصریہ ص144 مصطفی البابی۔مصر ۱۳۴۹)
( حافظ میاں حافظ کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3179173212362846&id=100008105947430
"میں نے دنیا کی تمام لذتوں پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہر ایک لذت ایسی ہے جس سے انسان کسی نہ کسی وقت اکتا جاتا ہے ، لیکن ساتؔ لذتیں ایسی ہیں جن سے کبھی اکتاہٹ نہیں ہوتی ۔
1 گندم کی روٹی
2 بکری کا گوشت
3 ٹھنڈا پانی
4 ملائم کپڑا
5 خوشبو،
6 گداز بستر
اور
7 ہر قسم کے حسن کو دیکھنا ۔
حسن بن سہیل رحمہ اللہ نے کہا:
"امیرالمومنین! ایک چیز رہ گئی اور وہ ہے:
لوگوں سے بات چیت ۔
مامون نے اس کی تصدیق کی ۔
(محمد بن محمد۔الیواقیت العصریہ ص144 مصطفی البابی۔مصر ۱۳۴۹)
( حافظ میاں حافظ کی وال سے )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3179173212362846&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب یہ حدیث پاک یاد آتی ہے تو قلبِ گناہ گار میں امید کی ایک شمع روشن ہوجاتی ہے ۔
رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمھارے گناہوں سے زمین و آسمان کا درمیانی حصہ بھر جائے ، پھر اللہ سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تمھیں معاف فرمادے گا ۔
اگر تم گناہ نہ کرتے ، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرتا جو گناہ کر کے معافی مانگتے ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا ۔ ( مسند احمد بن حنبل وغیرہ )
جب کہا عِصیاں سے میں نے ، سخت لاچاروں میں ہوں
جن کے پَلّے کچھ نہیں ہے اُن خریداروں میں ہوں
تیری رَحمت کے لیے شامِل گنہ گاروں میں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بول اُٹھی رَحمت ، نہ گھبرا میں مَدد گاروں میں ہوں
لقمان شاہد عفی عنہ
8-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3179982838948550&id=100008105947430
رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمھارے گناہوں سے زمین و آسمان کا درمیانی حصہ بھر جائے ، پھر اللہ سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تمھیں معاف فرمادے گا ۔
اگر تم گناہ نہ کرتے ، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرتا جو گناہ کر کے معافی مانگتے ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا ۔ ( مسند احمد بن حنبل وغیرہ )
جب کہا عِصیاں سے میں نے ، سخت لاچاروں میں ہوں
جن کے پَلّے کچھ نہیں ہے اُن خریداروں میں ہوں
تیری رَحمت کے لیے شامِل گنہ گاروں میں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بول اُٹھی رَحمت ، نہ گھبرا میں مَدد گاروں میں ہوں
لقمان شاہد عفی عنہ
8-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3179982838948550&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل ایک عزیز نے بتایا کہ گجرات کے فلاں عالم صاحب کی چار بیویاں ہیں ۔
میں نے کہا:
" وہ عالم حفظہ اللہ قابل زیارت ہیں ، ان سے ملاقات کر کے دعا لینی چاہیے ۔ "
اس زمانے میں جس کی دو ، تین یا چار بیویاں ہیں ، وہ حقیقی معنوں میں مجاہد ہے ۔ ( اللہﷻ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے ! )
اس کی آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں ، اس میں حوصلہ اور صبر زیادہ ہوتا ہے ، وہ تقوی اور پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہوتا ہے ، اور اس کے فہم و فراست میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔
نیز اس کی بیویاں بھی بڑی سعادت مند ہوتی ہیں ، جوصبر و رضا کی اعلا مثال اور خلوص و للہیت کا بہترین نمونہ ہوتی ہیں ۔
رب تعالیٰﷻ ایسے مرد و خواتین کی کوتاہیوں سے درگذر فرمائے اور ان کی دنیا آخرت بہتر کرے ۔
✍️لقمان شاہد
9-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180421168904717&id=100008105947430
میں نے کہا:
" وہ عالم حفظہ اللہ قابل زیارت ہیں ، ان سے ملاقات کر کے دعا لینی چاہیے ۔ "
اس زمانے میں جس کی دو ، تین یا چار بیویاں ہیں ، وہ حقیقی معنوں میں مجاہد ہے ۔ ( اللہﷻ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے ! )
اس کی آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں ، اس میں حوصلہ اور صبر زیادہ ہوتا ہے ، وہ تقوی اور پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہوتا ہے ، اور اس کے فہم و فراست میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔
نیز اس کی بیویاں بھی بڑی سعادت مند ہوتی ہیں ، جوصبر و رضا کی اعلا مثال اور خلوص و للہیت کا بہترین نمونہ ہوتی ہیں ۔
رب تعالیٰﷻ ایسے مرد و خواتین کی کوتاہیوں سے درگذر فرمائے اور ان کی دنیا آخرت بہتر کرے ۔
✍️لقمان شاہد
9-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180421168904717&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک سے زیادہ نکاح کی بات کرنے سے عام طور پر دو مقصد حاصل ہوتے ہیں ۔
1: گرل/بوائےفرینڈکلچر کا خاتمہ ۔
2: لبرل اور سیکولر مائینڈ کا رد ۔
لیکن ایک تیسرا مقصد بھی حاصل ہوجاتاہے ۔
۔
۔
۔
۔
۔
اور وہ یہ کہ:
بہادر ، نیم بہادر ، فل ڈرپوک ، ہاف ڈرپوک ، مضبوط دل ، کمزور دل اور مظلوم و مجبور و مقہور و مرحوم و مغفور کی پہچان ہوجاتی ہے 😄😀
آپ پوچھیں گے یہ کیسے ؟
تو یہ ایک علم ہے ، جسے " علم کمینٹ " کہتے ہیں ، اسی کے ذریعے سب کچھ معلوم ہوتا ہے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180460288900805&id=100008105947430
1: گرل/بوائےفرینڈکلچر کا خاتمہ ۔
2: لبرل اور سیکولر مائینڈ کا رد ۔
لیکن ایک تیسرا مقصد بھی حاصل ہوجاتاہے ۔
۔
۔
۔
۔
۔
اور وہ یہ کہ:
بہادر ، نیم بہادر ، فل ڈرپوک ، ہاف ڈرپوک ، مضبوط دل ، کمزور دل اور مظلوم و مجبور و مقہور و مرحوم و مغفور کی پہچان ہوجاتی ہے 😄😀
آپ پوچھیں گے یہ کیسے ؟
تو یہ ایک علم ہے ، جسے " علم کمینٹ " کہتے ہیں ، اسی کے ذریعے سب کچھ معلوم ہوتا ہے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180460288900805&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آج بڑی دیر بعد ایک دوست ملنے آئے اور مصروفیت دیکھ کر پوچھنے لگے:
" امید ہے آپ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوں گے ، گھر پر ہی نہیں پڑھ لیتے ہوں گے ؟ "
( مجھے ان کا سوال سن کر خوشی ہوئی ، اور دعا کی کہ:
یااللہ ! ایسے دوست سب کو نصیب کر جو آخرت کے معاملے میں فکر مند رہتے ہوں ۔ )
میں نے کہا:
اللہ پاک جماعت ترک کرنے سے پہلے مجھے ایمان پر موت دے دے ۔۔۔۔۔۔۔ میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے دنیا سے جانا چاہتا ہوں ۔
میری مصروفیت اگر اس سے بھی کئی گنا بڑھ جائے پھر بھی انشاءاللہ جماعت نہیں چھوٹے گی ۔
اللہ پاک ﷻ سفر و حضر اور علالت وصحت ، ہر حالت میں باجماعت نماز ادا کرنے کی اسی طرح توفیق بخشے ، جیسے امام اعمش اور مفتی احمدیار خان رحمھمااللہ کو بخشی تھی ۔
( امام اعمش رحمہ اللہ کی ستر سال تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی ، اور مفتی احمد یارخان رحمہ اللہ کی بھی چالیس سال تک تکبیر اولیٰ فوت نہ ہوئی ۔ )
بغیر عذرِ شرعی ، باجماعت نمازچھوڑنے والا فاسق ہوتا ہے ۔
بلکہ ہمارے بعض فقہا نے تو اسےبھی مردود الشہادت قرار دیا ہے جو جماعت سے نماز تو پڑھتا ہے ، لیکن غفلت کی وجہ سے اقامت کا گھر بیٹھے انتظار کرتا رہتا ہے ۔
مسلمان جتنا بھی مصروف ہو اسے نمازباجماعت ہی پڑھنی چاہیے ، اس میں دوسری کوئی رائے نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
10-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3181301005483400&id=100008105947430
" امید ہے آپ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوں گے ، گھر پر ہی نہیں پڑھ لیتے ہوں گے ؟ "
( مجھے ان کا سوال سن کر خوشی ہوئی ، اور دعا کی کہ:
یااللہ ! ایسے دوست سب کو نصیب کر جو آخرت کے معاملے میں فکر مند رہتے ہوں ۔ )
میں نے کہا:
اللہ پاک جماعت ترک کرنے سے پہلے مجھے ایمان پر موت دے دے ۔۔۔۔۔۔۔ میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے دنیا سے جانا چاہتا ہوں ۔
میری مصروفیت اگر اس سے بھی کئی گنا بڑھ جائے پھر بھی انشاءاللہ جماعت نہیں چھوٹے گی ۔
اللہ پاک ﷻ سفر و حضر اور علالت وصحت ، ہر حالت میں باجماعت نماز ادا کرنے کی اسی طرح توفیق بخشے ، جیسے امام اعمش اور مفتی احمدیار خان رحمھمااللہ کو بخشی تھی ۔
( امام اعمش رحمہ اللہ کی ستر سال تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی ، اور مفتی احمد یارخان رحمہ اللہ کی بھی چالیس سال تک تکبیر اولیٰ فوت نہ ہوئی ۔ )
بغیر عذرِ شرعی ، باجماعت نمازچھوڑنے والا فاسق ہوتا ہے ۔
بلکہ ہمارے بعض فقہا نے تو اسےبھی مردود الشہادت قرار دیا ہے جو جماعت سے نماز تو پڑھتا ہے ، لیکن غفلت کی وجہ سے اقامت کا گھر بیٹھے انتظار کرتا رہتا ہے ۔
مسلمان جتنا بھی مصروف ہو اسے نمازباجماعت ہی پڑھنی چاہیے ، اس میں دوسری کوئی رائے نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
10-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3181301005483400&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کچھ دن پہلے ایکصاحب نے کسی مشہور عالم دین کے بارے میں کہاکہ:
" وہ اپنی خوبیاں ہی بیان کرتے رہتے ہیں ، اپنے منھ میاں مٹھو بنتے ہیں جو کہ تعلی کی علامت ہے ۔ "
اُن صاحب کی اِس بے جاتنقید پر میں نے کہا:
بھئی ! کیا آپ نے فیس بک پر کبھی اپنی تصویر اپلوڈنہیں کی ؟
کہنے لگے بہت دفعہ کی ہے ۔
تو میں نے عرض کی:
اگر اپنی واقعی خوبیاں بیان کرنا ٹھیک نہیں ، تو کیا اپنی تصویر کو وال پر لگانا درست ہے ؟
کیا یہ نمود و نمائش ، تصنع بناوٹ اور ریا و سمعہ نہیں ہے ؟
آپ بھی کمال کے شخص ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خود اپنی نمائش کرتے نہیں تھکتے ، اور اعتراض دوسروں کی نیت پر کرتے ہیں !
میرے بھائی ! اگر کوئی بندہ اپنے اندر موجود خوبی اچھی نیت سے بیان کرتا ہے تو یہ ناجائز نہیں ، اللہ کے پیارے نبی سیدنا یوسف علیہ السلام نے بھی کہاتھا:
ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ اِنِّى حَفِيظٌ عَلِيم ۔
اس لیے کسی کی نیت اور دل پر حکم لگانے سے پہلے ، کم ازکم اپنے ظاہری حال کو دیکھ لینا چاہیے ، خود میاں فضیحت اور دوسروں کو نصیحت والا معاملہ ٹھیک نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
11-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3181973015416199&id=100008105947430
" وہ اپنی خوبیاں ہی بیان کرتے رہتے ہیں ، اپنے منھ میاں مٹھو بنتے ہیں جو کہ تعلی کی علامت ہے ۔ "
اُن صاحب کی اِس بے جاتنقید پر میں نے کہا:
بھئی ! کیا آپ نے فیس بک پر کبھی اپنی تصویر اپلوڈنہیں کی ؟
کہنے لگے بہت دفعہ کی ہے ۔
تو میں نے عرض کی:
اگر اپنی واقعی خوبیاں بیان کرنا ٹھیک نہیں ، تو کیا اپنی تصویر کو وال پر لگانا درست ہے ؟
کیا یہ نمود و نمائش ، تصنع بناوٹ اور ریا و سمعہ نہیں ہے ؟
آپ بھی کمال کے شخص ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خود اپنی نمائش کرتے نہیں تھکتے ، اور اعتراض دوسروں کی نیت پر کرتے ہیں !
میرے بھائی ! اگر کوئی بندہ اپنے اندر موجود خوبی اچھی نیت سے بیان کرتا ہے تو یہ ناجائز نہیں ، اللہ کے پیارے نبی سیدنا یوسف علیہ السلام نے بھی کہاتھا:
ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ اِنِّى حَفِيظٌ عَلِيم ۔
اس لیے کسی کی نیت اور دل پر حکم لگانے سے پہلے ، کم ازکم اپنے ظاہری حال کو دیکھ لینا چاہیے ، خود میاں فضیحت اور دوسروں کو نصیحت والا معاملہ ٹھیک نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
11-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3181973015416199&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب گاؤں میں بجلی نہیں ہوتی تھی تو چھت پر سویا کرتے تھے ، اور جب گرمی لگتی تو دعاکرتےتھے:
یااللہ پاک ! کوئی ٹھنڈی ہوا چلا دے ۔
پھر جب ہوا کاجھونکا آتا تو اللہ کریم کا شکرادا کرتے تھے ۔
اِن اے سیوں ، کولروں اور پنکھوں نے ہمیں وہ پیاری دعائیں بھلا دیں ۔ 😥
اے گرمی ، سردی پیدا فرمانے والے ہمیں اپنی بارگاہ کا ہی راستہ دکھا اور بھٹکنے سےمحفوط فرما !
✍️لقمان شاہد
12-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3182608895352611&id=100008105947430
یااللہ پاک ! کوئی ٹھنڈی ہوا چلا دے ۔
پھر جب ہوا کاجھونکا آتا تو اللہ کریم کا شکرادا کرتے تھے ۔
اِن اے سیوں ، کولروں اور پنکھوں نے ہمیں وہ پیاری دعائیں بھلا دیں ۔ 😥
اے گرمی ، سردی پیدا فرمانے والے ہمیں اپنی بارگاہ کا ہی راستہ دکھا اور بھٹکنے سےمحفوط فرما !
✍️لقمان شاہد
12-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3182608895352611&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فیس بک پر ہمارے بعض دوست ایسے لطیف پیرائے میں مزاح کرتے ہیں ، کہ بندہ دیرتک محظوظ ہوتارہتا ہے ۔
اللہ کریم ان کی زندگیاں بھی خوشیوں سے بھر دے !
¹ مزاح ایساہونا چاہیے جس میں لطافت اور ظرافت ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سےطبیعت کِھل اٹھے اور چہرے پر مسکراہٹ پھیل جائے ۔
² مزاح میں جھوٹ اور ایذاے مسلم سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
³ ایک دائرے میں رہتے ہوئے بطورِ مزاح فرضی بات کرنے کی تو گنجائش ہوسکتی ہے ، لیکن مزاح کو ایک مفروضہ بنا دینا بھی ٹھیک نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
12-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3183027368644097&id=100008105947430
اللہ کریم ان کی زندگیاں بھی خوشیوں سے بھر دے !
¹ مزاح ایساہونا چاہیے جس میں لطافت اور ظرافت ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سےطبیعت کِھل اٹھے اور چہرے پر مسکراہٹ پھیل جائے ۔
² مزاح میں جھوٹ اور ایذاے مسلم سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
³ ایک دائرے میں رہتے ہوئے بطورِ مزاح فرضی بات کرنے کی تو گنجائش ہوسکتی ہے ، لیکن مزاح کو ایک مفروضہ بنا دینا بھی ٹھیک نہیں ۔
✍️لقمان شاہد
12-6-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3183027368644097&id=100008105947430