🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
اَئمہ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ احکامِ شریعت حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سپرد ہیں،جو بات چاہیں واجب کر دیں جو چاہیں ناجائز کر دیں،جس چیز یا جس شخص کو جس حکم سے چاہیں مستثنیٰ فرمادیں۔(جلد 30،ص 518)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام)کرے اس کا ثواب اوّلین وآخِرین احیاء واموات (یعنی سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر تاقیامت ہونے والے)تمام مؤمنین ومؤمنات کے لیے ہدیہ بھیجے (یعنی اِیصالِ ثواب کرے)،سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے(یعنی جس نے اِیصالِ ثواب کیا) اُن سب کے برابر اجر ملے گا۔
(فتاوی رضویہ،جلد 9،ص 617)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
امواتِ مسلمین (یعنی مرحومین) کے نام پر کھانا پکا کر اِیصالِ ثواب کے لئے تَصَدُّق(یعنی خیرات)کرنا بِلا شُبہ جائز ومُسْتَحْسَن(یعنی پسندیدہ)ہے اور اس پر فاتحہ سے اِیصالِ ثواب دوسرا مُسْتَحْسَن (یعنی پسندیدہ)ہے اور دوچیزوں کا جمع کرنا زِیادتِ خیر(یعنی بھلائی میں اضافہ)ہے۔(فتاوی رضویہ،جلد 9،ص 595)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
اتنی تجوید (سیکھنا) کہ ہر حرف دوسرے حرف سے صحیح ممتاز ہو فرض عین ہے۔بغیر اس کے نماز قطعا باطل ہے۔
(فتاوی رضویہ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*اے جان وفا! یہ ظلم نہ کر*

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی

یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے

اکبر الہ آبادی کا یہ شعر ان کے زمانے کی سیاسی صورت حال کی عکاسی تو کرتا ہی ہے - موجودہ سیاسی حالات کی بھی منظر کشی خوب کرتا ہے - ان لیڈروں کا ارتقائی سفر نہ جانے کب اختتام کو پہنچے گا - لیڈران وطن کا جو ارتقائی سفر دیکھنے میں آرہا ہے اس کا تصور تو ڈارون کی تھیوری میں تھا ہی نہیں - اس تصور کو تو اکبر الہ آبادی جیسے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں - 1921 میں فانی دنیا سے جانے والے اس شاعر کو 2021 میں مکمل ایک صدی ہوگئ ہے اور ہم ان کے اس ارتقائی تصور کو اپنی آنکھوں سے اب بھی دیکھ رہے ہیں -
حال ہی میں کانگریس کے قد آور لیڈر جتن پرساد ارتقائی سفر کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں- اہم بات یہ ہے کہ جتن بھی ان 23 رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سونیا گاندھی کو گذشتہ سال کانگریس صدر کے عہدے سے متعلق خط لکھ کر پارٹی کو ارتقائی منزلیں طے کرنے کے متعلق کچھ مشورے دیے تھے ۔ جتن پرساد یوپی کانگریس میں ایک بڑی ذمہ داری چاہتے تھے ، لیکن انہیں پارٹی میں نظرانداز کیا جارہا تھا۔ جتن پرساد کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے بہت قریبی سمجھے جاتے تھے۔ آخر آدمی کی فطرت میں ہی جب ارتقا مضمر ہو تو پھر کچھ کہنا ہی بے کار ہے -

*وہ لیڈر جو ارتقا کی تلاش میں سرگرداں دکھے -*


11 مارچ 2020 کو کانگریس میں خاص مقام رکھنے والے مدھیہ پردیش کے جیوتی رادتیہ سندھیا بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اور پھر مدھیہ پردیش میں کھلتے کمل کے ارتقائی سفر میں کانگریس کا چھوٹا سا ہاتھ چُھپ کر رہ گیا - گذشتہ 6 سالوں میں کانگریس کے قریب 150 بڑے لیڈر ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے دوسری پارٹیوں میں شامل ہوے ہیں - اس قدر لیڈران کا پارٹی چھوڑنا، پارٹی اور پارٹی کے رہنماؤں کے مابین دوری، عدم اعتماد اور کمیونیکیشن فیل ہونے کا نتیجہ یا پھر پارٹی صدر کا ارتقا سے موہ بھنگ کا سبب ہی کہا جا سکتا ہے - بہر صورت کانگریس کا نقصان ہے لیکن یہ سياسی لوگ کانگریس کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں -

ریتا بہوگنا جوشی: 24 سال کانگریس میں رہنے کے بعد 2016 میں بی جے پی میں شامل ہو گئیں تھیں ۔ انہوں نے 2017 میں یوپی اسمبلی انتخابات میں لکھنؤ کینٹ سے الیکشن لڑا۔ ریتا نے ملائم سنگھ یادو کی چھوٹی بہو اپرنا یادو کو شکست دے کر یہاں سے کامیابی حاصل کی۔

ہیمنت بسوا سرما:
2015 میں کانگریس چھوڑنے والے ہمنت بسوا سرما آج آسام کے وزیر اعلی ہیں- ارتقائی عمل کا سب سے زیادہ فائدہ انھیں ہی ہوا ہے - اس لیڈر کا قد راہل گاندھی نہ سمجھ سکے - پارٹی چھوڑتے ہوے ہیمنت بسوا سرما نے جو بیان دیا تھا وہ بہت کچھ کہتا ہے - سرما نے کہا تھا " راہل گاندھی نے مجھے وقت نہیں دیا، کانگریس میں دیش کے لیے کام کرنے کا جذبہ ہو یا نہ ہو لیکن پارٹی صدر راہل گاندھی یا گاندھی فیملی کے لیے آپ کی وفا داری ضروری ہے اور ہاں! آپ کو ان کے سکیورٹی گارڈز اور کتے سے بھی وفا داری ثابت کرنا پڑے گی"- یہ بیان کانگریس کا رویہ دکھاتا ہے کہ اسے اپنی لیڈر شپ کی کتنی فکر ہے - چاہے غلام نبی آزاد ہوں یا کپل سبل سب کو گاندھی فیملی یا صدر پر سوال اٹھانا مہنگا پڑتا ہے -

چودھری بیرندر سنگھ

کانگریس چھوڑ کر 2014 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پہلے دور میں ، انہیں اسٹیل وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

رادھا کرشن ویکھے پاٹل: مہاراشٹر میں ، کانگریس کے تجربہ کار لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے کانگریس چھوڑ کر گذشتہ سال بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پاٹیل استعفیٰ دینے کے وقت ہی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔
نارائن رانے:
مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے تجربہ کار لیڈر ، نارائن رانے گذشتہ سال بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ کانگریس چھوڑنے کے بعد ، رانے بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔

ایس ایم کرشنا: سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کانگریس چھوڑ کر 2017 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔

*بنگال میں قریب 60 بڑے لیڈر ممتا سے دور ہوے*

حال ہی پانچ صوبوں میں ہونے والے الیکشن میں بھی ہم نے دیکھا کہ سیکولر پارٹیوں کے وہ لیڈر جو سالوں سے سیکولر ازم کا چولا اوڑھے وہے تھے، بی جے پی میں چلے گئے، پورے ملک میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جس کے لیڈروں نے اپنی پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا ہو - یہ چیز سب سے زیادہ پہلے یوپی پھر بنگال میں دیکھنے کو ملی، اور جلد ہی یہ کھیل یوپی میں بڑے پیمانے پر دوبارہ شروع ہوگا، جس کی شروعات جتن پرساد سے ہو چکی ہے - بنگال میں تو ایم ایل اے، ایم پی اور پارٹی کی شناخت مانے جانے والے لیڈر بھی ممتا کا ساتھ چھوڑ گئے تھے -

*مُکل رائے کی گھر واپسی*
بنگال میں بی جے پی کا بڑا چہرا رہے مکل رائے وہی لیڈر ہیں جو سب سے پہلے ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی میں گئے اور پھر پارٹی چھوڑنے والوں کا تانتا بندھ گیا - بی جے پی کو کراری شکست ہوئی ایسے میں بنگال کے لیڈروں نے گھر واپسی شروع کردی ہے کیوں کہ وہ" تالاب میں رہ کر مگرمچھ سے بیر" نہیں رکھنا چاہتے- خبریں تو یہاں تک ہیں کہ جلد ہی بنگال بی جے پی، ٹی ایم سی میں تبدیل ہو جائے گی - ممتا کی تعریف کے بعد مکل رائے سے خود پردھان منتری نے بات کی لیکن مکل رائے دیدی کو اچھی طرح جانتے ہیں اور وزیراعظم کے خلاف ان کا رویہ دیکھ کر بی جے پی میں رہنے کی ہمت نہیں جٹا سکے - 11 جون 2021 کو گھر واپسی ہی میں عافیت سمجھی - اتنی قلانچیں تو بندر بھی نہیں لگاتے ہوں گے جتنی ان سیاسی رہنماؤں نے پچھلے سالوں میں لگائی ہیں - اسی لیے اکبر الہ آبادی کہتے ہیں
یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوے -

*اس گھر واپسی میں ہمارے لئے کیا سبق ہے؟*

ہماری قوم بڑی جذباتی واقع ہوئی ہے - 74 سالوں میں یہ اپنے کسی لیڈر پر اعتماد نہیں کر سکی - جب بھی کوئی مسلم لیڈر یا پارٹی کھڑی ہوئی، اس پارٹی کی مخالفت کسی نے کی ہو یا نہ کی ہو لیکن ہماری قوم نے اپنا فرض ضرور ادا کیا - ہزاروں فسادات، لاکھوں اموات، اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنے کے بعد بھی سیکولر ازم کے پیچھے آج بھی ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے انھیں بھانگ پلادی گئی ہو -
____جب سندھیا، مکل رائے، ریتا بہوگنا جوشی جیسے بڑے لیڈر اپنی فکر، آئیڈیا لوجی (وچار دھارا) کو پس پشت ڈال کر شدت پسندوں کا ہاتھ تھام کر انھیں کی بولی بولتے نظر آتے ہیں تب ہماری آنکھیں تھوڑی دیر کے لیے کھلتی ہیں، لیکن ہم بس اسے نارمل ہی دیکھتے ہیں نہ حیرت ہوتی ہے اور نہ دکھ - پھر یہی لیڈر ہمارے خلاف غلط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہم تھوڑا بہت کوس کر اپنے آپ کو تسلی دے کر بیٹھ جاتے ہیں - پھر یہی لیڈر جب ہارتے ہیں تو پھر نام نہاد سیکولر پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ایسی مشین میں دھلائی کرتی ہیں کہ چند لمحوں میں پھر وہ کمینول، سیکولر بن جاتا ہے اور ہم اسے معاف کردیتے ہیں -
____لیکن ہمارا لیڈر زندگی بھر شدت پسندوں کی مخالفت کرتا ہے، قوم کو آگاہ کرتا ہے، انھیں حق کی طرف بلاتا ہے، ان کے لیے آواز بلند کرتا ہے، پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک عوامی مقامات سے لے کر ٹی وی ڈبیٹ تک ہماری ہی بات کرتا ہے، ہمارا دفاع کرتا ہے، لیکن افسوس صد افسوس! ہماری قوم اسے ایجنٹ ثابت ہی نہیں کرتی بل کہ تسلیم بھی کرتی ہے اور بڑھ چڑھ کر اس کی مخالفت بھی کرتی ہے - جتنا اعتماد ہم نے لالو، ملائم، نیتیش، شرد پوار، ممتا بنرجی، راہل گاندھی پر دکھایا ہے اگر اس سے آدھا اعتماد بھی اپنی قیادت پر کیا ہوتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی -
ایسے میں یہ شعر یاد آتا ہے-

اپنوں پہ ستم غیروں پہ کرم
اے جان وفا یہ ظلم نہ کر
13 /6/2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/932192434017942/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بلاضرورت انگریزی بولنے کے متعلق اعلٰی حضرت امام اہل سنت علامہ مولانامفتی الشاہ احمدرضابریلوی رحمۃُاللّٰہِ تعالٰی علیہ کافتوی:

"حال قصد التعظیم انگریزی،چینی، جاپانی، جرمنی، لاطینی، جو زبان غیر اسلامی ہو,جسے اسلام نے فارسی اور اردو کی طرح اپنا خادم نہ کرلیا جس کی وہ زبان نہ ہو اسے بلا ضرورت اس میں کلام نہ چاہیے.
*امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
"ایاکم ورطانۃ الاعاجم رواہ البیھقی"
ترجمہ:
"عجمی لوگوں کی زبانیں بولنے سے بچو، امام بہیقی نے اس کو روایت کیا"
(المصنف لعبدا لرزاق باب الصلٰوۃ فی البیعۃ حدیث ۴۱۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۱۱)
*عبداللہ ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کی حدیث میں ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :

"فانہ یورث النفاق رواہ الحاکم فی صحیحہ المستدرک"
ترجمہ:
"کیونکہ یہ چیز نفاق پیدا کردیتی ہے حاکم نے اپنی صحیح مستدرک میں اس کوروایت کیا"
(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃالصحابۃ فضل کافۃ العرب الخ مکتب المطوعات الاسلامیہ ۴ /۸۷)"

(منقول از فتاوی رضویہ, جلد 23, مسئلہ 151)

میثم قادری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3022654738013833&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
غیرمسلم,وھابی کابخودمسجدمیں چندہ دینےکاحکم
السلام علیکم ورحمۃاللہ
سوال:
کو ئ غیر مسلم یا وہابی اگر خود سے تعمیر مسجد کےلئے چندہ دے تو اس کی رقم تعمیر مسجد میں لگا نا کیسا ہے? جائز ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی اگر متولی مسجد نے تعمیر مسجد میں وہابی / غیر مسلم کا چندہ لگا دیا ہے تو اس کا کیا حکم ہے . بحوالہء کتب معتمدہ ء اہل سنت جواب مرحمت فرما ئیں . اجرکم اللہ تبارک و تعالی
الجواب بعون الملک الوھاب:
کسی بھی بےایمان کافرومشرک اوروھابی دیوبندی وغیرھم خذلھم اللہ تعالی فی الدنیاوالآخرہ
سےتعمیرمسجدمیں چندہ لیناناجائزوگناہ ھے
کماقال اللہ تعالی
ماکان للمشرکین ان یعمر وامساجداللہ .
یعنی نھیں ھےروامشرکوں کےلےکہ وہ آبادکریں اللہ کی مسجدوں کوانمایعمروامساجداللہ من آمن باللہ والیوم الآخرصرف وھی آبادکرسکتاھےاللہ کی مسجدوں کوجوایمان لایاھواللہ پراورروزقیامت پر

📚سورہ توبہ آیت نمبر17/18

اورحدیث شریف میں ھے

انالانستعین بمشرک

📚بحوالہ رضویہ جلدششم قدیم 320

ھمیں جائزنھیں کہ مشرکوں سےمددطلب کریں

اوراگرکافرومشرک مسجدمیں خودسےروپیہ وغیرہ دیں تواسکی دوصورتیں ھیں

1...ایک یہ کہ بطوراحسان وغیرہ دیں

2....دوسرایہ کہ بطورنیازمندانہ پیش کریں.

پھلےکاحکم ...

اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتےھیں

1.....کافراگراس طورپرروپیہ دیتاھےکہ مسجدیامسلمانوں پراحسان رکھتاھے یااسکےسبب مسجدمیں کوئ مداخلت رھےگی تولیناجائزنھیں

دوسرےکاحکم..

2.....اوراگرنیازمندانہ طورپرپیش کرتاھے توحرج نھیں جبکہ اسکےعوض کافرکی طرف سےکوئ چیزخریدکرنہ لگائ جاےبلکہ مسلمان بطورخودخریدیں یاراھبوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اوراسمیں بھی اسلم طریقہ یہ ھے کہ کافرمسلمان کوھبہ کردےمسلمان اپنی طرف سے لگاے

📚فتاوی رضویہ جلدششم قدیم ص.484

نیزفرماتےھیں کہ
اگراسنےمسجدبنوانےکی صرف نیت سے مسلمان کوروپیہ دیایاروپیہ دیتےوقت صراحۃ کہ بھی دیاکہ اس سےمسجدبنوادو مسلمان نےایساھی کیاتووہ ضرورمسجدھوگئ اوراسمیں نمازپڑھنی درست.
لانہ انمایکون اذناللمسلم بشراء الآلات للمسجدبمالہ.

📚ایضاص.396

پس اگرغیرمسلم کافرنےاپنےروپئےکونیازمندانہ دیاھےیامسلمان کوھبہ کیاھےتواس سےتعمیرمسجدوغیرہ درست ھےاوراسمیں نمازپڑھناجائزھے

اوروھابی دیوبندی وغیرھم کافرومرتدگمراہ وگمراہ گرھیں ان سےتعلق دین وایمان کیلےزھرقاتل ھےلھذااگروہ کسی طرح کاتعاون ازخودکریں تب بھی اسکولیناجائزنھیں کہ ان سےلینابھت بڑےفتنہ کاباعث ھوگاکہ میل جول سلام وکلام تعظیم وغیرہ
تعلقات قائم ھونگے
اوریہ سب ان سےحرام ھے

حدیث شریف میں ھے

ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنوکم

📚مسلم شریف جلداول10.
یعنی بدمذھبوں سےدوررھوانکواپنےسےدوررکھوکھیں ایسانہ ھوکہ وہ تمھیں گمراہ کردیں یافتنہ میں مبتلاکردیں..

لھذااگرمتولی مسجدنےوھابی وغیرہ کاپیسہ لیاھےجوانھوں نےازخوددیاھےتومتولی کواس فعل سےتوبہ کرنی چاھئےکہ اس میں مذکورہ حدیث(ایاکم وایاھم)کی مخالفت لازم آرھی ھے

ھذاماظھرلی .واللہ اعلم بالصواب

ازقلم: عطا محمد مشاھدی عفی عنہ
3..رمضان المبارک1437ھ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024094177869889&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضور تاج الشریعہ اور شیخ ابو بکر صاحب(کیرلا)کی یادگار ملاقات

حضور تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) کی شہرت شب و روز عروج پر تھی اور ہر شخص آپ کے دیدار اور ملاقات کا متمنی رہتا کہ کسی طرح حضرت کا دیدار یا ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے،جس میں بہت سوں کو ملاقات کا شرف حاصل ہوتا اور بہت سے صرف دیدار ہی کر پاتے۔

ایک دن ایسا ہوا کہ "جامعة الثقافة السنية" (کیرالا)سے شیخ ابو بکر شافعی صاحب قبلہ اور" الجامعة السعدية"(کیرلا)سے شیخ عبد القادر شافعی علیہ الرحمہ "مرکز اہل سنت:" بریلی شریف" تشریف لائے اور "رضا مسجد" میں نماز ادا کی ، آپ حضرات نے مذہب شافعی پر عمل کرتے ہوئے رفع یدین بھی کیا جسے کافی لوگوں نے دیکھا اور ذہن میں کچھ خلجان پیدا ہوا۔

نماز کے بعد آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ ازہری صاحب کا گھر کہاں ہے اور وہ کہاں تشریف رکھتے ہیں تو لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی کہ یہ تو غیر مقلد ہیں،کیوں کہ آپ نے نماز میں رفع یدین کیا تھا،لیکن ایک دس بارہ سال کا طالب علم حضور تاج الشریعہ (علیہ الرحمہ) کے گھر پر بنے (ازہری دار الافتا) میں گیا اور جاکر حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا کہ حضور آپ سے دو غیر مقلد ملنا چاہتے ہیں،کیوں کہ وہ طالب بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ غیر مقلد نہیں ہیں۔اتفاق یہ کہ اس وقت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے پاس مولانا یسین اختر مصباحی صاحب اور مفتی مطیع الرحمٰن مضطرصاحب(پورنوی) تشریف فرما تھے اور علمی مذاکرہ چل رہا تھا۔
مفتی مطیع الرحمٰن مضطر صاحب نے حضور تاج الشریعہ سے عرض کیا حضور انہیں آنے دیں کیوں کہ وہ آپ کے پاس آئے ہیں نہ کہ آپ ان سے ملنے گئے ہیں اور اگر غیر مقلد ہوئے بھی تو ہو سکتا ہے ہدایت پا جائیں۔ خیر! سب کی رائے سے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اس بچے سے فرمایا کہ انہیں آنے دو۔

جیسے ہی وہ دونوں حضرات بارگاہ تاج الشریعہ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے داخل ہوتے ہی ایسا سلام کیا کہ سب سمجھ گئے کہ یہ غیر مقلد نہیں بلکہ یہ تو شافعی ہیں کیوں کہ انہوں نے سلام میں کہا:
"السلام عليكم، نحن معكم في تكفير الوهابية مأة في مأة"
یعنی ہم تو وہابیہ کی تکفیر میں سو فیصد آپ کے ساتھ ہیں

اس کے بعد حضور تاج الشریعہ نے ناشتہ وغیرہ کرایا اور کافی دیر تک علمی مذاکرہ بھی ہوا، علمی مذاکرہ میں شیخ ابو بکر صاحب اور شیخ عبد القادر شافعی صاحب اگر کسی موضوع پر ایک دو دلیلیں دیتے تو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ پانچ چھ دلیلیں دیتے جسے سن کر ہم دنگ رہ جاتے اور ساری گفتگو عربی میں ہی ہوئی کیوں کہ شیخ ابو بکر صاحب اور شیخ عبد القادر شافعی صاحب اردو نہیں جانتے تھے۔

مذکورہ واقعہ کو مفتی مطیع الرحمٰن مضطر صاحب نے اپنے مضمون "تاج الشریعہ۔۔۔۔چند مشاہدات" میں ذکر کیا ہے اسی کا ایک واقعہ تھا جس کا مفہوم ذکر کردیا گیا (رسالہ"النظامیہ" تاج الشریعہ نمبر،مجلس علمائے نظامیہ،پاکستان،ص٥٣)

اس واقعہ نے ہمیں بہت کچھ بتا دیا کہ جہاں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے وہیں آپ عربی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔
بلا شبہ آپ کی جو علمی شان و شوکت اور جاہ و عظمت تھی وہ کسی پر مخفی نہیں ،چاہے وہ کوئی سا بھی میدان ہو آپ نے اکثر موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے اور ایسی خامہ فرسائی جو دلائل و براہین سے مزین ہے
مثلاً فتویٰ نویسی،علم حدیث ،اردو تصانیف،عربی تصانیف،انگریزی تصانیف اور بہت سی کتب کا ترجمہ بھی کیا۔

آپ اور کام کرتے مگر اس سے قبل ہی بارگاہ خداوندی سے بلاوہ آ گیا اور ٦/ذی قعدہ ١٤٣٩ھ، مطابق٢٠/ جولائی ٢٠١٨ء کو اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے(انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون)
آپ خود فرماتے ہیں:
اختر قادری خلد میں چل دیا
خلدوا ہے ہر قادری کے لیے

اللہ تعالیٰ پیر و مرشد حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کے روحانی فیضان سے ہم سبھوں کو مالا مال فرمائے آمین

حوالاجات
(1):رسالہ"النظامیہ" تاج الشریعہ نمبر،مجلس علمائے نظامیہ،پاکستان،ص٥٣)
(2)برکات تاج الشریعہ،امام احمد رضا لرننگ رسرچ سینٹر،ناسک

محمد انور علی رضوی مصباحی رام پوری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3024483894497584&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مامون الرشید نے ایک دن حسن بن سہیل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے کہا:

"میں نے دنیا کی تمام لذتوں پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہر ایک لذت ایسی ہے جس سے انسان کسی نہ کسی وقت اکتا جاتا ہے ، لیکن ساتؔ لذتیں ایسی ہیں جن سے کبھی اکتاہٹ نہیں ہوتی ۔

1 گندم کی روٹی
2 بکری کا گوشت
3 ٹھنڈا پانی
4 ملائم کپڑا
5 خوشبو،
6 گداز بستر
اور
7 ہر قسم کے حسن کو دیکھنا ۔

حسن بن سہیل رحمہ اللہ نے کہا:
"امیرالمومنین! ایک چیز رہ گئی اور وہ ہے:
لوگوں سے بات چیت ۔
مامون نے اس کی تصدیق کی ۔

(محمد بن محمد۔الیواقیت العصریہ ص144 مصطفی البابی۔مصر ۱۳۴۹)

( حافظ میاں حافظ کی وال سے )

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3179173212362846&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب یہ حدیث پاک یاد آتی ہے تو قلبِ گناہ گار میں امید کی ایک شمع روشن ہوجاتی ہے ۔

رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمھارے گناہوں سے زمین و آسمان کا درمیانی حصہ بھر جائے ، پھر اللہ سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تمھیں معاف فرمادے گا ۔
اگر تم گناہ نہ کرتے ، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرتا جو گناہ کر کے معافی مانگتے ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا ۔ ( مسند احمد بن حنبل وغیرہ )

جب کہا عِصیاں سے میں نے ، سخت لاچاروں میں ہوں
جن کے پَلّے کچھ نہیں ہے اُن خریداروں میں ہوں

تیری رَحمت کے لیے شامِل گنہ گاروں میں ہوں ‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بول اُٹھی رَحمت ، نہ گھبرا میں مَدد گاروں میں ہوں

لقمان شاہد عفی عنہ
8-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3179982838948550&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل ایک عزیز نے بتایا کہ گجرات کے فلاں عالم صاحب کی چار بیویاں ہیں ۔

میں نے کہا:

" وہ عالم حفظہ اللہ قابل زیارت ہیں ، ان سے ملاقات کر کے دعا لینی چاہیے ۔ "

اس زمانے میں جس کی دو ، تین یا چار بیویاں ہیں ، وہ حقیقی معنوں میں مجاہد ہے ۔ ( اللہﷻ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے ! )
اس کی آزمائشیں زیادہ ہوتی ہیں ، اس میں حوصلہ اور صبر زیادہ ہوتا ہے ، وہ تقوی اور پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہوتا ہے ، اور اس کے فہم و فراست میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔
نیز اس کی بیویاں بھی بڑی سعادت مند ہوتی ہیں ، جوصبر و رضا کی اعلا مثال اور خلوص و للہیت کا بہترین نمونہ ہوتی ہیں ۔
رب تعالیٰﷻ ایسے مرد و خواتین کی کوتاہیوں سے درگذر فرمائے اور ان کی دنیا آخرت بہتر کرے ۔

✍️لقمان شاہد
9-6-2021 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180421168904717&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک سے زیادہ نکاح کی بات کرنے سے عام طور پر دو مقصد حاصل ہوتے ہیں ۔

1: گرل/بوائےفرینڈکلچر کا خاتمہ ۔
2: لبرل اور سیکولر مائینڈ کا رد ۔

لیکن ایک تیسرا مقصد بھی حاصل ہوجاتاہے ۔
۔
۔
۔
‌۔
۔

اور وہ یہ کہ:

بہادر ، نیم بہادر ، فل ڈرپوک ، ہاف ڈرپوک ، مضبوط دل ، کمزور دل اور مظلوم و مجبور و مقہور و مرحوم و مغفور کی پہچان ہوجاتی ہے 😄😀

آپ پوچھیں گے یہ کیسے ؟

تو یہ ایک علم ہے ، جسے " علم کمینٹ " کہتے ہیں ، اسی کے ذریعے سب کچھ معلوم ہوتا ہے ۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3180460288900805&id=100008105947430