#مکان_بکاؤ_ہے!!
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
چونکیے مت!
یہ مکان بیچنے کا اعلان نہیں بلکہ مسلمانوں کو پریشان کرنے کا نیا اور کارگر نسخہ ہے۔جس علاقے کے مسلمانوں کو پریشان کرنا ہوتا ہے وہاں کے غیر مسلم اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، باقی کا کام گودی میڈیا کر دیتا ہے۔اس کے بعد حکومت اور انتظامیہ مل کر اس علاقے کے مسلمانوں کا عرصہ حیات اتنا تنگ کر دیتے ہیں کہ مسلمان خود ہی اپنا گھر مکان بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس طرح بیٹھے بٹھائے مسلمانوں کو سبق بھی سکھا دیا جاتا ہے اور شکایت کنندہ غیر مسلم مظلوم کے مظلوم بھی بنے رہتے ہیں۔
___مسلمانوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" پروپیگنڈے کی سیاسی اور منظم شروعات 2016 میں کیرانہ ضلع شاملی یوپی سے ہوئی تھی۔اچانک ہی کیرانہ کے کچھ غیر مسلموں نے اپنے گھروں پر 'مکان بکاؤ ہے' کے بورڈ لگا دیے۔اس وقت بی جے پی لیڈر 'حکم سنگھ' وہاں کے ایم پی ہوا کرتے تھے انہوں نے پریس کانفرنس کرکے یہ الزام لگایا کہ مسلمانوں کی دبنگئی اور خوف کی وجہ سے ہندو اپنے مکان بیچنا چاہتے ہیں۔اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے تے تین سو چھیالیس خاندانوں کی فہرست بھی جاری کی جو مسلمانوں کے خوف سے اپنا مکان بیچنا چاہتے ہیں یا بیچ کر چلے گئے ہیں۔حالانکہ پولیس،میڈیا اور ہیومین کمیشن کی تحقیق میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا اور الیکشن میں ہار کے بعد بی جے پی نے بھی یہ مدعا ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔
بھلے ہی کیرانہ میں یہ معاملہ ناکام ہوگیا مگر شرپسند عناصر کے ہاتھ ایک شان دار نسخہ لگ گیا تھا۔کیرانہ کے بعد شاملی، بنگال کے آسن سول اور ڈائمنڈ ہاربر، ہریانہ کے میوات اور سیلم پور دہلی میں بھی یہی داؤں آزمایا گیا۔اس پر بس نہیں چلا تو پچھلے سال میرٹھ کے ایک محلے میں یہی پروپیگنڈہ کیا گیا۔حالانکہ کسی ایک جگہ بھی یہ بات صحیح ثابت نہ ہوسکی مگر شرپسند ابھی تک باز نہیں آئے تازہ معاملہ علی گڑھ کے نور پور گاؤں اور رامپور کے قصبہ ٹانڈہ کا ہے جہاں معمولی باتوں کا بتنگڑ بناتے ہوئے "مکان بکاؤ ہے" کے بورڈ لگا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
___چھبیس مئی 2021 کو علی گڑھ کے نور پور گاؤں میں غیر مسلموں کی ایک بارات گاجے باجے کے ساتھ نکل رہی تھی۔جب یہ بارات مسجد کے سامنے پہنچی تو کچھ مسلمانوں نے ان سے جلدی آگے نکل جانے یا بینڈ باجا بند کرنے کی گزارش کی۔اس معقول سی بات پر باراتی بگڑ گئے۔بحث وتکرار کے بعد باراتیوں اور مقامی لوگوں میں ہاتھاپائی ہوگئی۔بس اسی بات کو لیکر غیر مسلموں نے اپنے مکانوں کے باہر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر مسلمانوں کو غنڈہ اور خود کو مظلوم بنا لیا۔
__اٹھائیس مئی رامپور کے قصبہ ٹانڈہ میں کیرم کھیلنے کو لیکر کچھ مسلم اور غیر مسلم لڑکوں میں جھگڑا ہوگیا تھا۔پولیس نے اس معاملے میں تین لوگوں کا چالان بھی کردیا تھا۔مگر غیر مسلم اتنے پر مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ دیا اور اب میڈیا کے سامنے مسلمانوں کی دبنگئی اور اپنی مظلومیت کے قصے سنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خوف سے اس قدر پریشان ہیں کہ اپنا مکان بیچ کر یہاں سے دور چلے جانا چاہتے ہیں۔
حالیہ دونوں معاملات میں درج فہرست ذات (SC) کے لوگ شامل ہیں۔جو بہ خوشی ان شرپسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جنہوں نے آج تک انہیں برابری کا حق نہیں دیا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کوئی دلت تنظیم اس معاملے پر آگے نہیں آئی ہے۔دلت لیڈران کو چاہیے کہ وہ آگے آکر اپنی قوم کو شرپسندوں کی کٹھ پتلی بننے سے بچائیں تاکہ سماجی انصاف کی مہم کمزور نہ پڑے۔
پروپگنڈے کی حقیقت
جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد بیس فیصد سے کم ہوتی ہے وہاں کے مسلمان اکثریت کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ان کی مرضی کے بغیر مسجد بنا سکتے ہیں نہ مدرسہ۔حتی کہ عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی تک نہیں کر سکتے۔قربانی کے لیے انہیں دوسرے گاؤں جانا پڑتا ہے۔آبادی کا تناسب اگر دس فیصد کے آس پاس یا کم ہو تب تو مسلمان اپنے گھر میں نہ مذہبی محفل کر سکتا ہے اور نہ ہی بڑے جانور کا گوشت پکا سکتا ہے۔
ہاں! جن علاقوں میں مسلم آبادی تیس فیصد یا زائد ہوتی ہے وہاں مسلمان قدرے آزادی سے اسلامی معاشرت کے ساتھ رہتے ہیں۔اس لیے اب ان علاقوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" جیسے پروپیگنڈے شروع کیے گیے ہیں۔حالانکہ ایسے تمام معاملات تحقیقات کے بعد غلط ہی ثابت ہوئے ہیں۔ابھی تک ایک بھی معاملہ ثابت نہیں ہوسکا۔اس کے باوجود پورے ملک میں شر پسند عناصر اور موقع پرست سیاسی لیڈر یہ کھیل مزے کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو اس کے پیچھے دو بنیادی باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
1- مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاست ومعیشت میں مسلمان قدرے مضبوط نظر آتے ہیں اس لیے شرپسند عناصر ایسے ایشوز اٹھا کر انہیں تجارتی نقصان پہنچانا اور اپنی پارٹیوں میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
چونکیے مت!
یہ مکان بیچنے کا اعلان نہیں بلکہ مسلمانوں کو پریشان کرنے کا نیا اور کارگر نسخہ ہے۔جس علاقے کے مسلمانوں کو پریشان کرنا ہوتا ہے وہاں کے غیر مسلم اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، باقی کا کام گودی میڈیا کر دیتا ہے۔اس کے بعد حکومت اور انتظامیہ مل کر اس علاقے کے مسلمانوں کا عرصہ حیات اتنا تنگ کر دیتے ہیں کہ مسلمان خود ہی اپنا گھر مکان بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس طرح بیٹھے بٹھائے مسلمانوں کو سبق بھی سکھا دیا جاتا ہے اور شکایت کنندہ غیر مسلم مظلوم کے مظلوم بھی بنے رہتے ہیں۔
___مسلمانوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" پروپیگنڈے کی سیاسی اور منظم شروعات 2016 میں کیرانہ ضلع شاملی یوپی سے ہوئی تھی۔اچانک ہی کیرانہ کے کچھ غیر مسلموں نے اپنے گھروں پر 'مکان بکاؤ ہے' کے بورڈ لگا دیے۔اس وقت بی جے پی لیڈر 'حکم سنگھ' وہاں کے ایم پی ہوا کرتے تھے انہوں نے پریس کانفرنس کرکے یہ الزام لگایا کہ مسلمانوں کی دبنگئی اور خوف کی وجہ سے ہندو اپنے مکان بیچنا چاہتے ہیں۔اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے تے تین سو چھیالیس خاندانوں کی فہرست بھی جاری کی جو مسلمانوں کے خوف سے اپنا مکان بیچنا چاہتے ہیں یا بیچ کر چلے گئے ہیں۔حالانکہ پولیس،میڈیا اور ہیومین کمیشن کی تحقیق میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا اور الیکشن میں ہار کے بعد بی جے پی نے بھی یہ مدعا ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔
بھلے ہی کیرانہ میں یہ معاملہ ناکام ہوگیا مگر شرپسند عناصر کے ہاتھ ایک شان دار نسخہ لگ گیا تھا۔کیرانہ کے بعد شاملی، بنگال کے آسن سول اور ڈائمنڈ ہاربر، ہریانہ کے میوات اور سیلم پور دہلی میں بھی یہی داؤں آزمایا گیا۔اس پر بس نہیں چلا تو پچھلے سال میرٹھ کے ایک محلے میں یہی پروپیگنڈہ کیا گیا۔حالانکہ کسی ایک جگہ بھی یہ بات صحیح ثابت نہ ہوسکی مگر شرپسند ابھی تک باز نہیں آئے تازہ معاملہ علی گڑھ کے نور پور گاؤں اور رامپور کے قصبہ ٹانڈہ کا ہے جہاں معمولی باتوں کا بتنگڑ بناتے ہوئے "مکان بکاؤ ہے" کے بورڈ لگا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
___چھبیس مئی 2021 کو علی گڑھ کے نور پور گاؤں میں غیر مسلموں کی ایک بارات گاجے باجے کے ساتھ نکل رہی تھی۔جب یہ بارات مسجد کے سامنے پہنچی تو کچھ مسلمانوں نے ان سے جلدی آگے نکل جانے یا بینڈ باجا بند کرنے کی گزارش کی۔اس معقول سی بات پر باراتی بگڑ گئے۔بحث وتکرار کے بعد باراتیوں اور مقامی لوگوں میں ہاتھاپائی ہوگئی۔بس اسی بات کو لیکر غیر مسلموں نے اپنے مکانوں کے باہر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر مسلمانوں کو غنڈہ اور خود کو مظلوم بنا لیا۔
__اٹھائیس مئی رامپور کے قصبہ ٹانڈہ میں کیرم کھیلنے کو لیکر کچھ مسلم اور غیر مسلم لڑکوں میں جھگڑا ہوگیا تھا۔پولیس نے اس معاملے میں تین لوگوں کا چالان بھی کردیا تھا۔مگر غیر مسلم اتنے پر مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ دیا اور اب میڈیا کے سامنے مسلمانوں کی دبنگئی اور اپنی مظلومیت کے قصے سنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خوف سے اس قدر پریشان ہیں کہ اپنا مکان بیچ کر یہاں سے دور چلے جانا چاہتے ہیں۔
حالیہ دونوں معاملات میں درج فہرست ذات (SC) کے لوگ شامل ہیں۔جو بہ خوشی ان شرپسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جنہوں نے آج تک انہیں برابری کا حق نہیں دیا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کوئی دلت تنظیم اس معاملے پر آگے نہیں آئی ہے۔دلت لیڈران کو چاہیے کہ وہ آگے آکر اپنی قوم کو شرپسندوں کی کٹھ پتلی بننے سے بچائیں تاکہ سماجی انصاف کی مہم کمزور نہ پڑے۔
پروپگنڈے کی حقیقت
جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد بیس فیصد سے کم ہوتی ہے وہاں کے مسلمان اکثریت کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ان کی مرضی کے بغیر مسجد بنا سکتے ہیں نہ مدرسہ۔حتی کہ عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی تک نہیں کر سکتے۔قربانی کے لیے انہیں دوسرے گاؤں جانا پڑتا ہے۔آبادی کا تناسب اگر دس فیصد کے آس پاس یا کم ہو تب تو مسلمان اپنے گھر میں نہ مذہبی محفل کر سکتا ہے اور نہ ہی بڑے جانور کا گوشت پکا سکتا ہے۔
ہاں! جن علاقوں میں مسلم آبادی تیس فیصد یا زائد ہوتی ہے وہاں مسلمان قدرے آزادی سے اسلامی معاشرت کے ساتھ رہتے ہیں۔اس لیے اب ان علاقوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" جیسے پروپیگنڈے شروع کیے گیے ہیں۔حالانکہ ایسے تمام معاملات تحقیقات کے بعد غلط ہی ثابت ہوئے ہیں۔ابھی تک ایک بھی معاملہ ثابت نہیں ہوسکا۔اس کے باوجود پورے ملک میں شر پسند عناصر اور موقع پرست سیاسی لیڈر یہ کھیل مزے کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو اس کے پیچھے دو بنیادی باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
1- مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاست ومعیشت میں مسلمان قدرے مضبوط نظر آتے ہیں اس لیے شرپسند عناصر ایسے ایشوز اٹھا کر انہیں تجارتی نقصان پہنچانا اور اپنی پارٹیوں میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
2- دوسری اہم وجہ وہ ذہنیت ہے جو کسی جگہ بھی مسلمان کو چین وسکون سے دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔اس لیے مسلم اکثریتی بستیاں ان کی نظروں میں کھٹکتی ہیں۔کیوں کہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں تو انہیں مسجد/مدرسہ بنانے اور قربانی تک کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اب اکثریتی بستیوں میں بھی مسلمانوں کے مفروضہ ظلم وستم کی آڑ لیکر وہاں بھی اپنا دبدبہ اور تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔مکان بیچنے کا پروپیگنڈہ اسی سازش کا تازہ ہتھیار ہے۔
اس کھیل میں میڈیا شر پسند عناصر کا بھرپور ساتھ دیتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کرتا ہے۔میڈیا کی مانیں تو ایسا لگتا ہے کہ مسلمان اس قدر دبنگ اور طاقت ور ہیں جن کے خوف سے غیر مسلم سانس لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔حالانکہ اسے ایک لطیفہ ہی کہا جائے گا کہ کیوں کہ حکومت، انتظامیہ ،میڈیا اور تمام تر وسائل پر غیر مسلموں کا ہی دبدبہ وتسلط ہے۔مسلمان تو یہاں اپنے وجود اور دو وقت کی روٹی کے لیے ہی جدوجہد کر رہے ہیں وہ بھلا کسی کو دھمکانے اور ڈرانے کی طاقت کہاں سے لائے گیں؟
میڈیا نے اس ملک کے لوگوں کے دل ودماغ پر ایسا قبضہ کیا ہے وہ اتنی معمولی بات نہیں سمجھ پاتے کہ مسلمان اس ملک میں محض پندرہ فیصد ہیں۔مالی، سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہیں۔جس قوم کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہو۔ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہو بھلا وہ یہاں کی حکمراں اور طاقت ور اکثریت کو کس طرح ڈرا دھمکا سکتی ہے؟
مگر جب عقل غیروں کے قبضے میں ہو تو اسے کچھ بھی سمجھایا/سکھایا جاسکتا ہے۔ایسا ہی آج کل میڈیا کر رہا ہے اور مسلم دشمنی میں لوگ دن کو رات اور رات کو دن کہے جارہے ہیں۔
27 شوال المکرم 1442ھ
9 جون 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/929946890909163/
اس کھیل میں میڈیا شر پسند عناصر کا بھرپور ساتھ دیتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کرتا ہے۔میڈیا کی مانیں تو ایسا لگتا ہے کہ مسلمان اس قدر دبنگ اور طاقت ور ہیں جن کے خوف سے غیر مسلم سانس لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔حالانکہ اسے ایک لطیفہ ہی کہا جائے گا کہ کیوں کہ حکومت، انتظامیہ ،میڈیا اور تمام تر وسائل پر غیر مسلموں کا ہی دبدبہ وتسلط ہے۔مسلمان تو یہاں اپنے وجود اور دو وقت کی روٹی کے لیے ہی جدوجہد کر رہے ہیں وہ بھلا کسی کو دھمکانے اور ڈرانے کی طاقت کہاں سے لائے گیں؟
میڈیا نے اس ملک کے لوگوں کے دل ودماغ پر ایسا قبضہ کیا ہے وہ اتنی معمولی بات نہیں سمجھ پاتے کہ مسلمان اس ملک میں محض پندرہ فیصد ہیں۔مالی، سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہیں۔جس قوم کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہو۔ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہو بھلا وہ یہاں کی حکمراں اور طاقت ور اکثریت کو کس طرح ڈرا دھمکا سکتی ہے؟
مگر جب عقل غیروں کے قبضے میں ہو تو اسے کچھ بھی سمجھایا/سکھایا جاسکتا ہے۔ایسا ہی آج کل میڈیا کر رہا ہے اور مسلم دشمنی میں لوگ دن کو رات اور رات کو دن کہے جارہے ہیں۔
27 شوال المکرم 1442ھ
9 جون 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/929946890909163/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#मकान_बिकाऊ_है!!
ग़ुलाम मुस्तफा नईमी
रौशन मुस्तक़बिल दिल्ली
आजकल मुसलमानों को परेशान करने के लिए "मकान बिकाऊ है" का फार्मूला बड़ा कारगर नुस्खा बन गया है जिस इलाके़ में मुसलमानों को परेशान करना हो वहां के ग़ैर मुस्लिम अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिख कर बैठ जाते हैं। बाकी का काम गोदी मीडिया कर देता है इसके बाद शासन और प्रशासन मिलकर इस तरह शिकंजा कसते हैं कि मुसलमान खुद अपना घर बार बेचने पर मजबूर हो जाते हैं।
__'मकान बिकाऊ है' प्रोपगंडे और षड्यंत्र की शुरुआत 2016 में कैराना जिला शामली यूपी से हुई थी। उस वक्त बीजेपी लीडर 'हुकुम सिंह' वहां के एमपी हुआ करते थे। उन्होंने प्रेस कॉन्फ्रेंस करके यह इल्जाम लगाया था कि मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों की वजह से हिंदू समाज के लोग अपना घर मकान बेचना चाहते हैं। हालांकि पुलिस, मीडिया और मानवाधिकार आयोग की तहकीकात और तफ्तीश में यह आरोप ग़लत साबित हुआ। इस मुद्दे की आड़ भाजपा चुनावी फायदा उठाना चाहती थी मगर इलेक्शन में हार जाने की वजह से बीजेपी ने भी इस मुद्दे को ठंडे बस्ते में डाल दिया।
_कैराना में भले ही यह मुद्दा नाकाम हो गया मगर कट्टरपंथियों के हाथ एक कारगर नुस्खा लग चुका था। कैराना के बाद शामली बंगाल के आसनसोल, डायमंड हार्बर, हरियाणा के मेवात और दिल्ली के सीलमपुर में भी यही दास्तान दोहराई गई और तो और पिछले साल मेरठ के एक मोहल्ले प्रहलादनगर में भी यही प्रोपगंडा किया गया हालांकि किसी एक जगह भी यह इल्जाम सच साबित नहीं हो सका। लेकिन उसके बावजूद कट्टरपंथी संगठन अभी भी अपनी हरकतों से बाज नहीं आ रहे हैं। ताजा मामला अलीगढ़ के नूरपुर और रामपुर के टांडा का है जहां मामूली बातों का बतंगड़ बनाते हुए कुछ लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर मामले को सांप्रदायिक बना दिया।
🔹26 मई को अलीगढ़ के टप्पल थाना क्षेत्र के नूरपुर गांव में अनुसूचित जाति के एक व्यक्ति के बेटे की बारात निकल रही थी बारात पूरे गाजे-बाजे के साथ थी जब यह बारात एक मस्जिद के सामने पहुंची तो मुस्लिम समाज के कुछ लोगों ने बारात को मस्जिद के सामने से जल्दी ले जाने या बैंड बाजा बंद कर लेने का अनुरोध किया इस जरा सी बात पर बाराती हत्थे से उखड़ गए।इसी तकरार में बारातियों और स्थानीय लोगों में हाथापाई हो गई। बस इसी बात को लेकर हिंदू समुदाय के लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर पूरे मामले को सांप्रदायिक एंगल दे दिया और इस तरह मुसलमानों को गुंडा और खुद को पीड़ित बनाकर विक्टिम कार्ड खेल रहे हैं।
🔹 28 मई को रामपुर के कस्बा टांडा मोहल्ला टंडोला में कैरम बोर्ड खेलने को लेकर कुछ मुस्लिम और गैर मुस्लिम युवाओं में झगड़ा हो गया पुलिस ने शांतिभंग में 3 लोगों का चालान कर दिया मगर हिंदू समुदाय के लोग इतने पर भी संतुष्ट नहीं हुए और उन्होंने कुछ कट्टरपंथी संगठनों के बहकावे में आकर अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' का बोर्ड लगा दिया इस तरह एक मामूली से मामले को हिंदू-मुस्लिम का सांप्रदायिक रंग दे दिया गया अब यह लोग मीडिया के सामने आकर मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों का रोना रोकर खुद को पीड़ित और मुसलमानों को अत्याचारी साबित करने की कोशिश कर रहे हैं।
मौजूदा दोनों मामलात में अनुसूचित और दलित जाति के लोग शामिल हैं जो खुशी-खुशी उन कट्टरपंथियों के हाथों में खेल रहे हैं जिन्होंने आज तक उन्हें समानता का अधिकार तक नहीं दिया अफसोस की बात यह है कि अभी तक कोई दलित संगठन आगे नहीं आया है दलित समुदाय के जिम्मेदारों को चाहिए कि वह आगे आकर लोगों को समझाएं ताकि सामाजिक न्याय की मुहिम कमजोर ना पड़े।
*वास्तविकता क्या है?*
जिन इलाकों में मुसलमानों की संख्या 20 फीसद से कम होती है वहां के मुसलमान पूरी तरह से बहुसंख्यक के रहमो करम पर होते हैं। बहुसंख्यकों की मर्जी के बगैर वह मदरसा बना सकते हैं न मस्जिद, और तो और उन्हें कुर्बानी करने की इजाजत भी नहीं होती कुर्बानी करने के लिए उन्हें दूसरे गांव जाना पड़ता है। आबादी का अनुपात अगर दस प्रतिशत से नीचे आ जाए तब तो मुसलमान अपने घर में किसी तरह की मजहबी महफिल भी नहीं कर पाते है और ना ही अपनी मर्जी से गोश्त पका सकते हैं।
हां जिन इलाकों में मुसलमानों की आबादी 30 फीसद या उससे ऊपर होती है वहां मुसलमान जरूर कुछ हद तक इस्लामी सभ्यता के हिसाब से अपना जीवन गुजारते हैं। इसलिए अब कट्टरपंथी संगठन उन इलाकों के खिलाफ 'मकान बिकाऊ है' जैसे षडयंत्र रच रहे हैं। हालांकि अभी तक इस सारे मामलात गलत साबित हुए हैं कोई एक मामला भी सही साबित नहीं हो सका इसके बावजूद कट्टरपंथी पूरे देश में यह खेल खेल रहे हैं। इसके पीछे दो मुख्य कारण हैं:
ग़ुलाम मुस्तफा नईमी
रौशन मुस्तक़बिल दिल्ली
आजकल मुसलमानों को परेशान करने के लिए "मकान बिकाऊ है" का फार्मूला बड़ा कारगर नुस्खा बन गया है जिस इलाके़ में मुसलमानों को परेशान करना हो वहां के ग़ैर मुस्लिम अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिख कर बैठ जाते हैं। बाकी का काम गोदी मीडिया कर देता है इसके बाद शासन और प्रशासन मिलकर इस तरह शिकंजा कसते हैं कि मुसलमान खुद अपना घर बार बेचने पर मजबूर हो जाते हैं।
__'मकान बिकाऊ है' प्रोपगंडे और षड्यंत्र की शुरुआत 2016 में कैराना जिला शामली यूपी से हुई थी। उस वक्त बीजेपी लीडर 'हुकुम सिंह' वहां के एमपी हुआ करते थे। उन्होंने प्रेस कॉन्फ्रेंस करके यह इल्जाम लगाया था कि मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों की वजह से हिंदू समाज के लोग अपना घर मकान बेचना चाहते हैं। हालांकि पुलिस, मीडिया और मानवाधिकार आयोग की तहकीकात और तफ्तीश में यह आरोप ग़लत साबित हुआ। इस मुद्दे की आड़ भाजपा चुनावी फायदा उठाना चाहती थी मगर इलेक्शन में हार जाने की वजह से बीजेपी ने भी इस मुद्दे को ठंडे बस्ते में डाल दिया।
_कैराना में भले ही यह मुद्दा नाकाम हो गया मगर कट्टरपंथियों के हाथ एक कारगर नुस्खा लग चुका था। कैराना के बाद शामली बंगाल के आसनसोल, डायमंड हार्बर, हरियाणा के मेवात और दिल्ली के सीलमपुर में भी यही दास्तान दोहराई गई और तो और पिछले साल मेरठ के एक मोहल्ले प्रहलादनगर में भी यही प्रोपगंडा किया गया हालांकि किसी एक जगह भी यह इल्जाम सच साबित नहीं हो सका। लेकिन उसके बावजूद कट्टरपंथी संगठन अभी भी अपनी हरकतों से बाज नहीं आ रहे हैं। ताजा मामला अलीगढ़ के नूरपुर और रामपुर के टांडा का है जहां मामूली बातों का बतंगड़ बनाते हुए कुछ लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर मामले को सांप्रदायिक बना दिया।
🔹26 मई को अलीगढ़ के टप्पल थाना क्षेत्र के नूरपुर गांव में अनुसूचित जाति के एक व्यक्ति के बेटे की बारात निकल रही थी बारात पूरे गाजे-बाजे के साथ थी जब यह बारात एक मस्जिद के सामने पहुंची तो मुस्लिम समाज के कुछ लोगों ने बारात को मस्जिद के सामने से जल्दी ले जाने या बैंड बाजा बंद कर लेने का अनुरोध किया इस जरा सी बात पर बाराती हत्थे से उखड़ गए।इसी तकरार में बारातियों और स्थानीय लोगों में हाथापाई हो गई। बस इसी बात को लेकर हिंदू समुदाय के लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर पूरे मामले को सांप्रदायिक एंगल दे दिया और इस तरह मुसलमानों को गुंडा और खुद को पीड़ित बनाकर विक्टिम कार्ड खेल रहे हैं।
🔹 28 मई को रामपुर के कस्बा टांडा मोहल्ला टंडोला में कैरम बोर्ड खेलने को लेकर कुछ मुस्लिम और गैर मुस्लिम युवाओं में झगड़ा हो गया पुलिस ने शांतिभंग में 3 लोगों का चालान कर दिया मगर हिंदू समुदाय के लोग इतने पर भी संतुष्ट नहीं हुए और उन्होंने कुछ कट्टरपंथी संगठनों के बहकावे में आकर अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' का बोर्ड लगा दिया इस तरह एक मामूली से मामले को हिंदू-मुस्लिम का सांप्रदायिक रंग दे दिया गया अब यह लोग मीडिया के सामने आकर मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों का रोना रोकर खुद को पीड़ित और मुसलमानों को अत्याचारी साबित करने की कोशिश कर रहे हैं।
मौजूदा दोनों मामलात में अनुसूचित और दलित जाति के लोग शामिल हैं जो खुशी-खुशी उन कट्टरपंथियों के हाथों में खेल रहे हैं जिन्होंने आज तक उन्हें समानता का अधिकार तक नहीं दिया अफसोस की बात यह है कि अभी तक कोई दलित संगठन आगे नहीं आया है दलित समुदाय के जिम्मेदारों को चाहिए कि वह आगे आकर लोगों को समझाएं ताकि सामाजिक न्याय की मुहिम कमजोर ना पड़े।
*वास्तविकता क्या है?*
जिन इलाकों में मुसलमानों की संख्या 20 फीसद से कम होती है वहां के मुसलमान पूरी तरह से बहुसंख्यक के रहमो करम पर होते हैं। बहुसंख्यकों की मर्जी के बगैर वह मदरसा बना सकते हैं न मस्जिद, और तो और उन्हें कुर्बानी करने की इजाजत भी नहीं होती कुर्बानी करने के लिए उन्हें दूसरे गांव जाना पड़ता है। आबादी का अनुपात अगर दस प्रतिशत से नीचे आ जाए तब तो मुसलमान अपने घर में किसी तरह की मजहबी महफिल भी नहीं कर पाते है और ना ही अपनी मर्जी से गोश्त पका सकते हैं।
हां जिन इलाकों में मुसलमानों की आबादी 30 फीसद या उससे ऊपर होती है वहां मुसलमान जरूर कुछ हद तक इस्लामी सभ्यता के हिसाब से अपना जीवन गुजारते हैं। इसलिए अब कट्टरपंथी संगठन उन इलाकों के खिलाफ 'मकान बिकाऊ है' जैसे षडयंत्र रच रहे हैं। हालांकि अभी तक इस सारे मामलात गलत साबित हुए हैं कोई एक मामला भी सही साबित नहीं हो सका इसके बावजूद कट्टरपंथी पूरे देश में यह खेल खेल रहे हैं। इसके पीछे दो मुख्य कारण हैं:
1-मुस्लिम बहुसंख्यक इलाकों में मुसलमान राजनीतिक और आर्थिक तौर पर कुछ बेहतर पोजीशन में होते हैं इसलिए इसलिए कट्टरपंथी तत्व उन इलाकों में ऐसे इश्यूज उठाकर मुसलमानों को डाउन करना और अपनी पार्टियों में बड़ा नाम और पद हासिल करना चाहते हैं।
2- दूसरा अहम कारण वह मानसिकता है जो किसी भी इलाके में मुसलमानों को खुशहाल नहीं देख सकती। इसलिए मुस्लिम बहुसंख्यक आबादी और बस्तियां उनकी निगाहों में कांटों की तरह खटकती है। क्योंकि जहां मुसलमान अल्पसंख्यक हैं वहां तो वह बहुसंख्यक की मर्जी के बगैर मस्जिद मदरसा तक नहीं बना सकते लेकिन जिन इलाकों में मुसलमान ठीक-ठाक तादाद में है अब वहां भी 'मकान बिकाऊ है' जैसे प्रोपगंडे शुरू किए जा रहे हैं ताकि मुसलमानों को उन शहरों में भी चैन से ना रहने दिया जाए।
इस खेल में गोदी मीडिया कट्टरपंथियों का पूरा साथ देता है मीडिया की मानें तो ऐसा लगता है कि मुसलमान इस देश में इतने दबंग और ताक़तवर हैं जिनके सामने बहुसंख्यक समाज सांस लेने से भी डरता है। हालांकि यह बात अपने आप में किसी लतीफे से कम नहीं है क्योंकि शासन प्रशासन मीडिया और तमाम संस्थानों पर हिंदू समाज के लोगों का ही दबदबा और प्रभाव है। मुसलमान तो यहां अपने वजूद और दो वक्त की रोटी के लिए ही मेहनत मशक्कत कर रहे हैं।वो भला किसी को धमकाने या डराने की ताकत कहां से लाएंगे?
मगर मीडिया ने इस देश के लोगों के दिलो दिमाग पर इस तरह कब्जा कर लिया है वह सोचने समझने की क्षमता खो चुके हैं। वरना वह इतनी सी बात नहीं समझ पाते कि मुसलमान इस देश में सिर्फ 15 फीसद हैं, आर्थिक शैक्षिक और राजनीतिक ऐतबार से मुल्क की सबसे पिछड़ी हुई कौम हैं, आटे में नमक के बराबर हैं। जिस समुदाय की गिनती आटे में नमक के बराबर हो वह भला बहुसंख्यक समाज को किस तरह डरा सकता है? मगर जब अपनी अक्ल दूसरों के कब्जे में हो तो इंसान कुछ भी समझ सकता है ऐसा ही इस देश के बहुसंख्यक समाज के साथ हो रहा है। मीडिया के कहने से दिन को रात और रात को दिन समझ रहे हैं और शांति भरे वातावरण में नफरत का ज़हर घोल कर देश को कमज़ोर कर रहे हैं।
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/4021860331264701/
2- दूसरा अहम कारण वह मानसिकता है जो किसी भी इलाके में मुसलमानों को खुशहाल नहीं देख सकती। इसलिए मुस्लिम बहुसंख्यक आबादी और बस्तियां उनकी निगाहों में कांटों की तरह खटकती है। क्योंकि जहां मुसलमान अल्पसंख्यक हैं वहां तो वह बहुसंख्यक की मर्जी के बगैर मस्जिद मदरसा तक नहीं बना सकते लेकिन जिन इलाकों में मुसलमान ठीक-ठाक तादाद में है अब वहां भी 'मकान बिकाऊ है' जैसे प्रोपगंडे शुरू किए जा रहे हैं ताकि मुसलमानों को उन शहरों में भी चैन से ना रहने दिया जाए।
इस खेल में गोदी मीडिया कट्टरपंथियों का पूरा साथ देता है मीडिया की मानें तो ऐसा लगता है कि मुसलमान इस देश में इतने दबंग और ताक़तवर हैं जिनके सामने बहुसंख्यक समाज सांस लेने से भी डरता है। हालांकि यह बात अपने आप में किसी लतीफे से कम नहीं है क्योंकि शासन प्रशासन मीडिया और तमाम संस्थानों पर हिंदू समाज के लोगों का ही दबदबा और प्रभाव है। मुसलमान तो यहां अपने वजूद और दो वक्त की रोटी के लिए ही मेहनत मशक्कत कर रहे हैं।वो भला किसी को धमकाने या डराने की ताकत कहां से लाएंगे?
मगर मीडिया ने इस देश के लोगों के दिलो दिमाग पर इस तरह कब्जा कर लिया है वह सोचने समझने की क्षमता खो चुके हैं। वरना वह इतनी सी बात नहीं समझ पाते कि मुसलमान इस देश में सिर्फ 15 फीसद हैं, आर्थिक शैक्षिक और राजनीतिक ऐतबार से मुल्क की सबसे पिछड़ी हुई कौम हैं, आटे में नमक के बराबर हैं। जिस समुदाय की गिनती आटे में नमक के बराबर हो वह भला बहुसंख्यक समाज को किस तरह डरा सकता है? मगर जब अपनी अक्ल दूसरों के कब्जे में हो तो इंसान कुछ भी समझ सकता है ऐसा ही इस देश के बहुसंख्यक समाज के साथ हो रहा है। मीडिया के कहने से दिन को रात और रात को दिन समझ रहे हैं और शांति भरे वातावरण में नफरत का ज़हर घोल कर देश को कमज़ोर कर रहे हैं।
https://www.facebook.com/100003223204679/posts/4021860331264701/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت و توانائی حاصل کر لیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے۔(فتاوی رضویہ،جلد 24،ص 424)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
جسم کے حق میں کبھی کبھی ہلکا بخار، زکام، دردِ سر اور ان کے مثل ہلکے امراض بَلا نہیں نعمت ہیں بلکہ ان کا نہ ہونا بَلا ہے مردانِ خدا پر اگر چالیس دن گزریں کہ کوئی عِلّت وقِلّت نہ پہنچے (یعنی بیماری وپریشانی نہ آئے )تو اِستغفار واِنابت فرماتے ہیں (یعنی توبہ کرتے اوررجوع لاتے ہیں)کہ مَبادا باگ ڈھیلی نہ کردی گئی ہو(یعنی خدانخواستہ توجہ نہ ہٹالی گئی ہو)۔(احسن الوعا)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
جس نے قصداً (یعنی جان بوجھ کر) ایک وقت کی (نماز) چھوڑی ہزاروں برس جہنَّم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے۔(فتاوی رضویہ،ج9 ص،158)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
بلا شبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اور بوسئہ قبر(یعنی قبر کے چومنے)میں علماء کو اختلاف ہے اور احوط (یعنی زیادہ مناسب) منع ہے خصوصاً مزارات طیبہ اولیاءِ کرام کہ ہمارے علما نے تصریح فرمائی کہ کم ازکم چارہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو یہی ادب ہے پھر تقبیل (یعنی چومنا) کیونکر متصوَّر ہے۔(فتاوی رضویہ،جلد 22،ص 382)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
عمداً ظاد یا دَاد دونوں حرام (یعنی دونوں طرح پڑھنا حرام ہے)،جو قصد (یعنی ارادہ)کرے کہ بجائے ''ض'' ''ظ'' یا ''د'' پڑھوں گا اس کی نماز کبھی تام(یعنی مکمل) فاتحہ تک بھی نہ پہنچے گی،''مغدوب ومغظوب''کہتے ہی بلا شبہ فاسد وباطل ہو جائے گی۔
(فتاوی رضویہ،جلد 6،ص 322)
(فتاوی رضویہ،جلد 6،ص 322)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
اَئمہ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ احکامِ شریعت حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سپرد ہیں،جو بات چاہیں واجب کر دیں جو چاہیں ناجائز کر دیں،جس چیز یا جس شخص کو جس حکم سے چاہیں مستثنیٰ فرمادیں۔(جلد 30،ص 518)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام)کرے اس کا ثواب اوّلین وآخِرین احیاء واموات (یعنی سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر تاقیامت ہونے والے)تمام مؤمنین ومؤمنات کے لیے ہدیہ بھیجے (یعنی اِیصالِ ثواب کرے)،سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے(یعنی جس نے اِیصالِ ثواب کیا) اُن سب کے برابر اجر ملے گا۔
(فتاوی رضویہ،جلد 9،ص 617)
(فتاوی رضویہ،جلد 9،ص 617)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
امواتِ مسلمین (یعنی مرحومین) کے نام پر کھانا پکا کر اِیصالِ ثواب کے لئے تَصَدُّق(یعنی خیرات)کرنا بِلا شُبہ جائز ومُسْتَحْسَن(یعنی پسندیدہ)ہے اور اس پر فاتحہ سے اِیصالِ ثواب دوسرا مُسْتَحْسَن (یعنی پسندیدہ)ہے اور دوچیزوں کا جمع کرنا زِیادتِ خیر(یعنی بھلائی میں اضافہ)ہے۔(فتاوی رضویہ،جلد 9،ص 595)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
اتنی تجوید (سیکھنا) کہ ہر حرف دوسرے حرف سے صحیح ممتاز ہو فرض عین ہے۔بغیر اس کے نماز قطعا باطل ہے۔
(فتاوی رضویہ)
(فتاوی رضویہ)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*اے جان وفا! یہ ظلم نہ کر*
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی
یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے
اکبر الہ آبادی کا یہ شعر ان کے زمانے کی سیاسی صورت حال کی عکاسی تو کرتا ہی ہے - موجودہ سیاسی حالات کی بھی منظر کشی خوب کرتا ہے - ان لیڈروں کا ارتقائی سفر نہ جانے کب اختتام کو پہنچے گا - لیڈران وطن کا جو ارتقائی سفر دیکھنے میں آرہا ہے اس کا تصور تو ڈارون کی تھیوری میں تھا ہی نہیں - اس تصور کو تو اکبر الہ آبادی جیسے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں - 1921 میں فانی دنیا سے جانے والے اس شاعر کو 2021 میں مکمل ایک صدی ہوگئ ہے اور ہم ان کے اس ارتقائی تصور کو اپنی آنکھوں سے اب بھی دیکھ رہے ہیں -
حال ہی میں کانگریس کے قد آور لیڈر جتن پرساد ارتقائی سفر کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں- اہم بات یہ ہے کہ جتن بھی ان 23 رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سونیا گاندھی کو گذشتہ سال کانگریس صدر کے عہدے سے متعلق خط لکھ کر پارٹی کو ارتقائی منزلیں طے کرنے کے متعلق کچھ مشورے دیے تھے ۔ جتن پرساد یوپی کانگریس میں ایک بڑی ذمہ داری چاہتے تھے ، لیکن انہیں پارٹی میں نظرانداز کیا جارہا تھا۔ جتن پرساد کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے بہت قریبی سمجھے جاتے تھے۔ آخر آدمی کی فطرت میں ہی جب ارتقا مضمر ہو تو پھر کچھ کہنا ہی بے کار ہے -
*وہ لیڈر جو ارتقا کی تلاش میں سرگرداں دکھے -*
11 مارچ 2020 کو کانگریس میں خاص مقام رکھنے والے مدھیہ پردیش کے جیوتی رادتیہ سندھیا بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اور پھر مدھیہ پردیش میں کھلتے کمل کے ارتقائی سفر میں کانگریس کا چھوٹا سا ہاتھ چُھپ کر رہ گیا - گذشتہ 6 سالوں میں کانگریس کے قریب 150 بڑے لیڈر ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے دوسری پارٹیوں میں شامل ہوے ہیں - اس قدر لیڈران کا پارٹی چھوڑنا، پارٹی اور پارٹی کے رہنماؤں کے مابین دوری، عدم اعتماد اور کمیونیکیشن فیل ہونے کا نتیجہ یا پھر پارٹی صدر کا ارتقا سے موہ بھنگ کا سبب ہی کہا جا سکتا ہے - بہر صورت کانگریس کا نقصان ہے لیکن یہ سياسی لوگ کانگریس کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں -
ریتا بہوگنا جوشی: 24 سال کانگریس میں رہنے کے بعد 2016 میں بی جے پی میں شامل ہو گئیں تھیں ۔ انہوں نے 2017 میں یوپی اسمبلی انتخابات میں لکھنؤ کینٹ سے الیکشن لڑا۔ ریتا نے ملائم سنگھ یادو کی چھوٹی بہو اپرنا یادو کو شکست دے کر یہاں سے کامیابی حاصل کی۔
ہیمنت بسوا سرما:
2015 میں کانگریس چھوڑنے والے ہمنت بسوا سرما آج آسام کے وزیر اعلی ہیں- ارتقائی عمل کا سب سے زیادہ فائدہ انھیں ہی ہوا ہے - اس لیڈر کا قد راہل گاندھی نہ سمجھ سکے - پارٹی چھوڑتے ہوے ہیمنت بسوا سرما نے جو بیان دیا تھا وہ بہت کچھ کہتا ہے - سرما نے کہا تھا " راہل گاندھی نے مجھے وقت نہیں دیا، کانگریس میں دیش کے لیے کام کرنے کا جذبہ ہو یا نہ ہو لیکن پارٹی صدر راہل گاندھی یا گاندھی فیملی کے لیے آپ کی وفا داری ضروری ہے اور ہاں! آپ کو ان کے سکیورٹی گارڈز اور کتے سے بھی وفا داری ثابت کرنا پڑے گی"- یہ بیان کانگریس کا رویہ دکھاتا ہے کہ اسے اپنی لیڈر شپ کی کتنی فکر ہے - چاہے غلام نبی آزاد ہوں یا کپل سبل سب کو گاندھی فیملی یا صدر پر سوال اٹھانا مہنگا پڑتا ہے -
چودھری بیرندر سنگھ
کانگریس چھوڑ کر 2014 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پہلے دور میں ، انہیں اسٹیل وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
رادھا کرشن ویکھے پاٹل: مہاراشٹر میں ، کانگریس کے تجربہ کار لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے کانگریس چھوڑ کر گذشتہ سال بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پاٹیل استعفیٰ دینے کے وقت ہی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔
نارائن رانے:
مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے تجربہ کار لیڈر ، نارائن رانے گذشتہ سال بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ کانگریس چھوڑنے کے بعد ، رانے بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔
ایس ایم کرشنا: سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کانگریس چھوڑ کر 2017 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔
*بنگال میں قریب 60 بڑے لیڈر ممتا سے دور ہوے*
حال ہی پانچ صوبوں میں ہونے والے الیکشن میں بھی ہم نے دیکھا کہ سیکولر پارٹیوں کے وہ لیڈر جو سالوں سے سیکولر ازم کا چولا اوڑھے وہے تھے، بی جے پی میں چلے گئے، پورے ملک میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جس کے لیڈروں نے اپنی پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا ہو - یہ چیز سب سے زیادہ پہلے یوپی پھر بنگال میں دیکھنے کو ملی، اور جلد ہی یہ کھیل یوپی میں بڑے پیمانے پر دوبارہ شروع ہوگا، جس کی شروعات جتن پرساد سے ہو چکی ہے - بنگال میں تو ایم ایل اے، ایم پی اور پارٹی کی شناخت مانے جانے والے لیڈر بھی ممتا کا ساتھ چھوڑ گئے تھے -
*مُکل رائے کی گھر واپسی*
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی
یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے
اکبر الہ آبادی کا یہ شعر ان کے زمانے کی سیاسی صورت حال کی عکاسی تو کرتا ہی ہے - موجودہ سیاسی حالات کی بھی منظر کشی خوب کرتا ہے - ان لیڈروں کا ارتقائی سفر نہ جانے کب اختتام کو پہنچے گا - لیڈران وطن کا جو ارتقائی سفر دیکھنے میں آرہا ہے اس کا تصور تو ڈارون کی تھیوری میں تھا ہی نہیں - اس تصور کو تو اکبر الہ آبادی جیسے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں - 1921 میں فانی دنیا سے جانے والے اس شاعر کو 2021 میں مکمل ایک صدی ہوگئ ہے اور ہم ان کے اس ارتقائی تصور کو اپنی آنکھوں سے اب بھی دیکھ رہے ہیں -
حال ہی میں کانگریس کے قد آور لیڈر جتن پرساد ارتقائی سفر کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں- اہم بات یہ ہے کہ جتن بھی ان 23 رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سونیا گاندھی کو گذشتہ سال کانگریس صدر کے عہدے سے متعلق خط لکھ کر پارٹی کو ارتقائی منزلیں طے کرنے کے متعلق کچھ مشورے دیے تھے ۔ جتن پرساد یوپی کانگریس میں ایک بڑی ذمہ داری چاہتے تھے ، لیکن انہیں پارٹی میں نظرانداز کیا جارہا تھا۔ جتن پرساد کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے بہت قریبی سمجھے جاتے تھے۔ آخر آدمی کی فطرت میں ہی جب ارتقا مضمر ہو تو پھر کچھ کہنا ہی بے کار ہے -
*وہ لیڈر جو ارتقا کی تلاش میں سرگرداں دکھے -*
11 مارچ 2020 کو کانگریس میں خاص مقام رکھنے والے مدھیہ پردیش کے جیوتی رادتیہ سندھیا بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اور پھر مدھیہ پردیش میں کھلتے کمل کے ارتقائی سفر میں کانگریس کا چھوٹا سا ہاتھ چُھپ کر رہ گیا - گذشتہ 6 سالوں میں کانگریس کے قریب 150 بڑے لیڈر ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے دوسری پارٹیوں میں شامل ہوے ہیں - اس قدر لیڈران کا پارٹی چھوڑنا، پارٹی اور پارٹی کے رہنماؤں کے مابین دوری، عدم اعتماد اور کمیونیکیشن فیل ہونے کا نتیجہ یا پھر پارٹی صدر کا ارتقا سے موہ بھنگ کا سبب ہی کہا جا سکتا ہے - بہر صورت کانگریس کا نقصان ہے لیکن یہ سياسی لوگ کانگریس کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں -
ریتا بہوگنا جوشی: 24 سال کانگریس میں رہنے کے بعد 2016 میں بی جے پی میں شامل ہو گئیں تھیں ۔ انہوں نے 2017 میں یوپی اسمبلی انتخابات میں لکھنؤ کینٹ سے الیکشن لڑا۔ ریتا نے ملائم سنگھ یادو کی چھوٹی بہو اپرنا یادو کو شکست دے کر یہاں سے کامیابی حاصل کی۔
ہیمنت بسوا سرما:
2015 میں کانگریس چھوڑنے والے ہمنت بسوا سرما آج آسام کے وزیر اعلی ہیں- ارتقائی عمل کا سب سے زیادہ فائدہ انھیں ہی ہوا ہے - اس لیڈر کا قد راہل گاندھی نہ سمجھ سکے - پارٹی چھوڑتے ہوے ہیمنت بسوا سرما نے جو بیان دیا تھا وہ بہت کچھ کہتا ہے - سرما نے کہا تھا " راہل گاندھی نے مجھے وقت نہیں دیا، کانگریس میں دیش کے لیے کام کرنے کا جذبہ ہو یا نہ ہو لیکن پارٹی صدر راہل گاندھی یا گاندھی فیملی کے لیے آپ کی وفا داری ضروری ہے اور ہاں! آپ کو ان کے سکیورٹی گارڈز اور کتے سے بھی وفا داری ثابت کرنا پڑے گی"- یہ بیان کانگریس کا رویہ دکھاتا ہے کہ اسے اپنی لیڈر شپ کی کتنی فکر ہے - چاہے غلام نبی آزاد ہوں یا کپل سبل سب کو گاندھی فیملی یا صدر پر سوال اٹھانا مہنگا پڑتا ہے -
چودھری بیرندر سنگھ
کانگریس چھوڑ کر 2014 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پہلے دور میں ، انہیں اسٹیل وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
رادھا کرشن ویکھے پاٹل: مہاراشٹر میں ، کانگریس کے تجربہ کار لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے کانگریس چھوڑ کر گذشتہ سال بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پاٹیل استعفیٰ دینے کے وقت ہی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔
نارائن رانے:
مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے تجربہ کار لیڈر ، نارائن رانے گذشتہ سال بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ کانگریس چھوڑنے کے بعد ، رانے بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔
ایس ایم کرشنا: سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کانگریس چھوڑ کر 2017 میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔
*بنگال میں قریب 60 بڑے لیڈر ممتا سے دور ہوے*
حال ہی پانچ صوبوں میں ہونے والے الیکشن میں بھی ہم نے دیکھا کہ سیکولر پارٹیوں کے وہ لیڈر جو سالوں سے سیکولر ازم کا چولا اوڑھے وہے تھے، بی جے پی میں چلے گئے، پورے ملک میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جس کے لیڈروں نے اپنی پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا ہو - یہ چیز سب سے زیادہ پہلے یوپی پھر بنگال میں دیکھنے کو ملی، اور جلد ہی یہ کھیل یوپی میں بڑے پیمانے پر دوبارہ شروع ہوگا، جس کی شروعات جتن پرساد سے ہو چکی ہے - بنگال میں تو ایم ایل اے، ایم پی اور پارٹی کی شناخت مانے جانے والے لیڈر بھی ممتا کا ساتھ چھوڑ گئے تھے -
*مُکل رائے کی گھر واپسی*
بنگال میں بی جے پی کا بڑا چہرا رہے مکل رائے وہی لیڈر ہیں جو سب سے پہلے ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی میں گئے اور پھر پارٹی چھوڑنے والوں کا تانتا بندھ گیا - بی جے پی کو کراری شکست ہوئی ایسے میں بنگال کے لیڈروں نے گھر واپسی شروع کردی ہے کیوں کہ وہ" تالاب میں رہ کر مگرمچھ سے بیر" نہیں رکھنا چاہتے- خبریں تو یہاں تک ہیں کہ جلد ہی بنگال بی جے پی، ٹی ایم سی میں تبدیل ہو جائے گی - ممتا کی تعریف کے بعد مکل رائے سے خود پردھان منتری نے بات کی لیکن مکل رائے دیدی کو اچھی طرح جانتے ہیں اور وزیراعظم کے خلاف ان کا رویہ دیکھ کر بی جے پی میں رہنے کی ہمت نہیں جٹا سکے - 11 جون 2021 کو گھر واپسی ہی میں عافیت سمجھی - اتنی قلانچیں تو بندر بھی نہیں لگاتے ہوں گے جتنی ان سیاسی رہنماؤں نے پچھلے سالوں میں لگائی ہیں - اسی لیے اکبر الہ آبادی کہتے ہیں
یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوے -
*اس گھر واپسی میں ہمارے لئے کیا سبق ہے؟*
ہماری قوم بڑی جذباتی واقع ہوئی ہے - 74 سالوں میں یہ اپنے کسی لیڈر پر اعتماد نہیں کر سکی - جب بھی کوئی مسلم لیڈر یا پارٹی کھڑی ہوئی، اس پارٹی کی مخالفت کسی نے کی ہو یا نہ کی ہو لیکن ہماری قوم نے اپنا فرض ضرور ادا کیا - ہزاروں فسادات، لاکھوں اموات، اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنے کے بعد بھی سیکولر ازم کے پیچھے آج بھی ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے انھیں بھانگ پلادی گئی ہو -
____جب سندھیا، مکل رائے، ریتا بہوگنا جوشی جیسے بڑے لیڈر اپنی فکر، آئیڈیا لوجی (وچار دھارا) کو پس پشت ڈال کر شدت پسندوں کا ہاتھ تھام کر انھیں کی بولی بولتے نظر آتے ہیں تب ہماری آنکھیں تھوڑی دیر کے لیے کھلتی ہیں، لیکن ہم بس اسے نارمل ہی دیکھتے ہیں نہ حیرت ہوتی ہے اور نہ دکھ - پھر یہی لیڈر ہمارے خلاف غلط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہم تھوڑا بہت کوس کر اپنے آپ کو تسلی دے کر بیٹھ جاتے ہیں - پھر یہی لیڈر جب ہارتے ہیں تو پھر نام نہاد سیکولر پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ایسی مشین میں دھلائی کرتی ہیں کہ چند لمحوں میں پھر وہ کمینول، سیکولر بن جاتا ہے اور ہم اسے معاف کردیتے ہیں -
____لیکن ہمارا لیڈر زندگی بھر شدت پسندوں کی مخالفت کرتا ہے، قوم کو آگاہ کرتا ہے، انھیں حق کی طرف بلاتا ہے، ان کے لیے آواز بلند کرتا ہے، پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک عوامی مقامات سے لے کر ٹی وی ڈبیٹ تک ہماری ہی بات کرتا ہے، ہمارا دفاع کرتا ہے، لیکن افسوس صد افسوس! ہماری قوم اسے ایجنٹ ثابت ہی نہیں کرتی بل کہ تسلیم بھی کرتی ہے اور بڑھ چڑھ کر اس کی مخالفت بھی کرتی ہے - جتنا اعتماد ہم نے لالو، ملائم، نیتیش، شرد پوار، ممتا بنرجی، راہل گاندھی پر دکھایا ہے اگر اس سے آدھا اعتماد بھی اپنی قیادت پر کیا ہوتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی -
ایسے میں یہ شعر یاد آتا ہے-
اپنوں پہ ستم غیروں پہ کرم
اے جان وفا یہ ظلم نہ کر
13 /6/2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/932192434017942/
یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوے -
*اس گھر واپسی میں ہمارے لئے کیا سبق ہے؟*
ہماری قوم بڑی جذباتی واقع ہوئی ہے - 74 سالوں میں یہ اپنے کسی لیڈر پر اعتماد نہیں کر سکی - جب بھی کوئی مسلم لیڈر یا پارٹی کھڑی ہوئی، اس پارٹی کی مخالفت کسی نے کی ہو یا نہ کی ہو لیکن ہماری قوم نے اپنا فرض ضرور ادا کیا - ہزاروں فسادات، لاکھوں اموات، اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنے کے بعد بھی سیکولر ازم کے پیچھے آج بھی ایسے بھاگ رہے ہیں جیسے انھیں بھانگ پلادی گئی ہو -
____جب سندھیا، مکل رائے، ریتا بہوگنا جوشی جیسے بڑے لیڈر اپنی فکر، آئیڈیا لوجی (وچار دھارا) کو پس پشت ڈال کر شدت پسندوں کا ہاتھ تھام کر انھیں کی بولی بولتے نظر آتے ہیں تب ہماری آنکھیں تھوڑی دیر کے لیے کھلتی ہیں، لیکن ہم بس اسے نارمل ہی دیکھتے ہیں نہ حیرت ہوتی ہے اور نہ دکھ - پھر یہی لیڈر ہمارے خلاف غلط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہم تھوڑا بہت کوس کر اپنے آپ کو تسلی دے کر بیٹھ جاتے ہیں - پھر یہی لیڈر جب ہارتے ہیں تو پھر نام نہاد سیکولر پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ایسی مشین میں دھلائی کرتی ہیں کہ چند لمحوں میں پھر وہ کمینول، سیکولر بن جاتا ہے اور ہم اسے معاف کردیتے ہیں -
____لیکن ہمارا لیڈر زندگی بھر شدت پسندوں کی مخالفت کرتا ہے، قوم کو آگاہ کرتا ہے، انھیں حق کی طرف بلاتا ہے، ان کے لیے آواز بلند کرتا ہے، پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک عوامی مقامات سے لے کر ٹی وی ڈبیٹ تک ہماری ہی بات کرتا ہے، ہمارا دفاع کرتا ہے، لیکن افسوس صد افسوس! ہماری قوم اسے ایجنٹ ثابت ہی نہیں کرتی بل کہ تسلیم بھی کرتی ہے اور بڑھ چڑھ کر اس کی مخالفت بھی کرتی ہے - جتنا اعتماد ہم نے لالو، ملائم، نیتیش، شرد پوار، ممتا بنرجی، راہل گاندھی پر دکھایا ہے اگر اس سے آدھا اعتماد بھی اپنی قیادت پر کیا ہوتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی -
ایسے میں یہ شعر یاد آتا ہے-
اپنوں پہ ستم غیروں پہ کرم
اے جان وفا یہ ظلم نہ کر
13 /6/2021
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/932192434017942/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM