🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
الفاظ کا گونجنا تھا کہ والد کی آنکھوں کے چمکتے آنسو اور آنسوؤں میں پنہاں عزم ویقین کی وہ چمک بھی یاد آگئی۔جس قربانی کا والد نے ذکر کیا تھا آج اسی قربانی کا وقت تھا۔اس یاد کا آنا تھا کہ سارا درد دل میں ہی روک لیا۔بہتے ہوئے آنسوؤں کو ضبط کیا اور قلم اٹھا کر درد دل کو لفظوں کا لباس پہنا دیا:

کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل

ہائے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل

کون جانے رازِ محبوب و محبـ
کیوں لیا جاتا، دیا جاتا ہے دل

جاں بحق تسلیم ہو جانا ترا
یاد کر کے میرا بھر آتا ہے دل

ان اشعار کے ساتھ ہی درد سے بے چین دل کو سکون ملا اور اس جوان نے نہایت صبر واطمینان کے ساتھ والد گرامی کے رفع درجات کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرکے ایصال ثواب کیا۔دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت گھر واپس لوٹ جائیں مگر والد کی نصیحت، خاندان کی امیدیں، امانت اسلاف کا خیال اور ملت اسلامیہ کی خدمت کے جذبے نے دل کو اس قدر توانا کردیا تھا کہ درد دوا بن گیا۔سینے میں اٹھتی ہوئی درد کی لہریں وہیں دب کر رہ گئیں اور یہ جوان پھر سے حصول علم میں مصروف ہوگیا۔

یوں تو اب تک بھی نہایت جاں فشانی سے علمی منزلیں طے کی جارہی تھیں مگر والد کے وصال نے دل کی دنیا پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ شب وروز والد کے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔اب تو ایک ایک لمحہ علمی رفعتوں کے حصول میں گزر رہا تھا۔اس جوان کی شبانہ روز محنتیں ضائع نہ گئیں اور ٹھیک ایک سال کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب اس جوان نے اعلی نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے اہل خانہ اور وابستگان کی امیدوں کو پورا کیا۔

آپ جانتے ہیں علم وفضل کی بہاروں کی خاطر والد کی وفات کا غم اٹھانے والا یہ خوب رو جوان کون تھا؟؟

یہ جوان کوئی اور نہیں وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے جو اپنی علمی جاں گسلی اور قربانیوں کی بدولت عالم اسلام کے افق پر امام احمد رضا کی فقہی تجلیات کا آفتاب بن کر چمکے۔جن کے تصلب فی الدین کی وجہ سے کتنوں کے عقائد ونظریات درست ہوئے۔جن کی تقوی شعار زندگی نے گمراہوں کو راہ ہدایت عطا کی۔جو اپنے کریم کے ایسے گدا بن کر جئے جس کے آگے دنیا کی ہر چیز پارہ ناں کی طرح ہیچ تھی۔جنہوں نے ہواؤں کے خلاف عزم واستقامت کے چراغ روشن کئے۔جس کی روشنی میں آج بھی ملت اسلامیہ فلاح وظفر کا سفر طے کر رہی ہے۔جو اپنے آپ میں ایک انجمن اور میر قافلہ تھے۔جن کی فکری بلندی کے آگے ہمالہ کی بلندی بھی پست نظر آتی ہے۔جو امام احمد رضا کے تفقہ، حجۃ الاسلام کے اخلاص اور مفتی اعظم ہند کے تقوی وپرہیزگاری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔جن کا آستانہ آج بھی عشق رسالت کی درس گاہ بنا ہوا ہے۔جن کی لحد سے آج بھی یہ آواز آتی ہے:

داغ عشق نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغ لحد روشنی کے لیے

20 شوال المکرم 1442ھ
2 جون 2021 بروز بدھ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3998530173597717&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زیر نظر تصنیف " اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ " ڈاکٹر محمد احمد نعیمی صاحب کا دو جلدوں میں 1600 صفحات پر مشتمل پی ایچ ڈی مقالہ ہے-

جس کی پہلی جلد میں انہوں نے اسلام اور ہندو دھرم کا مختصر تعارف کروانے کے بعد بنیادی طور پر دونوں مذہب کے درمیان مماثلت و مغائرت کو بیان کیا ہے

مثلًا اسلام میں تصور توحید و شرک ، ہندو دھرم میں تصور توحید و شرک ، اسلام میں تصور رسالت ، ہندو دھرم میں تصور اوتار واد و ایش دوت ، اسلام کی مذہبی کتب ، ہندو دھرم کی مذھبی گرنتھ ، اسلام میں طریقۂ عبادت ، ہندو دھرم میں طریقۂ عبادت ، اسلام میں اخلاقی قدریں ، ہندو دھرم میں اخلاقی قدریں ، (جلد دوم ) اسلام میں تیوہار و رسومات ، ہندو دھرم میں تیوہار و رسومات ، اسلام میں رہن سہن غذا و خوراک ، ہندو دھرم میں رہن سہن غذا و خوراک ، اسلام میں عورت کی حیثیت ، ہندو دھرم میں عورت کی حیثیت ، اسلام میں نکاح و طلاق ، ہندو دھرم میں وِواہ و تیاگ ، اسلام میں حدود و تعزیرات ، ہندو دھرم میں دنڈ و سزا وغیرہ موضوعات کا احاطہ کر کے دلائل و براہین سے مزئین کر کے نہایت ہی عام فہم زبان میں سپرد قرطاس کیا ہے-

طالب دعا
محمد توصیف رضا
https://wa.me/919682473113
اسلام_اور_ہندو_دھرم_کا_تقابلی_مطالعہ❶محمد_احمد.pdf
34.8 MB
اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلہ مطالعہ
ڈاکٹر محمد احمد نعیمی صاحب

🆔 @Maslake_Aalaa_Hazrat
📇 کتب خانہ امجدیہ دہلی 📇
📇 الاشرف اکیڈمی نئی دہلی 📇
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#مکان_بکاؤ_ہے!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

چونکیے مت!
یہ مکان بیچنے کا اعلان نہیں بلکہ مسلمانوں کو پریشان کرنے کا نیا اور کارگر نسخہ ہے۔جس علاقے کے مسلمانوں کو پریشان کرنا ہوتا ہے وہاں کے غیر مسلم اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، باقی کا کام گودی میڈیا کر دیتا ہے۔اس کے بعد حکومت اور انتظامیہ مل کر اس علاقے کے مسلمانوں کا عرصہ حیات اتنا تنگ کر دیتے ہیں کہ مسلمان خود ہی اپنا گھر مکان بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس طرح بیٹھے بٹھائے مسلمانوں کو سبق بھی سکھا دیا جاتا ہے اور شکایت کنندہ غیر مسلم مظلوم کے مظلوم بھی بنے رہتے ہیں۔

___مسلمانوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" پروپیگنڈے کی سیاسی اور منظم شروعات 2016 میں کیرانہ ضلع شاملی یوپی سے ہوئی تھی۔اچانک ہی کیرانہ کے کچھ غیر مسلموں نے اپنے گھروں پر 'مکان بکاؤ ہے' کے بورڈ لگا دیے۔اس وقت بی جے پی لیڈر 'حکم سنگھ' وہاں کے ایم پی ہوا کرتے تھے انہوں نے پریس کانفرنس کرکے یہ الزام لگایا کہ مسلمانوں کی دبنگئی اور خوف کی وجہ سے ہندو اپنے مکان بیچنا چاہتے ہیں۔اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے تے تین سو چھیالیس خاندانوں کی فہرست بھی جاری کی جو مسلمانوں کے خوف سے اپنا مکان بیچنا چاہتے ہیں یا بیچ کر چلے گئے ہیں۔حالانکہ پولیس،میڈیا اور ہیومین کمیشن کی تحقیق میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا اور الیکشن میں ہار کے بعد بی جے پی نے بھی یہ مدعا ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔

بھلے ہی کیرانہ میں یہ معاملہ ناکام ہوگیا مگر شرپسند عناصر کے ہاتھ ایک شان دار نسخہ لگ گیا تھا۔کیرانہ کے بعد شاملی، بنگال کے آسن سول اور ڈائمنڈ ہاربر، ہریانہ کے میوات اور سیلم پور دہلی میں بھی یہی داؤں آزمایا گیا۔اس پر بس نہیں چلا تو پچھلے سال میرٹھ کے ایک محلے میں یہی پروپیگنڈہ کیا گیا۔حالانکہ کسی ایک جگہ بھی یہ بات صحیح ثابت نہ ہوسکی مگر شرپسند ابھی تک باز نہیں آئے تازہ معاملہ علی گڑھ کے نور پور گاؤں اور رامپور کے قصبہ ٹانڈہ کا ہے جہاں معمولی باتوں کا بتنگڑ بناتے ہوئے "مکان بکاؤ ہے" کے بورڈ لگا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

___چھبیس مئی 2021 کو علی گڑھ کے نور پور گاؤں میں غیر مسلموں کی ایک بارات گاجے باجے کے ساتھ نکل رہی تھی۔جب یہ بارات مسجد کے سامنے پہنچی تو کچھ مسلمانوں نے ان سے جلدی آگے نکل جانے یا بینڈ باجا بند کرنے کی گزارش کی۔اس معقول سی بات پر باراتی بگڑ گئے۔بحث وتکرار کے بعد باراتیوں اور مقامی لوگوں میں ہاتھاپائی ہوگئی۔بس اسی بات کو لیکر غیر مسلموں نے اپنے مکانوں کے باہر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر مسلمانوں کو غنڈہ اور خود کو مظلوم بنا لیا۔

__اٹھائیس مئی رامپور کے قصبہ ٹانڈہ میں کیرم کھیلنے کو لیکر کچھ مسلم اور غیر مسلم لڑکوں میں جھگڑا ہوگیا تھا۔پولیس نے اس معاملے میں تین لوگوں کا چالان بھی کردیا تھا۔مگر غیر مسلم اتنے پر مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ دیا اور اب میڈیا کے سامنے مسلمانوں کی دبنگئی اور اپنی مظلومیت کے قصے سنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خوف سے اس قدر پریشان ہیں کہ اپنا مکان بیچ کر یہاں سے دور چلے جانا چاہتے ہیں۔

حالیہ دونوں معاملات میں درج فہرست ذات (SC) کے لوگ شامل ہیں۔جو بہ خوشی ان شرپسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جنہوں نے آج تک انہیں برابری کا حق نہیں دیا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کوئی دلت تنظیم اس معاملے پر آگے نہیں آئی ہے۔دلت لیڈران کو چاہیے کہ وہ آگے آکر اپنی قوم کو شرپسندوں کی کٹھ پتلی بننے سے بچائیں تاکہ سماجی انصاف کی مہم کمزور نہ پڑے۔

پروپگنڈے کی حقیقت

جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد بیس فیصد سے کم ہوتی ہے وہاں کے مسلمان اکثریت کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ان کی مرضی کے بغیر مسجد بنا سکتے ہیں نہ مدرسہ۔حتی کہ عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی تک نہیں کر سکتے۔قربانی کے لیے انہیں دوسرے گاؤں جانا پڑتا ہے۔آبادی کا تناسب اگر دس فیصد کے آس پاس یا کم ہو تب تو مسلمان اپنے گھر میں نہ مذہبی محفل کر سکتا ہے اور نہ ہی بڑے جانور کا گوشت پکا سکتا ہے۔
ہاں! جن علاقوں میں مسلم آبادی تیس فیصد یا زائد ہوتی ہے وہاں مسلمان قدرے آزادی سے اسلامی معاشرت کے ساتھ رہتے ہیں۔اس لیے اب ان علاقوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" جیسے پروپیگنڈے شروع کیے گیے ہیں۔حالانکہ ایسے تمام معاملات تحقیقات کے بعد غلط ہی ثابت ہوئے ہیں۔ابھی تک ایک بھی معاملہ ثابت نہیں ہوسکا۔اس کے باوجود پورے ملک میں شر پسند عناصر اور موقع پرست سیاسی لیڈر یہ کھیل مزے کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو اس کے پیچھے دو بنیادی باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
1- مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاست ومعیشت میں مسلمان قدرے مضبوط نظر آتے ہیں اس لیے شرپسند عناصر ایسے ایشوز اٹھا کر انہیں تجارتی نقصان پہنچانا اور اپنی پارٹیوں میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
2- دوسری اہم وجہ وہ ذہنیت ہے جو کسی جگہ بھی مسلمان کو چین وسکون سے دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔اس لیے مسلم اکثریتی بستیاں ان کی نظروں میں کھٹکتی ہیں۔کیوں کہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں تو انہیں مسجد/مدرسہ بنانے اور قربانی تک کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اب اکثریتی بستیوں میں بھی مسلمانوں کے مفروضہ ظلم وستم کی آڑ لیکر وہاں بھی اپنا دبدبہ اور تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔مکان بیچنے کا پروپیگنڈہ اسی سازش کا تازہ ہتھیار ہے۔

اس کھیل میں میڈیا شر پسند عناصر کا بھرپور ساتھ دیتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کرتا ہے۔میڈیا کی مانیں تو ایسا لگتا ہے کہ مسلمان اس قدر دبنگ اور طاقت ور ہیں جن کے خوف سے غیر مسلم سانس لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔حالانکہ اسے ایک لطیفہ ہی کہا جائے گا کہ کیوں کہ حکومت، انتظامیہ ،میڈیا اور تمام تر وسائل پر غیر مسلموں کا ہی دبدبہ وتسلط ہے۔مسلمان تو یہاں اپنے وجود اور دو وقت کی روٹی کے لیے ہی جدوجہد کر رہے ہیں وہ بھلا کسی کو دھمکانے اور ڈرانے کی طاقت کہاں سے لائے گیں؟

میڈیا نے اس ملک کے لوگوں کے دل ودماغ پر ایسا قبضہ کیا ہے وہ اتنی معمولی بات نہیں سمجھ پاتے کہ مسلمان اس ملک میں محض پندرہ فیصد ہیں۔مالی، سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہیں۔جس قوم کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہو۔ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہو بھلا وہ یہاں کی حکمراں اور طاقت ور اکثریت کو کس طرح ڈرا دھمکا سکتی ہے؟
مگر جب عقل غیروں کے قبضے میں ہو تو اسے کچھ بھی سمجھایا/سکھایا جاسکتا ہے۔ایسا ہی آج کل میڈیا کر رہا ہے اور مسلم دشمنی میں لوگ دن کو رات اور رات کو دن کہے جارہے ہیں۔

27 شوال المکرم 1442ھ
9 جون 2021 بروز بدھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/929946890909163/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#मकान_बिकाऊ_है!!

ग़ुलाम मुस्तफा नईमी
रौशन मुस्तक़बिल दिल्ली

आजकल मुसलमानों को परेशान करने के लिए "मकान बिकाऊ है" का फार्मूला बड़ा कारगर नुस्खा बन गया है जिस इलाके़ में मुसलमानों को परेशान करना हो वहां के ग़ैर मुस्लिम अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिख कर बैठ जाते हैं। बाकी का काम गोदी मीडिया कर देता है इसके बाद शासन और प्रशासन मिलकर इस तरह शिकंजा कसते हैं कि मुसलमान खुद अपना घर बार बेचने पर मजबूर हो जाते हैं।

__'मकान बिकाऊ है' प्रोपगंडे और षड्यंत्र की शुरुआत 2016 में कैराना जिला शामली यूपी से हुई थी। उस वक्त बीजेपी लीडर 'हुकुम सिंह' वहां के एमपी हुआ करते थे। उन्होंने प्रेस कॉन्फ्रेंस करके यह इल्जाम लगाया था कि मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों की वजह से हिंदू समाज के लोग अपना घर मकान बेचना चाहते हैं। हालांकि पुलिस, मीडिया और मानवाधिकार आयोग की तहकीकात और तफ्तीश में यह आरोप ग़लत साबित हुआ। इस मुद्दे की आड़ भाजपा चुनावी फायदा उठाना चाहती थी मगर इलेक्शन में हार जाने की वजह से बीजेपी ने भी इस मुद्दे को ठंडे बस्ते में डाल दिया।

_कैराना में भले ही यह मुद्दा नाकाम हो गया मगर कट्टरपंथियों के हाथ एक कारगर नुस्खा लग चुका था। कैराना के बाद शामली बंगाल के आसनसोल, डायमंड हार्बर, हरियाणा के मेवात और दिल्ली के सीलमपुर में भी यही दास्तान दोहराई गई और तो और पिछले साल मेरठ के एक मोहल्ले प्रहलादनगर में भी यही प्रोपगंडा किया गया हालांकि किसी एक जगह भी यह इल्जाम सच साबित नहीं हो सका। लेकिन उसके बावजूद कट्टरपंथी संगठन अभी भी अपनी हरकतों से बाज नहीं आ रहे हैं। ताजा मामला अलीगढ़ के नूरपुर और रामपुर के टांडा का है जहां मामूली बातों का बतंगड़ बनाते हुए कुछ लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर मामले को सांप्रदायिक बना दिया।

🔹26 मई को अलीगढ़ के टप्पल थाना क्षेत्र के नूरपुर गांव में अनुसूचित जाति के एक व्यक्ति के बेटे की बारात निकल रही थी बारात पूरे गाजे-बाजे के साथ थी जब यह बारात एक मस्जिद के सामने पहुंची तो मुस्लिम समाज के कुछ लोगों ने बारात को मस्जिद के सामने से जल्दी ले जाने या बैंड बाजा बंद कर लेने का अनुरोध किया इस जरा सी बात पर बाराती हत्थे से उखड़ गए।इसी तकरार में बारातियों और स्थानीय लोगों में हाथापाई हो गई। बस इसी बात को लेकर हिंदू समुदाय के लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर पूरे मामले को सांप्रदायिक एंगल दे दिया और इस तरह मुसलमानों को गुंडा और खुद को पीड़ित बनाकर विक्टिम कार्ड खेल रहे हैं।

🔹 28 मई को रामपुर के कस्बा टांडा मोहल्ला टंडोला में कैरम बोर्ड खेलने को लेकर कुछ मुस्लिम और गैर मुस्लिम युवाओं में झगड़ा हो गया पुलिस ने शांतिभंग में 3 लोगों का चालान कर दिया मगर हिंदू समुदाय के लोग इतने पर भी संतुष्ट नहीं हुए और उन्होंने कुछ कट्टरपंथी संगठनों के बहकावे में आकर अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' का बोर्ड लगा दिया इस तरह एक मामूली से मामले को हिंदू-मुस्लिम का सांप्रदायिक रंग दे दिया गया अब यह लोग मीडिया के सामने आकर मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों का रोना रोकर खुद को पीड़ित और मुसलमानों को अत्याचारी साबित करने की कोशिश कर रहे हैं।

मौजूदा दोनों मामलात में अनुसूचित और दलित जाति के लोग शामिल हैं जो खुशी-खुशी उन कट्टरपंथियों के हाथों में खेल रहे हैं जिन्होंने आज तक उन्हें समानता का अधिकार तक नहीं दिया अफसोस की बात यह है कि अभी तक कोई दलित संगठन आगे नहीं आया है दलित समुदाय के जिम्मेदारों को चाहिए कि वह आगे आकर लोगों को समझाएं ताकि सामाजिक न्याय की मुहिम कमजोर ना पड़े।

*वास्तविकता क्या है?*

जिन इलाकों में मुसलमानों की संख्या 20 फीसद से कम होती है वहां के मुसलमान पूरी तरह से बहुसंख्यक के रहमो करम पर होते हैं। बहुसंख्यकों की मर्जी के बगैर वह मदरसा बना सकते हैं न मस्जिद, और तो और उन्हें कुर्बानी करने की इजाजत भी नहीं होती कुर्बानी करने के लिए उन्हें दूसरे गांव जाना पड़ता है। आबादी का अनुपात अगर दस प्रतिशत से नीचे आ जाए तब तो मुसलमान अपने घर में किसी तरह की मजहबी महफिल भी नहीं कर पाते है और ना ही अपनी मर्जी से गोश्त पका सकते हैं।

हां जिन इलाकों में मुसलमानों की आबादी 30 फीसद या उससे ऊपर होती है वहां मुसलमान जरूर कुछ हद तक इस्लामी सभ्यता के हिसाब से अपना जीवन गुजारते हैं। इसलिए अब कट्टरपंथी संगठन उन इलाकों के खिलाफ 'मकान बिकाऊ है' जैसे षडयंत्र रच रहे हैं। हालांकि अभी तक इस सारे मामलात गलत साबित हुए हैं कोई एक मामला भी सही साबित नहीं हो सका इसके बावजूद कट्टरपंथी पूरे देश में यह खेल खेल रहे हैं। इसके पीछे दो मुख्य कारण हैं:
1-मुस्लिम बहुसंख्यक इलाकों में मुसलमान राजनीतिक और आर्थिक तौर पर कुछ बेहतर पोजीशन में होते हैं इसलिए इसलिए कट्टरपंथी तत्व उन इलाकों में ऐसे इश्यूज उठाकर मुसलमानों को डाउन करना और अपनी पार्टियों में बड़ा नाम और पद हासिल करना चाहते हैं।

2- दूसरा अहम कारण वह मानसिकता है जो किसी भी इलाके में मुसलमानों को खुशहाल नहीं देख सकती। इसलिए मुस्लिम बहुसंख्यक आबादी और बस्तियां उनकी निगाहों में कांटों की तरह खटकती है। क्योंकि जहां मुसलमान अल्पसंख्यक हैं वहां तो वह बहुसंख्यक की मर्जी के बगैर मस्जिद मदरसा तक नहीं बना सकते लेकिन जिन इलाकों में मुसलमान ठीक-ठाक तादाद में है अब वहां भी 'मकान बिकाऊ है' जैसे प्रोपगंडे शुरू किए जा रहे हैं ताकि मुसलमानों को उन शहरों में भी चैन से ना रहने दिया जाए।

इस खेल में गोदी मीडिया कट्टरपंथियों का पूरा साथ देता है मीडिया की मानें तो ऐसा लगता है कि मुसलमान इस देश में इतने दबंग और ताक़तवर हैं जिनके सामने बहुसंख्यक समाज सांस लेने से भी डरता है। हालांकि यह बात अपने आप में किसी लतीफे से कम नहीं है क्योंकि शासन प्रशासन मीडिया और तमाम संस्थानों पर हिंदू समाज के लोगों का ही दबदबा और प्रभाव है। मुसलमान तो यहां अपने वजूद और दो वक्त की रोटी के लिए ही मेहनत मशक्कत कर रहे हैं।वो भला किसी को धमकाने या डराने की ताकत कहां से लाएंगे?
मगर मीडिया ने इस देश के लोगों के दिलो दिमाग पर इस तरह कब्जा कर लिया है वह सोचने समझने की क्षमता खो चुके हैं। वरना वह इतनी सी बात नहीं समझ पाते कि मुसलमान इस देश में सिर्फ 15 फीसद हैं, आर्थिक शैक्षिक और राजनीतिक ऐतबार से मुल्क की सबसे पिछड़ी हुई कौम हैं, आटे में नमक के बराबर हैं। जिस समुदाय की गिनती आटे में नमक के बराबर हो वह भला बहुसंख्यक समाज को किस तरह डरा सकता है? मगर जब अपनी अक्ल दूसरों के कब्जे में हो तो इंसान कुछ भी समझ सकता है ऐसा ही इस देश के बहुसंख्यक समाज के साथ हो रहा है। मीडिया के कहने से दिन को रात और रात को दिन समझ रहे हैं और शांति भरे वातावरण में नफरत का ज़हर घोल कर देश को कमज़ोर कर रहे हैं।

https://www.facebook.com/100003223204679/posts/4021860331264701/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت و توانائی حاصل کر لیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے۔(فتاوی رضویہ،جلد 24،ص 424)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
جسم کے حق میں کبھی کبھی ہلکا بخار، زکام، دردِ سر اور ان کے مثل ہلکے امراض بَلا نہیں نعمت ہیں بلکہ ان کا نہ ہونا بَلا ہے مردانِ خدا پر اگر چالیس دن گزریں کہ کوئی عِلّت وقِلّت نہ پہنچے (یعنی بیماری وپریشانی نہ آئے )تو اِستغفار واِنابت فرماتے ہیں (یعنی توبہ کرتے اوررجوع لاتے ہیں)کہ مَبادا باگ ڈھیلی نہ کردی گئی ہو(یعنی خدانخواستہ توجہ نہ ہٹالی گئی ہو)۔(احسن الوعا)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
جس نے قصداً (یعنی جان بوجھ کر) ایک وقت کی (نماز) چھوڑی ہزاروں برس جہنَّم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے۔(فتاوی رضویہ،ج9 ص،158)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
بلا شبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اور بوسئہ قبر(یعنی قبر کے چومنے)میں علماء کو اختلاف ہے اور احوط (یعنی زیادہ مناسب) منع ہے خصوصاً مزارات طیبہ اولیاءِ کرام کہ ہمارے علما نے تصریح فرمائی کہ کم ازکم چارہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو یہی ادب ہے پھر تقبیل (یعنی چومنا) کیونکر متصوَّر ہے۔(فتاوی رضویہ،جلد 22،ص 382)
Forwarded from سید کامران عطاری مدنی
عمداً ظاد یا دَاد دونوں حرام (یعنی دونوں طرح پڑھنا حرام ہے)،جو قصد (یعنی ارادہ)کرے کہ بجائے ''ض'' ''ظ'' یا ''د'' پڑھوں گا اس کی نماز کبھی تام(یعنی مکمل) فاتحہ تک بھی نہ پہنچے گی،''مغدوب ومغظوب''کہتے ہی بلا شبہ فاسد وباطل ہو جائے گی۔
(فتاوی رضویہ،جلد 6،ص 322)