🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4011104619006939&id=100003223204679

*बहुविवाह और भारतीय धर्म-संस्कृति*

ग़ुलाम मुस्तफा नईमी
दिल्ली

इसे प्रोपगंडे का प्रभाव कहें या अपनी ही धार्मिक शिक्षाओं को न जानने का नुकसान कि इस देश के अधिकांश लोग इस्लाम और मुसलमानों से उन चीजों की वजह से नफरत करने लगे हैं जो उनकी अपनी संस्कृति और सभ्यता का महत्वपूर्ण हिस्सा रहे हैं। इन्हीं महत्वपूर्ण मुद्दों में बहुविवाह भी शामिल है। बहुविवाह का अर्थ है एक से अधिक विवाह, जिसे अंग्रेजी में polygamy कहा जाता है।

कुछ शातिर लोगों ने मुसलमानों को बदनाम करने के लिए "हम दो हमारे पच्चीस" और "हम चार हमारे चालीस" जैसे अपमानजनक नारे भी गढ़े। टीवी मीडिया और सिनेमा के जरिए लोगों के मन में यह प्रोपगंडा बिठा दिया कि बहुविवाह एक सामाजिक बुराई और आवारगी का काम है।

हम भारतीय धर्म पुराणों और इतिहास के संदर्भ में साबित करेंगे कि बहुविवाह भारत में मौजूद धर्मों और संस्कृतियों का प्रमुख हिस्सा रहा है।

📍सनातन धर्म के अनुसार, ब्रह्मा ने इस ब्रह्मांड को बनाया है। ऋषि व्यास के अनुसार, ब्रह्मा चार मुख वाले भगवान हैं और वे चारों दिशाओं में देखते हैं। ब्रह्माजी की तीन पत्नियां थीं।
1-सावित्री- 2-गायत्री- 3-सरस्वती।

सरस्वती पुराण और मत्स्य पुराण के अनुसार सरस्वती ब्रह्मा की पुत्री थी, जिस से ब्रह्मा ने विवाह कर लिया था।सौ वर्षों तक दोनों पति पत्नी की तरह जंगल में रहे। इस विवाह से उन्हें स्यंवभु मनु नाम का पुत्र हुआ।
(श्याम बाबू शर्मा Quora.com)

हालांकि, कुछ लोग इस की व्याख्या इस प्रकार करते हैं कि सरस्वती नाम की दो महिलाएं थीं, एक ब्रह्मा की पत्नी थी और दूसरी ब्रह्मा की बेटी थी। एक जैसे नाम के कारण, बेटी पत्नी के तौर पर प्रसिद्ध हो गई।

एक कथा के अनुसार ब्रह्मा जी की पांच पत्नियां थीं। उपरोक्त तीन पत्नियों के अलावा, मेधा और श्रद्धा नाम की दो अन्य पत्नियां भी थीं। इन पत्नियों से ब्रह्मा जी के लगभग डेढ़ दर्जन पुत्र पैदा हुए।

📍आर्य धर्म के भगवान विष्णु की पत्नी लक्ष्मी थीं, लेकिन विष्णु जी के सानिध्य में सौ से अधिक अप्सरायें भी रहती थीं। इन सभी से उनके सौ से अधिक पुत्र हुए।

📍 विष्णु के अवतार श्री कृष्ण बहुविवाह के मामले में अपना उदाहरण नहीं रखते। महाभारत के अनुसार, उनकी सोलह हजार एक सौ आठ पत्नियां थीं, जिनमें सब से प्रसिद्ध रुक्मणी थी। बाकी सोलह हजार आठ सौ सात कन्याऐं भूमासुर के किले में कैद थीं। कृष्ण ने उनकी दुर्दशा और चीख पुकार सुनी तो भूमासुर को मार डाला। जब ये लड़कियां अपने घर पहुंची, तो उनके परिवारों को लड़कियों के चरित्र पर संदेह हुआ। जिस के कारण उन्हें अपनाने से मना कर दिया।जब कृष्ण को पता चला तो उन्होंने इन युवतियों से शादी कर ली।
(महाभारत: अध्याय ५२/पृष्ठ १६२६)

लेखक सुमित कुमार 20 अगस्त 2019 को प्रकाशित 'आज तक' न्यूज़ ऐप पर एक लेख में लिखते हैं:
"पुराणों के अनुसार, कृष्ण के एक लाख इकसठ हजार अस्सी पुत्र और सोलह हजार एक सौ आठ बेटियां थीं। इस प्रकार कृष्ण भारत के सबसे बड़े परिवार के मुखिया बन गए। उन्होंने अपने घरेलू जीवन के सभी कर्तव्यों का निर्वाहन किया।"

📍 सनातन धर्म के भगवान शिव भी कई पत्नियों के पति थे।धर्म शास्त्रों के अनुसार, उनकी चार पत्नियां थीं:
1-सती-2-पार्वती-3-काली-4-उमा देवी।
एक अन्य पत्नी गंगा का भी नाम भी कथाओं में आता है।

पुराणों के अनुसार, शिव के सात पुत्र थे:
1-कार्तिकेय 2-गणेश 3-सुकेश 4-भौम 5-अयप्पा
6-जालंधर 7-अंधक।

शिव जी की पाँच बेटियाँ भी थीं नाम इस प्रकार हैं:
1-जया 2-विषहर 3-शामिल बारी 4-देव
5-दोतली।

इसी तरह,शिव भी चार पत्नियों के पति और एक दर्जन बच्चों के पिता थे।
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیا_اور_بہکتے_نوجوان

غلام مصطفےٰ نعیمی Ghulam Mustafa Naimi
روشن مستقبل دہلی

جب سے سوشل میڈیا پر شارٹ ویڈیو ایپ کا چلن شروع ہوا تو ہمارے آس پاس ایکٹروں، مسخروں، ڈانسروں اور نقالوں کی بڑی فوج تیار ہوگئی ہے۔اب اس فوج بلا خیز میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی شامل ہوگئی ہیں۔

پہلے پہل ان ویڈیو ایپ کو لوگ محض سستی تفریح کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس لیے اس کا چلن زیادہ نہیں تھا۔مگر ویڈیو کے ذریعے پیسہ کمانے کا آپشن معلوم ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان ایپوں پر شہر تو شہر دور افتادہ گاؤں دیہات کے لڑکے لڑکیوں نے بھی وہ طوفان اٹھایا کہ اللہ کی پناہ!
کھیتوں، کارخانوں میں کام کرنے والے، اینٹ بھٹوں پر مٹی گارا بنانے والے، رکشہ پٹری چلانے والے اور پس ماندہ گھرانوں کے لڑکے بھی خرمستیاں کرنے میں شہری چھوکروں سے کسی طور پر کم نہیں ہیں۔

کہاوت ہے ہے جب طوفان آتا ہے تو پہلے ہلکی ہلکی لہریں آتی ہیں۔آہستہ آہستہ کوڑا کرکٹ بہتا ہوا آتا ہے۔ اس کے بعد سیلاب آتا ہے تو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ایسا ہی معاملہ ان ایپ کے آنے کے بعد ہوا۔شروعاتی دور میں چند نِٹھلّے لڑکے ہی مسخری اور نوٹنکی کرتے پھرتے تھے مگر جیسے جیسے لہریں تیز ہوئیں سیلاب کی شدت بڑھتی گئی۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ گاؤں دیہات اور شریف گھرانوں کی لڑکیاں بھی چوری چھپے ویڈیو بنا بنا کر اپلوڈ کرنے لگیں۔

سوشل میڈیا ایک نشہ ہے جسے لگ جائے وہ ہر وقت اس کے خمار میں رہتا ہے۔اگر اس نشے میں پیسہ کمانے کا جنون بھی مل جائے تو نشہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ایسا ہی یوٹیوبر اور شارٹ ویڈیو بنانے والوں کے ساتھ ہورہا ہے۔اب انہیں محض ویڈیو بنانے پر تسلی نہیں ہوتی جب تک اس پر بڑی تعداد میں لائک ( Like) اور سبسکرائبر (Subscribers) نہ ملیں۔کیوں انہیں کی بنیاد پر ایپ کمپنیاں اور یوٹیوب پیسہ دیتا ہے۔اس لیے دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے ہر جتن کیا جاتا ہے۔
اسی خمار کا اثر ہے کہ شریف گھرانوں کی لڑکیاں تک فحش انداز میں ڈانسنگ ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر رہی ہیں اور لڑکے مکمل طور فلمی ایکٹروں کی طرح گالی گلوچ اور ہر طرح کی خرافات کو اپنا چکے ہیں۔کیوں کہ اس فیلڈ میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔لگاتار ویڈیو اپلوڈ ہورہے ہیں تو دیکھنے والوں کا ٹیسٹ بھی Better than best کی ڈیمانڈ کرنے لگا ہے۔اس لیے نئے سے نیا content اور presentation بہت اہم ہوگیا۔ٹی وی اور سنیما ایک انڈسٹری کے طور پر قائم ہیں۔جہاں ایک ایک سین کے لیے درجنوں ماہرین کی محنت وصلاحیت لگتی ہے تب کہیں جاکر ایک اچھا سین تیار ہوتا ہے۔مگر گلی محلوں میں شارٹ ویڈیو بنانے والے لڑکے لڑکیاں بمشکل دو چار کی ٹولیوں میں ہی ہوتے ہیں۔اور کچھ خاص پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے۔اس لیے لڑکے آہستہ آہستہ پھوہڑ باتوں اور گالی گلوچ کرنے پر اتر آئے ہیں جب کہ لڑکیاں فحش باتوں اور شہوت انگیز ڈانس پر اتر آئیں ہیں۔اگر وقت رہتے اس طوفان کی روک تھام نہ کی گئی تو خدا جانے انجام کیا ہوگا؟

کیسے ہو روک تھام؟

ارادے مضبوط ہوں تو ہر برائی کی روک تھام ممکن ہے۔مگر پریشانی جتنی بڑی ہوتی ہے محنت بھی اتنا ہی کرنا پڑتی ہے۔چونکہ سوشل میڈیا کی پہنچ اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس پر پابندی لگانا تو کسی کے لیے ممکن نہیں رہ گیا ہے لیکن اگر مضبوط قوت ارادی سے کام کیا جائے تو ہم کافی حد ان مسائل کی روک تھام کر سکتے ہیں۔اس مہم میں والدین، اساتذہ، ائمہ اور سماجی طور پر ذمہ دار ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔چند اہم نکات حاضر ہیں:
🔹 بچوں کو چپ کرانے یا ہنسنے ہنسانے کے لیے فلمی گانوں وغیرہ کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔بگاڑ کی شروعات ہمیشہ ایسے ہی ہوتی ہے۔
🔹 جس عمر میں بچے الفاظ سمجھنے لگیں اس وقت بھول کر بھی بچوں کے سامنے گالی گلوچ نہ کی جائے۔
🔹 زمانہ شناس اور سنجیدہ افراد کی ایسی ٹیم تیار کی جائے جو ان ایپ کو تعمیری کاموں میں استعمال کرنے کی تراکیب نکال سکیں اور نعم البدل تیار کر سکیں۔
🔹 مدارس واسکول میں کتابی فنون کے ساتھ ساتھ معاشرتی اخلاق وآداب لازمی سکھائے جائیں۔
🔹 اساتذہ خود اپنے طلبہ کے لیے رول ماڈل بنیں اور وقتاً فوقتاً ایسے موضوعات پر ماہرین کے خصوصی خطاب کرائے جائیں۔
🔹 ائمہ مساجد ایسے موضوعات پر اچھے اسلوب اور مہذب انداز میں روشنی ڈالیں تاکہ نوجوان نسل ان قباحتوں سے واقف اور متنفر ہو۔
🔹 ایسے موضوعات پر بازاری لب و لہجے اور غیر سنجیدہ انداز سے پرہیز کریں تاکہ فائدے کی جگہ نقصان نہ ہوجائے۔
🔹 سماجی طور منعقدہ مجلسوں میں گاہے گاہے ان امور پر بات چیت ہوتی رہے۔
🔹 والدین اپنے نوجوان بچے بچیوں پر خصوصی دھیان رکھیں۔انہیں بہکتا دیکھیں تو کمال حکمت کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔
🔹 ائمہ کرام اور سماجی ذمہ داران بھی ایسے مواقع پر اپنا مصلحانہ کردار ادا کریں تاکہ برائی کو پنپنے کا زیادہ موقع نہ مل سکے۔
اس کے علاوہ جو بھی مفید اور ضروری اقدامات ہو کئے جائیں تاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو روکا جاسکے اور اپنی جوانیوں کو بے مقصد اور غلط کاموں میں ضائع کرنے والے لڑکے لڑکیوں کو بے حیائی کے دلدل سے بچایا جاسکے۔

22 شوال المکرم 1442ھ
4 جون 2021 بروز جمعہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2838467276365014&id=100006053070670
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#علم_کا_شیدائی

غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

انیس سال کا بانکا سجیلا خوب رو جوان مروجہ علوم وفنون کی دستار سر پر سجائے اہل خانہ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔مگر آنکھوں میں علم کی تہوں تک جانے کا جذبہ رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ایک طرف زمانہ اس جوان کے علمی اٹھان اور فقہی شباب کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر رہا تھا مگر اس جوان کی طبیعت "ھل من مزید" کی طرف مائل تھی۔والد گرامی سے اپنے بیٹے کی یہ کیفیت پوشیدہ نہ تھی۔کچھ مخصوص احباب سے مشورہ کرنے کے بعد والد گرامی نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔

سنو شہزادے!

جی اباّ حضور!

جوان نے نہایت سعادت مندی سے والد گرامی کو جواب دیا اور بہ کمال نیاز مندی سر جھکا کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔

میرے لخت جگر!

آپ صرف میری ہی نہیں بلکہ اس عظیم خانوادے اور پوری جماعت کی امید ہو۔زمانہ ٹک ٹکی لگائے اُس شہزادے کا منتظر ہے جو اپنے اجداد کی علمی وراثت کا سچا جانشین ہو اور عالم اسلام کی علمی ودینی خدمات کا حق ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔

میرے چاند سے حسین بیٹے!

منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمی حاصل ہوتا ہے۔

جان پدر!

تمہاری آنکھوں میں مجھے وہ چمک نظر آتی ہے جس کے لیے تمہارے اجداد مشہور رہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ میں جاکر اکتساب علم کرو اور علم وفن کے نئے جہانوں کی تلاش کرو۔

حالانکہ میرا دل تمہاری جدائی کے خیال سے ہی بیٹھ جاتا ہے مگر اجداد کی امانت اور ملت اسلامیہ کی آرزوؤں کا خیال آتا ہے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔سوچتا ہوں کہ میرے دادا جان اور بابا کی روشن کی ہوئی علمی شمع کمزور نہ پڑ جائے اس لیے اس علمی چراغ میں تمہیں اپنی محنت ومشقت کا لہو ڈالنا ہے تاکہ اس کی لو تیز سے تیز تر ہو اور زمانہ اس کی روشنی میں صلاح وفلاح کا راستہ طے کر سکے!!

چند جملوں میں باپ نے پدرانہ شفقت، سوز وکرب ، ملی تڑپ ، غم امت، جدی امانت اور سینے میں اٹھ رہا سارا درد وکرب بیان کردیا۔کہتے ہوئے آنکھیں نم ہوگئیں مگر یہ آنسو صرف درد یا جدائی کا اظہاریہ نہیں تھے بلکہ آنسوؤں کی چمک اس عزم ویقین کا پتہ دے رہی تھی کہ عن قریب اُن کا شہزادہ علم وفضل کے اس مقام پر فائز ہوگا جس کی تمناؤں میں بڑے بڑے فرماں روا اور فلاسفر ناکام رہے۔

سعادت آثار بیٹے نے آگے بڑھ کر والد گرامی کو ہاتھوں کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور ادب کے ساتھ عرض کیا:
ابا جان!
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں تو کم ہے، جس نے وراثت نبوی کی پر نور وادیوں میں جانے کا ایک اور حسین موقع عطا کیا۔

اپنے مقدر پر نازاں ہوں کہ اجداد کی علمی وراثت کے لیے آپ کی زمانہ شناس نگاہوں نے میرا انتخاب کیا۔

آپ مطمئن رہیں میں طلب علم کی راہ میں ہر درد کو دوا اور ہر تکلیف کو راحت جان سمجھوں گا۔اکتساب علم کے اس سفر میں کیسی ہی پریشانیاں آئیں مگر آپ کا بیٹا عزم وحوصلے کی چٹان بن کر ثابت قدم رہے گا اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کے لیے اپنے تمام رنج و غم شربت شیریں کی طرح پی کر آپ کی تمناؤں کی تکمیل کرے گا۔

__جلد ہی پورے خاندان کی دعاؤں کا تحفہ لے کر یہ جوان عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ "جامعہ ازہر مصر" کے لیے روانہ ہوگیا۔

دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے رہے۔ابھی دو سال ہی کا سفر طے ہوا تھا کہ اچانک خبر ملی کہ عزیز از جان والد دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے۔

آہ!
دیار پردیس میں نازوں کا پالا لاڈلا شہزادہ اکیلا تھا۔واپس جاکر شفیق والد کی شفقتوں کو سمیٹنے اور ان کی محبتوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کی تمنا ہلورے مارتی تھی مگر آج اس خبر وحشت نے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کر ڈالا۔

سوچا تھا کہ جامعہ ازہر سے علمی رفعتوں کا تاج سجا کر والد گرامی کی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں گا مگر قسمت نے اتنا موقع ہی نہیں دیا اور جس مہربان باپ نے اپنی محبت واپنائیت کی چھاؤں میں رخصت کیا تھا آج وہی شجر سایہ دار رخصت ہوگیا۔

دل کا درد آنکھوں سے آنسو بن کر نکلنے لگا۔پورا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔رہ رہ والد کی شفقتیں یاد آتیں تو آنکھوں سے برستا ساون اور تیز ہوجاتا۔رنج وغم کی لہریں پورے وجود کو حصار میں لے چکی تھیں اچانک والد گرامی کے الفاظ کانوں میں گونجے:

"میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمیٰ حاصل ہوتا ہے۔"
الفاظ کا گونجنا تھا کہ والد کی آنکھوں کے چمکتے آنسو اور آنسوؤں میں پنہاں عزم ویقین کی وہ چمک بھی یاد آگئی۔جس قربانی کا والد نے ذکر کیا تھا آج اسی قربانی کا وقت تھا۔اس یاد کا آنا تھا کہ سارا درد دل میں ہی روک لیا۔بہتے ہوئے آنسوؤں کو ضبط کیا اور قلم اٹھا کر درد دل کو لفظوں کا لباس پہنا دیا:

کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل

ہائے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل

کون جانے رازِ محبوب و محبـ
کیوں لیا جاتا، دیا جاتا ہے دل

جاں بحق تسلیم ہو جانا ترا
یاد کر کے میرا بھر آتا ہے دل

ان اشعار کے ساتھ ہی درد سے بے چین دل کو سکون ملا اور اس جوان نے نہایت صبر واطمینان کے ساتھ والد گرامی کے رفع درجات کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرکے ایصال ثواب کیا۔دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت گھر واپس لوٹ جائیں مگر والد کی نصیحت، خاندان کی امیدیں، امانت اسلاف کا خیال اور ملت اسلامیہ کی خدمت کے جذبے نے دل کو اس قدر توانا کردیا تھا کہ درد دوا بن گیا۔سینے میں اٹھتی ہوئی درد کی لہریں وہیں دب کر رہ گئیں اور یہ جوان پھر سے حصول علم میں مصروف ہوگیا۔

یوں تو اب تک بھی نہایت جاں فشانی سے علمی منزلیں طے کی جارہی تھیں مگر والد کے وصال نے دل کی دنیا پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ شب وروز والد کے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔اب تو ایک ایک لمحہ علمی رفعتوں کے حصول میں گزر رہا تھا۔اس جوان کی شبانہ روز محنتیں ضائع نہ گئیں اور ٹھیک ایک سال کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب اس جوان نے اعلی نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے اہل خانہ اور وابستگان کی امیدوں کو پورا کیا۔

آپ جانتے ہیں علم وفضل کی بہاروں کی خاطر والد کی وفات کا غم اٹھانے والا یہ خوب رو جوان کون تھا؟؟

یہ جوان کوئی اور نہیں وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے جو اپنی علمی جاں گسلی اور قربانیوں کی بدولت عالم اسلام کے افق پر امام احمد رضا کی فقہی تجلیات کا آفتاب بن کر چمکے۔جن کے تصلب فی الدین کی وجہ سے کتنوں کے عقائد ونظریات درست ہوئے۔جن کی تقوی شعار زندگی نے گمراہوں کو راہ ہدایت عطا کی۔جو اپنے کریم کے ایسے گدا بن کر جئے جس کے آگے دنیا کی ہر چیز پارہ ناں کی طرح ہیچ تھی۔جنہوں نے ہواؤں کے خلاف عزم واستقامت کے چراغ روشن کئے۔جس کی روشنی میں آج بھی ملت اسلامیہ فلاح وظفر کا سفر طے کر رہی ہے۔جو اپنے آپ میں ایک انجمن اور میر قافلہ تھے۔جن کی فکری بلندی کے آگے ہمالہ کی بلندی بھی پست نظر آتی ہے۔جو امام احمد رضا کے تفقہ، حجۃ الاسلام کے اخلاص اور مفتی اعظم ہند کے تقوی وپرہیزگاری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔جن کا آستانہ آج بھی عشق رسالت کی درس گاہ بنا ہوا ہے۔جن کی لحد سے آج بھی یہ آواز آتی ہے:

داغ عشق نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغ لحد روشنی کے لیے

20 شوال المکرم 1442ھ
2 جون 2021 بروز بدھ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3998530173597717&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
زیر نظر تصنیف " اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ " ڈاکٹر محمد احمد نعیمی صاحب کا دو جلدوں میں 1600 صفحات پر مشتمل پی ایچ ڈی مقالہ ہے-

جس کی پہلی جلد میں انہوں نے اسلام اور ہندو دھرم کا مختصر تعارف کروانے کے بعد بنیادی طور پر دونوں مذہب کے درمیان مماثلت و مغائرت کو بیان کیا ہے

مثلًا اسلام میں تصور توحید و شرک ، ہندو دھرم میں تصور توحید و شرک ، اسلام میں تصور رسالت ، ہندو دھرم میں تصور اوتار واد و ایش دوت ، اسلام کی مذہبی کتب ، ہندو دھرم کی مذھبی گرنتھ ، اسلام میں طریقۂ عبادت ، ہندو دھرم میں طریقۂ عبادت ، اسلام میں اخلاقی قدریں ، ہندو دھرم میں اخلاقی قدریں ، (جلد دوم ) اسلام میں تیوہار و رسومات ، ہندو دھرم میں تیوہار و رسومات ، اسلام میں رہن سہن غذا و خوراک ، ہندو دھرم میں رہن سہن غذا و خوراک ، اسلام میں عورت کی حیثیت ، ہندو دھرم میں عورت کی حیثیت ، اسلام میں نکاح و طلاق ، ہندو دھرم میں وِواہ و تیاگ ، اسلام میں حدود و تعزیرات ، ہندو دھرم میں دنڈ و سزا وغیرہ موضوعات کا احاطہ کر کے دلائل و براہین سے مزئین کر کے نہایت ہی عام فہم زبان میں سپرد قرطاس کیا ہے-

طالب دعا
محمد توصیف رضا
https://wa.me/919682473113
اسلام_اور_ہندو_دھرم_کا_تقابلی_مطالعہ❶محمد_احمد.pdf
34.8 MB
اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلہ مطالعہ
ڈاکٹر محمد احمد نعیمی صاحب

🆔 @Maslake_Aalaa_Hazrat
📇 کتب خانہ امجدیہ دہلی 📇
📇 الاشرف اکیڈمی نئی دہلی 📇
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#مکان_بکاؤ_ہے!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

چونکیے مت!
یہ مکان بیچنے کا اعلان نہیں بلکہ مسلمانوں کو پریشان کرنے کا نیا اور کارگر نسخہ ہے۔جس علاقے کے مسلمانوں کو پریشان کرنا ہوتا ہے وہاں کے غیر مسلم اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، باقی کا کام گودی میڈیا کر دیتا ہے۔اس کے بعد حکومت اور انتظامیہ مل کر اس علاقے کے مسلمانوں کا عرصہ حیات اتنا تنگ کر دیتے ہیں کہ مسلمان خود ہی اپنا گھر مکان بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس طرح بیٹھے بٹھائے مسلمانوں کو سبق بھی سکھا دیا جاتا ہے اور شکایت کنندہ غیر مسلم مظلوم کے مظلوم بھی بنے رہتے ہیں۔

___مسلمانوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" پروپیگنڈے کی سیاسی اور منظم شروعات 2016 میں کیرانہ ضلع شاملی یوپی سے ہوئی تھی۔اچانک ہی کیرانہ کے کچھ غیر مسلموں نے اپنے گھروں پر 'مکان بکاؤ ہے' کے بورڈ لگا دیے۔اس وقت بی جے پی لیڈر 'حکم سنگھ' وہاں کے ایم پی ہوا کرتے تھے انہوں نے پریس کانفرنس کرکے یہ الزام لگایا کہ مسلمانوں کی دبنگئی اور خوف کی وجہ سے ہندو اپنے مکان بیچنا چاہتے ہیں۔اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے تے تین سو چھیالیس خاندانوں کی فہرست بھی جاری کی جو مسلمانوں کے خوف سے اپنا مکان بیچنا چاہتے ہیں یا بیچ کر چلے گئے ہیں۔حالانکہ پولیس،میڈیا اور ہیومین کمیشن کی تحقیق میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا اور الیکشن میں ہار کے بعد بی جے پی نے بھی یہ مدعا ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔

بھلے ہی کیرانہ میں یہ معاملہ ناکام ہوگیا مگر شرپسند عناصر کے ہاتھ ایک شان دار نسخہ لگ گیا تھا۔کیرانہ کے بعد شاملی، بنگال کے آسن سول اور ڈائمنڈ ہاربر، ہریانہ کے میوات اور سیلم پور دہلی میں بھی یہی داؤں آزمایا گیا۔اس پر بس نہیں چلا تو پچھلے سال میرٹھ کے ایک محلے میں یہی پروپیگنڈہ کیا گیا۔حالانکہ کسی ایک جگہ بھی یہ بات صحیح ثابت نہ ہوسکی مگر شرپسند ابھی تک باز نہیں آئے تازہ معاملہ علی گڑھ کے نور پور گاؤں اور رامپور کے قصبہ ٹانڈہ کا ہے جہاں معمولی باتوں کا بتنگڑ بناتے ہوئے "مکان بکاؤ ہے" کے بورڈ لگا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

___چھبیس مئی 2021 کو علی گڑھ کے نور پور گاؤں میں غیر مسلموں کی ایک بارات گاجے باجے کے ساتھ نکل رہی تھی۔جب یہ بارات مسجد کے سامنے پہنچی تو کچھ مسلمانوں نے ان سے جلدی آگے نکل جانے یا بینڈ باجا بند کرنے کی گزارش کی۔اس معقول سی بات پر باراتی بگڑ گئے۔بحث وتکرار کے بعد باراتیوں اور مقامی لوگوں میں ہاتھاپائی ہوگئی۔بس اسی بات کو لیکر غیر مسلموں نے اپنے مکانوں کے باہر "مکان بکاؤ ہے" لکھ کر مسلمانوں کو غنڈہ اور خود کو مظلوم بنا لیا۔

__اٹھائیس مئی رامپور کے قصبہ ٹانڈہ میں کیرم کھیلنے کو لیکر کچھ مسلم اور غیر مسلم لڑکوں میں جھگڑا ہوگیا تھا۔پولیس نے اس معاملے میں تین لوگوں کا چالان بھی کردیا تھا۔مگر غیر مسلم اتنے پر مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے اپنے گھروں پر "مکان بکاؤ ہے" لکھ دیا اور اب میڈیا کے سامنے مسلمانوں کی دبنگئی اور اپنی مظلومیت کے قصے سنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خوف سے اس قدر پریشان ہیں کہ اپنا مکان بیچ کر یہاں سے دور چلے جانا چاہتے ہیں۔

حالیہ دونوں معاملات میں درج فہرست ذات (SC) کے لوگ شامل ہیں۔جو بہ خوشی ان شرپسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جنہوں نے آج تک انہیں برابری کا حق نہیں دیا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کوئی دلت تنظیم اس معاملے پر آگے نہیں آئی ہے۔دلت لیڈران کو چاہیے کہ وہ آگے آکر اپنی قوم کو شرپسندوں کی کٹھ پتلی بننے سے بچائیں تاکہ سماجی انصاف کی مہم کمزور نہ پڑے۔

پروپگنڈے کی حقیقت

جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد بیس فیصد سے کم ہوتی ہے وہاں کے مسلمان اکثریت کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ان کی مرضی کے بغیر مسجد بنا سکتے ہیں نہ مدرسہ۔حتی کہ عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی تک نہیں کر سکتے۔قربانی کے لیے انہیں دوسرے گاؤں جانا پڑتا ہے۔آبادی کا تناسب اگر دس فیصد کے آس پاس یا کم ہو تب تو مسلمان اپنے گھر میں نہ مذہبی محفل کر سکتا ہے اور نہ ہی بڑے جانور کا گوشت پکا سکتا ہے۔
ہاں! جن علاقوں میں مسلم آبادی تیس فیصد یا زائد ہوتی ہے وہاں مسلمان قدرے آزادی سے اسلامی معاشرت کے ساتھ رہتے ہیں۔اس لیے اب ان علاقوں کے خلاف "مکان بکاؤ ہے" جیسے پروپیگنڈے شروع کیے گیے ہیں۔حالانکہ ایسے تمام معاملات تحقیقات کے بعد غلط ہی ثابت ہوئے ہیں۔ابھی تک ایک بھی معاملہ ثابت نہیں ہوسکا۔اس کے باوجود پورے ملک میں شر پسند عناصر اور موقع پرست سیاسی لیڈر یہ کھیل مزے کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو اس کے پیچھے دو بنیادی باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
1- مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاست ومعیشت میں مسلمان قدرے مضبوط نظر آتے ہیں اس لیے شرپسند عناصر ایسے ایشوز اٹھا کر انہیں تجارتی نقصان پہنچانا اور اپنی پارٹیوں میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
2- دوسری اہم وجہ وہ ذہنیت ہے جو کسی جگہ بھی مسلمان کو چین وسکون سے دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔اس لیے مسلم اکثریتی بستیاں ان کی نظروں میں کھٹکتی ہیں۔کیوں کہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں تو انہیں مسجد/مدرسہ بنانے اور قربانی تک کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اب اکثریتی بستیوں میں بھی مسلمانوں کے مفروضہ ظلم وستم کی آڑ لیکر وہاں بھی اپنا دبدبہ اور تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔مکان بیچنے کا پروپیگنڈہ اسی سازش کا تازہ ہتھیار ہے۔

اس کھیل میں میڈیا شر پسند عناصر کا بھرپور ساتھ دیتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کرتا ہے۔میڈیا کی مانیں تو ایسا لگتا ہے کہ مسلمان اس قدر دبنگ اور طاقت ور ہیں جن کے خوف سے غیر مسلم سانس لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔حالانکہ اسے ایک لطیفہ ہی کہا جائے گا کہ کیوں کہ حکومت، انتظامیہ ،میڈیا اور تمام تر وسائل پر غیر مسلموں کا ہی دبدبہ وتسلط ہے۔مسلمان تو یہاں اپنے وجود اور دو وقت کی روٹی کے لیے ہی جدوجہد کر رہے ہیں وہ بھلا کسی کو دھمکانے اور ڈرانے کی طاقت کہاں سے لائے گیں؟

میڈیا نے اس ملک کے لوگوں کے دل ودماغ پر ایسا قبضہ کیا ہے وہ اتنی معمولی بات نہیں سمجھ پاتے کہ مسلمان اس ملک میں محض پندرہ فیصد ہیں۔مالی، سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہیں۔جس قوم کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہو۔ملک کی سب سے پس ماندہ قوم ہو بھلا وہ یہاں کی حکمراں اور طاقت ور اکثریت کو کس طرح ڈرا دھمکا سکتی ہے؟
مگر جب عقل غیروں کے قبضے میں ہو تو اسے کچھ بھی سمجھایا/سکھایا جاسکتا ہے۔ایسا ہی آج کل میڈیا کر رہا ہے اور مسلم دشمنی میں لوگ دن کو رات اور رات کو دن کہے جارہے ہیں۔

27 شوال المکرم 1442ھ
9 جون 2021 بروز بدھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/929946890909163/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#मकान_बिकाऊ_है!!

ग़ुलाम मुस्तफा नईमी
रौशन मुस्तक़बिल दिल्ली

आजकल मुसलमानों को परेशान करने के लिए "मकान बिकाऊ है" का फार्मूला बड़ा कारगर नुस्खा बन गया है जिस इलाके़ में मुसलमानों को परेशान करना हो वहां के ग़ैर मुस्लिम अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिख कर बैठ जाते हैं। बाकी का काम गोदी मीडिया कर देता है इसके बाद शासन और प्रशासन मिलकर इस तरह शिकंजा कसते हैं कि मुसलमान खुद अपना घर बार बेचने पर मजबूर हो जाते हैं।

__'मकान बिकाऊ है' प्रोपगंडे और षड्यंत्र की शुरुआत 2016 में कैराना जिला शामली यूपी से हुई थी। उस वक्त बीजेपी लीडर 'हुकुम सिंह' वहां के एमपी हुआ करते थे। उन्होंने प्रेस कॉन्फ्रेंस करके यह इल्जाम लगाया था कि मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों की वजह से हिंदू समाज के लोग अपना घर मकान बेचना चाहते हैं। हालांकि पुलिस, मीडिया और मानवाधिकार आयोग की तहकीकात और तफ्तीश में यह आरोप ग़लत साबित हुआ। इस मुद्दे की आड़ भाजपा चुनावी फायदा उठाना चाहती थी मगर इलेक्शन में हार जाने की वजह से बीजेपी ने भी इस मुद्दे को ठंडे बस्ते में डाल दिया।

_कैराना में भले ही यह मुद्दा नाकाम हो गया मगर कट्टरपंथियों के हाथ एक कारगर नुस्खा लग चुका था। कैराना के बाद शामली बंगाल के आसनसोल, डायमंड हार्बर, हरियाणा के मेवात और दिल्ली के सीलमपुर में भी यही दास्तान दोहराई गई और तो और पिछले साल मेरठ के एक मोहल्ले प्रहलादनगर में भी यही प्रोपगंडा किया गया हालांकि किसी एक जगह भी यह इल्जाम सच साबित नहीं हो सका। लेकिन उसके बावजूद कट्टरपंथी संगठन अभी भी अपनी हरकतों से बाज नहीं आ रहे हैं। ताजा मामला अलीगढ़ के नूरपुर और रामपुर के टांडा का है जहां मामूली बातों का बतंगड़ बनाते हुए कुछ लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर मामले को सांप्रदायिक बना दिया।

🔹26 मई को अलीगढ़ के टप्पल थाना क्षेत्र के नूरपुर गांव में अनुसूचित जाति के एक व्यक्ति के बेटे की बारात निकल रही थी बारात पूरे गाजे-बाजे के साथ थी जब यह बारात एक मस्जिद के सामने पहुंची तो मुस्लिम समाज के कुछ लोगों ने बारात को मस्जिद के सामने से जल्दी ले जाने या बैंड बाजा बंद कर लेने का अनुरोध किया इस जरा सी बात पर बाराती हत्थे से उखड़ गए।इसी तकरार में बारातियों और स्थानीय लोगों में हाथापाई हो गई। बस इसी बात को लेकर हिंदू समुदाय के लोगों ने अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' लिखकर पूरे मामले को सांप्रदायिक एंगल दे दिया और इस तरह मुसलमानों को गुंडा और खुद को पीड़ित बनाकर विक्टिम कार्ड खेल रहे हैं।

🔹 28 मई को रामपुर के कस्बा टांडा मोहल्ला टंडोला में कैरम बोर्ड खेलने को लेकर कुछ मुस्लिम और गैर मुस्लिम युवाओं में झगड़ा हो गया पुलिस ने शांतिभंग में 3 लोगों का चालान कर दिया मगर हिंदू समुदाय के लोग इतने पर भी संतुष्ट नहीं हुए और उन्होंने कुछ कट्टरपंथी संगठनों के बहकावे में आकर अपने घरों पर 'मकान बिकाऊ है' का बोर्ड लगा दिया इस तरह एक मामूली से मामले को हिंदू-मुस्लिम का सांप्रदायिक रंग दे दिया गया अब यह लोग मीडिया के सामने आकर मुसलमानों की दबंगई और अत्याचारों का रोना रोकर खुद को पीड़ित और मुसलमानों को अत्याचारी साबित करने की कोशिश कर रहे हैं।

मौजूदा दोनों मामलात में अनुसूचित और दलित जाति के लोग शामिल हैं जो खुशी-खुशी उन कट्टरपंथियों के हाथों में खेल रहे हैं जिन्होंने आज तक उन्हें समानता का अधिकार तक नहीं दिया अफसोस की बात यह है कि अभी तक कोई दलित संगठन आगे नहीं आया है दलित समुदाय के जिम्मेदारों को चाहिए कि वह आगे आकर लोगों को समझाएं ताकि सामाजिक न्याय की मुहिम कमजोर ना पड़े।

*वास्तविकता क्या है?*

जिन इलाकों में मुसलमानों की संख्या 20 फीसद से कम होती है वहां के मुसलमान पूरी तरह से बहुसंख्यक के रहमो करम पर होते हैं। बहुसंख्यकों की मर्जी के बगैर वह मदरसा बना सकते हैं न मस्जिद, और तो और उन्हें कुर्बानी करने की इजाजत भी नहीं होती कुर्बानी करने के लिए उन्हें दूसरे गांव जाना पड़ता है। आबादी का अनुपात अगर दस प्रतिशत से नीचे आ जाए तब तो मुसलमान अपने घर में किसी तरह की मजहबी महफिल भी नहीं कर पाते है और ना ही अपनी मर्जी से गोश्त पका सकते हैं।

हां जिन इलाकों में मुसलमानों की आबादी 30 फीसद या उससे ऊपर होती है वहां मुसलमान जरूर कुछ हद तक इस्लामी सभ्यता के हिसाब से अपना जीवन गुजारते हैं। इसलिए अब कट्टरपंथी संगठन उन इलाकों के खिलाफ 'मकान बिकाऊ है' जैसे षडयंत्र रच रहे हैं। हालांकि अभी तक इस सारे मामलात गलत साबित हुए हैं कोई एक मामला भी सही साबित नहीं हो सका इसके बावजूद कट्टरपंथी पूरे देश में यह खेल खेल रहे हैं। इसके पीछे दो मुख्य कारण हैं: