🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#سوشل_میڈیا_اور_بہکتے_نوجوان

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

جب سے سوشل میڈیا پر شارٹ ویڈیو ایپ کا چلن شروع ہوا تو ہمارے آس پاس ایکٹروں، مسخروں، ڈانسروں اور نقالوں کی بڑی فوج تیار ہوگئی ہے۔اب اس فوج بلا خیز میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی شامل ہوگئی ہیں۔

پہلے پہل ان ویڈیو ایپ کو لوگ محض سستی تفریح کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس لیے اس کا چلن زیادہ نہیں تھا۔مگر ویڈیو کے ذریعے پیسہ کمانے کا آپشن معلوم ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان ایپوں پر شہر تو شہر دور افتادہ گاؤں دیہات کے لڑکے لڑکیوں نے بھی وہ طوفان اٹھایا کہ اللہ کی پناہ!
کھیتوں، کارخانوں میں کام کرنے والے، اینٹ بھٹوں پر مٹی گارا بنانے والے، رکشہ پٹری چلانے والے اور پس ماندہ گھرانوں کے لڑکے بھی خرمستیاں کرنے میں شہری چھوکروں سے کسی طور پر کم نہیں ہیں۔

کہاوت ہے ہے جب طوفان آتا ہے تو پہلے ہلکی ہلکی لہریں آتی ہیں۔آہستہ آہستہ کوڑا کرکٹ بہتا ہوا آتا ہے۔ اس کے بعد سیلاب آتا ہے تو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ایسا ہی معاملہ ان ایپ کے آنے کے بعد ہوا۔شروعاتی دور میں چند نِٹھلّے لڑکے ہی مسخری اور نوٹنکی کرتے پھرتے تھے مگر جیسے جیسے لہریں تیز ہوئیں سیلاب کی شدت بڑھتی گئی۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ گاؤں دیہات اور شریف گھرانوں کی لڑکیاں بھی چوری چھپے ویڈیو بنا بنا کر اپلوڈ کرنے لگیں۔

سوشل میڈیا ایک نشہ ہے جسے لگ جائے وہ ہر وقت اس کے خمار میں رہتا ہے۔اگر اس نشے میں پیسہ کمانے کا جنون بھی مل جائے تو نشہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ایسا ہی یوٹیوبر اور شارٹ ویڈیو بنانے والوں کے ساتھ ہورہا ہے۔اب انہیں محض ویڈیو بنانے پر تسلی نہیں ہوتی جب تک اس پر بڑی تعداد میں لائک ( Like) اور سبسکرائبر (Subscribers) نہ ملیں۔کیوں انہیں کی بنیاد پر ایپ کمپنیاں اور یوٹیوب پیسہ دیتا ہے۔اس لیے دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے ہر جتن کیا جاتا ہے۔
اسی خمار کا اثر ہے کہ شریف گھرانوں کی لڑکیاں تک فحش انداز میں ڈانسنگ ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر رہی ہیں اور لڑکے مکمل طور فلمی ایکٹروں کی طرح گالی گلوچ اور ہر طرح کی خرافات کو اپنا چکے ہیں۔کیوں کہ اس فیلڈ میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔لگاتار ویڈیو اپلوڈ ہورہے ہیں تو دیکھنے والوں کا ٹیسٹ بھی Better than best کی ڈیمانڈ کرنے لگا ہے۔اس لیے نئے سے نیا content اور presentation بہت اہم ہوگیا۔ٹی وی اور سنیما ایک انڈسٹری کے طور پر قائم ہیں۔جہاں ایک ایک سین کے لیے درجنوں ماہرین کی محنت وصلاحیت لگتی ہے تب کہیں جاکر ایک اچھا سین تیار ہوتا ہے۔مگر گلی محلوں میں شارٹ ویڈیو بنانے والے لڑکے لڑکیاں بمشکل دو چار کی ٹولیوں میں ہی ہوتے ہیں۔اور کچھ خاص پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے۔اس لیے لڑکے آہستہ آہستہ پھوہڑ باتوں اور گالی گلوچ کرنے پر اتر آئے ہیں جب کہ لڑکیاں فحش باتوں اور شہوت انگیز ڈانس پر اتر آئیں ہیں۔اگر وقت رہتے اس طوفان کی روک تھام نہ کی گئی تو خدا جانے انجام کیا ہوگا؟

کیسے ہو روک تھام؟

ارادے مضبوط ہوں تو ہر برائی کی روک تھام ممکن ہے۔مگر پریشانی جتنی بڑی ہوتی ہے محنت بھی اتنا ہی کرنا پڑتی ہے۔چونکہ سوشل میڈیا کی پہنچ اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس پر پابندی لگانا تو کسی کے لیے ممکن نہیں رہ گیا ہے لیکن اگر مضبوط قوت ارادی سے کام کیا جائے تو ہم کافی حد ان مسائل کی روک تھام کر سکتے ہیں۔اس مہم میں والدین، اساتذہ، ائمہ اور سماجی طور پر ذمہ دار ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔چند اہم نکات حاضر ہیں:
🔹 بچوں کو چپ کرانے یا ہنسنے ہنسانے کے لیے فلمی گانوں وغیرہ کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔بگاڑ کی شروعات ہمیشہ ایسے ہی ہوتی ہے۔
🔹 جس عمر میں بچے الفاظ سمجھنے لگیں اس وقت بھول کر بھی بچوں کے سامنے گالی گلوچ نہ کی جائے۔
🔹 زمانہ شناس اور سنجیدہ افراد کی ایسی ٹیم تیار کی جائے جو ان ایپ کو تعمیری کاموں میں استعمال کرنے کی تراکیب نکال سکیں اور نعم البدل تیار کر سکیں۔
🔹 مدارس واسکول میں کتابی فنون کے ساتھ ساتھ معاشرتی اخلاق وآداب لازمی سکھائے جائیں۔
🔹 اساتذہ خود اپنے طلبہ کے لیے رول ماڈل بنیں اور وقتاً فوقتاً ایسے موضوعات پر ماہرین کے خصوصی خطاب کرائے جائیں۔
🔹 ائمہ مساجد ایسے موضوعات پر اچھے اسلوب اور مہذب انداز میں روشنی ڈالیں تاکہ نوجوان نسل ان قباحتوں سے واقف اور متنفر ہو۔
🔹 ایسے موضوعات پر بازاری لب و لہجے اور غیر سنجیدہ انداز سے پرہیز کریں تاکہ فائدے کی جگہ نقصان نہ ہوجائے۔
🔹 سماجی طور منعقدہ مجلسوں میں گاہے گاہے ان امور پر بات چیت ہوتی رہے۔
🔹 والدین اپنے نوجوان بچے بچیوں پر خصوصی دھیان رکھیں۔انہیں بہکتا دیکھیں تو کمال حکمت کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔
🔹 ائمہ کرام اور سماجی ذمہ داران بھی ایسے مواقع پر اپنا مصلحانہ کردار ادا کریں تاکہ برائی کو پنپنے کا زیادہ موقع نہ مل سکے۔
اس کے علاوہ جو بھی مفید اور ضروری اقدامات ہو کئے جائیں تاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو روکا جاسکے اور اپنی جوانیوں کو بے مقصد اور غلط کاموں میں ضائع کرنے والے لڑکے لڑکیوں کو بے حیائی کے دلدل سے بچایا جاسکے۔

22 شوال المکرم 1442ھ
4 جون 2021 بروز جمعہ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/927327781171074/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
انسانی سماج کے لیے نکاح کیوں ضروری ہے؟

تحریر : مولانا حافظ محمد یعقوب نقشبندی (اِٹلی)

ایک صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی وہ کہنے لگے علامہ صاحب عقلی اعتبار سے آپ کو کیا اعتراض ہے اگر لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے بغیر نکاح پڑھے اور تحریر کیے رہنا چاہیں تو آپ کو کیا مسئلہ ہے؟
میں نے عرض کیا مسئلہ مجھے نہیں؛ انہی کے مسئلہ کی فکر ہے..
اسی طرح جس طرح دنیا کے کسی بھی ادارے کو فکر ہوتی ہے..
پارلیمنٹ کو فکر قانون بنانے کی
سیکورٹی اداروں کو فکر لوگوں کو سیکیور کرنے کی
پولیس کو فکر قانون لاگو کرنے کی
کسی ادارے کو فکر تجارت بڑھانے اور خسارہ کم کرنے کی...
آپ سے پوچھا جائے کہ اداروں کو فکر کرنا چاہیے یا نہیں...
تو جواب یہ آیا کہ کیوں نہیں ان کو فکر کرنا چاہیے ملک و ملت کی سلامتی اور معاشی بحران سے بچنے اور معاشی ترقی کے لیے
میرے بھائی اسی طرح ایک مذہبی رہنما کو فکر ہے معاشرتی نظام کو بگاڑ سے بچانے کی۔
میں نے ایک اور چھوٹا سا سوال کیا : وہ نکاح پڑھنا اور لکھنا کیوں نہیں چاہتے...
جواب یہ تھا کہ ان کا اعتماد ہے ایک دوسرے پر
میں یہ کہتا ہوں کہ کیا یہ واحد جگہ ہے اعتماد کی؟ باقی مقامات پر ایسا کیوں نہیں.. ؟
میرا سوال ہے؛ تمام بے نکاح کے حمایتیوں سے
زمین کی رجسٹری کیوں ضروری ہے؛ جو رہے زمین اسی کی
مکان کی ملکیت لکھنا کیوں ضروری ہے
حتیٰ کہ کرایہ نامہ بھی لکھا جاتا ہے
گاڑی کا مالک کون ہے یہ بھی لکھا جاتا ہے
قرض کے لین دین کا معاہدہ کرنے والوں کے درمیان معاہدہ کی شرائط بھی لکھی جاتی ہیں
کتنی تنخواہ ملے گی یہ بھی لکھا جاتا ہے
حکومت کہتی ہے تو نے سال میں کتنا کمایا یہ بھی لکھا ہوا دکھاؤ
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہر جگہ پر بے اعتباری ہے....
مگر لڑکی اور لڑکے کے رشتے میں مکمل اعتبار ہے کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟
اگر دنیا کے لوگوں پر اتنا ہی اعتبار ہے:
تو کوئی پلاٹ بغیر رجسٹری کے خرید کر دکھاؤ..
گاڑی بغیر نام کے رکھ کر دیکھاؤ...
کرایہ نامہ لکھے بغیر مکان لے دے کر دکھاؤ...
کسی بینک سے بغیر لکھے قرضہ لے کر دکھاؤ...
پھر وہ صاحب کہنے لگے :
اگر ان کے اس رشتے سے کوئی نقصان ہوا تو ان کا ہی ہوگا آپ کا تو نہیں؟
میں نے کہا پولیس کو کیا اعتراض ہے اگر میں روڈ پر تیز رفتاری سے گاڑی چلاؤں گاڑی میری ٹوٹے گی؛ نقصان بھی میرا ہوگا پولیس مجھے کیوں جرمانہ کرے.....؟
تو صاحب کا جواب تھا؛ ساتھ آپ کسی اور کا بھی نقصان کریں گے اور نظام کی خرابی کا باعث بھی بنیں گے....
میں یہ کہتا ہوں کہ ایسے لوگ شریعت کا مذاق اڑاتے ہی ہیں، معاشرتی نظام کی خرابی کا باعث بھی ہیں اس لیے ان کی حمایت کسی طرح بھی نہیں کی جاسکتی۔

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/927577897812729/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ڈکٹیٹر شپ کی طرف بڑھتی عالمی سیاست

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی

جمہوریت کے فروغ کے لئے یوروپ نے سالوں دن رات کوشش کی اور جب وہ اس نظام کو ساری دنیا میں لاگو کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس نظام کی قلعی کھلنے لگی ہے، جس ملمع سازی سے اس نظام کو پیش کیا گیا تھا وقت کے ساتھ اس کی مصنوعی چمک ماند پڑنے لگی ہے جو کہ فطری ہے.... ایک بار پھر دنیا اس سر گننے والے نظام کی حقیقت کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، جمہوری نظام کے ارتقائی دور میں اسے اس لیے بھی کامیابی ملی کیوں کہ شاہانہ نظام کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیا گیا، لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ہم ایک ایسا نظام پیش کر رہے ہیں جس میں ملک کا صدر اور ایک عام آدمی قانون کی نظر میں برابر ہوگا، نیز جمہوری نظام وہ طرز حکومت ہے جس میں آپ خود اپنا نمائندہ منتخب کرسکیں گے، گویا عام آدمی براہ راست حکومت سازی کرنے کا اہل ہوگا، اور اگر آپ کی امیدوں پر آپ کا منتخب نمائندہ کھرا نہ اترے تو آئیندہ آپ اسے حکومت سے باہر کر سکیں گے، یعنی جمہوری نظام عوام کے ہاتھ ہوگا،صدیوں سے چلے آرہے شاہانہ نظام کے خلاف کچھ غیر منصف بادشاہوں کے ظلم و جبر کی داستانیں بتائی جاتی رہیں اور لوگوں کے اذہان کو آزادی کے نعروں کے ذریعے برین واش کیا گیا، حالاں کہ طرز حکومت کے دونوں طریقوں کا موازنہ کریں تو جمہوری نظام حکومت زیادہ نقصان دہ پائیں گے.(یہ ایک مستقل موضوع ہے لہذا اس پر کبھی تفصیلی گفتگو ہوگی)

*اسرائیلی صدر نیتن یاہو کرسی چھوڑنے کو تیار نہیں*

بنیامین نیتن یاہو 21 اکتوبر 1949 کو پیدا ہوئے وہ ایک اسرائیلی سیاستدان ہے جو 2009 کے بعد سے اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، اس سے قبل وہ 1996 سے 1999 تک اس کردار میں فرائض سرانجام دے چکے ہیں........انھیں تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اسرائیلی وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہے - *مزے کی بات* یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے اعلانِ آزادی کے بعد اسرائیل میں پیدا ہونے والے پہلے شخص بھی ہیں۔ (وکی پیڈیا، مفہموما)

...... اسرائیل میں پچھلے دو سالوں میں چار بار انتخابات ہو چکے ہیں لیکن کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکی ہے، نیتن یاہو اپنی کرسی بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جس کی ایک کڑی اسرائیل، فلسطین جنگ بھی ہے جو 10 مئی سے شروع ہو کر 21 مئی 2021 کو ختم ہوئی ہے، جنگ شروع کرکے اسرائیلی صدر دیش بھکتی کا لالی پوپ دے کر حزب مخالف پر عوامی دباؤ بنانا چاہ رہے تھے تاکہ ان کی حکومت کی راہ کے روڑے ہٹ جائیں، مگر معاملہ الٹا پڑ گیا، جنگ روکنا پڑی، اقوام متحدہ میں کراری شکست اور دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند ہوئی جس سے نیتن یاہو کی شبیہ اور مجروح ہوئی ہے اور اب کوئی بھی پارٹی ان سے اتحاد کو تیار نہیں ہے-

یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے سیاسی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کا حکومت میں آنے کا راستہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بنیامین نتن یاہو نے اسرائیلی پارلیمان کے دائیں بازو کی جماعت کے اراکین سے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے اتحاد کو حکومت بنانے سے روکیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میں اقتدار میں نہیں رہتا تو یہ اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہوگا، وہ وہائٹ ہاؤس میں کیا کریں گے، ایران میں کیا کریں گے؟ دنیا کے سامنے اسرائیل کو کیسے پیش کریں گے؟

اسرائیل کی حزبِ اختلاف کی آٹھ جماعتیں بدھ کے روز ایک نئی حکومت تشکیل دینے پر متفق ہو گئی ہیں جس کے بعد بنیامین نتن یاہو کا اسرائیلی وزیر اعظم کی حیثیت سے 12 سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا- اسی کو لے کر انھیں سخت بے چینی ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ حزب مخالف حکومت نہ بنا پائیں -

*قوانین میں تبدیلی کرکے راہیں ہموار کرتے لیڈر*

ولاديمير پوتين (پیدائش 7 اکتوبر 1952)پہلی بار بطور وزیرِ اعظم کے عہدے پر 1999 میں نامزد ہوئے تھے - پھر وہ 2000 - 2008 تک صدر رہے - اور اس کے بعد پھر وزیر اعظم کی حیثیت سے 2008 - 2012 تک ملک کی باگ ڈور سنبھالے رہے، 2012 میں ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہوئے ۔(بی بی سی اردو، 25 جون 2020)

*ریفرنڈم کی ضرورت کیوں پڑی؟*

چوں کہ قانون بدلنا تھا تاکہ اپنی کرسی کو تادیر قائم رکھا جا سکے اس لیے روسی صدر نے ملک کے آئین میں عوامی حمایت کے ساتھ ترمیم کی ایک تجویز دی۔ ترمیم کے لیے ریفرنڈم میں ایک اہم نکتہ صدر پیوتن کے آئندہ دو مرتبہ چھ چھ برس کی دو مدتوں کے لیے صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دینا تھا، جس سے وہ 2036 تک کے انتخابات میں حصہ لے سکیں گے، یعنی 75 سالہ روسی صدر تاحیات روس کے صدر بنے رہنا چاہتے ہیں اور فی الحال تو وہ کامیاب دکھ رہے ہیں، لیکن سیاست میں کب کیا ہوجائے اس کا اندازی کسی کو نہیں ہوتا.
...... پوتین نے اپنے اقتدار کے پہلے تین مہینوں میں جب ان کی حکومت تشکیل پا رہی تھی، طبقہِ امراء اور کریملِن و دیگر گروپوں کو سنبھلنے کا موقعہ ہی نہیں دیا، ساتھ ہی انھوں نے میڈیا کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لیا۔ ویسے تو روس میں چینلز نیوز دکھاتے نہیں اگر دکھاتے بھی ہیں تو گودی میڈیا ٹائپ، اگر کسی نے حکومت کے خلاف نیوز چلائی تو اس کی سزا یقینی ہے،خلاصہ یہ کہ ان کے اِس طریقہ نے ان کا حکم رانی کا انداز بھی متعین کردیا ہے، ساتھ ہی دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں کے مابین قانون کو اپنے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرنا سکھایا دیا ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھارت کی طرح "راشٹر واد" کے نام پر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بناکر کیا جارہا ہے - اب ساری دنیا کے بڑے لیڈر تانا شاہی رویہ اختیار کرتے جارہے ہیں اور عوام اپنے کو ٹھگا سا محسوس کر رہی ہے-

*شي جن پنگ بھی روس کے نقش قدم پر*

شی جن پنگ( 15 جون 1953) فوپنگ کاؤنٹی شانکسی صوبہ چین میں پیدا ہوئے۔ چینی سیاست دان جنھوں نے پیپل رپبلک چین کے نائب صدر کی حیثیت سے 2008-2013 رہے، 2012 سے جنرل سیکٹری چین کمیونسٹ پارٹی رہے اور 2013 سے چین کے صدر ہیں۔ (وکی پیڈیا)

2013 میں چین کے صدر چنے جانے والے شی جن پنگ کے تعلق سے کس نے سوچا تھا کہ وہ ساری روایات، قوانین کو بدل دیں گے اور اپنے لئے نئی راہیں نکالیں گے، چینی صدر نے پہلے چار سالوں میں پارٹی کے اندر اپنے لوگ رکھے، مخالفین کو دور کیا، دس لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو بد عنوانی، رشوت جیسے معاملات میں ملوث ہونے کی بات کہہ کر راستے سے ہٹادیا، کرپشن کے خلاف زبردست مہم چلائی جس سے وہ اور طاقت ور ہوتے گئے - اور پھر اپنی صدارت کے اختتام کے وقت انھوں نے چینی قانون جو صدر اور نائب صدر کو اپنے عہدوں پر صرف دو بار ہی تک محدود کرتا تھا، بدل دیا، اور اس طرح وہ چین کے سب سے طاقت ور صدر بن گئے جو آگے بھی کرسی صدارت پر رہیں گے، بل کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تا حیات اپنے عہدے پر برقرار رہیں-

*امریکا میں جمہوریت کا قتل*

ڈونلڈ ٹرمپ (پیدائش 14 جون، 1946ء) امریکا کی ایک کاروباری شخصیت جو سنہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے نتیجہ میں ریاستہائے متحدہ کے پینتالیسویں صدر منتخب ہوئے۔ ٹرمپ کو سب سے زیادہ شہرت امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر ملی، محض چار سالوں کے دور اقتدار نے ٹرمپ کا دماغ خراب کردیا، اکثر مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرتے رہے، امریکی صدر امریکیوں میں کافی حد تک انڈیا کی طرح "راشٹر واد" کا چورن بانٹتے رہے، جس کا نتیجہ ہم نے حال ہی میں ہونے والے الیکشن میں دیکھا، ٹرمپ نے ہر وہ حربہ اپنایا جو وہ اپنا سکتے تھے، غلط جان کاری بھی عام کی جس کی وجہ سے ٹویٹر اور فیس بک نے ان کے اکاؤنٹ بلاک کردیے، ایک چینل پر لائو غلط جان کاری دیتے ہوئے پائے جانے پر اس چینل نے ان کا پروگرام دکھانا بند کر دیا یہی نہیں بل کہ چینل نے صاف کہا کہ جو جان کاری مسٹر پریسیڈنٹ دے رہے تھے وہ صحیح نہیں تھی- الیکشن کے نتیجوں کے دوران ان کے پیدہ کردہ راشٹر وادی لوگوں نے "وہائٹ ہاؤس" اور وہائٹ ہاؤس کی تاریخ دونوں کو " سیاہی" میں تبدیل کردیا -

*بھارت بھی اسی لائن پر چل رہا ہے*

نریندر دامودر داس مودی : بھارتی سیاست دان اور موجودہ وزیر اعظم ہیں۔ اس سے قبل مودی پندرہ سالوں تک گجرات کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کی پیدائش 17 ستمبر 1950ء کو شمالی گجرات کے مہسانہ ضلع میں ہوئی۔ مودی کا سیاسی سفر 1984ء میں شروع ہوا۔

2014 میں نریندر مودی وزیر اعظم بنے اور پھر طرح طرح کی چیزیں دیکھنے کو ملیں، انڈین سیاست کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے، کانگریس کو پورے ملک سے تقریبا ختم کردیا اور کانگریس اپنی زمین تلاش کر رہی ہے، وزیر اعظم نے ایک نعرہ بھی تھا "کانگریس مُکت بھارت" جو تقریبا پورا ہوتا دکھ رہا ہے، 2019 آتے آتے ملک کے اکثر صوبوں میں بی جے پی قبضہ کر چکی تھی، بابری مسجد قضیہ، رام مندر تعمیر نے ہندو نوجوانوں میں مصنوعی "راشٹر واد" اور مسلم منافرت کو بڑھاوا دیا اور وزیر اعظم کئی ایسے قانون لے کر آئے جو ملکی قوانین سے ہی ٹکراتے ہیں، نیز اقلیتوں پر بڑھتے مظالم پر خاموشی نے انھیں شدت پسند ہندوؤں کے درمیان بہت مقبولیت دلائی ہے، کووڈ کے دوران تالی، تھالی بجانا ہو یا دیپ(چراغ) جلانا یا نوٹ بندی، جی ایس ٹی، لاک ڈاؤن ہر معاملے میں وزیر اعظم عوام کے جذبات کو قابو رکھنے میں کامیاب رہے ہیں اور یہ جادو اب بھی برقرار ہے، اس جادو میں کمی ضرور دکھی ہے لیکن الیکشن آتے آتے وہ اسے کور کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں،بھارتی وزیر اعظم اور ان کی پارٹی بھی ملکی قوانین میں تبدیلی کرکے بہر صورت انڈیا کو ایک جمہوری ملک کی بجائے "ہندو راشٹر" کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے، اس کے لیے وہ پارلیمنٹ سے لے کر گاؤں کی گلیوں تک اپنی جماعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے.
*خلاصہ*
ہم نے یہاں دنیا کے اہم ممالک میں جس قدر سیاسی اٹھا پٹک جاری ہے اس کا ایک نمونہ پیش کیا ہے، یقینا ایسے کئی ملک اور ہیں لیکن جس طرز پر " جمہوریت" (Democracy) کی گاڑی اب ساری دنیا کی سیر کر رہی ہے اس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اہل یوروپ کا یہ نظام حکومت اپنی تمام تر ملمع سازی کے باوجود اپنی چمک برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جمہوری نظام کی قلعی ایک صدی سے بھی کم وقت میں ہی کھل گئی ہے -

*اعداد و شمار اور مذکورہ ہستیاں*

حال ہی میں کرسی صدارت گنوانے والے امریکی صدر کی پیدائش 1946 کی ہے جب کہ اسرائیل وزیراعظم نتین یاہو 1949، انڈین وزیر اعظم نریدنر مودی 1950، روسی صدر ولادی میر پتن 1952، اور چین کے صدر شی جن پنگ کی پیدائش 1953 ہے - موجودہ دنیا کے ڈکٹیٹر اذہان کی پیدائش ایک دہائی سے بھی کم عرصے کی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ان میں اتنی مماثلت پائی جاتی ہے اور سب کے تعلقات ایک دوسرے سے اچھے تھے، کچھ جا چکے ہیں اور امید ہے کچھ چلے جائیں گے کیوں کہ جس قدر وہ پیدائش میں قدرے مشترک ہیں اسی طرح حکومت چھوڑنے میں بھی ساتھ رہیں گے، میری یہ بات کتنی درست ہے اس کے لیے آئیندہ چند سالوں کا انتظار کرنا ہوگا.

5/6/2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/927846811119171/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو!*
حجازِ مقدس پر نجدی تسلط اور استعماری سازشیں
https://m.facebook.com/107640804524449/posts/211424444146084/
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

    زندہ قومیں اپنے آثار و شواہد محفوظ رکھتی ہیں تاکہ مستقبل کے لیے تابناک شاہراہِ حیات مہیا ہو۔ ماضی کے ورثے کو ملحوظ رکھنے والے حال کے شامیانے میں مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔ شان دار ماضی کی کڑیاں حال سے استوار ہوں تو مستقبل تابندہ ہوتا ہے۔ ہمارا ماضی بے مثال رہا ہے۔ ہادیِ اعظم فخر کون و مکاں باعثِ تخلیقِ انس وجاں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جلوہ گری نے انسانیت کو ان اعلیٰ ترین اقدار سے روشناس کرایا؛ کہ آپ کے نقوشِ قدم راہبر و راہنما ٹھہرے۔ ہر شعبۂ حیات کو آپ کی ذاتِ بابرکت سے روشنی ملی اور انسانیت کو ظلم وستم کی زَد سے بچ کر اسلام کی ٹھنڈی گھنیری چھاؤں میں پناہ لینے کا شرف حاصل ہوا۔ سید کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جبینِ آدمیت کو اغیار کے در پر خم ہونے سے بچایا۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بلدِ امیں مکہ معظمہ خطۂ حجاز میں جلوہ بار ہوئے اور ایمان کا سویرا ہوا   ؎ 

رُخِ مصطفٰی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ کسی کی بزمِ خیال میں نہ دکانِ آئینہ ساز میں 

    عظیم و شاندار ماضی رکھنے والی قوم نے جب بھی اپنے ماضی سے انحراف کیا اور ہادیِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے جادۂ حق وصداقت سے رُوگردانی کی؛ تباہی وبربادی اور پستی و زوال سے دوچار ہوئی۔ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اُلفت و محبت وعقیدت کا رشتہ استوار رکھنے والوں نے دُنیا کی قیادت کی۔ فکر وشعور کی ہر بلند چوٹی پر اسلامی عظمتوں کے پھریرے لہرائے اور دُنیا کو امن واخوت و سچائی کا درسِ تابندہ دے کر فکروں کو مہکاتے رہے، کردار کو چمکاتے رہے، خیالات کی بنجر وادیوں کوسیراب کرتے رہے۔ لیکن جہاں انحراف و بغاوت کا معاملہ ہوا؛ وہیں سے زوال کا آغاز ہوا۔ عقیدہ وعقیدت سے کھلواڑ نے گلشن کو بنجر بنا ڈالا۔ جہاں گل ولالہ کی کاشت کرنی تھی وہاں تھوہڑ و کیکر اُگائے گئے؛ نتیجہ یہ ہوا کہ دل کی دُنیا سُونی ہوتی گئی اور عقیدے تباہ۔ جب محبت رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نغمۂ جاں فزا سے تھکی تھکی روح کھل نہ اُٹھے اور دل مضمحل ہی رہے تو سمجھ لو کہ عقیدے کا گلشن بنجر ہوچکا ہے؛ اور ایمان کی فصل کاٹی جاچکی ہے۔ یہی کچھ یہود وانگریز کی ریشہ دوانیوں سے ہوا کہ دل بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ایسے دور کیے گئے کہ’’ تعظیم وتکریم‘‘ کو ’’شرک وبدعت‘‘ اور’’ توہین‘‘ کو ’’توحید‘‘ سمجھا جانے لگا۔

    تُرک بڑے بہادر و غیور مسلمان تھے، حجازِمقدس جب اُن کے زیرِ خدمت آیا تو انھوں نے محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جذبات سے معمور ہو کر کتاب و سُنّت میں متعیّن کردہ مقاماتِ خصوصی [شعائراللہ] کو نشان زَد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تاکہ یہ نقوشِ زرّیں توحید کے متوالوں کو عہدِ رفتہ کی یاد دلاتے رہیں اور عزم ویقیں کے طاق پر ایمان وایقان کے وہ دیے جلاتے رہیں جن کی روشنی میں تھکے تھکے قافلے عزمِ جواں و حوصلۂ تازہ سے ہمکنار ہوتے ہیں۔اور تاریخ کے وہ محبت بھرے نقوش اُبھر کر سامنے آتے ہیں جن سے عزم ویقیں کے نامعلوم کتنے چراغ جل اُٹھتے ہیں۔

     صدیوں سے یہود وانگریز نے اسلامی مملکتوں میں تخریب کے بیج بونے کے لیے کدوکاوش کی۔ اپنے جاسوسوں کے ذریعے برطانیہ نے ایسے افراد تیار کیے جن سے سامراجی خفیہ پالیسی کا نفاذ کروایا گیاجو اسلام کی بیخ کنی پر مشتمل تھی۔ عربوں میں نسلی وقومی عصبیت پروان چڑھانے کی غرض سے لارنس آف عربیہ نے تگ و دَو کی۔ترک اسلام کے سچے پاسبان تھے۔ عربوں کو کہا گیا کہ تم فضل وشرف والے ہو ترکی والوں کو تم پر حکومت کا کیا حق ہے؟ منافرت کی ہوا سازگار ہوئی۔ ادھر اپنے جاسوسوں کے ذریعے ذہنی وفکری تخریب کے تمام ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ آلۂ کار تیار کیے گئے۔ محمد ابن عبدالوہاب برطانوی خفیہ پالیسی کا فکری طور پر تیار کردہ وہ شخص تھا جس نے اسلاف کی راہ سے انحراف کیا۔ توحید کی آڑ میں رسالت کے تقاضوں کو پامال کیا۔ تعظیم وتکریم کو شرک اور توہین کو توحید سمجھ بیٹھا۔ جو اس کا مذہب قبول نہیں کرتا۔ قتل و غارت سے کام لیتا۔ خوں ریزی اس کی طبیعت ثانیہ تھی۔ مولوی حسین احمد مدنی دیوبندی[صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند] لکھتے ہیں:

    ’’محمد بن عبدالوہاب نجدی ابتداء ً  تیرہویں صدی نجد عرب سے ظاہر ہوا۔ اور چوں کہ یہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسدہ رکھتا تھا اس لیے اس نے اہلِ سنت والجماعت سے قتل وقتال کیا……الحاصل وہ ایک ظالم وباغی خوں خوار فاسق شخص تھا۔‘‘ 
      [الشہاب الثاقب،مطبوعہ مکتبۂ رحیمیہ دیوبند ،ص۵۴]

    اس کے عقائد ونظریات کو ’’وہابیت‘‘ سے جانا جاتا ہے۔ جس کی اشاعت کے لیے حجاز سے ترکوں کے انخلا کے بعد حکومتِ سعودیہ سرگرمِ عمل ہے۔ اسی کی دعوت
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کے لیے ان کے نیٹ ورک عرب سے ہند تک سرگرمِ عمل ہیں۔ بانیِ وہابیت نے اپنے عقائد وافکار منوانے کے لیے مسلمانوں کو قتل کیا، بے گناہوں کو تہ تیغ کیا، وہی پیٹرن نام نہاد جہادی وہابی دہشت گرد اپنائے بیٹھے ہیں۔ اسی وہابی فکر کے ابلاغ میں القاعدہ، لشکر طیبہ، جمعیۃالدعوۃ، جیش محمدی، سپاہِ صحابہ، داعش[ISIS]،حزب المجاہدین، بوکو حرام اور ان جیسی وہابی عسکری تنظیمیں متحرک وسرگرمِ عمل ہیں۔ جو بموں،گولیوں، دھماکوں سے مزاروں، میلاد ونعت کی محفلوں اور بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر یہ سمجھتی ہیں کہ شرک وبدعت کو مٹا رہی ہیں۔اس طرح انسانیت کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ اور اپنی دہشت گردانہ فکروعمل سے اسلام کو بدنام کیا جارہا ہے۔ جب کہ ان کی سرگرمیاں یہود و نصاریٰ کی مخالفت میں زیرو ہیں-

    دوسری طرف حجازِ مقدس میں اسلامی آثار کے انہدام کا سلسلہ ۱۹۲۵ء سے آج تک جاری ہے۔ نوبت یہاں تک آئی کہ روضۂ مقدسہ کو منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ستمبر۲۰۱۴ء کے اوائل میں ڈیلی انڈیپنڈنٹ برطانیہ کے انٹرنیٹ ایڈیشن کے توسط سے یہ خبر مسلمانانِ عالم کے لیے بے چینی کا باعث بنی کہ سعودی حکومت کے ایک اسکالر نے گنبد خضرا کی شہادت اور روضۂ مبارکہ کی منتقلی کا منصوبہ ظاہر کیا ۔

    اس کے فوراً بعد سعودی حکومت کی جانب سے یہ وضاحتی بیان سامنے آیا کہ:

    ’’قبر رسول کی منتقلی کے حوالے سے میڈیا پر آنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ البتہ دوسال پیش تر جب روضۂ رسول اور مسجد نبوی کی توسیع کے حوالے سے منصوبے کا آغاز ہوا تو توسیعی کمیٹی کے ماہرین نے یہ تجویز دی تھی اور ساتھ ہی علما سے اس پر راے بھی طلب کی تھی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ مسجد نبوی کی شمال کی سمت سے توسیع اور دوسری منزل کی تعمیر سے روضۂ رسول متاثر ہوسکتا ہے۔ علما نے قبر رسول کی منتقلی کی اجازت دی تھی مگر ساتھ ہی یہ واضح کردیا تھا کہ قبر مبارک کو کھولا نہیں جائے گا۔‘‘    [یہ خبر العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی اردو سروس میں ۵؍ستمبر ۲۰۱۴ء کو اَپ لوڈ کی تھی؛]

    سعودی حکومت کی وضاحت مسلمانانِ عالم کے غم و جذبات کی وقتی تسلی کے لیے ہے؛ ورنہ گزری نودہائیوں میں کیسے کیسے جلیل القدر صحابہ و اہلِ بیت اطہار واولیاے اسلام کے مزارات شہید کر دیے گئے۔ کتنی ہی عظیم نشانیاں مٹاڈالی گئیں اور اسلامی تاریخ کے مبارک نشانات کو اس بھونڈے انداز میں کھرچ ڈالا گیا کہ جس کی مثال ماضی کے کسی دور میں نہیں ملتی۔ شورش کاشمیری لکھتے ہیں:

    ’’سعودی حکومت نے عہد رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آثار،صحابۂ کرام کے مظاہر اور اہلِ بیت کے شواہداس طرح مٹا دیے ہیں کہ جو چیزیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر محفوظ کرنی چاہیے تھیں وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر محو کردی گئی ہیں۔کہیں کوئی کتبہ یا نشان نہیں۔‘‘ 
  [شب جائے کہ من بودم، مطبوعات چٹان لاہور،ص۲۲]

    یورپ اپنی تاریخی کڑیاں مربوط کرنے کی تگ و دَو میں ویرانے کھود رہا اور کھنڈر تلاش کررہا ہے۔ حرمین میں اسلامی آثار اپنے ہاتھوں سے مٹائے جارہے ہیں۔ اسلام کی زرّیں تاریخ کے نقوش کو اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کیا جارہا ہے۔ موجودہ سعودی حکومت قیصروکسریٰ کے طرز کی آمریت کا نمونہ ہے۔ دعویٰ کتاب وسُنّت کاہے اور انگریز ویہود سے محبت واخوت ایسی کہ نگاہیں دنگ رہ جائیں۔ اسرائیل نے فلسطین پر جو مظالم کے پہاڑ توڑے دُنیا چیخ اٹھی؛ لیکن حکمرانِ سعود نہیں جاگے۔ وہ جاگتے بھی کیسے؟ عبدالعزیز ابن سعود نے اپنی حکومت کے قیام سے قبل ۲؍اگست۱۹۱۵ء میں یہ معاہدہ برطانوی سامراج سے کیا تھا:

    ’’حکومتِ برطانیہ اعتراف کرتی ہے کہ علاقہ جات نجد [وغیرہ……]یہ سلطان ابن سعود کے علاقہ جات ہیں اور حکومتِ برطانیہ اِس اَمر کو تسلیم کرتی ہے کہ ان مقامات کا مستقل حاکم سلطان مذکورہ اور اس کی اولاد [یعنی آلِ سعود] ہیں اور اس کے بعد ان کے لڑکے ان کے صحیح وارث ہوں گے۔ لیکن ان ورثا میں سے کسی ایک کی سلطنت کے انتخاب و تقرر کے لیے یہ شرط ہو گی کہ وہ شخص سلطنتِ برطانیہ کا مخالف نہ ہو۔‘‘

    اسی معاہدے میں فلسطین کا علاقہ یہودیوں کو دینے پر آلِ سعود کی رضا مندی کااظہار بھی شامل ہے۔
  [بحوالہ:نجدی تحریک پر ایک نظر،بہاء القاسمی دیوبندی، صفحہ۷؍تا۱۵]

    یہود سے متعلق اپنے احساسات کو برطانوی جاسوسی ادارہ کے معتمد جان فلیپی کی ترغیب پر عبدالعزیز آلِ سعود نے جو تحریر عربی میں مع دستخط دی تھی اس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے:

    ’’میں سلطان عبدالعزیز بن عبدالرحمن آلِ فیصل آلِ سعود برطانیہ عظمیٰ کے مندوب سرپرسی کاکس کے لیے ایک ہزار مرتبہ اس بات کا اعتراف واقرار کرتا ہوں کہ فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں یا برطانیہ اس فلسطین کو جسے چاہے دیدے۔ میں برطانیہ کی رائے سے صبح قیامت تک اختلاف وانحراف نہیں کرسکتا۔‘‘
    [ازافادات تاریخ آلِ سعود، مصنف ناصرالسعید، ناشر منشوراتِ مکہ مکرمہ، طبع ۱۴۰۴ھ]

    خلافت تحریک ہندوستان کی رپورٹ میں شاہِ سع
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ود کے حوالے سے ہے :

    ’’اسے ۱۹۱۵ء کے معاہدہ کا اعتراف ہے۔‘‘    [مسئلۂ حجاز، مطبوعہ ۱۹۲۶ء ممبئی ،ص۱۳۰] 

    اسی طرح سعودی حکومت کے آغاز میں ہی ۱۹۲۵ء میں برطانوی مسٹر فلیپی کے آلِ سعود کے مشیرہونے میں بھی انگریز کے خفیہ اغراض ومقاصد تھے۔   
[مسئلۂ حجاز، صفحہ۳۰]

    ان شواہد کی روشنی میں دیکھیں کہ کس طرح حرمین میں یہود و انگریزکی مداخلت ہے، جن کے عزائم کیسے دل آزار ہیں۔ جن کے ہاتھوں کیسے عظیم وجلیل القدر صحابہ و مشاہیرِ اسلام کے مزارات شہید ہوئے۔ جن کی نگاہیں نبوی آثار کاخاتمہ چاہتی ہیں۔ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم پسند نہیں؛ انھیں وجوہ سے دُنیا بھر کے مسلمان حرمین کے وہابی امام کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھتے۔ جن کا عقیدہ صحیح ہو گا انھیں کی امامت مقبول ہو گی، جو بد عقیدہ ہیں اُن کا کوئی عمل مقبول ومعتبر نہیں۔ عازمین حج و زائرینِ طیبہ سے گزارش ہے کہ اپنی نمازوں کو وہابی امامِ کے پیچھے پڑھ کر ضائع نہ کریں۔ وہابی امام کی اقتدا وپیروی سے بچنے ہی میں آخرت کی کامیابی و فوزو فلاح اور خوشنودیِ مولاہے۔

    عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہ جذبۂ صادق ہے کہ جس کے ذریعے قوم کے بے جان جسم میں زندگی کی حرارت دوڑائی جاسکتی ہے۔ ترکوں نے مسجد نبوی کی تعمیر عشق ومحبت کے ساتھ کی تھی اِس لیے مدتوں بعد بھی اُمتِ مسلمہ اُن کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے۔ ترکوں نے نبوی آثار، صحابہ واہلِ بیتِ اطہار کے مزارات نشان زَد کیے، اُن پر کتبے نصب کیے، سعودی حکومت نے انھیں مٹایا۔ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظیم والدہ حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے مزارِ اقدس کو شہید کر دیا۔ ولادت گاہِ نبوی کی شہادت کا منصوبہ بنایا۔ کتنے ہی آثار مٹا ڈالے اور اپنے دہشت گردانہ عزائم سے اسلامی تاریخ کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کیا۔ ایک طرف شاہانِ سعود کا ظلم ہے، اُن کی انگریز نوازی کی داستان ہے تو دوسری طرف ترکوں کی اسلام کے تئیں خدمات اور جاں نثاری و عشق رسالت کا جذبۂ فروزاں ہے، بے شک   ؎

جان ہے عشق مصطفٰی روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزا نازِ دوا اُٹھائے کیوں

     اللہ کریم ! محبوب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل حضور مفتی اعظم ہند علامہ محمد مصطفٰی رضا خان نوری علیہ الرحمہ کی اس دُعا کو شرفِ قبولیت سے نواز کر گستاخوں اور بے ادبوں کو نامُراد فرمائے اور حجازِ مقدس میں پھر سے خوش عقیدہ مسلمانوں کو خدمت کا شرف حاصل ہو   ؎

ترے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد
الٰہی! نکلے یہ نجدی بلا مدینے سے  
٭٭٭
  *نوری مشن، مالیگاؤں
,gmrazvi92@gmail.com  Cell. 09325028586

شَذرہ: یہ مضمون ٢٠١٤ء میں نوری مشن کی اشاعت "خاکِ حجاز کے نگہبان" کیلئے بطورِ تقدیم لکھا گیا؛ اسی سال شائع ہوا؛ افادۂ عام کی خاطر بزمِ مطالعہ کی نذر کیا جا رہا ہے... (٥ جون ٢٠٢١ء)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#تعدد_ازواج_اور_بھارتی_مذاہب

غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

اسے پروپیگنڈے کا اثر کہیں یا اپنی ہی تعلیمات سے لاتعلقی، کہ اس ملک کی اکثریت اُن باتوں کو لیکر اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے لگی ہے جو ان کی اپنی تہذیب اور ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔انہیں اہم مسائل میں تعدد ازواج بھی شامل ہے۔تعدد ازواج کا مطلب ہوتا ہے ایک سے زائد شادی کرنا۔جسے ہندی میں बहुविवाह اور انگریزی میں polygamy کہتے ہیں۔ہمارے ملک کے چند شاطر دماغوں نے مسلمانوں سے نفرت دلانے کے لیے اسلام کے تعدد ازواج قانون کو اپنا ہتھیار بنایا۔اپنی اس جارحانہ مہم کو مقبول بنانے کے لیے "ہم دو ہمارے پچیس" اور "ہم چار ہمارے چالیس" جیسے توہین آمیز اور مذاق بنانے والے نعرے بھی گڑھے۔اپنی اس مہم میں ان لوگوں نے ٹی وی، اخبار، میڈیا اور سنیما کا سہارا لیا اور بھارت کی اکثریت کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی کہ ایک سے زیادہ شادی کرنا سماجی عیب اور آوارگی کا کام ہے۔
اپنے اس تحریری سلسلے میں ہم بھارتی مذاہب اور تاریخ کے حوالے سے یہ ثابت کریں گے کہ تعدد ازواج بھارت میں موجود مذاہب وثقافت کا بنیادی حصہ رہا ہے۔

🔹 سناتن دھرم کے مطابق برہما (ब्रह्म) نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے۔رِشِی وِیاس کے مطابق برہما وہ بھگوان ہیں جن کے چار منہ ہیں اور وہ چاروں سمتوں میں دیکھتے ہیں۔ویدوں کے مطابق برہما خود سے پیدا ہیں۔ہندو پرانوں کے مطابق برہما جی کی تین بیویاں تھیں۔
1-ساوِتری۔2-گایتری۔3-سَرَس وَتی۔

سَرَسوَتِی پُران اور متسیہ پُران کے مطابق سَرَس وَتی برہما کی بیٹی تھی۔جس سے برہما نے شادی کرلی تھی۔سو سال تک یہ دونوں جنگل میں میاں بیوی بن کر رہے جس سے انہیں منو نامی بیٹا پیدا ہوا۔
(شیام بابو شرما Quora.com)

حالانکہ بعض لوگ اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ سرس وتی نام کی دو عورتیں تھیں ایک برہما کی بیوی اور دوسری برہما کی بیٹی۔ہم نامی کی وجہ سے بیٹی بیوی کے طور پر مشہور ہوگئی۔

ایک روایت کے مطابق برہما کی پانچ بیویاں تھیں۔مذکورہ تین بیویوں کے علاوہ میدھا اور شردھا نام کی دو بیویاں اور تھیں۔ان بیویوں سے برہما جی کو ڈیڑھ درجن کے آس پاس بیٹے پیدا ہوئے۔

🔹 آریہ دھرم کے بھگوان وشنو (विष्णु) کی ایک ہی بیوی لکشمی تھی مگر وشنو درجنوں اپسراؤں کو بیوی کی طرح رکھتے تھے۔ان سبھی سے ان کے سو سے زائد بیٹے پیدا ہوئے تھے۔

🔹 وشنو کے اوتار شری کرشنا تو تعدد ازواج کے معاملے میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔مہابھارت کے مطابق ان کی سولہ ہزار ایک سو آٹھ بیویاں تھیں۔جن میں سب سے پہلی بیوی رکمنی تھی۔باقی سولہ ہزار ایک سو سات لڑکیاں بُھومَاسُر نامی شخص نے اپنے قلعے میں قید کر رکھی تھیں۔اس کا ارادہ تھا کہ مزید کچھ لڑکیاں اکٹھا کی جائیں اور جب ان کی تعداد بیس ہزار ہوجائے تو ان سے شادی کی جائے۔مگر یہ لڑکیاں قید میں نہایت پریشان تھیں ان کی آہ وبکا سن کر کرشنا نے بُھومَاسُر کو مار ڈالا۔جب یہ لڑکیاں اپنے گھر پہنچیں تو ان کے اہل خانہ نے لڑکیوں کے کردار پر شک کیا اور انہیں اپنانے سے انکار کردیا۔کرشنا کو پتا لگا تو انہوں نے ان دوشیزاؤں سے شادی کرلی۔
(مہا بھارت: ادھیاے 52/ص1626)

سُمِت کمار نامی مضمون نگار آج تک کے نیوز ایپ پر بیس اگست 2019 کو شائع ایک اسٹوری میں لکھتے ہیں:
"پرانوں کے مطابق کرشنا کے ایک لاکھ اکسٹھ ہزار اسّی بیٹے اور سولہ ہزار ایک سو آٹھ بیٹیاں تھیں۔اس طرح کرشنا بھارت کے سب سے بڑے خاندان کے مکھیا بنے۔انہوں نے اپنے خانگی زندگی کا ہر حق ادا کیا۔"

🔹 سناتن دھرم کے بھگوان شوا بھی کئی بیویوں کے شوہر تھے۔دھرم شاستروں کے مطابق ان کی چار بیویاں تھیں:
1-ستی۔2-پاروَتی۔3-کالی۔4-اوما دیوی۔
اس کے علاوہ ایک اور بیوی گنگا کا نام بھی بیان کیا جاتا ہے۔

پرانوں کے مطابق شِو کے سات بیٹے تھے:
1-کارتکے- 2-گنیش۔ 3-سکیش۔ 4-بھوم- 5-ایپّا۔
6-جلندھر۔ 7-اندھک۔

اس کے علاوہ شِو کی پانچ بیٹیاں بھی تھیں۔ان لڑکیوں کے نام ہیں:
1-جیا۔ 2-وِش ہَر- 3-شامل باری۔ 4-دیو۔ 5-دوتلی تھا۔اس طرح شِو بھی چار بیویوں کے شوہر اور ایک درجن بچوں کے باپ تھے۔

24 شوال المکرم 1442ھ
6 جون 2021 بروز اتوار

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/928180974419088/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4011104619006939&id=100003223204679

*बहुविवाह और भारतीय धर्म-संस्कृति*

ग़ुलाम मुस्तफा नईमी
दिल्ली

इसे प्रोपगंडे का प्रभाव कहें या अपनी ही धार्मिक शिक्षाओं को न जानने का नुकसान कि इस देश के अधिकांश लोग इस्लाम और मुसलमानों से उन चीजों की वजह से नफरत करने लगे हैं जो उनकी अपनी संस्कृति और सभ्यता का महत्वपूर्ण हिस्सा रहे हैं। इन्हीं महत्वपूर्ण मुद्दों में बहुविवाह भी शामिल है। बहुविवाह का अर्थ है एक से अधिक विवाह, जिसे अंग्रेजी में polygamy कहा जाता है।

कुछ शातिर लोगों ने मुसलमानों को बदनाम करने के लिए "हम दो हमारे पच्चीस" और "हम चार हमारे चालीस" जैसे अपमानजनक नारे भी गढ़े। टीवी मीडिया और सिनेमा के जरिए लोगों के मन में यह प्रोपगंडा बिठा दिया कि बहुविवाह एक सामाजिक बुराई और आवारगी का काम है।

हम भारतीय धर्म पुराणों और इतिहास के संदर्भ में साबित करेंगे कि बहुविवाह भारत में मौजूद धर्मों और संस्कृतियों का प्रमुख हिस्सा रहा है।

📍सनातन धर्म के अनुसार, ब्रह्मा ने इस ब्रह्मांड को बनाया है। ऋषि व्यास के अनुसार, ब्रह्मा चार मुख वाले भगवान हैं और वे चारों दिशाओं में देखते हैं। ब्रह्माजी की तीन पत्नियां थीं।
1-सावित्री- 2-गायत्री- 3-सरस्वती।

सरस्वती पुराण और मत्स्य पुराण के अनुसार सरस्वती ब्रह्मा की पुत्री थी, जिस से ब्रह्मा ने विवाह कर लिया था।सौ वर्षों तक दोनों पति पत्नी की तरह जंगल में रहे। इस विवाह से उन्हें स्यंवभु मनु नाम का पुत्र हुआ।
(श्याम बाबू शर्मा Quora.com)

हालांकि, कुछ लोग इस की व्याख्या इस प्रकार करते हैं कि सरस्वती नाम की दो महिलाएं थीं, एक ब्रह्मा की पत्नी थी और दूसरी ब्रह्मा की बेटी थी। एक जैसे नाम के कारण, बेटी पत्नी के तौर पर प्रसिद्ध हो गई।

एक कथा के अनुसार ब्रह्मा जी की पांच पत्नियां थीं। उपरोक्त तीन पत्नियों के अलावा, मेधा और श्रद्धा नाम की दो अन्य पत्नियां भी थीं। इन पत्नियों से ब्रह्मा जी के लगभग डेढ़ दर्जन पुत्र पैदा हुए।

📍आर्य धर्म के भगवान विष्णु की पत्नी लक्ष्मी थीं, लेकिन विष्णु जी के सानिध्य में सौ से अधिक अप्सरायें भी रहती थीं। इन सभी से उनके सौ से अधिक पुत्र हुए।

📍 विष्णु के अवतार श्री कृष्ण बहुविवाह के मामले में अपना उदाहरण नहीं रखते। महाभारत के अनुसार, उनकी सोलह हजार एक सौ आठ पत्नियां थीं, जिनमें सब से प्रसिद्ध रुक्मणी थी। बाकी सोलह हजार आठ सौ सात कन्याऐं भूमासुर के किले में कैद थीं। कृष्ण ने उनकी दुर्दशा और चीख पुकार सुनी तो भूमासुर को मार डाला। जब ये लड़कियां अपने घर पहुंची, तो उनके परिवारों को लड़कियों के चरित्र पर संदेह हुआ। जिस के कारण उन्हें अपनाने से मना कर दिया।जब कृष्ण को पता चला तो उन्होंने इन युवतियों से शादी कर ली।
(महाभारत: अध्याय ५२/पृष्ठ १६२६)

लेखक सुमित कुमार 20 अगस्त 2019 को प्रकाशित 'आज तक' न्यूज़ ऐप पर एक लेख में लिखते हैं:
"पुराणों के अनुसार, कृष्ण के एक लाख इकसठ हजार अस्सी पुत्र और सोलह हजार एक सौ आठ बेटियां थीं। इस प्रकार कृष्ण भारत के सबसे बड़े परिवार के मुखिया बन गए। उन्होंने अपने घरेलू जीवन के सभी कर्तव्यों का निर्वाहन किया।"

📍 सनातन धर्म के भगवान शिव भी कई पत्नियों के पति थे।धर्म शास्त्रों के अनुसार, उनकी चार पत्नियां थीं:
1-सती-2-पार्वती-3-काली-4-उमा देवी।
एक अन्य पत्नी गंगा का भी नाम भी कथाओं में आता है।

पुराणों के अनुसार, शिव के सात पुत्र थे:
1-कार्तिकेय 2-गणेश 3-सुकेश 4-भौम 5-अयप्पा
6-जालंधर 7-अंधक।

शिव जी की पाँच बेटियाँ भी थीं नाम इस प्रकार हैं:
1-जया 2-विषहर 3-शामिल बारी 4-देव
5-दोतली।

इसी तरह,शिव भी चार पत्नियों के पति और एक दर्जन बच्चों के पिता थे।
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیا_اور_بہکتے_نوجوان

غلام مصطفےٰ نعیمی Ghulam Mustafa Naimi
روشن مستقبل دہلی

جب سے سوشل میڈیا پر شارٹ ویڈیو ایپ کا چلن شروع ہوا تو ہمارے آس پاس ایکٹروں، مسخروں، ڈانسروں اور نقالوں کی بڑی فوج تیار ہوگئی ہے۔اب اس فوج بلا خیز میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی شامل ہوگئی ہیں۔

پہلے پہل ان ویڈیو ایپ کو لوگ محض سستی تفریح کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس لیے اس کا چلن زیادہ نہیں تھا۔مگر ویڈیو کے ذریعے پیسہ کمانے کا آپشن معلوم ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان ایپوں پر شہر تو شہر دور افتادہ گاؤں دیہات کے لڑکے لڑکیوں نے بھی وہ طوفان اٹھایا کہ اللہ کی پناہ!
کھیتوں، کارخانوں میں کام کرنے والے، اینٹ بھٹوں پر مٹی گارا بنانے والے، رکشہ پٹری چلانے والے اور پس ماندہ گھرانوں کے لڑکے بھی خرمستیاں کرنے میں شہری چھوکروں سے کسی طور پر کم نہیں ہیں۔

کہاوت ہے ہے جب طوفان آتا ہے تو پہلے ہلکی ہلکی لہریں آتی ہیں۔آہستہ آہستہ کوڑا کرکٹ بہتا ہوا آتا ہے۔ اس کے بعد سیلاب آتا ہے تو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ایسا ہی معاملہ ان ایپ کے آنے کے بعد ہوا۔شروعاتی دور میں چند نِٹھلّے لڑکے ہی مسخری اور نوٹنکی کرتے پھرتے تھے مگر جیسے جیسے لہریں تیز ہوئیں سیلاب کی شدت بڑھتی گئی۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ گاؤں دیہات اور شریف گھرانوں کی لڑکیاں بھی چوری چھپے ویڈیو بنا بنا کر اپلوڈ کرنے لگیں۔

سوشل میڈیا ایک نشہ ہے جسے لگ جائے وہ ہر وقت اس کے خمار میں رہتا ہے۔اگر اس نشے میں پیسہ کمانے کا جنون بھی مل جائے تو نشہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ایسا ہی یوٹیوبر اور شارٹ ویڈیو بنانے والوں کے ساتھ ہورہا ہے۔اب انہیں محض ویڈیو بنانے پر تسلی نہیں ہوتی جب تک اس پر بڑی تعداد میں لائک ( Like) اور سبسکرائبر (Subscribers) نہ ملیں۔کیوں انہیں کی بنیاد پر ایپ کمپنیاں اور یوٹیوب پیسہ دیتا ہے۔اس لیے دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے ہر جتن کیا جاتا ہے۔
اسی خمار کا اثر ہے کہ شریف گھرانوں کی لڑکیاں تک فحش انداز میں ڈانسنگ ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر رہی ہیں اور لڑکے مکمل طور فلمی ایکٹروں کی طرح گالی گلوچ اور ہر طرح کی خرافات کو اپنا چکے ہیں۔کیوں کہ اس فیلڈ میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔لگاتار ویڈیو اپلوڈ ہورہے ہیں تو دیکھنے والوں کا ٹیسٹ بھی Better than best کی ڈیمانڈ کرنے لگا ہے۔اس لیے نئے سے نیا content اور presentation بہت اہم ہوگیا۔ٹی وی اور سنیما ایک انڈسٹری کے طور پر قائم ہیں۔جہاں ایک ایک سین کے لیے درجنوں ماہرین کی محنت وصلاحیت لگتی ہے تب کہیں جاکر ایک اچھا سین تیار ہوتا ہے۔مگر گلی محلوں میں شارٹ ویڈیو بنانے والے لڑکے لڑکیاں بمشکل دو چار کی ٹولیوں میں ہی ہوتے ہیں۔اور کچھ خاص پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے۔اس لیے لڑکے آہستہ آہستہ پھوہڑ باتوں اور گالی گلوچ کرنے پر اتر آئے ہیں جب کہ لڑکیاں فحش باتوں اور شہوت انگیز ڈانس پر اتر آئیں ہیں۔اگر وقت رہتے اس طوفان کی روک تھام نہ کی گئی تو خدا جانے انجام کیا ہوگا؟

کیسے ہو روک تھام؟

ارادے مضبوط ہوں تو ہر برائی کی روک تھام ممکن ہے۔مگر پریشانی جتنی بڑی ہوتی ہے محنت بھی اتنا ہی کرنا پڑتی ہے۔چونکہ سوشل میڈیا کی پہنچ اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس پر پابندی لگانا تو کسی کے لیے ممکن نہیں رہ گیا ہے لیکن اگر مضبوط قوت ارادی سے کام کیا جائے تو ہم کافی حد ان مسائل کی روک تھام کر سکتے ہیں۔اس مہم میں والدین، اساتذہ، ائمہ اور سماجی طور پر ذمہ دار ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔چند اہم نکات حاضر ہیں:
🔹 بچوں کو چپ کرانے یا ہنسنے ہنسانے کے لیے فلمی گانوں وغیرہ کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔بگاڑ کی شروعات ہمیشہ ایسے ہی ہوتی ہے۔
🔹 جس عمر میں بچے الفاظ سمجھنے لگیں اس وقت بھول کر بھی بچوں کے سامنے گالی گلوچ نہ کی جائے۔
🔹 زمانہ شناس اور سنجیدہ افراد کی ایسی ٹیم تیار کی جائے جو ان ایپ کو تعمیری کاموں میں استعمال کرنے کی تراکیب نکال سکیں اور نعم البدل تیار کر سکیں۔
🔹 مدارس واسکول میں کتابی فنون کے ساتھ ساتھ معاشرتی اخلاق وآداب لازمی سکھائے جائیں۔
🔹 اساتذہ خود اپنے طلبہ کے لیے رول ماڈل بنیں اور وقتاً فوقتاً ایسے موضوعات پر ماہرین کے خصوصی خطاب کرائے جائیں۔
🔹 ائمہ مساجد ایسے موضوعات پر اچھے اسلوب اور مہذب انداز میں روشنی ڈالیں تاکہ نوجوان نسل ان قباحتوں سے واقف اور متنفر ہو۔
🔹 ایسے موضوعات پر بازاری لب و لہجے اور غیر سنجیدہ انداز سے پرہیز کریں تاکہ فائدے کی جگہ نقصان نہ ہوجائے۔
🔹 سماجی طور منعقدہ مجلسوں میں گاہے گاہے ان امور پر بات چیت ہوتی رہے۔
🔹 والدین اپنے نوجوان بچے بچیوں پر خصوصی دھیان رکھیں۔انہیں بہکتا دیکھیں تو کمال حکمت کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔
🔹 ائمہ کرام اور سماجی ذمہ داران بھی ایسے مواقع پر اپنا مصلحانہ کردار ادا کریں تاکہ برائی کو پنپنے کا زیادہ موقع نہ مل سکے۔
اس کے علاوہ جو بھی مفید اور ضروری اقدامات ہو کئے جائیں تاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو روکا جاسکے اور اپنی جوانیوں کو بے مقصد اور غلط کاموں میں ضائع کرنے والے لڑکے لڑکیوں کو بے حیائی کے دلدل سے بچایا جاسکے۔

22 شوال المکرم 1442ھ
4 جون 2021 بروز جمعہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2838467276365014&id=100006053070670
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#علم_کا_شیدائی

غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

انیس سال کا بانکا سجیلا خوب رو جوان مروجہ علوم وفنون کی دستار سر پر سجائے اہل خانہ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔مگر آنکھوں میں علم کی تہوں تک جانے کا جذبہ رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ایک طرف زمانہ اس جوان کے علمی اٹھان اور فقہی شباب کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر رہا تھا مگر اس جوان کی طبیعت "ھل من مزید" کی طرف مائل تھی۔والد گرامی سے اپنے بیٹے کی یہ کیفیت پوشیدہ نہ تھی۔کچھ مخصوص احباب سے مشورہ کرنے کے بعد والد گرامی نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔

سنو شہزادے!

جی اباّ حضور!

جوان نے نہایت سعادت مندی سے والد گرامی کو جواب دیا اور بہ کمال نیاز مندی سر جھکا کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔

میرے لخت جگر!

آپ صرف میری ہی نہیں بلکہ اس عظیم خانوادے اور پوری جماعت کی امید ہو۔زمانہ ٹک ٹکی لگائے اُس شہزادے کا منتظر ہے جو اپنے اجداد کی علمی وراثت کا سچا جانشین ہو اور عالم اسلام کی علمی ودینی خدمات کا حق ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔

میرے چاند سے حسین بیٹے!

منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمی حاصل ہوتا ہے۔

جان پدر!

تمہاری آنکھوں میں مجھے وہ چمک نظر آتی ہے جس کے لیے تمہارے اجداد مشہور رہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ میں جاکر اکتساب علم کرو اور علم وفن کے نئے جہانوں کی تلاش کرو۔

حالانکہ میرا دل تمہاری جدائی کے خیال سے ہی بیٹھ جاتا ہے مگر اجداد کی امانت اور ملت اسلامیہ کی آرزوؤں کا خیال آتا ہے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔سوچتا ہوں کہ میرے دادا جان اور بابا کی روشن کی ہوئی علمی شمع کمزور نہ پڑ جائے اس لیے اس علمی چراغ میں تمہیں اپنی محنت ومشقت کا لہو ڈالنا ہے تاکہ اس کی لو تیز سے تیز تر ہو اور زمانہ اس کی روشنی میں صلاح وفلاح کا راستہ طے کر سکے!!

چند جملوں میں باپ نے پدرانہ شفقت، سوز وکرب ، ملی تڑپ ، غم امت، جدی امانت اور سینے میں اٹھ رہا سارا درد وکرب بیان کردیا۔کہتے ہوئے آنکھیں نم ہوگئیں مگر یہ آنسو صرف درد یا جدائی کا اظہاریہ نہیں تھے بلکہ آنسوؤں کی چمک اس عزم ویقین کا پتہ دے رہی تھی کہ عن قریب اُن کا شہزادہ علم وفضل کے اس مقام پر فائز ہوگا جس کی تمناؤں میں بڑے بڑے فرماں روا اور فلاسفر ناکام رہے۔

سعادت آثار بیٹے نے آگے بڑھ کر والد گرامی کو ہاتھوں کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور ادب کے ساتھ عرض کیا:
ابا جان!
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں تو کم ہے، جس نے وراثت نبوی کی پر نور وادیوں میں جانے کا ایک اور حسین موقع عطا کیا۔

اپنے مقدر پر نازاں ہوں کہ اجداد کی علمی وراثت کے لیے آپ کی زمانہ شناس نگاہوں نے میرا انتخاب کیا۔

آپ مطمئن رہیں میں طلب علم کی راہ میں ہر درد کو دوا اور ہر تکلیف کو راحت جان سمجھوں گا۔اکتساب علم کے اس سفر میں کیسی ہی پریشانیاں آئیں مگر آپ کا بیٹا عزم وحوصلے کی چٹان بن کر ثابت قدم رہے گا اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کے لیے اپنے تمام رنج و غم شربت شیریں کی طرح پی کر آپ کی تمناؤں کی تکمیل کرے گا۔

__جلد ہی پورے خاندان کی دعاؤں کا تحفہ لے کر یہ جوان عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ "جامعہ ازہر مصر" کے لیے روانہ ہوگیا۔

دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے رہے۔ابھی دو سال ہی کا سفر طے ہوا تھا کہ اچانک خبر ملی کہ عزیز از جان والد دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے۔

آہ!
دیار پردیس میں نازوں کا پالا لاڈلا شہزادہ اکیلا تھا۔واپس جاکر شفیق والد کی شفقتوں کو سمیٹنے اور ان کی محبتوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کی تمنا ہلورے مارتی تھی مگر آج اس خبر وحشت نے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کر ڈالا۔

سوچا تھا کہ جامعہ ازہر سے علمی رفعتوں کا تاج سجا کر والد گرامی کی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں گا مگر قسمت نے اتنا موقع ہی نہیں دیا اور جس مہربان باپ نے اپنی محبت واپنائیت کی چھاؤں میں رخصت کیا تھا آج وہی شجر سایہ دار رخصت ہوگیا۔

دل کا درد آنکھوں سے آنسو بن کر نکلنے لگا۔پورا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔رہ رہ والد کی شفقتیں یاد آتیں تو آنکھوں سے برستا ساون اور تیز ہوجاتا۔رنج وغم کی لہریں پورے وجود کو حصار میں لے چکی تھیں اچانک والد گرامی کے الفاظ کانوں میں گونجے:

"میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمیٰ حاصل ہوتا ہے۔"