🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Yeh Post 33 Zabaan Men↴
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/336046711480144/
یہ پوسٹ 33 زبان میں ↑
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ملالہ یوسف زئی نوبل سے vogue کے کور پیج تک

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین :تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی

امریکا کی مشہور، ماہانہ فیشن میگزین vogue (1892 سے شائع ہو رہی ہے) جو قریب 21 ملکوں سے شائع ہوتی ہے اس نے اپنے برٹین سے شائع ہونے والے جولائی 2021 کے شمارے کے لیے نوبل انعام یافتہ پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کا انتخاب کیا ہے، میگزین نے کئی ٹوئٹ کئے ہیں جس میں ملالہ کی مختلف تصاویر شائع کیں ہیں اور ساتھ ہی کافی تعریف بھی کی ہے، اس میگزین کے جتنے بھی شمارے آپ دیکھیں گے، فیشن، ماڈلنگ، ایکٹنگ کے ماہرین کی نیم یا قریب عریاں تصاویر شائع کی ہیں، حال ہی میں ملالہ نے بھی فوٹو شوٹ کرایا ہے.
ملالہ اس میگزین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ٹوئٹ کرتی ہیں

I know the power that a young girl carries in her heart when she has a vision and a mission – and I hope that every girl who sees this cover will know that she can change the world. Thank you @BritishVogue.

میں اس طاقت کو جانتی ہوں جو ایک جوان لڑکی کے دل میں ہوتی ہے - جب اس کے پاس ایک مقصد اور ایک مشن ہوتا ہے - اور مجھے امید ہے کہ ہر وہ لڑکی جو اس "کَوَر" کو دیکھے گی وہ جان لے گی کہ وہ دنیا کو تبدیل کرسکتی ہے۔ (شکریہ برٹش ووگ)

*کچھ ملالہ کے بارے میں.*

ملالہ یوسف زئی 12 جولائی سنہ 1997 میں پاکستان کی وادی سوات میں پیدا ہوئ ۔ سنہ 2012 میں طالبان کی فائرنگ کی زد میں آئی اسے گولی لگی لیکن بچ گئی، اس کے بعد وہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدو جہد کی علامت بن گئی۔

سنہ 2013 میں ملالہ اور ان کے والد ضیاء الدین یوسف زئی نے لڑکیوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ملالہ فاؤنڈیشن قائم کیا ۔ ملالہ یوسف زئی 10 دسمبر 2014 میں دنیا کی سب سے کم سن نوبل امن انعام جیتنے والی شخصیت بنی تھیں۔ ملالہ اب تک نوبیل امن انعام، سخاروف اور ورلڈ چلڈرن پرائز سمیت 40 سے زیادہ بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ 4 جنوری 2021 کی خبر کے مطابق ملالہ اب پاکستان کے علاوہ افریقا، شام اور دیگر خطوں کے تعلیم سے محروم بچوں کی بھی آواز بن گئی ہیں۔
امریکا نے ملالہ اسکالر شپ بھی جاری کی ہے جس سے امریکا میں مقیم پاکستانی لڑکیوں کو تعلیم کے حصول میں آسانی ہوگی، 17 اگست 2020 کو کینیڈا کے ایک صوبے "انٹاریو" کے "برامپٹن" میں چھوٹے بچوں کے لیے قائم کیے گئے ایک نئے سرکاری اسکول کا نام امن کے لیے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی سے منسوب کیا گیا ہے.

*امریکا، انگلینڈ اتنے مہربان کیوں؟*

عراق، افغانستان، شام، لیبیا، مصر جیسے ممالک کو خون سے نہلانے والے یہ دونوں ملک ایک مسلم لڑکی پر اس قدر مہربان ہوتے ہیں کہ پاکستان سے لے جا کر انگلینڈ میں رکھتے ہیں، سارے خرچ اٹھاتے ہیں، نوبل انعام کے لیے منتخب بھی کرتے ہیں اور ہزاروں مہربانیاں کرتے ہیں کیا یہ بغیر کسی مطلب کے ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں! ہزاروں، بل کہ لاکھوں ملالاؤں کو ڈرون، جنگی طیاروں اور قسم قسم کے ہتھیاروں سے اس طرح ختم کرنا کہ انکے اعضا بھی جنازہ کے لیے نہ مل سکیں، ہزاروں بچوں کو جنھوں نے ابھی ٹھیک سے بولنا بھی نہ سیکھا تھا انھیں موت کی نیند سلادینا، ہنستے مسکراتے ملک کے ملک تباہ کردینے والے اتنے مہربان بلا سبب تو نہیں ہو سکتے......ع کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے.
....... پھر ایک ملالہ کو لے جاکر سیکولرازم کی گھٹی پلانا، پھر فیشن میگزین میں چھاپ کر یہ تاثر دینا کہ ہم مسلمانوں سے نفرت نہیں کرتے، ہم ان کی زندگیوں کو سنوارتے ہیں، جہاں یہ اپنی شبیہ کو سونے کے پانی سے چمک دار بنانا چاہتے ہیں وہیں یہ بھی تاثر دینا چاہتے ہیں کہ مسلمان بچیوں کو ملالہ کی طرح بن کر، اپنے مذہب سے بیزار ہو کر عریانیت، لادینیت کی ہر فیلڈ میں قسمت آزمانا چاہیے.

*سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے*

امریکا، انگلینڈ نے مسلم ممالک کو جس قدر تہس نہس کیا ہے اس کے بعد ان سے کسی بھلائی کی امید ایسی ہی جیسے گدھے کے سر میں سینگ اگنے کی امید، در اصل یہ سافٹ کلنگ ہے، پہلے تو زندگی چھین لو پھر جو زندگیاں بچ جائیں ان کو دوسرے طریقے سے استعمال کرو، دنیاوی سبز باغ دکھا کر ان کے ذریعے لاکھوں مسلم بچیوں کو ملالہ کی راہ پر ڈال دو، ان پر چند پیسے خرچ کرکے جھوٹی آزادی کا نعرہ دے کر قوم مسلم کو اندر اور باہر دونوں طرح سے کمزور کرنا ہی ان کا مقصد ہے.

ڈاکٹر اقبال نے اسی تھیوری کے لیے کہا تھا

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
وہ فاقہ کش کے موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو (صلی اللہ علیہ وسلم)

*ہم کیا کریں؟*
آج ملالہ ایک آئیڈیل ہے اور یہ آئیڈیل امریکا، انگلینڈ بیسڈ ہے اس لیے جب ہمارے بچے اس طرح کے لوگوں کو دیکھ کر اس طرف راغب ہو رہے ہوں تو ہمیں اپنے بچوں کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی ضرورت ہے، جو رخ وہ دیکھ رہے ہیں پروپیگنڈہ ہے اور جو رخ ہم دکھا رہے ہیں وہ حقیقت ہے، پروپیگنڈہ تو پروپیگنڈا ہی ہوتا ہے اس کی اس قدر ململع سازی ہوتی ہے کہ کچھ وقت کے لیے اصل سے بھی دھیان بھٹک جاتا ہے مگر حققیت پسند لوگ پروپیگنڈہ کے پیچھے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں احساس ہو جاتا ہے کہ "ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی" پروپیگنڈہ أور جعل سازی کے اس دور میں ہمیں اپنے بچوں، بھائیوں، عزیز و اقارب کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے تاکہ ہمارے ہی آس پاس ایک ایسی دنیا نہ بسے جسے ہم، ہمارا مذہب بالکل پسند نہیں کرتے اور نہ ہی وہ انسانیت کے لئے مفید ہے.

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہاے مسافر دم ميں نہ آنا مت کیسی مت والی ہے (اعلی حضرت)

2/6/2021

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/926084207962098/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#سوشل_میڈیا_اور_بہکتے_نوجوان

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

جب سے سوشل میڈیا پر شارٹ ویڈیو ایپ کا چلن شروع ہوا تو ہمارے آس پاس ایکٹروں، مسخروں، ڈانسروں اور نقالوں کی بڑی فوج تیار ہوگئی ہے۔اب اس فوج بلا خیز میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی شامل ہوگئی ہیں۔

پہلے پہل ان ویڈیو ایپ کو لوگ محض سستی تفریح کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس لیے اس کا چلن زیادہ نہیں تھا۔مگر ویڈیو کے ذریعے پیسہ کمانے کا آپشن معلوم ہوا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان ایپوں پر شہر تو شہر دور افتادہ گاؤں دیہات کے لڑکے لڑکیوں نے بھی وہ طوفان اٹھایا کہ اللہ کی پناہ!
کھیتوں، کارخانوں میں کام کرنے والے، اینٹ بھٹوں پر مٹی گارا بنانے والے، رکشہ پٹری چلانے والے اور پس ماندہ گھرانوں کے لڑکے بھی خرمستیاں کرنے میں شہری چھوکروں سے کسی طور پر کم نہیں ہیں۔

کہاوت ہے ہے جب طوفان آتا ہے تو پہلے ہلکی ہلکی لہریں آتی ہیں۔آہستہ آہستہ کوڑا کرکٹ بہتا ہوا آتا ہے۔ اس کے بعد سیلاب آتا ہے تو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ایسا ہی معاملہ ان ایپ کے آنے کے بعد ہوا۔شروعاتی دور میں چند نِٹھلّے لڑکے ہی مسخری اور نوٹنکی کرتے پھرتے تھے مگر جیسے جیسے لہریں تیز ہوئیں سیلاب کی شدت بڑھتی گئی۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ گاؤں دیہات اور شریف گھرانوں کی لڑکیاں بھی چوری چھپے ویڈیو بنا بنا کر اپلوڈ کرنے لگیں۔

سوشل میڈیا ایک نشہ ہے جسے لگ جائے وہ ہر وقت اس کے خمار میں رہتا ہے۔اگر اس نشے میں پیسہ کمانے کا جنون بھی مل جائے تو نشہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ایسا ہی یوٹیوبر اور شارٹ ویڈیو بنانے والوں کے ساتھ ہورہا ہے۔اب انہیں محض ویڈیو بنانے پر تسلی نہیں ہوتی جب تک اس پر بڑی تعداد میں لائک ( Like) اور سبسکرائبر (Subscribers) نہ ملیں۔کیوں انہیں کی بنیاد پر ایپ کمپنیاں اور یوٹیوب پیسہ دیتا ہے۔اس لیے دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے ہر جتن کیا جاتا ہے۔
اسی خمار کا اثر ہے کہ شریف گھرانوں کی لڑکیاں تک فحش انداز میں ڈانسنگ ویڈیو بنا کر اپلوڈ کر رہی ہیں اور لڑکے مکمل طور فلمی ایکٹروں کی طرح گالی گلوچ اور ہر طرح کی خرافات کو اپنا چکے ہیں۔کیوں کہ اس فیلڈ میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔لگاتار ویڈیو اپلوڈ ہورہے ہیں تو دیکھنے والوں کا ٹیسٹ بھی Better than best کی ڈیمانڈ کرنے لگا ہے۔اس لیے نئے سے نیا content اور presentation بہت اہم ہوگیا۔ٹی وی اور سنیما ایک انڈسٹری کے طور پر قائم ہیں۔جہاں ایک ایک سین کے لیے درجنوں ماہرین کی محنت وصلاحیت لگتی ہے تب کہیں جاکر ایک اچھا سین تیار ہوتا ہے۔مگر گلی محلوں میں شارٹ ویڈیو بنانے والے لڑکے لڑکیاں بمشکل دو چار کی ٹولیوں میں ہی ہوتے ہیں۔اور کچھ خاص پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے۔اس لیے لڑکے آہستہ آہستہ پھوہڑ باتوں اور گالی گلوچ کرنے پر اتر آئے ہیں جب کہ لڑکیاں فحش باتوں اور شہوت انگیز ڈانس پر اتر آئیں ہیں۔اگر وقت رہتے اس طوفان کی روک تھام نہ کی گئی تو خدا جانے انجام کیا ہوگا؟

کیسے ہو روک تھام؟

ارادے مضبوط ہوں تو ہر برائی کی روک تھام ممکن ہے۔مگر پریشانی جتنی بڑی ہوتی ہے محنت بھی اتنا ہی کرنا پڑتی ہے۔چونکہ سوشل میڈیا کی پہنچ اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس پر پابندی لگانا تو کسی کے لیے ممکن نہیں رہ گیا ہے لیکن اگر مضبوط قوت ارادی سے کام کیا جائے تو ہم کافی حد ان مسائل کی روک تھام کر سکتے ہیں۔اس مہم میں والدین، اساتذہ، ائمہ اور سماجی طور پر ذمہ دار ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔چند اہم نکات حاضر ہیں:
🔹 بچوں کو چپ کرانے یا ہنسنے ہنسانے کے لیے فلمی گانوں وغیرہ کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔بگاڑ کی شروعات ہمیشہ ایسے ہی ہوتی ہے۔
🔹 جس عمر میں بچے الفاظ سمجھنے لگیں اس وقت بھول کر بھی بچوں کے سامنے گالی گلوچ نہ کی جائے۔
🔹 زمانہ شناس اور سنجیدہ افراد کی ایسی ٹیم تیار کی جائے جو ان ایپ کو تعمیری کاموں میں استعمال کرنے کی تراکیب نکال سکیں اور نعم البدل تیار کر سکیں۔
🔹 مدارس واسکول میں کتابی فنون کے ساتھ ساتھ معاشرتی اخلاق وآداب لازمی سکھائے جائیں۔
🔹 اساتذہ خود اپنے طلبہ کے لیے رول ماڈل بنیں اور وقتاً فوقتاً ایسے موضوعات پر ماہرین کے خصوصی خطاب کرائے جائیں۔
🔹 ائمہ مساجد ایسے موضوعات پر اچھے اسلوب اور مہذب انداز میں روشنی ڈالیں تاکہ نوجوان نسل ان قباحتوں سے واقف اور متنفر ہو۔
🔹 ایسے موضوعات پر بازاری لب و لہجے اور غیر سنجیدہ انداز سے پرہیز کریں تاکہ فائدے کی جگہ نقصان نہ ہوجائے۔
🔹 سماجی طور منعقدہ مجلسوں میں گاہے گاہے ان امور پر بات چیت ہوتی رہے۔
🔹 والدین اپنے نوجوان بچے بچیوں پر خصوصی دھیان رکھیں۔انہیں بہکتا دیکھیں تو کمال حکمت کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔
🔹 ائمہ کرام اور سماجی ذمہ داران بھی ایسے مواقع پر اپنا مصلحانہ کردار ادا کریں تاکہ برائی کو پنپنے کا زیادہ موقع نہ مل سکے۔
اس کے علاوہ جو بھی مفید اور ضروری اقدامات ہو کئے جائیں تاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کو روکا جاسکے اور اپنی جوانیوں کو بے مقصد اور غلط کاموں میں ضائع کرنے والے لڑکے لڑکیوں کو بے حیائی کے دلدل سے بچایا جاسکے۔

22 شوال المکرم 1442ھ
4 جون 2021 بروز جمعہ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/927327781171074/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
انسانی سماج کے لیے نکاح کیوں ضروری ہے؟

تحریر : مولانا حافظ محمد یعقوب نقشبندی (اِٹلی)

ایک صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی وہ کہنے لگے علامہ صاحب عقلی اعتبار سے آپ کو کیا اعتراض ہے اگر لڑکا اور لڑکی اپنی مرضی سے بغیر نکاح پڑھے اور تحریر کیے رہنا چاہیں تو آپ کو کیا مسئلہ ہے؟
میں نے عرض کیا مسئلہ مجھے نہیں؛ انہی کے مسئلہ کی فکر ہے..
اسی طرح جس طرح دنیا کے کسی بھی ادارے کو فکر ہوتی ہے..
پارلیمنٹ کو فکر قانون بنانے کی
سیکورٹی اداروں کو فکر لوگوں کو سیکیور کرنے کی
پولیس کو فکر قانون لاگو کرنے کی
کسی ادارے کو فکر تجارت بڑھانے اور خسارہ کم کرنے کی...
آپ سے پوچھا جائے کہ اداروں کو فکر کرنا چاہیے یا نہیں...
تو جواب یہ آیا کہ کیوں نہیں ان کو فکر کرنا چاہیے ملک و ملت کی سلامتی اور معاشی بحران سے بچنے اور معاشی ترقی کے لیے
میرے بھائی اسی طرح ایک مذہبی رہنما کو فکر ہے معاشرتی نظام کو بگاڑ سے بچانے کی۔
میں نے ایک اور چھوٹا سا سوال کیا : وہ نکاح پڑھنا اور لکھنا کیوں نہیں چاہتے...
جواب یہ تھا کہ ان کا اعتماد ہے ایک دوسرے پر
میں یہ کہتا ہوں کہ کیا یہ واحد جگہ ہے اعتماد کی؟ باقی مقامات پر ایسا کیوں نہیں.. ؟
میرا سوال ہے؛ تمام بے نکاح کے حمایتیوں سے
زمین کی رجسٹری کیوں ضروری ہے؛ جو رہے زمین اسی کی
مکان کی ملکیت لکھنا کیوں ضروری ہے
حتیٰ کہ کرایہ نامہ بھی لکھا جاتا ہے
گاڑی کا مالک کون ہے یہ بھی لکھا جاتا ہے
قرض کے لین دین کا معاہدہ کرنے والوں کے درمیان معاہدہ کی شرائط بھی لکھی جاتی ہیں
کتنی تنخواہ ملے گی یہ بھی لکھا جاتا ہے
حکومت کہتی ہے تو نے سال میں کتنا کمایا یہ بھی لکھا ہوا دکھاؤ
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہر جگہ پر بے اعتباری ہے....
مگر لڑکی اور لڑکے کے رشتے میں مکمل اعتبار ہے کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟
اگر دنیا کے لوگوں پر اتنا ہی اعتبار ہے:
تو کوئی پلاٹ بغیر رجسٹری کے خرید کر دکھاؤ..
گاڑی بغیر نام کے رکھ کر دیکھاؤ...
کرایہ نامہ لکھے بغیر مکان لے دے کر دکھاؤ...
کسی بینک سے بغیر لکھے قرضہ لے کر دکھاؤ...
پھر وہ صاحب کہنے لگے :
اگر ان کے اس رشتے سے کوئی نقصان ہوا تو ان کا ہی ہوگا آپ کا تو نہیں؟
میں نے کہا پولیس کو کیا اعتراض ہے اگر میں روڈ پر تیز رفتاری سے گاڑی چلاؤں گاڑی میری ٹوٹے گی؛ نقصان بھی میرا ہوگا پولیس مجھے کیوں جرمانہ کرے.....؟
تو صاحب کا جواب تھا؛ ساتھ آپ کسی اور کا بھی نقصان کریں گے اور نظام کی خرابی کا باعث بھی بنیں گے....
میں یہ کہتا ہوں کہ ایسے لوگ شریعت کا مذاق اڑاتے ہی ہیں، معاشرتی نظام کی خرابی کا باعث بھی ہیں اس لیے ان کی حمایت کسی طرح بھی نہیں کی جاسکتی۔

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/927577897812729/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ڈکٹیٹر شپ کی طرف بڑھتی عالمی سیاست

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن :روشن مستقبل دہلی

جمہوریت کے فروغ کے لئے یوروپ نے سالوں دن رات کوشش کی اور جب وہ اس نظام کو ساری دنیا میں لاگو کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس نظام کی قلعی کھلنے لگی ہے، جس ملمع سازی سے اس نظام کو پیش کیا گیا تھا وقت کے ساتھ اس کی مصنوعی چمک ماند پڑنے لگی ہے جو کہ فطری ہے.... ایک بار پھر دنیا اس سر گننے والے نظام کی حقیقت کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، جمہوری نظام کے ارتقائی دور میں اسے اس لیے بھی کامیابی ملی کیوں کہ شاہانہ نظام کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیا گیا، لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ہم ایک ایسا نظام پیش کر رہے ہیں جس میں ملک کا صدر اور ایک عام آدمی قانون کی نظر میں برابر ہوگا، نیز جمہوری نظام وہ طرز حکومت ہے جس میں آپ خود اپنا نمائندہ منتخب کرسکیں گے، گویا عام آدمی براہ راست حکومت سازی کرنے کا اہل ہوگا، اور اگر آپ کی امیدوں پر آپ کا منتخب نمائندہ کھرا نہ اترے تو آئیندہ آپ اسے حکومت سے باہر کر سکیں گے، یعنی جمہوری نظام عوام کے ہاتھ ہوگا،صدیوں سے چلے آرہے شاہانہ نظام کے خلاف کچھ غیر منصف بادشاہوں کے ظلم و جبر کی داستانیں بتائی جاتی رہیں اور لوگوں کے اذہان کو آزادی کے نعروں کے ذریعے برین واش کیا گیا، حالاں کہ طرز حکومت کے دونوں طریقوں کا موازنہ کریں تو جمہوری نظام حکومت زیادہ نقصان دہ پائیں گے.(یہ ایک مستقل موضوع ہے لہذا اس پر کبھی تفصیلی گفتگو ہوگی)

*اسرائیلی صدر نیتن یاہو کرسی چھوڑنے کو تیار نہیں*

بنیامین نیتن یاہو 21 اکتوبر 1949 کو پیدا ہوئے وہ ایک اسرائیلی سیاستدان ہے جو 2009 کے بعد سے اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، اس سے قبل وہ 1996 سے 1999 تک اس کردار میں فرائض سرانجام دے چکے ہیں........انھیں تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اسرائیلی وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہے - *مزے کی بات* یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے اعلانِ آزادی کے بعد اسرائیل میں پیدا ہونے والے پہلے شخص بھی ہیں۔ (وکی پیڈیا، مفہموما)

...... اسرائیل میں پچھلے دو سالوں میں چار بار انتخابات ہو چکے ہیں لیکن کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکی ہے، نیتن یاہو اپنی کرسی بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جس کی ایک کڑی اسرائیل، فلسطین جنگ بھی ہے جو 10 مئی سے شروع ہو کر 21 مئی 2021 کو ختم ہوئی ہے، جنگ شروع کرکے اسرائیلی صدر دیش بھکتی کا لالی پوپ دے کر حزب مخالف پر عوامی دباؤ بنانا چاہ رہے تھے تاکہ ان کی حکومت کی راہ کے روڑے ہٹ جائیں، مگر معاملہ الٹا پڑ گیا، جنگ روکنا پڑی، اقوام متحدہ میں کراری شکست اور دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند ہوئی جس سے نیتن یاہو کی شبیہ اور مجروح ہوئی ہے اور اب کوئی بھی پارٹی ان سے اتحاد کو تیار نہیں ہے-

یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے سیاسی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کا حکومت میں آنے کا راستہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بنیامین نتن یاہو نے اسرائیلی پارلیمان کے دائیں بازو کی جماعت کے اراکین سے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے اتحاد کو حکومت بنانے سے روکیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میں اقتدار میں نہیں رہتا تو یہ اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہوگا، وہ وہائٹ ہاؤس میں کیا کریں گے، ایران میں کیا کریں گے؟ دنیا کے سامنے اسرائیل کو کیسے پیش کریں گے؟

اسرائیل کی حزبِ اختلاف کی آٹھ جماعتیں بدھ کے روز ایک نئی حکومت تشکیل دینے پر متفق ہو گئی ہیں جس کے بعد بنیامین نتن یاہو کا اسرائیلی وزیر اعظم کی حیثیت سے 12 سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا- اسی کو لے کر انھیں سخت بے چینی ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ حزب مخالف حکومت نہ بنا پائیں -

*قوانین میں تبدیلی کرکے راہیں ہموار کرتے لیڈر*

ولاديمير پوتين (پیدائش 7 اکتوبر 1952)پہلی بار بطور وزیرِ اعظم کے عہدے پر 1999 میں نامزد ہوئے تھے - پھر وہ 2000 - 2008 تک صدر رہے - اور اس کے بعد پھر وزیر اعظم کی حیثیت سے 2008 - 2012 تک ملک کی باگ ڈور سنبھالے رہے، 2012 میں ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہوئے ۔(بی بی سی اردو، 25 جون 2020)

*ریفرنڈم کی ضرورت کیوں پڑی؟*

چوں کہ قانون بدلنا تھا تاکہ اپنی کرسی کو تادیر قائم رکھا جا سکے اس لیے روسی صدر نے ملک کے آئین میں عوامی حمایت کے ساتھ ترمیم کی ایک تجویز دی۔ ترمیم کے لیے ریفرنڈم میں ایک اہم نکتہ صدر پیوتن کے آئندہ دو مرتبہ چھ چھ برس کی دو مدتوں کے لیے صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دینا تھا، جس سے وہ 2036 تک کے انتخابات میں حصہ لے سکیں گے، یعنی 75 سالہ روسی صدر تاحیات روس کے صدر بنے رہنا چاہتے ہیں اور فی الحال تو وہ کامیاب دکھ رہے ہیں، لیکن سیاست میں کب کیا ہوجائے اس کا اندازی کسی کو نہیں ہوتا.
...... پوتین نے اپنے اقتدار کے پہلے تین مہینوں میں جب ان کی حکومت تشکیل پا رہی تھی، طبقہِ امراء اور کریملِن و دیگر گروپوں کو سنبھلنے کا موقعہ ہی نہیں دیا، ساتھ ہی انھوں نے میڈیا کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لیا۔ ویسے تو روس میں چینلز نیوز دکھاتے نہیں اگر دکھاتے بھی ہیں تو گودی میڈیا ٹائپ، اگر کسی نے حکومت کے خلاف نیوز چلائی تو اس کی سزا یقینی ہے،خلاصہ یہ کہ ان کے اِس طریقہ نے ان کا حکم رانی کا انداز بھی متعین کردیا ہے، ساتھ ہی دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں کے مابین قانون کو اپنے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرنا سکھایا دیا ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ بھارت کی طرح "راشٹر واد" کے نام پر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بناکر کیا جارہا ہے - اب ساری دنیا کے بڑے لیڈر تانا شاہی رویہ اختیار کرتے جارہے ہیں اور عوام اپنے کو ٹھگا سا محسوس کر رہی ہے-

*شي جن پنگ بھی روس کے نقش قدم پر*

شی جن پنگ( 15 جون 1953) فوپنگ کاؤنٹی شانکسی صوبہ چین میں پیدا ہوئے۔ چینی سیاست دان جنھوں نے پیپل رپبلک چین کے نائب صدر کی حیثیت سے 2008-2013 رہے، 2012 سے جنرل سیکٹری چین کمیونسٹ پارٹی رہے اور 2013 سے چین کے صدر ہیں۔ (وکی پیڈیا)

2013 میں چین کے صدر چنے جانے والے شی جن پنگ کے تعلق سے کس نے سوچا تھا کہ وہ ساری روایات، قوانین کو بدل دیں گے اور اپنے لئے نئی راہیں نکالیں گے، چینی صدر نے پہلے چار سالوں میں پارٹی کے اندر اپنے لوگ رکھے، مخالفین کو دور کیا، دس لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کو بد عنوانی، رشوت جیسے معاملات میں ملوث ہونے کی بات کہہ کر راستے سے ہٹادیا، کرپشن کے خلاف زبردست مہم چلائی جس سے وہ اور طاقت ور ہوتے گئے - اور پھر اپنی صدارت کے اختتام کے وقت انھوں نے چینی قانون جو صدر اور نائب صدر کو اپنے عہدوں پر صرف دو بار ہی تک محدود کرتا تھا، بدل دیا، اور اس طرح وہ چین کے سب سے طاقت ور صدر بن گئے جو آگے بھی کرسی صدارت پر رہیں گے، بل کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تا حیات اپنے عہدے پر برقرار رہیں-

*امریکا میں جمہوریت کا قتل*

ڈونلڈ ٹرمپ (پیدائش 14 جون، 1946ء) امریکا کی ایک کاروباری شخصیت جو سنہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے نتیجہ میں ریاستہائے متحدہ کے پینتالیسویں صدر منتخب ہوئے۔ ٹرمپ کو سب سے زیادہ شہرت امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر ملی، محض چار سالوں کے دور اقتدار نے ٹرمپ کا دماغ خراب کردیا، اکثر مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرتے رہے، امریکی صدر امریکیوں میں کافی حد تک انڈیا کی طرح "راشٹر واد" کا چورن بانٹتے رہے، جس کا نتیجہ ہم نے حال ہی میں ہونے والے الیکشن میں دیکھا، ٹرمپ نے ہر وہ حربہ اپنایا جو وہ اپنا سکتے تھے، غلط جان کاری بھی عام کی جس کی وجہ سے ٹویٹر اور فیس بک نے ان کے اکاؤنٹ بلاک کردیے، ایک چینل پر لائو غلط جان کاری دیتے ہوئے پائے جانے پر اس چینل نے ان کا پروگرام دکھانا بند کر دیا یہی نہیں بل کہ چینل نے صاف کہا کہ جو جان کاری مسٹر پریسیڈنٹ دے رہے تھے وہ صحیح نہیں تھی- الیکشن کے نتیجوں کے دوران ان کے پیدہ کردہ راشٹر وادی لوگوں نے "وہائٹ ہاؤس" اور وہائٹ ہاؤس کی تاریخ دونوں کو " سیاہی" میں تبدیل کردیا -

*بھارت بھی اسی لائن پر چل رہا ہے*

نریندر دامودر داس مودی : بھارتی سیاست دان اور موجودہ وزیر اعظم ہیں۔ اس سے قبل مودی پندرہ سالوں تک گجرات کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کی پیدائش 17 ستمبر 1950ء کو شمالی گجرات کے مہسانہ ضلع میں ہوئی۔ مودی کا سیاسی سفر 1984ء میں شروع ہوا۔

2014 میں نریندر مودی وزیر اعظم بنے اور پھر طرح طرح کی چیزیں دیکھنے کو ملیں، انڈین سیاست کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے، کانگریس کو پورے ملک سے تقریبا ختم کردیا اور کانگریس اپنی زمین تلاش کر رہی ہے، وزیر اعظم نے ایک نعرہ بھی تھا "کانگریس مُکت بھارت" جو تقریبا پورا ہوتا دکھ رہا ہے، 2019 آتے آتے ملک کے اکثر صوبوں میں بی جے پی قبضہ کر چکی تھی، بابری مسجد قضیہ، رام مندر تعمیر نے ہندو نوجوانوں میں مصنوعی "راشٹر واد" اور مسلم منافرت کو بڑھاوا دیا اور وزیر اعظم کئی ایسے قانون لے کر آئے جو ملکی قوانین سے ہی ٹکراتے ہیں، نیز اقلیتوں پر بڑھتے مظالم پر خاموشی نے انھیں شدت پسند ہندوؤں کے درمیان بہت مقبولیت دلائی ہے، کووڈ کے دوران تالی، تھالی بجانا ہو یا دیپ(چراغ) جلانا یا نوٹ بندی، جی ایس ٹی، لاک ڈاؤن ہر معاملے میں وزیر اعظم عوام کے جذبات کو قابو رکھنے میں کامیاب رہے ہیں اور یہ جادو اب بھی برقرار ہے، اس جادو میں کمی ضرور دکھی ہے لیکن الیکشن آتے آتے وہ اسے کور کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں،بھارتی وزیر اعظم اور ان کی پارٹی بھی ملکی قوانین میں تبدیلی کرکے بہر صورت انڈیا کو ایک جمہوری ملک کی بجائے "ہندو راشٹر" کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے، اس کے لیے وہ پارلیمنٹ سے لے کر گاؤں کی گلیوں تک اپنی جماعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے.