سادہ مزاج سنی لوگو ں سے بولا کہ دیوبندی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیےکیونکہ
نماز ان کے پیچھے ہوتی ہی نہیں.
لوگوں میں سے کچھ نے اعتراض کردیا تو اس سنی نے کہا
دیکھو بھائی میں سمجھاتا ہوں.سب بغوراس کی بات سننے لگے:
اگر کسی مسجد کے امام صاحب کچھ دنوں کے لیے باہر چلے جائیں اور کہہ جائیں دیکھو جب تک میں واپس نہیں آجاتا نماز میری بیوی پڑھائے گی کیونکہ وہ اللہ کی بندی ہے.
تو بتاو کیا تم لوگ امام کی بیوی کے پہچھے نماز پڑھو گے؟؟؟؟
سارے سامعین غصے میں بولے بندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی؟
سنی بولا جب اللہ کی بندی کے پیچھے نماز نہیں ہوگی تو پھر دیوبندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی.. 🤣
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014982995447674&id=100008080090753
نماز ان کے پیچھے ہوتی ہی نہیں.
لوگوں میں سے کچھ نے اعتراض کردیا تو اس سنی نے کہا
دیکھو بھائی میں سمجھاتا ہوں.سب بغوراس کی بات سننے لگے:
اگر کسی مسجد کے امام صاحب کچھ دنوں کے لیے باہر چلے جائیں اور کہہ جائیں دیکھو جب تک میں واپس نہیں آجاتا نماز میری بیوی پڑھائے گی کیونکہ وہ اللہ کی بندی ہے.
تو بتاو کیا تم لوگ امام کی بیوی کے پہچھے نماز پڑھو گے؟؟؟؟
سارے سامعین غصے میں بولے بندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی؟
سنی بولا جب اللہ کی بندی کے پیچھے نماز نہیں ہوگی تو پھر دیوبندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی.. 🤣
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014982995447674&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے شخص کا ایک اصولی و تحقیقی محاسبہ
از۔۔۔۔۔مفتی محمد سلیم بریلوی
جامعہ رضویہ منظر اسلام۔۔بریلی شریف۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔
محب گرامی۔۔کرم فرما حضرت مولانا محمد قاسم عمر صاحب رضوی مصباحی۔۔زید علمہ و فضلہ ۔۔۔۔ساوتھ افریقہ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
مزاج ھمایوں!
آپ نے حضرت بلال والی اس حدیث کی وضاحت طلب کی ھے کہ جس میں یہ ھے کہ رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج فی حلہ مشمرا فصلی رکعتین الخ
کہ اس حدیث سے کوئی شخص یہ استدلال کررھا ھے کہ کف ثوب یعنی کپڑا موڑ کر نماز ادا کرنا درست ھے مکروہ نھیں ھے۔۔۔تو اس سلسلہ میں عرض ھے کہ پہلےیہ معلوم کریں وہ شخص مقلد ھے کہ غیر مقلد؟مقلد کو براہ راست اس طرح نصوص سے استدلال کرتے ھوئے عمل کی اجازت کب ھے؟مقلد کے لئے تو اپنے امام مذھب کا قول بس ھے۔۔۔۔اگر لوگ اسی طرح احادیٹ کریمہ کے اردو اور انگریزی بے ڈھنگے ترجمے دیکھ اور پڑھ کر عمل کرنے لگے تب تو پھر ھو چکا عمل اور ھوچکی احادیث کی پیروی۔۔اس طرح توامن و امان ھی ختم ھوجائے گا اور آدمی عمل کرنے میں متضاد افعال کا شکار ھوجائے گا۔۔ بلکہ بھت سے مقامات و مسائل میں اجتماع ضدین کی صورت پیدا ھو جائے گی۔۔مثلا خود اسی کف ثوب والے ھی عمل کو دیکھ لیں کہ قائل کے بقول اس حدیثِ بلال یعنی "فی حلہ مشمرا" والی حدیث سے کفِ ثوب کا جواز نکلتا ھے جبکہ بخاری و مسلم میں ایک اور حدیث ھے کہ:امرت ان اسجد علی سبعہ اعظم الجبھہ و الکفین۔۔۔۔۔۔۔۔الی ان۔۔۔۔۔۔۔لا اکف شعرا ولا ثوبا۔۔۔۔بالفاظ متعددہ۔۔۔
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ھے ۔۔جس میں کفِ ثوب کی واضح نھی و ممانعت ھے۔۔۔تو اب حدیثِ بلال کے انگلش اوراردو ترجمہ کو پڑھ کر کفِ ثوب کے ساتھ یعنی کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے سے معلوم کریں کہ دوسری حدیث کا انگلش و اردو ترجمہ پڑھ کر وہ دونوں پر کیسے عمل کرے گا؟اگر کرتا ھے تو اجتماعِ ضدین لازم آئے گا جو محال و باطل ھے۔۔۔۔۔
یہ شخص اصولِ شرع اور اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ سے بالکلیہ ناواقف ھے۔ایسی ھی متضاد و محتمل صورتوں میں یہ اصولِ فقہ وغیرہ ھماری راھنمائی کرتے ھیں اور اسی طرح کی سخت ترین اُلجھنوں سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی امام مجتھد کی تقلید لازمی قرار دی گئی ھے۔۔۔۔تاکہ اردو و انگریزی ترجمے پڑھ کر کوئی مجتھد بننے کے چکر میں مشکل میں پڑ کر گمراھی اور متضاد کیفیت کا شکار نہ ھوجائے۔۔۔۔اتنی تفصیل و تمھید کے بعداب اصل جواب ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
اولا یہ ذھن نشین کرلیا جائے کہ کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنے کی کراھت متفق علیہ اور اجماعی ھے۔
امام نوَوِی علیہ الرحمہ نے ائمہ اربعہ کا اور علمائے امت کا اس پر اتفاق نقل کیا ھے اور اس باب میں میری نقل کردہ دوسری حدیث یعنی "لا اکف شعرا ولا ثوبا" کو معمول بہ مانا ھے کیونکہ یہ حدیث قولی ھے اور حدیثِ بلال فعلی ھے۔۔اور اصول ھے کہ فعلی و قولی میں سے قولی کو ترجیح حاصل ھوتی ھے کیونکہ فعلی میں بھت سے احتمالات ھوتے ھیں مثلاً اسی فعلی حدیثِ بلال کو لے لیجئے کہ
1....اس میں ایک احتمال یہ بھی ھے کہ آقا نے یہ کام محض بیانِ جواز کے لئے کیا ھو یعنی کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنا حرام نھیں ھے ۔بلکہ جائز مع الکراھت ھے۔۔۔۔
2.....دوسرا احتمال یہ ھے کہ یہ کفِ ثوب امت کے لئے مکروہ ھو,آقا کے لئے مکروہ نہ ھو ۔۔اس میں آقا کی خصوصیت ھو۔۔۔ اس لئے آقا نے ایک مرتبہ ایسا کیا۔۔۔
3.... تیسرا احتمال ہہ ھے کہ اس حدیث میں حضرت بلال نے صرف اتنا ذکر کیا ھے کہ آقا کپڑے سمیٹے یا موڑے ھوئے نکلے پھر دورکعت نماز ادا کی۔۔۔یہ کہاں ھے کہ اسی طرح کپڑے موڑ کر نماز بھی ادا کی؟تو یہ بھی تو ھوسکتا ھے کہ جب نماز پڑھنا شروع کی ھو تو کپڑے صحیح کرلئے ھوں اور بنا کفِ ثوب کے نماز ادا کی ھو۔۔جیسے کوئی شخص وضو کرکے نکلتا ھے تو اس کی آستینیں مڑی ھوتی ھیں اور وہ مصلی پر پہونچتے پہونچتے انھیں صحیح و درست کرلیتا ھے ۔۔جس کا مشاھدہ مسجدوں میں ھم ھر روز کرتے ھیں۔۔۔
4۔۔۔۔۔چوتھا احتمال یہ ھے کہ کلمہ تشمیر ۔۔۔کفِ ثوب کے معنی میں نص نھیں ھے بلکہ اس کے کئی معانی ھیں چنانچہ اس کا ایک معنی مستعد بھی ھوتا ھے تو اب حدیث کا مفھوم ھوگا کہ خرج فی حلہ مستعدا للصلوہ یعنی نماز کے لئے مستعد و آمادہ اور نماز کے لئے تیار ھوکر تیزی کے ساتھ تشریف لائے۔۔۔نیز تشمیر کا ایک معنی ھوتا ھے رفع ثوب تو اب مطلب یہ ھوگا کہ چونکہ یہ واقعہ سفر کا ھے۔۔ لوگ نماز کے لئے منتظر و تیار بیٹھے تھے تو آپ عجلت میں تشریف لائے اور جب انسان جلدی جلدی اس طرح کے ڈھیلے کپڑے اور جبہ زیب تن کرکے بعجلت چلتا ھے تو ازار یا جبہ کو ھاتھ سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیتا ھے کہ کہیں الجھ کر گر نہ جائے اور آسانی کے ساتھ تیز رفتار وہ چل سکے تو یھاں کف ثوب نھیں ھوتا۔بلکہ رفع ثوب ھوتا ھے ۔ممکن ھے آقا نے اسی طرح کی تشمیر کی ھو۔۔۔نیز کبھی
از۔۔۔۔۔مفتی محمد سلیم بریلوی
جامعہ رضویہ منظر اسلام۔۔بریلی شریف۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔
محب گرامی۔۔کرم فرما حضرت مولانا محمد قاسم عمر صاحب رضوی مصباحی۔۔زید علمہ و فضلہ ۔۔۔۔ساوتھ افریقہ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
مزاج ھمایوں!
آپ نے حضرت بلال والی اس حدیث کی وضاحت طلب کی ھے کہ جس میں یہ ھے کہ رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج فی حلہ مشمرا فصلی رکعتین الخ
کہ اس حدیث سے کوئی شخص یہ استدلال کررھا ھے کہ کف ثوب یعنی کپڑا موڑ کر نماز ادا کرنا درست ھے مکروہ نھیں ھے۔۔۔تو اس سلسلہ میں عرض ھے کہ پہلےیہ معلوم کریں وہ شخص مقلد ھے کہ غیر مقلد؟مقلد کو براہ راست اس طرح نصوص سے استدلال کرتے ھوئے عمل کی اجازت کب ھے؟مقلد کے لئے تو اپنے امام مذھب کا قول بس ھے۔۔۔۔اگر لوگ اسی طرح احادیٹ کریمہ کے اردو اور انگریزی بے ڈھنگے ترجمے دیکھ اور پڑھ کر عمل کرنے لگے تب تو پھر ھو چکا عمل اور ھوچکی احادیث کی پیروی۔۔اس طرح توامن و امان ھی ختم ھوجائے گا اور آدمی عمل کرنے میں متضاد افعال کا شکار ھوجائے گا۔۔ بلکہ بھت سے مقامات و مسائل میں اجتماع ضدین کی صورت پیدا ھو جائے گی۔۔مثلا خود اسی کف ثوب والے ھی عمل کو دیکھ لیں کہ قائل کے بقول اس حدیثِ بلال یعنی "فی حلہ مشمرا" والی حدیث سے کفِ ثوب کا جواز نکلتا ھے جبکہ بخاری و مسلم میں ایک اور حدیث ھے کہ:امرت ان اسجد علی سبعہ اعظم الجبھہ و الکفین۔۔۔۔۔۔۔۔الی ان۔۔۔۔۔۔۔لا اکف شعرا ولا ثوبا۔۔۔۔بالفاظ متعددہ۔۔۔
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ھے ۔۔جس میں کفِ ثوب کی واضح نھی و ممانعت ھے۔۔۔تو اب حدیثِ بلال کے انگلش اوراردو ترجمہ کو پڑھ کر کفِ ثوب کے ساتھ یعنی کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے سے معلوم کریں کہ دوسری حدیث کا انگلش و اردو ترجمہ پڑھ کر وہ دونوں پر کیسے عمل کرے گا؟اگر کرتا ھے تو اجتماعِ ضدین لازم آئے گا جو محال و باطل ھے۔۔۔۔۔
یہ شخص اصولِ شرع اور اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ سے بالکلیہ ناواقف ھے۔ایسی ھی متضاد و محتمل صورتوں میں یہ اصولِ فقہ وغیرہ ھماری راھنمائی کرتے ھیں اور اسی طرح کی سخت ترین اُلجھنوں سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی امام مجتھد کی تقلید لازمی قرار دی گئی ھے۔۔۔۔تاکہ اردو و انگریزی ترجمے پڑھ کر کوئی مجتھد بننے کے چکر میں مشکل میں پڑ کر گمراھی اور متضاد کیفیت کا شکار نہ ھوجائے۔۔۔۔اتنی تفصیل و تمھید کے بعداب اصل جواب ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
اولا یہ ذھن نشین کرلیا جائے کہ کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنے کی کراھت متفق علیہ اور اجماعی ھے۔
امام نوَوِی علیہ الرحمہ نے ائمہ اربعہ کا اور علمائے امت کا اس پر اتفاق نقل کیا ھے اور اس باب میں میری نقل کردہ دوسری حدیث یعنی "لا اکف شعرا ولا ثوبا" کو معمول بہ مانا ھے کیونکہ یہ حدیث قولی ھے اور حدیثِ بلال فعلی ھے۔۔اور اصول ھے کہ فعلی و قولی میں سے قولی کو ترجیح حاصل ھوتی ھے کیونکہ فعلی میں بھت سے احتمالات ھوتے ھیں مثلاً اسی فعلی حدیثِ بلال کو لے لیجئے کہ
1....اس میں ایک احتمال یہ بھی ھے کہ آقا نے یہ کام محض بیانِ جواز کے لئے کیا ھو یعنی کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنا حرام نھیں ھے ۔بلکہ جائز مع الکراھت ھے۔۔۔۔
2.....دوسرا احتمال یہ ھے کہ یہ کفِ ثوب امت کے لئے مکروہ ھو,آقا کے لئے مکروہ نہ ھو ۔۔اس میں آقا کی خصوصیت ھو۔۔۔ اس لئے آقا نے ایک مرتبہ ایسا کیا۔۔۔
3.... تیسرا احتمال ہہ ھے کہ اس حدیث میں حضرت بلال نے صرف اتنا ذکر کیا ھے کہ آقا کپڑے سمیٹے یا موڑے ھوئے نکلے پھر دورکعت نماز ادا کی۔۔۔یہ کہاں ھے کہ اسی طرح کپڑے موڑ کر نماز بھی ادا کی؟تو یہ بھی تو ھوسکتا ھے کہ جب نماز پڑھنا شروع کی ھو تو کپڑے صحیح کرلئے ھوں اور بنا کفِ ثوب کے نماز ادا کی ھو۔۔جیسے کوئی شخص وضو کرکے نکلتا ھے تو اس کی آستینیں مڑی ھوتی ھیں اور وہ مصلی پر پہونچتے پہونچتے انھیں صحیح و درست کرلیتا ھے ۔۔جس کا مشاھدہ مسجدوں میں ھم ھر روز کرتے ھیں۔۔۔
4۔۔۔۔۔چوتھا احتمال یہ ھے کہ کلمہ تشمیر ۔۔۔کفِ ثوب کے معنی میں نص نھیں ھے بلکہ اس کے کئی معانی ھیں چنانچہ اس کا ایک معنی مستعد بھی ھوتا ھے تو اب حدیث کا مفھوم ھوگا کہ خرج فی حلہ مستعدا للصلوہ یعنی نماز کے لئے مستعد و آمادہ اور نماز کے لئے تیار ھوکر تیزی کے ساتھ تشریف لائے۔۔۔نیز تشمیر کا ایک معنی ھوتا ھے رفع ثوب تو اب مطلب یہ ھوگا کہ چونکہ یہ واقعہ سفر کا ھے۔۔ لوگ نماز کے لئے منتظر و تیار بیٹھے تھے تو آپ عجلت میں تشریف لائے اور جب انسان جلدی جلدی اس طرح کے ڈھیلے کپڑے اور جبہ زیب تن کرکے بعجلت چلتا ھے تو ازار یا جبہ کو ھاتھ سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیتا ھے کہ کہیں الجھ کر گر نہ جائے اور آسانی کے ساتھ تیز رفتار وہ چل سکے تو یھاں کف ثوب نھیں ھوتا۔بلکہ رفع ثوب ھوتا ھے ۔ممکن ھے آقا نے اسی طرح کی تشمیر کی ھو۔۔۔نیز کبھی
کوڑا کرکٹ ۔۔۔دھول مٹی یا کیچڑ کی وجہ سے بھی بھت زیادہ نیچے کپڑے کو ھم ھاٹھ سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر راستہ طے کرتے ھیں مگر منزلِ مقصود پر پہونچ کر چھوڑ دیتے ھیں اور کپڑا و ازار کو اصل حالت میں کرلیتے ھیں۔۔تو اسے بھی تشمیر کہتے ھیں۔ چونکہ یہ سفر کا واقعہ ھے جھاں اس بات کے کافی امکانات ھیں کہ آقا نے انھیں گندگیوں میں آلودگی سے پیرھن مبارک کو بچانے کے لئے یہ تشمیر بمعنی رفع ثوب کیا ھو۔۔۔
بھرحال یہ حدیث ایک تو قولی پھر اس قدر دیگر احتمالات۔۔۔نیز تشمیر معنی کف میں معین بھی نھیں تو ان سب کے ھوتے ھوئے محض اردو و انگلش۔۔الٹے سیدھے بے ھنگم ترجموں پر بھروسہ کرتے ھوئے تمام ائمہ اور جمھور علما ئے امت کا اجماع و اتفاق پسِ پشت ڈال کر ۔ ایسی قولی حدیث جس میں صاف و صریح نھی ھے ۔ کف ثوب کے ساتھ نماز کی جس میں واضح ممانعت ھے اسے نظر انداز کرکے ایک محتمل معانی کٹیرہ حدیث سے استدلال کرتے ھوئے کفِ ثوب کے ساتھ نماز کو بلاکراھت درست کہنے والے ایسے شخص کی عقل و خرد پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟
ترجموں پر بھروسہ کرکے عمل کرنے کا اتنا ھی شوق ھے تو کھڑے ھوکر پیشاب بھی کرنا شروع کردے ۔وہ بھی تو فعل رسول ھے؟اللہ تعالی ھدایت عطا فرمائے۔۔آمین۔۔۔
نوٹ ۔۔۔تراویح میں قرآنِ عظیم سنانے اور رمضان مبارک کی دیگر مصروفیات کی وجہ سے آپ کے سوال کا سردست ارتجالا یہ جواب موبائل پر لکھ کر ارسال کررھا ھوں امید ھے کہ آپ کے اطمینان کو کافی ھوگا۔۔۔۔
محمد سلیم بریلوی۔ 26.. رمضان المبارک 1440ھ۔بوقت سحری۔۔۔۔۔نزیل حال موریشس
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3016338595312114&id=100008080090753
بھرحال یہ حدیث ایک تو قولی پھر اس قدر دیگر احتمالات۔۔۔نیز تشمیر معنی کف میں معین بھی نھیں تو ان سب کے ھوتے ھوئے محض اردو و انگلش۔۔الٹے سیدھے بے ھنگم ترجموں پر بھروسہ کرتے ھوئے تمام ائمہ اور جمھور علما ئے امت کا اجماع و اتفاق پسِ پشت ڈال کر ۔ ایسی قولی حدیث جس میں صاف و صریح نھی ھے ۔ کف ثوب کے ساتھ نماز کی جس میں واضح ممانعت ھے اسے نظر انداز کرکے ایک محتمل معانی کٹیرہ حدیث سے استدلال کرتے ھوئے کفِ ثوب کے ساتھ نماز کو بلاکراھت درست کہنے والے ایسے شخص کی عقل و خرد پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟
ترجموں پر بھروسہ کرکے عمل کرنے کا اتنا ھی شوق ھے تو کھڑے ھوکر پیشاب بھی کرنا شروع کردے ۔وہ بھی تو فعل رسول ھے؟اللہ تعالی ھدایت عطا فرمائے۔۔آمین۔۔۔
نوٹ ۔۔۔تراویح میں قرآنِ عظیم سنانے اور رمضان مبارک کی دیگر مصروفیات کی وجہ سے آپ کے سوال کا سردست ارتجالا یہ جواب موبائل پر لکھ کر ارسال کررھا ھوں امید ھے کہ آپ کے اطمینان کو کافی ھوگا۔۔۔۔
محمد سلیم بریلوی۔ 26.. رمضان المبارک 1440ھ۔بوقت سحری۔۔۔۔۔نزیل حال موریشس
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3016338595312114&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدی اعلیٰ حضرت عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ کی
تحریر مبارک کی زیارت کیجیے! 💐
🔗 Facebook Link
فیس بک کی ویڈیو ٹیلی گرام پر حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے آپ اِس (ٹیلی گرام بوٹ) @MediaDownBot لِنک پر کلک کرکے اِسٹارٹ کریں، پھر فیس بک ویڈیو کی لِنک کاپی کرکے اسی بوٹ میں پیسٹ کرکے سینڈ کریں پھر کُچھ سیکینڈ انتظار کریں... ویڈیو آ جائےگی
تحریر مبارک کی زیارت کیجیے! 💐
🔗 Facebook Link
فیس بک کی ویڈیو ٹیلی گرام پر حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے آپ اِس (ٹیلی گرام بوٹ) @MediaDownBot لِنک پر کلک کرکے اِسٹارٹ کریں، پھر فیس بک ویڈیو کی لِنک کاپی کرکے اسی بوٹ میں پیسٹ کرکے سینڈ کریں پھر کُچھ سیکینڈ انتظار کریں... ویڈیو آ جائےگی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#علم_کا_شیدائی
غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
انیس سال کا بانکا سجیلا خوب رو جوان مروجہ علوم وفنون کی دستار سر پر سجائے اہل خانہ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔مگر آنکھوں میں علم کی تہوں تک جانے کا جذبہ رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ایک طرف زمانہ اس جوان کے علمی اٹھان اور فقہی شباب کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر رہا تھا مگر اس جوان کی طبیعت "ھل من مزید" کی طرف مائل تھی۔والد گرامی سے اپنے بیٹے کی یہ کیفیت پوشیدہ نہ تھی۔کچھ مخصوص احباب سے مشورہ کرنے کے بعد والد گرامی نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔
سنو شہزادے!
جی اباّ حضور!
جوان نے نہایت سعادت مندی سے والد گرامی کو جواب دیا اور بہ کمال نیاز مندی سر جھکا کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔
میرے لخت جگر!
آپ صرف میری ہی نہیں بلکہ اس عظیم خانوادے اور پوری جماعت کی امید ہو۔زمانہ ٹک ٹکی لگائے اُس شہزادے کا منتظر ہے جو اپنے اجداد کی علمی وراثت کا سچا جانشین ہو اور عالم اسلام کی علمی ودینی خدمات کا حق ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔
میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمی حاصل ہوتا ہے۔
جان پدر!
تمہاری آنکھوں میں مجھے وہ چمک نظر آتی ہے جس کے لیے تمہارے اجداد مشہور رہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ میں جاکر اکتساب علم کرو اور علم وفن کے نئے جہانوں کی تلاش کرو۔
حالانکہ میرا دل تمہاری جدائی کے خیال سے ہی بیٹھ جاتا ہے مگر اجداد کی امانت اور ملت اسلامیہ کی آرزوؤں کا خیال آتا ہے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔سوچتا ہوں کہ میرے دادا جان اور بابا کی روشن کی ہوئی علمی شمع کمزور نہ پڑ جائے اس لیے اس علمی چراغ میں تمہیں اپنی محنت ومشقت کا لہو ڈالنا ہے تاکہ اس کی لو تیز سے تیز تر ہو اور زمانہ اس کی روشنی میں صلاح وفلاح کا راستہ طے کر سکے!!
چند جملوں میں باپ نے پدرانہ شفقت، سوز وکرب ، ملی تڑپ ، غم امت، جدی امانت اور سینے میں اٹھ رہا سارا درد وکرب بیان کردیا۔کہتے ہوئے آنکھیں نم ہوگئیں مگر یہ آنسو صرف درد یا جدائی کا اظہاریہ نہیں تھے بلکہ آنسوؤں کی چمک اس عزم ویقین کا پتہ دے رہی تھی کہ عن قریب اُن کا شہزادہ علم وفضل کے اس مقام پر فائز ہوگا جس کی تمناؤں میں بڑے بڑے فرماں روا اور فلاسفر ناکام رہے۔
سعادت آثار بیٹے نے آگے بڑھ کر والد گرامی کو ہاتھوں کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور ادب کے ساتھ عرض کیا:
ابا جان!
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں تو کم ہے، جس نے وراثت نبوی کی پر نور وادیوں میں جانے کا ایک اور حسین موقع عطا کیا۔
اپنے مقدر پر نازاں ہوں کہ اجداد کی علمی وراثت کے لیے آپ کی زمانہ شناس نگاہوں نے میرا انتخاب کیا۔
آپ مطمئن رہیں میں طلب علم کی راہ میں ہر درد کو دوا اور ہر تکلیف کو راحت جان سمجھوں گا۔اکتساب علم کے اس سفر میں کیسی ہی پریشانیاں آئیں مگر آپ کا بیٹا عزم وحوصلے کی چٹان بن کر ثابت قدم رہے گا اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کے لیے اپنے تمام رنج و غم شربت شیریں کی طرح پی کر آپ کی تمناؤں کی تکمیل کرے گا۔
__جلد ہی پورے خاندان کی دعاؤں کا تحفہ لے کر یہ جوان عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ "جامعہ ازہر مصر" کے لیے روانہ ہوگیا۔
دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے رہے۔ابھی دو سال ہی کا سفر طے ہوا تھا کہ اچانک خبر ملی کہ عزیز از جان والد دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے۔
آہ!
دیار پردیس میں نازوں کا پالا لاڈلا شہزادہ اکیلا تھا۔واپس جاکر شفیق والد کی شفقتوں کو سمیٹنے اور ان کی محبتوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کی تمنا ہلورے مارتی تھی مگر آج اس خبر وحشت نے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کر ڈالا۔
سوچا تھا کہ جامعہ ازہر سے علمی رفعتوں کا تاج سجا کر والد گرامی کی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں گا مگر قسمت نے اتنا موقع ہی نہیں دیا اور جس مہربان باپ نے اپنی محبت واپنائیت کی چھاؤں میں رخصت کیا تھا آج وہی شجر سایہ دار رخصت ہوگیا۔
دل کا درد آنکھوں سے آنسو بن کر نکلنے لگا۔پورا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔رہ رہ والد کی شفقتیں یاد آتیں تو آنکھوں سے برستا ساون اور تیز ہوجاتا۔رنج وغم کی لہریں پورے وجود کو حصار میں لے چکی تھیں اچانک والد گرامی کے الفاظ کانوں میں گونجے:
"میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمیٰ حاصل ہوتا ہے۔"
غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
انیس سال کا بانکا سجیلا خوب رو جوان مروجہ علوم وفنون کی دستار سر پر سجائے اہل خانہ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔مگر آنکھوں میں علم کی تہوں تک جانے کا جذبہ رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ایک طرف زمانہ اس جوان کے علمی اٹھان اور فقہی شباب کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر رہا تھا مگر اس جوان کی طبیعت "ھل من مزید" کی طرف مائل تھی۔والد گرامی سے اپنے بیٹے کی یہ کیفیت پوشیدہ نہ تھی۔کچھ مخصوص احباب سے مشورہ کرنے کے بعد والد گرامی نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔
سنو شہزادے!
جی اباّ حضور!
جوان نے نہایت سعادت مندی سے والد گرامی کو جواب دیا اور بہ کمال نیاز مندی سر جھکا کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔
میرے لخت جگر!
آپ صرف میری ہی نہیں بلکہ اس عظیم خانوادے اور پوری جماعت کی امید ہو۔زمانہ ٹک ٹکی لگائے اُس شہزادے کا منتظر ہے جو اپنے اجداد کی علمی وراثت کا سچا جانشین ہو اور عالم اسلام کی علمی ودینی خدمات کا حق ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔
میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمی حاصل ہوتا ہے۔
جان پدر!
تمہاری آنکھوں میں مجھے وہ چمک نظر آتی ہے جس کے لیے تمہارے اجداد مشہور رہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ میں جاکر اکتساب علم کرو اور علم وفن کے نئے جہانوں کی تلاش کرو۔
حالانکہ میرا دل تمہاری جدائی کے خیال سے ہی بیٹھ جاتا ہے مگر اجداد کی امانت اور ملت اسلامیہ کی آرزوؤں کا خیال آتا ہے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔سوچتا ہوں کہ میرے دادا جان اور بابا کی روشن کی ہوئی علمی شمع کمزور نہ پڑ جائے اس لیے اس علمی چراغ میں تمہیں اپنی محنت ومشقت کا لہو ڈالنا ہے تاکہ اس کی لو تیز سے تیز تر ہو اور زمانہ اس کی روشنی میں صلاح وفلاح کا راستہ طے کر سکے!!
چند جملوں میں باپ نے پدرانہ شفقت، سوز وکرب ، ملی تڑپ ، غم امت، جدی امانت اور سینے میں اٹھ رہا سارا درد وکرب بیان کردیا۔کہتے ہوئے آنکھیں نم ہوگئیں مگر یہ آنسو صرف درد یا جدائی کا اظہاریہ نہیں تھے بلکہ آنسوؤں کی چمک اس عزم ویقین کا پتہ دے رہی تھی کہ عن قریب اُن کا شہزادہ علم وفضل کے اس مقام پر فائز ہوگا جس کی تمناؤں میں بڑے بڑے فرماں روا اور فلاسفر ناکام رہے۔
سعادت آثار بیٹے نے آگے بڑھ کر والد گرامی کو ہاتھوں کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور ادب کے ساتھ عرض کیا:
ابا جان!
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں تو کم ہے، جس نے وراثت نبوی کی پر نور وادیوں میں جانے کا ایک اور حسین موقع عطا کیا۔
اپنے مقدر پر نازاں ہوں کہ اجداد کی علمی وراثت کے لیے آپ کی زمانہ شناس نگاہوں نے میرا انتخاب کیا۔
آپ مطمئن رہیں میں طلب علم کی راہ میں ہر درد کو دوا اور ہر تکلیف کو راحت جان سمجھوں گا۔اکتساب علم کے اس سفر میں کیسی ہی پریشانیاں آئیں مگر آپ کا بیٹا عزم وحوصلے کی چٹان بن کر ثابت قدم رہے گا اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کے لیے اپنے تمام رنج و غم شربت شیریں کی طرح پی کر آپ کی تمناؤں کی تکمیل کرے گا۔
__جلد ہی پورے خاندان کی دعاؤں کا تحفہ لے کر یہ جوان عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ "جامعہ ازہر مصر" کے لیے روانہ ہوگیا۔
دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے رہے۔ابھی دو سال ہی کا سفر طے ہوا تھا کہ اچانک خبر ملی کہ عزیز از جان والد دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے۔
آہ!
دیار پردیس میں نازوں کا پالا لاڈلا شہزادہ اکیلا تھا۔واپس جاکر شفیق والد کی شفقتوں کو سمیٹنے اور ان کی محبتوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کی تمنا ہلورے مارتی تھی مگر آج اس خبر وحشت نے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کر ڈالا۔
سوچا تھا کہ جامعہ ازہر سے علمی رفعتوں کا تاج سجا کر والد گرامی کی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں گا مگر قسمت نے اتنا موقع ہی نہیں دیا اور جس مہربان باپ نے اپنی محبت واپنائیت کی چھاؤں میں رخصت کیا تھا آج وہی شجر سایہ دار رخصت ہوگیا۔
دل کا درد آنکھوں سے آنسو بن کر نکلنے لگا۔پورا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔رہ رہ والد کی شفقتیں یاد آتیں تو آنکھوں سے برستا ساون اور تیز ہوجاتا۔رنج وغم کی لہریں پورے وجود کو حصار میں لے چکی تھیں اچانک والد گرامی کے الفاظ کانوں میں گونجے:
"میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمیٰ حاصل ہوتا ہے۔"
الفاظ کا گونجنا تھا کہ والد کی آنکھوں کے چمکتے آنسو اور آنسوؤں میں پنہاں عزم ویقین کی وہ چمک بھی یاد آگئی۔جس قربانی کا والد نے ذکر کیا تھا آج اسی قربانی کا وقت تھا۔اس یاد کا آنا تھا کہ سارا درد دل میں ہی روک لیا۔بہتے ہوئے آنسوؤں کو ضبط کیا اور قلم اٹھا کر درد دل کو لفظوں کا لباس پہنا دیا:
کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل
ہائے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل
کون جانے رازِ محبوب و محبـ
کیوں لیا جاتا، دیا جاتا ہے دل
جاں بحق تسلیم ہو جانا ترا
یاد کر کے میرا بھر آتا ہے دل
ان اشعار کے ساتھ ہی درد سے بے چین دل کو سکون ملا اور اس جوان نے نہایت صبر واطمینان کے ساتھ والد گرامی کے رفع درجات کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرکے ایصال ثواب کیا۔دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت گھر واپس لوٹ جائیں مگر والد کی نصیحت، خاندان کی امیدیں، امانت اسلاف کا خیال اور ملت اسلامیہ کی خدمت کے جذبے نے دل کو اس قدر توانا کردیا تھا کہ درد دوا بن گیا۔سینے میں اٹھتی ہوئی درد کی لہریں وہیں دب کر رہ گئیں اور یہ جوان پھر سے حصول علم میں مصروف ہوگیا۔
یوں تو اب تک بھی نہایت جاں فشانی سے علمی منزلیں طے کی جارہی تھیں مگر والد کے وصال نے دل کی دنیا پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ شب وروز والد کے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔اب تو ایک ایک لمحہ علمی رفعتوں کے حصول میں گزر رہا تھا۔اس جوان کی شبانہ روز محنتیں ضائع نہ گئیں اور ٹھیک ایک سال کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب اس جوان نے پورے مصر میں سب سے زیادہ نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے جامعہ ازہر میں تاریخ رقم کی۔
آپ جانتے ہیں علم وفضل کی بہاروں کی خاطر والد کی وفات کا غم اٹھانے والا یہ خوب رو جوان کون تھا؟؟
یہ جوان کوئی اور نہیں وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے جو اپنی علمی جاں گسلی اور قربانیوں کی بدولت عالم اسلام کے افق پر امام احمد رضا کی فقہی تجلیات کا آفتاب بن کر چمکے۔جن کے تصلب فی الدین کی وجہ سے کتنوں کے عقائد ونظریات درست ہوئے۔جن کی تقوی شعار زندگی نے گمراہوں کو راہ ہدایت عطا کی۔جو اپنے کریم کے ایسے گدا بن کر جئے جس کے آگے دنیا کی ہر چیز پارہ ناں کی طرح ہیچ تھی۔جنہوں نے ہواؤں کے خلاف عزم واستقامت کے چراغ روشن کئے۔جس کی روشنی میں آج بھی ملت اسلامیہ فلاح وظفر کا سفر طے کر رہی ہے۔جو اپنے آپ میں ایک انجمن اور میر قافلہ تھے۔جن کی فکری بلندی کے آگے ہمالہ کی بلندی بھی پست نظر آتی ہے۔جو امام احمد رضا کے تفقہ، حجۃ الاسلام کے اخلاص اور مفتی اعظم ہند کے تقوی وپرہیزگاری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔جن کا آستانہ آج بھی عشق رسالت کی درس گاہ بنا ہوا ہے۔جن کی لحد سے آج بھی یہ آواز آتی ہے:
داغ عشق نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغ لحد روشنی کے لیے
20 شوال المکرم 1442ھ
2 جون 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925854727985046/
کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل
ہائے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل
کون جانے رازِ محبوب و محبـ
کیوں لیا جاتا، دیا جاتا ہے دل
جاں بحق تسلیم ہو جانا ترا
یاد کر کے میرا بھر آتا ہے دل
ان اشعار کے ساتھ ہی درد سے بے چین دل کو سکون ملا اور اس جوان نے نہایت صبر واطمینان کے ساتھ والد گرامی کے رفع درجات کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرکے ایصال ثواب کیا۔دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت گھر واپس لوٹ جائیں مگر والد کی نصیحت، خاندان کی امیدیں، امانت اسلاف کا خیال اور ملت اسلامیہ کی خدمت کے جذبے نے دل کو اس قدر توانا کردیا تھا کہ درد دوا بن گیا۔سینے میں اٹھتی ہوئی درد کی لہریں وہیں دب کر رہ گئیں اور یہ جوان پھر سے حصول علم میں مصروف ہوگیا۔
یوں تو اب تک بھی نہایت جاں فشانی سے علمی منزلیں طے کی جارہی تھیں مگر والد کے وصال نے دل کی دنیا پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ شب وروز والد کے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔اب تو ایک ایک لمحہ علمی رفعتوں کے حصول میں گزر رہا تھا۔اس جوان کی شبانہ روز محنتیں ضائع نہ گئیں اور ٹھیک ایک سال کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب اس جوان نے پورے مصر میں سب سے زیادہ نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے جامعہ ازہر میں تاریخ رقم کی۔
آپ جانتے ہیں علم وفضل کی بہاروں کی خاطر والد کی وفات کا غم اٹھانے والا یہ خوب رو جوان کون تھا؟؟
یہ جوان کوئی اور نہیں وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے جو اپنی علمی جاں گسلی اور قربانیوں کی بدولت عالم اسلام کے افق پر امام احمد رضا کی فقہی تجلیات کا آفتاب بن کر چمکے۔جن کے تصلب فی الدین کی وجہ سے کتنوں کے عقائد ونظریات درست ہوئے۔جن کی تقوی شعار زندگی نے گمراہوں کو راہ ہدایت عطا کی۔جو اپنے کریم کے ایسے گدا بن کر جئے جس کے آگے دنیا کی ہر چیز پارہ ناں کی طرح ہیچ تھی۔جنہوں نے ہواؤں کے خلاف عزم واستقامت کے چراغ روشن کئے۔جس کی روشنی میں آج بھی ملت اسلامیہ فلاح وظفر کا سفر طے کر رہی ہے۔جو اپنے آپ میں ایک انجمن اور میر قافلہ تھے۔جن کی فکری بلندی کے آگے ہمالہ کی بلندی بھی پست نظر آتی ہے۔جو امام احمد رضا کے تفقہ، حجۃ الاسلام کے اخلاص اور مفتی اعظم ہند کے تقوی وپرہیزگاری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔جن کا آستانہ آج بھی عشق رسالت کی درس گاہ بنا ہوا ہے۔جن کی لحد سے آج بھی یہ آواز آتی ہے:
داغ عشق نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغ لحد روشنی کے لیے
20 شوال المکرم 1442ھ
2 جون 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925854727985046/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں*
تحریر : محمد عبد القدیر قادری مصباحی
غیر جانب داری کے ساتھ کئی مرتبہ میں نے غور وخوض کیا تو اسی نتیجے پر پہنچا کہ موجودہ دور میں جدید ایجادات سے انسانوں کو کئی اعتبار سے نقصان ہی پہنچا ہے. غیر فطری طرز زندگی نے صحت وتندرستی کی نعمت چھین لی، مشینوں نے انسان کی انسان سے محتاجی کو کم کرکے انسانوں کے درمیان باہم محبت وخلوص اتحاد واتفاق کے اسباب کم کردیئے اور دولت کی ریل پیل اور حرص نے عزت، شرافت، غیرت، حمیت اور مروّت کو رخصت کردیا،جس کی وجہ سے مال و اُجرت کے ذریعے ہرکام ہونے لگا۔ گویا انسان کو انسان کی حاجت نہ رہی۔ پیسے کے لیے انسان استنجا کرانے کو بھی تیار ہے. کثرتِ اسباب کی وجہ سے لذت کا احساس ختم ہوگیا۔ لذیذ کھانے اتنے ہوگئے کہ کسی میں لذت کا احساس نہ رہا، اوپر سے بھوک کا فقدان!!! مشروبات اتنے تیار ہوگئے کہ دودھ، شہد اور پھلوں کے رس بے لذت ہوگئے۔ بے پردگی اور اختلاط کی وجہ سے اتنی عورتیں قریب ہوگئیں کہ بیویوں میں دل چسپی نہ رہی۔ ایسے ہی بیویوں کا معاملہ بھی ہے. بجلی کی ایجاد نے گیارہ بجے تک جاگنے کا ماحول بنایا تھا، اب انٹر نیٹ نے راتوں کی نیند چھین کر صبح کی نیند میں مبتلا کرکے جسمانی و روحانی دونوں قسم کےفوائد سے محروم کردیا. سواریوں کی سہولت نے شادی، غمی میں ہاتھ بٹانے کے بجائے موقع پرجانے اور فوراً بھاگ آنے کا عادی بنادیا۔ حتی کہ حج وعمرہ کی تڑپ اور روحانی لذت میں بھی فرق آگیا. خاندانی پیار محبت کا جذبہ گیا، دوستوں کا دور آگیا. مٹی اور لکڑی کے بجائے پتھر، لوہےاور کیمیکل کے گھروں نے سکون چھین لیا. قریب قریب، بند اور صحن ودرخت سے خالی مکانات نے روشنی اور ہوا سے محروم کردیا۔ پنکھے اور اے سی کی ایجاد نے یہ سب غضب ڈھایا. کھانا، کپڑا، دوا، مکان ضروری سازوسامان اور فی الحال یا آئندہ کسی بڑی ضرورت کے لیے جمع شدہ مال کے علاوہ جو دولت ہے وہ سواے سردرد کے اور کیا ہے؟ اس کو باقی رکھنے اور بڑھانے کی فکر میں انسان گھلا جارہا ہے.
مصنوعات کی کثرت نے بھی چیزوں کی مرمت اور قابلِ استعمال رہنے تک استعمال کرنےکی ذہنیت ختم کردی، جس کا نقصان یہ ہے کہ ہم جن چیزوں کے مالک ہیں ان کی اپنائیت، وابستگی ہمارے دل ودماغ پر قائم ہی نہیں ہوپاتی۔ کیوں کہ ہم انہیں جلدی جلدی بدل دیتے ہیں. استعمالی چیزوں کی طویل ملکیت اور طویل مدت تک اس کا استعمال بھی انسان کو محبت اور سکون دیتا ہے۔ قدیم دور میں تلواروں اور اونٹنیوں پر قصیدے یونہی نہیں لکھےگئے بلکہ وہ طبعی لگاؤ کا نتیجہ ہیں. کپڑا دس سال کے بجائے دوسال پہنا جارہا ہے۔ جوتا، چپل دوسال کے بجائے دوچار ماہ پہنےجارہے ہیں۔ سواریاں بیس پچیس سال کے بجائے پانچ سات سال ہی چلارہے ہیں۔ گھڑی جس سے ناقابل شناخت نعش کو پہچان لیا جاتا تھا اب وہ بات کہاں؟ یہ سب مصنوعات کی کثرت کی دین ہے.
پتہ نہیں کیا ترقی ہوئی ہے اور کہاں ہوئی ہے؟ کیا بیماریاں بڑھنا، پھر ان کاعلاج دستیاب ہونا ہی ترقی ہے؟ طویل مسافت فاصلے لمحوں میں تو طے ہورہے ہیں، لیکن دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی وسعت و ترقی سے دنیا بھر کی خبریں نہایت سرعت سے ہمیں موصول تو ہوجاتی ہیں، لیکن ہم اپنے گھر، پڑوس اور اطراف کے حالات سے یکسر بے خبر ہیں۔ حمل ونقل اور جوڑ توڑ کی عظیم مشنریز نے کام اور مصنوعات کی تیاری میں بہت ترقی تو کرلی، لیکن بے روزگاری میں کافی اضافہ بھی کردیا ہے۔ علم کا ابلاغ تو اس قدر عام ہوگیا کہ بٹن دبانے پر ہر طرح کی معلومات آپ کے ہاتھوں میں آجاتی ہیں، لیکن لوگوں میں علم و ادب کا فقدان ہے، ناپید ہوتا جارہا ہے۔
غرض یہ کہ موجودہ دور میں جدید ترقی نے دنیا کا سکون غارت کرکے بس ایک ہنگامہ اورہلچل پیدا کردیاہے.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925948521309000/
تحریر : محمد عبد القدیر قادری مصباحی
غیر جانب داری کے ساتھ کئی مرتبہ میں نے غور وخوض کیا تو اسی نتیجے پر پہنچا کہ موجودہ دور میں جدید ایجادات سے انسانوں کو کئی اعتبار سے نقصان ہی پہنچا ہے. غیر فطری طرز زندگی نے صحت وتندرستی کی نعمت چھین لی، مشینوں نے انسان کی انسان سے محتاجی کو کم کرکے انسانوں کے درمیان باہم محبت وخلوص اتحاد واتفاق کے اسباب کم کردیئے اور دولت کی ریل پیل اور حرص نے عزت، شرافت، غیرت، حمیت اور مروّت کو رخصت کردیا،جس کی وجہ سے مال و اُجرت کے ذریعے ہرکام ہونے لگا۔ گویا انسان کو انسان کی حاجت نہ رہی۔ پیسے کے لیے انسان استنجا کرانے کو بھی تیار ہے. کثرتِ اسباب کی وجہ سے لذت کا احساس ختم ہوگیا۔ لذیذ کھانے اتنے ہوگئے کہ کسی میں لذت کا احساس نہ رہا، اوپر سے بھوک کا فقدان!!! مشروبات اتنے تیار ہوگئے کہ دودھ، شہد اور پھلوں کے رس بے لذت ہوگئے۔ بے پردگی اور اختلاط کی وجہ سے اتنی عورتیں قریب ہوگئیں کہ بیویوں میں دل چسپی نہ رہی۔ ایسے ہی بیویوں کا معاملہ بھی ہے. بجلی کی ایجاد نے گیارہ بجے تک جاگنے کا ماحول بنایا تھا، اب انٹر نیٹ نے راتوں کی نیند چھین کر صبح کی نیند میں مبتلا کرکے جسمانی و روحانی دونوں قسم کےفوائد سے محروم کردیا. سواریوں کی سہولت نے شادی، غمی میں ہاتھ بٹانے کے بجائے موقع پرجانے اور فوراً بھاگ آنے کا عادی بنادیا۔ حتی کہ حج وعمرہ کی تڑپ اور روحانی لذت میں بھی فرق آگیا. خاندانی پیار محبت کا جذبہ گیا، دوستوں کا دور آگیا. مٹی اور لکڑی کے بجائے پتھر، لوہےاور کیمیکل کے گھروں نے سکون چھین لیا. قریب قریب، بند اور صحن ودرخت سے خالی مکانات نے روشنی اور ہوا سے محروم کردیا۔ پنکھے اور اے سی کی ایجاد نے یہ سب غضب ڈھایا. کھانا، کپڑا، دوا، مکان ضروری سازوسامان اور فی الحال یا آئندہ کسی بڑی ضرورت کے لیے جمع شدہ مال کے علاوہ جو دولت ہے وہ سواے سردرد کے اور کیا ہے؟ اس کو باقی رکھنے اور بڑھانے کی فکر میں انسان گھلا جارہا ہے.
مصنوعات کی کثرت نے بھی چیزوں کی مرمت اور قابلِ استعمال رہنے تک استعمال کرنےکی ذہنیت ختم کردی، جس کا نقصان یہ ہے کہ ہم جن چیزوں کے مالک ہیں ان کی اپنائیت، وابستگی ہمارے دل ودماغ پر قائم ہی نہیں ہوپاتی۔ کیوں کہ ہم انہیں جلدی جلدی بدل دیتے ہیں. استعمالی چیزوں کی طویل ملکیت اور طویل مدت تک اس کا استعمال بھی انسان کو محبت اور سکون دیتا ہے۔ قدیم دور میں تلواروں اور اونٹنیوں پر قصیدے یونہی نہیں لکھےگئے بلکہ وہ طبعی لگاؤ کا نتیجہ ہیں. کپڑا دس سال کے بجائے دوسال پہنا جارہا ہے۔ جوتا، چپل دوسال کے بجائے دوچار ماہ پہنےجارہے ہیں۔ سواریاں بیس پچیس سال کے بجائے پانچ سات سال ہی چلارہے ہیں۔ گھڑی جس سے ناقابل شناخت نعش کو پہچان لیا جاتا تھا اب وہ بات کہاں؟ یہ سب مصنوعات کی کثرت کی دین ہے.
پتہ نہیں کیا ترقی ہوئی ہے اور کہاں ہوئی ہے؟ کیا بیماریاں بڑھنا، پھر ان کاعلاج دستیاب ہونا ہی ترقی ہے؟ طویل مسافت فاصلے لمحوں میں تو طے ہورہے ہیں، لیکن دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی وسعت و ترقی سے دنیا بھر کی خبریں نہایت سرعت سے ہمیں موصول تو ہوجاتی ہیں، لیکن ہم اپنے گھر، پڑوس اور اطراف کے حالات سے یکسر بے خبر ہیں۔ حمل ونقل اور جوڑ توڑ کی عظیم مشنریز نے کام اور مصنوعات کی تیاری میں بہت ترقی تو کرلی، لیکن بے روزگاری میں کافی اضافہ بھی کردیا ہے۔ علم کا ابلاغ تو اس قدر عام ہوگیا کہ بٹن دبانے پر ہر طرح کی معلومات آپ کے ہاتھوں میں آجاتی ہیں، لیکن لوگوں میں علم و ادب کا فقدان ہے، ناپید ہوتا جارہا ہے۔
غرض یہ کہ موجودہ دور میں جدید ترقی نے دنیا کا سکون غارت کرکے بس ایک ہنگامہ اورہلچل پیدا کردیاہے.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925948521309000/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سید عالم ﷺ کی ایک عادت کریمہ یہ بھی تھی کہ:
رفع حاجت کے بعد اپنا ہاتھ مبارک زمین پر مَلتے تھے ، پھر اُسے پانی سے دھوتے تھے ۔
( مسند احمد و یگر کتب احادیث )
خدا توفیق دے ، صفائی ستھرائی کا خوب خیال رکھا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واش روم سے فارغ ہو کرخالی ہاتھ دھونے کے بجائے ، صابن یا لیکوڈ ہینڈ واش استعال کرلیا کریں تاکہ اچھی طرح صفائی ہوجائے ۔
رحمت عالم ﷺ کا پہلے مٹی پر ہاتھ ملنا ، پھر انھیں دھونا ، ہمیں اچھی طرح سے صفائی کی ہی ترغیب دلاتا ہے ۔
✍️لقمان شاہد
27-5-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3170414646572036&id=100008105947430
رفع حاجت کے بعد اپنا ہاتھ مبارک زمین پر مَلتے تھے ، پھر اُسے پانی سے دھوتے تھے ۔
( مسند احمد و یگر کتب احادیث )
خدا توفیق دے ، صفائی ستھرائی کا خوب خیال رکھا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واش روم سے فارغ ہو کرخالی ہاتھ دھونے کے بجائے ، صابن یا لیکوڈ ہینڈ واش استعال کرلیا کریں تاکہ اچھی طرح صفائی ہوجائے ۔
رحمت عالم ﷺ کا پہلے مٹی پر ہاتھ ملنا ، پھر انھیں دھونا ، ہمیں اچھی طرح سے صفائی کی ہی ترغیب دلاتا ہے ۔
✍️لقمان شاہد
27-5-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3170414646572036&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیٹیوں کی تربیت 🥀
🌸 بیٹیوں کو لاڈ پیار دیں ، اچھی تعلیم اور ماحول فراہم کریں ، لیکن ان کی تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دیں ۔
اُمورِ خانہ داری ، مہمان نوازی اور وضع داری میں انھیں کسی قسم کی سُستی کا شکار نہ ہونے دیں ۔
🌸 پرانی عقل مند مائیں کہا کرتی تھیں:
بیٹیوں کو وقت ، بے وقت نیند سے بیدار کرتےرہنا چاہیے اور کھانا کھاتے ہوئے بھی بار بار اٹھانا چاہیے ، تاکہ سُستی کاہلی کا ان میں نام و نشان نہ رہے ۔
جومائیں امور خانہ داری میں بیٹیوں کی رعایت کرتی رہتی ہیں ، انھیں ہنر سکھانے کے بجائے کہتی ہیں:
" یہ ابھی بچی ہے ، تھکی ہوئی ہے ، پڑھائی کرتی ہے ، ابھی اس کی نیند پوری نہیں ہوئی وغیرہ وغیرہ ۔ "
وہ بیٹیوں کو سُست اور کاہل بنادیتی ہیں ۔
ایسی بیٹیوں کی جب شادی ہوتی ہے تو چوں کہ ہنر تو وہ سیکھی نہیں ہوتیں ، اس لیے دن رات یا سوئی رہتی ہیں ، یا ٹی وی اور موبائل دیکھتی رہتی ہیں ؛ جو تھوڑا بہت کام کرتی بھی ہیں تو اسے بہت زیادہ سمجھ بیٹھتی ہیں ، اور تھک ہار کر بیٹھ جاتی ہیں ۔
پھر ایک دن آتا ہے کہ نہ ختم ہونے والے جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں ، جو زندگی کو عذاب بنا کے رکھ دیتے ہیں ۔
حافظ الحدیث پیر سید جلال الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ اپنےصاحبزادے کے لیے ایک جگہ رشتہ طے کرنے گئے ، اور رات وہیں قیام کیا ۔
جب عشا کی نمازکے بعد وظائف وغیرہ سے فارغ ہوئے تو اپنی اہلیہ محترمہ رحمھمااللہ سے کہا:
بیٹی کو ذرا بلائیں ۔
انھوں نے بیٹی کی والدہ سے کہا تو وہ کہنے لگیں:
بیٹی سوگئی ہے ، صبح ملے گی ، ہم نے اسے کبھی سوئے ہوئے نہیں جگایا ۔
آپ رحمہ اللہ صبح بغیر رشتہ طے کیے ہی خاموشی سے گھر آگئے اور کہنے لگے:
یہ بیٹی ہمارے والی نہیں ، ہمارا گھر تو دریشوں کا گھر ہے ، کوئی مہمان رات گئے بھی آسکتا ہے ؛ تو کیا ہم صبح تک بہو کے بیدار ہونے کا انتظار کرتے رہا کریں گے کہ وہ اٹھے اور مہمان کو کھانا پانی دے ۔
🌸 قبلہ والد گرامی کہتے ہیں:
میرے ایک عمر رسیدہ دوست تھے ، جو عقل مند ، معاملہ فہم اور بڑے مال دار تھے ۔
ان کی ایک ہی بیٹی تھی ۔
جب اس کی شادی کا وقت آیا تو اسے پاس بٹھا کر کہنے لگے:
بیٹی ، میری بات غور سے سنو !
آج کے بعد تمھارا سسرال ہی تمھارا گھر ہوگا ، تم نے وہاں نِبھا کرکے دکھانا ہے ۔
تم نے بات بات پر اپنے شوہر سے ناراض ہوکے میکے نہیں چلے آنا ، جب بھی یہاں آنا ہے ہنسی خوشی آنا ہے ۔
یہ کبھی نہیں سوچنا کہ تم ایکامیر باپ کی بیٹی ہو ، بلکہ تمھارے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ تم ایک بااصول باپ کی بیٹی اور اپنے شوہر کی فرماں بردار بیوی ہو ۔
سسرال میں چھوٹی موٹی باتیں ہوجایا کرتی ہیں ، تُم نے انھیں کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا ۔
نہ وہاں کی باتیں میکے آکر کرنی ہے ، نہ میکے کی سسرال میں ۔
اللہ کریم ہماری بیٹیوں کے نیک نصیب کرے ، اور ہمیں ان کی دینی دنیوی اچھی تربیت کرنے کی توفیق بخشے !
✍️لقمان شاہد
29-5-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3171891549757679&id=100008105947430
🌸 بیٹیوں کو لاڈ پیار دیں ، اچھی تعلیم اور ماحول فراہم کریں ، لیکن ان کی تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دیں ۔
اُمورِ خانہ داری ، مہمان نوازی اور وضع داری میں انھیں کسی قسم کی سُستی کا شکار نہ ہونے دیں ۔
🌸 پرانی عقل مند مائیں کہا کرتی تھیں:
بیٹیوں کو وقت ، بے وقت نیند سے بیدار کرتےرہنا چاہیے اور کھانا کھاتے ہوئے بھی بار بار اٹھانا چاہیے ، تاکہ سُستی کاہلی کا ان میں نام و نشان نہ رہے ۔
جومائیں امور خانہ داری میں بیٹیوں کی رعایت کرتی رہتی ہیں ، انھیں ہنر سکھانے کے بجائے کہتی ہیں:
" یہ ابھی بچی ہے ، تھکی ہوئی ہے ، پڑھائی کرتی ہے ، ابھی اس کی نیند پوری نہیں ہوئی وغیرہ وغیرہ ۔ "
وہ بیٹیوں کو سُست اور کاہل بنادیتی ہیں ۔
ایسی بیٹیوں کی جب شادی ہوتی ہے تو چوں کہ ہنر تو وہ سیکھی نہیں ہوتیں ، اس لیے دن رات یا سوئی رہتی ہیں ، یا ٹی وی اور موبائل دیکھتی رہتی ہیں ؛ جو تھوڑا بہت کام کرتی بھی ہیں تو اسے بہت زیادہ سمجھ بیٹھتی ہیں ، اور تھک ہار کر بیٹھ جاتی ہیں ۔
پھر ایک دن آتا ہے کہ نہ ختم ہونے والے جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں ، جو زندگی کو عذاب بنا کے رکھ دیتے ہیں ۔
حافظ الحدیث پیر سید جلال الدین شاہ صاحب رحمہ اللہ اپنےصاحبزادے کے لیے ایک جگہ رشتہ طے کرنے گئے ، اور رات وہیں قیام کیا ۔
جب عشا کی نمازکے بعد وظائف وغیرہ سے فارغ ہوئے تو اپنی اہلیہ محترمہ رحمھمااللہ سے کہا:
بیٹی کو ذرا بلائیں ۔
انھوں نے بیٹی کی والدہ سے کہا تو وہ کہنے لگیں:
بیٹی سوگئی ہے ، صبح ملے گی ، ہم نے اسے کبھی سوئے ہوئے نہیں جگایا ۔
آپ رحمہ اللہ صبح بغیر رشتہ طے کیے ہی خاموشی سے گھر آگئے اور کہنے لگے:
یہ بیٹی ہمارے والی نہیں ، ہمارا گھر تو دریشوں کا گھر ہے ، کوئی مہمان رات گئے بھی آسکتا ہے ؛ تو کیا ہم صبح تک بہو کے بیدار ہونے کا انتظار کرتے رہا کریں گے کہ وہ اٹھے اور مہمان کو کھانا پانی دے ۔
🌸 قبلہ والد گرامی کہتے ہیں:
میرے ایک عمر رسیدہ دوست تھے ، جو عقل مند ، معاملہ فہم اور بڑے مال دار تھے ۔
ان کی ایک ہی بیٹی تھی ۔
جب اس کی شادی کا وقت آیا تو اسے پاس بٹھا کر کہنے لگے:
بیٹی ، میری بات غور سے سنو !
آج کے بعد تمھارا سسرال ہی تمھارا گھر ہوگا ، تم نے وہاں نِبھا کرکے دکھانا ہے ۔
تم نے بات بات پر اپنے شوہر سے ناراض ہوکے میکے نہیں چلے آنا ، جب بھی یہاں آنا ہے ہنسی خوشی آنا ہے ۔
یہ کبھی نہیں سوچنا کہ تم ایکامیر باپ کی بیٹی ہو ، بلکہ تمھارے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ تم ایک بااصول باپ کی بیٹی اور اپنے شوہر کی فرماں بردار بیوی ہو ۔
سسرال میں چھوٹی موٹی باتیں ہوجایا کرتی ہیں ، تُم نے انھیں کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا ۔
نہ وہاں کی باتیں میکے آکر کرنی ہے ، نہ میکے کی سسرال میں ۔
اللہ کریم ہماری بیٹیوں کے نیک نصیب کرے ، اور ہمیں ان کی دینی دنیوی اچھی تربیت کرنے کی توفیق بخشے !
✍️لقمان شاہد
29-5-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3171891549757679&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ کا رشتہ ہوتا ہے ، جسے پیار محبت ، اور خلوص و وفا دوام بخشتے ہیں ۔
بغیر کسی معقول وجہ کے یہ رشتہ توڑنا تو پرلے درجے کی حماقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وجہ ہوتے ہوئے بھی آخری حد تک نِبھا کی کوشش کرنی چاہیے ۔
ایک شخص نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا تھا کہ:
میرے والد نے مجھے بیوی کو طلاق دینے کاحکم دیا ہے ، تو کیا میں اسے طلاق دے دوں ؟
آپ نے فرمایا: نہیں ۔
وہ کہنے لگا:
کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو طلاق کا حکم نہیں دیا تھا ( تو انھوں نے اپنے باپ اطاعت کی تھی ) ؟
امام صاحب نے جواب دیا:
اگر تمھاراباپ بھی حضرت عمر فاروق کی طرح ہے تو دے دو ۔
( مطلب: تمھارا باپ سیدنا عمر پاک جیسا معاملہ فہم ، زیرک اور دانا کبھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔اس لیے اس روایت سے دلیل پکڑنے کے بجائے بیوی کے ساتھ نبھا کرو )
( الصبر علی الزوجات ، ص 10 ، ترجمہ مولانا فرحان رفیق قادری ، ط دارالفتح للدراسات والنشر )
اللہ کریم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے طفیل ہمارے گھروں کو آباد رکھے ، ہمیں اور ہمارے والدین کو خلوص و للٰہیت نصیب فرمائے ، اور ہم سب کو معاملہ فہم بنائے !
✍️لقمان شاہد
30-5-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3172611376352363&id=100008105947430
بغیر کسی معقول وجہ کے یہ رشتہ توڑنا تو پرلے درجے کی حماقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وجہ ہوتے ہوئے بھی آخری حد تک نِبھا کی کوشش کرنی چاہیے ۔
ایک شخص نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا تھا کہ:
میرے والد نے مجھے بیوی کو طلاق دینے کاحکم دیا ہے ، تو کیا میں اسے طلاق دے دوں ؟
آپ نے فرمایا: نہیں ۔
وہ کہنے لگا:
کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو طلاق کا حکم نہیں دیا تھا ( تو انھوں نے اپنے باپ اطاعت کی تھی ) ؟
امام صاحب نے جواب دیا:
اگر تمھاراباپ بھی حضرت عمر فاروق کی طرح ہے تو دے دو ۔
( مطلب: تمھارا باپ سیدنا عمر پاک جیسا معاملہ فہم ، زیرک اور دانا کبھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔اس لیے اس روایت سے دلیل پکڑنے کے بجائے بیوی کے ساتھ نبھا کرو )
( الصبر علی الزوجات ، ص 10 ، ترجمہ مولانا فرحان رفیق قادری ، ط دارالفتح للدراسات والنشر )
اللہ کریم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے طفیل ہمارے گھروں کو آباد رکھے ، ہمیں اور ہمارے والدین کو خلوص و للٰہیت نصیب فرمائے ، اور ہم سب کو معاملہ فہم بنائے !
✍️لقمان شاہد
30-5-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3172611376352363&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اس کے لئے سات سو گنا (ثواب) لکھ دیا جاتا ہے
Yeh Post 35 Zabaan Men↴
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/326380625780086/
یہ پوسٹ 35 زبان میں ↑
Yeh Post 35 Zabaan Men↴
https://www.facebook.com/114021443682673/posts/326380625780086/
یہ پوسٹ 35 زبان میں ↑