Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام ابو محمد الجُوَینِی اور اُن کے بیٹے امام الحرمین الجوینی !
جب باپ ایسے ہوتے ہیں تب بیٹے ایسے پیدا ہوتے ہیں!!!
((مضمون پڑھیے اور سمجھیے کہ نسلوں کو بلندی کیسے ملتی ہے!!))
تحریر : نثار مصباحی
رکن : روشن مستقبل
امامِ غزالی رحِمَہ اللہ (متوفی 505ھ) کے اساتذہ میں ایک معروف ہستی امام الحرمین الجُوَینِی(امام ابو المعالی عبد المَلک بن ابو محمد الجوینی الشافعی) رحمہ اللہ کی ہے. آپ کی ولادت 419ھ میں اور وفات 478ھ میں ہوئی.
آپ عقیدہ و کلام اور فقہ و اصولِ فقہِ شافعی کے ائمہ میں سے ہیں. آپ کی تصانیف میں "الإرشاد إلى قواطع الأدلة في أصول الاعتقاد" اور "الشامل في أصول الدين" وغیرہ معروف ہیں.
آپ کے والد امام ابو محمد الجوینی(عبد اللہ بن يوسف) رحمه الله (متوفی 438ھ) بھی اپنے وقت کے اکابر اولیا اور ائمہ میں سے تھے.
امام تاج الدین السبکی الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 771ھ) نے "طبقات الشافعیۃ الکبری" میں ان کے تذکرے میں لکھا ہے کہ :
وہ علم و دین داری, اور زُہد و پرہیز گاری میں یکتاے زمانہ تھے. زہد و تقوی میں تمام معاصرین پر فائق اور بےمثال دین داری کی وجہ سے بڑے بارعب اور باہیبت تھے. امام ابو سعید بن امام قشیری فرماتے ہیں کہ امام ابو محمد الجوینی کے ہم عصر ائمہ و محققین اُن کے بےنظیر زہد و ورع, خصائلِ حمیدہ اور غایتِ فضل و کمال کی وجہ سے ایسا مانتے تھے کہ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا اور اِس زمانے میں نبی آنا ممکن ہوتا تو وہ امام ابو محمد الجوینی ہی ہوتے. !!!
(طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی, والفتاوی الحدیثیۃ للامام ابن حجر المکی)
امام ابو محمد الجوینی کے تقوی اور احتیاط کی ایک جھلک امام تاج الدین السبکی نے پیش فرمائی ہے کہ آپ اپنے ذاتی مکان کی اس دیوار سے ٹیک بھی نہیں لگاتے تھے جو آپ کے اور پڑوسی کےدرمیان ہوتی تھی, اور نہ ہی اس میں کیل وغیرہ ٹھونکتے تھے.(جب کہ وہ آپ کی اپنی ملکیت تھی اور اس میں تصرف آپ کے لیے ہرطرح سے جائز و درست تھا)!!!
شیخ الاسلام ابوعثمان صابونی (متوفی 449ھ) کہتے ہیں کہ اگر امام ابو محمد الجوینی بَنی اسرائیل میں ہوئے ہوتے تو ان کی سیرت و شمائل مروی ہوکر ہم تک پہنچتے اور وہ لوگ اِن پر ناز کرتے. !!! (طبقات الشافعیۃ الکبری, الطبقۃ الرابعۃ)
امام ابو محمد الجوینی حرام و ممنوع تو بہت دور کی بات ہے, شبہات تک سے بہت پرہیز فرماتے تھے. آپ کے بیٹے امام الحرمین جب پیدا ہوئے تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کو حکم دے دیا تھا کہ اس کو صرف تم ہی دودھ پلانا, اور کوئی باہری عورت اگر کبھی آئے اور بچے کو دودھ پلانا چاہے تو مت پلانے دینا. !!! (یہ شبہات سے پرہیز کی ایک نادر مثال ہے.) اتفاق ایسا کہ ایک دِن ایک عورت (کسی کام سے) آئی اور گھر کے اندر بچے کو (دلارنے اور بہلانے کے دوران) دودھ پلانے لگی. ابھی ایک ہی چسکی بچے نے پی تھی کہ بچہ اس عورت سے لے لیا گیا. امام ابو محمد الجوینی نے بچے کے حلق میں انگلی ڈال کر فوراً الٹی کروائی, اور جو دودھ پیٹ میں چلا گیا تھا اسے باہر کیا. (لیکن ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو اندر رہ ہی گیا ہوگا.) قاضی شمس الدین ابن خلکان رحمہ اللہ (متوفی 681ھ) "وفیات الأعیان" میں یہ واقعہ لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بعد میں امام الحرمین جب بڑے ہوگئے, تو کبھی کبھار جب کسی مناظرے یا بحث میں آپ کے اندر کچھ ٹھہراؤ یا اضمحلال محسوس ہوتا تو فرماتے تھے کہ : یہ اُسی ایک چسکی کا اثر ہے. !!!!
آپ کے والد گرامی امام ابو محمد الجوینی ایک بار خواب میں حضرتِ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی زیارت سے مشرف ہوئے. سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قدمِ مبارک پر بوسہ دینا چاہا مگر حضرتِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ کا اِکرام اور عزت افزائی فرماتے ہوئے روک دیا. امام ابو محمد فرماتے ہیں کہ پھر مجھے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی مبارک ایڑی کے پچھلے حصے (عقب) پر بوسہ دینے کا شرف عطا کیا گیا. (بیدار ہونے کے بعد) میں نے اس کی یہ تعبیر سمجھی کہ میری "عقب"(نسل) میں اللہ عزوجل رفعت و برکت عطا فرمائے گا. !!!
امام تاج الدین السبکی رحمہ اللہ یہ واقعہ لکھ کر فرماتے ہیں کہ:
"آپ کے بیٹے امام الحرمین الجوینی جیسی اور کون سی رفعت و برکت ہو سکتی ہے." ((یعنی حضرتِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی ایڑی مبارک کے پچھلے حصے پر بوسے سے آپ نے اپنی نسل میں (پیچھے آنے والوں میں) رفعت و برکت کی جو تعبیر لی تھی وہ بالکل درست تھی اور سب سے بڑی برکت و رفعت امام الحرمین کی صورت میں ظاہر ہوئی.))
رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین.
اللهم أمتنا على محبتهم و احشرنا في زمرتهم.
#نثارمصباحی
6شوال1441ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/924895024747683/
جب باپ ایسے ہوتے ہیں تب بیٹے ایسے پیدا ہوتے ہیں!!!
((مضمون پڑھیے اور سمجھیے کہ نسلوں کو بلندی کیسے ملتی ہے!!))
تحریر : نثار مصباحی
رکن : روشن مستقبل
امامِ غزالی رحِمَہ اللہ (متوفی 505ھ) کے اساتذہ میں ایک معروف ہستی امام الحرمین الجُوَینِی(امام ابو المعالی عبد المَلک بن ابو محمد الجوینی الشافعی) رحمہ اللہ کی ہے. آپ کی ولادت 419ھ میں اور وفات 478ھ میں ہوئی.
آپ عقیدہ و کلام اور فقہ و اصولِ فقہِ شافعی کے ائمہ میں سے ہیں. آپ کی تصانیف میں "الإرشاد إلى قواطع الأدلة في أصول الاعتقاد" اور "الشامل في أصول الدين" وغیرہ معروف ہیں.
آپ کے والد امام ابو محمد الجوینی(عبد اللہ بن يوسف) رحمه الله (متوفی 438ھ) بھی اپنے وقت کے اکابر اولیا اور ائمہ میں سے تھے.
امام تاج الدین السبکی الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 771ھ) نے "طبقات الشافعیۃ الکبری" میں ان کے تذکرے میں لکھا ہے کہ :
وہ علم و دین داری, اور زُہد و پرہیز گاری میں یکتاے زمانہ تھے. زہد و تقوی میں تمام معاصرین پر فائق اور بےمثال دین داری کی وجہ سے بڑے بارعب اور باہیبت تھے. امام ابو سعید بن امام قشیری فرماتے ہیں کہ امام ابو محمد الجوینی کے ہم عصر ائمہ و محققین اُن کے بےنظیر زہد و ورع, خصائلِ حمیدہ اور غایتِ فضل و کمال کی وجہ سے ایسا مانتے تھے کہ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا اور اِس زمانے میں نبی آنا ممکن ہوتا تو وہ امام ابو محمد الجوینی ہی ہوتے. !!!
(طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی, والفتاوی الحدیثیۃ للامام ابن حجر المکی)
امام ابو محمد الجوینی کے تقوی اور احتیاط کی ایک جھلک امام تاج الدین السبکی نے پیش فرمائی ہے کہ آپ اپنے ذاتی مکان کی اس دیوار سے ٹیک بھی نہیں لگاتے تھے جو آپ کے اور پڑوسی کےدرمیان ہوتی تھی, اور نہ ہی اس میں کیل وغیرہ ٹھونکتے تھے.(جب کہ وہ آپ کی اپنی ملکیت تھی اور اس میں تصرف آپ کے لیے ہرطرح سے جائز و درست تھا)!!!
شیخ الاسلام ابوعثمان صابونی (متوفی 449ھ) کہتے ہیں کہ اگر امام ابو محمد الجوینی بَنی اسرائیل میں ہوئے ہوتے تو ان کی سیرت و شمائل مروی ہوکر ہم تک پہنچتے اور وہ لوگ اِن پر ناز کرتے. !!! (طبقات الشافعیۃ الکبری, الطبقۃ الرابعۃ)
امام ابو محمد الجوینی حرام و ممنوع تو بہت دور کی بات ہے, شبہات تک سے بہت پرہیز فرماتے تھے. آپ کے بیٹے امام الحرمین جب پیدا ہوئے تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کو حکم دے دیا تھا کہ اس کو صرف تم ہی دودھ پلانا, اور کوئی باہری عورت اگر کبھی آئے اور بچے کو دودھ پلانا چاہے تو مت پلانے دینا. !!! (یہ شبہات سے پرہیز کی ایک نادر مثال ہے.) اتفاق ایسا کہ ایک دِن ایک عورت (کسی کام سے) آئی اور گھر کے اندر بچے کو (دلارنے اور بہلانے کے دوران) دودھ پلانے لگی. ابھی ایک ہی چسکی بچے نے پی تھی کہ بچہ اس عورت سے لے لیا گیا. امام ابو محمد الجوینی نے بچے کے حلق میں انگلی ڈال کر فوراً الٹی کروائی, اور جو دودھ پیٹ میں چلا گیا تھا اسے باہر کیا. (لیکن ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو اندر رہ ہی گیا ہوگا.) قاضی شمس الدین ابن خلکان رحمہ اللہ (متوفی 681ھ) "وفیات الأعیان" میں یہ واقعہ لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بعد میں امام الحرمین جب بڑے ہوگئے, تو کبھی کبھار جب کسی مناظرے یا بحث میں آپ کے اندر کچھ ٹھہراؤ یا اضمحلال محسوس ہوتا تو فرماتے تھے کہ : یہ اُسی ایک چسکی کا اثر ہے. !!!!
آپ کے والد گرامی امام ابو محمد الجوینی ایک بار خواب میں حضرتِ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی زیارت سے مشرف ہوئے. سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قدمِ مبارک پر بوسہ دینا چاہا مگر حضرتِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ کا اِکرام اور عزت افزائی فرماتے ہوئے روک دیا. امام ابو محمد فرماتے ہیں کہ پھر مجھے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی مبارک ایڑی کے پچھلے حصے (عقب) پر بوسہ دینے کا شرف عطا کیا گیا. (بیدار ہونے کے بعد) میں نے اس کی یہ تعبیر سمجھی کہ میری "عقب"(نسل) میں اللہ عزوجل رفعت و برکت عطا فرمائے گا. !!!
امام تاج الدین السبکی رحمہ اللہ یہ واقعہ لکھ کر فرماتے ہیں کہ:
"آپ کے بیٹے امام الحرمین الجوینی جیسی اور کون سی رفعت و برکت ہو سکتی ہے." ((یعنی حضرتِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی ایڑی مبارک کے پچھلے حصے پر بوسے سے آپ نے اپنی نسل میں (پیچھے آنے والوں میں) رفعت و برکت کی جو تعبیر لی تھی وہ بالکل درست تھی اور سب سے بڑی برکت و رفعت امام الحرمین کی صورت میں ظاہر ہوئی.))
رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین.
اللهم أمتنا على محبتهم و احشرنا في زمرتهم.
#نثارمصباحی
6شوال1441ھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/924895024747683/
Facebook
Log in to Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاوی رضویہ جلد 12/12، صفحہ 132؛ جلد 29/30 صفحہ 115
"علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں، حمایتِ مذہب سے گھبراتے ہیں، جو بندہ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں، مداہنت ان کے دلوں میں پیری ہوئی ہے، ایّام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا، عبارت ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگا دیں اور جب کہئے، حضرت لکھ دیجئے، بھائی لکھواؤ نہیں، ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے، ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گا، بہت کو یہ خیال کہ مفت میں اوکھلی میں سر دے کر موسل کون کھائے، بد مذہب دشمن ہو جائیں گے، دانتوں پر رکھ لیں گے، گالیاں، پھبتیاں، اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گے، طرح طرح کے بہتان، افتراء اچھالیں گے، اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے، بعض کو یہ کد کہ حمایتِ مذہب کی تو صلح کھلی نہ رہے گی، ہر دل عزیزی جا کر پلاؤ، قورمے، نذرانہ میں فرق آئے گا یا کم از کم آؤ بھگت تو عام نہ رہے گی"
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3012816035664370&id=100008080090753
"علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں، حمایتِ مذہب سے گھبراتے ہیں، جو بندہ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں، مداہنت ان کے دلوں میں پیری ہوئی ہے، ایّام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا، عبارت ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگا دیں اور جب کہئے، حضرت لکھ دیجئے، بھائی لکھواؤ نہیں، ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے، ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گا، بہت کو یہ خیال کہ مفت میں اوکھلی میں سر دے کر موسل کون کھائے، بد مذہب دشمن ہو جائیں گے، دانتوں پر رکھ لیں گے، گالیاں، پھبتیاں، اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گے، طرح طرح کے بہتان، افتراء اچھالیں گے، اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے، بعض کو یہ کد کہ حمایتِ مذہب کی تو صلح کھلی نہ رہے گی، ہر دل عزیزی جا کر پلاؤ، قورمے، نذرانہ میں فرق آئے گا یا کم از کم آؤ بھگت تو عام نہ رہے گی"
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3012816035664370&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اہل علم سے ایک استفتاء:
سیدی اعلٰی حضرت امام احمدرضاخان قادری علیہ الرحمه فرماتے ہیں:
"اہلِ سنت سے بتقدیرِالٰہی جو ایسی لغزشِ فاحش واقع ہو، اس کا اخفاء واجب ہے کہ معاذﷲ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا"
(فتاوی رضویہ 29/591)
اس اقتباس سے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ
اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ نے سنی عالم کی لغزشِ فاحش(یعنی شرمناک لغزش)تک کے اِخفا(چُھپانے)کاحکم دیاہے۔اس لیے کسی سنی عالم کی فرعی خطاکوبھی بیان نہیں کرناچاہیے۔
اس استدلال کودُرُست ماناجائے تویہ سوال ذہن میں پیداہوتاہے کہ خودسیدی اعلٰی حضرت نے اپنی کتب وفتاوٰی میں مختلف مسائل پر کئی علمائے اہلِ سنت سے اختلاف کیاہے،اور اس کوشائع بھی کیاہے۔مثال کے طورپر
1.مسئلہ اذانِ ثانی بنیادی طورپرایک فروعی مسئلہ ہے۔ لیکن اس پرعلمائے بدایوں ورامپورسے آپ کااختلاف ہوا۔طرفین کی جانب سے کتابیں لکھی گئی۔کئی سال تک یہ اختلاف چلتارہا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ بدایونی علماکی طرف سے اعلٰی حضرت پراِزالہء حیثیتِ عرفی کاکیس کردیاگیا۔جس میں بفضلِ خدا اعلٰی حضرت کوکامیابی حاصل ہوئی اورکیس خارج ہوگیا۔
2.اسی طرح علامہ عبدالحئی لکھنوی سے بھی اعلٰی حضرت کامختلف مسائل پراختلاف ہوا،اور اس اختلاف کی آپ نے اشاعت بھی کی۔
مختصریہ کہ فتاوی رضویہ سے اگراعلٰی حضرت کے دیگرعلمائے اہلِ سنت کے ساتھ ہونے والے اختلاف پرمبنی موادکوجمع کیاجائے تواچھی خاصی ضخامت کی کتاب بن سکتی ہے
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ سیدی اعلٰی حضرت نے سُنّی عالم کی لغزش فاحش(شرمناک لغزش)کے اخفا(چُھپانے)کوواجب قراردیاہے۔تواس سے کون سی خطامراد ہے؟
اگراس سےفرعی دینی مسئلہ میں ہونے والی خطامیں اخفا(چُھپانا)مرادہے توپھراس کاکیاجواب ہوگاکہ خودسیدی اعلٰی حضرت نے مختلف مسائل پر کئی علمائے اہل سنت سے اختلاف کیا،اس پرکتب لکھیں وفتوے جاری کیے اوران کوشائع بھی کیا۔
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3012950222317618&id=100008080090753
سیدی اعلٰی حضرت امام احمدرضاخان قادری علیہ الرحمه فرماتے ہیں:
"اہلِ سنت سے بتقدیرِالٰہی جو ایسی لغزشِ فاحش واقع ہو، اس کا اخفاء واجب ہے کہ معاذﷲ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا"
(فتاوی رضویہ 29/591)
اس اقتباس سے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ
اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ نے سنی عالم کی لغزشِ فاحش(یعنی شرمناک لغزش)تک کے اِخفا(چُھپانے)کاحکم دیاہے۔اس لیے کسی سنی عالم کی فرعی خطاکوبھی بیان نہیں کرناچاہیے۔
اس استدلال کودُرُست ماناجائے تویہ سوال ذہن میں پیداہوتاہے کہ خودسیدی اعلٰی حضرت نے اپنی کتب وفتاوٰی میں مختلف مسائل پر کئی علمائے اہلِ سنت سے اختلاف کیاہے،اور اس کوشائع بھی کیاہے۔مثال کے طورپر
1.مسئلہ اذانِ ثانی بنیادی طورپرایک فروعی مسئلہ ہے۔ لیکن اس پرعلمائے بدایوں ورامپورسے آپ کااختلاف ہوا۔طرفین کی جانب سے کتابیں لکھی گئی۔کئی سال تک یہ اختلاف چلتارہا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ بدایونی علماکی طرف سے اعلٰی حضرت پراِزالہء حیثیتِ عرفی کاکیس کردیاگیا۔جس میں بفضلِ خدا اعلٰی حضرت کوکامیابی حاصل ہوئی اورکیس خارج ہوگیا۔
2.اسی طرح علامہ عبدالحئی لکھنوی سے بھی اعلٰی حضرت کامختلف مسائل پراختلاف ہوا،اور اس اختلاف کی آپ نے اشاعت بھی کی۔
مختصریہ کہ فتاوی رضویہ سے اگراعلٰی حضرت کے دیگرعلمائے اہلِ سنت کے ساتھ ہونے والے اختلاف پرمبنی موادکوجمع کیاجائے تواچھی خاصی ضخامت کی کتاب بن سکتی ہے
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ سیدی اعلٰی حضرت نے سُنّی عالم کی لغزش فاحش(شرمناک لغزش)کے اخفا(چُھپانے)کوواجب قراردیاہے۔تواس سے کون سی خطامراد ہے؟
اگراس سےفرعی دینی مسئلہ میں ہونے والی خطامیں اخفا(چُھپانا)مرادہے توپھراس کاکیاجواب ہوگاکہ خودسیدی اعلٰی حضرت نے مختلف مسائل پر کئی علمائے اہل سنت سے اختلاف کیا،اس پرکتب لکھیں وفتوے جاری کیے اوران کوشائع بھی کیا۔
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3012950222317618&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"حدیثِ سل" پر ملا علی قاری،شیخ محقق اور اعلیٰ حضرت کا خوبصورت تبصرہ
حضرت ربیعہ بن کعب نے ایک رات سرکار دوعالمﷺ کی خدمت کی۔ نبی پاک نے خوش ہوکر فرمایا:
یا ربیعۃ سلنی فاعطیک
اے ربیعہ مانگ کیا مانگتا ہے ہم تجھے دیں گے۔
عرض کی حضور جنت مانگتا ہوں
فرمایا: او غیر ذالک؟
اے ربیعہ کچھ اور بھی مانگ لے
عرض کی: نہیں حضور بس جنت کافی ہے۔
فرمایا: تو میری اعانت کثرت سجود سے کرنا(یعنی بشارت پانے کے بعد غفلت نہ کرنا)
(مسلم، ابی داؤد، طبرانی وغیرہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملا علی قاری اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
"یؤخذ من اطلاقہ الامر بسوال ان الله تعالیٰ مکنہ من اعطاء کل ما اراد من خزائن الحق"
ترجمہ:
حضورﷺ نے مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے استفادہ ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ نے حضورﷺ کو عام قدرت بخشی ہے کہ الله کے خزانوں سے جو چاہیں دیں۔
مرقاۃ المفاتیح،کتاب الصلاۃ،ج 2،ص 615)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
"از اطلاق سوال کہ فرمودش بخواہ تخصیص نکرد بمطلوبے خاص معلوم میشود کہ کار ہمہ بدست ھمت و کرامت اوستﷺ ہرجہ خواھد و کراخواھد باذن پروردگار خوددھد"
یعنی:
مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا: مانگ۔ اور کسی خاص شے کو مانگنے کی تخصیص نہیں فرمائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمام معاملہ آپ کے دست اقدس میں ہے، جو چاہیں جسے چاہیں الله تعالیٰ کے اذن سے عطا کردیں۔
(اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ،ج1،ص396)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے امام اعلیحضرت فرماتے ہیں:
اس حدیث کا ہرہر لفظ وہابیت کش ہے۔ نبی پاک
خلیفۃ الله اعظمﷺ کا مطلقاً بلا قید و تخصیص کے فرمانا: "سل" مانگ کیا منگتا ہے، جان وہابیت پر کیسا
پہاڑ ہے۔اور جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور
ہر قسم کی حاجت روائی فرماتے ہیں۔ دنیا اور
آخرت کی سب مرادیں پوری فرمانے میں مکمل
اختیار رکھتے ہیں جبھی تو بلا کسی قید کے فرمایا مانگ کیا منگتا ہے جو بھی مانگے گا ہماری سرکار سے ملے گا۔
(فتاویٰ رضویہ،ج30،ص495)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لطیف نکتہ:
جب نبی پاک نے پوچھا ربیعہ مانگ تو صحابی رسول نے اونٹ گھوڑے زرہ مال دولت نہیں مانگی۔ بلکہ ایسی چیز مانگ لی جس کا تعلق دوسرے جہان سے ہے۔ یعنی صحابی کا بھی عقیدہ کیسا صاف ستھرا تھا کہ حضور اس دنیا کے مالک تو ہیں ہی جنت کے بھی مالک ہیں۔ اسی لئے جنت کی تمنا کردی۔
سیدنا ربیعہ عرض گزار ہوئے: آپ کے ساتھ جنت میں رفاقت چاہتا ہوں۔
کسی کو جب کوئی چیز دی جائے تو ظاہر ہے ملکیت میں ہوتو دی جاسکتی ہے۔ سرکار دوعالم کا جنت عطا کرنا بتا رہا ہے کہ جنت رسول اللہ کی♥️۔
تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
ہم رسول اللہ کے جنت رسول اللہﷺ کی
حسیب احمد مجددی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014017315544242&id=100008080090753
حضرت ربیعہ بن کعب نے ایک رات سرکار دوعالمﷺ کی خدمت کی۔ نبی پاک نے خوش ہوکر فرمایا:
یا ربیعۃ سلنی فاعطیک
اے ربیعہ مانگ کیا مانگتا ہے ہم تجھے دیں گے۔
عرض کی حضور جنت مانگتا ہوں
فرمایا: او غیر ذالک؟
اے ربیعہ کچھ اور بھی مانگ لے
عرض کی: نہیں حضور بس جنت کافی ہے۔
فرمایا: تو میری اعانت کثرت سجود سے کرنا(یعنی بشارت پانے کے بعد غفلت نہ کرنا)
(مسلم، ابی داؤد، طبرانی وغیرہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملا علی قاری اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
"یؤخذ من اطلاقہ الامر بسوال ان الله تعالیٰ مکنہ من اعطاء کل ما اراد من خزائن الحق"
ترجمہ:
حضورﷺ نے مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے استفادہ ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ نے حضورﷺ کو عام قدرت بخشی ہے کہ الله کے خزانوں سے جو چاہیں دیں۔
مرقاۃ المفاتیح،کتاب الصلاۃ،ج 2،ص 615)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
"از اطلاق سوال کہ فرمودش بخواہ تخصیص نکرد بمطلوبے خاص معلوم میشود کہ کار ہمہ بدست ھمت و کرامت اوستﷺ ہرجہ خواھد و کراخواھد باذن پروردگار خوددھد"
یعنی:
مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا: مانگ۔ اور کسی خاص شے کو مانگنے کی تخصیص نہیں فرمائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمام معاملہ آپ کے دست اقدس میں ہے، جو چاہیں جسے چاہیں الله تعالیٰ کے اذن سے عطا کردیں۔
(اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ،ج1،ص396)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے امام اعلیحضرت فرماتے ہیں:
اس حدیث کا ہرہر لفظ وہابیت کش ہے۔ نبی پاک
خلیفۃ الله اعظمﷺ کا مطلقاً بلا قید و تخصیص کے فرمانا: "سل" مانگ کیا منگتا ہے، جان وہابیت پر کیسا
پہاڑ ہے۔اور جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور
ہر قسم کی حاجت روائی فرماتے ہیں۔ دنیا اور
آخرت کی سب مرادیں پوری فرمانے میں مکمل
اختیار رکھتے ہیں جبھی تو بلا کسی قید کے فرمایا مانگ کیا منگتا ہے جو بھی مانگے گا ہماری سرکار سے ملے گا۔
(فتاویٰ رضویہ،ج30،ص495)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لطیف نکتہ:
جب نبی پاک نے پوچھا ربیعہ مانگ تو صحابی رسول نے اونٹ گھوڑے زرہ مال دولت نہیں مانگی۔ بلکہ ایسی چیز مانگ لی جس کا تعلق دوسرے جہان سے ہے۔ یعنی صحابی کا بھی عقیدہ کیسا صاف ستھرا تھا کہ حضور اس دنیا کے مالک تو ہیں ہی جنت کے بھی مالک ہیں۔ اسی لئے جنت کی تمنا کردی۔
سیدنا ربیعہ عرض گزار ہوئے: آپ کے ساتھ جنت میں رفاقت چاہتا ہوں۔
کسی کو جب کوئی چیز دی جائے تو ظاہر ہے ملکیت میں ہوتو دی جاسکتی ہے۔ سرکار دوعالم کا جنت عطا کرنا بتا رہا ہے کہ جنت رسول اللہ کی♥️۔
تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
ہم رسول اللہ کے جنت رسول اللہﷺ کی
حسیب احمد مجددی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014017315544242&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سادہ مزاج سنی لوگو ں سے بولا کہ دیوبندی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیےکیونکہ
نماز ان کے پیچھے ہوتی ہی نہیں.
لوگوں میں سے کچھ نے اعتراض کردیا تو اس سنی نے کہا
دیکھو بھائی میں سمجھاتا ہوں.سب بغوراس کی بات سننے لگے:
اگر کسی مسجد کے امام صاحب کچھ دنوں کے لیے باہر چلے جائیں اور کہہ جائیں دیکھو جب تک میں واپس نہیں آجاتا نماز میری بیوی پڑھائے گی کیونکہ وہ اللہ کی بندی ہے.
تو بتاو کیا تم لوگ امام کی بیوی کے پہچھے نماز پڑھو گے؟؟؟؟
سارے سامعین غصے میں بولے بندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی؟
سنی بولا جب اللہ کی بندی کے پیچھے نماز نہیں ہوگی تو پھر دیوبندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی.. 🤣
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014982995447674&id=100008080090753
نماز ان کے پیچھے ہوتی ہی نہیں.
لوگوں میں سے کچھ نے اعتراض کردیا تو اس سنی نے کہا
دیکھو بھائی میں سمجھاتا ہوں.سب بغوراس کی بات سننے لگے:
اگر کسی مسجد کے امام صاحب کچھ دنوں کے لیے باہر چلے جائیں اور کہہ جائیں دیکھو جب تک میں واپس نہیں آجاتا نماز میری بیوی پڑھائے گی کیونکہ وہ اللہ کی بندی ہے.
تو بتاو کیا تم لوگ امام کی بیوی کے پہچھے نماز پڑھو گے؟؟؟؟
سارے سامعین غصے میں بولے بندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی؟
سنی بولا جب اللہ کی بندی کے پیچھے نماز نہیں ہوگی تو پھر دیوبندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی.. 🤣
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014982995447674&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے شخص کا ایک اصولی و تحقیقی محاسبہ
از۔۔۔۔۔مفتی محمد سلیم بریلوی
جامعہ رضویہ منظر اسلام۔۔بریلی شریف۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔
محب گرامی۔۔کرم فرما حضرت مولانا محمد قاسم عمر صاحب رضوی مصباحی۔۔زید علمہ و فضلہ ۔۔۔۔ساوتھ افریقہ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
مزاج ھمایوں!
آپ نے حضرت بلال والی اس حدیث کی وضاحت طلب کی ھے کہ جس میں یہ ھے کہ رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج فی حلہ مشمرا فصلی رکعتین الخ
کہ اس حدیث سے کوئی شخص یہ استدلال کررھا ھے کہ کف ثوب یعنی کپڑا موڑ کر نماز ادا کرنا درست ھے مکروہ نھیں ھے۔۔۔تو اس سلسلہ میں عرض ھے کہ پہلےیہ معلوم کریں وہ شخص مقلد ھے کہ غیر مقلد؟مقلد کو براہ راست اس طرح نصوص سے استدلال کرتے ھوئے عمل کی اجازت کب ھے؟مقلد کے لئے تو اپنے امام مذھب کا قول بس ھے۔۔۔۔اگر لوگ اسی طرح احادیٹ کریمہ کے اردو اور انگریزی بے ڈھنگے ترجمے دیکھ اور پڑھ کر عمل کرنے لگے تب تو پھر ھو چکا عمل اور ھوچکی احادیث کی پیروی۔۔اس طرح توامن و امان ھی ختم ھوجائے گا اور آدمی عمل کرنے میں متضاد افعال کا شکار ھوجائے گا۔۔ بلکہ بھت سے مقامات و مسائل میں اجتماع ضدین کی صورت پیدا ھو جائے گی۔۔مثلا خود اسی کف ثوب والے ھی عمل کو دیکھ لیں کہ قائل کے بقول اس حدیثِ بلال یعنی "فی حلہ مشمرا" والی حدیث سے کفِ ثوب کا جواز نکلتا ھے جبکہ بخاری و مسلم میں ایک اور حدیث ھے کہ:امرت ان اسجد علی سبعہ اعظم الجبھہ و الکفین۔۔۔۔۔۔۔۔الی ان۔۔۔۔۔۔۔لا اکف شعرا ولا ثوبا۔۔۔۔بالفاظ متعددہ۔۔۔
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ھے ۔۔جس میں کفِ ثوب کی واضح نھی و ممانعت ھے۔۔۔تو اب حدیثِ بلال کے انگلش اوراردو ترجمہ کو پڑھ کر کفِ ثوب کے ساتھ یعنی کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے سے معلوم کریں کہ دوسری حدیث کا انگلش و اردو ترجمہ پڑھ کر وہ دونوں پر کیسے عمل کرے گا؟اگر کرتا ھے تو اجتماعِ ضدین لازم آئے گا جو محال و باطل ھے۔۔۔۔۔
یہ شخص اصولِ شرع اور اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ سے بالکلیہ ناواقف ھے۔ایسی ھی متضاد و محتمل صورتوں میں یہ اصولِ فقہ وغیرہ ھماری راھنمائی کرتے ھیں اور اسی طرح کی سخت ترین اُلجھنوں سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی امام مجتھد کی تقلید لازمی قرار دی گئی ھے۔۔۔۔تاکہ اردو و انگریزی ترجمے پڑھ کر کوئی مجتھد بننے کے چکر میں مشکل میں پڑ کر گمراھی اور متضاد کیفیت کا شکار نہ ھوجائے۔۔۔۔اتنی تفصیل و تمھید کے بعداب اصل جواب ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
اولا یہ ذھن نشین کرلیا جائے کہ کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنے کی کراھت متفق علیہ اور اجماعی ھے۔
امام نوَوِی علیہ الرحمہ نے ائمہ اربعہ کا اور علمائے امت کا اس پر اتفاق نقل کیا ھے اور اس باب میں میری نقل کردہ دوسری حدیث یعنی "لا اکف شعرا ولا ثوبا" کو معمول بہ مانا ھے کیونکہ یہ حدیث قولی ھے اور حدیثِ بلال فعلی ھے۔۔اور اصول ھے کہ فعلی و قولی میں سے قولی کو ترجیح حاصل ھوتی ھے کیونکہ فعلی میں بھت سے احتمالات ھوتے ھیں مثلاً اسی فعلی حدیثِ بلال کو لے لیجئے کہ
1....اس میں ایک احتمال یہ بھی ھے کہ آقا نے یہ کام محض بیانِ جواز کے لئے کیا ھو یعنی کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنا حرام نھیں ھے ۔بلکہ جائز مع الکراھت ھے۔۔۔۔
2.....دوسرا احتمال یہ ھے کہ یہ کفِ ثوب امت کے لئے مکروہ ھو,آقا کے لئے مکروہ نہ ھو ۔۔اس میں آقا کی خصوصیت ھو۔۔۔ اس لئے آقا نے ایک مرتبہ ایسا کیا۔۔۔
3.... تیسرا احتمال ہہ ھے کہ اس حدیث میں حضرت بلال نے صرف اتنا ذکر کیا ھے کہ آقا کپڑے سمیٹے یا موڑے ھوئے نکلے پھر دورکعت نماز ادا کی۔۔۔یہ کہاں ھے کہ اسی طرح کپڑے موڑ کر نماز بھی ادا کی؟تو یہ بھی تو ھوسکتا ھے کہ جب نماز پڑھنا شروع کی ھو تو کپڑے صحیح کرلئے ھوں اور بنا کفِ ثوب کے نماز ادا کی ھو۔۔جیسے کوئی شخص وضو کرکے نکلتا ھے تو اس کی آستینیں مڑی ھوتی ھیں اور وہ مصلی پر پہونچتے پہونچتے انھیں صحیح و درست کرلیتا ھے ۔۔جس کا مشاھدہ مسجدوں میں ھم ھر روز کرتے ھیں۔۔۔
4۔۔۔۔۔چوتھا احتمال یہ ھے کہ کلمہ تشمیر ۔۔۔کفِ ثوب کے معنی میں نص نھیں ھے بلکہ اس کے کئی معانی ھیں چنانچہ اس کا ایک معنی مستعد بھی ھوتا ھے تو اب حدیث کا مفھوم ھوگا کہ خرج فی حلہ مستعدا للصلوہ یعنی نماز کے لئے مستعد و آمادہ اور نماز کے لئے تیار ھوکر تیزی کے ساتھ تشریف لائے۔۔۔نیز تشمیر کا ایک معنی ھوتا ھے رفع ثوب تو اب مطلب یہ ھوگا کہ چونکہ یہ واقعہ سفر کا ھے۔۔ لوگ نماز کے لئے منتظر و تیار بیٹھے تھے تو آپ عجلت میں تشریف لائے اور جب انسان جلدی جلدی اس طرح کے ڈھیلے کپڑے اور جبہ زیب تن کرکے بعجلت چلتا ھے تو ازار یا جبہ کو ھاتھ سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیتا ھے کہ کہیں الجھ کر گر نہ جائے اور آسانی کے ساتھ تیز رفتار وہ چل سکے تو یھاں کف ثوب نھیں ھوتا۔بلکہ رفع ثوب ھوتا ھے ۔ممکن ھے آقا نے اسی طرح کی تشمیر کی ھو۔۔۔نیز کبھی
از۔۔۔۔۔مفتی محمد سلیم بریلوی
جامعہ رضویہ منظر اسلام۔۔بریلی شریف۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔
محب گرامی۔۔کرم فرما حضرت مولانا محمد قاسم عمر صاحب رضوی مصباحی۔۔زید علمہ و فضلہ ۔۔۔۔ساوتھ افریقہ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
مزاج ھمایوں!
آپ نے حضرت بلال والی اس حدیث کی وضاحت طلب کی ھے کہ جس میں یہ ھے کہ رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج فی حلہ مشمرا فصلی رکعتین الخ
کہ اس حدیث سے کوئی شخص یہ استدلال کررھا ھے کہ کف ثوب یعنی کپڑا موڑ کر نماز ادا کرنا درست ھے مکروہ نھیں ھے۔۔۔تو اس سلسلہ میں عرض ھے کہ پہلےیہ معلوم کریں وہ شخص مقلد ھے کہ غیر مقلد؟مقلد کو براہ راست اس طرح نصوص سے استدلال کرتے ھوئے عمل کی اجازت کب ھے؟مقلد کے لئے تو اپنے امام مذھب کا قول بس ھے۔۔۔۔اگر لوگ اسی طرح احادیٹ کریمہ کے اردو اور انگریزی بے ڈھنگے ترجمے دیکھ اور پڑھ کر عمل کرنے لگے تب تو پھر ھو چکا عمل اور ھوچکی احادیث کی پیروی۔۔اس طرح توامن و امان ھی ختم ھوجائے گا اور آدمی عمل کرنے میں متضاد افعال کا شکار ھوجائے گا۔۔ بلکہ بھت سے مقامات و مسائل میں اجتماع ضدین کی صورت پیدا ھو جائے گی۔۔مثلا خود اسی کف ثوب والے ھی عمل کو دیکھ لیں کہ قائل کے بقول اس حدیثِ بلال یعنی "فی حلہ مشمرا" والی حدیث سے کفِ ثوب کا جواز نکلتا ھے جبکہ بخاری و مسلم میں ایک اور حدیث ھے کہ:امرت ان اسجد علی سبعہ اعظم الجبھہ و الکفین۔۔۔۔۔۔۔۔الی ان۔۔۔۔۔۔۔لا اکف شعرا ولا ثوبا۔۔۔۔بالفاظ متعددہ۔۔۔
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ھے ۔۔جس میں کفِ ثوب کی واضح نھی و ممانعت ھے۔۔۔تو اب حدیثِ بلال کے انگلش اوراردو ترجمہ کو پڑھ کر کفِ ثوب کے ساتھ یعنی کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے سے معلوم کریں کہ دوسری حدیث کا انگلش و اردو ترجمہ پڑھ کر وہ دونوں پر کیسے عمل کرے گا؟اگر کرتا ھے تو اجتماعِ ضدین لازم آئے گا جو محال و باطل ھے۔۔۔۔۔
یہ شخص اصولِ شرع اور اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ سے بالکلیہ ناواقف ھے۔ایسی ھی متضاد و محتمل صورتوں میں یہ اصولِ فقہ وغیرہ ھماری راھنمائی کرتے ھیں اور اسی طرح کی سخت ترین اُلجھنوں سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی امام مجتھد کی تقلید لازمی قرار دی گئی ھے۔۔۔۔تاکہ اردو و انگریزی ترجمے پڑھ کر کوئی مجتھد بننے کے چکر میں مشکل میں پڑ کر گمراھی اور متضاد کیفیت کا شکار نہ ھوجائے۔۔۔۔اتنی تفصیل و تمھید کے بعداب اصل جواب ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
اولا یہ ذھن نشین کرلیا جائے کہ کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنے کی کراھت متفق علیہ اور اجماعی ھے۔
امام نوَوِی علیہ الرحمہ نے ائمہ اربعہ کا اور علمائے امت کا اس پر اتفاق نقل کیا ھے اور اس باب میں میری نقل کردہ دوسری حدیث یعنی "لا اکف شعرا ولا ثوبا" کو معمول بہ مانا ھے کیونکہ یہ حدیث قولی ھے اور حدیثِ بلال فعلی ھے۔۔اور اصول ھے کہ فعلی و قولی میں سے قولی کو ترجیح حاصل ھوتی ھے کیونکہ فعلی میں بھت سے احتمالات ھوتے ھیں مثلاً اسی فعلی حدیثِ بلال کو لے لیجئے کہ
1....اس میں ایک احتمال یہ بھی ھے کہ آقا نے یہ کام محض بیانِ جواز کے لئے کیا ھو یعنی کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنا حرام نھیں ھے ۔بلکہ جائز مع الکراھت ھے۔۔۔۔
2.....دوسرا احتمال یہ ھے کہ یہ کفِ ثوب امت کے لئے مکروہ ھو,آقا کے لئے مکروہ نہ ھو ۔۔اس میں آقا کی خصوصیت ھو۔۔۔ اس لئے آقا نے ایک مرتبہ ایسا کیا۔۔۔
3.... تیسرا احتمال ہہ ھے کہ اس حدیث میں حضرت بلال نے صرف اتنا ذکر کیا ھے کہ آقا کپڑے سمیٹے یا موڑے ھوئے نکلے پھر دورکعت نماز ادا کی۔۔۔یہ کہاں ھے کہ اسی طرح کپڑے موڑ کر نماز بھی ادا کی؟تو یہ بھی تو ھوسکتا ھے کہ جب نماز پڑھنا شروع کی ھو تو کپڑے صحیح کرلئے ھوں اور بنا کفِ ثوب کے نماز ادا کی ھو۔۔جیسے کوئی شخص وضو کرکے نکلتا ھے تو اس کی آستینیں مڑی ھوتی ھیں اور وہ مصلی پر پہونچتے پہونچتے انھیں صحیح و درست کرلیتا ھے ۔۔جس کا مشاھدہ مسجدوں میں ھم ھر روز کرتے ھیں۔۔۔
4۔۔۔۔۔چوتھا احتمال یہ ھے کہ کلمہ تشمیر ۔۔۔کفِ ثوب کے معنی میں نص نھیں ھے بلکہ اس کے کئی معانی ھیں چنانچہ اس کا ایک معنی مستعد بھی ھوتا ھے تو اب حدیث کا مفھوم ھوگا کہ خرج فی حلہ مستعدا للصلوہ یعنی نماز کے لئے مستعد و آمادہ اور نماز کے لئے تیار ھوکر تیزی کے ساتھ تشریف لائے۔۔۔نیز تشمیر کا ایک معنی ھوتا ھے رفع ثوب تو اب مطلب یہ ھوگا کہ چونکہ یہ واقعہ سفر کا ھے۔۔ لوگ نماز کے لئے منتظر و تیار بیٹھے تھے تو آپ عجلت میں تشریف لائے اور جب انسان جلدی جلدی اس طرح کے ڈھیلے کپڑے اور جبہ زیب تن کرکے بعجلت چلتا ھے تو ازار یا جبہ کو ھاتھ سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیتا ھے کہ کہیں الجھ کر گر نہ جائے اور آسانی کے ساتھ تیز رفتار وہ چل سکے تو یھاں کف ثوب نھیں ھوتا۔بلکہ رفع ثوب ھوتا ھے ۔ممکن ھے آقا نے اسی طرح کی تشمیر کی ھو۔۔۔نیز کبھی
کوڑا کرکٹ ۔۔۔دھول مٹی یا کیچڑ کی وجہ سے بھی بھت زیادہ نیچے کپڑے کو ھم ھاٹھ سے پکڑ کر اوپر اٹھا کر راستہ طے کرتے ھیں مگر منزلِ مقصود پر پہونچ کر چھوڑ دیتے ھیں اور کپڑا و ازار کو اصل حالت میں کرلیتے ھیں۔۔تو اسے بھی تشمیر کہتے ھیں۔ چونکہ یہ سفر کا واقعہ ھے جھاں اس بات کے کافی امکانات ھیں کہ آقا نے انھیں گندگیوں میں آلودگی سے پیرھن مبارک کو بچانے کے لئے یہ تشمیر بمعنی رفع ثوب کیا ھو۔۔۔
بھرحال یہ حدیث ایک تو قولی پھر اس قدر دیگر احتمالات۔۔۔نیز تشمیر معنی کف میں معین بھی نھیں تو ان سب کے ھوتے ھوئے محض اردو و انگلش۔۔الٹے سیدھے بے ھنگم ترجموں پر بھروسہ کرتے ھوئے تمام ائمہ اور جمھور علما ئے امت کا اجماع و اتفاق پسِ پشت ڈال کر ۔ ایسی قولی حدیث جس میں صاف و صریح نھی ھے ۔ کف ثوب کے ساتھ نماز کی جس میں واضح ممانعت ھے اسے نظر انداز کرکے ایک محتمل معانی کٹیرہ حدیث سے استدلال کرتے ھوئے کفِ ثوب کے ساتھ نماز کو بلاکراھت درست کہنے والے ایسے شخص کی عقل و خرد پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟
ترجموں پر بھروسہ کرکے عمل کرنے کا اتنا ھی شوق ھے تو کھڑے ھوکر پیشاب بھی کرنا شروع کردے ۔وہ بھی تو فعل رسول ھے؟اللہ تعالی ھدایت عطا فرمائے۔۔آمین۔۔۔
نوٹ ۔۔۔تراویح میں قرآنِ عظیم سنانے اور رمضان مبارک کی دیگر مصروفیات کی وجہ سے آپ کے سوال کا سردست ارتجالا یہ جواب موبائل پر لکھ کر ارسال کررھا ھوں امید ھے کہ آپ کے اطمینان کو کافی ھوگا۔۔۔۔
محمد سلیم بریلوی۔ 26.. رمضان المبارک 1440ھ۔بوقت سحری۔۔۔۔۔نزیل حال موریشس
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3016338595312114&id=100008080090753
بھرحال یہ حدیث ایک تو قولی پھر اس قدر دیگر احتمالات۔۔۔نیز تشمیر معنی کف میں معین بھی نھیں تو ان سب کے ھوتے ھوئے محض اردو و انگلش۔۔الٹے سیدھے بے ھنگم ترجموں پر بھروسہ کرتے ھوئے تمام ائمہ اور جمھور علما ئے امت کا اجماع و اتفاق پسِ پشت ڈال کر ۔ ایسی قولی حدیث جس میں صاف و صریح نھی ھے ۔ کف ثوب کے ساتھ نماز کی جس میں واضح ممانعت ھے اسے نظر انداز کرکے ایک محتمل معانی کٹیرہ حدیث سے استدلال کرتے ھوئے کفِ ثوب کے ساتھ نماز کو بلاکراھت درست کہنے والے ایسے شخص کی عقل و خرد پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟
ترجموں پر بھروسہ کرکے عمل کرنے کا اتنا ھی شوق ھے تو کھڑے ھوکر پیشاب بھی کرنا شروع کردے ۔وہ بھی تو فعل رسول ھے؟اللہ تعالی ھدایت عطا فرمائے۔۔آمین۔۔۔
نوٹ ۔۔۔تراویح میں قرآنِ عظیم سنانے اور رمضان مبارک کی دیگر مصروفیات کی وجہ سے آپ کے سوال کا سردست ارتجالا یہ جواب موبائل پر لکھ کر ارسال کررھا ھوں امید ھے کہ آپ کے اطمینان کو کافی ھوگا۔۔۔۔
محمد سلیم بریلوی۔ 26.. رمضان المبارک 1440ھ۔بوقت سحری۔۔۔۔۔نزیل حال موریشس
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3016338595312114&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدی اعلیٰ حضرت عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ کی
تحریر مبارک کی زیارت کیجیے! 💐
🔗 Facebook Link
فیس بک کی ویڈیو ٹیلی گرام پر حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے آپ اِس (ٹیلی گرام بوٹ) @MediaDownBot لِنک پر کلک کرکے اِسٹارٹ کریں، پھر فیس بک ویڈیو کی لِنک کاپی کرکے اسی بوٹ میں پیسٹ کرکے سینڈ کریں پھر کُچھ سیکینڈ انتظار کریں... ویڈیو آ جائےگی
تحریر مبارک کی زیارت کیجیے! 💐
🔗 Facebook Link
فیس بک کی ویڈیو ٹیلی گرام پر حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے آپ اِس (ٹیلی گرام بوٹ) @MediaDownBot لِنک پر کلک کرکے اِسٹارٹ کریں، پھر فیس بک ویڈیو کی لِنک کاپی کرکے اسی بوٹ میں پیسٹ کرکے سینڈ کریں پھر کُچھ سیکینڈ انتظار کریں... ویڈیو آ جائےگی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#علم_کا_شیدائی
غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
انیس سال کا بانکا سجیلا خوب رو جوان مروجہ علوم وفنون کی دستار سر پر سجائے اہل خانہ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔مگر آنکھوں میں علم کی تہوں تک جانے کا جذبہ رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ایک طرف زمانہ اس جوان کے علمی اٹھان اور فقہی شباب کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر رہا تھا مگر اس جوان کی طبیعت "ھل من مزید" کی طرف مائل تھی۔والد گرامی سے اپنے بیٹے کی یہ کیفیت پوشیدہ نہ تھی۔کچھ مخصوص احباب سے مشورہ کرنے کے بعد والد گرامی نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔
سنو شہزادے!
جی اباّ حضور!
جوان نے نہایت سعادت مندی سے والد گرامی کو جواب دیا اور بہ کمال نیاز مندی سر جھکا کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔
میرے لخت جگر!
آپ صرف میری ہی نہیں بلکہ اس عظیم خانوادے اور پوری جماعت کی امید ہو۔زمانہ ٹک ٹکی لگائے اُس شہزادے کا منتظر ہے جو اپنے اجداد کی علمی وراثت کا سچا جانشین ہو اور عالم اسلام کی علمی ودینی خدمات کا حق ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔
میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمی حاصل ہوتا ہے۔
جان پدر!
تمہاری آنکھوں میں مجھے وہ چمک نظر آتی ہے جس کے لیے تمہارے اجداد مشہور رہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ میں جاکر اکتساب علم کرو اور علم وفن کے نئے جہانوں کی تلاش کرو۔
حالانکہ میرا دل تمہاری جدائی کے خیال سے ہی بیٹھ جاتا ہے مگر اجداد کی امانت اور ملت اسلامیہ کی آرزوؤں کا خیال آتا ہے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔سوچتا ہوں کہ میرے دادا جان اور بابا کی روشن کی ہوئی علمی شمع کمزور نہ پڑ جائے اس لیے اس علمی چراغ میں تمہیں اپنی محنت ومشقت کا لہو ڈالنا ہے تاکہ اس کی لو تیز سے تیز تر ہو اور زمانہ اس کی روشنی میں صلاح وفلاح کا راستہ طے کر سکے!!
چند جملوں میں باپ نے پدرانہ شفقت، سوز وکرب ، ملی تڑپ ، غم امت، جدی امانت اور سینے میں اٹھ رہا سارا درد وکرب بیان کردیا۔کہتے ہوئے آنکھیں نم ہوگئیں مگر یہ آنسو صرف درد یا جدائی کا اظہاریہ نہیں تھے بلکہ آنسوؤں کی چمک اس عزم ویقین کا پتہ دے رہی تھی کہ عن قریب اُن کا شہزادہ علم وفضل کے اس مقام پر فائز ہوگا جس کی تمناؤں میں بڑے بڑے فرماں روا اور فلاسفر ناکام رہے۔
سعادت آثار بیٹے نے آگے بڑھ کر والد گرامی کو ہاتھوں کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور ادب کے ساتھ عرض کیا:
ابا جان!
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں تو کم ہے، جس نے وراثت نبوی کی پر نور وادیوں میں جانے کا ایک اور حسین موقع عطا کیا۔
اپنے مقدر پر نازاں ہوں کہ اجداد کی علمی وراثت کے لیے آپ کی زمانہ شناس نگاہوں نے میرا انتخاب کیا۔
آپ مطمئن رہیں میں طلب علم کی راہ میں ہر درد کو دوا اور ہر تکلیف کو راحت جان سمجھوں گا۔اکتساب علم کے اس سفر میں کیسی ہی پریشانیاں آئیں مگر آپ کا بیٹا عزم وحوصلے کی چٹان بن کر ثابت قدم رہے گا اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کے لیے اپنے تمام رنج و غم شربت شیریں کی طرح پی کر آپ کی تمناؤں کی تکمیل کرے گا۔
__جلد ہی پورے خاندان کی دعاؤں کا تحفہ لے کر یہ جوان عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ "جامعہ ازہر مصر" کے لیے روانہ ہوگیا۔
دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے رہے۔ابھی دو سال ہی کا سفر طے ہوا تھا کہ اچانک خبر ملی کہ عزیز از جان والد دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے۔
آہ!
دیار پردیس میں نازوں کا پالا لاڈلا شہزادہ اکیلا تھا۔واپس جاکر شفیق والد کی شفقتوں کو سمیٹنے اور ان کی محبتوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کی تمنا ہلورے مارتی تھی مگر آج اس خبر وحشت نے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کر ڈالا۔
سوچا تھا کہ جامعہ ازہر سے علمی رفعتوں کا تاج سجا کر والد گرامی کی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں گا مگر قسمت نے اتنا موقع ہی نہیں دیا اور جس مہربان باپ نے اپنی محبت واپنائیت کی چھاؤں میں رخصت کیا تھا آج وہی شجر سایہ دار رخصت ہوگیا۔
دل کا درد آنکھوں سے آنسو بن کر نکلنے لگا۔پورا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔رہ رہ والد کی شفقتیں یاد آتیں تو آنکھوں سے برستا ساون اور تیز ہوجاتا۔رنج وغم کی لہریں پورے وجود کو حصار میں لے چکی تھیں اچانک والد گرامی کے الفاظ کانوں میں گونجے:
"میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمیٰ حاصل ہوتا ہے۔"
غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
انیس سال کا بانکا سجیلا خوب رو جوان مروجہ علوم وفنون کی دستار سر پر سجائے اہل خانہ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔مگر آنکھوں میں علم کی تہوں تک جانے کا جذبہ رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ایک طرف زمانہ اس جوان کے علمی اٹھان اور فقہی شباب کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر رہا تھا مگر اس جوان کی طبیعت "ھل من مزید" کی طرف مائل تھی۔والد گرامی سے اپنے بیٹے کی یہ کیفیت پوشیدہ نہ تھی۔کچھ مخصوص احباب سے مشورہ کرنے کے بعد والد گرامی نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔
سنو شہزادے!
جی اباّ حضور!
جوان نے نہایت سعادت مندی سے والد گرامی کو جواب دیا اور بہ کمال نیاز مندی سر جھکا کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔
میرے لخت جگر!
آپ صرف میری ہی نہیں بلکہ اس عظیم خانوادے اور پوری جماعت کی امید ہو۔زمانہ ٹک ٹکی لگائے اُس شہزادے کا منتظر ہے جو اپنے اجداد کی علمی وراثت کا سچا جانشین ہو اور عالم اسلام کی علمی ودینی خدمات کا حق ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔
میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمی حاصل ہوتا ہے۔
جان پدر!
تمہاری آنکھوں میں مجھے وہ چمک نظر آتی ہے جس کے لیے تمہارے اجداد مشہور رہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ میں جاکر اکتساب علم کرو اور علم وفن کے نئے جہانوں کی تلاش کرو۔
حالانکہ میرا دل تمہاری جدائی کے خیال سے ہی بیٹھ جاتا ہے مگر اجداد کی امانت اور ملت اسلامیہ کی آرزوؤں کا خیال آتا ہے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔سوچتا ہوں کہ میرے دادا جان اور بابا کی روشن کی ہوئی علمی شمع کمزور نہ پڑ جائے اس لیے اس علمی چراغ میں تمہیں اپنی محنت ومشقت کا لہو ڈالنا ہے تاکہ اس کی لو تیز سے تیز تر ہو اور زمانہ اس کی روشنی میں صلاح وفلاح کا راستہ طے کر سکے!!
چند جملوں میں باپ نے پدرانہ شفقت، سوز وکرب ، ملی تڑپ ، غم امت، جدی امانت اور سینے میں اٹھ رہا سارا درد وکرب بیان کردیا۔کہتے ہوئے آنکھیں نم ہوگئیں مگر یہ آنسو صرف درد یا جدائی کا اظہاریہ نہیں تھے بلکہ آنسوؤں کی چمک اس عزم ویقین کا پتہ دے رہی تھی کہ عن قریب اُن کا شہزادہ علم وفضل کے اس مقام پر فائز ہوگا جس کی تمناؤں میں بڑے بڑے فرماں روا اور فلاسفر ناکام رہے۔
سعادت آثار بیٹے نے آگے بڑھ کر والد گرامی کو ہاتھوں کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور ادب کے ساتھ عرض کیا:
ابا جان!
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں تو کم ہے، جس نے وراثت نبوی کی پر نور وادیوں میں جانے کا ایک اور حسین موقع عطا کیا۔
اپنے مقدر پر نازاں ہوں کہ اجداد کی علمی وراثت کے لیے آپ کی زمانہ شناس نگاہوں نے میرا انتخاب کیا۔
آپ مطمئن رہیں میں طلب علم کی راہ میں ہر درد کو دوا اور ہر تکلیف کو راحت جان سمجھوں گا۔اکتساب علم کے اس سفر میں کیسی ہی پریشانیاں آئیں مگر آپ کا بیٹا عزم وحوصلے کی چٹان بن کر ثابت قدم رہے گا اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کے لیے اپنے تمام رنج و غم شربت شیریں کی طرح پی کر آپ کی تمناؤں کی تکمیل کرے گا۔
__جلد ہی پورے خاندان کی دعاؤں کا تحفہ لے کر یہ جوان عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ "جامعہ ازہر مصر" کے لیے روانہ ہوگیا۔
دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے رہے۔ابھی دو سال ہی کا سفر طے ہوا تھا کہ اچانک خبر ملی کہ عزیز از جان والد دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے۔
آہ!
دیار پردیس میں نازوں کا پالا لاڈلا شہزادہ اکیلا تھا۔واپس جاکر شفیق والد کی شفقتوں کو سمیٹنے اور ان کی محبتوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کی تمنا ہلورے مارتی تھی مگر آج اس خبر وحشت نے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کر ڈالا۔
سوچا تھا کہ جامعہ ازہر سے علمی رفعتوں کا تاج سجا کر والد گرامی کی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں گا مگر قسمت نے اتنا موقع ہی نہیں دیا اور جس مہربان باپ نے اپنی محبت واپنائیت کی چھاؤں میں رخصت کیا تھا آج وہی شجر سایہ دار رخصت ہوگیا۔
دل کا درد آنکھوں سے آنسو بن کر نکلنے لگا۔پورا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔رہ رہ والد کی شفقتیں یاد آتیں تو آنکھوں سے برستا ساون اور تیز ہوجاتا۔رنج وغم کی لہریں پورے وجود کو حصار میں لے چکی تھیں اچانک والد گرامی کے الفاظ کانوں میں گونجے:
"میرے چاند سے حسین بیٹے!
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمیٰ حاصل ہوتا ہے۔"
الفاظ کا گونجنا تھا کہ والد کی آنکھوں کے چمکتے آنسو اور آنسوؤں میں پنہاں عزم ویقین کی وہ چمک بھی یاد آگئی۔جس قربانی کا والد نے ذکر کیا تھا آج اسی قربانی کا وقت تھا۔اس یاد کا آنا تھا کہ سارا درد دل میں ہی روک لیا۔بہتے ہوئے آنسوؤں کو ضبط کیا اور قلم اٹھا کر درد دل کو لفظوں کا لباس پہنا دیا:
کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل
ہائے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل
کون جانے رازِ محبوب و محبـ
کیوں لیا جاتا، دیا جاتا ہے دل
جاں بحق تسلیم ہو جانا ترا
یاد کر کے میرا بھر آتا ہے دل
ان اشعار کے ساتھ ہی درد سے بے چین دل کو سکون ملا اور اس جوان نے نہایت صبر واطمینان کے ساتھ والد گرامی کے رفع درجات کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرکے ایصال ثواب کیا۔دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت گھر واپس لوٹ جائیں مگر والد کی نصیحت، خاندان کی امیدیں، امانت اسلاف کا خیال اور ملت اسلامیہ کی خدمت کے جذبے نے دل کو اس قدر توانا کردیا تھا کہ درد دوا بن گیا۔سینے میں اٹھتی ہوئی درد کی لہریں وہیں دب کر رہ گئیں اور یہ جوان پھر سے حصول علم میں مصروف ہوگیا۔
یوں تو اب تک بھی نہایت جاں فشانی سے علمی منزلیں طے کی جارہی تھیں مگر والد کے وصال نے دل کی دنیا پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ شب وروز والد کے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔اب تو ایک ایک لمحہ علمی رفعتوں کے حصول میں گزر رہا تھا۔اس جوان کی شبانہ روز محنتیں ضائع نہ گئیں اور ٹھیک ایک سال کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب اس جوان نے پورے مصر میں سب سے زیادہ نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے جامعہ ازہر میں تاریخ رقم کی۔
آپ جانتے ہیں علم وفضل کی بہاروں کی خاطر والد کی وفات کا غم اٹھانے والا یہ خوب رو جوان کون تھا؟؟
یہ جوان کوئی اور نہیں وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے جو اپنی علمی جاں گسلی اور قربانیوں کی بدولت عالم اسلام کے افق پر امام احمد رضا کی فقہی تجلیات کا آفتاب بن کر چمکے۔جن کے تصلب فی الدین کی وجہ سے کتنوں کے عقائد ونظریات درست ہوئے۔جن کی تقوی شعار زندگی نے گمراہوں کو راہ ہدایت عطا کی۔جو اپنے کریم کے ایسے گدا بن کر جئے جس کے آگے دنیا کی ہر چیز پارہ ناں کی طرح ہیچ تھی۔جنہوں نے ہواؤں کے خلاف عزم واستقامت کے چراغ روشن کئے۔جس کی روشنی میں آج بھی ملت اسلامیہ فلاح وظفر کا سفر طے کر رہی ہے۔جو اپنے آپ میں ایک انجمن اور میر قافلہ تھے۔جن کی فکری بلندی کے آگے ہمالہ کی بلندی بھی پست نظر آتی ہے۔جو امام احمد رضا کے تفقہ، حجۃ الاسلام کے اخلاص اور مفتی اعظم ہند کے تقوی وپرہیزگاری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔جن کا آستانہ آج بھی عشق رسالت کی درس گاہ بنا ہوا ہے۔جن کی لحد سے آج بھی یہ آواز آتی ہے:
داغ عشق نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغ لحد روشنی کے لیے
20 شوال المکرم 1442ھ
2 جون 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925854727985046/
کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل
ہائے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل
کون جانے رازِ محبوب و محبـ
کیوں لیا جاتا، دیا جاتا ہے دل
جاں بحق تسلیم ہو جانا ترا
یاد کر کے میرا بھر آتا ہے دل
ان اشعار کے ساتھ ہی درد سے بے چین دل کو سکون ملا اور اس جوان نے نہایت صبر واطمینان کے ساتھ والد گرامی کے رفع درجات کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرکے ایصال ثواب کیا۔دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت گھر واپس لوٹ جائیں مگر والد کی نصیحت، خاندان کی امیدیں، امانت اسلاف کا خیال اور ملت اسلامیہ کی خدمت کے جذبے نے دل کو اس قدر توانا کردیا تھا کہ درد دوا بن گیا۔سینے میں اٹھتی ہوئی درد کی لہریں وہیں دب کر رہ گئیں اور یہ جوان پھر سے حصول علم میں مصروف ہوگیا۔
یوں تو اب تک بھی نہایت جاں فشانی سے علمی منزلیں طے کی جارہی تھیں مگر والد کے وصال نے دل کی دنیا پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ شب وروز والد کے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔اب تو ایک ایک لمحہ علمی رفعتوں کے حصول میں گزر رہا تھا۔اس جوان کی شبانہ روز محنتیں ضائع نہ گئیں اور ٹھیک ایک سال کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب اس جوان نے پورے مصر میں سب سے زیادہ نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے جامعہ ازہر میں تاریخ رقم کی۔
آپ جانتے ہیں علم وفضل کی بہاروں کی خاطر والد کی وفات کا غم اٹھانے والا یہ خوب رو جوان کون تھا؟؟
یہ جوان کوئی اور نہیں وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے جو اپنی علمی جاں گسلی اور قربانیوں کی بدولت عالم اسلام کے افق پر امام احمد رضا کی فقہی تجلیات کا آفتاب بن کر چمکے۔جن کے تصلب فی الدین کی وجہ سے کتنوں کے عقائد ونظریات درست ہوئے۔جن کی تقوی شعار زندگی نے گمراہوں کو راہ ہدایت عطا کی۔جو اپنے کریم کے ایسے گدا بن کر جئے جس کے آگے دنیا کی ہر چیز پارہ ناں کی طرح ہیچ تھی۔جنہوں نے ہواؤں کے خلاف عزم واستقامت کے چراغ روشن کئے۔جس کی روشنی میں آج بھی ملت اسلامیہ فلاح وظفر کا سفر طے کر رہی ہے۔جو اپنے آپ میں ایک انجمن اور میر قافلہ تھے۔جن کی فکری بلندی کے آگے ہمالہ کی بلندی بھی پست نظر آتی ہے۔جو امام احمد رضا کے تفقہ، حجۃ الاسلام کے اخلاص اور مفتی اعظم ہند کے تقوی وپرہیزگاری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔جن کا آستانہ آج بھی عشق رسالت کی درس گاہ بنا ہوا ہے۔جن کی لحد سے آج بھی یہ آواز آتی ہے:
داغ عشق نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغ لحد روشنی کے لیے
20 شوال المکرم 1442ھ
2 جون 2021 بروز بدھ
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925854727985046/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں*
تحریر : محمد عبد القدیر قادری مصباحی
غیر جانب داری کے ساتھ کئی مرتبہ میں نے غور وخوض کیا تو اسی نتیجے پر پہنچا کہ موجودہ دور میں جدید ایجادات سے انسانوں کو کئی اعتبار سے نقصان ہی پہنچا ہے. غیر فطری طرز زندگی نے صحت وتندرستی کی نعمت چھین لی، مشینوں نے انسان کی انسان سے محتاجی کو کم کرکے انسانوں کے درمیان باہم محبت وخلوص اتحاد واتفاق کے اسباب کم کردیئے اور دولت کی ریل پیل اور حرص نے عزت، شرافت، غیرت، حمیت اور مروّت کو رخصت کردیا،جس کی وجہ سے مال و اُجرت کے ذریعے ہرکام ہونے لگا۔ گویا انسان کو انسان کی حاجت نہ رہی۔ پیسے کے لیے انسان استنجا کرانے کو بھی تیار ہے. کثرتِ اسباب کی وجہ سے لذت کا احساس ختم ہوگیا۔ لذیذ کھانے اتنے ہوگئے کہ کسی میں لذت کا احساس نہ رہا، اوپر سے بھوک کا فقدان!!! مشروبات اتنے تیار ہوگئے کہ دودھ، شہد اور پھلوں کے رس بے لذت ہوگئے۔ بے پردگی اور اختلاط کی وجہ سے اتنی عورتیں قریب ہوگئیں کہ بیویوں میں دل چسپی نہ رہی۔ ایسے ہی بیویوں کا معاملہ بھی ہے. بجلی کی ایجاد نے گیارہ بجے تک جاگنے کا ماحول بنایا تھا، اب انٹر نیٹ نے راتوں کی نیند چھین کر صبح کی نیند میں مبتلا کرکے جسمانی و روحانی دونوں قسم کےفوائد سے محروم کردیا. سواریوں کی سہولت نے شادی، غمی میں ہاتھ بٹانے کے بجائے موقع پرجانے اور فوراً بھاگ آنے کا عادی بنادیا۔ حتی کہ حج وعمرہ کی تڑپ اور روحانی لذت میں بھی فرق آگیا. خاندانی پیار محبت کا جذبہ گیا، دوستوں کا دور آگیا. مٹی اور لکڑی کے بجائے پتھر، لوہےاور کیمیکل کے گھروں نے سکون چھین لیا. قریب قریب، بند اور صحن ودرخت سے خالی مکانات نے روشنی اور ہوا سے محروم کردیا۔ پنکھے اور اے سی کی ایجاد نے یہ سب غضب ڈھایا. کھانا، کپڑا، دوا، مکان ضروری سازوسامان اور فی الحال یا آئندہ کسی بڑی ضرورت کے لیے جمع شدہ مال کے علاوہ جو دولت ہے وہ سواے سردرد کے اور کیا ہے؟ اس کو باقی رکھنے اور بڑھانے کی فکر میں انسان گھلا جارہا ہے.
مصنوعات کی کثرت نے بھی چیزوں کی مرمت اور قابلِ استعمال رہنے تک استعمال کرنےکی ذہنیت ختم کردی، جس کا نقصان یہ ہے کہ ہم جن چیزوں کے مالک ہیں ان کی اپنائیت، وابستگی ہمارے دل ودماغ پر قائم ہی نہیں ہوپاتی۔ کیوں کہ ہم انہیں جلدی جلدی بدل دیتے ہیں. استعمالی چیزوں کی طویل ملکیت اور طویل مدت تک اس کا استعمال بھی انسان کو محبت اور سکون دیتا ہے۔ قدیم دور میں تلواروں اور اونٹنیوں پر قصیدے یونہی نہیں لکھےگئے بلکہ وہ طبعی لگاؤ کا نتیجہ ہیں. کپڑا دس سال کے بجائے دوسال پہنا جارہا ہے۔ جوتا، چپل دوسال کے بجائے دوچار ماہ پہنےجارہے ہیں۔ سواریاں بیس پچیس سال کے بجائے پانچ سات سال ہی چلارہے ہیں۔ گھڑی جس سے ناقابل شناخت نعش کو پہچان لیا جاتا تھا اب وہ بات کہاں؟ یہ سب مصنوعات کی کثرت کی دین ہے.
پتہ نہیں کیا ترقی ہوئی ہے اور کہاں ہوئی ہے؟ کیا بیماریاں بڑھنا، پھر ان کاعلاج دستیاب ہونا ہی ترقی ہے؟ طویل مسافت فاصلے لمحوں میں تو طے ہورہے ہیں، لیکن دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی وسعت و ترقی سے دنیا بھر کی خبریں نہایت سرعت سے ہمیں موصول تو ہوجاتی ہیں، لیکن ہم اپنے گھر، پڑوس اور اطراف کے حالات سے یکسر بے خبر ہیں۔ حمل ونقل اور جوڑ توڑ کی عظیم مشنریز نے کام اور مصنوعات کی تیاری میں بہت ترقی تو کرلی، لیکن بے روزگاری میں کافی اضافہ بھی کردیا ہے۔ علم کا ابلاغ تو اس قدر عام ہوگیا کہ بٹن دبانے پر ہر طرح کی معلومات آپ کے ہاتھوں میں آجاتی ہیں، لیکن لوگوں میں علم و ادب کا فقدان ہے، ناپید ہوتا جارہا ہے۔
غرض یہ کہ موجودہ دور میں جدید ترقی نے دنیا کا سکون غارت کرکے بس ایک ہنگامہ اورہلچل پیدا کردیاہے.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925948521309000/
تحریر : محمد عبد القدیر قادری مصباحی
غیر جانب داری کے ساتھ کئی مرتبہ میں نے غور وخوض کیا تو اسی نتیجے پر پہنچا کہ موجودہ دور میں جدید ایجادات سے انسانوں کو کئی اعتبار سے نقصان ہی پہنچا ہے. غیر فطری طرز زندگی نے صحت وتندرستی کی نعمت چھین لی، مشینوں نے انسان کی انسان سے محتاجی کو کم کرکے انسانوں کے درمیان باہم محبت وخلوص اتحاد واتفاق کے اسباب کم کردیئے اور دولت کی ریل پیل اور حرص نے عزت، شرافت، غیرت، حمیت اور مروّت کو رخصت کردیا،جس کی وجہ سے مال و اُجرت کے ذریعے ہرکام ہونے لگا۔ گویا انسان کو انسان کی حاجت نہ رہی۔ پیسے کے لیے انسان استنجا کرانے کو بھی تیار ہے. کثرتِ اسباب کی وجہ سے لذت کا احساس ختم ہوگیا۔ لذیذ کھانے اتنے ہوگئے کہ کسی میں لذت کا احساس نہ رہا، اوپر سے بھوک کا فقدان!!! مشروبات اتنے تیار ہوگئے کہ دودھ، شہد اور پھلوں کے رس بے لذت ہوگئے۔ بے پردگی اور اختلاط کی وجہ سے اتنی عورتیں قریب ہوگئیں کہ بیویوں میں دل چسپی نہ رہی۔ ایسے ہی بیویوں کا معاملہ بھی ہے. بجلی کی ایجاد نے گیارہ بجے تک جاگنے کا ماحول بنایا تھا، اب انٹر نیٹ نے راتوں کی نیند چھین کر صبح کی نیند میں مبتلا کرکے جسمانی و روحانی دونوں قسم کےفوائد سے محروم کردیا. سواریوں کی سہولت نے شادی، غمی میں ہاتھ بٹانے کے بجائے موقع پرجانے اور فوراً بھاگ آنے کا عادی بنادیا۔ حتی کہ حج وعمرہ کی تڑپ اور روحانی لذت میں بھی فرق آگیا. خاندانی پیار محبت کا جذبہ گیا، دوستوں کا دور آگیا. مٹی اور لکڑی کے بجائے پتھر، لوہےاور کیمیکل کے گھروں نے سکون چھین لیا. قریب قریب، بند اور صحن ودرخت سے خالی مکانات نے روشنی اور ہوا سے محروم کردیا۔ پنکھے اور اے سی کی ایجاد نے یہ سب غضب ڈھایا. کھانا، کپڑا، دوا، مکان ضروری سازوسامان اور فی الحال یا آئندہ کسی بڑی ضرورت کے لیے جمع شدہ مال کے علاوہ جو دولت ہے وہ سواے سردرد کے اور کیا ہے؟ اس کو باقی رکھنے اور بڑھانے کی فکر میں انسان گھلا جارہا ہے.
مصنوعات کی کثرت نے بھی چیزوں کی مرمت اور قابلِ استعمال رہنے تک استعمال کرنےکی ذہنیت ختم کردی، جس کا نقصان یہ ہے کہ ہم جن چیزوں کے مالک ہیں ان کی اپنائیت، وابستگی ہمارے دل ودماغ پر قائم ہی نہیں ہوپاتی۔ کیوں کہ ہم انہیں جلدی جلدی بدل دیتے ہیں. استعمالی چیزوں کی طویل ملکیت اور طویل مدت تک اس کا استعمال بھی انسان کو محبت اور سکون دیتا ہے۔ قدیم دور میں تلواروں اور اونٹنیوں پر قصیدے یونہی نہیں لکھےگئے بلکہ وہ طبعی لگاؤ کا نتیجہ ہیں. کپڑا دس سال کے بجائے دوسال پہنا جارہا ہے۔ جوتا، چپل دوسال کے بجائے دوچار ماہ پہنےجارہے ہیں۔ سواریاں بیس پچیس سال کے بجائے پانچ سات سال ہی چلارہے ہیں۔ گھڑی جس سے ناقابل شناخت نعش کو پہچان لیا جاتا تھا اب وہ بات کہاں؟ یہ سب مصنوعات کی کثرت کی دین ہے.
پتہ نہیں کیا ترقی ہوئی ہے اور کہاں ہوئی ہے؟ کیا بیماریاں بڑھنا، پھر ان کاعلاج دستیاب ہونا ہی ترقی ہے؟ طویل مسافت فاصلے لمحوں میں تو طے ہورہے ہیں، لیکن دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی وسعت و ترقی سے دنیا بھر کی خبریں نہایت سرعت سے ہمیں موصول تو ہوجاتی ہیں، لیکن ہم اپنے گھر، پڑوس اور اطراف کے حالات سے یکسر بے خبر ہیں۔ حمل ونقل اور جوڑ توڑ کی عظیم مشنریز نے کام اور مصنوعات کی تیاری میں بہت ترقی تو کرلی، لیکن بے روزگاری میں کافی اضافہ بھی کردیا ہے۔ علم کا ابلاغ تو اس قدر عام ہوگیا کہ بٹن دبانے پر ہر طرح کی معلومات آپ کے ہاتھوں میں آجاتی ہیں، لیکن لوگوں میں علم و ادب کا فقدان ہے، ناپید ہوتا جارہا ہے۔
غرض یہ کہ موجودہ دور میں جدید ترقی نے دنیا کا سکون غارت کرکے بس ایک ہنگامہ اورہلچل پیدا کردیاہے.
https://www.facebook.com/388280455075812/posts/925948521309000/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM