🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
۱۵ شوال المکرم یوم شہادت
حضرت سیدنا امیر حمزہ 💐
رضی اللہ تبارک و تعالیٰ عنه
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
,#لکشدیپ_نشانے_پر_کیوں؟

غلام مصطفیٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

کیرل کی زمینی سرحد سے قریب 300 کلومیڑ دور بھارت کا سب سے چھوٹا صوبہ لکشدیپ آباد ہے۔عرب سمندر کے اندر یہ خطہ قدرت کی انمول کاریگری کا شاہکار ہے۔ عالمی نقشے پر محض ایک نقطہ کی طرح دکھنے والا لکشدیپ چھوٹے بڑے 36 جزائر پر مشتمل ہے۔ جن میں سات جزائر پر ہی انسانی آبادی ہے۔ کل رقبہ 32 کلومیٹر ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی کل آبادی 64,473 ہے۔ تقریباً ستانوے فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کی اکثریتی اور عام مقامی زبان ملیالم ہے۔ یہی کیرلا کی بھی زبان ہے۔ اس سے اس جزیرے کا کیرلا کے ساتھ لسانی اور ثقافتی ربط بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لکشدیپ کی تقریبا 95 فیصد آبادی قبائلی ہے اور آئینِ ہند کے تحت ST یعنی شیڈولڈ ٹرائب(अनुसूचित जनजाति) کے زمرے میں آتی ہے۔!!!
آج کل یہ خطہ اپنے خوب صورت ساحلوں اور قدرتی مناظر کے لیے نہیں بلکہ بی جے پی کے مقرر کردہ منتظم (Administrator) پرفل پٹیل کے تاناشاہی فیصلوں کی بنا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
لکشدیپ کی آبادی صرف ایک ہی ضلع پر مشتمل ہے۔اس لیے یہاں سے پارلیمنٹ کے لیے ایک ہی ممبر منتخب ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گرام پنچایت کے توسط سے بھی عوامی نمائندے منتخب ہوتے ہیں۔ ممبر پارلیمنٹ اور گرام پردھان کے علاوہ یہاں عوامی نمائندگی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ مگر اس کی جغرافیائی حیثیت کو دیکھتے ہوئے اسے مرکز کے زیر انتظام صوبے (Union Territory) کا درجہ دیا گیا ہے۔ لیکن نہ تو یہاں قانون ساز اسمبلی ہے نہ ہی ہائی کورٹ۔عدالتی امور کے لیے یہ خطہ کیرلا ہائی کورٹ کے ماتحت آتا ہے۔ جب کہ دیگر انتظامی اور ترقیاتی امور کی دیکھ ریکھ کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جاتا ہے جو یہاں کا انتظام وانصرام دیکھتا ہے۔

کون ہیں پرفل پٹیل؟

پرفل پٹیل ریاست گجرات سے آتے ہیں اور وزیر اعظم کے قریبی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پرفل پٹیل 2007 میں ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور 2010 میں امت شاہ کی گرفتاری کے بعد انہیں گجرات کا وزیر داخلہ بنایا گیا۔ سن 2014 میں جب نریندر مودی وزیر اعظم منتخب ہوئے تو پرفل پٹیل کو مرکز کے زیر انتظام صوبے دمن اینڈ دیو (Daman & Diu) کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا گیا اور 2016 میں انہیں ایک اور یونین ٹیریٹری "دادرا اینڈ نگر حویلی" (Dadra & Nagar Haweli) کا ایڈمنسٹریٹر بھی بنا دیا گیا۔ اب انہیں لکشدیپ کا اضافی چارج بھی سونپ دیا گیا ہے۔ ایک ہی شخص کو تین تین یونین ٹیریٹریز کی ذمہ داری سے ایسا لگتا ہے یا تو ملک میں اچھے افسران کی سخت قلت ہے یا پھر پرفل پٹیل اتنے باصلاحیت ہیں کہ مرکزی حکومت زیادہ سے زیادہ صوبوں کو ان سے فیض یاب کرانا چاہتی ہے۔

پرفل پٹیل کا پس منظر

لکشدیپ کے تنازع کو سمجھنے سے پہلے پرفل پٹیل کے پس منظر کو سمجھ لیا جائے تاکہ اس کی روشنی میں لکشدیپ کے تنازع کو سمجھا جاسکے۔
🔹 سال 2019 میں دمن اینڈ دیو کے الیکشن کے وقت وہاں کے کلکٹر اور مشہور آئی اے ایس افسر 'کنّن گوپی ناتھن' کے ساتھ ان کا تنازع ہوا جس پر الیکشن کمیشن نے انہیں پھٹکار لگائی تھی۔

🔹 سال 2019 میں ہی دمن اینڈ دیو میں ترقیاتی کاموں کے نام پر نوّے گھروں کو توڑ دیا گیا۔جب لوگوں نے احتجاج کیا تو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

🔹فروری 2021 میں دادرا اور نگر حویلی سے سات بار ممبر آف پارلیمنٹ رہے موہن ڈیلکر نے ممبئی کے ایک ہوٹل میں خودکشی کرلی تھی۔ اپنے خودکشی نوٹ میں انہوں نے پرفل پٹیل کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

🔹 موہن ڈیلکر کی موت کے بعد ان کے بیٹے ابھینو نے ممبئی میں پرفل پٹیل کے خلاف ایف آئی آر درج کراتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پٹیل نے ان کے باپ سے پچیس کروڑ کی رشوت مانگی تھی، نہ دینے کی صورت میں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی۔ اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے ڈیلکر نے خودکشی کرلی۔ مہاراشڑا حکومت نے اس کیس کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) بھی بنائی تھی۔

لکشدیپ میں تنازع کیوں؟

آزادی کے بعد سے اب تک اس صوبے میں تجربہ کار بیوروکریٹ (Bureaucrat) ہی بطور ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوتے رہے ہیں۔اس لیے کبھی کوئی تنازع نہیں ہوا۔ سن 2020 تک یہاں کے ایڈمنسٹریٹر دنیشوَر شرما تھے جو ایک سینئر آئی پی ایس افسر تھے۔ دسمبر 2020 میں ان کی موت کے بعد مرکزی حکومت نے روایت سے ہٹ کر ایک نیتا 'پرفل کھوڑا پٹیل' کو یہاں کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ ان کے آتے ہی اس پر سکون جزیرے کا چین وسکون غارت ہوگیا۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب لوگ Seve Lakshadweep مہم چلانے پر مجبور ہیں۔ فی الحال پانچ اہم مسئلوں پر سخت تنازع ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے:
1-تنازع کی بنیادی وجہ ایل ڈی اے آر (Laxdeep Development Authority Regulation) کا قیام ہے۔اس کے تحت ایڈمنسٹریٹر ترقیاتی کام کے نام پر کسی بھی مقامی باشندے کو اس کی زمین سے بے دخل کر سکتا ہے۔!!!
مقامی باشندوں کو ڈر ہے کہ اس قانون کی آڑ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دیگر صوبوں کے افراد کو ان کی زمینیں فروخت کی جائیں گی۔ اور لکشدیپ کے مقامی افراد کو اجاڑ دیا جائے گا۔حالانکہ پرفل پٹیل کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا وہ لکشدیپ کو مالدیپ کی طرح ایک اسمارٹ سٹی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کی بات سن کر بے اختیار ہنسی آتی ہے کہ وزیر اعظم نے بھی ملک میں سو اسمارٹ سٹی بنانے کا دعوی کیا تھا سات سال گزر گئے مگر ابھی تک ایک بھی اسمارٹ سٹی کہیں نظر نہیں آئی۔

2-تنازع کی دوسری اہم وجہ پاسا (prevention of anty social activities act) نامی قانون کی منظوری ہے۔جس کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر کسی اطلاع یا وجہ کے ایک سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔!!!
یہ سخت قانون اس صوبے میں بنایا گیا ہے جہاں جرائم کی شرح صفر ہے اور جیلیں تقریباً خالی ہیں۔ ایسے پر امن علاقے میں اس سخت قانون کی کیا ضرورت تھی؟
کوئی بعید نہیں کہ اس قانون کا اطلاق ان لوگوں پر کیا جائے جو پرفل پٹیل کے تاناشاہی فیصلوں کی مخالفت کریں۔

3-تیسرا تنازع پنچایت قانون میں اس شق کا اضافہ ہے جس کے تحت دو سے زائد بچوں والے افراد الیکشن نہیں لڑ سکتے۔!!!
یہ بھی عجیب معمّا ہے کہ اس ملک میں آٹھ دس بچوں والا انسان ایم پی ، ایم ایل اے بن سکتا ہے مگر گاؤں کا پردھان نہیں بن سکتا۔اگر یہ قانون نافذ کرنا ہے تو پہلے پارلیمنٹ پر کیا جائے جہاں بی جے پی کے ایک تہائی ایم پی دو سے زیادہ بچوں والے ہیں۔ پھر اس کا نفاذ گرام پنچایتوں پر کیا جائے۔

4-چوتھا تنازع بیف(گائے، بیل وغیرہ کے گوشت) پر پابندی کو لے کر ہے۔ لکشدیپ کی تقریبا ۹۵ فیصد آبادی قبائلی ہے۔ اور کل آبادی کا ساڑھے چھیانوے فیصد سے زائد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ بیف کھانا یہاں کے قبائلی کلچر کا حصہ ہے۔ جس طرح بیف کھانا شمال مشرقی ریاستوں کے قبائلی کلچر کا عام حصہ ہے۔ اسی وجہ سے لکشدیپ کے مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقوام بھی بیف کھاتی رہی ہیں لیکن اب پرفل پٹیل نے یہاں بیف بین کر دیا ہے۔!!!!
اسے بی جے پی کی دوغلی پالیسی ہی کہا جائے گا کہ گوا اور شمال مشرقی ریاستوں منی پور، سکّم ، میزورم ، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش میں بیف پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جب کہ یہاں خود بی جے پی حکومت میں ہے۔ مگر لکشدیپ میں بیف بین کیا جارہا ہے۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں اکثریت عیسائیوں اور دیگر غیر مسلم اقوام کی ہے اور لکشدیپ مسلم اکثریت ریاست ہونے کی سزا بھگت رہا ہے۔

5- پانچواں تنازع شراب پر لگی ہوئی پابندی کو ہٹانے کی وجہ سے ہے۔ لکشدیپ میں محض ایک جزیرے میں ہی شراب کی خرید و فروخت کی اجازت تھی۔ باقی پورے صوبے میں شراب پر پابندی تھی۔ مگر پرفل پٹیل نے یہاں آتے ہی شراب پر عائد پابندی ہٹا دی ہے۔!!!

پرفل پٹیل ویسے تو گاندھی جی کے گجرات سے آتے ہیں جہاں مکمل طور پر شراب بندی ہے۔ آخر وہ لکشدیپ میں شراب کیوں عام کرنا چاہتے ہیں؟
ممکن ہے اس کے پیچھے لکشدیپ کو لالچ بھری نظروں سے دیکھنے اور ان زمینوں پر قبضہ کا خواب دیکھنے والے بڑے کارپوریٹس اور شراب کمپنیوں کا اُن پر دباؤ ہو۔ کیوں کہ جب تک شراب کی آزادی نہیں ہوگی تب تک شراب وشباب کے رسیا اس جزیرے پر کیوں آنا چاہیں گے؟

لکشدیپ ہی نشانے پر کیوں؟

وادیِ کشمیر کے بعد لکشدیپ ہی ایسا خطہ ہے جہاں مسلمان نوے فیصد سے زائد ہیں اور امن وامان کے ساتھ خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔ شاید یہی سکون فرقہ پرستوں کو راس نہیں آرہا ہے اور وہ اس سکون کو غارت کرنا چاہتے ہیں۔
اسی لیے پرفل پٹیل نے آتے ہی پہلے :
- ماہی گیروں کے ٹین شیڈ گرائے۔ پھر
- گرام پنچایتوں کے اختیارات ختم کیے۔
- ملازمتوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو فارغ کر دیا۔
- اسکول مینو میں بدلاؤ کیا۔
- کوچین(کیرلا) بندرگاہ کی بجائے منگلور(کرناٹک) بندرگاہ جانے پر مجبور کیا۔
یہ سب اسی ذہنیت کی غمازی ہے جو کسی مسلمان کو سکون سے نہیں دیکھ سکتی۔اب کارپوریٹ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لالچ اور دباؤ کے تحت ایک پر امن ریاست کو نفرت وتعصب کی بھٹی میں جھونکنے کی تیاری ہے۔ کچھ اطمینان کی بات یہ ہے کہ بہت سے سیکولر افراد اور سیاسی پارٹیوں نے پرفل پٹیل کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ملک بھر کے مسلمانوں اور انصاف پسند لوگوں کو بھی اس معاملے پر آواز بلند کرنا چاہیے۔ خاص طور سے قبائلی اور indigenous لوگوں کے حقوق کے لیے لڑنے والے تمام لوگوں کو لکشدیپ بچانے اور اس کا امن و امان برقرار رکھنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ورنہ یہ خوبصورت اور پرامن خطہ بی جے پی کی زہریلی سیاست اور کارپوریٹس کے لالچ کی بھینٹ چڑھ جائے گا اور یہاں کا eco-system (ماحولیاتی نظام) اور قدرتی نظم بالکل تباہ ہو کر رہ جائے گا۔!!!!
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حجب العوار عن مخدوم بہار

مفتی نثار احمد مصباحی
روشن مستقبل دہلی

امامِ اہلِ سنت نے یہ رسالہ مخدومِ بہار رحمہ اللہ کے دفاع میں لکھا تھا۔ اور اس کا نام انھوں نے صرف *"حجب العوار عن مخدوم بہار"* رکھا تھا۔ رضا اکیڈمی سے مطبوع اس کتاب کے ایک ایڈیشن کے ٹائٹل پر جو اس کتاب کا ایک عرفی نام نظر آ رہا ہے یہ امامِ اہل سنت کی جانب سے نہیں ہے۔
اس رسالے کے نام *"حجب العوار عن مخدوم بہار"* کا معنی ہے: مخدومِ بہار سے عیب کو روکنا۔ یعنی ان کی ذات تک پہنچنے سے عیب کو روکنا۔ بلفظِ دیگر : اُن کا دفاع کرنا۔
"حجب عن" كا معنی : روکنا، دفاع کرنا، ہوتا ہے۔
اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ رضا اکیڈمی، ممبئی سے مطبوعہ ایڈیشن کے ٹائٹل پر نظر آرہا کتاب کا عرفی نام ("مخدومِ بہاری کی عیب پوشی") صحیح نہیں۔ نام تجویز کرنے والے نے جو "عیب پوشی" لکھا ہے، وہ غلط ہے۔ کیوں کہ "عیب کو پہنچنے سے روکنا" اور "عیب پوشی کرنا" یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ عیب لگنے سے روکنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر وہ عیب نہیں ہے۔ جب کہ عیب پوشی کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ عیب پہلے سے موجود ہے۔!! "مخدوم بہاری کی عیب پوشی" لکھنے سے ظاہری معنی یہی بنتا ہے کہ مخدومِ بہار کے اندر کوئی ایسا عیب ہے جسے اس کتاب میں چھپایا گیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب میں ایک عیب کی ان کی طرف نسبت کو باطل اور غلط قرار دیا گیا ہے۔ یعنی یہ عرفی نام کتاب کے مضمون کے بھی خلاف ہے۔ جب کہ عرفی نام تجویز کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عرفی نام کتاب کے مشمولات کے مطابق ہونا چاہیے۔

الحاصل کتاب کے نام اور حقائق دونوں اعتبار سے ٹائٹل پر نظر آ رہا یہ عرفی نام غلط ہے۔ یہ پبلشر کی اور اس کتاب کا یہ عرفی نام تجویز کرنے والے کی غلطی ہے۔
مجھے گمانِ غالب ہے کہ ان تفصیلات پر توجہ نہ ہونے سے سہوا کسی نے یہ عرفی نام تجویز کر دیا ہوگا۔ یہاں کوئی فتنہ ہرگز متصور نہیں۔ اس لیے اس 'سہو' کو فتنہ انگیزی سے تعبیر کرنا بھی بالکل غلط ہے۔

ناشرین کو اگر اردو میں اس کتاب کا کوئی عرفی نام رکھنا ہی تھا تو "مخدومِ بہار کا دفاع" یا اس طرح کا کوئی نام رکھنا چاہیے تھا۔

#نثارمصباحی
۳۰ مئی ۲۰۲۱ء

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/924410961462756/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام ابو محمد الجُوَینِی اور اُن کے بیٹے امام الحرمین الجوینی !

جب باپ ایسے ہوتے ہیں تب بیٹے ایسے پیدا ہوتے ہیں!!!

((مضمون پڑھیے اور سمجھیے کہ نسلوں کو بلندی کیسے ملتی ہے!!))

تحریر : نثار مصباحی
رکن : روشن مستقبل

امامِ غزالی رحِمَہ اللہ (متوفی 505ھ) کے اساتذہ میں ایک معروف ہستی امام الحرمین الجُوَینِی(امام ابو المعالی عبد المَلک بن ابو محمد الجوینی الشافعی) رحمہ اللہ کی ہے. آپ کی ولادت 419ھ میں اور وفات 478ھ میں ہوئی.
آپ عقیدہ و کلام اور فقہ و اصولِ فقہِ شافعی کے ائمہ میں سے ہیں. آپ کی تصانیف میں "الإرشاد إلى قواطع الأدلة في أصول الاعتقاد" اور "الشامل في أصول الدين" وغیرہ معروف ہیں.
آپ کے والد امام ابو محمد الجوینی(عبد اللہ بن يوسف) رحمه الله (متوفی 438ھ) بھی اپنے وقت کے اکابر اولیا اور ائمہ میں سے تھے.
امام تاج الدین السبکی الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 771ھ) نے "طبقات الشافعیۃ الکبری" میں ان کے تذکرے میں لکھا ہے کہ :
وہ علم و دین داری, اور زُہد و پرہیز گاری میں یکتاے زمانہ تھے. زہد و تقوی میں تمام معاصرین پر فائق اور بےمثال دین داری کی وجہ سے بڑے بارعب اور باہیبت تھے. امام ابو سعید بن امام قشیری فرماتے ہیں کہ امام ابو محمد الجوینی کے ہم عصر ائمہ و محققین اُن کے بےنظیر زہد و ورع, خصائلِ حمیدہ اور غایتِ فضل و کمال کی وجہ سے ایسا مانتے تھے کہ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا اور اِس زمانے میں نبی آنا ممکن ہوتا تو وہ امام ابو محمد الجوینی ہی ہوتے. !!!
(طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی, والفتاوی الحدیثیۃ للامام ابن حجر المکی)
امام ابو محمد الجوینی کے تقوی اور احتیاط کی ایک جھلک امام تاج الدین السبکی نے پیش فرمائی ہے کہ آپ اپنے ذاتی مکان کی اس دیوار سے ٹیک بھی نہیں لگاتے تھے جو آپ کے اور پڑوسی کےدرمیان ہوتی تھی, اور نہ ہی اس میں کیل وغیرہ ٹھونکتے تھے.(جب کہ وہ آپ کی اپنی ملکیت تھی اور اس میں تصرف آپ کے لیے ہرطرح سے جائز و درست تھا)!!!
شیخ الاسلام ابوعثمان صابونی (متوفی 449ھ) کہتے ہیں کہ اگر امام ابو محمد الجوینی بَنی اسرائیل میں ہوئے ہوتے تو ان کی سیرت و شمائل مروی ہوکر ہم تک پہنچتے اور وہ لوگ اِن پر ناز کرتے. !!! (طبقات الشافعیۃ الکبری, الطبقۃ الرابعۃ)
امام ابو محمد الجوینی حرام و ممنوع تو بہت دور کی بات ہے, شبہات تک سے بہت پرہیز فرماتے تھے. آپ کے بیٹے امام الحرمین جب پیدا ہوئے تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کو حکم دے دیا تھا کہ اس کو صرف تم ہی دودھ پلانا, اور کوئی باہری عورت اگر کبھی آئے اور بچے کو دودھ پلانا چاہے تو مت پلانے دینا. !!! (یہ شبہات سے پرہیز کی ایک نادر مثال ہے.) اتفاق ایسا کہ ایک دِن ایک عورت (کسی کام سے) آئی اور گھر کے اندر بچے کو (دلارنے اور بہلانے کے دوران) دودھ پلانے لگی. ابھی ایک ہی چسکی بچے نے پی تھی کہ بچہ اس عورت سے لے لیا گیا. امام ابو محمد الجوینی نے بچے کے حلق میں انگلی ڈال کر فوراً الٹی کروائی, اور جو دودھ پیٹ میں چلا گیا تھا اسے باہر کیا. (لیکن ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو اندر رہ ہی گیا ہوگا.) قاضی شمس الدین ابن خلکان رحمہ اللہ (متوفی 681ھ) "وفیات الأعیان" میں یہ واقعہ لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بعد میں امام الحرمین جب بڑے ہوگئے, تو کبھی کبھار جب کسی مناظرے یا بحث میں آپ کے اندر کچھ ٹھہراؤ یا اضمحلال محسوس ہوتا تو فرماتے تھے کہ : یہ اُسی ایک چسکی کا اثر ہے. !!!!
آپ کے والد گرامی امام ابو محمد الجوینی ایک بار خواب میں حضرتِ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی زیارت سے مشرف ہوئے. سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قدمِ مبارک پر بوسہ دینا چاہا مگر حضرتِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ کا اِکرام اور عزت افزائی فرماتے ہوئے روک دیا. امام ابو محمد فرماتے ہیں کہ پھر مجھے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی مبارک ایڑی کے پچھلے حصے (عقب) پر بوسہ دینے کا شرف عطا کیا گیا. (بیدار ہونے کے بعد) میں نے اس کی یہ تعبیر سمجھی کہ میری "عقب"(نسل) میں اللہ عزوجل رفعت و برکت عطا فرمائے گا. !!!
امام تاج الدین السبکی رحمہ اللہ یہ واقعہ لکھ کر فرماتے ہیں کہ:
"آپ کے بیٹے امام الحرمین الجوینی جیسی اور کون سی رفعت و برکت ہو سکتی ہے." ((یعنی حضرتِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی ایڑی مبارک کے پچھلے حصے پر بوسے سے آپ نے اپنی نسل میں (پیچھے آنے والوں میں) رفعت و برکت کی جو تعبیر لی تھی وہ بالکل درست تھی اور سب سے بڑی برکت و رفعت امام الحرمین کی صورت میں ظاہر ہوئی.))
رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین.
اللهم أمتنا على محبتهم و احشرنا في زمرتهم.

#نثارمصباحی
6شوال1441ھ

https://www.facebook.com/388280455075812/posts/924895024747683/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاوی رضویہ جلد 12/12، صفحہ 132؛ جلد 29/30 صفحہ 115

"علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں، حمایتِ مذہب سے گھبراتے ہیں، جو بندہ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں، مداہنت ان کے دلوں میں پیری ہوئی ہے، ایّام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا، عبارت ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگا دیں اور جب کہئے، حضرت لکھ دیجئے، بھائی لکھواؤ نہیں، ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے، ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گا، بہت کو یہ خیال کہ مفت میں اوکھلی میں سر دے کر موسل کون کھائے، بد مذہب دشمن ہو جائیں گے، دانتوں پر رکھ لیں گے، گالیاں، پھبتیاں، اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گے، طرح طرح کے بہتان، افتراء اچھالیں گے، اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے، بعض کو یہ کد کہ حمایتِ مذہب کی تو صلح کھلی نہ رہے گی، ہر دل عزیزی جا کر پلاؤ، قورمے، نذرانہ میں فرق آئے گا یا کم از کم آؤ بھگت تو عام نہ رہے گی"

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3012816035664370&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اہل علم سے ایک استفتاء:

سیدی اعلٰی حضرت امام احمدرضاخان قادری علیہ الرحمه فرماتے ہیں:
"اہلِ سنت سے بتقدیرِالٰہی جو ایسی لغزشِ فاحش واقع ہو، اس کا اخفاء واجب ہے کہ معاذﷲ لوگ ان سے بداعتقاد ہوں گے تو جو نفع ان کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنت کو پہنچتا تھا اس میں خلل واقع ہوگا"
(فتاوی رضویہ 29/591)
اس اقتباس سے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ
اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ نے سنی عالم کی لغزشِ فاحش(یعنی شرمناک لغزش)تک کے اِخفا(چُھپانے)کاحکم دیاہے۔اس لیے کسی سنی عالم کی فرعی خطاکوبھی بیان نہیں کرناچاہیے۔
اس استدلال کودُرُست ماناجائے تویہ سوال ذہن میں پیداہوتاہے کہ خودسیدی اعلٰی حضرت نے اپنی کتب وفتاوٰی میں مختلف مسائل پر کئی علمائے اہلِ سنت سے اختلاف کیاہے،اور اس کوشائع بھی کیاہے۔مثال کے طورپر
1.مسئلہ اذانِ ثانی بنیادی طورپرایک فروعی مسئلہ ہے۔ لیکن اس پرعلمائے بدایوں ورامپورسے آپ کااختلاف ہوا۔طرفین کی جانب سے کتابیں لکھی گئی۔کئی سال تک یہ اختلاف چلتارہا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ بدایونی علماکی طرف سے اعلٰی حضرت پراِزالہء حیثیتِ عرفی کاکیس کردیاگیا۔جس میں بفضلِ خدا اعلٰی حضرت کوکامیابی حاصل ہوئی اورکیس خارج ہوگیا۔
2.اسی طرح علامہ عبدالحئی لکھنوی سے بھی اعلٰی حضرت کامختلف مسائل پراختلاف ہوا،اور اس اختلاف کی آپ نے اشاعت بھی کی۔
مختصریہ کہ فتاوی رضویہ سے اگراعلٰی حضرت کے دیگرعلمائے اہلِ سنت کے ساتھ ہونے والے اختلاف پرمبنی موادکوجمع کیاجائے تواچھی خاصی ضخامت کی کتاب بن سکتی ہے
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ سیدی اعلٰی حضرت نے سُنّی عالم کی لغزش فاحش(شرمناک لغزش)کے اخفا(چُھپانے)کوواجب قراردیاہے۔تواس سے کون سی خطامراد ہے؟
اگراس سےفرعی دینی مسئلہ میں ہونے والی خطامیں اخفا(چُھپانا)مرادہے توپھراس کاکیاجواب ہوگاکہ خودسیدی اعلٰی حضرت نے مختلف مسائل پر کئی علمائے اہل سنت سے اختلاف کیا،اس پرکتب لکھیں وفتوے جاری کیے اوران کوشائع بھی کیا۔

میثم قادری

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3012950222317618&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"حدیثِ سل" پر ملا علی قاری،شیخ محقق اور اعلیٰ حضرت کا خوبصورت تبصرہ

حضرت ربیعہ بن کعب نے ایک رات سرکار دوعالمﷺ کی خدمت کی۔ نبی پاک نے خوش ہوکر فرمایا:

یا ربیعۃ سلنی فاعطیک
اے ربیعہ مانگ کیا مانگتا ہے ہم تجھے دیں گے۔
عرض کی حضور جنت مانگتا ہوں
فرمایا: او غیر ذالک؟
اے ربیعہ کچھ اور بھی مانگ لے
عرض کی: نہیں حضور بس جنت کافی ہے۔
فرمایا: تو میری اعانت کثرت سجود سے کرنا(یعنی بشارت پانے کے بعد غفلت نہ کرنا)
(مسلم، ابی داؤد، طبرانی وغیرہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملا علی قاری اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
"یؤخذ من اطلاقہ الامر بسوال ان الله تعالیٰ مکنہ من اعطاء کل ما اراد من خزائن الحق"
ترجمہ:
حضورﷺ نے مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے استفادہ ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ نے حضورﷺ کو عام قدرت بخشی ہے کہ الله کے خزانوں سے جو چاہیں دیں۔
مرقاۃ المفاتیح،کتاب الصلاۃ،ج 2،ص 615)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

"از اطلاق سوال کہ فرمودش بخواہ تخصیص نکرد بمطلوبے خاص معلوم میشود کہ کار ہمہ بدست ھمت و کرامت اوستﷺ ہرجہ خواھد و کراخواھد باذن پروردگار خوددھد"

یعنی:
مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا: مانگ۔ اور کسی خاص شے کو مانگنے کی تخصیص نہیں فرمائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمام معاملہ آپ کے دست اقدس میں ہے، جو چاہیں جسے چاہیں الله تعالیٰ کے اذن سے عطا کردیں۔
(اشعۃ اللمعات، کتاب الصلاۃ،ج1،ص396)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے امام اعلیحضرت فرماتے ہیں:
اس حدیث کا ہرہر لفظ وہابیت کش ہے۔ نبی پاک
خلیفۃ الله اعظمﷺ کا مطلقاً بلا قید و تخصیص کے فرمانا: "سل" مانگ کیا منگتا ہے، جان وہابیت پر کیسا
پہاڑ ہے۔اور جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور
ہر قسم کی حاجت روائی فرماتے ہیں۔ دنیا اور
آخرت کی سب مرادیں پوری فرمانے میں مکمل
اختیار رکھتے ہیں جبھی تو بلا کسی قید کے فرمایا مانگ کیا منگتا ہے جو بھی مانگے گا ہماری سرکار سے ملے گا۔
(فتاویٰ رضویہ،ج30،ص495)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لطیف نکتہ:
جب نبی پاک نے پوچھا ربیعہ مانگ تو صحابی رسول نے اونٹ گھوڑے زرہ مال دولت نہیں مانگی۔ بلکہ ایسی چیز مانگ لی جس کا تعلق دوسرے جہان سے ہے۔ یعنی صحابی کا بھی عقیدہ کیسا صاف ستھرا تھا کہ حضور اس دنیا کے مالک تو ہیں ہی جنت کے بھی مالک ہیں۔ اسی لئے جنت کی تمنا کردی۔
سیدنا ربیعہ عرض گزار ہوئے: آپ کے ساتھ جنت میں رفاقت چاہتا ہوں۔
کسی کو جب کوئی چیز دی جائے تو ظاہر ہے ملکیت میں ہوتو دی جاسکتی ہے۔ سرکار دوعالم کا جنت عطا کرنا بتا رہا ہے کہ جنت رسول اللہ کی⁦♥️⁩۔

تجھ سے اور جنت سے کیا مطلب وہابی دور ہو
ہم رسول اللہ کے جنت رسول اللہﷺ کی

حسیب احمد مجددی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014017315544242&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سادہ مزاج سنی لوگو ں سے بولا کہ دیوبندی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیےکیونکہ
نماز ان کے پیچھے ہوتی ہی نہیں.
لوگوں میں سے کچھ نے اعتراض کردیا تو اس سنی نے کہا
دیکھو بھائی میں سمجھاتا ہوں.سب بغوراس کی بات سننے لگے:
اگر کسی مسجد کے امام صاحب کچھ دنوں کے لیے باہر چلے جائیں اور کہہ جائیں دیکھو جب تک میں واپس نہیں آجاتا نماز میری بیوی پڑھائے گی کیونکہ وہ اللہ کی بندی ہے.
تو بتاو کیا تم لوگ امام کی بیوی کے پہچھے نماز پڑھو گے؟؟؟؟
سارے سامعین غصے میں بولے بندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی؟
سنی بولا جب اللہ کی بندی کے پیچھے نماز نہیں ہوگی تو پھر دیوبندی کے پیچھے نماز کیسے ہوگی.. 🤣

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3014982995447674&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے شخص کا ایک اصولی و تحقیقی محاسبہ
از۔۔۔۔۔مفتی محمد سلیم بریلوی
جامعہ رضویہ منظر اسلام۔۔بریلی شریف۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔
محب گرامی۔۔کرم فرما حضرت مولانا محمد قاسم عمر صاحب رضوی مصباحی۔۔زید علمہ و فضلہ ۔۔۔۔ساوتھ افریقہ۔۔۔۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
مزاج ھمایوں!
آپ نے حضرت بلال والی اس حدیث کی وضاحت طلب کی ھے کہ جس میں یہ ھے کہ رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج فی حلہ مشمرا فصلی رکعتین الخ
کہ اس حدیث سے کوئی شخص یہ استدلال کررھا ھے کہ کف ثوب یعنی کپڑا موڑ کر نماز ادا کرنا درست ھے مکروہ نھیں ھے۔۔۔تو اس سلسلہ میں عرض ھے کہ پہلےیہ معلوم کریں وہ شخص مقلد ھے کہ غیر مقلد؟مقلد کو براہ راست اس طرح نصوص سے استدلال کرتے ھوئے عمل کی اجازت کب ھے؟مقلد کے لئے تو اپنے امام مذھب کا قول بس ھے۔۔۔۔اگر لوگ اسی طرح احادیٹ کریمہ کے اردو اور انگریزی بے ڈھنگے ترجمے دیکھ اور پڑھ کر عمل کرنے لگے تب تو پھر ھو چکا عمل اور ھوچکی احادیث کی پیروی۔۔اس طرح توامن و امان ھی ختم ھوجائے گا اور آدمی عمل کرنے میں متضاد افعال کا شکار ھوجائے گا۔۔ بلکہ بھت سے مقامات و مسائل میں اجتماع ضدین کی صورت پیدا ھو جائے گی۔۔مثلا خود اسی کف ثوب والے ھی عمل کو دیکھ لیں کہ قائل کے بقول اس حدیثِ بلال یعنی "فی حلہ مشمرا" والی حدیث سے کفِ ثوب کا جواز نکلتا ھے جبکہ بخاری و مسلم میں ایک اور حدیث ھے کہ:امرت ان اسجد علی سبعہ اعظم الجبھہ و الکفین۔۔۔۔۔۔۔۔الی ان۔۔۔۔۔۔۔لا اکف شعرا ولا ثوبا۔۔۔۔بالفاظ متعددہ۔۔۔
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ھے ۔۔جس میں کفِ ثوب کی واضح نھی و ممانعت ھے۔۔۔تو اب حدیثِ بلال کے انگلش اوراردو ترجمہ کو پڑھ کر کفِ ثوب کے ساتھ یعنی کپڑا موڑ کر نماز پڑھنے کو بلا کراھت جائز کہنے والے سے معلوم کریں کہ دوسری حدیث کا انگلش و اردو ترجمہ پڑھ کر وہ دونوں پر کیسے عمل کرے گا؟اگر کرتا ھے تو اجتماعِ ضدین لازم آئے گا جو محال و باطل ھے۔۔۔۔۔
یہ شخص اصولِ شرع اور اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ سے بالکلیہ ناواقف ھے۔ایسی ھی متضاد و محتمل صورتوں میں یہ اصولِ فقہ وغیرہ ھماری راھنمائی کرتے ھیں اور اسی طرح کی سخت ترین اُلجھنوں سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی امام مجتھد کی تقلید لازمی قرار دی گئی ھے۔۔۔۔تاکہ اردو و انگریزی ترجمے پڑھ کر کوئی مجتھد بننے کے چکر میں مشکل میں پڑ کر گمراھی اور متضاد کیفیت کا شکار نہ ھوجائے۔۔۔۔اتنی تفصیل و تمھید کے بعداب اصل جواب ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
اولا یہ ذھن نشین کرلیا جائے کہ کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنے کی کراھت متفق علیہ اور اجماعی ھے۔
امام نوَوِی علیہ الرحمہ نے ائمہ اربعہ کا اور علمائے امت کا اس پر اتفاق نقل کیا ھے اور اس باب میں میری نقل کردہ دوسری حدیث یعنی "لا اکف شعرا ولا ثوبا" کو معمول بہ مانا ھے کیونکہ یہ حدیث قولی ھے اور حدیثِ بلال فعلی ھے۔۔اور اصول ھے کہ فعلی و قولی میں سے قولی کو ترجیح حاصل ھوتی ھے کیونکہ فعلی میں بھت سے احتمالات ھوتے ھیں مثلاً اسی فعلی حدیثِ بلال کو لے لیجئے کہ
1....اس میں ایک احتمال یہ بھی ھے کہ آقا نے یہ کام محض بیانِ جواز کے لئے کیا ھو یعنی کفِ ثوب کے ساتھ نماز پڑھنا حرام نھیں ھے ۔بلکہ جائز مع الکراھت ھے۔۔۔۔
2.....دوسرا احتمال یہ ھے کہ یہ کفِ ثوب امت کے لئے مکروہ ھو,آقا کے لئے مکروہ نہ ھو ۔۔اس میں آقا کی خصوصیت ھو۔۔۔ اس لئے آقا نے ایک مرتبہ ایسا کیا۔۔۔
3.... تیسرا احتمال ہہ ھے کہ اس حدیث میں حضرت بلال نے صرف اتنا ذکر کیا ھے کہ آقا کپڑے سمیٹے یا موڑے ھوئے نکلے پھر دورکعت نماز ادا کی۔۔۔یہ کہاں ھے کہ اسی طرح کپڑے موڑ کر نماز بھی ادا کی؟تو یہ بھی تو ھوسکتا ھے کہ جب نماز پڑھنا شروع کی ھو تو کپڑے صحیح کرلئے ھوں اور بنا کفِ ثوب کے نماز ادا کی ھو۔۔جیسے کوئی شخص وضو کرکے نکلتا ھے تو اس کی آستینیں مڑی ھوتی ھیں اور وہ مصلی پر پہونچتے پہونچتے انھیں صحیح و درست کرلیتا ھے ۔۔جس کا مشاھدہ مسجدوں میں ھم ھر روز کرتے ھیں۔۔۔
4۔۔۔۔۔چوتھا احتمال یہ ھے کہ کلمہ تشمیر ۔۔۔کفِ ثوب کے معنی میں نص نھیں ھے بلکہ اس کے کئی معانی ھیں چنانچہ اس کا ایک معنی مستعد بھی ھوتا ھے تو اب حدیث کا مفھوم ھوگا کہ خرج فی حلہ مستعدا للصلوہ یعنی نماز کے لئے مستعد و آمادہ اور نماز کے لئے تیار ھوکر تیزی کے ساتھ تشریف لائے۔۔۔نیز تشمیر کا ایک معنی ھوتا ھے رفع ثوب تو اب مطلب یہ ھوگا کہ چونکہ یہ واقعہ سفر کا ھے۔۔ لوگ نماز کے لئے منتظر و تیار بیٹھے تھے تو آپ عجلت میں تشریف لائے اور جب انسان جلدی جلدی اس طرح کے ڈھیلے کپڑے اور جبہ زیب تن کرکے بعجلت چلتا ھے تو ازار یا جبہ کو ھاتھ سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیتا ھے کہ کہیں الجھ کر گر نہ جائے اور آسانی کے ساتھ تیز رفتار وہ چل سکے تو یھاں کف ثوب نھیں ھوتا۔بلکہ رفع ثوب ھوتا ھے ۔ممکن ھے آقا نے اسی طرح کی تشمیر کی ھو۔۔۔نیز کبھی