🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
یغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخر“ ولیس بین الرسل والملائکة مساواة فی الحقیقة ۔۔۔۔ وکذلک ان المؤمنین المعصومین لاتجری علییہم الذنوب کما ان الذنوب لاتجری علی المؤیدین من الملائکة“۔
(ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام‘ ص:۷۰-۷۱ بحوالہ ”تاویل الزکاة“ للسید جعفر بن منصور ص:۱۴۹-۱۵۶)

(4)
ختم نبوت

مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ا خاتم النبیین ہیں‘ آپ کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی رسول۔ آپ ﷺکی کتاب آخری کتاب اور آپ کی شریعت آخری شریعت ہے‘ سابقہ تمام شریعتیں منسوخ ہوچکیں اور قیامت تک کے لئے کامیابی صرف دین محمد ا میں منحصر ہوگئی۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النیین
(الاحزاب:4)

ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ وہو فی الآخرة من الخاسرین
(آل عمران:85)

مشہور ومتواتر حدیث میں ہے؛
انا خاتم النبیین لانبی بعدی
(اخرجہ الترمذی‘ وقال : ہذا حدیث حسن صحیح ‘کتاب الفتن: رقم ۲۲۱۹)

ایک اور حدیث میں ہے؛
لو کان موسیٰ حیاً ما وسعہ الا اتباعی
(مسند احمد:۳/۳۸۷)

مگر فرقہ اسماعیلیہ کے امام معز (متوفی ۳۶۵ھ) سے منقول ساتویں دعا جسے اسماعیلی شنبہ (ہفتہ) کے روز پڑھتے ہیں اور اسے نہایت متبرک سمجھتے ہیں‘ میں امام محمد بن اسماعیل کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ساتویں امام ہونے کے علاوہ ساتویں وصی‘ ساتویں ناطق اور ساتویں رسول بھی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے قیام سے ”عالم الطبائع“ کو ختم کیا اور (حضرت محمد ﷺ) کی شریعت کو معطل کیا۔ اصل عبارت ملاحظہ کیجئے؛

۔"وصل علی القائم بالحق الناطق بالصدق التاسع من جدہ الرسول الثامن من ابیہ الکوثر السابع من آبائہ الأئمة سابع الرسل من آدم وسابع الأوصیاء من شیث وسابع الأئمة من آلہ البررة․․․ وختمت بہ عالم الطبائع وعطلت بقیامہ ظاہر شریعة محمد ﷺ ۔۔۔۔۔“ الخ
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۵۴۳-۵۴۴ وہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:”م“ از مقدمہ)


(5)
صحابہ کرام سے محبت یا بغض وعداوت

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺکے صحابہ کرام راست گو‘ پاکباز اور سچے مؤمن تھے ان کی شان میں خود اللہ تعالیٰ نے کئی آیتیں نازل فرمائیں‘ مثلاً؛

والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوہم باحسان رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ واعدلہم جنات تجری تحتہا الانہار خالدین فیہا ابداً ذلک الفوز العظیم
(التوبۃ:100)

محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم تراہم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ ورضواناً․․․الآیة
(الفتح:29)

مگر” اسماعیلیہ “(یعنی بوہری اور آغاخانی)چونکہ ”امامیہ“ کی ایک شاخ کی حیثیت رکھتا ہے‘ اس لئے اس کے بنیادی عقائد میں صحابہ سے بغض اور ان سے بیزاری کا اظہار کرنا بھی ہے‘ یہاں تک کہ اکابر صحابہ کرام کی تکفیر بھی کرتے ہیں۔
علامہ شہرستانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں؛

ثم ان الامامیة تخطت عن ہذہ الدرجة الی الوقیعة فی کبار الصحابة طعناً وتکفیراً
(الملل والنحل :191،192،ط۔بیروت)

(6)
امامت

امامت کے قائل شیعہ فرقوں اور ”اسماعیلیہ“ کے ہاں ”عقیدہٴ امامت“ کو کس درجہ اہمیت حاصل ہے‘ اس کا کچھ اندازہ سید تنظیم حسین صاحب مصنف ”اسماعیلیہ“ کے اس قول سے ہوتا ہے‘ آپ لکھتے ہیں؛

۔"امامیہ (اثناعشری) اور امامیہ (اسماعیلیہ) میں شخصیتوں کی بنیاد پر اختلاف ہوا‘ اس وجہ سے ان دونوں کے یہاں حضرت امام جعفر صادق کے بعد امامت کے سلسلے مختلف ہوگئے‘ لیکن عقیدہ امامت میں گو کوئی بنیادی فرق نہیں ہوا‘ مگر اس کو علم حقیقت (عالم روحانی وعالم جسمانی کی ابتداء وانتہاء) کے ساتھ ایسا وابستہ کردیا کہ اسماعیلیہ کا امام اثنا عشریوں کے امام سے بلند ہوکر ”الوہیت“ کے درجہ پر پہنچ گیا"۔
(اسماعیلیہ ص:۴۷‘ط: الرحیم اکیڈمی)

عمومی طور پر ائمہ سے متعلق ان کے عقائد یہ ہیں؛

(1) "ان کا درجہ رسول اللہ ا کے برابر اور دوسرے نبیوں سے بالا ترہوتا ہے"۔
(اس کی ایک مثال عقیدہ ”رسالت“ کے تحت گذرچکی ہے)

(2) " امام‘ حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے سکتا ہے"۔
(اسماعیلیہ ص:۴۶-۴۷)

(3) "امام کو‘ شریعت میں ترمیم وتنسیخ کا اختیار ہے"۔
(اسماعیلیہ ص:۱۲۱)

(4)" ائمہ‘ خدا کے اوصاف سے موصوف ہوتے ہیں"۔
(اس کی وضاحت عقیدہ ”توحید“ کے بیان میں ہوچکی ہے)

(5)" اماموں کو اللہ کی طرف وحی آتی ہے"۔

جعفر بن منصور لکھتے ہیں؛
ولم یعلموا ان اسماعیل لم یغب عن الدار حتی خلف ولداً کاملا وان الامر رجع الیہ بامر اللہ ووحیہ وانہ لما حضرہ ما اراد اللہ من امرہ اوحی اللہ ان یسلم الامر الی ولدہ محمد
(ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:۳۵۸ بحوالہ اسرار النطقاء ص:۲۲۵)

(6) "امام معصوم ہوتا ہے اس سے کوئی خطا نہیں ہوسکتی اور نہ ہی وہ کسی چھوٹے یا بڑے گناہ کا قصد وارادہ کرسکتا ہے"۔
الرسل والائمة معصومون فیما یتعلق بالرسالة والامامةمن السعو والتحریف والغلط۔۔۔الخ
(ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:۵۵۴-۵۵۵ بحوالہ ”تاویل الزکاة“ ص:۱۴۹-۱۵۶)
ایضاً۔۔۔۔ وان جمی
ع الانبیاء والمرسلین والائمة علیہم السلام افضل من الملائکة‘ وانہم معصومون من کل دنس ورجس‘ لایہمون بذنب صغیر ولاکبیر ولایرتکبونہ
(المقیع والہدایة بابویہ القمی“ ۳۸۱ھ المجلس الثالث والتسعون ص: ایک‘ ط: مؤسسة المطبوعات الدینیہ‘ قم‘ ایران)

(7)"ہرزمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے‘ اسی کے وجود کی برکت سے زمین برقرار ہے‘ ورنہ وہ متزلزل ہوجائے"۔
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۳۷۸)

(8)"امام مذہبی اور سیاسی دونوں حکومتوں کا مالک ہوتا ہے زمین کے ہرحصے پر وہ حکومت کرسکتاہے اس کا فیصلہ آخری ہوتا ہے" ۔
(حوالہ بالا ص:۳۷۸)

(7)
قرآن پاک


۔"نبی یا رسول کا کام یہ ہے کہ وہ جو بات اس کے دل میں آتی ہے اور بہتر معلوم ہوتی ہے وہ لوگوں کو بتا دیتا ہے اور اس کا نام کلام الٰہی رکھتا ہے‘ تاکہ لوگوں میں یہ قول اثر کرجائے اور وہ اسے مان لیں۔ نبی کریم ﷺنے اس کا ظاہر بیان جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بہ حیثیت صامت کے اس کا باطن بیان کیا جو مقصود اصلی ہے"۔ (اسماعیلیہ ص:۱۲۱)

ظاہر ہے کہ بنیادی اور اصولی مسائل میں اس طرح کے عقائد کا رکھنا سراسر کفر والحاد ہے اور ایسے عقائد کا حامل شخص یا فرقہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہے۔

بقول ایک سابق اسماعیلی محقق کے؛
۔"ایسا معلوم ہوتاہے کہ گویا اسلام کے سدا بہار درخت پر ایرانی‘ نصرانی‘ یونانی اور ہندی درختوں کی بے جوڑ قلمیں لگائی گئیں ہیں۔اصل اور قلم کا امتیاز ایسا ظاہر اور نمایاں ہے کہ سرسری نظر سے بھی چھپ نہیں سکتا‘ فروعات میں اختلاف ہوتا تو خیر کوئی بات نہ تھی‘ افسوس ہے کہ اصول ہی کچھ ایسے ایجاد کئے جو اسلام کے اصول سے الگ ہوگئے“۔ (مقدمہ ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:ج)

الجواب صحیح الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری محمد شفیق عارف
کتبہ
فیضان الرحمن
متخصص جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ٭(2)۔

---------------------------------------------

معلوم ہوا کہ بوہری فرقہ کے عقائد اور روافض کے عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے ۔اختلاف ان کے درمیان بنیادی طور پر عقائد کا نہیں ہے بلکہ شخصیات میں اختلاف کا ہے ۔روافض سے متعلق علمائے سلف وصالحین کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ،ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کافرو زندیق ہیں۔جیساکہ مذکورہ بالا فتوے میں ان کےعقائد کے متعلق کہا گیا کہ؛


۔ "اس طرح کے عقائد کا رکھنا سراسر کفر والحاد ہے اور ایسے عقائد کا حامل شخص یا فرقہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہے"۔

روافض کے بارے میں حکم شرعی

قال علی بن ابی طالب قال رسول اللّٰہ ثم یظھر فی آخر الزمان قوم یسمون الرافضۃ یرفضون الاسلام
(مسند احمد،ج:۱ص:۱۰۳،رقم الحدیث:۸۰۸)
حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جن کو روافض کہا جائے گا وہ اسلام کوجھٹلائیں گے‘‘۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے:
علی بن عبد الصمد قال سألت احمد بن حنبل عن جار لنا رافضی یسلم علی أرد علیہ قال لا
(السنۃ لخلال،ج:۳،ص:۴۹۳،اسنادہ صحیح)
۔"علی بن عبد الصمد فرماتے ہیں کہ میں نے اما م احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہمارے پڑوس میں رافضی ہے جو مجھ کوسلام کرتا ہے تو کیا میں اس کو جواب دو؟آپ نے فرمایا ،نہیں"۔

الحسن بن علی الحسن انہ سأل عبد اللّٰہ عن صاحب بدعۃ یسلم علیہ قا اذا کان جھمیا أوقدریا أورافضیا داعیۃ فلا یصلی علیہ ولا یسلم علیہ
(السنۃ لخلال،ج:۳،ص:۴۹۴،اسنادہ صحیح)
۔"حسن بن علی الحسن نے سوال کیا ابو عبد اللہ سے صاحب بدعت کے بارے میں کہ وہ ان کو سلام کرتا ہے تو انہوں نے فرمایا "جب جھمی یا قدریہ یا رافضی بلائے تو اس پر نہ نمازجنازہ پڑھو اور نہ اس پر سلام کرو"۔

قال ابوبکر بن عیاش :لااصلی علی رافضی
(المغنی،ج:۵،ص:۶۲)
۔"اما م ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں رافضی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتا "۔
کسی کی نماز جنازہ پڑھنے یا پڑھانے سے انکارکا مطلب یہ ہی ہوتا ہے کہ مرنے والا شخص اسلام پر نہیں مرا ۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں؛
ولھذا کان الرفض اعظم ابواب النفاق والزندقۃ
(الفتاوی الکبری لابن تیمیۃؒ ،ج:۷،ص:۴)
۔"اور اسی لئے رافضیت نفاق اور زندیقیت کا سب سے بڑا دروازہ ہے"۔

روافض سے قتال کا حکم

وعن ابن عباس قال کنت ثم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعندہ علی فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا علی!سیکون فی امتی قوم ینتحلون حب اھل البیت لھم نبز یسمون الرافضۃ قا تلوھم فانھم مشرکون
(رواہ الطبرانی واسنادہ حسن بحوالۃ مجمع الزوائد،ج:۱۰،ص:۲۲۔السنۃلابن ابی عاصم،ج:۲،ص:۴۷۶)
۔"حضرت ابن عباس ے روایت ہے کہ میں نبی کریم کے پاس تھا اور آپ کے ساتھ حضرت علی بھی تھے۔پس نبی کریم نے فرمایا کہ اے علی !میری امت میں عنقریب ایسی قوم ہوگی جو اہل بیت سے محبت کا (جھوٹا)دعویٰ کرے گی ، ان کے لئے ہلاکت ہے ان کو رافضہ کہاجائے گاتم ان سے قتال کرنا کیونکہ وہ مشرک ہوں گے‘‘۔

پس اگر ان کا فساد ان کے قتل کے بغیر نہ جاتا ہو تو انہیں قتل کرد
ینا ہی بہتر ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں؛
((ولان علی بن ابی طالبؓطلب ان یقتل عبد اللّٰہ بن سبا اول الرافضۃ حتی ھرب منہ۔ولان ھؤلاء من اعظم المفسدین فی الارض فاذا لم یندفع فسادھم الابالقتل قتلوا))
(مجموعۃ فتاوی ابن تیمیۃؒ ،ج:۶،ص:۴۲۳)
۔"امیر المومنین علی بن ابی طالب نے عبد اللہ بن سبا کو بلا بھیجا ،جو سب سے پہلا رافضی تھا ، تاکہ اسے قتل کریں تو وہ بھا گ گیا!اور اس لیے کہ یہ لوگ زمین کے اوپر سب سے بڑے فسادی ہیں پس اگر ان کا فساد ان کے قتل کے بغیر نہ جاتا ہو تو انہیں قتل کردینا ہی بہتر ہے"۔!‘‘


اسماعیلی رافضیوں (یعنی بوہریوں اور آغاخانیوں ) کے بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فتویٰ

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں؛
والغالیۃیقتلون باتفاق المسلمین وھم الذین یعتقدون الالہیۃ والنبوۃ فی علی وغیرہ مثل النصریۃ والاسماعیلیۃالذین یقال لھم بیت صاد وبیت سین۔۔۔۔۔فان جمیع ھؤلاء الکفار أکفر من الیھود والنصاری
(مجموعۃ فتاوی ابن تیمیۃؒ ،ج:۶،ص:۴۲۱)
۔" غالی رافضہ مسلمانوں کے اتفاق کے ساتھ" واجب القتل" ہیں اور وہ ایسے ہیں جوحضرت علی کے بارے میں الوہیت اور نبوۃ کا عقیدہ رکھتے ہیں جیسے کہ النصیریۃ، الاسماعیلیۃ جنہیں ’’بیت صاد‘‘ اور ’’بیت سین‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔۔پس تمام ایسے لوگ کافر ہیں اور ان کا کفر یہودو نصاریٰ سے زیادہ سخت ہے‘‘۔

پس ثابت ہوا کہ بوہری فرقہ کوئی الگ فرقہ نہیں ہیں بلکہ رافضیت کی ہی ایک شکل ہےاور ان کا شمار سلف و صالحین نے روافض ہی میں کیا ہے ۔


عصر حاضر میں روافض کے تمام فرقوں کی حیثیت

اس وقت رافضیوں کی عظیم اکثریت چاہے ان کا تعلق رافضیوں کی کسی بھی فرقے سے ہو، پوری دنیا میں اہل السنۃ کے ساتھ محارب ہیں یعنی ان سے جنگ میں مصروف ہیں چاہے وہ جانی طور پرہو یا مالی طور پر یا لاجسٹک مدد کے صورت میں ۔

شام میں نصیری رافضیوں نے اہل السنۃ کا وہ قتل عام کیا کہ جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ۔عراق و پاکستان کے صفوی رافضیوں کا صلیبی امریکہ کے ساتھ ملک کر اہل السنۃ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا کسی سے پوشدیدہ نہیں ۔ایران کے علوی رافضیوں کی اہل السنۃ کے خلاف عراق وشام صفوی یا نصیری رافضیوں کی مددکرنا سارے عالم پر عیاں ہے ۔زیدی(حوثی ) شیعہ جن کو لوگ معصوم سمجھتے تھے ،ان کی اہل السنۃ سے عدوات یمن میں کھل کر سامنے آگئی کہ انہوں نے صلیبی امریکہ کی مدد سے یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت اکثر علاقے پر قبضہ کرلیا ۔اس کام میں ان کی کھل کر معاونت ایران کے علو ی رافضیوں نے کی ۔بوہری یعنی اسماعیلی رافضیوں نے پاکستان میں تجارت کےبنیادی اور کلیدی شعبوں پر یہود ونصاری کے آشیر باد سے اپناتسلط قائم کرلیا ہے ۔بوہری رافضیوں کی یہودیوں سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں ان کو جانے کی کھلی آزادی ہے ۔یہاں تک یہ یہودیوں کے دیوار گریہ تک جانے کی رسائی ہے تاکہ وہاں جاکر عبادت کرسکیں ۔بعض معتبر ذرائع کے مطابق یہودیوں کی اکثر خاندان پاکستان خصوصاً کراچی میں بوہری رافضیوں کے روپ میں رہ رہے ہیں۔گویا اس وقت رافضیوں کے تمام بڑے فرقے اہل السنۃ کے ساتھ محارب ہیں اور یہود نصاریٰ کے ساتھ مسلمانوں کے قتل عام اور مسلم علاقوں پر حملہ آور ہونے میں مکمل معاونت کررہے ہیں۔یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رافضیوں سےمتعلق فرماتے ہیں؛

والرافضۃ ھم معاونون للمشرکین والیھود والنصاری علی قتال المسلمین۔۔۔وکذلک فی الحروب التی بین المسلمین وبین النصاری بسواحل الشام قدعرف اھل الخبرۃ ان الرافضۃ تکون مع النصاری علی المسلمین وانھم عاونوھم علی اخذ البلاد ۔۔۔واذاغلب المسلمون النصاری والمشرکین کان ذالک غصۃ عند الرافضۃ واذاغلب المشرکون والنصاری المسلمین کان ذلک عیدا،ومسرۃ عند الرافضۃ
(الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیۃؒ ،ج:۵،ص:۲۴۸)

۔"اور ان (روافض)میں وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں پر کافروں کی معاونت کرتے ہیں۔۔۔اور رافضہ معاونت کرتے ہیں مشرکوں اور یہودو نصاریٰ کی مسلمانوں کے قتل عام کرنے پر۔۔۔اور اسی طرح ان (صلیبی) جنگوں میں جو مسلمانوں اور نصاریٰ کے درمیان ہوئیں شام کے ساحل پر ۔اہل خبر کے ہاں مشہور ہے کہ رافضہ مسلمانوں کے مقابلے میں نصاریٰ کے ساتھ ہوتے تھے اور مسلمانوں کے شہروں قبضہ کرنے میں نصاریٰ کی مدد کرتے تھے۔۔۔اور جب مسلمانوں کو نصاریٰ اور مشرکین پر غلبہ حاصل ہوتا تو رافضہ کے نزدیک یہ بات غصہ والی ہوتی اور اگر مسلمانوں پر مشرک اور نصاری غلبہ حاصل کرتے تو یہ بات ان کے لئے عید اور مسرت کا باعث ہوتی‘‘۔

لہذا عصر حاضر کے مذکورہ بالا رافضی فرقے اپنے عقیدے کے بناء پر نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج اور کافرو مرتد ہیں بلکہ اس وقت اہل السنۃ سے مشترکہ طور پر محارب ہونے کی وجہ سے واجب القتل بھی ہیں اور ان کا معاملہ اس وقت یہ ہوچکا ہے کہ جس کی طرف امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایاتھا؛


فاذا لم یندفع فسا
*عــرسِ رضـوی منـانـے بـریـلی چـلیـں*

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

غمـــزدو! مســکرانــے بـریلی چلیـں
نـور حق میں نہـانــے بـریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

جـــلوۂ شــــاہ لانــے بـریـلی چلیـں
اپنی قسمت بنـانــے بـریـلی چلیــں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

اے غریبو! سنو! اے فقیرو! سنو!
برکتیں گھـر میں لانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

آ گیا پھـر مبـارکــــــــ مہینـــہ وہی
عـرس رضـوی منـانـے بریـلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

آ گیاعرس رضوی کا موسم حسیں
غنچـــۂ دل کھلانــے بـریـلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

قـافلـے پھــر بریلی کو جـانـے لگـے
آؤ! ھـم بھی دیوانـے! بریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

قـافلــــہ رحمتـوں کا بھی آنــے لگا
رحمتیں حق سے پانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

در پہ احمـد رضـا خان کے، عاشقو!
عشق میـں دل لٹانـے بـریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

فخـر ازہـر کی ہو گی زیارت تمہیں
جـان و دل جگمـگانــے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

بارشِ نور و رحمت میں اے سنیو!
آؤ! آؤ! نہــانــے بـریــلی چلیـــــں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

رحمتوں، برکتوں کا ھـے دریا رواں
پیاس دل کی بجھانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

عشقِ احمـــد رضـا میں چلا قافلـہ
آؤ! ھـم بھی دیوانــے! بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

ہـر قـــدم پـر مسرت نظـر آئـے گی
غـم دلوں کے مٹـانـے بـریـلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

جھولیاں بھرکےلاتےہیں شاہ و گدا
در سے ھم بھیک پانے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

ہرطرف کفرکی آندھیاں ہیں چلِیں
دین و ایمــاں بچـانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

عشق میں کہہ رہا ھے یہ عرفان،کہ
فیضِ ســـــرکار پانـے بریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺
Forwarded from Mufti MD.Maqusood Aalaam
نوشاد صاحب نے مفتی ذوالفقار صاحب کی شان میں جو نازیبا کلمات بکا ھے اس سے اتناہی کہنا ھے کہ وہ آج بھی وہیں ہیں جہاں تھے اس خصائل سے متصفین کو نحو کی زبان میں مبنی کہا جاتا ھے ۔ جو ہرحال میں اپنے نصب العین پر برقرار رہتا ھے ۔ مفتی ذوالفقار صاحب نعیمی اس پر برقرار ہیں اور ان شا ء اللہ برقرار رہیں گے ۔ مگر تو اپنی حالت دیکھ تجھ میں تغیر و تبدل کی حالت کچھ زیادہ ہی پائ جاتی ھے اس صفت سے متصف افراد کو نحو کی زبان میں معرب سے تعبیر کیجاتی ہے جیسا عامل آتا ھے وہ جس طرح کا عمل کرنا چاہتا ھے معمول اس کو قبول کرتا ھے اس طرح اس کی حرکت بدلتی رہتی ھے ۔ مرکب اسی کا نام ھے جو عوامل کے اختلاف سے مختلف ھو ۔ تھوڑا اس جانب سے رخ ہٹادیں تو کہو نگا یہ ایک فاحشہ کی خصلت ھوتی ھے جو تجھ میں بدرجئہ اتم موجود ھے ۔ کل تک رضا رضا کیا ۔ چونکہ علم لینا تھا ۔ زبان لینی تھی جب لے چکا تو گم گشتئہ راہ کو اپنا سب کچھ سونپ دیا اب اس نے جیسا عمل کرنا چاہا کیا اس کے بعد وہابیہ ۔ دیابنہ عامل کی شکل میں آگیا ھے تو نے اس کو بھی قبول کرلیا ھے اب جیسا اس کا اثر ہورہا وہی رنگ تجھ میں جھلک رہا ھے بات صاف ھے کہ تو مفتی ذوالفقار صاحب نعیمی کی نہیں اپنی خصلت بیان کر رہا ھے ۔ پیٹ پالو تو ھے ۔ مگر الزام دوسروں کے سر رکھ رہا ھے ۔ اس آئینہ میں دیکھ لے تجھے مفتی ذوالفقار صاحب نعیمی کے چہرہ میں اپنا ہی چہرہ دکھائ دیگا ۔ تیری بات کو وہی لیگا جو تیری طرح عقل کا ٹور ھوگا ۔ تو ہمیشہ دلیل دلیل کی رٹ لگاتا ھے مگر تیرا مضمون مکمل دلیل سے خالی ھوتا ھے ۔ سوائے لن ترانی و الزام تراشی کی کبھی کچھ لکھا ھے ۔ جواب فقط نفی میں ھوگا ۔ سنجیدہ اور مہذب کلام کا بھی رٹ لگاتا ھے ۔ پیٹ پالو کا لفظ استعمال کرنا تیرے یہاں مہذب ھے ۔ خیر سے مفتی کے لفظ کا استعمال کرنا مہذب ھے ۔ فلاں فلاں کو کافر کہدیا کی جھوٹی روایات بیان کرنا مہذب اور استدلالی ھے ۔ کوئ دفاعی جواب دے تو اس کو بلاک کردینا تیری تہذیب ھے ۔ رضاخانی کہہ کر مخاطب کرنا ۔ گالی نہیں تیری تہذیب ھے ۔ مذکور کلمات گالی نہیں بلکہ تیراادب ھے ۔ مسلک اعلی حضرت کے اطلاق سے پہلے ماتریدیہ ۔ اشاعرہ ۔ حسینی ۔ جواز المسح علی الخفین ۔ اس سے قبل تفضیل الشیخین ۔ حب الختنین ۔ اس سے قبل ما انا علیہ و اصحابی ۔ تمسکو ا بسنتی و سنتہ الخلفا ء ۔ پھر مسلک اہلسنت ۔ قادری ۔ چشتی ۔ نقش بندی ۔ سہر وردی ۔ حنفی ۔ مالکی ۔ شافعی اور حنبلی ان سب علامات کو ھٹالو اس کے بعدبات کرنا مسلک اعلی حضرت کی ۔ یہ دلائل نظر نہیں آتے اس کو عصبیت کا عینک اتار کر دیکھیں اس کے بعد کلام کرنا۔ ورنہ لوگ اسلاف کو دیکھیں گے ۔ صدرالافاضل نے کیا کہا ۔ محدث اعظم نے کیا کہا ۔ شیر بیشئہ اھلسنت نے کیا کہا ۔ بلکہ تمام علماء عرب و عجم نے کیا کہا خود تم نے اس سے قبل کیا کہا وہ تیرے خرافات و بکواسات کی طرف کبھی نہیں جائیں گے کیونکہ شیطان بر غلا تا ھے ۔ مگر صالح بندہ دام فریب میں نہیں آتے ھیں ۔
🌻{{{ _*ISLAMIC QUIZ*_ }}}🌻

_*صفر المظفر _ October*_

_Date_ 2⃣4⃣_1⃣0⃣_2⃣0⃣1⃣7⃣

🎋🎋 *Tuesday. منگل* 🎋🎋

🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

🌻🌻 _*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*_🌻🌻


🌺💐🌺💐🌺💐🌺💐🌺💐🌺

🔄 *Aaj ka Sahi jawab*

🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷

👉🏻 _*OPTION(( A )) *_
*------------------------------------------*
🌐 _*Ans. :- (Pak Hai)*_

🕹 _*Huqqa Ka Pani Pak Hai* Agar Che Uske Rang,Boo Aur Maze Me Tagaiyur(Badlaw) Aa Jaye Us Se Wazoo Ja'ez Hai-BA'Qadre Kifayat Uske Hote Huye Tayammum Ja'ez Nahi_

*Note*. 🔴
Mas'lan Sara Wazoo Kar Liya Ek Pao'n Ka Dhona Baqi Hai Ke Pani Khatam Ho Gya Aur Huqqa Me Pani Itna Maujood Hai Ke Us Pao'n Ko Dho Sakta Hai To Use Tayammum Ja'ez Nahi 
Magar Wazoo Karne Ke Bad Agar Aza(Jism) Me Boo Aa Gayi To Jab Tak Boo Jati Na Rahe Masjid Me Jana Mana Hai Aur Waqt Me Gunja'ish Ho To Itna Waqfa Karke Namaz Padhe Ke Boo Ud(Khatam)Ho Jaye Aur Us Se Wazoo Karne Ka Hukam Us Waqt Diya Gya Ke Dusra Pani Na Ho Bela Zaroorat Us Se Wazoo(Karna) Na Chahiye




📖📖{ *Hawala* }📖📖
*------------------------------------------*
1⃣ _*Bahar E Shari'at*_

_*(Jild 1,Hissa 2,Page No 333)*_

2⃣ *Fatwa Razviya*
_*(Jild2,Page320)*_

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

_*Hamari Team Ka Sath Dene Ke Liye Aap Sabhi Ka Bahut Bahut shukriya*_

*Group Me Shamil Hone Ke Liye Hamare Is No Pe Message Send Kare'n*👇👇👇👇👇👇👇👇

{{{{{{{{{{{{ *Admins* }}}}}}}}}}}}}}

📱 +919634797724 +918340755932

~*:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::*~
ضرورت تھی چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کی خلاف 1292ھ/ 1876ء میں ایک رسالہ ’’الاقتصاد فی مسائل الجہاد‘‘ تحریر فرمایا جس پر بقول مسعود عالم ندوی حکومت برطانیہ نے مصنف کو انعام سے نوازا… (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 206)
آپ نے بار بار لفظ ’’اہل حدیث‘‘ سنا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس فرقے کو پہلے ’’وہابی‘‘ کہتے تھے۔ انگریزوں کی اعانت اور عقائد میں سلف صالحین سے اختلاف کی بناء پر برصغیر کے لوگ جنگ آزادی 1857ء کے بعد ان سے نفرت کرنے لگے‘ اس لئے وہابی نام بدلوا کر ’’اہل حدیث‘‘ نام رکھنے کی درخواست کی گئی… یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں : بنا بریں اس فرقے کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ (وہابی) کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کو استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے مخاطب کیا جائے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 207)

حکومت برطانیہ کے نام مولوی محمد حسین بٹالوی کی انگریزی درخواست کا اردو ترجمہ جس میں حکومت برطانیہ سے ’’وہابی‘‘ کی جگہ ’’اہل حدیث‘‘ نام منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ترجمہ درخواست برائے الاٹمنٹ نام اہل حدیث و منسوخی لفظ وہابی
اشاعۃ السنہ آفس لاہور
از جانب ابو سعید محمد حسین لاہوری‘ ایڈیٹر اشاعۃ و وکیل اہل حدیث ہند
بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ
میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا درخواست گزار ہوں۔ 1886ء میں‘ میں نے ایک مضمون اپنے ماہواری رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا تھا جس میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی و نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے‘ کااستعمال مسلمانان ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریزکے نمک حلال و خیر خواہ رہے ہیں‘ اور یہ بات (سرکار کی وفاداری و نمک حلالی) بارہا ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے‘ مناسب نہیں ۔ بناء بریں اس فرقہ کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ‘ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ (ہماری وفاداری‘ جاں نثاری اور نمک حلالی کے پیش نظر) سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال کی ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس مضمون کی ایک کاپی بذریعہ عرض داشت میں (محمد حسین بٹالوی) نے پنجاب گورنمنٹ کوبھی ارسال کی ہے تاکہ اس مضمون کی طرف توجہ دے اور گورنمنٹ ہند کو بھی اس پر متوجہ فرمادے اور فرقہ کے حق میں استعمال لفظ وہابی سرکاری خط و کتابت میں موقف کیا جاوے اور اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس درخواست کی تائید کے لئے اور اس امرکی تصدیق کے لئے کہ یہ درخواست کل ممبران اہل حدیث پنجاب و ہندوستان کی طرف سے ہے (پنجاب و ہندوستان کے تمام غیر مقلد علماء یہ درخواست پیش کرنے میں برابر کے شریک ہیں) اور ایڈیٹر اشاعتہ السنہ ان سب کی طرف سے وکیل ہے۔ میں (محمد حسین بٹالوی) نے چند قطعات محضرنامہ گورنمنٹ پنجاب میں پیش کئے‘ جن پر فرقہ اہلحدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے دستخط ثبت ہیں اور ان میں اس درخواست کی بڑے زور سے تائید پائی جاتی ہے۔ چنانچہ آنریبل سرچارلس ایچی سن صاحب بہادر (جو اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے) نے گورنمنٹ ہندکو اس درخواست کی طرف توجہ دلا کر اس درخواست کو باجازت گورنمنٹ ہند منظور فرمایا اور استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام ’’اہل حدیث‘‘ کا حکم پنجاب میں نافذ فرمایا جائے۔
میں ہوں آپ کا نہایت ہی فرمانبردار خادم ابو سعید محمد حسین ایڈیٹر ’’اشاعت السنہ) (اشاعۃ السنہ ص 24 تا 26 شمارہ 2‘ جلد 11)
یہ درخواست گورنر پنجاب سرچارلس ایچی سن کو دی گئی اور انہوں نے تائیدی نوٹ کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اور وہاں سے منظوری آگئی اور 1888ء میں حکومت مدراس‘ حکومت بنگال‘ حکومت یوپی‘ حکومت سی پی‘ حکومت بمبئی وغیرہ نے مولوی محمد حسین کو اس کی اطلاع دی۔

سرسید احمد خان نے بھی اس کا ذکر کیا ہے‘ وہ لکھتے ہیں : جناب مولوی محمد حسین نے گورنمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اس فرقے کو جو درحقیقت اہل حدیث ہے‘ گورنمنٹ اس کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے مخاطب نہ کرے‘ مولوی محمد حسین کی کوشش سے گورنمنٹ نے منظور کرلیا ہے کہ آئندہ گورنمنٹ کی تحریرات میں اس فرقے کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے تعبیر نہ کیا جاوے بلکہ ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاوے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 208)

غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی میاں نذیر احسین دہلوی) زمانہ عذر 1857ء میں جبکہ دہلی کے بعض مقتداء اور بیشتر مولویوں نے انگریز سے جہد کا فتویٰ دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پر دستخط کئے نہ مہر… وہ خود فرماتے تھے کہ میاں وہ ہلر تھا بہادر شاہی نہ تھا… وہ بے چارہ بوڑھا بہادر شاہ کیا کرتا…
بہادر شاہ کو بہت سمجھایا کہ انگریزوں سے لڑنا مناسب نہیں ہے‘ مگر وہ باغیوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہورہے تھے‘ کرتے تو کیا کرتے (الحیات بعد الممات صفحہ نمبر 125)

غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی میاں نذیر حسین کو شمس العلماء کا خطاب گورنمنٹ انگلشیہ کی طرف سے 22 جون 1891ء بمطابق 21 محرم الحرام 1315ھ بروز سہ شنبہ کو ملا (الحیات بعد الممات صفحہ نمبر 180)

غیر مقلد اہل حدیث اکابر مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی خود اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں تیس سال کامل سے متوسل وطن اس ریاست بھوپال کا ہوں اور ہمیشہ معزز و مکرم رہا۔ رئیسہ معظمہ (بھوپال) نے روجیت سے مجھے عزت و افتخار بخشا اور امر باطلاع گورنمنٹ عالیہ و حسب مرض سرکار انگریز ظہور میں آیا اور چوبیس ہزار روپیہ سالانہ اور خطاب ’’معتمہ الہامی‘‘ سے سرفرازی ہوئی۔ حکام عالی منزلت یعنی کار پروازان دولت انگلش کو تجربہ اس ریاست کی خیر خواہی اور وفاداری عموما اور اس سے صولت دولت (صدیق حسن خان بھوپالی) کا خصوصا ہوچکا ہے (ترجمان وہابیہ صفحہ نمبر 29,27,19,17)

امام ابو ہابیہ ثناء اﷲ امرتسری نے کلکتہ کے جلسے میں آپ نے اﷲ کا شکر ادا کرنے کے بعد انگریز حکومت اور انگریز حکام کا شکریہ ادا کیا اور پھر داعیان جلسہ کا پھر دعا مانگی (از کتاب: روئیداد اہلحدیث کانفرنس صفحہ نمبر 20)

غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی محمد حسین بٹالوی انگریز حکومت سے تعاون کے حق میں تھے اور بظاہر انگریزی نظام کے ثناء خواں بھی تھے (از کتاب: تحریک آزادی فکر صفحہ نمبر 107)

قارئین محترم : آپ نے تمام مستند حوالے ملاحظہ کئے‘ جس سے واضح ہوگیا کہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا انگریزوں سے بہت پرانا رشتہ ہے‘ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انگریزوں سے مال اور اسلحہ کی صورت میں مدد لے کر اسلام اور اسلامی قوانین کو نقصان پہنچایا اور مزید پہنچا رہے ہیں۔
اگر ہیلری کلنٹن کا بیان غلط ہے تو پھر اس کے بیان کے بعد دنیائے وہابیت کے کسی وہابی‘ دیوبندی مولوی نے اس بیان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا ؟
21 مئی سے لے کر اب تک کسی اخبار میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے بیان کی وہابیوں نے مذمت کیوں نہیں کی ؟
ہم دنیائے وہابیت کی پراسرار خاموشی کو کیاسمجھیں ؟
انگریز کا ایجنٹ یا ان کا آلہ کار ؟

اس طرح کا واضع غیر مبہم ثبوت دو

اسماعیل دہلوی انگریز کا ایجنٹ تھا : جس وقت بر صغیر کے مسلمان انگریزی حلومت کے خلاف جہاد کے لئے بے قرار تھے علماء کا ایک گروہ جسے مولانا فضل حق خیر آبادی کی حمایت حاصل تھی جہاد کا فتوی دے چکا تھا - اس دور میں علماء سوء کا ایک طبقہ انگریز کی حمایت میں سرگرم عمل تھا چنانچہ کلکتہ کے جلسہ عام میں جب 1 شخص نے اسماعیل دہلوی سے دریافت کیا کہ انگریزوں کے خلاف آپ جہاد کا فتوی کیوں نہِں دیتے تو اس وقت انہوں نے جو جواب دیا وہ مرزا حیرت دہلوی کی زبانی سنَے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جہاد کسی طرح واجب نہیں ہے ایک تو ہم ان کی رعیت ہیں دوسرا وہ ہمیں عبادت سے نہیں روکتے ہمیں انکی حکومت میں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے بلکہ اگر انگریزوں پر جو حملہ آور ہو تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ حملہ آور سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں ۔(حیات طیبہ طبع قدیم صفحہ 364)

.ایک اور مقام پر مرزا حیرت دہلوی : مولوی اسماعیل دہلوی کا موئقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : مولوی اسماعیل صاحب نے اعلان کر رکھا تھا کہ انگریزی سرکار کے خلاف جہاد نہ مذہبی طور پر واجب ہے اور نہ ہی ہمیں ان سے کچھ مخاصمت{جگڑا} ہے ۔ (حیات طیبہ طبع قدیم صفحہ 201})

اور اب سید احمد بریلوی کے انگریزوں کے ایجنٹ ہونے پر ثبوت ملاحظہ فرمایئں
مولانا محمد جعفر تھانیسیری لکھتے ہیں : کہ سید احمد نے اپنے جہاد کی حقیقت واضع کرتے ہوئے کہا ؛ سرکار انگریز گو منکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر لوئی ظلم نہیں کرتی اور نہ ان کو عبادات سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے ہیں انہوں نے کبھی منع نہیں کیا تو پھر ہم سرکار انگریز کے خلاف کس وجہ سے جہاد کریں ۔ (حیات سید احد شہید صفحہ 171)
مزید لکھتے ہیں : سید صاحب کا انگریزی سرکار سے جہاد کرنے کا ارادہ ہی نہیں تھا
(حیات سیداحمد شہید صفحہ 293)

سرسید احمد خان اپنے مقلالات میں لکھتے ہیں : اور یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ وھابی اپنے مذہب میں بڑے پکے ہوتے ہیں اور جن دو شخصوں کی نسبت میں لکھ رہا ہوں وہ{جہاد پر جاتے ہوئے} اپنے بال بچوں اور مال اسباب کو گورنمنٹ انگریزی کی حفاظت میں چھوڑ کر گئے تھے اور ان کے مذہب میں اپنے بال بچوں کے محافظوں پر حملہ کرنا ممنوع ہے اگر وہ حملہ کرتے تو جنت سے حروم ہو جاتے ۔(مقالات سرسید حصہ نہم صفحہ 148)

اسی موضوع پر مرزا حیرت : نے سید احمد شہید کا ایک ایسا واقعہ لکھا ہے جس کی کسی غیور مسلمان سے توقع نھیں کی جا سکتی : مرزا حیرت لکھتے ہیں :
1231ء تک سید احمد صاحب امیر خان کی ملازمت میں رہے مگر ایک ناموری کا کام آپ نے یہ کیا کہ انگریزوں اور امیر خان کی صلح
کرا دی اور آپ ہی کے ذریعے سے جو شہر بعد ازاں دئے گئے اور جن پر امیر خان صاحب کی اولاد حکمرانی کرتی ہے دینے طے پائے تھے لارڈ ہستنگ سید احمد صاحب کی بے نظیر کارگزاری سے بہت خوش تھا - { صلح کے وقت }دونوں لشکروں کے بیچ میں خیمہ کھڑا کیا گیا اور اس میں تین آدمیوں کا باہم معاہدہ ہوا - امیر خان لارص ہیستنگ اور سید احمد صاحب - سید احمد صاحب نے امیر خان کو بڑی مشکل سے شیشہ میں اتارا تھا ، آپ نے اسے یقین دلایا تھا کہ انریزوں سے مقابیلہ کرنا اور لڑنا بھڑنا اگر تمہارے لئے برا نہیں تو تمہاری اولاد کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ' یہ ناتیں امیر خاں کی سمجھ میں آگئی تھیں اور اب وہ اس بات پر رضا مند تھاکہ گزارہ کے لئے کچھملک مجھے دے دئے جائیں تو میں بآرام بیٹھوں - امیر خان نے ریاستوں اور ان کے ساتھ انگریزوں کا بھی ناک میں دم کر رکھا تھا آخر 1 بڑے مشورے کے بعد سید احمد صاحب کی کارکردگی سے ہر ریاست سے کچھ حصہ دے کر معاہدہ کر لیا جیسے جے پور سے سے کوتک تاک دلوا دیا بھوپال سے سرونج - اسی طرح بڑی قیل و قال کے بعد انگریزون سے دلوا کر بپھرے ہوئے شیر کو پنجرے میں بند کر دیا ۔
(حیات طیبہ مطبوعہ مکتبۃ السلام صفحہ 513-514)

سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے جہاد کی حقیقت : ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے نتیجے میں ہندوستانیوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً ان کے خلاف بے چینی اور بغاوت کا ماحول پیدا ہوتا رہا‘ جو 1857ء میں ایک منظم پیمانے پر میرٹھ کی چھائونی سے شروع ہوکر ہندوستان کے دیگر خطوں میں بھی پہنچ گیا۔ اس سلسلے میں ہندو قوموں کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں اور علمائے کرام کی کوششیں بھی مسلسل آزادی کے حصول تک جاری رہیں۔ متعصب تاریخ نگاروں نے جب ان حالات اور ماحول کا نقشہ اپنے طور پر پیش کیا تو حقائق کے ماتھے پر سیاہی پوت کر تعصب اور تنگ نظری سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں کے کردر کو بالکلیہ ختم کردینے کا ناپاک جرم کیا۔ اس پہلو کا دوسرا رخ یہ سامنے آیا کہ سواداعظم اہلسنت سے خارج علماء جنگ آزادی کا سارا کردار اپنے نام کرنے لگے اور علمائے اہلسنت کے مقتدر مجاہدین آزادی کو انگریز نوازوں کی فہرست میں شمار کروانے لگے یا پھر اپنی جماعت کا فرد بنا کر علمائے اہلسنت کے عظیم کارناموں کے نشانات پر مٹی ڈالنے کی ننگی جرات ہی کر بیٹھے۔ اب ان حالات میں ضروری ہے کہ اصل واقعات سے قوم کو روشناس کرایا جائے اور بازار سیاست کے دلالوں کے سامنے حقیقی صورتحال پیش کردی جائے تاکہ آج جو غدار وطن کا بدنما داغ اقتدار کے زور پر ہماری پریشانیوں پر مڑھا جارہا ہے‘ اس کا بے بنیاد ہونا معلوم ہوجائے.
سید احمد اور شاہ اسماعیل کے تعلق سے پورا دیوبندی مکتب فکر مسلسل تحریر و تقریر کے ذریعہ یہ ذہن دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی اور جہادی سرگرمیوں میں سارا رول ان ہی کا ہے اور انہوں نے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کے لئے وعظ کے ذریعہ منظم کرنے کے بعد جنگیں کیں اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے‘ جبکہ سچائی اس کے برعکس ہے۔ بلکہ یہ دونوں اور ان کے دیگر حامی و متبعین انگریزوں کے وظیفہ خوار اور مکمل ہم نوا تھے۔ اس سلسلے میں خود افراد خانہ کی بیشمار شہادتیں موجود ہیں‘ جن میں سے چند ایک ہدیہ قارئین ہیں۔
سیاسی مصلحت کی بناء پر سید احمد صاحب نے اعلان کیا کہ سرکار انگریز سے ہمارا مقابلہ نہیں اور نہ ہمیں اس سے کچھ مخاصمت ہے۔ ہم صرف سکھوں سے اپنے بھائیوں کا انتقام لیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ حکام انگلشیہ بالکل باخبر نہ ہوئے اور نہ ان کی تیاری میں مانع آئے (حیات طیبہ‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 260)

سید صاحب کے پاس مجاہدین جمع ہونے لگے‘ سید صاحب نے مولانا شہید کے مشورے سے شیخ غلام علی رئیس الہ آبادی کی معرفت لیفٹیننٹ گورنر ممالک مغربی شمالی کی خدمت میں اطلاع دی کہ ہم لوگ سکھوں سے جہاد کرنے کی تیاری کرتے ہیں‘ سرکار کو تو اس میں کچھ اعتراض نہیں ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے صاف لکھ دیا کہ ہماری عملداری میں امن میں خلل نہ پڑے تو نہیں‘ آپ سے کچھ سروکار نہیں‘ نہ ہم ایسی تیاری میں مانع ہیں۔ یہ تمام بین ثبوت صاف اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ جہاد صرف سکھوں سے مخصوص تھا‘ سرکار انگریزوں سے مسلمانوں کو ہرگز مخاصمت نہ تھی‘‘ (حیات طیبہ‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 523)

اس تعلق سے مولانا جعفر تھانیسری کی تحریر اس طرح ہے : سید صاحب کا انگریزی سرکار سے جہاد کرنے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔ وہ اس وقت آزاد عمل داری کو اپنی ہی عمل داری سمجھتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ سرکار انگریز اس وقت سید صاحب کے خلاف ہوتی تو ہندوستان سے سید صاحب کو کچھ بھی مدد نہ ملتی‘ مگر سرکار انگریزی اس وقت دل سے چاہتی تھی کہ سکھوں کا زور کم ہو‘‘ (حیات سید احمد شہید‘ ص 293)

سرسید بھی اس واقعات کی طرف عنان قلم موڑتے ہوئے بالکل ملتی جلتی باتیں لکھتے ہیں‘ جن سے سید احمد رائے بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے جہادی کارناموں کا سراغ بہ آسانی لگایا جاسک
👍1
تا ہے۔
سید احمد صاحب نے پشاور پر پھر سکھوں کا قبضہ ہونے کے بعد اپنے ان رفیقوں سے جو جہاد میں جان دینے پر آمادہ تھے‘ یہ کہا کہ تم جہاد کے لئے بیعت شروع کرلو‘ چنانچہ کئی سو آدمی نے اسی وقت بیعت کی اور یہ بات تحقیقی ہے کہ جو شخص شیر سنگھ کے مقابلے میں لڑائی سے بچ رہے تھے‘ ان میں صرف چند آدمی اپنے پیشوا سید احمد صاحب کی شہادت کے بعد مولوی عنایت علی اور ولایت علی ساکن پٹنہ ان کے سردار ہوئے‘ لیکن انہوں نے جہاد کے فرائض انجام دینے میں کچھ کوشش نہیں کی اور جب پنجاب پر گورنمنٹ انگریز کا تسلط ہوا تو مولوی عنایت علی اور ولایت علی مع اپنے اکثر رفیقوں کے 1847ء میں اپنے گھروں کو واپس بھیج دیئے گئے‘ پس اس سے ہم کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ خاص پٹنہ یا بنگالہ کے اور ضلعوں شے بلکہ عموما ہندوستان سے روپے اور آدمی اس وہابیت کے پہلے تین زمانوں میں ضرور سرحد کو بھیجے گئے تھے۔ لیکن میری رائے میں یہ بات بہت کھلی ہوئی ہے کہ ان میں سے کوئی آدمی انگریز گورنمنٹ پر حملہ کرنے کے واسطے ہرگز نہیں گیا تھا اور نہ ان سے یہ کام لیا گیا اور نہ تین زمانوں میں سے کسی کو اس کا کچھ خیال ہوا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی نیت بغاوت کی جانب مائل ہے۔ (مقالات سرسید حصہ نہم 145-146)

جب مولوی عنایت علی اور ولایت علی 1847ء کو ہندوستان لوٹ آئے تو اس وقت سید احمد صاحب کے چند پیروکار سرحد پر باقی رہ گئے تھے اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ ان دو شخصوں نے پٹنہ اور اس کے قرب و جوار کے آدمیوں کو اس کی ترغیب دینے میں ہرگز کوتاہی نہیں کی کہ وہ جہاد میں شریک ہوں اور یہ اس کام کے واسطے روپیہ جمع کریں۔ چنانچہ وہ برابر بڑی سرگرمی سے کوشش کرتے رہے اور جس بات کا اب تک ان کو دل سے خیال تھا‘ اس کا اظہار انہوں نے 1851ء میں اس طرح صحیح ہے‘ کیا کہ وہ پھر ہندوستان سے سرحد کی جانب چلے گئے‘ مگر ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے خیال کیا کہ یہ لوگ دوبارہ سرحد کو انگریزوںپر حملہ کی نیت سے گئے تھے اور انہوں نے بجائے سکھوں کے انگریزوں پر جہاد کیا تھا۔ حالانکہ جب ان لوگوں کو انگریزوں سے کسی طرح کی شکایت نہ تھی تو پھر ان کا ارادہ کسی طرح پر صحیح نہیں ہوسکتا‘‘ (مقالات سرسید حصہ نہم ص 147)

اس پر تھوڑی اور روشنی ڈالتے ہوئے سرسید اک رواں قلم سرخ لکیر کھینچتا ہوا نظر آتا ہے جس سے سید احمد رائے بریلوی کا کردار پوری طرح لہولہان نظر آتا ہے۔
اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ یہ وہابی اپنے مذہب میں بڑے پکے‘ نہایت سچے ہوتے ہیں اور اپنے اصول سے کسی حال میں منحرف نہیں ہوتے اور جن شخصوں کی نسبت میں یہ لکھ رہا ہوں‘ وہ اپنے بال بچوں اور مال و اسباب کو گورنمنٹ انگریزی کی حفاظت میں چھوڑ گئے تھے اور ان کے مذہب میں اپنے بال بچوں کے محافظوں پر حملہ کرنا نہایت ممنوع ہے‘ اس لحاظ سے اگر وہ انگریزوں سے لڑتے اور لڑائی میں مارے جاتے تو وہ بہشت کی خوشبوئوں اور شہادت کے درجہ سے محروم ہوجاتے‘ بلکہ اپنے مذہب میں گناہ گار خیال کئے جاتے (مقالات سرسید حصہ نہم ص 148)

مذکورہ اقتباسات کی بنیاد پر دیوبندی جماعت کے پیشوا سید احمد رائے بریلوی کو انگریز نوازوں کی پہلی فہرست اور بانیوں میں شمار کرنا تاریخی سچائی ہے اور اس میں کوئی جرم نہیں کہ انہیں انگریزوں کا کھلا ہوا معاون اور ناصر گردانا جائے‘ جبکہ ان شکستہ حالات ‘ فریاد کناں ماحول میں علمائے اہلسنت اپنے وطن کی آزادی کے لئے پوری طرح انگریزی افواج کے خلاف صف آراء اور تحریر و تقریر کے ذریعہ عام ہندوستانیوں کو انگریزوں کے خلاف متحد کررہے تھے‘ جس کے نتیجے میں قیدوبند کی صعوبتوں کے ساتھ جان و مال کے اتلاف کا شکار بنتے رہے۔
انگریز نوازی کے ایسے واقعات سے خود سید احمد کے ماننے والوں ہی کی کتابیں شور محشر جیسا ماحول پیش کرتی ہیں اور بعد کے متبعین کی جھوٹی کہانی کا کھلا مذاق اڑاتی ہیں۔ سوانح احمدی‘ مخزن احمدی‘ نقش حیات‘ الدرالمنثور وغیرہ کی عبارتیں بھی سید صاحب کے جہاد کو انگریز مخالف برسر پیکار طاقتوں کے خلاف بتاتی ہیں مگر اس جماعت کے شرپسندوں نے تاریخ نگاری کی روایت پر فرنگی ظلم کرتے ہوئے تاریخ سازی کی نئی طرح ایجاد کرکے یہ بتادیا کہ جھوٹی شہیدی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اب جھوٹی تاریخ کا سبق بھی عام کریں گے۔ حالانکہ سید احمد کے عہد کے قریبی مورخین وہی باتیں لکھتے رہے جو علمائے اہلسنت بتاتے رہے ہیں۔ مگر بعد کے مورخین نے اپنی جماعت کے اکابرین کا دامن الجھتا دیکھ کر دروغ گوئی سے تاریخ کے صفحات پاٹ دیئے۔
سید احمد کے جہادی پہلو کے سلسلے میں مندرجہ ذیل اقتباس بھی کافی واضح ہے۔
’’سرکار انگریز گو منکر اسلام ہے‘ مگر مسلمانوں پر کوئی ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرائض مذہبی اور عبادات لازمی سے روکتی ہے‘ ہم ان کے ملک میں اعلانیہ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع و مزاحم نہیں ہوتی‘ بلکہ اگر ہم پرکوئی ظلم و زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہے‘ پھر ہم سرکار انگریز پر کس سبب سے جہاد کریں اور اصول مذہب کے خل
اف بلاوجہ طرفین کا خوف گرادیں‘‘ (حیات سید احمد شہید‘ ص 171)
فرانس کے مشہور مستشرق گارسن وتاسی کی کتاب تاریخ ادب اردو کی تلخیص طبقات الشعرائے ہند‘ ص 295‘ مطبوعہ 1848‘ میں سید صاحب کے تعلق سے موجود ہے کہ
’’بیس برس کا عرصہ ہوا کہ وہ سکھوں کے خلاف جہاد کرتا ہوا مارا گیا۔
یہی بات دوسرے لفظوں میں نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے ترجمان وہابیہ میں بھی لکھی ہے کہ : حضرت شہید کا جہاد انگریزوں کے خلاف نہ تھا ۔
(ترجمان وہابیہ‘ ص 12-88)
یہی حال شاہ اسماعیل کا بھی تاریخ کے صفحات پر نظر آتا ہے۔ خود وہابی نظریات کے حامل قلم کاروں اور ان کے عہد کے قریبی تذکرہ نگاروں نے ان کی انگریزی سے قربت اور وفاداری کے لڈو ہر خاص و عام کو بانٹے ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 1857ء کے وقت وہابی‘ دیوبندی جماعت کا وجود ہی نہیں تھا۔ لہذا یہ کہناکہ اکابر دیوبند نے جنگ آزادی میں اہم رول ادا کیا۔ انگریزوں کے خلاف جہاد کا بگل بجایا‘ شدید ترین ناانصافی اور زیادتی ہے۔ اس کے برعکس علامہ فضل حق خیرآبادی‘ مفتی صدر الدین آزردہ‘ مولانا کفایت علی کافی مراد آبادی‘ مولانا فیض احمد عثمانی بدایونی‘ مولانا احمد اﷲ شاہ مدراسی‘ مولانا وہاج الدین مراد آبادی‘ مولانا لیاقت علی الہ آبادی اور دوسرے علمائے کرام نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا اور عام مسلمانان ہند کو بیدار کیا۔ مگر علمائے سو کا یہ طبقہ پوری چاپلوسی کے ساتھ انگریزی حمایت میں قولاً و عملاً سرگرم رہا‘ جس کی گواہی خود افراد خانہ نے ہی دے دی ہے۔ کلکتہ کے جلسہ عام میں جب ایک شخص نے شاہ اسماعیل سے پوچھا کہ انگریزوں کے خلاف آپ جہاد کا فتویٰ کیوں نہیں دیتے تو شاہ صاحب نے فرمایا:ان پر جہاد کرنا کسی طرح واجب نہیں‘ ایک تو ان کی رعیت ہیں‘ دوسرے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست درازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح آزادی ہے‘ بلکہ ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں‘‘ (حیات طیبہ‘ طبع قدیم ص 364)
مرزا حیرت دہلوی کی یہ بھی تحریر ملاحظہ ہو:مولوی اسماعیل نے اعلان کررکھا تھا کہ انگریزی سرکار پر نہ جہاد مذہبی طور پر واجب ہے نہ ہمیں اس سے کچھ مخاصمت ہے‘‘ (حیات طیبہ ص 201)
اس تعلق سے سرسید نے بھی انتہائی واضح الفاظ استعمال کرکے انگریز نوازی کا سرا پول کھول دیا۔اس زمانے میں مجاہدین کے پیشوا سید احمد صاحب تھے۔ مگر وہ واعظ نہ تھے ۔واعظ مولوی محمد اسماعیل صاحب تھے‘ جن کی نصیحتوں سے مسلمانوں کے دلوں میں ایک ایسا ولولہ خیز اثر پیدا ہوتا تھا جیسا کہ بزرگ کی کرامت کا اثر ہوتا ہے۔ مگر اس واعظ نے اپنے زمانہ میں کبھی کوئی لفظ اپنی زبان سے ایسا نہ نکالا جس سے ان کے ہم مشربوں کی طبیعت ذرا بھی برافروختہ ہو‘ بلکہ ایک مرتبہ کلکتہ میں سکھوں پر جہاد کرنے کا وعظ فرما رہے تھے۔ اثنائے وعظ میں کسی شخص نے ان سے دریافت کیا کہ تم انگریزوں پر جہاد کرنے کا وعظ کیوں نہیں کہتے‘ وہ بھی تو کافر ہیں؟ اس کے جواب میں مولوی اسماعیل دہلوی نے کہا کہ انگریزوں کے عہد میں مسلمانوں کو کچھ اذیت نہیں ہوتی اور چونکہ ہم انگریزوں کی رعایا ہیں۔ اس لئے ہم پر اپنے مذہب کی رو سے یہ بات ہے کہ انگریزوں پر جہاد کرنے میں ہم کبھی شریک نہ ہوں‘‘ (مقالات سرسید حصہ نہم ص 141,42)۔
*کیا بریلوی کوئی نیا فرقہ ہے*


کیا اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی واقعی صرف پاکستان ھندوستان میں ہیں؟؟؟؟؟
ایک دوست نے سوال پوچھا دل نے چاہا کہ تھوڑی سی تحقیق آپ تک پہنچا دی جائے
پہلی نا انصافی یہ ہے کہ ہمیں بد مزاہب آدھے نام سے یا حقیقی نام اہلسنت و جماعت کے بجائے ایک مخصوص علاقے تک محدود کرنے کے لیے بریلوی کے لفظ سے یاد کرتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ بریلویت ایک مسلک یا ایک فرقہ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور ہندوستان میں موجود اکثریت کی ایک نسبت کا نام ہے
بریلویت بزات خود ایک نظریے اور ایک سوچ کا نام ہے جو اعلی حضرت ٰ سے ہوتی ہوئی انکے ماننے والوں کے اندر منتقل ہوئی جسکی بنیاد 1400 سالہ پرانی ہے اور جو لوگ اعلیٰ حضرت کو نہیں جانتے یا ان سے نسبت نہیں رکھتے ضروری نہیں کہ وہ بریلوی نظریات کے منکر ہوں کچھ لوگ پوری دنیا کے مسلمانوں کے نظریات کو بریلویت کے نظریات سے الگ ثابت کرنے کے لیے اس علاقے کے نام کو کیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں بریلوی صرف ہندوستان پاکستان میں ہیں اصول تو یہ تھا کہ بریلوی نظریات کو پوری دنیا سے الگ ثابت کیا جاتا تاکہ دنیا کو معلوم ہوتا کہ بریلویت ایک نیا فرقہ ہے لیکن یہ اتنا ہی مشکل تھا جتنا ہاتھی کو سوئی کی نوک سے گزارنا جسکی وجہ سے امت مسلمہ کے مخالفین نے ہمیں علاقوں کی نسبت میں بانٹ کر اپنی دوکانداری چلانے کی کوشش کی
آئیں ہم آپ پر ثابت کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو بریلوی نہ کہنے والے بھی درحقیقت بریلوی نظریات رکھتے ہیں جو 1400 سالہ پرانے ہیں ۔
اس سلسلے میں ہم اس عید جیسے بڑے ایشو کو سامنے رکھتے ہیں جس پر ہم بریلویوں سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ دین مکمل ہے تو تم بریلویوں نے یہ تیسری عید میلادالنبی کہاں سے نکال لی اب یہاں یہ سوال ہم پوری دنیا سے اور خاص طور پر ان 47 ممالک کے لوگ جو سرکاری طور پر عید میلادالنبی بھی مناتے ہیں اور جلوس بھی نکالتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ جب تم بریلوی نہیں تو یہ بریلوی نظریات آپ نے کہاں سے لے لیے کہیں ایسا تو نہیں کہ پوری دنیا میں صرف 100 سال میں بریلویت نے انقلاب برپا کر دیا اور بقول ہمارے مخالفین کے 1300 سالہ نظریات کو بدل کر پوری دنیا کے چپے چپے پر بریلوی نظریات لاگو کر دیے
یا پھر دوسری بات کہیں ایسا تو نہیں کہ بریلویت نے 1300 سالہ تاریخ کے نظریات کو مان کر اپنے آپ کو صحیح العقیدہ مسلمان بنایا ہو فیصلہ آپ کریں

پوری دنیا میں 47 ممالک ایسے ہیں جہاں بریلوی (نظریات)عید میلادالنبی پر سرکاری چھٹی مناتے ہیں اسکے علاوہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں بریلوی نہ رہتے ہوں
جن ممالک میں بریلوی عید میلاد النبی کی سرکاری چھٹی مناتے ہیں ان میں
افریقہ کے 54 ممالک میں سے 25 ممالک
( Algeria, Benin, Burkina Faso, Cameroon, Comoros, Côte d'Ivoire, Djibouti, Egypt, Eritrea, Ethiopia, Gambia, Guinea, Libya, Mali, Mauritania, Morocco, Niger, Nigeria, Senegal, Sierra Leone, Somalia, Sudan, Tanzania, Tunisia, Togo)
عرب ممالک کے 14 میں سے 11 ممالک
( Bahrain, Iran, Iraq, Jordan, Kuwait, Lebanon, Oman, Palestinian National Authority, Syria, United Arab Emirets/UAE, Yemen)
ایشیا کے 9 ممالک
( Afghanistan, Bangladesh, Brunei, India, Indonesia, Pakistan, Malaysia, Sri Lanka, Uzbekistan)
اسکے علاوہ فیوجی اور گیانا میں بھی سرکاری طور پر تمام بریلوی عید میلادالنبی مناتے ہیں 80 لاکھ افریقن بریلویوں کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیں
(حالانکہ ان ممالک میں بہت سارے ممالک تو مسلمان بھی نہیں پھر بھی وہ امت مسلمہ کی سواد بریلویت کے جزبے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرکاری چھٹی کا اعلان کرتے ہیں جن ميں انڈیا فیوجی گیانا سری لنکا تنزانیہ اور مالی وغیرہ)
اسکے علاوہ بھی پوری دنیا کے کونے کونے میں موجود بریلوی نظریات کے لوگ عید میلادالنبی منا کر ان لوگوں پیغام دیتے ہیں جنکی تعداد ہمارے گلی محلوں میں گھومنے والے آوارہ کتوں سے زیادہ نہیں کہ ہم سب ایک اہلسنت ہیں چاہے تم ہمارے صحیح العقیدہ مسلمان بھائیوں کو سنی کہو چاہے بریلوی
اب اگر کوئی کہے کہ پوری دنیا بے شک میلاد مناتی ہے مگر بریلوی نہیں بلکہ وکٹورین یا دیوبندی ہیں تو دو پھر واضح ہوگیا کہ امت مسلمہ اس کام پر جمع ہو گئی ہے جو یقیناً گمراہی نہیں ورنہ امت محمدیہ کبھی بھی بقول خارجیوں کے کہ یہ گمراہی ہے اس برے یا گمراہی والے فعل پر جمع نہیں ہوتی کیونکہ واضح صحیح حدیث موجود ہے کہ امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی اب اگر دوسرا رخ لیں اور کہیں کہ نہیں جی اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی کے علاوہ پوری دنیا میں کوئی بھی میلاد نہیں مناتا تو اسکا مطلب ہوا کہ اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی ہی سواد اعظم ہے جو پوری دنیا کے کونے کونے میں موجود ہے اب خارجی اپنے دھرم کی موت کے لیے ایک راستہ چن لیں یا تو وہ ہمارے میلاد کو جلوس کی شکل میں منانے کو جائز کہیں یا
*لاکھوں سلام اور لاکھوں درود کہنے سے کتنے درود وسلام کا ثواب ملتا ہے*

محققِ مسائلِ جدیدہ حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی مدظلہ العالی کے ایک مصدقہ فتوے میں ہے:
سوال:
محض ایک بار ”مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام“ اور ”کعبے کے بدرالدجی تم پہ کروڑوں درود“ کہنے سے حضور سرورِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر لاکھوں سلام اور کروڑوں درود پہنچ جاتا ہے..؟
الجواب:
محض ایک بار ”مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام“ اور ”کعبے کے بدرالدجی تم پہ کروڑوں درود“ کہنے سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر لاکھوں سلام اور کروڑوں درود پہنچ جاتا ہے۔
(فتاوی مرکزِ تربیتِ افتا، ج2، ص349، 351، فقیہ ملت اکیڈمی، الہند)

علامہ ابن حجر ہیتمی مکی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”فرمان مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے: ”جس نے مجھ پر پچاس مرتبہ درود پاک پڑھا میں کل بروزِ قیامت اس سے مصافحہ فرماؤں (یعنی ہاتھ ملاؤں) گا“ حضرت ابو مطرف رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ پچاس مرتبہ پڑھنے کا طریقہ کیا ہے..؟ فرمایا: ”اگر کوئی یوں کہے ”اللھم صل علی محمد خَمْسِیْنَ مَرَّۃ“ یعنی: اے اللہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر پچاس مرتبہ درود بھیج، تو ان شاءالله عزوجل یہ پچاس مرتبہ کے لیے کافی ہوگا، اور اگر ایک ایک کر کے پچاس مرتبہ پڑھے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔“
علامہ ہیتمی رحمۃاللہ تعالى علیہ مزید لکھتے ہیں: ”ان کی اس بات کی تائید اس حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے کہ رحمتِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں دیکھا کہ تسبیح پڑھ رہی ہیں اور کنکریوں کے ذریعے شمار کر رہی ہیں، اس پر نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک کلمہ بتاتا ہوں جو تمہاری پڑھی ہوئی تمام تسبیحات کے برابر ہے، وہ یہ ہے: «سبحان اللہ وبحمده عَدَدَ خَلْقِهِ» یعنی: اللہ عزوجل کی پاکی اور اس کی حمد اتنی تعداد میں جتنی مخلوق ہے“ یہ حدیث پاک اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جس نے یوں کہا: «اللھم صل علی محمد اَلْفَ مَرَّۃٍ» یا یوں کہا: «اللھم صل علی محمد عَدَدَ خَلْقِکَ» یعنی: اے اللہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر ایک ہزار مرتبہ درود بھیج، یا اپنی مخلوق کے برابر درود بھیج، تو اس کے نامہ اعمال میں اس ایک جملے کے بدلے میں ایک ہزار درود پاک یا تمام مخلوق کے برابر درود پاک لکھے جائیں گے۔“
(الدُرُّ المَنضود، ص179، 180، دارالمنھاج)
📝چومنےکےمتعلق جامع تحریرضرور پڑھیں 📝

نجدی کا اعتراض:
چومنا شرک ھے

سنی کاجواب :
معلوم ھوا نجدی کوشرک کابخار ھواھے لیکن نجدی کو شرک کی تعریف نہیں آتی اگر شرک کی تعریف آتی تونجدی یہ بات نہ کرتا کیونکہ چومناتوشرک کی جڑیں کاٹتاھے اس لئے کہ اللہ عزوجل کو چوم نہیں سکتےاور جس کوچوماجائےوہ اللہ نہیں ھوتا ھم اللہ عزوجل کےپیاروں کےھاتھ چوم کریہ ثابت کرتے ھیں کہ یہ اللہ نہیں ھیں جواللہ عزوجل ھےوہ چوما نہیں جاتا .
دلیل.1.مفہوم ) نبی کریم علیہ السلام اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں (ایک محبت سے دوسرے ادب سے) ایک دوسرے کے ھاتھ چوما کرتے تھے.
📒حوالاجات : امام بخاری کی کتاب الادب المفردصفحہ138 . ابوداؤد شریف جلد2صفحہ218 . مشکوۃ شریف صفحہ402 . حجۃ البالغہ جلد2صفحہ148 . مدارج النبوت جلد2صفحہ543.542
.
نجدی اعتراض .
ھاتھ چوم سکتے ھیں پاؤں چومنے کی کیا دلیل ھے؟

سنی کا جواب:
حضرت ذراع رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں کہ ھم وفدعبدالقیس میں شامل تھے جب ھم مدینہ شریف میں آئےتوجلدی جلدی اپنی سواریوں سےاترےاورنبی کریم علیہ السلام کے ھاتھوں اورپاؤں کوچومنےلگے.
📒حوالاجات:ابوداؤدشریف جلد2صفحہ218 . مشکوۃ شریف صفحہ402 . کتاب الاذکارللنووی صفحہ232
.
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتےھیں کہ دو(2)یہودیوں نےنبی کریم علیہ السلام کاکلمہ پڑھااور نبی کریم علیہ السلام کے ھاتھوں اور پاؤں کوچوما
📒حوالاجات:ترمذی شریف جلد2صفحہ98 . مشکوۃ شریف صفحہ17. حجۃ اللہ علی العالمین صفحہ118 . کتاب الاذکارللنووی جلد2صفحہ271.

نجدی اعتراض:
وصال کےبعد چومنےکی کیادلیل ھے؟

سنی کاجواب:
نبی کریم علیہ السلام کےوصال ظاھرکےبعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم علیہ السلام کی پیشانی کوچوما.
📒حوالاجات: بخاری شریف جلد1صفحہ166. ابن ماجہ شریف حدیث نمبر1496

نجدی کا اعتراض :
سنیوں کیاتم نےھمارےشیخ الکل فی الکل کافتاوٰی نذیریہ جلد1صفحہ340 اورھمارےدیگرمولویوں کی کتب میں یہ نہیں پڑھاکہ قول صحابی حجت نیست صحابی کی بات ھمارےلیئےحجت نہیں ھےھمیں تونبی علیہ السلام کاعمل بتاؤ؟

سنی کاجواب:
ھاں نجدیوں تم توشیعہ کی طرح صحابہ کرام کابھی انکارکرتےھوچلوپھرتم کو نبی کریم علیہ السلام کا عمل بتاتےھیں
نبی کریم علیہ السلام کےرضائی بھائی حضرت عثمان بن مظعون کاوصال ھواتونبی کریم علیہ السلام نے وصال کےبعد انکی پیشانی کوچوما.
📒حوالاجات:ابوداؤدشریف باب نمبر581حدیث نمبر1386 . ابن ماجہ شریف باب نمبر434 حدیث نمبر1517.

نجدی کااعترض:
تم مزارات کوچومنےھوجوبےجان ھےاسکی کیادلیل ھے؟

سنی کاجواب :
اگربےجان چیزکوچومناشرک ھوتا تونبی کریم علیہ السلام صحابہ کرام حجراسود کونہ چومتے معلوم ھوا متبرک چیز کوچومناتوسنت ھے .
(2)رھی بات مزارات کی تو؟ ابوداؤدبن ابی صالح سےروایت ھےکہ ایک دن مروان نبی کریم علیہ السلام کےروضے پرآیاتودیکھاایک صاحب اپناچہرہ قبرانورپررکھےھوئےھیں. مروان نےکہاتمہیں معلوم ھوتم کیاکررھےھو؟ ان صاحب نےجب اپناچہرہ قبرانورسےاٹھایاتووہ صحابی رسول حضرت ابوایوب انصاری تھے .انہوں نےفرمایا.ھاں میں جانتاھوں میں رسول اللہ علیہ السلام کےپاس آیاھوں کسی پتھرکےپاس نہیں آیا
📒حوالاجات: مسنداحمدجلد5صفحہ422. مجمع الزوائدجلد4صفحہ5. مستدرک امام حاکم جلد4صفحہ515. امام حاکم نےفرمایا ھذاحدیث صحیح الاسناد.
اگرھم اھلسنت صرف چوم لیں تونجدی شرک کافتوی لگاتاھے ادھرپیارے صحابی رضی اللہ عنہ کودیکھو اپناپوراچہرہ ھی قبرانورپررکھ کر جلوہ افروز تھے
اگرنجدی پھربھی چومنےکوشرک کہےتوپھراس نجدی کو کہیں کہ تیری ماں کےساتھ شرک پہلےھوا اورتوبعد میں دنیامیں آیا.

نجدی مرتا ھے کە کیوں تعظیم کی
یە ھمارا دین تھا پھر تجھ کو کیا
(اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ)
*ترجمہ کنزالایمان پر دیوبندی اعتراضات کا محاسبہ*

اللہ تعالی نے امام اہل سنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ کا رجنی قرآن کنزالایمان کو مقبولیت بخشی و مقام عطا فرمایا ہے کہ جسے دیکھ کر تمام باطل فرقوں کی نیندیں حرام ہوگئیں جس کسی امام اہل سنت کا ترجمہ ایمان کی عینک سے پڑھا ہےیہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ واقع یہ ترجمہ عشق مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوبا ہوا ترجمہ ہے یہ ترجمہ صرف ترجمہ کا ہی کام نہیں دیتا بلکہ سینکڑوں تفاسیر کا نچوڑ ہے
اتنے سارے محاسن اور مسلمانوں کا اس ترجمہ کو فوقیت دینا نجد کے گنجے شیاطین کو کب ہضم ہونے والا تھا بس ان بوکھلائے ہوئے وہابیں نے کنزالایمان کے خلاف غلط پرپوگینڈا شروع کردیااور ہر وہ حربہ اور غلط راستہ اختیار کیا کہ یہودیت بھی شرماجائے
خود کومقلد کہنے والے دیو کے بندے مولوی جو ذرہ ناچیز سے کمتر اور چمار سے زیادہ ذلیل ہیں نے بھی ترجمہ کنزالایمان پر بے غلط اور بے بنیاد لگائے جس کا جواب حضرت میثم عباس صاحب قبلہ نے نہایت علمی اور تحقیقی جواب لکھا ہے

اس کتاب کو بس نیچے لنک پر کلیک کرکے حاصل کریں

https://ia601508.us.archive.org/15/items/TarjumaKanzulEmaanParAitrazatKaMuhasabaA4/Tarjuma%20Kanzul%20Emaan%20Par%20Aitrazat%20Ka%20Muhasaba%20A-4.pdf



📚اس کا لنک روکنے نہ پائے تمام گروپس فیس بک ٹیلی گرام ہر جگہ شیر کریں
ضرورت تھی چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کی خلاف 1292ھ/ 1876ء میں ایک رسالہ ’’الاقتصاد فی مسائل الجہاد‘‘ تحریر فرمایا جس پر بقول مسعود عالم ندوی حکومت برطانیہ نے مصنف کو انعام سے نوازا… (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 206)
آپ نے بار بار لفظ ’’اہل حدیث‘‘ سنا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس فرقے کو پہلے ’’وہابی‘‘ کہتے تھے۔ انگریزوں کی اعانت اور عقائد میں سلف صالحین سے اختلاف کی بناء پر برصغیر کے لوگ جنگ آزادی 1857ء کے بعد ان سے نفرت کرنے لگے‘ اس لئے وہابی نام بدلوا کر ’’اہل حدیث‘‘ نام رکھنے کی درخواست کی گئی… یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں : بنا بریں اس فرقے کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ (وہابی) کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کو استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے مخاطب کیا جائے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 207)

حکومت برطانیہ کے نام مولوی محمد حسین بٹالوی کی انگریزی درخواست کا اردو ترجمہ جس میں حکومت برطانیہ سے ’’وہابی‘‘ کی جگہ ’’اہل حدیث‘‘ نام منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ترجمہ درخواست برائے الاٹمنٹ نام اہل حدیث و منسوخی لفظ وہابی
اشاعۃ السنہ آفس لاہور
از جانب ابو سعید محمد حسین لاہوری‘ ایڈیٹر اشاعۃ و وکیل اہل حدیث ہند
بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ
میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا درخواست گزار ہوں۔ 1886ء میں‘ میں نے ایک مضمون اپنے ماہواری رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا تھا جس میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی و نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے‘ کااستعمال مسلمانان ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریزکے نمک حلال و خیر خواہ رہے ہیں‘ اور یہ بات (سرکار کی وفاداری و نمک حلالی) بارہا ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے‘ مناسب نہیں ۔ بناء بریں اس فرقہ کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ‘ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ (ہماری وفاداری‘ جاں نثاری اور نمک حلالی کے پیش نظر) سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال کی ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس مضمون کی ایک کاپی بذریعہ عرض داشت میں (محمد حسین بٹالوی) نے پنجاب گورنمنٹ کوبھی ارسال کی ہے تاکہ اس مضمون کی طرف توجہ دے اور گورنمنٹ ہند کو بھی اس پر متوجہ فرمادے اور فرقہ کے حق میں استعمال لفظ وہابی سرکاری خط و کتابت میں موقف کیا جاوے اور اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس درخواست کی تائید کے لئے اور اس امرکی تصدیق کے لئے کہ یہ درخواست کل ممبران اہل حدیث پنجاب و ہندوستان کی طرف سے ہے (پنجاب و ہندوستان کے تمام غیر مقلد علماء یہ درخواست پیش کرنے میں برابر کے شریک ہیں) اور ایڈیٹر اشاعتہ السنہ ان سب کی طرف سے وکیل ہے۔ میں (محمد حسین بٹالوی) نے چند قطعات محضرنامہ گورنمنٹ پنجاب میں پیش کئے‘ جن پر فرقہ اہلحدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے دستخط ثبت ہیں اور ان میں اس درخواست کی بڑے زور سے تائید پائی جاتی ہے۔ چنانچہ آنریبل سرچارلس ایچی سن صاحب بہادر (جو اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے) نے گورنمنٹ ہندکو اس درخواست کی طرف توجہ دلا کر اس درخواست کو باجازت گورنمنٹ ہند منظور فرمایا اور استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام ’’اہل حدیث‘‘ کا حکم پنجاب میں نافذ فرمایا جائے۔
میں ہوں آپ کا نہایت ہی فرمانبردار خادم ابو سعید محمد حسین ایڈیٹر ’’اشاعت السنہ) (اشاعۃ السنہ ص 24 تا 26 شمارہ 2‘ جلد 11)
یہ درخواست گورنر پنجاب سرچارلس ایچی سن کو دی گئی اور انہوں نے تائیدی نوٹ کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اور وہاں سے منظوری آگئی اور 1888ء میں حکومت مدراس‘ حکومت بنگال‘ حکومت یوپی‘ حکومت سی پی‘ حکومت بمبئی وغیرہ نے مولوی محمد حسین کو اس کی اطلاع دی۔

سرسید احمد خان نے بھی اس کا ذکر کیا ہے‘ وہ لکھتے ہیں : جناب مولوی محمد حسین نے گورنمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اس فرقے کو جو درحقیقت اہل حدیث ہے‘ گورنمنٹ اس کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے مخاطب نہ کرے‘ مولوی محمد حسین کی کوشش سے گورنمنٹ نے منظور کرلیا ہے کہ آئندہ گورنمنٹ کی تحریرات میں اس فرقے کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے تعبیر نہ کیا جاوے بلکہ ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاوے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 208)

غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی میاں نذیر احسین دہلوی) زمانہ عذر 1857ء میں جبکہ دہلی کے بعض مقتداء اور بیشتر مولویوں نے انگریز سے جہد کا فتویٰ دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پر دستخط کئے نہ مہر… وہ خود فرماتے تھے کہ میاں وہ ہلر تھا بہادر شاہی نہ تھا… وہ بے چارہ بوڑھا بہادر شاہ کیا کرتا…