🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.83K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.84K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
یں دنیا کی باتیں ہوں گی، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو کہ خدا کو ان سے کچھ کام نہیں ۔‘‘ ( ’’شعب الإیمان‘‘، باب في الصلوٰت، فصل المشي إلی المساجد، الحدیث: ۲۹۶۲، ج۳، ص۸۶)

*حدیث* ۴۵: ابن خزیمہ ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ایک دن مسجد میں قبلہ کی طرف تھوک دیکھا، اسے صاف کیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہو کر کوئی شخص اس کے مونھ کی طرف تھوک دے۔‘‘ ( ’’المسند‘‘ للإمام احمد بن جنبل، مسند أبي سعید الخدري، الحدیث: ۱۱۱۸۵، ج۴، ص۴۸)

*حدیث* ۴۶و۴۷: ابو داود و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں : ’’جو قبلہ کی جانب تھوکے، قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا تھوک، دونوں آنکھوں کے درمیان ہوگا۔‘‘( ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الأطعمۃ، باب في أکل الثوم، الحدیث: ۳۸۲۴، ج۳، ص۵۰۵ ، عن حذیفۃ رضی اللّٰہ عنہ) اور امام احمد کی روایت ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ فرمایا: ’’مسجد میں تھوکنا گناہ ہے۔‘‘ ( ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، مسند الأنصار، حدیث أبي امامۃ الباھلی، الحدیث: ۲۲۳۰۶، ج۸، ص۲۹۲)

*حدیث* ۴۸: صحیح بُخاری شریف میں ہے سائب بن یزید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں : میں مسجد میں سویا تھا، ایک شخص نے مجھ پر کنکری پھینکی دیکھا، تو امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں ، فرمایا: جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، میں ان دونوں کو حاضر لایا، فرمایا: تم کس قبیلہ کے ہو یا کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے عرض کی، ہم طائف کے رہنے والے ہیں ، فرمایا: ’’اگر تم اہلِ مدینہ سے ہوتے تو میں تمھیں سزا دیتا (کہ وہاں کے لوگ آداب سے واقف تھے) مسجد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں آواز بلند کرتے ہو۔‘‘( ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الصلاۃ، باب رفع الصوت في المسجد، الحدیث: ۴۷۰، ج۱، ص۱۷۸۔ رواہ بلفظ ’’ کنت قائما ‘‘ وفي نسخۃ ’’ نائما ‘‘ (’’ ارشاد الساري ‘‘شرح ’’صحیح البخاري‘‘، ج۲، ص۱۴۸))
Like & Share👉 www.facebook.com/ilamedeenofficial
سلسلہ#05:
موضوع: "ختم نبوت اور ردقادیانیت" تمام کتب و رسائل مفت حاصل کرنے کیلئے سامنے دیئے گئے لنک پر کلک فرمائیں.
👇👇👇
🔰 آیات ختم نبوت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2678
🔰عقیدہ ختم نبوت دلائل و مسائل:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2674
🔰ختم نبوت پر چہل حدیث:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2646
🔰دشمن خدا کے ختم نبوت کا انکار پر خدائی جزاء:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2650
🔰منکرین ختم نبوت کا ردِ بلیغ:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2681
🔰ہفت روزہ رضوان کا ختم نبوت نمبر:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2649
🔰احادیث ختم نبوت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2652
🔰عقیدہ ختم نبوت 15 جلدوں میں:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2654
🔰مسئلہ ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2670
🔰نظریہ ختم نبوت اور تخذیرالناس:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2676
🔰ختم نبوت اور ختم نبوت کوئز:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2684
🔰مرزا قادیانی کی کذب بیانی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2689
🔰مرزا قادیانی کی عبارات کفریہ کا ردِ بلیغ:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2694
🔰ردِ قادیانیت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2696
🔰قادیانیوں کا مسلمانوں سے کیا تعلق؟:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2698
🔰برصغیر کا مسیلمہ کذاب مرزاقادیانی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2700
🔰ردِ قادیانیت اور سنی صحافت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2702
🔰مقدمہ مرزائیہ بہاولپور تاریخی فیصلہ:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2707
🔰قادیانی مرتد پر قہرخداوندی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2710
🔰آئینہ مرزا نما:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2712
🔰لانبی بعدی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2714
🔰اربعین ختم نبوت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2584
🔰سیف چشتیائی:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2287
🔰عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت:
👉https://t.me/IslamicPDFLibrary/2568
🔰ختم نبوت سے متعلق عقیدے کی مضبوطی کیلئے تمام مستند کتب و رسائل کا مطالعہ فرمائیں اورثواب و اخلاص کی نیت سے پیغام کو عام کریں.
📚 *_برکاتی مشن لائبریری_* 📚
*_ اصول و ضوابط _*

1⃣ لہذا اس گروپ میں کوئی بھی مذہب باطلہ و عقائد باطلہ سے تعلق رکھنے والا شامل نہ ہو ۔نہ ہی اسے قطعی شامل کیا جائے گا
2⃣ ا گر کوئی بھی ایسا شخص گروپ میں نظر آ گیا جس کے دل میں مسلک اعلٰی حضرت کے بارے میں ذرہ برابر بھی حسد و بغض , اور دشمنی پاى جا رہی ہے تو اسے اہل گروپ کے سامنے شرمندہ کر کے گروپ سے خارج کر دیا جائے گا
3⃣ گروپ کا مقصد لوگوں تک اچھی کتابیں پہنچانا ہے۔ مثلاً دینی۔ فقہی۔ ملی۔ سماجی۔ معاشرى۔ استفادہ کے لئے حضور صلی ا للہ علیہ و سلم کی سنت و تعلیمات کے مطابق علم دین کو عام کرنا ۔
4⃣ یہ گروپ مسلک اعلٰی حضرت کا ناشر ہے ، اس میں تمام ممبران پر لازم و ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی ویڈیو، جاندار کی تصویر، ریکاڈر وغیرہ قطعی ارسال نہ کریں ہاں کوئی بہت ضروری پیغام ہو تو ایڈمن حضرات کی اجازت کے بعد بھیج سکتے ہیں, ،
5⃣ گروپ کے ممبران فقط ارسال کتب کے جواز رکھتے لہٰذا جس کسی کے پاس کوئی کتاب ہو وہ شخص ضرورت مند حاجت روائی کے لئے کتابیں ارسال کرسکتا ہے،
6⃣ گروپ میں آپسی بات چیت، تنز و مزاح ،مشربی ،ذاتی، و فروعی اختلافات پر گفتگو کرنا قطعی منع ہے نہ ماننے کی صورت میں فوراً گروپ سے خارج کر دیا جائے گا
7⃣ کتابوں کے علاوہ ہر قسم کا میسیج پیغام خواہ کتنا ہی ضروری اور اہم کیوں نہ ہو اس گروپ میں بھیجنا سخت منع ہے ،
8⃣ گروپ میں اکثریت علماء حضرات کی ہے لہذا علماء کے ادب رکھنا بیحد ضروری ہے ،
9⃣ گروپ سے متعلق گروپ کا نام پروفائل کی تصویر اور قوانین میں تبدیلی کرنے کا جواز محظ انتظامیہ رکھتے ہیں خلاف ورزی ہرگز برداشت نہ کی جائے گی ،
🔟 کسی کتاب کی ضرورت ہو تو تحریری پوست سے ایک بار بیان کریں بار بار تکرار نہ کریں اس لئے کتاب موجود نہ ہو نے کی صورت میں downlod net سے کرنا پڑتا ہے جس کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے کتاب کے مطالبہ سے پہلے بالا خانوں میں ضرور جانچ لیں طلب کردہ کتاب پہلے ارسال کی گئی ہے یا نہیں اوپری خانوں میں مطلوبہ کتاب دستیاب ہو مطالبہ ناجائز ورنہ حرج نہیں ،
1⃣1⃣ یہ گروپ خاص کر اردو داں حضرات کے لئے بنایا گیا ہے جن حضرات کو اردو نہیں آتی وہ اس میں شامل نہ ہوں ،
2⃣1⃣ مطالبہ کے بعد کتاب نہ ملنے پر ٢٤ کھنٹہ کے بعد ہی توجہ دلائیں ،
3⃣1⃣ ایک وقت میں ایک ہی کتاب طلب کریں ایک ساتھ چند کتابیں طلب کرنے کی صورت میں آپ کی فرمائش پوری نہیں بھی کی جاسکتی ہے لھذا اس بات کا خاص خیال رکھیں
*نوٹ* گروپ کا اصول توڑ نے پر بغیر خبردار کئے گروپ سے خارج کر دیا جائے گا دیگر ایڈ من حضرات کو بھی یہ حق ہے کہ جو گروپ اصول کے خلاف کام کرتا ہو اسے فوراً خارج فرما دیں ،
*_🔐 جمعة المباركة کو برکاتی مشن لائبریری مغلق یعنی بند رہتا ہے اس لئے کوئی بھی ممبر جمعہ کو کسی طرح کا میسج نہ بھیجیں شکریہ_*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹گروپ میں
امیدھے کی آپ س.پر.عمل.كرينگے

📚 📚📖📚 📖📚📙📘📕📒📙📚
گروپ ایڈمن *حافظ غلام مرتضیٰ رضوی برکاتی* 97477981556+ 📖📚📖📚📖📙📖📚📖📚📖📚📖📚📖
گروپ ایڈمن *مولانا بلال برکاتی* 📱📱97431418731+ 📚📙📘 📚📖📚📖📚📖📚
من جانب *برکاتی مشن لائبریری* سےاپنے احباب واقارب اور محبین ومتعلقین کو گروپ *برکاتی مشن لائبریری* سے جوڑ نے کے لئے مذکورہ بالا نمبروں پر رابطہ کریں

--------------------=======------------------
*منجانب*

*مرکزی ادارہ برکاتی مشن*

https://chat.whatsapp.com/HO7mc4eBicvC7dwUxiWjy7
Forwarded from Deleted Account
کیا مرید ہونا فرض ہے اگر اس پر کوئی کتاب ہو تو مہربانی کر کے جلدی سے بھیج دو بہت ضروری ہے
Forwarded from Deleted Account
اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب فتاویٰ رضویہ، جلد 12، فتاویٰ افریقہ میں سوال نمبر 83,84 ملاحظہ کیجیے.....اس سوال کا تسلی بخش تفصیلی جواب موجود ہے___
میں نے بہت پہلے اس پر ایک تحریر لکھی تھی , اگر مل گئی تو گروپ میں پوسٹ کر دوں گا____

مختصر میں چند باتیں عرض ہیں:

مرید ہونا فرض ہے نہ واجب بل کہ مستحب و مستحسن عمل ہے_

واضح رہے کہ "مٙن لا شیخہ فشیخہ الشیطٰن " اس قول سے مرید ہونے کو لازم قرار دینا غلط ہے کہ اس میں شیخ (پیر و مرشد) سے مراد شیخِ عام ہے خاص نہیں___
*شیخِ عام چار ہیں:*
کلامِ خدا
کلامِ مصطفیٰ
کلامِ ائمہ شریعت و طریقت
کلامِ علماے دین

عوام کا ہادی کلامِ علما, علما کا ہادی کلاِ ائمہ, ائمہ کا مرشد کلامِ رسول , رسول کا پیشوا کلام اللہ
فلاحِ ظاہر ہو خواہ فلاحِ باطن اسے اس مرشد سے چارہ نہیں جو اس سے جدا ہے بلا شبہ کافر ہے یا گم راہ اور اس کی عبادت برباد و تباہ (فتاویٰ افریقہ , ص: 146)

اور ہم جو کسی مخصوص شیخ سے مرید ہوتے ہیں یہ ہمارے شیخِ خاص ہیں عام نہیں
اگر کوئی جامع شرائط پیر مل جائے تو مرید ہو جانا بہتر ہے واجب و ضروری نہیں


اگر فتاویٰ رضویہ/ فتاویٰ افریقہ بر وقت موجود نہیں ہیں تو مولانا تطہیر احمد صاحب کی کتاب " عوامی غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح " دیکھ سکتے ہیں, اس میں بھی اس سوال کا جواب موجود ہے___

تحریر: __منظر محسن کان اللہ لہ
اسماعیلیہ "(آغاخانی اور بوہریوں)
کے عقائد

بوہری اور آغا خانی اور اثنا ء عشری رافضیوں کی اصل ایک ہے۔ان ہی کی روایات کے مطابق؛
۔" امام جعفر صادق کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔امام صادق کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام صادق کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادق کی زندگی میں ہی ہو گئی۔جب امام صادق کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثرلوگوں نے امام کاظم کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے، اب وہ نہیں تو ان کی اولاد میں امامت رہنی چاھئے، یہ لوگ "اسماعیلی" کہلائے۔ اس وقت تک یہ باعمل قسم کے شیعہ تھے لیکن اثنا عشری نہ تھے۔

جن لوگوں نے امام جعفر صادق کی شہادت کے بعد امامت کو حضرت اسماعیل کی نسل میں مان لیا تو آگے چل کر ایک وقت آیا جب ان اسماعیل کی اولاد میں سے ایک شخص مہدی کو مصر میں خلافت ملی جہاں اس نے "خلافت فاطمی" کی بنیاد رکھی۔ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔ مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے" بوھرہ" ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے "آغا خانی" ہیں۔

دوسری طرف بوہریوں کی خلافت ایک طویل عرصے تک مصر میں رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلاح الدّین ایّوبی نے پے در پے حملوں کے بعد اس شیعہ اسماعیلی حکومت کو ختم کر دیا۔ جب مصر میں بوہریوں کی امامت ختم ہوئی تو انہوں نے ہندوستان و یمن کو اپنا مرکز بنالیا۔ان کی امامت کا سلسلہ خلافت فاطمی کے ختم ہوتے ہی ختم ہو چکا ہے، البتہ ان کے ہاں"داعیوں" کا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ برھان الدّین ان کے داعی ہیں جن کا انتقال پچھلے دنوں ہوا۔
آگے چل کر بوہریوں کے ہاں بھی دو فرقے ہوئے؛
(1) داؤدی بوہرہ اور (2)سلیمانی بوہرہ۔

ان کا اختلاف محض علاقائی ہے۔ داؤدی بوہروں کے داعی ہندوستانی ہوتے ہیں اور گجرات کے شہر سورت میں ان کا مرکز ہے جبکہ سلیمانی بوہروں کے داعی یمن میں ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں بھی ہیں۔ البتہ پاکستان میں بھی سلیمانی بوہروں کی ایک قلیل تعداد ہے۔ داؤدی بوہرہ کے لوگ بہت آرام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ ان کے مرد مخصوص لباس پہنتے ہیں اور ان کی عورتیں ایک مخصوص حجاب کرتی ہیں، جبکہ سلیمانی بوہرہ پہچانے نہیں جاتے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہے"۔٭(1)۔

بوہری فرقہ کے کفریہ عقائد

۔"بوہری فرقہ"کے عقائد اور شیعہ رافضیوں کے عقائد میں کوئی خاص فرق نہیں ہے بلکہ بوہری فرقہ دراصل رافضیوں کی ہی ایک شاخ ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ رافضیوں کی دو بنیادی شاخیں ہیں جن میں سے ایک امام جعفرصادق رحمہ اللہ کے بیٹے امام کاظم کو امام جعفر کا جانشین مانتے ہیں تو وہ "اثناعشری شیعہ" کہلائے جبکہ بوہری اور آغاخانی امام اسماعیل کی اولاد کو امام جعفر کا جانشین قرار دیتے ہیں،تو یہ "اسماعیلی شیعہ "قرار پائے ۔

رافضیوں میں اثنا ءعشری شیعوں کے ہاں ان کا بارہواں امام غائب ہے جبکہ بوہروں کا امام اوران کے جانشین سب غائب ہیں، یہ بوہروں کا اہم ترین اصول عقیدہ ہے اور جو داعی ہیں وہ امام کے حکم سے اس کے جانشین بنتےہیں۔بوہری فرقے کے لوگ خداکی وحدانیت پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگراللہ کو مجرد مانتے ہیں او ر اس کو کسی بھی قسم کی صفات سے مبرا سمجھتے ہیں ۔اس کے برعکس جو صفات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ،تو اپنے اماموں کو ان کا حامل قرار دیتے ہیں ۔بوہری فرقے کے لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاءتسلیم تو کرتے ہیں مگرساتھ ہی ساتھ اپنے" داعی" کورسول کا درجہ بھی دیتے ہیں ۔ان کی اذان شیعہ اثناعشری رافضیوں کی طرح ہےاور نماز بھی رافضیوں کی طرح تین وقت پڑھتے ہیں یعنی فجر ،ظہرین اور مغربین۔اثناء عشری رافضیوں کی طرح بوہری بھی نمازجمعہ کے قائل نہیں ہیں۔الوہیت کے معاملے میں اسماعیلی رافضی(یعنی بوہری) تو یہ اثناعشری رافضیوں سے ایک قدم آگے بڑھ گئے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ امام اسماعیل کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ کہ معاذ اللہ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی ذات میں حلول کرگیا تھا ۔

بوہری فرقہ کے حوالے اسے ایک استفتاء جوکہ جامعہ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹائون ،کراچی کی طرف شائع کیا گیاتھا ،وہ درج ذیل ہے؛

----------------------------------

فرقہٴ بوہریہ کے عقائد اور ان کا حکم
الجواب باسم ملہم الصواب؛

۔"واضح رہے کہ ”بوہری جماعت“ کا نظریاتی تعلق شیعوں کے اسماعیلی مستعلوی فرقہ سے ہے‘ جس کا مرکز کتب تاریخ کے مطابق ۹۴۶ھ میں یمن سے احمد آباد (گجرات) ہندوستان منتقل ہوا‘ جہاں وہ اپنے مخصوص کاروبار کی وجہ سے جوکہ تجارت ہے 'بوہرے' کہلائے"۔
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۳۷۲‘ط:میرمحمد
👍1
کراچی)

اس فرقہ کے ساتھ مسلمانوں کا اختلاف فقط فروعی مسائل ہی میں نہیں‘ بلکہ بہت سے بنیادی عقائد میں بھی وہ منفرد نظریات رکھتے ہیں۔ ذیل میں مثال کے طور پر چند عقائد ونظریات درج کئے جاتے ہیں؛


(1)
توحید

مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے‘ ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں‘ کچھ صفات کا ذکر خود قرآن کریم میں بھی ہے۔ مثلاً:باری تعالیٰ کا ارشاد ہے؛

ہو الاول والآخر والظاہر والباطن وہو بکل شئ علیم (الحدید:3)

ہو اللہ الذی لا الہ الا ہو عالم الغیب والشہادة ہو الرحمن الرحیم ․․․الی آخر السورة (الحشر:22تا 24)

لیس کمثلہ شئ وہو السمیع البصیر(الشوریٰ :11)

مگر اسماعیلیوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کو کسی صفت سے موصوف نہیں کیا جاسکتا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات درحقیقت ائمہ کی صفات ہیں‘ اللہ تعالیٰ کے لئے کسی صفت کا اقرار کرنا شرک ہے‘ چنانچہ ڈاکٹر زاہد علی صاحب اپنی کتاب ”تاریخ فاطمیین مصر“ میں رقمطراز ہیں؛

۔"مبدع سبحانہ وتعالیٰ ایک ہے اور وہ کسی صفت یا نعت سے موصوف ومنعوت نہیں کیا جاسکتا‘ اسے کسی صفت سے موصوف کرنا گویا اس کی ذات میں کثرت ثابت کرنا ہے جو شرک کا مترادف ہے"۔
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۵۳۹‘ نیز ”الملل والنحل“ للشہر ستانی: ۲۲۹‘ ط:بیروت)

اور ”ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام“ میں تحریر کرتے ہیں؛

۔"ہمارے اعتقاد کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے تمام نعوت اور اوصاف مثلاً خالق‘ عالم‘ قادر وغیرہ مجازی ہیں‘ حقیقت میں وہ عقلِ اول پر صادق آتے ہیں جو عالم روحانی کا پہلا موجد ہے ‘ عالم جسمانی میں ان اوصاف ونعوت سے امام الزمان موصوف ہوتے ہیں‘ کیونکہ وہ اس عالم میں عقل اول کے مقابل ہیں یہاں تک کہ لفظ ”اللہ“ کا لفظ بھی جیساکہ آئندہ معلوم ہوگا عقل اول اور امام پر اطلاق کیا جاتاہے"۔
(صفحہ نمبر ایک بہ عنوان ”توحید“ ط: مکتبہ بینات)

نیز (ان کے )کئی ائمہ سے مندرجہ ذیل کلمات کا کہنا منقول ہے؛

انا الاول وانا الآخر وانا الظاہر وانا الباطن وانا بکل شئ محیط وانا الحفیظ العلیم وانا بنیت السماء ودحوت الارض نحن آل اللہ ونحن ارسلنا نبینا صادقا ما قیل فی اللہ فہو فینا وما قیل فینا فہو فی شیعتنا
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۵۵۹ بحوالہ ”زہر المعانی“ ص:۲۶۴-۲۶۹)

ترجمہ:․․․" میں ہی اول اور آخر ہوں‘ میں ہی ظاہر اور باطن ہوں‘ میں ہر چیز کے متعلق جانتا ہوں اور میں ہی حفیظ اور علیم ہوں‘ آسمان میں نے بنائے ہیں اور زمین کو میں نے ہموار کیا ہے‘ ہم اللہ کے آل ہیں اور ہم نے ہی سچے نبی کو بھیجا ہے جو کچھ اللہ کے بارے میں کہا گیا وہ ہمارے بارے میں بھی ہے اور جو ہمارے متعلق کہا گیا وہ ہماری جماعت کے متعلق بھی ہے"۔

(2)
کلمہ

مسلمانوں کا کلمہ؛
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

اسماعیلی بوہریوں کا کلمہ؛
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مولانا علیَّ ولیَّ اللہ ‘ وصیَّ رسول اللہ
(اسماعیلیہ ص:۱۲۳‘ط: الرحیم اکیڈمی)

(3)
رسالت

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے انتہائی مقرب اور برگزیدہ بندے ہیں‘ ان سے خطا سرزد نہیں ہوسکتی اور نہ ہی مخلوق میں کسی کو ان جیسا مقام حاصل ہے ‘ اس کے برعکس اسماعیلیوں کے نزدیک انبیائے کرام سے گناہ بھی سرزد ہو سکتے ہیں اور ان کے ائمہ کا درجہ بھی انبیائے کرام سے بڑھا ہوا ہے۔ ملاحظہ کریں؛

۔"دور ستر میں امام خدا کے الہام سے حسب ضرورت اپنی جگہ پر اپنے نائبوں کو مقرر کرتا ہے جو ”مستودع یعنی انبیاء“ کہے جاتے ہیں اور جن میں مشہور آدم‘ نوح‘موسیٰ اور عیسیٰ ہیں“۔
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۴۹۴)

اور جعفر بن منصور الیمن کہتے ہیں کہ؛
۔" تمام انبیاء کی حد تنزیل ہے‘ ان کی شریعتوں میں اختلاف اور شبہ پایا جاتا ہے‘ ان سے گناہ صادر ہوئے‘ کیونکہ انہوں نے ایسے مراتب طلب کئے جن کے وہ مستحق نہ تھے‘ وہ سب غیر معصوم تھے‘ ان میں آنحضرت ا بھی شامل ہیں‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ خود آپ کو خطاب کرکے فرماتاہے؛
انا فتحنا لک فتحاً مبیناً لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخر
بخلاف اس کے آپ کے وصی مولانا علی اور آپ کی نسل میں جتنے ائئمہ ہوئے ان کی حد تاویل ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا‘ جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے؛

ما تریٰ فی خلق الرحمن من تفاوت
انہوں نے ایسے مراتب طلب نہیں کئے جن کے وہ مستحق نہ تھے‘ یہ سب ملائکہ بالفضل اور معصوم ہیں اور چار دررجے انبیاء مرسلین سے افضل ہیں“۔

عربی عبارت ملاحظہ کریں؛
الملائکة المقربون ہم الائمة المعصومون وہم افضل من الرسل المؤیدین ۔۔۔۔ لایعصون اللہ ما امرہم ویفعلون ما یؤمرون۔۔۔۔والملائکة بالفضل ہم المقربون فوق الرسل باربع درجات لان الانبیاء وقعت منہم الذنوب والمعاصی‘ ثم نالتہم التوبة والرحمة اذ عصیانہم متوجہ الی الطاعة فکانوا غیر معصومین لطلبہم مراتب فوق مراتبہم لم یستحقوہا وکان اسہم معصومین لانہم لم یطلبوا فوق حدہم کآدم وما ذکرہ اللہ من عصیانہم ویوسف وموسی وداود وما حکی اللہ فی قصة نبینا محمد فی قولہ :”ل
دھم الابالقتل قتلوا
(مجموعۃ فتاوی ابن تیمیہ،ج:۶،ص:۴۲۳)
۔"اگر ان کا فساد ان کے قتل کے بغیر نہ جاتا ہو تو انہیں قتل کردینا ہی بہتر ہے"۔
یغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخر“ ولیس بین الرسل والملائکة مساواة فی الحقیقة ۔۔۔۔ وکذلک ان المؤمنین المعصومین لاتجری علییہم الذنوب کما ان الذنوب لاتجری علی المؤیدین من الملائکة“۔
(ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام‘ ص:۷۰-۷۱ بحوالہ ”تاویل الزکاة“ للسید جعفر بن منصور ص:۱۴۹-۱۵۶)

(4)
ختم نبوت

مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ا خاتم النبیین ہیں‘ آپ کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی رسول۔ آپ ﷺکی کتاب آخری کتاب اور آپ کی شریعت آخری شریعت ہے‘ سابقہ تمام شریعتیں منسوخ ہوچکیں اور قیامت تک کے لئے کامیابی صرف دین محمد ا میں منحصر ہوگئی۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النیین
(الاحزاب:4)

ومن یبتغ غیر الاسلام دیناً فلن یقبل منہ وہو فی الآخرة من الخاسرین
(آل عمران:85)

مشہور ومتواتر حدیث میں ہے؛
انا خاتم النبیین لانبی بعدی
(اخرجہ الترمذی‘ وقال : ہذا حدیث حسن صحیح ‘کتاب الفتن: رقم ۲۲۱۹)

ایک اور حدیث میں ہے؛
لو کان موسیٰ حیاً ما وسعہ الا اتباعی
(مسند احمد:۳/۳۸۷)

مگر فرقہ اسماعیلیہ کے امام معز (متوفی ۳۶۵ھ) سے منقول ساتویں دعا جسے اسماعیلی شنبہ (ہفتہ) کے روز پڑھتے ہیں اور اسے نہایت متبرک سمجھتے ہیں‘ میں امام محمد بن اسماعیل کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ساتویں امام ہونے کے علاوہ ساتویں وصی‘ ساتویں ناطق اور ساتویں رسول بھی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے قیام سے ”عالم الطبائع“ کو ختم کیا اور (حضرت محمد ﷺ) کی شریعت کو معطل کیا۔ اصل عبارت ملاحظہ کیجئے؛

۔"وصل علی القائم بالحق الناطق بالصدق التاسع من جدہ الرسول الثامن من ابیہ الکوثر السابع من آبائہ الأئمة سابع الرسل من آدم وسابع الأوصیاء من شیث وسابع الأئمة من آلہ البررة․․․ وختمت بہ عالم الطبائع وعطلت بقیامہ ظاہر شریعة محمد ﷺ ۔۔۔۔۔“ الخ
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۵۴۳-۵۴۴ وہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:”م“ از مقدمہ)


(5)
صحابہ کرام سے محبت یا بغض وعداوت

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺکے صحابہ کرام راست گو‘ پاکباز اور سچے مؤمن تھے ان کی شان میں خود اللہ تعالیٰ نے کئی آیتیں نازل فرمائیں‘ مثلاً؛

والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوہم باحسان رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ واعدلہم جنات تجری تحتہا الانہار خالدین فیہا ابداً ذلک الفوز العظیم
(التوبۃ:100)

محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم تراہم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ ورضواناً․․․الآیة
(الفتح:29)

مگر” اسماعیلیہ “(یعنی بوہری اور آغاخانی)چونکہ ”امامیہ“ کی ایک شاخ کی حیثیت رکھتا ہے‘ اس لئے اس کے بنیادی عقائد میں صحابہ سے بغض اور ان سے بیزاری کا اظہار کرنا بھی ہے‘ یہاں تک کہ اکابر صحابہ کرام کی تکفیر بھی کرتے ہیں۔
علامہ شہرستانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں؛

ثم ان الامامیة تخطت عن ہذہ الدرجة الی الوقیعة فی کبار الصحابة طعناً وتکفیراً
(الملل والنحل :191،192،ط۔بیروت)

(6)
امامت

امامت کے قائل شیعہ فرقوں اور ”اسماعیلیہ“ کے ہاں ”عقیدہٴ امامت“ کو کس درجہ اہمیت حاصل ہے‘ اس کا کچھ اندازہ سید تنظیم حسین صاحب مصنف ”اسماعیلیہ“ کے اس قول سے ہوتا ہے‘ آپ لکھتے ہیں؛

۔"امامیہ (اثناعشری) اور امامیہ (اسماعیلیہ) میں شخصیتوں کی بنیاد پر اختلاف ہوا‘ اس وجہ سے ان دونوں کے یہاں حضرت امام جعفر صادق کے بعد امامت کے سلسلے مختلف ہوگئے‘ لیکن عقیدہ امامت میں گو کوئی بنیادی فرق نہیں ہوا‘ مگر اس کو علم حقیقت (عالم روحانی وعالم جسمانی کی ابتداء وانتہاء) کے ساتھ ایسا وابستہ کردیا کہ اسماعیلیہ کا امام اثنا عشریوں کے امام سے بلند ہوکر ”الوہیت“ کے درجہ پر پہنچ گیا"۔
(اسماعیلیہ ص:۴۷‘ط: الرحیم اکیڈمی)

عمومی طور پر ائمہ سے متعلق ان کے عقائد یہ ہیں؛

(1) "ان کا درجہ رسول اللہ ا کے برابر اور دوسرے نبیوں سے بالا ترہوتا ہے"۔
(اس کی ایک مثال عقیدہ ”رسالت“ کے تحت گذرچکی ہے)

(2) " امام‘ حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے سکتا ہے"۔
(اسماعیلیہ ص:۴۶-۴۷)

(3) "امام کو‘ شریعت میں ترمیم وتنسیخ کا اختیار ہے"۔
(اسماعیلیہ ص:۱۲۱)

(4)" ائمہ‘ خدا کے اوصاف سے موصوف ہوتے ہیں"۔
(اس کی وضاحت عقیدہ ”توحید“ کے بیان میں ہوچکی ہے)

(5)" اماموں کو اللہ کی طرف وحی آتی ہے"۔

جعفر بن منصور لکھتے ہیں؛
ولم یعلموا ان اسماعیل لم یغب عن الدار حتی خلف ولداً کاملا وان الامر رجع الیہ بامر اللہ ووحیہ وانہ لما حضرہ ما اراد اللہ من امرہ اوحی اللہ ان یسلم الامر الی ولدہ محمد
(ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:۳۵۸ بحوالہ اسرار النطقاء ص:۲۲۵)

(6) "امام معصوم ہوتا ہے اس سے کوئی خطا نہیں ہوسکتی اور نہ ہی وہ کسی چھوٹے یا بڑے گناہ کا قصد وارادہ کرسکتا ہے"۔
الرسل والائمة معصومون فیما یتعلق بالرسالة والامامةمن السعو والتحریف والغلط۔۔۔الخ
(ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:۵۵۴-۵۵۵ بحوالہ ”تاویل الزکاة“ ص:۱۴۹-۱۵۶)
ایضاً۔۔۔۔ وان جمی
ع الانبیاء والمرسلین والائمة علیہم السلام افضل من الملائکة‘ وانہم معصومون من کل دنس ورجس‘ لایہمون بذنب صغیر ولاکبیر ولایرتکبونہ
(المقیع والہدایة بابویہ القمی“ ۳۸۱ھ المجلس الثالث والتسعون ص: ایک‘ ط: مؤسسة المطبوعات الدینیہ‘ قم‘ ایران)

(7)"ہرزمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے‘ اسی کے وجود کی برکت سے زمین برقرار ہے‘ ورنہ وہ متزلزل ہوجائے"۔
(تاریخ فاطمیین مصر ص:۳۷۸)

(8)"امام مذہبی اور سیاسی دونوں حکومتوں کا مالک ہوتا ہے زمین کے ہرحصے پر وہ حکومت کرسکتاہے اس کا فیصلہ آخری ہوتا ہے" ۔
(حوالہ بالا ص:۳۷۸)

(7)
قرآن پاک


۔"نبی یا رسول کا کام یہ ہے کہ وہ جو بات اس کے دل میں آتی ہے اور بہتر معلوم ہوتی ہے وہ لوگوں کو بتا دیتا ہے اور اس کا نام کلام الٰہی رکھتا ہے‘ تاکہ لوگوں میں یہ قول اثر کرجائے اور وہ اسے مان لیں۔ نبی کریم ﷺنے اس کا ظاہر بیان جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بہ حیثیت صامت کے اس کا باطن بیان کیا جو مقصود اصلی ہے"۔ (اسماعیلیہ ص:۱۲۱)

ظاہر ہے کہ بنیادی اور اصولی مسائل میں اس طرح کے عقائد کا رکھنا سراسر کفر والحاد ہے اور ایسے عقائد کا حامل شخص یا فرقہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہے۔

بقول ایک سابق اسماعیلی محقق کے؛
۔"ایسا معلوم ہوتاہے کہ گویا اسلام کے سدا بہار درخت پر ایرانی‘ نصرانی‘ یونانی اور ہندی درختوں کی بے جوڑ قلمیں لگائی گئیں ہیں۔اصل اور قلم کا امتیاز ایسا ظاہر اور نمایاں ہے کہ سرسری نظر سے بھی چھپ نہیں سکتا‘ فروعات میں اختلاف ہوتا تو خیر کوئی بات نہ تھی‘ افسوس ہے کہ اصول ہی کچھ ایسے ایجاد کئے جو اسلام کے اصول سے الگ ہوگئے“۔ (مقدمہ ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت ص:ج)

الجواب صحیح الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری محمد شفیق عارف
کتبہ
فیضان الرحمن
متخصص جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ٭(2)۔

---------------------------------------------

معلوم ہوا کہ بوہری فرقہ کے عقائد اور روافض کے عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے ۔اختلاف ان کے درمیان بنیادی طور پر عقائد کا نہیں ہے بلکہ شخصیات میں اختلاف کا ہے ۔روافض سے متعلق علمائے سلف وصالحین کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ،ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کافرو زندیق ہیں۔جیساکہ مذکورہ بالا فتوے میں ان کےعقائد کے متعلق کہا گیا کہ؛


۔ "اس طرح کے عقائد کا رکھنا سراسر کفر والحاد ہے اور ایسے عقائد کا حامل شخص یا فرقہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہے"۔

روافض کے بارے میں حکم شرعی

قال علی بن ابی طالب قال رسول اللّٰہ ثم یظھر فی آخر الزمان قوم یسمون الرافضۃ یرفضون الاسلام
(مسند احمد،ج:۱ص:۱۰۳،رقم الحدیث:۸۰۸)
حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جن کو روافض کہا جائے گا وہ اسلام کوجھٹلائیں گے‘‘۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے:
علی بن عبد الصمد قال سألت احمد بن حنبل عن جار لنا رافضی یسلم علی أرد علیہ قال لا
(السنۃ لخلال،ج:۳،ص:۴۹۳،اسنادہ صحیح)
۔"علی بن عبد الصمد فرماتے ہیں کہ میں نے اما م احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہمارے پڑوس میں رافضی ہے جو مجھ کوسلام کرتا ہے تو کیا میں اس کو جواب دو؟آپ نے فرمایا ،نہیں"۔

الحسن بن علی الحسن انہ سأل عبد اللّٰہ عن صاحب بدعۃ یسلم علیہ قا اذا کان جھمیا أوقدریا أورافضیا داعیۃ فلا یصلی علیہ ولا یسلم علیہ
(السنۃ لخلال،ج:۳،ص:۴۹۴،اسنادہ صحیح)
۔"حسن بن علی الحسن نے سوال کیا ابو عبد اللہ سے صاحب بدعت کے بارے میں کہ وہ ان کو سلام کرتا ہے تو انہوں نے فرمایا "جب جھمی یا قدریہ یا رافضی بلائے تو اس پر نہ نمازجنازہ پڑھو اور نہ اس پر سلام کرو"۔

قال ابوبکر بن عیاش :لااصلی علی رافضی
(المغنی،ج:۵،ص:۶۲)
۔"اما م ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں رافضی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتا "۔
کسی کی نماز جنازہ پڑھنے یا پڑھانے سے انکارکا مطلب یہ ہی ہوتا ہے کہ مرنے والا شخص اسلام پر نہیں مرا ۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں؛
ولھذا کان الرفض اعظم ابواب النفاق والزندقۃ
(الفتاوی الکبری لابن تیمیۃؒ ،ج:۷،ص:۴)
۔"اور اسی لئے رافضیت نفاق اور زندیقیت کا سب سے بڑا دروازہ ہے"۔

روافض سے قتال کا حکم

وعن ابن عباس قال کنت ثم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعندہ علی فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا علی!سیکون فی امتی قوم ینتحلون حب اھل البیت لھم نبز یسمون الرافضۃ قا تلوھم فانھم مشرکون
(رواہ الطبرانی واسنادہ حسن بحوالۃ مجمع الزوائد،ج:۱۰،ص:۲۲۔السنۃلابن ابی عاصم،ج:۲،ص:۴۷۶)
۔"حضرت ابن عباس ے روایت ہے کہ میں نبی کریم کے پاس تھا اور آپ کے ساتھ حضرت علی بھی تھے۔پس نبی کریم نے فرمایا کہ اے علی !میری امت میں عنقریب ایسی قوم ہوگی جو اہل بیت سے محبت کا (جھوٹا)دعویٰ کرے گی ، ان کے لئے ہلاکت ہے ان کو رافضہ کہاجائے گاتم ان سے قتال کرنا کیونکہ وہ مشرک ہوں گے‘‘۔

پس اگر ان کا فساد ان کے قتل کے بغیر نہ جاتا ہو تو انہیں قتل کرد
ینا ہی بہتر ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں؛
((ولان علی بن ابی طالبؓطلب ان یقتل عبد اللّٰہ بن سبا اول الرافضۃ حتی ھرب منہ۔ولان ھؤلاء من اعظم المفسدین فی الارض فاذا لم یندفع فسادھم الابالقتل قتلوا))
(مجموعۃ فتاوی ابن تیمیۃؒ ،ج:۶،ص:۴۲۳)
۔"امیر المومنین علی بن ابی طالب نے عبد اللہ بن سبا کو بلا بھیجا ،جو سب سے پہلا رافضی تھا ، تاکہ اسے قتل کریں تو وہ بھا گ گیا!اور اس لیے کہ یہ لوگ زمین کے اوپر سب سے بڑے فسادی ہیں پس اگر ان کا فساد ان کے قتل کے بغیر نہ جاتا ہو تو انہیں قتل کردینا ہی بہتر ہے"۔!‘‘


اسماعیلی رافضیوں (یعنی بوہریوں اور آغاخانیوں ) کے بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فتویٰ

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں؛
والغالیۃیقتلون باتفاق المسلمین وھم الذین یعتقدون الالہیۃ والنبوۃ فی علی وغیرہ مثل النصریۃ والاسماعیلیۃالذین یقال لھم بیت صاد وبیت سین۔۔۔۔۔فان جمیع ھؤلاء الکفار أکفر من الیھود والنصاری
(مجموعۃ فتاوی ابن تیمیۃؒ ،ج:۶،ص:۴۲۱)
۔" غالی رافضہ مسلمانوں کے اتفاق کے ساتھ" واجب القتل" ہیں اور وہ ایسے ہیں جوحضرت علی کے بارے میں الوہیت اور نبوۃ کا عقیدہ رکھتے ہیں جیسے کہ النصیریۃ، الاسماعیلیۃ جنہیں ’’بیت صاد‘‘ اور ’’بیت سین‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔۔پس تمام ایسے لوگ کافر ہیں اور ان کا کفر یہودو نصاریٰ سے زیادہ سخت ہے‘‘۔

پس ثابت ہوا کہ بوہری فرقہ کوئی الگ فرقہ نہیں ہیں بلکہ رافضیت کی ہی ایک شکل ہےاور ان کا شمار سلف و صالحین نے روافض ہی میں کیا ہے ۔


عصر حاضر میں روافض کے تمام فرقوں کی حیثیت

اس وقت رافضیوں کی عظیم اکثریت چاہے ان کا تعلق رافضیوں کی کسی بھی فرقے سے ہو، پوری دنیا میں اہل السنۃ کے ساتھ محارب ہیں یعنی ان سے جنگ میں مصروف ہیں چاہے وہ جانی طور پرہو یا مالی طور پر یا لاجسٹک مدد کے صورت میں ۔

شام میں نصیری رافضیوں نے اہل السنۃ کا وہ قتل عام کیا کہ جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ۔عراق و پاکستان کے صفوی رافضیوں کا صلیبی امریکہ کے ساتھ ملک کر اہل السنۃ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا کسی سے پوشدیدہ نہیں ۔ایران کے علوی رافضیوں کی اہل السنۃ کے خلاف عراق وشام صفوی یا نصیری رافضیوں کی مددکرنا سارے عالم پر عیاں ہے ۔زیدی(حوثی ) شیعہ جن کو لوگ معصوم سمجھتے تھے ،ان کی اہل السنۃ سے عدوات یمن میں کھل کر سامنے آگئی کہ انہوں نے صلیبی امریکہ کی مدد سے یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت اکثر علاقے پر قبضہ کرلیا ۔اس کام میں ان کی کھل کر معاونت ایران کے علو ی رافضیوں نے کی ۔بوہری یعنی اسماعیلی رافضیوں نے پاکستان میں تجارت کےبنیادی اور کلیدی شعبوں پر یہود ونصاری کے آشیر باد سے اپناتسلط قائم کرلیا ہے ۔بوہری رافضیوں کی یہودیوں سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں ان کو جانے کی کھلی آزادی ہے ۔یہاں تک یہ یہودیوں کے دیوار گریہ تک جانے کی رسائی ہے تاکہ وہاں جاکر عبادت کرسکیں ۔بعض معتبر ذرائع کے مطابق یہودیوں کی اکثر خاندان پاکستان خصوصاً کراچی میں بوہری رافضیوں کے روپ میں رہ رہے ہیں۔گویا اس وقت رافضیوں کے تمام بڑے فرقے اہل السنۃ کے ساتھ محارب ہیں اور یہود نصاریٰ کے ساتھ مسلمانوں کے قتل عام اور مسلم علاقوں پر حملہ آور ہونے میں مکمل معاونت کررہے ہیں۔یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رافضیوں سےمتعلق فرماتے ہیں؛

والرافضۃ ھم معاونون للمشرکین والیھود والنصاری علی قتال المسلمین۔۔۔وکذلک فی الحروب التی بین المسلمین وبین النصاری بسواحل الشام قدعرف اھل الخبرۃ ان الرافضۃ تکون مع النصاری علی المسلمین وانھم عاونوھم علی اخذ البلاد ۔۔۔واذاغلب المسلمون النصاری والمشرکین کان ذالک غصۃ عند الرافضۃ واذاغلب المشرکون والنصاری المسلمین کان ذلک عیدا،ومسرۃ عند الرافضۃ
(الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیۃؒ ،ج:۵،ص:۲۴۸)

۔"اور ان (روافض)میں وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں پر کافروں کی معاونت کرتے ہیں۔۔۔اور رافضہ معاونت کرتے ہیں مشرکوں اور یہودو نصاریٰ کی مسلمانوں کے قتل عام کرنے پر۔۔۔اور اسی طرح ان (صلیبی) جنگوں میں جو مسلمانوں اور نصاریٰ کے درمیان ہوئیں شام کے ساحل پر ۔اہل خبر کے ہاں مشہور ہے کہ رافضہ مسلمانوں کے مقابلے میں نصاریٰ کے ساتھ ہوتے تھے اور مسلمانوں کے شہروں قبضہ کرنے میں نصاریٰ کی مدد کرتے تھے۔۔۔اور جب مسلمانوں کو نصاریٰ اور مشرکین پر غلبہ حاصل ہوتا تو رافضہ کے نزدیک یہ بات غصہ والی ہوتی اور اگر مسلمانوں پر مشرک اور نصاری غلبہ حاصل کرتے تو یہ بات ان کے لئے عید اور مسرت کا باعث ہوتی‘‘۔

لہذا عصر حاضر کے مذکورہ بالا رافضی فرقے اپنے عقیدے کے بناء پر نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج اور کافرو مرتد ہیں بلکہ اس وقت اہل السنۃ سے مشترکہ طور پر محارب ہونے کی وجہ سے واجب القتل بھی ہیں اور ان کا معاملہ اس وقت یہ ہوچکا ہے کہ جس کی طرف امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایاتھا؛


فاذا لم یندفع فسا
*عــرسِ رضـوی منـانـے بـریـلی چـلیـں*

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

غمـــزدو! مســکرانــے بـریلی چلیـں
نـور حق میں نہـانــے بـریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

جـــلوۂ شــــاہ لانــے بـریـلی چلیـں
اپنی قسمت بنـانــے بـریـلی چلیــں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

اے غریبو! سنو! اے فقیرو! سنو!
برکتیں گھـر میں لانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

آ گیا پھـر مبـارکــــــــ مہینـــہ وہی
عـرس رضـوی منـانـے بریـلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

آ گیاعرس رضوی کا موسم حسیں
غنچـــۂ دل کھلانــے بـریـلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

قـافلـے پھــر بریلی کو جـانـے لگـے
آؤ! ھـم بھی دیوانـے! بریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

قـافلــــہ رحمتـوں کا بھی آنــے لگا
رحمتیں حق سے پانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

در پہ احمـد رضـا خان کے، عاشقو!
عشق میـں دل لٹانـے بـریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

فخـر ازہـر کی ہو گی زیارت تمہیں
جـان و دل جگمـگانــے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

بارشِ نور و رحمت میں اے سنیو!
آؤ! آؤ! نہــانــے بـریــلی چلیـــــں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

رحمتوں، برکتوں کا ھـے دریا رواں
پیاس دل کی بجھانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

عشقِ احمـــد رضـا میں چلا قافلـہ
آؤ! ھـم بھی دیوانــے! بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

ہـر قـــدم پـر مسرت نظـر آئـے گی
غـم دلوں کے مٹـانـے بـریـلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

جھولیاں بھرکےلاتےہیں شاہ و گدا
در سے ھم بھیک پانے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

ہرطرف کفرکی آندھیاں ہیں چلِیں
دین و ایمــاں بچـانـے بریلی چلیں

🗯🗯🗯🌺🌺🌺🗯🗯🗯

عشق میں کہہ رہا ھے یہ عرفان،کہ
فیضِ ســـــرکار پانـے بریلی چلیـں

🗯🗯🗯🌺🌺
Forwarded from Mufti MD.Maqusood Aalaam
نوشاد صاحب نے مفتی ذوالفقار صاحب کی شان میں جو نازیبا کلمات بکا ھے اس سے اتناہی کہنا ھے کہ وہ آج بھی وہیں ہیں جہاں تھے اس خصائل سے متصفین کو نحو کی زبان میں مبنی کہا جاتا ھے ۔ جو ہرحال میں اپنے نصب العین پر برقرار رہتا ھے ۔ مفتی ذوالفقار صاحب نعیمی اس پر برقرار ہیں اور ان شا ء اللہ برقرار رہیں گے ۔ مگر تو اپنی حالت دیکھ تجھ میں تغیر و تبدل کی حالت کچھ زیادہ ہی پائ جاتی ھے اس صفت سے متصف افراد کو نحو کی زبان میں معرب سے تعبیر کیجاتی ہے جیسا عامل آتا ھے وہ جس طرح کا عمل کرنا چاہتا ھے معمول اس کو قبول کرتا ھے اس طرح اس کی حرکت بدلتی رہتی ھے ۔ مرکب اسی کا نام ھے جو عوامل کے اختلاف سے مختلف ھو ۔ تھوڑا اس جانب سے رخ ہٹادیں تو کہو نگا یہ ایک فاحشہ کی خصلت ھوتی ھے جو تجھ میں بدرجئہ اتم موجود ھے ۔ کل تک رضا رضا کیا ۔ چونکہ علم لینا تھا ۔ زبان لینی تھی جب لے چکا تو گم گشتئہ راہ کو اپنا سب کچھ سونپ دیا اب اس نے جیسا عمل کرنا چاہا کیا اس کے بعد وہابیہ ۔ دیابنہ عامل کی شکل میں آگیا ھے تو نے اس کو بھی قبول کرلیا ھے اب جیسا اس کا اثر ہورہا وہی رنگ تجھ میں جھلک رہا ھے بات صاف ھے کہ تو مفتی ذوالفقار صاحب نعیمی کی نہیں اپنی خصلت بیان کر رہا ھے ۔ پیٹ پالو تو ھے ۔ مگر الزام دوسروں کے سر رکھ رہا ھے ۔ اس آئینہ میں دیکھ لے تجھے مفتی ذوالفقار صاحب نعیمی کے چہرہ میں اپنا ہی چہرہ دکھائ دیگا ۔ تیری بات کو وہی لیگا جو تیری طرح عقل کا ٹور ھوگا ۔ تو ہمیشہ دلیل دلیل کی رٹ لگاتا ھے مگر تیرا مضمون مکمل دلیل سے خالی ھوتا ھے ۔ سوائے لن ترانی و الزام تراشی کی کبھی کچھ لکھا ھے ۔ جواب فقط نفی میں ھوگا ۔ سنجیدہ اور مہذب کلام کا بھی رٹ لگاتا ھے ۔ پیٹ پالو کا لفظ استعمال کرنا تیرے یہاں مہذب ھے ۔ خیر سے مفتی کے لفظ کا استعمال کرنا مہذب ھے ۔ فلاں فلاں کو کافر کہدیا کی جھوٹی روایات بیان کرنا مہذب اور استدلالی ھے ۔ کوئ دفاعی جواب دے تو اس کو بلاک کردینا تیری تہذیب ھے ۔ رضاخانی کہہ کر مخاطب کرنا ۔ گالی نہیں تیری تہذیب ھے ۔ مذکور کلمات گالی نہیں بلکہ تیراادب ھے ۔ مسلک اعلی حضرت کے اطلاق سے پہلے ماتریدیہ ۔ اشاعرہ ۔ حسینی ۔ جواز المسح علی الخفین ۔ اس سے قبل تفضیل الشیخین ۔ حب الختنین ۔ اس سے قبل ما انا علیہ و اصحابی ۔ تمسکو ا بسنتی و سنتہ الخلفا ء ۔ پھر مسلک اہلسنت ۔ قادری ۔ چشتی ۔ نقش بندی ۔ سہر وردی ۔ حنفی ۔ مالکی ۔ شافعی اور حنبلی ان سب علامات کو ھٹالو اس کے بعدبات کرنا مسلک اعلی حضرت کی ۔ یہ دلائل نظر نہیں آتے اس کو عصبیت کا عینک اتار کر دیکھیں اس کے بعد کلام کرنا۔ ورنہ لوگ اسلاف کو دیکھیں گے ۔ صدرالافاضل نے کیا کہا ۔ محدث اعظم نے کیا کہا ۔ شیر بیشئہ اھلسنت نے کیا کہا ۔ بلکہ تمام علماء عرب و عجم نے کیا کہا خود تم نے اس سے قبل کیا کہا وہ تیرے خرافات و بکواسات کی طرف کبھی نہیں جائیں گے کیونکہ شیطان بر غلا تا ھے ۔ مگر صالح بندہ دام فریب میں نہیں آتے ھیں ۔
🌻{{{ _*ISLAMIC QUIZ*_ }}}🌻

_*صفر المظفر _ October*_

_Date_ 2⃣4⃣_1⃣0⃣_2⃣0⃣1⃣7⃣

🎋🎋 *Tuesday. منگل* 🎋🎋

🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

🌻🌻 _*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*_🌻🌻


🌺💐🌺💐🌺💐🌺💐🌺💐🌺

🔄 *Aaj ka Sahi jawab*

🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷🌹🌷

👉🏻 _*OPTION(( A )) *_
*------------------------------------------*
🌐 _*Ans. :- (Pak Hai)*_

🕹 _*Huqqa Ka Pani Pak Hai* Agar Che Uske Rang,Boo Aur Maze Me Tagaiyur(Badlaw) Aa Jaye Us Se Wazoo Ja'ez Hai-BA'Qadre Kifayat Uske Hote Huye Tayammum Ja'ez Nahi_

*Note*. 🔴
Mas'lan Sara Wazoo Kar Liya Ek Pao'n Ka Dhona Baqi Hai Ke Pani Khatam Ho Gya Aur Huqqa Me Pani Itna Maujood Hai Ke Us Pao'n Ko Dho Sakta Hai To Use Tayammum Ja'ez Nahi 
Magar Wazoo Karne Ke Bad Agar Aza(Jism) Me Boo Aa Gayi To Jab Tak Boo Jati Na Rahe Masjid Me Jana Mana Hai Aur Waqt Me Gunja'ish Ho To Itna Waqfa Karke Namaz Padhe Ke Boo Ud(Khatam)Ho Jaye Aur Us Se Wazoo Karne Ka Hukam Us Waqt Diya Gya Ke Dusra Pani Na Ho Bela Zaroorat Us Se Wazoo(Karna) Na Chahiye




📖📖{ *Hawala* }📖📖
*------------------------------------------*
1⃣ _*Bahar E Shari'at*_

_*(Jild 1,Hissa 2,Page No 333)*_

2⃣ *Fatwa Razviya*
_*(Jild2,Page320)*_

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

_*Hamari Team Ka Sath Dene Ke Liye Aap Sabhi Ka Bahut Bahut shukriya*_

*Group Me Shamil Hone Ke Liye Hamare Is No Pe Message Send Kare'n*👇👇👇👇👇👇👇👇

{{{{{{{{{{{{ *Admins* }}}}}}}}}}}}}}

📱 +919634797724 +918340755932

~*:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::*~
ضرورت تھی چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کی خلاف 1292ھ/ 1876ء میں ایک رسالہ ’’الاقتصاد فی مسائل الجہاد‘‘ تحریر فرمایا جس پر بقول مسعود عالم ندوی حکومت برطانیہ نے مصنف کو انعام سے نوازا… (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 206)
آپ نے بار بار لفظ ’’اہل حدیث‘‘ سنا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس فرقے کو پہلے ’’وہابی‘‘ کہتے تھے۔ انگریزوں کی اعانت اور عقائد میں سلف صالحین سے اختلاف کی بناء پر برصغیر کے لوگ جنگ آزادی 1857ء کے بعد ان سے نفرت کرنے لگے‘ اس لئے وہابی نام بدلوا کر ’’اہل حدیث‘‘ نام رکھنے کی درخواست کی گئی… یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں : بنا بریں اس فرقے کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ (وہابی) کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کو استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے مخاطب کیا جائے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 207)

حکومت برطانیہ کے نام مولوی محمد حسین بٹالوی کی انگریزی درخواست کا اردو ترجمہ جس میں حکومت برطانیہ سے ’’وہابی‘‘ کی جگہ ’’اہل حدیث‘‘ نام منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ترجمہ درخواست برائے الاٹمنٹ نام اہل حدیث و منسوخی لفظ وہابی
اشاعۃ السنہ آفس لاہور
از جانب ابو سعید محمد حسین لاہوری‘ ایڈیٹر اشاعۃ و وکیل اہل حدیث ہند
بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ
میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا درخواست گزار ہوں۔ 1886ء میں‘ میں نے ایک مضمون اپنے ماہواری رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا تھا جس میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی و نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے‘ کااستعمال مسلمانان ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریزکے نمک حلال و خیر خواہ رہے ہیں‘ اور یہ بات (سرکار کی وفاداری و نمک حلالی) بارہا ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے‘ مناسب نہیں ۔ بناء بریں اس فرقہ کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ‘ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ (ہماری وفاداری‘ جاں نثاری اور نمک حلالی کے پیش نظر) سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال کی ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس مضمون کی ایک کاپی بذریعہ عرض داشت میں (محمد حسین بٹالوی) نے پنجاب گورنمنٹ کوبھی ارسال کی ہے تاکہ اس مضمون کی طرف توجہ دے اور گورنمنٹ ہند کو بھی اس پر متوجہ فرمادے اور فرقہ کے حق میں استعمال لفظ وہابی سرکاری خط و کتابت میں موقف کیا جاوے اور اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے۔ اس درخواست کی تائید کے لئے اور اس امرکی تصدیق کے لئے کہ یہ درخواست کل ممبران اہل حدیث پنجاب و ہندوستان کی طرف سے ہے (پنجاب و ہندوستان کے تمام غیر مقلد علماء یہ درخواست پیش کرنے میں برابر کے شریک ہیں) اور ایڈیٹر اشاعتہ السنہ ان سب کی طرف سے وکیل ہے۔ میں (محمد حسین بٹالوی) نے چند قطعات محضرنامہ گورنمنٹ پنجاب میں پیش کئے‘ جن پر فرقہ اہلحدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے دستخط ثبت ہیں اور ان میں اس درخواست کی بڑے زور سے تائید پائی جاتی ہے۔ چنانچہ آنریبل سرچارلس ایچی سن صاحب بہادر (جو اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے) نے گورنمنٹ ہندکو اس درخواست کی طرف توجہ دلا کر اس درخواست کو باجازت گورنمنٹ ہند منظور فرمایا اور استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام ’’اہل حدیث‘‘ کا حکم پنجاب میں نافذ فرمایا جائے۔
میں ہوں آپ کا نہایت ہی فرمانبردار خادم ابو سعید محمد حسین ایڈیٹر ’’اشاعت السنہ) (اشاعۃ السنہ ص 24 تا 26 شمارہ 2‘ جلد 11)
یہ درخواست گورنر پنجاب سرچارلس ایچی سن کو دی گئی اور انہوں نے تائیدی نوٹ کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اور وہاں سے منظوری آگئی اور 1888ء میں حکومت مدراس‘ حکومت بنگال‘ حکومت یوپی‘ حکومت سی پی‘ حکومت بمبئی وغیرہ نے مولوی محمد حسین کو اس کی اطلاع دی۔

سرسید احمد خان نے بھی اس کا ذکر کیا ہے‘ وہ لکھتے ہیں : جناب مولوی محمد حسین نے گورنمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اس فرقے کو جو درحقیقت اہل حدیث ہے‘ گورنمنٹ اس کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے مخاطب نہ کرے‘ مولوی محمد حسین کی کوشش سے گورنمنٹ نے منظور کرلیا ہے کہ آئندہ گورنمنٹ کی تحریرات میں اس فرقے کو ’’وہابی‘‘ کے نام سے تعبیر نہ کیا جاوے بلکہ ’’اہل حدیث‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاوے (مقالات سرسید احمد خان صفحہ نمبر 208)

غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی میاں نذیر احسین دہلوی) زمانہ عذر 1857ء میں جبکہ دہلی کے بعض مقتداء اور بیشتر مولویوں نے انگریز سے جہد کا فتویٰ دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پر دستخط کئے نہ مہر… وہ خود فرماتے تھے کہ میاں وہ ہلر تھا بہادر شاہی نہ تھا… وہ بے چارہ بوڑھا بہادر شاہ کیا کرتا…
بہادر شاہ کو بہت سمجھایا کہ انگریزوں سے لڑنا مناسب نہیں ہے‘ مگر وہ باغیوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہورہے تھے‘ کرتے تو کیا کرتے (الحیات بعد الممات صفحہ نمبر 125)

غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی میاں نذیر حسین کو شمس العلماء کا خطاب گورنمنٹ انگلشیہ کی طرف سے 22 جون 1891ء بمطابق 21 محرم الحرام 1315ھ بروز سہ شنبہ کو ملا (الحیات بعد الممات صفحہ نمبر 180)

غیر مقلد اہل حدیث اکابر مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی خود اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں تیس سال کامل سے متوسل وطن اس ریاست بھوپال کا ہوں اور ہمیشہ معزز و مکرم رہا۔ رئیسہ معظمہ (بھوپال) نے روجیت سے مجھے عزت و افتخار بخشا اور امر باطلاع گورنمنٹ عالیہ و حسب مرض سرکار انگریز ظہور میں آیا اور چوبیس ہزار روپیہ سالانہ اور خطاب ’’معتمہ الہامی‘‘ سے سرفرازی ہوئی۔ حکام عالی منزلت یعنی کار پروازان دولت انگلش کو تجربہ اس ریاست کی خیر خواہی اور وفاداری عموما اور اس سے صولت دولت (صدیق حسن خان بھوپالی) کا خصوصا ہوچکا ہے (ترجمان وہابیہ صفحہ نمبر 29,27,19,17)

امام ابو ہابیہ ثناء اﷲ امرتسری نے کلکتہ کے جلسے میں آپ نے اﷲ کا شکر ادا کرنے کے بعد انگریز حکومت اور انگریز حکام کا شکریہ ادا کیا اور پھر داعیان جلسہ کا پھر دعا مانگی (از کتاب: روئیداد اہلحدیث کانفرنس صفحہ نمبر 20)

غیر مقلد اہلحدیث اکابر مولوی محمد حسین بٹالوی انگریز حکومت سے تعاون کے حق میں تھے اور بظاہر انگریزی نظام کے ثناء خواں بھی تھے (از کتاب: تحریک آزادی فکر صفحہ نمبر 107)

قارئین محترم : آپ نے تمام مستند حوالے ملاحظہ کئے‘ جس سے واضح ہوگیا کہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا انگریزوں سے بہت پرانا رشتہ ہے‘ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انگریزوں سے مال اور اسلحہ کی صورت میں مدد لے کر اسلام اور اسلامی قوانین کو نقصان پہنچایا اور مزید پہنچا رہے ہیں۔
اگر ہیلری کلنٹن کا بیان غلط ہے تو پھر اس کے بیان کے بعد دنیائے وہابیت کے کسی وہابی‘ دیوبندی مولوی نے اس بیان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا ؟
21 مئی سے لے کر اب تک کسی اخبار میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے بیان کی وہابیوں نے مذمت کیوں نہیں کی ؟
ہم دنیائے وہابیت کی پراسرار خاموشی کو کیاسمجھیں ؟
انگریز کا ایجنٹ یا ان کا آلہ کار ؟

اس طرح کا واضع غیر مبہم ثبوت دو

اسماعیل دہلوی انگریز کا ایجنٹ تھا : جس وقت بر صغیر کے مسلمان انگریزی حلومت کے خلاف جہاد کے لئے بے قرار تھے علماء کا ایک گروہ جسے مولانا فضل حق خیر آبادی کی حمایت حاصل تھی جہاد کا فتوی دے چکا تھا - اس دور میں علماء سوء کا ایک طبقہ انگریز کی حمایت میں سرگرم عمل تھا چنانچہ کلکتہ کے جلسہ عام میں جب 1 شخص نے اسماعیل دہلوی سے دریافت کیا کہ انگریزوں کے خلاف آپ جہاد کا فتوی کیوں نہِں دیتے تو اس وقت انہوں نے جو جواب دیا وہ مرزا حیرت دہلوی کی زبانی سنَے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جہاد کسی طرح واجب نہیں ہے ایک تو ہم ان کی رعیت ہیں دوسرا وہ ہمیں عبادت سے نہیں روکتے ہمیں انکی حکومت میں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے بلکہ اگر انگریزوں پر جو حملہ آور ہو تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ حملہ آور سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں ۔(حیات طیبہ طبع قدیم صفحہ 364)

.ایک اور مقام پر مرزا حیرت دہلوی : مولوی اسماعیل دہلوی کا موئقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : مولوی اسماعیل صاحب نے اعلان کر رکھا تھا کہ انگریزی سرکار کے خلاف جہاد نہ مذہبی طور پر واجب ہے اور نہ ہی ہمیں ان سے کچھ مخاصمت{جگڑا} ہے ۔ (حیات طیبہ طبع قدیم صفحہ 201})

اور اب سید احمد بریلوی کے انگریزوں کے ایجنٹ ہونے پر ثبوت ملاحظہ فرمایئں
مولانا محمد جعفر تھانیسیری لکھتے ہیں : کہ سید احمد نے اپنے جہاد کی حقیقت واضع کرتے ہوئے کہا ؛ سرکار انگریز گو منکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر لوئی ظلم نہیں کرتی اور نہ ان کو عبادات سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے ہیں انہوں نے کبھی منع نہیں کیا تو پھر ہم سرکار انگریز کے خلاف کس وجہ سے جہاد کریں ۔ (حیات سید احد شہید صفحہ 171)
مزید لکھتے ہیں : سید صاحب کا انگریزی سرکار سے جہاد کرنے کا ارادہ ہی نہیں تھا
(حیات سیداحمد شہید صفحہ 293)

سرسید احمد خان اپنے مقلالات میں لکھتے ہیں : اور یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ وھابی اپنے مذہب میں بڑے پکے ہوتے ہیں اور جن دو شخصوں کی نسبت میں لکھ رہا ہوں وہ{جہاد پر جاتے ہوئے} اپنے بال بچوں اور مال اسباب کو گورنمنٹ انگریزی کی حفاظت میں چھوڑ کر گئے تھے اور ان کے مذہب میں اپنے بال بچوں کے محافظوں پر حملہ کرنا ممنوع ہے اگر وہ حملہ کرتے تو جنت سے حروم ہو جاتے ۔(مقالات سرسید حصہ نہم صفحہ 148)

اسی موضوع پر مرزا حیرت : نے سید احمد شہید کا ایک ایسا واقعہ لکھا ہے جس کی کسی غیور مسلمان سے توقع نھیں کی جا سکتی : مرزا حیرت لکھتے ہیں :
1231ء تک سید احمد صاحب امیر خان کی ملازمت میں رہے مگر ایک ناموری کا کام آپ نے یہ کیا کہ انگریزوں اور امیر خان کی صلح
کرا دی اور آپ ہی کے ذریعے سے جو شہر بعد ازاں دئے گئے اور جن پر امیر خان صاحب کی اولاد حکمرانی کرتی ہے دینے طے پائے تھے لارڈ ہستنگ سید احمد صاحب کی بے نظیر کارگزاری سے بہت خوش تھا - { صلح کے وقت }دونوں لشکروں کے بیچ میں خیمہ کھڑا کیا گیا اور اس میں تین آدمیوں کا باہم معاہدہ ہوا - امیر خان لارص ہیستنگ اور سید احمد صاحب - سید احمد صاحب نے امیر خان کو بڑی مشکل سے شیشہ میں اتارا تھا ، آپ نے اسے یقین دلایا تھا کہ انریزوں سے مقابیلہ کرنا اور لڑنا بھڑنا اگر تمہارے لئے برا نہیں تو تمہاری اولاد کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ' یہ ناتیں امیر خاں کی سمجھ میں آگئی تھیں اور اب وہ اس بات پر رضا مند تھاکہ گزارہ کے لئے کچھملک مجھے دے دئے جائیں تو میں بآرام بیٹھوں - امیر خان نے ریاستوں اور ان کے ساتھ انگریزوں کا بھی ناک میں دم کر رکھا تھا آخر 1 بڑے مشورے کے بعد سید احمد صاحب کی کارکردگی سے ہر ریاست سے کچھ حصہ دے کر معاہدہ کر لیا جیسے جے پور سے سے کوتک تاک دلوا دیا بھوپال سے سرونج - اسی طرح بڑی قیل و قال کے بعد انگریزون سے دلوا کر بپھرے ہوئے شیر کو پنجرے میں بند کر دیا ۔
(حیات طیبہ مطبوعہ مکتبۃ السلام صفحہ 513-514)

سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے جہاد کی حقیقت : ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے نتیجے میں ہندوستانیوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً ان کے خلاف بے چینی اور بغاوت کا ماحول پیدا ہوتا رہا‘ جو 1857ء میں ایک منظم پیمانے پر میرٹھ کی چھائونی سے شروع ہوکر ہندوستان کے دیگر خطوں میں بھی پہنچ گیا۔ اس سلسلے میں ہندو قوموں کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں اور علمائے کرام کی کوششیں بھی مسلسل آزادی کے حصول تک جاری رہیں۔ متعصب تاریخ نگاروں نے جب ان حالات اور ماحول کا نقشہ اپنے طور پر پیش کیا تو حقائق کے ماتھے پر سیاہی پوت کر تعصب اور تنگ نظری سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں کے کردر کو بالکلیہ ختم کردینے کا ناپاک جرم کیا۔ اس پہلو کا دوسرا رخ یہ سامنے آیا کہ سواداعظم اہلسنت سے خارج علماء جنگ آزادی کا سارا کردار اپنے نام کرنے لگے اور علمائے اہلسنت کے مقتدر مجاہدین آزادی کو انگریز نوازوں کی فہرست میں شمار کروانے لگے یا پھر اپنی جماعت کا فرد بنا کر علمائے اہلسنت کے عظیم کارناموں کے نشانات پر مٹی ڈالنے کی ننگی جرات ہی کر بیٹھے۔ اب ان حالات میں ضروری ہے کہ اصل واقعات سے قوم کو روشناس کرایا جائے اور بازار سیاست کے دلالوں کے سامنے حقیقی صورتحال پیش کردی جائے تاکہ آج جو غدار وطن کا بدنما داغ اقتدار کے زور پر ہماری پریشانیوں پر مڑھا جارہا ہے‘ اس کا بے بنیاد ہونا معلوم ہوجائے.
سید احمد اور شاہ اسماعیل کے تعلق سے پورا دیوبندی مکتب فکر مسلسل تحریر و تقریر کے ذریعہ یہ ذہن دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی اور جہادی سرگرمیوں میں سارا رول ان ہی کا ہے اور انہوں نے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کے لئے وعظ کے ذریعہ منظم کرنے کے بعد جنگیں کیں اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے‘ جبکہ سچائی اس کے برعکس ہے۔ بلکہ یہ دونوں اور ان کے دیگر حامی و متبعین انگریزوں کے وظیفہ خوار اور مکمل ہم نوا تھے۔ اس سلسلے میں خود افراد خانہ کی بیشمار شہادتیں موجود ہیں‘ جن میں سے چند ایک ہدیہ قارئین ہیں۔
سیاسی مصلحت کی بناء پر سید احمد صاحب نے اعلان کیا کہ سرکار انگریز سے ہمارا مقابلہ نہیں اور نہ ہمیں اس سے کچھ مخاصمت ہے۔ ہم صرف سکھوں سے اپنے بھائیوں کا انتقام لیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ حکام انگلشیہ بالکل باخبر نہ ہوئے اور نہ ان کی تیاری میں مانع آئے (حیات طیبہ‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 260)

سید صاحب کے پاس مجاہدین جمع ہونے لگے‘ سید صاحب نے مولانا شہید کے مشورے سے شیخ غلام علی رئیس الہ آبادی کی معرفت لیفٹیننٹ گورنر ممالک مغربی شمالی کی خدمت میں اطلاع دی کہ ہم لوگ سکھوں سے جہاد کرنے کی تیاری کرتے ہیں‘ سرکار کو تو اس میں کچھ اعتراض نہیں ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے صاف لکھ دیا کہ ہماری عملداری میں امن میں خلل نہ پڑے تو نہیں‘ آپ سے کچھ سروکار نہیں‘ نہ ہم ایسی تیاری میں مانع ہیں۔ یہ تمام بین ثبوت صاف اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ جہاد صرف سکھوں سے مخصوص تھا‘ سرکار انگریزوں سے مسلمانوں کو ہرگز مخاصمت نہ تھی‘‘ (حیات طیبہ‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 523)

اس تعلق سے مولانا جعفر تھانیسری کی تحریر اس طرح ہے : سید صاحب کا انگریزی سرکار سے جہاد کرنے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔ وہ اس وقت آزاد عمل داری کو اپنی ہی عمل داری سمجھتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ سرکار انگریز اس وقت سید صاحب کے خلاف ہوتی تو ہندوستان سے سید صاحب کو کچھ بھی مدد نہ ملتی‘ مگر سرکار انگریزی اس وقت دل سے چاہتی تھی کہ سکھوں کا زور کم ہو‘‘ (حیات سید احمد شہید‘ ص 293)

سرسید بھی اس واقعات کی طرف عنان قلم موڑتے ہوئے بالکل ملتی جلتی باتیں لکھتے ہیں‘ جن سے سید احمد رائے بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے جہادی کارناموں کا سراغ بہ آسانی لگایا جاسک
👍1